🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
بزرگان دین کی دست بوسی وقدم بوسی کے ثبوت پرراقم کے پاس کتب.
ان میں ایک کتاب
"ہاتھ پاؤں چومنے اورقیامِ تعظیمی کی شرعی حیثیت"
کامؤلف مولوی روح اللّٰہ نقشبندی دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتا ہے.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2826552964290679&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سلطنت عثمانیہ کے تحفظ میں
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا کردار
پروفیسر ڈاکٹر دلاور خاں
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3295567160560692&id=100003223204679
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اعلیٰ حضرت محافظ مسلک حنفیت اعلیٰ کی تمام تصانیف | خصوصیات بالوں میں خضاب لگانا کیسا ہے ؟ کیا نکاح کے لئے مرد سیاہ خضاب شعر : ان کی مہک نے دل کے غنچے امام احمد رضا غیر مسلم ماہرین کیا حسن حسین وسمہ کا خضاب نا محرم عورتوں کا مشائخین بوسہ ایام عرس میں ہونے والی…
امام احمد رضا تھانوی کی نظر میں
اعلیٌ حضرت تھانوی کی نظر میں!!
دودھ پیتے بچے کا پیشاب پاک یا ناپاک
مسلمانوں کو کھڑے ہوکر پیشاب کرنا

شعر : نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ
اعتراف حقیقت اور امام احمد رضا
تعظیم نبی ﷺ اور امام احمد رضا
آستین کہنی سے اوپر چڑھا کر نماز
مردوں کو کس طرح کی انگوٹھی
شعر : عرش حق ہے مسند رفعت ...
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بیوی سے مخلصانہ محبت کرنے والے اِس رکشہ ڈرائیور کی ویڈیو دیکھی ، اچھی لگی ۔

بیوی اللہ پاک کی طرف سے وہ نعمت ہے جو ہمارا آدھا ایمان محفوظ کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ہماری ، ہمارے گھر بار کی حفاظت کرتی ہے ؛ ہمارے بال بچوں کی پرورش کرتی ہے ، دُکھ سُکھ میں ہمارا ساتھ دیتی ہے ۔

بیوی کا احساس کرنا چاہیے اور بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے ۔

رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو بدر میں شریک ہونے سے منع کردیا تھا کیوں کہ اُن کی اہلیہ محترمہ بیمار تھیں ۔
آپ کے لیے حکم تھا کہ ( جہاد پر جانے کے بجائے ) اپنی بیوی کی تیمارداری کریں ۔

" آپ کو اس شخص کے برابر اجر مل جائے گا جو بدر میں شریک ہو گا "

( بخاری شریف ، ر 4066 )

رحمت عالم ﷺ نے ان لوگوں کو بہترین قرار دیاہے جو عورتوں ( بیویوں ) کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیں ۔

( دیکھیے: ترمذی شریف ، ر 1162 )

✍️لقمان شاہد
5-10-2020 ء
https://www.facebook.com/100008105947430/posts/2973293719617464/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*فاضل_بريلوى_تحقيق*

(ایک بار لازمی پڑھیں)

محقق اہل سنت مفتی حق النبی سکندری صاحب زید مجدہ

ايک فاضل كا تبصره پڑھ کر نہایت افسوس ہوا، کہ حضرت فاضل بريلوى عليہ الرحمة كى تمام كتب سوالوں كے جوابات میں تاليف ہوئيں، لهذا وه كوئى گراں قدر علمى اضافہ نہیں اور نہ ہی وقيع اضافہ کہلائیں گی، کوئى مستقل تصنيف پیش کریں.

ایسے جدل ميں پڑنا، نہ میرا تخصص نہ ہی مزاج پر حقيقت بيان كرنا ضرورى ہے، کیونکہ بعض اوقات غلط بات اتنے خوبصورت الفاظ اور القاب سے گردش کرتی کہ وقت گذرنے کے ساتھ حقيقت محسوس ہونے لگتی ہے.

اس مختصر جواب كو اپنی کسی بھی رائے سے دور رکھنے کی کوشش ہوگی ، فقط اسلامى عربى لٹریچر کی روشنی میں چند گزارشات پیش ہیں جنہیں بغور پڑھنے سے دو باتیں سمجھ آجائينگی:

ايک: سائل كا مبلغ علم اور علوم كا مطالعہ.

دوم: فاضل بريلوى قدس سره العزيز،كي تصانيف متقدمين ومتاخرين كے ہاں مذكور مقاصد تاليف، دواعي تاليف كے مطابق ہیں یا نہیں!

ہمیں یقين ہے کہ سائل اگر مقاصد تاليف كی فقط معلومات (گہرائى و گیرائى تو دور کی بات ہے) بھی رکھتے تو یہ سوال ہی انہیں نہ کرنا پڑتا.

اسلامى عربى لٹریچر اس عنوان سے بھرا پڑا ہے کہ: درست سوال، اعتراض، حسن مسالة، نصف علم ہے،جس سے سائل يا معترض كے مبلغ علم كا اندازه ہوجایا کرتا ہے.

سيدنا ابن عباس فرماتے ہیں: ما سألني أحد عن مسألة إلا عرفت، فقيه أو غير فقيه.

جس نے بھی مجھ سے كوئي مسئلہ پوچھا، میں اسکے (سوال سے ہی) اسکا عالم یا جاہل ہونا جان گیا.

علامہ خطيب بغدادى امام مالک سے (بسندہ) نقل فرماتے ہیں کہ: زيد بن أسلم كے پاس، ابن عجلان كچھ پوچھنے آئے، اور سوال میں ہی گڑ بڑ کردی! زيد بن اسلم نےب فرمايا كہ: جاؤ جاكر صحيح سوال كرنا سيکھو پھر پوچھنے آجانا.

مطلب كہ سوال سے ہی سائل كى علمی حقيقت کھل کر سامنے آجاتی ہے.

اب اصل جواب كى طرف آئيے.

أولا: ابن خلدون،ابن حزم، أبوبكر المعافرى الإشبيلى، الكلاعى اور احمد المقرى التلمسانى ابو حيان وغيره... نے اس پر مستقل کلام فرمايا ہے کہ آخر: تصنيف وتأليف كے مقاصد كيا ہیں؟
اگرچہ ان علماء كے علاوه سينکڑوں دیگر مصنفين نے بھی اس پر گفتگو فرمائى ہے پر یہاں مقصود اولين اس پر بولنے والے ہیں.

ان سب محققين، مؤرخين و ادباء كا تقريبا اس پر اتفاق ہے کہ جب بھی کوئى تصنيف كرے یا تاليف(تصنيف و تاليف ميں دقيق فرق ہے جو غالبا سائل پر اب تک مخفى ہو) اس میں سات (7) مقاصد ميں سے کسی ایک کا پایا جانا ضرورى ہے، اگر ان ميں سے كوئى ايک بھی پایا گیا تو ان محقق علماء كے ہاں وہ تصنيف يا تاليف (وقيع اضافہ) بھی گردانی جائيگی اور علمى كام بھی.

وہ مقاصد تاليف ان علماء كى زبانى یہاں ذكر كيئے جا رہے ہیں اور قارئين سے التماس ہے کہ کیا ان مین سے کوئى ايک بھی فاضل بريلوي كى كتب ميں بدرجہ اتم موجود نہیں؟

وه يہ ہیں:

1- إما شيئ لم يسبق إلى استخراجہ فيستخرجه.

2- وإما شيئ ناقص فيتممه.

3- وإما شيئ مخطأ فيصححه.

4-ولما شيئ مستغلق فيشرحه.

5- وإما شيئ طويل فيختصره.

6-وإما شيئ مفترق فيجمعه.

7-وإما شيئ منثور فيجمعه.

ان مقاصد كو ايک عربی شاعر نے یوں نظم بھی فرمايا ہے:

ألا فاعلمن أن التآليف سبعة
لكل لبيب في النصيحة خالص

فشرح لأغلاق وتصحيح مخطئ
وإبداع حبر مقدم غير ناقص

وترتيب منثور وجمع مفرق
وتقصير تطويل وتتميم ناقص

متاخر مشہور عالم حاجي خليفہ كشف الظنون ميں فرماتے ہیں کہ: جو بھی کسی فن پر کتاب لکھے، اسکی کتاب میں یہ پانچ فوائد ہونا ضرورى ہیں:

1- استنباط شيئ كان معضلا.

2- جمعه إن كان مفرقا.

3- شرحه إن كان غامضا.

4- حسن نظم وتاليف.

5- إسقاط حشو وتطويل.

اب ان تمام مقاصد اور فوائد تاليف كو ديکھ کر،فاضل بريلوى قدس سره كي تصانيف ديکھی جائيں تو بلاشبہ علمی تحقيقى معيار كيساتھ ساتھ مقاصد تاليف پر بھی بدرجہ اتم پوری اترتی ہیں!

ابن خلدون وديگر عرب ناقدین كى كسوٹی پر جن کی کتب (مفيد اضافہ) کا ٹائيٹل پالیں بھلا ان پر کسی عجمی پروفيسر كا اعتراض كيونكر درست ہوسکتا ہے!

ثانيا: یہ بات تو طفل مكتب بھی سمجھتا ہے کہ کسی فن پر ایک شخص مستقل لکھے بھی اور اپنے تيئيں اسے (علمى اضافہ) بھی سمجھے مگر حقيقت ميں وه (كاپی پیسٹ) یا (محض سرکھپائى) كا مجموعہ نکلے تو کیا ایسی تصنيف (علمى اضافہ) کہلائے گی؟

ثالثا: مقصود اصلى علم وافاده اور تحقيق ہے،چاہے وہ مستفتى كے جواب ميں ہو چاہے مستقلا تصنيف سے ہو.

اور بلاشبہ یہ يہ چیزيں حضرت فاضل بريلوى قدس سره العزيز كى تاليفات ميں موجود ہیں.

والحق أحق أن يقال.

نوٹ: اختلاف كا حق سب كو نہیں صرف انكو ہے جو: نمبر ايک: موضوع بحث كى اساسيات سے بخوبى واقف ہوں.

نمبر دو: اعتراض برمحل فرمائيں.

ان شروط كا لحاظ نہ رکھا جائے تو وہی ہوگا جو فيس بوک پر نظر آتا ہے، يعنى لايعنى ابحاث، نہ ختم ہونے والے مجادلات،تحقيق كے نام پر توہین.

كتبه:أبوالبرڪات حق النبي سڪندرى أزهري.
شاہپور چاکر، سندھ.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سیدی اعلٰی حضرت امامِ اہلِ سنت مجددِ دین وملت امام احمد رضاخان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کی بارگاه میں حضرت محدث سورتی رحمہ اللّٰہ تعالٰی کے وصال کا ذکر تهاان کے محاسِن کا ذکر فرماتے ہوئے امام اهلِ سنت رَحِمَہُ اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:

"قیامت قریب ہے، اچهے لوگ اٹهتے جاتے ہیں،جو جاتا ہے اپنا نائب نہیں چهوڑتا.

پهر فرمایا:

"امام بخاری نے انتقال فرمایا تو نوے ہزار شاگرد محدث چهوڑے،
سیدنا امام اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے انتقال فرمایا تو ایک ہزار مجتہدین اپنے شاگرد چهوڑے.
محدث ہونا علم کا پہلا زینہ ہے اور مجتہد ہونا آخری منزل.اور اب ہزار مرتے ہیں اور ایک بهی نہیں چهوڑتے"
(ملفوظات اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ)

میثم قادری