عَلٰی اِحسَانِہٖ ؕ
*🔘جِبرِیل اَمین کے مُصافَحَہ کرنے کی علامت*
👈🏿ایک رِوایَت میں آتا ہے ،''جو حَلال کمائی سے رَمَضان میں روزہ اِفْطَار کروائے ۔ رَمَضان کی تمام راتوں میں فِرِشتے اُس پر دُرُودبھیجتے ہیں اور شبِ قَدْر میں جِبرِیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُس سے مُصَافَحَہ کرتے ہیں۔ اور جِس سے جِبرِیل علیہ السلام مُصَافَحَہ کرلیں اُس کی آنکھیں (خوفِ خداعزوجل سے) اشک بار ہوجاتی ہیں اور اسکا دل نَرْم ہوجاتا ہے۔
📙(کنزالعمال ج۸ص۲۱۵حدیث۲۳۶۵۳)
🔘 *روزہ دار کو پانی پلانے کی فضیلت*
👈🏿ایک اور رِوایَت میں ہے ،''جو روزہ دار کو پانی پلائے گا ا للہ عَزَّوَجَلَّ اُسے میرے حَوض سے پلائے گا کہ جَنَّت میں داخِل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔ ''
📕(صحیح ابن خُزَیمہ،ج ۳ ص۱۹۲حدیث۱۸۸۷)
👈🏿حضرتِ سَیِّدُنا سَلْمان بن عامِررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے،خا تمُ المُر سَلین، رَحمۃٌ لِّلْعٰلمین ،شفیعُ الْمُذْنِبیْنِ، انیسُ الْغَرِیبین، سِراجُ السَّالِکین، مَحبوبِ ربُّ الْعٰلمین،جنابِ صادِق واَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے:''جب تم میں کوئی روزہ اِفْطار کرے تو کَھجُور یا چُھوہارے سے اِفْطار کرے کہ وہ بَرَکت ہے اور اگر نہ مِلے تو پانی سے کہ وہ پاک کرنے والا ہے ۔''
📘(جامع تِرْمذی ج۲ص۱۶۲الحدیث۶۹۵)
📌اِس حدیثِ پاک میں یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہوسکے تو کَھجور یا چُھوہار ے سے اِفْطَارکیاجائے کہ یہ سُنَّت ہے اور اگر کھَجور مُیَسَّر نہ ہو تو پھر پانی سے اِفْطار کرلیجئے کہ یہ بھی پاک کرنے والا ہے۔
📌حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے''طبیبوں کے طبیب ، اللہ کے حبیب ، حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نَمازسے پہلے تَر کَھجو ر وں سے روزہ اِفْطَار فرماتے ،تَر کَھجوریں نہ ہوتیں تَو چند خشک کَھجوریں یعنی چُھوہاروں سے اور یہ بھی نہ ہوتیں تو چند چُلُّو پانی پیتے۔
📙(سنن ابوداو،د ج۲ص۴۴۷حدیث۲۳۵۶)
📌اِس حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایاگیاہے کہ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اوَّلاً تَرکَھجور سے روزہ اِفْطَار کرنا پسند فرماتے اگر یہ حاضِر نہ ہوتیں تَو پھر چُھو ہا رو ں سے، یہ بھی اگر مَوجُود نہ ہوتے تَو پھر پانی سے روزہ اِفْطَار فرماتے ۔لہٰذا ہماری پہلی کوشِش یہ ہونی چاہئے کہ ہمیں اِفْطَار کیلئے مِیٹھی مِیٹھی تر کَھجور مِل جائے جو کہ میٹھے میٹھے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی میٹھی میٹھی سُنَّت ہے ۔یہ بھی نہ مِلے تَو پھر چھُوہارا او ر یہ بھی مُیَسَّر نہ ہو تو پھر اب پانی سے روزہ اِفْطَار کرلیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! احادیثِ مبارَکہ میں سَحَری اور افِطار میں کَھجور کے استعمال کی کافی ترغیب موجود ہے ۔کَھجورکھانا، اِس کو بِھگو کر اس کا پانی پینا، اس سے علاج تجویز کرنا یہ سب سنّتیں ہیں ۔ اَلْغَرَض اس میں لا تعداد برکتیں اوربے شمار بیماریوں کا علاج ہے.
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
*🔘جِبرِیل اَمین کے مُصافَحَہ کرنے کی علامت*
👈🏿ایک رِوایَت میں آتا ہے ،''جو حَلال کمائی سے رَمَضان میں روزہ اِفْطَار کروائے ۔ رَمَضان کی تمام راتوں میں فِرِشتے اُس پر دُرُودبھیجتے ہیں اور شبِ قَدْر میں جِبرِیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُس سے مُصَافَحَہ کرتے ہیں۔ اور جِس سے جِبرِیل علیہ السلام مُصَافَحَہ کرلیں اُس کی آنکھیں (خوفِ خداعزوجل سے) اشک بار ہوجاتی ہیں اور اسکا دل نَرْم ہوجاتا ہے۔
📙(کنزالعمال ج۸ص۲۱۵حدیث۲۳۶۵۳)
🔘 *روزہ دار کو پانی پلانے کی فضیلت*
👈🏿ایک اور رِوایَت میں ہے ،''جو روزہ دار کو پانی پلائے گا ا للہ عَزَّوَجَلَّ اُسے میرے حَوض سے پلائے گا کہ جَنَّت میں داخِل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔ ''
📕(صحیح ابن خُزَیمہ،ج ۳ ص۱۹۲حدیث۱۸۸۷)
👈🏿حضرتِ سَیِّدُنا سَلْمان بن عامِررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے،خا تمُ المُر سَلین، رَحمۃٌ لِّلْعٰلمین ،شفیعُ الْمُذْنِبیْنِ، انیسُ الْغَرِیبین، سِراجُ السَّالِکین، مَحبوبِ ربُّ الْعٰلمین،جنابِ صادِق واَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے:''جب تم میں کوئی روزہ اِفْطار کرے تو کَھجُور یا چُھوہارے سے اِفْطار کرے کہ وہ بَرَکت ہے اور اگر نہ مِلے تو پانی سے کہ وہ پاک کرنے والا ہے ۔''
📘(جامع تِرْمذی ج۲ص۱۶۲الحدیث۶۹۵)
📌اِس حدیثِ پاک میں یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہوسکے تو کَھجور یا چُھوہار ے سے اِفْطَارکیاجائے کہ یہ سُنَّت ہے اور اگر کھَجور مُیَسَّر نہ ہو تو پھر پانی سے اِفْطار کرلیجئے کہ یہ بھی پاک کرنے والا ہے۔
📌حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے''طبیبوں کے طبیب ، اللہ کے حبیب ، حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نَمازسے پہلے تَر کَھجو ر وں سے روزہ اِفْطَار فرماتے ،تَر کَھجوریں نہ ہوتیں تَو چند خشک کَھجوریں یعنی چُھوہاروں سے اور یہ بھی نہ ہوتیں تو چند چُلُّو پانی پیتے۔
📙(سنن ابوداو،د ج۲ص۴۴۷حدیث۲۳۵۶)
📌اِس حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایاگیاہے کہ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اوَّلاً تَرکَھجور سے روزہ اِفْطَار کرنا پسند فرماتے اگر یہ حاضِر نہ ہوتیں تَو پھر چُھو ہا رو ں سے، یہ بھی اگر مَوجُود نہ ہوتے تَو پھر پانی سے روزہ اِفْطَار فرماتے ۔لہٰذا ہماری پہلی کوشِش یہ ہونی چاہئے کہ ہمیں اِفْطَار کیلئے مِیٹھی مِیٹھی تر کَھجور مِل جائے جو کہ میٹھے میٹھے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی میٹھی میٹھی سُنَّت ہے ۔یہ بھی نہ مِلے تَو پھر چھُوہارا او ر یہ بھی مُیَسَّر نہ ہو تو پھر اب پانی سے روزہ اِفْطَار کرلیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! احادیثِ مبارَکہ میں سَحَری اور افِطار میں کَھجور کے استعمال کی کافی ترغیب موجود ہے ۔کَھجورکھانا، اِس کو بِھگو کر اس کا پانی پینا، اس سے علاج تجویز کرنا یہ سب سنّتیں ہیں ۔ اَلْغَرَض اس میں لا تعداد برکتیں اوربے شمار بیماریوں کا علاج ہے.
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
*رمضان المبارک کے جدید مسائل:*
*مسئلہ:* افطارکرنے کی دعا افطارکے بعدپڑھنا سنت ہے قبل افطار نہیں۔(فتاوی رضویہ ج۴ص۶۵۱)
*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں گل اور منجن اور کولگیٹ کا استعمال سخت ممنوع ہے بعض صورتوں میں روزہ ٹوٹ بھی جاتا ہے۔(فیصلہ فقہی بورڈ)
*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں انار اور بانس کی لکڑی کے علاوہ ہر کڑوی لکڑی کی ہی مسواک بہتر ہے۔(ردالمحتار ج ۱ص۲۳۵)
*مسئلہ:* گلوز کا ڈراپ یا طاقت کا انجکشن لگوانے سے روزہ فاسد نہ ہو گا اگر چہ بھوک پیاس ختم ہو جائے،ہاں اگر بھوک پیاس سے بچنے کے لئے ایسا کرے تو مکروہ ہے۔(مستفاداز فتاوی ہندیہ ج۱ص۲۰۳)
*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنے میں کوئی حرج نہیں۔(مستفادازشامی ج۲ص۳۹۵)
*مسئلہ:* بغیرسحری کے روزہ رکھنا جائز ہے۔(فتاوی فیض الرسول ج۱ص۵۱۳)
*مسئلہ:* روزه کی حالت میں عطر لگانا،پھول سونگھنا،سرمہ لگانا، تیل لگانا،بال ترشوانا،موئے زیر ناف مونڈنا،بام لگانا،ویسلین یاکریم لگانا،تیل کی مالش کرنا یہ سب جائز ہیں ان سب چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔(فتاوی مرکزی دارالافتاء بریلی شریف ص۳۵۸)
*مسئلہ:* سورج ڈوبنے کے بعدبلا تاخیر فوراً افطار کریں،اذان کا انتظار نہ کریں۔(فتاوی فیض الرسول ج۱ص۵۱۴)
*مسئلہ:* ماہ رمضان کی راتوں میں بیوی سے ہمبستری کرنا جائز ہے۔(قرآن مجیدپ۲ رکوع۷)
*مسئلہ:* روزہ رکھنے کے لئے حائضہ عورت اگر ٹیبلیٹ کا استعمال کرے تو اس کا روزہ صحیح ہے البتہ اس کا یہ فعل جائز نہیں کہ بہت ساری بیماریوں کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔(مستفاد از ہدایہ اولین ص۶۳)
*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں غسل کرنے یا احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔(بہار شریعت وغیرہ)
*مسئلہ:* عید ،بقرعیداورایام تشریق۱۱،۱۲،۱۳، ذی الحجہ کو روزہ رکھناحرام ہے۔(بہار شریعت ح۵ص۱۴۲)
*مسئلہ:* جو شخص روزہ نہ رکھے اس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے کیونکہ صدقہ فطر کے وجوب کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں۔(شامی ج۲ص۷۶)
*مسئلہ:* ادائے رمضان کا روزہ اور نذر معین ونفلی روزہ کی نیت رات سے کرناضروری نہیں اگر ضحوۂ کبری یعنی دوپہر سے پہلے نیت کرلی تب بھی یہ روزے ہو جائیں گے اور ان تینوں روزوں کے علاوہ قضائے رمضان نذر غیر معین اور نفل کی قضا وغیرہ روزوں کی نیت عین اجالا شروع ہونے کے وقت یارات میں کرنا ضروری ہے ان میں سے کسی روزہ کی نیت اگر دس بجے دن میں کی تو وہ روزہ نہ ہوا(عالمگیری ج۱ص۱۳۸)
*مسئلہ:* حالت جنابت میں روزہ درست ہے۔اس سے روزے میں کوئی نقص وخلل نہیں آئے گا کہ طہارت باجماع ائمہ اربعہ شرط صوم نہیں ہے البتہ وہ شخص نمازیں قصدا چھوڑنے کے سبب اشد گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو گا۔(فتاوی رضویہ ج۴ ص۶۱۵)
*مسئلہ:* افطارکرنے کی دعا افطارکے بعدپڑھنا سنت ہے قبل افطار نہیں۔(فتاوی رضویہ ج۴ص۶۵۱)
*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں گل اور منجن اور کولگیٹ کا استعمال سخت ممنوع ہے بعض صورتوں میں روزہ ٹوٹ بھی جاتا ہے۔(فیصلہ فقہی بورڈ)
*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں انار اور بانس کی لکڑی کے علاوہ ہر کڑوی لکڑی کی ہی مسواک بہتر ہے۔(ردالمحتار ج ۱ص۲۳۵)
*مسئلہ:* گلوز کا ڈراپ یا طاقت کا انجکشن لگوانے سے روزہ فاسد نہ ہو گا اگر چہ بھوک پیاس ختم ہو جائے،ہاں اگر بھوک پیاس سے بچنے کے لئے ایسا کرے تو مکروہ ہے۔(مستفاداز فتاوی ہندیہ ج۱ص۲۰۳)
*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنے میں کوئی حرج نہیں۔(مستفادازشامی ج۲ص۳۹۵)
*مسئلہ:* بغیرسحری کے روزہ رکھنا جائز ہے۔(فتاوی فیض الرسول ج۱ص۵۱۳)
*مسئلہ:* روزه کی حالت میں عطر لگانا،پھول سونگھنا،سرمہ لگانا، تیل لگانا،بال ترشوانا،موئے زیر ناف مونڈنا،بام لگانا،ویسلین یاکریم لگانا،تیل کی مالش کرنا یہ سب جائز ہیں ان سب چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔(فتاوی مرکزی دارالافتاء بریلی شریف ص۳۵۸)
*مسئلہ:* سورج ڈوبنے کے بعدبلا تاخیر فوراً افطار کریں،اذان کا انتظار نہ کریں۔(فتاوی فیض الرسول ج۱ص۵۱۴)
*مسئلہ:* ماہ رمضان کی راتوں میں بیوی سے ہمبستری کرنا جائز ہے۔(قرآن مجیدپ۲ رکوع۷)
*مسئلہ:* روزہ رکھنے کے لئے حائضہ عورت اگر ٹیبلیٹ کا استعمال کرے تو اس کا روزہ صحیح ہے البتہ اس کا یہ فعل جائز نہیں کہ بہت ساری بیماریوں کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔(مستفاد از ہدایہ اولین ص۶۳)
*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں غسل کرنے یا احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔(بہار شریعت وغیرہ)
*مسئلہ:* عید ،بقرعیداورایام تشریق۱۱،۱۲،۱۳، ذی الحجہ کو روزہ رکھناحرام ہے۔(بہار شریعت ح۵ص۱۴۲)
*مسئلہ:* جو شخص روزہ نہ رکھے اس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے کیونکہ صدقہ فطر کے وجوب کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں۔(شامی ج۲ص۷۶)
*مسئلہ:* ادائے رمضان کا روزہ اور نذر معین ونفلی روزہ کی نیت رات سے کرناضروری نہیں اگر ضحوۂ کبری یعنی دوپہر سے پہلے نیت کرلی تب بھی یہ روزے ہو جائیں گے اور ان تینوں روزوں کے علاوہ قضائے رمضان نذر غیر معین اور نفل کی قضا وغیرہ روزوں کی نیت عین اجالا شروع ہونے کے وقت یارات میں کرنا ضروری ہے ان میں سے کسی روزہ کی نیت اگر دس بجے دن میں کی تو وہ روزہ نہ ہوا(عالمگیری ج۱ص۱۳۸)
*مسئلہ:* حالت جنابت میں روزہ درست ہے۔اس سے روزے میں کوئی نقص وخلل نہیں آئے گا کہ طہارت باجماع ائمہ اربعہ شرط صوم نہیں ہے البتہ وہ شخص نمازیں قصدا چھوڑنے کے سبب اشد گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو گا۔(فتاوی رضویہ ج۴ ص۶۱۵)
سوال : کپڑے موڑ کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟؟
اور ٹخنے کے نیچے لٹکاناکیسا ہے ؟؟
الجواب : حضرت سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات اعضاء پر سجدہ کرنے اور بالوں اور کپڑے کو نہ موڑنے کا حکم دیا ہے (وہ سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی ، دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔
(بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا ، حدیث : ٣٦٦٥ ، ص : ٦٦٧)
شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیه الرحمه اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں کپڑے کا موڑنا (فولڈ کرنا) اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ فعل کپڑے کاٹخنوں کے نیچے رہنے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا "بغیر تکبر" کی نیت کے ٹخنے سے نیچے رکھنے میں نماز مکروہ تنزیہی (برا) ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے (مکروہ تحریمی ہے) اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین وغیرہ موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ (نماز کو دوبارہ لوٹانا)ہے ۔
(عمدة القاری شرح صحیح بخاری ، جلد : ٦ ، ص : ٩٠)
مذکورہ شرح سے یہ ثابت ہوا کہ کپڑے کو موڑنا مکروہِ تحریمی ہے اور مکروہِ تحریمی کی صورت میں نماز لوٹانی ضروری ہوتی ہے۔ جبکہ کپڑے کا ٹخنوں سے نیچے ہونا مکروہِ تنزیہی یعنی برا عمل ہے لیکن اس سے نماز کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
فقہِ حنفی کی معتبر کتاب در مختار میں ہے :
کف ثوب مکروہ تحریمی ہے یعنی کپڑے کا موڑنا اگرچہ کپڑے کو مٹی سے بچانے کی نیت سے ہو ، جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میں نماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا جب بھی مکروہ تحریمی ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا (فولڈ) کرنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ، خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ تحریمی ہے ۔(در مختار ، ج :١ ، ص : ٥٩٨)۔
اور ٹخنوں سے نیچے شلوار لٹکانے کی ممانعت تب ہے جب کوئی تکبر کی نیت سے شلوار یا پینٹ ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ۔ اور حدیث پاک میں اس کی صراحت بھی موجود ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
"مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُیَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اﷲُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"۔
’’جس نے غرور و تکبر سے اپنا کپڑا (تہبند ، چادر ، شلوار ، پتلون ، جبہ وغیرہ) گھسیٹا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا"۔
اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میری چادر (تہبند) کا ایک کنارہ میں پکڑے رکھتا ہوں (ورنہ لٹک جاتا ہے)؟ فرمایا :
"إِنَّکَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذَلِکَ خُیَلَاءَ"۔
تم غرور و تکبر سے گھسیٹنے والوں میں سے نہیں۔
(صحیح البخاری ، کتاب فضائل الصحابة ، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، ج : ٣ ، ٣٤٥ ، حديث : ٣٤٦٥)
صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا کہ یہ حکم خاص ان لوگوں کے لیے ہے جو تکبر والے ہیں۔ آج کل زیادہ تر لوگ اپنے دفتری لباس میں پینٹ پہنتے ہیں ، ان کا تکبر کا ارادہ و نیت نہیں ہوتی۔ لہٰذا پینٹ ٹخنوں سے نیچے رکھ کر اگر نماز پڑھی تو نماز ہوگئی لیکن پینٹ یا شلوار کو اندر یا باہر کی طرف موڑنا اور اٹھانا مکروہِ تحریمی و گناہ کا کام ہے اور پینٹ یا شلوار موڑ کر نماز نہیں پڑھنی چاہئیے۔
اللہ تعالٰی توفیق دے تو ہم لباس ہی ایسا پہنیں جو سنت کے مطابق درست ہو اور ٹخنے ننگے ہی رہیں تاکہ موڑنے یا اٹھانے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔ واللہ تعالی اعلم
اور ٹخنے کے نیچے لٹکاناکیسا ہے ؟؟
الجواب : حضرت سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات اعضاء پر سجدہ کرنے اور بالوں اور کپڑے کو نہ موڑنے کا حکم دیا ہے (وہ سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی ، دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔
(بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا ، حدیث : ٣٦٦٥ ، ص : ٦٦٧)
شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیه الرحمه اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں کپڑے کا موڑنا (فولڈ کرنا) اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ فعل کپڑے کاٹخنوں کے نیچے رہنے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا "بغیر تکبر" کی نیت کے ٹخنے سے نیچے رکھنے میں نماز مکروہ تنزیہی (برا) ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے (مکروہ تحریمی ہے) اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین وغیرہ موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ (نماز کو دوبارہ لوٹانا)ہے ۔
(عمدة القاری شرح صحیح بخاری ، جلد : ٦ ، ص : ٩٠)
مذکورہ شرح سے یہ ثابت ہوا کہ کپڑے کو موڑنا مکروہِ تحریمی ہے اور مکروہِ تحریمی کی صورت میں نماز لوٹانی ضروری ہوتی ہے۔ جبکہ کپڑے کا ٹخنوں سے نیچے ہونا مکروہِ تنزیہی یعنی برا عمل ہے لیکن اس سے نماز کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
فقہِ حنفی کی معتبر کتاب در مختار میں ہے :
کف ثوب مکروہ تحریمی ہے یعنی کپڑے کا موڑنا اگرچہ کپڑے کو مٹی سے بچانے کی نیت سے ہو ، جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میں نماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا جب بھی مکروہ تحریمی ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا (فولڈ) کرنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ، خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ تحریمی ہے ۔(در مختار ، ج :١ ، ص : ٥٩٨)۔
اور ٹخنوں سے نیچے شلوار لٹکانے کی ممانعت تب ہے جب کوئی تکبر کی نیت سے شلوار یا پینٹ ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ۔ اور حدیث پاک میں اس کی صراحت بھی موجود ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
"مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُیَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اﷲُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"۔
’’جس نے غرور و تکبر سے اپنا کپڑا (تہبند ، چادر ، شلوار ، پتلون ، جبہ وغیرہ) گھسیٹا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا"۔
اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میری چادر (تہبند) کا ایک کنارہ میں پکڑے رکھتا ہوں (ورنہ لٹک جاتا ہے)؟ فرمایا :
"إِنَّکَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذَلِکَ خُیَلَاءَ"۔
تم غرور و تکبر سے گھسیٹنے والوں میں سے نہیں۔
(صحیح البخاری ، کتاب فضائل الصحابة ، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، ج : ٣ ، ٣٤٥ ، حديث : ٣٤٦٥)
صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا کہ یہ حکم خاص ان لوگوں کے لیے ہے جو تکبر والے ہیں۔ آج کل زیادہ تر لوگ اپنے دفتری لباس میں پینٹ پہنتے ہیں ، ان کا تکبر کا ارادہ و نیت نہیں ہوتی۔ لہٰذا پینٹ ٹخنوں سے نیچے رکھ کر اگر نماز پڑھی تو نماز ہوگئی لیکن پینٹ یا شلوار کو اندر یا باہر کی طرف موڑنا اور اٹھانا مکروہِ تحریمی و گناہ کا کام ہے اور پینٹ یا شلوار موڑ کر نماز نہیں پڑھنی چاہئیے۔
اللہ تعالٰی توفیق دے تو ہم لباس ہی ایسا پہنیں جو سنت کے مطابق درست ہو اور ٹخنے ننگے ہی رہیں تاکہ موڑنے یا اٹھانے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔ واللہ تعالی اعلم
ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ ! ﮐﯿﺎ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﮔﺮﻭﯼ ﭘﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ؟
ﺟﻮﺍﺏ :
ﺍﮨﻞِ ﻟﻐﺖ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺭﮨﻦ ﯾﻌﻨﯽ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﮯ ﻟﻐﻮﯼ ﻭ ﺍﺻﻄﻼﺣﯽ ( ﺷﺮﻋﯽ ) ﻣﻌﻨﯽٰ ﻭ ﻣﻔﺎﮨﯿﻢ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ :
ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎﻟﻐﻮﯼ ﻣﻌﻨﯽٰ :
ﻣﺎ ﻭﺿﻊ ﻋﻨﺪﮎ ﻟﻴﻨُﻮﺏَ ﻣﻨﺎﺏ ﻣﺎ ﺍﺧﺬ ﻣﻨﮏ
ﮔﺮﻭﯼ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺷﮯ ﮐﺎ ﻗﺎﺋﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﻮ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔
ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎ ﺷﺮﻋﯽ ﻭ ﺍﺻﻄﻼﺣﯽ ﻣﻌﻨﯽٰ :
ﺟﻌﻞ ﻋﻴﻦ ﻣﺎﻟﻴﺔ ﻭ ﺛﻴﻘﺔ ﺑﺪﻳﻦ ﻻﺯﻡ
ﮐﺴﯽ ﻣﺎﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺑﻨﺎﻧﺎ۔
ﺳﻴﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺮﺗﻀﯽ ﺍﻟﺤﺴﻨﯽ ﺍﻟﻮﺳﻄﯽ ﺍﻟﺰﺑﻴﺪﯼ، ﺗﺎﺝ ﺍﻟﻌﺮﻭﺱ ﻣﻦ ﺷﺮﺡ ﺟﻮﺍﻫﺮ ﺍﻟﻘﺎﻣﻮﺱ، :9 221 ، ﺩﺍﺭ ﺍﺣﻴﺎﺀ ﺍﻟﺘﺮﺍﺙ ﺍﻟﻌﺮﺑﯽ . ﺑﯿﺮﻭﺕ
ﺭﻫﻦ : ﺍﻟﺮَّﻫﻨُﻤﺎ ﻭﺿﻊ ﻋﻨﺪ ﺍﻻﻧﺴﺎﻥ ﻣﻤﺎ ﻳﻨﻮﺏ ﻣﻨﺎﺏ ﻣﺎ ﺍﺧﺬ ﻣﻨﻪ , ﻳﻘﺎﻝ : ﺭَﻫﻨْﺖُ ﻓﻼﻧﺎً ﺩﺍﺭًﺍ ﺭَﻫﻨًﺎ ﻭﺍﺭْﺗَﻬﻨﻪ ﺍِﺫﺍ ﺍَﺧﺬﻩ ﺭَﻫﻨﺎً
ﺭﮨﻦ : ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻟﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﺳﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﮔﺮﻭﯼ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﻋﻼﻣﻪ ﺍﺑﻦ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﺍﻓﺮﻳﻘﯽ، ﻟﺴﺎﻥ ﺍﻟﻌﺮﺏ، :5 348 ، ﺩﺍﺭ ﺍﺣﻴﺎﺀ ﺍﻟﺘﺮﺍﺙ ﺍﻟﻌﺮﺑﻲ ﺑﻴﺮﻭﺕ
ﻣَﺎ ﻳُﻮﺿَﻊُ ﻭﺛِﻴﻘَﺔ ﻟﻠﺪَّﻳْﻦِ ... ﺣﻘﻴﻘﺔ ﺫﻟﮏ ﺍَﻥ ﻳَﺪْﻓَﻊَ ﺳِﻠْﻌﺔ ﺗَﻘْﺪِﻣَﺔ ﻓﯽ ﺛَﻤَﻨِﻪ ﻓَﺘَﺠْﻌﻠَﻬﺎ ﺭَﻫﻴﻨَﺔ ﻟِﺎِﺗْﻤﺎﻡِ ﺛَﻤَﻨِﻬﺎ .
ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺑﻄﻮﺭ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﻨﺎ۔۔۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺩَﯾﻦ ( ﻗﺮﺽ ) ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﯾﺎ ﺯﺍﺋﺪ ﮨﻮ ﺗﺎﮐﮧ ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻗﺮﺽ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ( ﺍﻭﺭ ﺩﺍﺋﻦ [ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ] ﮐﻮ ﻣﺎﻟﯽ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻧﮧ ﮨﻮ ) ۔
.1 ﺍﻟﻤﻔﺮﺩﺍﺕ ﻓﻲ ﻏﺮﻳﺐ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ : 204 ، ﻃﺒﻊ ﻟﻬﻮﺭ
.2 ﺍﺑﻦ ﺍﻻﺛﻴﺮﺍﻟﺠﺰﺭﯼ، ﺍﻟﻨﻬﻴﺔ، :2 285 ، ﻃﺒﻊ ﺍﻳﺮﺍﻥ
ﻓﻘﮩﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ :
ﻫﻮ ﺟﻌﻞ ﺍﻟﺸﻴﯽ ﻣﺤﺒﻮﺳًﺎ ﺑﺤﻖ
ﺣﻖ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﻨﺎ ( ﺭﮨﻦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ )
.1 ﺍﻟﺪﺭﺍﻟﻤﺨﺘﺎﺭ، :6 478 ، ﻃﺒﻊ ﮐﺮﺍﭼﻴﯽ
.2 ﻫﺪﺍﻳﻪ، :4 437 ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺮﻫﻦ، ﻃﺒﻊ ﮐﺮﺍﭼﯽ
ﺷﺮﻋﺎً ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍُﺱ ﺣﻖ ( ﻗﺮﺽ ) ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺟﺴﮯ ﻗﺮﺿﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ۔
ﻫﻮ ﻗﻮﻝ ﺍﻟﺮﻫﻦ ﺭﻫﻨﺖ ﻋﻨﺪﮎ ﻫﺬﺍ ﺍﻟﺸﯽ ﺑﻤﺎﻟﮏ ﻋﻠﯽ ﺩﻳﻦ
ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﯾﻮﮞ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻗﺮﺽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ۔
.1 ﻋﻼﻣﻪ ﺯﻳﻦ ﺍﻟﺪﻳﻦ ﺍﺑﻦ ﻧﺠﻴﻢ ﺍﻟﺤﻨﻔﯽ، ﺍﻟﺒﺤﺮﺍﻟﺮﺍﺋﻖ ﺷﺮﺡ ﮐﻨﺰ
ﺍﻟﺪﻗﺎﺋﻖ، :8 231 ، ﻃﺒﻊ ﮐﺮﺍﭼﻲ
.2 ﺍﻣﺎﻡ ﮐﺎﺳﺎﻧﻲ ﺣﻨﻔﻲ، ﺑﺪﺍﺋﻊ ﺍﻟﺼﻨﺎﺋﻊ ﻓﻲ ﺗﺮﺗﻴﺐ ﺍﻟﺸﺮﺍﺋﻊ، :6 174 ، ﺩﺍﺭ ﺍﻟﮑﺘﺎﺏ ﺍﻟﻌﺮﺑﻲ ﺑﻴﺮﻭﺕ
ﻓﻬﻮ ﺟﻌﻞ ﻋﻴﻦ ﻟﻬﺎ ﻗﻴﻤﺔ ﻣﺎﻟﻴﺔ ﻓﻲ ﻧﻈﺮ ﺍﻟﺸﺮﻉ ﻭﺛﻴﻘﺔ ﺑﺪﻳﻦ ﺑﺤﻴﺚ ﻳﻤﮑﻦ ﺍﺧﺬ ﺍﻟﺪﻳﻦ ﺍﻭ ﺍﺧﺬ ﺑﻌﻀﻪ ﻣﻦ ﺗﻠﮏ ﺍﻟﻌﻴﻦ
ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺷﺮﻋﺎً ﻣﺎﻟﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮨﻮ ﺍُﺳﮯ ﻗﺮﺽ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﺳﺘﺎﻭﯾﺰ ﺍﻭﺭ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﻗﺮﺽ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﺣﺼﮧ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ۔
.1 ﻋﻼﻣﻪ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺠﺰﺭﯼ، ﺍﻟﻔﻘﻪ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻤﺬﻫﺐ ﺍﻻﺭﺑﻌﺔ، 2:319 ، ﻃﺒﻊ ﻣﺼﺮ
.2 ﻋﻼﻣﻪ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺪّﻳﻦ ﺍَﻟﺴَّﺮْﺧَﺴِﯽ، ﺍﻟﻤﺒﺴﻮﻁ، 11:63 ، ﻃﺒﻊ ﺑﯿﺮﻭﺕ
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ :
ﻭَ ﺍِﻥْ ﮐُﻨْﺘُﻢْ ﻋَﻠٰﯽ ﺳَﻔَﺮٍ ﻭَّﻟَﻢْ ﺗَﺠِﺪُﻭْﺍ ﮐَﺎﺗِﺒًﺎ ﻓَﺮِﻫﻦٌ ﻣَّﻘْﺒُﻮْﺿَﺔ
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮧ ﭘﺎﺅ ﺗﻮ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺍﻟﺒﻘﺮﺓ، :2 283
ﻋﮩﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ :
ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﻬﺎ ﺍﻥ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺷﺘﺮﯼ ﻃﻌﺎﻣًﺎ ﻣﻦ ﻳﻬﻮﺩﯼ ﺍِﻟٰﯽ ﺍﺟﻞ ﻭ ﺭﻫﻨﻪ ﺩِﺭﻋًﺎ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺪ
.1 ﺑﺨﺎﺭﻱ، ﻡ 256 ﻩ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ، :2 729 ، ﺭﻗﻢ : 1962 ، ﺩﺍﺭ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﻴﺮ ﺍﻟﻴﻤﺎﻣﻪ ﺑﻴﺮﻭﺕ، 1407 ﻩ
.2 ﻣﺴﻠﻢ، ﻡ 261 ﻩ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ، :3 1226 ، ﺭﻗﻢ : 1603 ، ﺩﺍﺭ ﺍِﺣﻴﺎﺀ ﺍﻟﺘﺮﺍﺙ ﺍﻟﻌﺮﺑﻲ ﺑﻴﺮﻭﺕ
ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺳﯿﺪﮦ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺪﺕ ﺗﮏ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﻏﻠﮧ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﭘﻨﯽ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﯽ ﺫﺭﻉ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﻬﺎ ﻗﺎﻟﺖ : ﺗُﻮُﻓّﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭ ﺩﺭﻋﻪ ﻣﺮﻫﻮﻧﺔ ﻋﻨﺪ ﻳﻬﻮﺩﯼ ﺑﺜﻼﺛﻴﻦ ﺻﺎﻋًﺎ ﻣﻦ ﺷﻌﻴﺮ
.1 ﺑﺨﺎﺭﯼ ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ ، 3:1068 ، ﺭﻗﻢ : 2759
.2 ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ، ﻡ 241 ﻩ، ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ، :1 361 ، ﺭﻗﻢ : 3409 ، ﻣﻮٔﺳﺴﺔ ﻗﺮﻃﺒﺔ ﻣﺼﺮ
.3 ﻧﺴﺎﺋﻲ، ﻡ 303 ﻩ، ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ، :4 49 ، ﺭﻗﻢ : 6247 ، ﺩﺍﺭ ﺍﻟﮑﺘﺐ ﺍﻟﻌﻠﻤﯿﺔ ﺑﯿﺮﻭﺕ
.4 ﺍﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ ، ﻡ 354 ﻩ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ، :13 262 ، ﺭﻗﻢ : 5936 ، ﻣﻮٔﺳﺴﺔ ﺍﻟﺮﺳﺎﻟﺔ ﺑﻴﺮﻭﺕ، ﺳﻦ ﺍٔﺷﺎﻋﺖ 1414 ﻩ
.5 ﻋﺒﺪ ﺑﻦ ﺣﻤﻴﺪ، ﻡ 249 ﻩ، ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ، :1 202 ، ﺭﻗﻢ : 587 ، ﻣﮑﺘﺒﺔ ﺍﻟﺴﻨﺔ ﺍﻟﻘﻬﺮ ﻩ، ﺳﻦ ﺍٔﺷﺎﻋﺖ 1408 ﻩ
.6 ﺑﻴﻬﻘﻲ، ﻡ 458 ﻩ، ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ، :6 36 ، ﺭﻗﻢ : 10973 ، ﻣﮑﺘﺒﺔ ﺩﺍﺭ ﺍﻟﺒﺎﺯ ﻣﮑﺔ ﺍﻟﻤﮑﺮﻣﺔ، ﺳﻦ ﺍٔﺷﺎﻋﺖ 1414 ﻩ
ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺳﯿﺪﮦ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ : ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺫﺭﻉ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﯿﺲ ( 30 ) ﺻﺎﻉ ﺟَﻮ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺧﻼﺻﮧ ﮐﻼﻡ :
ﺳﻔﺮ ﯾﺎ ﺣﻀﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﯾﺎ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﻮ ﺭﻗﻢ ﯾﺎ ﺟﻨﺲ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻭﮦ ﺭﻗﻢ ﯾﺎ ﺟﻨﺲ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮐﻮ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﻭﺻﻮﻟﯽ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ، ﻣﮑﺎﻥ،ﮔﺎﮌﯼ ﯾﺎ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﯾﺎ ﺟﻨﺲ
ﺟﻮﺍﺏ :
ﺍﮨﻞِ ﻟﻐﺖ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺭﮨﻦ ﯾﻌﻨﯽ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﮯ ﻟﻐﻮﯼ ﻭ ﺍﺻﻄﻼﺣﯽ ( ﺷﺮﻋﯽ ) ﻣﻌﻨﯽٰ ﻭ ﻣﻔﺎﮨﯿﻢ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ :
ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎﻟﻐﻮﯼ ﻣﻌﻨﯽٰ :
ﻣﺎ ﻭﺿﻊ ﻋﻨﺪﮎ ﻟﻴﻨُﻮﺏَ ﻣﻨﺎﺏ ﻣﺎ ﺍﺧﺬ ﻣﻨﮏ
ﮔﺮﻭﯼ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺷﮯ ﮐﺎ ﻗﺎﺋﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﻮ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔
ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎ ﺷﺮﻋﯽ ﻭ ﺍﺻﻄﻼﺣﯽ ﻣﻌﻨﯽٰ :
ﺟﻌﻞ ﻋﻴﻦ ﻣﺎﻟﻴﺔ ﻭ ﺛﻴﻘﺔ ﺑﺪﻳﻦ ﻻﺯﻡ
ﮐﺴﯽ ﻣﺎﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺑﻨﺎﻧﺎ۔
ﺳﻴﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺮﺗﻀﯽ ﺍﻟﺤﺴﻨﯽ ﺍﻟﻮﺳﻄﯽ ﺍﻟﺰﺑﻴﺪﯼ، ﺗﺎﺝ ﺍﻟﻌﺮﻭﺱ ﻣﻦ ﺷﺮﺡ ﺟﻮﺍﻫﺮ ﺍﻟﻘﺎﻣﻮﺱ، :9 221 ، ﺩﺍﺭ ﺍﺣﻴﺎﺀ ﺍﻟﺘﺮﺍﺙ ﺍﻟﻌﺮﺑﯽ . ﺑﯿﺮﻭﺕ
ﺭﻫﻦ : ﺍﻟﺮَّﻫﻨُﻤﺎ ﻭﺿﻊ ﻋﻨﺪ ﺍﻻﻧﺴﺎﻥ ﻣﻤﺎ ﻳﻨﻮﺏ ﻣﻨﺎﺏ ﻣﺎ ﺍﺧﺬ ﻣﻨﻪ , ﻳﻘﺎﻝ : ﺭَﻫﻨْﺖُ ﻓﻼﻧﺎً ﺩﺍﺭًﺍ ﺭَﻫﻨًﺎ ﻭﺍﺭْﺗَﻬﻨﻪ ﺍِﺫﺍ ﺍَﺧﺬﻩ ﺭَﻫﻨﺎً
ﺭﮨﻦ : ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻟﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﺳﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﮔﺮﻭﯼ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﻋﻼﻣﻪ ﺍﺑﻦ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﺍﻓﺮﻳﻘﯽ، ﻟﺴﺎﻥ ﺍﻟﻌﺮﺏ، :5 348 ، ﺩﺍﺭ ﺍﺣﻴﺎﺀ ﺍﻟﺘﺮﺍﺙ ﺍﻟﻌﺮﺑﻲ ﺑﻴﺮﻭﺕ
ﻣَﺎ ﻳُﻮﺿَﻊُ ﻭﺛِﻴﻘَﺔ ﻟﻠﺪَّﻳْﻦِ ... ﺣﻘﻴﻘﺔ ﺫﻟﮏ ﺍَﻥ ﻳَﺪْﻓَﻊَ ﺳِﻠْﻌﺔ ﺗَﻘْﺪِﻣَﺔ ﻓﯽ ﺛَﻤَﻨِﻪ ﻓَﺘَﺠْﻌﻠَﻬﺎ ﺭَﻫﻴﻨَﺔ ﻟِﺎِﺗْﻤﺎﻡِ ﺛَﻤَﻨِﻬﺎ .
ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺑﻄﻮﺭ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﻨﺎ۔۔۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺩَﯾﻦ ( ﻗﺮﺽ ) ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﯾﺎ ﺯﺍﺋﺪ ﮨﻮ ﺗﺎﮐﮧ ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻗﺮﺽ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ( ﺍﻭﺭ ﺩﺍﺋﻦ [ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ] ﮐﻮ ﻣﺎﻟﯽ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻧﮧ ﮨﻮ ) ۔
.1 ﺍﻟﻤﻔﺮﺩﺍﺕ ﻓﻲ ﻏﺮﻳﺐ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ : 204 ، ﻃﺒﻊ ﻟﻬﻮﺭ
.2 ﺍﺑﻦ ﺍﻻﺛﻴﺮﺍﻟﺠﺰﺭﯼ، ﺍﻟﻨﻬﻴﺔ، :2 285 ، ﻃﺒﻊ ﺍﻳﺮﺍﻥ
ﻓﻘﮩﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ :
ﻫﻮ ﺟﻌﻞ ﺍﻟﺸﻴﯽ ﻣﺤﺒﻮﺳًﺎ ﺑﺤﻖ
ﺣﻖ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﻨﺎ ( ﺭﮨﻦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ )
.1 ﺍﻟﺪﺭﺍﻟﻤﺨﺘﺎﺭ، :6 478 ، ﻃﺒﻊ ﮐﺮﺍﭼﻴﯽ
.2 ﻫﺪﺍﻳﻪ، :4 437 ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺮﻫﻦ، ﻃﺒﻊ ﮐﺮﺍﭼﯽ
ﺷﺮﻋﺎً ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍُﺱ ﺣﻖ ( ﻗﺮﺽ ) ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺟﺴﮯ ﻗﺮﺿﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ۔
ﻫﻮ ﻗﻮﻝ ﺍﻟﺮﻫﻦ ﺭﻫﻨﺖ ﻋﻨﺪﮎ ﻫﺬﺍ ﺍﻟﺸﯽ ﺑﻤﺎﻟﮏ ﻋﻠﯽ ﺩﻳﻦ
ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﯾﻮﮞ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻗﺮﺽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ۔
.1 ﻋﻼﻣﻪ ﺯﻳﻦ ﺍﻟﺪﻳﻦ ﺍﺑﻦ ﻧﺠﻴﻢ ﺍﻟﺤﻨﻔﯽ، ﺍﻟﺒﺤﺮﺍﻟﺮﺍﺋﻖ ﺷﺮﺡ ﮐﻨﺰ
ﺍﻟﺪﻗﺎﺋﻖ، :8 231 ، ﻃﺒﻊ ﮐﺮﺍﭼﻲ
.2 ﺍﻣﺎﻡ ﮐﺎﺳﺎﻧﻲ ﺣﻨﻔﻲ، ﺑﺪﺍﺋﻊ ﺍﻟﺼﻨﺎﺋﻊ ﻓﻲ ﺗﺮﺗﻴﺐ ﺍﻟﺸﺮﺍﺋﻊ، :6 174 ، ﺩﺍﺭ ﺍﻟﮑﺘﺎﺏ ﺍﻟﻌﺮﺑﻲ ﺑﻴﺮﻭﺕ
ﻓﻬﻮ ﺟﻌﻞ ﻋﻴﻦ ﻟﻬﺎ ﻗﻴﻤﺔ ﻣﺎﻟﻴﺔ ﻓﻲ ﻧﻈﺮ ﺍﻟﺸﺮﻉ ﻭﺛﻴﻘﺔ ﺑﺪﻳﻦ ﺑﺤﻴﺚ ﻳﻤﮑﻦ ﺍﺧﺬ ﺍﻟﺪﻳﻦ ﺍﻭ ﺍﺧﺬ ﺑﻌﻀﻪ ﻣﻦ ﺗﻠﮏ ﺍﻟﻌﻴﻦ
ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺷﺮﻋﺎً ﻣﺎﻟﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮨﻮ ﺍُﺳﮯ ﻗﺮﺽ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﺳﺘﺎﻭﯾﺰ ﺍﻭﺭ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﻗﺮﺽ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﺣﺼﮧ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ۔
.1 ﻋﻼﻣﻪ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺠﺰﺭﯼ، ﺍﻟﻔﻘﻪ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻤﺬﻫﺐ ﺍﻻﺭﺑﻌﺔ، 2:319 ، ﻃﺒﻊ ﻣﺼﺮ
.2 ﻋﻼﻣﻪ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺪّﻳﻦ ﺍَﻟﺴَّﺮْﺧَﺴِﯽ، ﺍﻟﻤﺒﺴﻮﻁ، 11:63 ، ﻃﺒﻊ ﺑﯿﺮﻭﺕ
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ :
ﻭَ ﺍِﻥْ ﮐُﻨْﺘُﻢْ ﻋَﻠٰﯽ ﺳَﻔَﺮٍ ﻭَّﻟَﻢْ ﺗَﺠِﺪُﻭْﺍ ﮐَﺎﺗِﺒًﺎ ﻓَﺮِﻫﻦٌ ﻣَّﻘْﺒُﻮْﺿَﺔ
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮧ ﭘﺎﺅ ﺗﻮ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺍﻟﺒﻘﺮﺓ، :2 283
ﻋﮩﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ :
ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﻬﺎ ﺍﻥ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺷﺘﺮﯼ ﻃﻌﺎﻣًﺎ ﻣﻦ ﻳﻬﻮﺩﯼ ﺍِﻟٰﯽ ﺍﺟﻞ ﻭ ﺭﻫﻨﻪ ﺩِﺭﻋًﺎ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺪ
.1 ﺑﺨﺎﺭﻱ، ﻡ 256 ﻩ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ، :2 729 ، ﺭﻗﻢ : 1962 ، ﺩﺍﺭ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﻴﺮ ﺍﻟﻴﻤﺎﻣﻪ ﺑﻴﺮﻭﺕ، 1407 ﻩ
.2 ﻣﺴﻠﻢ، ﻡ 261 ﻩ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ، :3 1226 ، ﺭﻗﻢ : 1603 ، ﺩﺍﺭ ﺍِﺣﻴﺎﺀ ﺍﻟﺘﺮﺍﺙ ﺍﻟﻌﺮﺑﻲ ﺑﻴﺮﻭﺕ
ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺳﯿﺪﮦ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺪﺕ ﺗﮏ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﻏﻠﮧ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﭘﻨﯽ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﯽ ﺫﺭﻉ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﻬﺎ ﻗﺎﻟﺖ : ﺗُﻮُﻓّﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭ ﺩﺭﻋﻪ ﻣﺮﻫﻮﻧﺔ ﻋﻨﺪ ﻳﻬﻮﺩﯼ ﺑﺜﻼﺛﻴﻦ ﺻﺎﻋًﺎ ﻣﻦ ﺷﻌﻴﺮ
.1 ﺑﺨﺎﺭﯼ ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ ، 3:1068 ، ﺭﻗﻢ : 2759
.2 ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ، ﻡ 241 ﻩ، ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ، :1 361 ، ﺭﻗﻢ : 3409 ، ﻣﻮٔﺳﺴﺔ ﻗﺮﻃﺒﺔ ﻣﺼﺮ
.3 ﻧﺴﺎﺋﻲ، ﻡ 303 ﻩ، ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ، :4 49 ، ﺭﻗﻢ : 6247 ، ﺩﺍﺭ ﺍﻟﮑﺘﺐ ﺍﻟﻌﻠﻤﯿﺔ ﺑﯿﺮﻭﺕ
.4 ﺍﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ ، ﻡ 354 ﻩ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ، :13 262 ، ﺭﻗﻢ : 5936 ، ﻣﻮٔﺳﺴﺔ ﺍﻟﺮﺳﺎﻟﺔ ﺑﻴﺮﻭﺕ، ﺳﻦ ﺍٔﺷﺎﻋﺖ 1414 ﻩ
.5 ﻋﺒﺪ ﺑﻦ ﺣﻤﻴﺪ، ﻡ 249 ﻩ، ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ، :1 202 ، ﺭﻗﻢ : 587 ، ﻣﮑﺘﺒﺔ ﺍﻟﺴﻨﺔ ﺍﻟﻘﻬﺮ ﻩ، ﺳﻦ ﺍٔﺷﺎﻋﺖ 1408 ﻩ
.6 ﺑﻴﻬﻘﻲ، ﻡ 458 ﻩ، ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ، :6 36 ، ﺭﻗﻢ : 10973 ، ﻣﮑﺘﺒﺔ ﺩﺍﺭ ﺍﻟﺒﺎﺯ ﻣﮑﺔ ﺍﻟﻤﮑﺮﻣﺔ، ﺳﻦ ﺍٔﺷﺎﻋﺖ 1414 ﻩ
ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺳﯿﺪﮦ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ : ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺫﺭﻉ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﯿﺲ ( 30 ) ﺻﺎﻉ ﺟَﻮ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺧﻼﺻﮧ ﮐﻼﻡ :
ﺳﻔﺮ ﯾﺎ ﺣﻀﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﯾﺎ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﻮ ﺭﻗﻢ ﯾﺎ ﺟﻨﺲ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻭﮦ ﺭﻗﻢ ﯾﺎ ﺟﻨﺲ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮐﻮ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﻭﺻﻮﻟﯽ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ، ﻣﮑﺎﻥ،ﮔﺎﮌﯼ ﯾﺎ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﯾﺎ ﺟﻨﺲ
ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ’ ﻣﺮﺗﮩﻦ ‘ ، ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ’ ﺭﺍﮨﻦ ‘ ، ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﺷﮯ ﮐﻮ ’ ﻣﺮﮨﻮﻧﮧ ‘ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﮐﻮ ’ ﺭﮨﻦ ‘ ﯾﺎ ’ ﺭﮨﺎﻥ ‘ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﮨﻦ ﮐﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﮐﺎﻥ ﮨﯿﮟ :
.1 ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﯾﻌﻨﯽ ﺭﺍﮨﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﮩﻦ
.2 ﺍﺷﯿﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ : ﺷﮯ ﻣﺮﮨﻮﻧﮧ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺭﻗﻢ
.3 ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ( ﺟﻮ ﻟﯿﻦ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ )
ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺭﮨﻦ ﮐﮯ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺍﮨﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﮩﻦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺑﯿﻊ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﻨﻮﻥ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺷﻌﻮﺭ ﻭ ﻧﺎﺑﺎﻟﻎ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺭﮨﻦ ﺷﺮﻋﺎً ﺧﺮﯾﺪ ﻭ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ( ﭼﻨﺪ ﺍﺳﺘﺜﻨﺎﺋﯽ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ) ﮨﺮ ﻭﮦ ﺷﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺑﯿﻊ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﺭﮨﻦ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﺘﺎﺏ ﻭ ﺳﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﻤﺎﻉ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﻞ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﻘﺎﺋﺺ ﻭ ﻣﻔﺎﺳﺪ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﻈﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠّﻂ ﮨﯿﮟ۔
ﺭﮨﻦ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ :
ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺩﺍﺋﻦ ( ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ) ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻟﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﻣﺜﻼً ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻓﺼﻞ ﻏﻠﮧ، ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﭘﮭﻞ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﮑﺎﻥ، ﺩﮐﺎﻥ، ﭘﻼﭦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﯾﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﯾﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ، ﺗﻮ ﺟﺐ ﻗﺮﺿﺪﺍﺭ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺩﺍﺋﻦ ﻧﮯ ﻣﺎﻟﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺘﻨﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ، ﻗﺮﺽ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺭﻗﻢ ﺳﮯ ﺍُﺳﮯ ﻣﻨﮩﺎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﮔﻮﯾﺎ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﺩﯾﮑﺮ ﺩﺍﺋﻦ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﮮ۔ ﺭﮨﻦ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﻣﺜﻼً ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﮔﺮﻭﯼ ﭼﯿﺰ ( ﻣﮑﺎﻥ، ﺩﮐﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ) ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﺗﻮ ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﻭﺻﻮﻟﯽ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮐﻮ ﺍﺻﻞ ﻗﺮﺽ ﺳﮯ ﻣﻨﮩﺎ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻣﻨﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺳُﻮﺩ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﮐﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺁﺝ ﮐﻞ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﮯ۔
ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺑﺎﻻ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺻﻮﺭﺗﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﻄﻮﺭ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮯ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﺪﯾﺪ ﺻﻮﺭﺕ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﮑﺎﻥ، ﭘﻼﭦ، ﺩﮐﺎﻥ ﯾﺎ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﯾﻖ ( ﺭﺍﮨﻦ ) ﺷﺌﮯ ﻣَﺮﮨﻮﻧﮧ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻓﺮﯾﻖ ( ﻣُﺮﺗَﮩِﻦ ) ﻗﺮﺽ ﻟﯽ ﮔﺌﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻣﻘﺮﺭﮦ ﻣﺪﺕ ﺗﮏ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﺎﺻﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﻮﯾﺎ ﯾﮧ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺷﮑﻞ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﮐﺴﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔
ﻟﮩٰﺬﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮯ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺻﻮﺭﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ : ﺍﯾﮏ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﺑﺴﯽ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻗﺮﺽ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻗﺮﺽ۔ ﺍﻧﮩﯽ ﺩﻭﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﺑﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﺽ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻭ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﻠﻮﮎ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﺗﺎﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﻋﮑﺲ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﻭﯼ ﺷﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﻃﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﯽ ﺍﻥ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﮐﺮﻟﯿﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﺭﺳﻮﻟﮧ ﺍﻋﻠﻢ ﺑﺎﻟﺼﻮﺍﺏ۔
.1 ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﯾﻌﻨﯽ ﺭﺍﮨﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﮩﻦ
.2 ﺍﺷﯿﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ : ﺷﮯ ﻣﺮﮨﻮﻧﮧ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺭﻗﻢ
.3 ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ( ﺟﻮ ﻟﯿﻦ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ )
ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺭﮨﻦ ﮐﮯ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺍﮨﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﮩﻦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺑﯿﻊ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﻨﻮﻥ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺷﻌﻮﺭ ﻭ ﻧﺎﺑﺎﻟﻎ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺭﮨﻦ ﺷﺮﻋﺎً ﺧﺮﯾﺪ ﻭ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ( ﭼﻨﺪ ﺍﺳﺘﺜﻨﺎﺋﯽ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ) ﮨﺮ ﻭﮦ ﺷﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺑﯿﻊ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﺭﮨﻦ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﺘﺎﺏ ﻭ ﺳﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﻤﺎﻉ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﻞ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﻘﺎﺋﺺ ﻭ ﻣﻔﺎﺳﺪ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﻈﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠّﻂ ﮨﯿﮟ۔
ﺭﮨﻦ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ :
ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺩﺍﺋﻦ ( ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ) ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻟﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﻣﺜﻼً ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻓﺼﻞ ﻏﻠﮧ، ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﭘﮭﻞ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﮑﺎﻥ، ﺩﮐﺎﻥ، ﭘﻼﭦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﯾﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﯾﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ، ﺗﻮ ﺟﺐ ﻗﺮﺿﺪﺍﺭ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺩﺍﺋﻦ ﻧﮯ ﻣﺎﻟﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺘﻨﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ، ﻗﺮﺽ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺭﻗﻢ ﺳﮯ ﺍُﺳﮯ ﻣﻨﮩﺎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﮔﻮﯾﺎ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﺩﯾﮑﺮ ﺩﺍﺋﻦ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﮮ۔ ﺭﮨﻦ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﻣﺜﻼً ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﮔﺮﻭﯼ ﭼﯿﺰ ( ﻣﮑﺎﻥ، ﺩﮐﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ) ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﺗﻮ ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﻭﺻﻮﻟﯽ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮐﻮ ﺍﺻﻞ ﻗﺮﺽ ﺳﮯ ﻣﻨﮩﺎ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻣﻨﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺳُﻮﺩ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﮐﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺁﺝ ﮐﻞ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﮯ۔
ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺑﺎﻻ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺻﻮﺭﺗﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﻄﻮﺭ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮯ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﺪﯾﺪ ﺻﻮﺭﺕ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﮑﺎﻥ، ﭘﻼﭦ، ﺩﮐﺎﻥ ﯾﺎ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﯾﻖ ( ﺭﺍﮨﻦ ) ﺷﺌﮯ ﻣَﺮﮨﻮﻧﮧ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻓﺮﯾﻖ ( ﻣُﺮﺗَﮩِﻦ ) ﻗﺮﺽ ﻟﯽ ﮔﺌﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻣﻘﺮﺭﮦ ﻣﺪﺕ ﺗﮏ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﺎﺻﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﻮﯾﺎ ﯾﮧ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺷﮑﻞ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﮐﺴﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔
ﻟﮩٰﺬﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮯ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺻﻮﺭﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ : ﺍﯾﮏ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﺑﺴﯽ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻗﺮﺽ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻗﺮﺽ۔ ﺍﻧﮩﯽ ﺩﻭﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﺑﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﺽ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻭ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﻠﻮﮎ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﺗﺎﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﻋﮑﺲ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﻭﯼ ﺷﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﻃﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﯽ ﺍﻥ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﮐﺮﻟﯿﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﺭﺳﻮﻟﮧ ﺍﻋﻠﻢ ﺑﺎﻟﺼﻮﺍﺏ۔
ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮔﺮﻭﯼ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺟﻮ ﭘﯿﺴﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺯﮐﻮۃ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﻥ ﺩﮮ ﮔﺎ؟
ﺟﻮﺍﺏ :
ﺍﮔﺮ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﺼﺎﺏ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺯﮐﻮۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﯽ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺻﻮﺭﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﺼﺎﺏ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮑﺎﻥ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺎﻝ ﻭﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻼ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺳﺐ ﻣﺎﻝ ﻭﺩﻭﻟﺖ ﭘﺮ ﺯﮐﻮۃ ﻻﮔﻮ ﮨﻮ ﮔﯽ۔
ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﺭﺳﻮﻟﮧ ﺍﻋﻠﻢ ﺑﺎﻟﺼﻮﺍﺏ۔
ﺟﻮﺍﺏ :
ﺍﮔﺮ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﺼﺎﺏ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺯﮐﻮۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﯽ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺻﻮﺭﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﺼﺎﺏ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮑﺎﻥ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺎﻝ ﻭﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻼ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺳﺐ ﻣﺎﻝ ﻭﺩﻭﻟﺖ ﭘﺮ ﺯﮐﻮۃ ﻻﮔﻮ ﮨﻮ ﮔﯽ۔
ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﺭﺳﻮﻟﮧ ﺍﻋﻠﻢ ﺑﺎﻟﺼﻮﺍﺏ۔
ﺟﺲ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﯾﺢ ﺣﮑﻢ ﻧﮧ ﮨﻮ، ﻭﮦ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩﯼ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻋﺎﻟِﻢ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮨﻮ، ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻓﺘﻮﮮ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﯾﮟ ----
( ﺗﻔﮩﯿﻢ ﺍﻟﻤﺴﺎﺋﻞ ﺟﻠﺪ 9 ﺹ 180 ﺿﯿﺎﺀﺍﻟﻘﺮﺁﻥ)
( ﺗﻔﮩﯿﻢ ﺍﻟﻤﺴﺎﺋﻞ ﺟﻠﺪ 9 ﺹ 180 ﺿﯿﺎﺀﺍﻟﻘﺮﺁﻥ)
💧 *ناپاک کپڑا پاک ہونے کی کیا صورتیں ہے؟*
ا===================|
❄ سوال:
کپڑا ناپاک ہوگیا مثلا (دم حیض سے اور اسکے علاوہ ) اس کپڑے کو پاک کرنے کے بعد بھی اس میں داغ وغیرہ باقی رہ گیا تو اب اسکا حکم کیا ہے ...
ا===================|
✍🏼 الجواب بعون الملک الوھاب
💦 مرئی وغیر مرئی ہونے کے اعتبار سے نجاست کی دو قسمیں ہیں
1⃣ نجاست مر ئیہ
نجاست مرئیہ جو جرم دار ہو دیکھنے میں آئے مثلا پاخانے خون
🔮 نجاست مرئیہ کی طہارت کا حکم یہ ہیکہ عین کا زوال جب تک نہ ہو جائے دھوتے رہے اگر ایک ہی مرتبہ میں زائل ہو جائے تو پاک اور جبتک عین باقی رہیگا پاک نہ ہوگا اگر عینیت کا زوال ہو جائے اور داغ و دھبہ کا اثر باقی رہے تو کوئی مضائقہ نہیں !
🔮 بقائے اثر سے طہارت پر فرق نہ پڑنے پر حضرت خولہ بنت قتادہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بہی استدلال کیا جاسکتا ہے کہ سرکار علیہ السلام نے ان سے فرمایا ولا یضرک اثرہ یعنی خون کے دھبہ باقی رہنے سے طہارت میں کوئی ضرر نہیں دے گا
📙 بحوالہ بنایہ ج اول ص 751
📝 مذکورہ بالا تفصیلات نجاست مرئی کی ہے
2⃣ نجاست غیر مرئیہ جیسے پیشاب
🔮 اور غیر مرئی کے متعلق حکم یہ ہیکہ اس وقت تک دھولا جائے جب تک ظن غالب نہ ہو جائے کہ یہ پاک ہو گیا اس لئیے نجاست یقینی کی طہارت کے لئیے غلبہ ظن کا ہو نا ضروری ہے جیسا کہ قبلہ مشتبہ ہونے کی صورت میں تحری ظن غالب کی بناء پر ہے پہر ظن غالب کی مقدار فقہائے کرا م نے تین مرتبہ کی قید لگائی ہے کہ تین مرتبہ دھونے سے ظن غالب یہ ہیکہ پاک ہو جائیگا باب طہارت میں ظن غالب کو تین مرتبہ سے مقید کر نا اس حدیث کی بنا پر ہے جسمیں سرکار علیہ السلام نے فرمایا اذا استیقظ احدکم من منامہ فلا یغمسن یدہ فی الاناء حتی یغسلھا ثلاثا قبل ان یدخلھا فی الاناء فانہ لایدری این باتت یدہ ھدایہ
🔮 یعنی جب تم میں سے کوئی نیندسے بیدار ہو تو برتن میں ہاتھ نہ ڈالے تین مرتبہ دھونے سے پہلے اس لئیے کہ وہ نہیں جانتا ہیکہ ہاتھ نے رات کہاں گزارا ہے
📚 مزید تفصیل ھدایہ ج اول باب الانجاس میں دیکھ سکتے ہیں
ھذا ماظھر لی وسبحانہ تعالی اعلم بالصواب
ا===================|
❄ سوال:
کپڑا ناپاک ہوگیا مثلا (دم حیض سے اور اسکے علاوہ ) اس کپڑے کو پاک کرنے کے بعد بھی اس میں داغ وغیرہ باقی رہ گیا تو اب اسکا حکم کیا ہے ...
ا===================|
✍🏼 الجواب بعون الملک الوھاب
💦 مرئی وغیر مرئی ہونے کے اعتبار سے نجاست کی دو قسمیں ہیں
1⃣ نجاست مر ئیہ
نجاست مرئیہ جو جرم دار ہو دیکھنے میں آئے مثلا پاخانے خون
🔮 نجاست مرئیہ کی طہارت کا حکم یہ ہیکہ عین کا زوال جب تک نہ ہو جائے دھوتے رہے اگر ایک ہی مرتبہ میں زائل ہو جائے تو پاک اور جبتک عین باقی رہیگا پاک نہ ہوگا اگر عینیت کا زوال ہو جائے اور داغ و دھبہ کا اثر باقی رہے تو کوئی مضائقہ نہیں !
🔮 بقائے اثر سے طہارت پر فرق نہ پڑنے پر حضرت خولہ بنت قتادہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بہی استدلال کیا جاسکتا ہے کہ سرکار علیہ السلام نے ان سے فرمایا ولا یضرک اثرہ یعنی خون کے دھبہ باقی رہنے سے طہارت میں کوئی ضرر نہیں دے گا
📙 بحوالہ بنایہ ج اول ص 751
📝 مذکورہ بالا تفصیلات نجاست مرئی کی ہے
2⃣ نجاست غیر مرئیہ جیسے پیشاب
🔮 اور غیر مرئی کے متعلق حکم یہ ہیکہ اس وقت تک دھولا جائے جب تک ظن غالب نہ ہو جائے کہ یہ پاک ہو گیا اس لئیے نجاست یقینی کی طہارت کے لئیے غلبہ ظن کا ہو نا ضروری ہے جیسا کہ قبلہ مشتبہ ہونے کی صورت میں تحری ظن غالب کی بناء پر ہے پہر ظن غالب کی مقدار فقہائے کرا م نے تین مرتبہ کی قید لگائی ہے کہ تین مرتبہ دھونے سے ظن غالب یہ ہیکہ پاک ہو جائیگا باب طہارت میں ظن غالب کو تین مرتبہ سے مقید کر نا اس حدیث کی بنا پر ہے جسمیں سرکار علیہ السلام نے فرمایا اذا استیقظ احدکم من منامہ فلا یغمسن یدہ فی الاناء حتی یغسلھا ثلاثا قبل ان یدخلھا فی الاناء فانہ لایدری این باتت یدہ ھدایہ
🔮 یعنی جب تم میں سے کوئی نیندسے بیدار ہو تو برتن میں ہاتھ نہ ڈالے تین مرتبہ دھونے سے پہلے اس لئیے کہ وہ نہیں جانتا ہیکہ ہاتھ نے رات کہاں گزارا ہے
📚 مزید تفصیل ھدایہ ج اول باب الانجاس میں دیکھ سکتے ہیں
ھذا ماظھر لی وسبحانہ تعالی اعلم بالصواب
عورت کو ہر ماہ حیص آتا ھے اس کی کم سے کم مدت 3 دن اور زیادہ سے زیادہ 10 دن ھے
عورت کو حالت حیص میں روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کی شرعا اجازت نھی بلکہ نمازمعاف ھے اور اس کی قضا بھی نھی رھا روزو کا معاملہ تو ان کی قضا کرے گی
نفا س کہتے ھیں اس کو کہ جس عورت کو بچہ جننے کے بعد خون آتا ھے اس کی مدت 40 دن ھے
اس حالت میں بھی روزہ نماز معاف ھے
لیکن روزو کی قضا کرے گی
نکتہ ۔ اگر کسی عورت کا خون 40 دن سے پہلے رک گیا مثالا 20۔۔۔25 دن ھی میں تو خون رکنے بعد ھی نماز پڑھے اور روزے رکھے
حوالہ
بہارےشریعت ۔۔۔۔۔۔
عورت کو حالت حیص میں روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کی شرعا اجازت نھی بلکہ نمازمعاف ھے اور اس کی قضا بھی نھی رھا روزو کا معاملہ تو ان کی قضا کرے گی
نفا س کہتے ھیں اس کو کہ جس عورت کو بچہ جننے کے بعد خون آتا ھے اس کی مدت 40 دن ھے
اس حالت میں بھی روزہ نماز معاف ھے
لیکن روزو کی قضا کرے گی
نکتہ ۔ اگر کسی عورت کا خون 40 دن سے پہلے رک گیا مثالا 20۔۔۔25 دن ھی میں تو خون رکنے بعد ھی نماز پڑھے اور روزے رکھے
حوالہ
بہارےشریعت ۔۔۔۔۔۔
اگر میں بیت الخلاء کے پانی میں اپنے مقعد کو دھوتے ہوئے پانی مقعد میں داخل ہوجائے تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
جواب..
اگر مقعد دھوتے وقت مقعد کے اندر پانی نہیں گیا تو روزہ باقی رہے گا اور اگر مقعد کے اندر پانی چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ بہت احتیاط سے پانی استعمال کیا جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
مزید
استنجا میں اگر اس قدر مبالغہ کیا جائے کہ پانی حقنہ تک پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا (حقنہ پائخانہ کی راہ میں وہ جگہ ہے، جہاں پر پچکاری وغیرہ کے ذریعے دوا پہنچائی جاتی ہے) یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب کوشش اور ارادہ کے ساتھ ایسا کیا جائے، مگر استنجا میں بالعموم ایسا نہیں ہوتا ولو بالغ في الاستنجاء حتی بلغ موضع الحقنة فسد وہذا قلما یکون ولو کان فیورث داء عظیما (شامی) البتہ آپ خیال رکھیں کہ روزے کی حالت میں استنجا میں مبالغہ سے کام نہ لیں ویبالغ في إرخاء المقعدة․․․ إن لم یکن صائمًا، والصوم لا یبالغ حفظًا للصوم عن الفساد (مراقي الفلاح: ۴۸)
واللہ تعالیٰ اعلم
جواب..
اگر مقعد دھوتے وقت مقعد کے اندر پانی نہیں گیا تو روزہ باقی رہے گا اور اگر مقعد کے اندر پانی چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ بہت احتیاط سے پانی استعمال کیا جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
مزید
استنجا میں اگر اس قدر مبالغہ کیا جائے کہ پانی حقنہ تک پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا (حقنہ پائخانہ کی راہ میں وہ جگہ ہے، جہاں پر پچکاری وغیرہ کے ذریعے دوا پہنچائی جاتی ہے) یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب کوشش اور ارادہ کے ساتھ ایسا کیا جائے، مگر استنجا میں بالعموم ایسا نہیں ہوتا ولو بالغ في الاستنجاء حتی بلغ موضع الحقنة فسد وہذا قلما یکون ولو کان فیورث داء عظیما (شامی) البتہ آپ خیال رکھیں کہ روزے کی حالت میں استنجا میں مبالغہ سے کام نہ لیں ویبالغ في إرخاء المقعدة․․․ إن لم یکن صائمًا، والصوم لا یبالغ حفظًا للصوم عن الفساد (مراقي الفلاح: ۴۸)
واللہ تعالیٰ اعلم
#Darulifta_Ahlesunnat.
*مفتی ابو محمد علی اصغر العطاری*
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*🌟زکوہ کے چند اہم مسائل🌟*
*حصہ اول :عنوان اموال زکوہ*
📣📣
🔵🔸ہر ہر چیز پر زکوہ فرض نہیں.
🔵🔸ان چه چیزوں پر زکوہ فرض ہے
*🔹(1)سونا*
*🔹 (2)چاندی*
*🔹(3)کرنسی*
*🔹 (4)پرائز بانڈ*
*🔹 (5)مال تجارت*
*🔹(6) چرائی کے وہ جانور جن کو خرید کر چارہ نہیں ڈالا جاتا بلکہ سال کا اکثر حصہ وہ مفت سرکاری چراگاہ میں چرتے ہیں*
—-------------------
🔵🔸سوال(1)🔸سوناچاندی پہننے کا ہو تو بهی زکوہ ہوگی
📝جواب: جی ہاں نصاب کو پہنچتا ہو اور شرائط پائی جاتی ہوں تو زکوہ ہوگی
—-------------------
🔵🔸سوال (2)🔸سونے کی زکوہ شوہر نکالے گا یا بیوی؟
📝جواب : جو سونے کا مالک ہے وہ زکوہ نکالے گا عورت کا جو سونا میکے سے ملا وہ اس کی ملکیت ہے جو لڑکے نے پہلی رات دیا وہ بهی گفٹ ہو کر ملکیت ہوگیا لیکن جو سسرال سے لڑکی کو دی جاتا ہے اس میں مختلف برادریوں کے مختلف عرف ہیں ان کا پتا خاص کر طلاق ہونے پر چلتا ہے کہ واپس لیا جاتا ہے یا نہیں الغرض لڑکی کے سسرال سے صریح الفاظ هبہ نہ کہے گئے ہوں تو برادری کے عرف کے مطابق لڑے یا لڑکی کی ملکیت تصور ہوگا
—-------------------
🔵🔸سوال (3)🔸عورت کے پاس پیسے ہی نہ ہوں لیکن سونا نصاب سے زائد اور باقی شرائط بهی پائی جاتی ہوں تو کیا کرے ؟
📝جواب : قرض لے کر زکوہ ادا کرے یا پهر سونے کو بیچ کر زکوہ تو دینی ہوگی
—-------------------
🔵🔸سوال (4)🔸مال تجارت سے کیا مراد ہے؟؟
📝جواب: وہ چیز جس کو خریدتے وقت بیچنے کی نیت کی ہو
—-------------------
🔵🔸سوال (5)🔸جو چیز کرایہ پر چلانے کے لئے خریدی کیا اس پر زکوہ ہوگی؟
📝جواب: جی نہیں ایسی چیز پر زکوہ نہیں ہوگی خواہ ٹرانسپورٹ ہو یا پراپرٹی جس کو کرایہ پر چلانے کے لئے خریدا اس پر زکوہ نہیں
—-------------------
🔵🔸سوال: (6)🔸جس چیز کو بیچنے کے لئے خریدا مگر بعد میں بیچنے کی نیت بدل گئی اپنے یا بچوں کے استعمال یا کرایہ پر چلانے کی نیت ہو گئی تو کیا زکوہ ہوگی ؟؟
📝جواب: جی نہیں ان سب صورتوں میں یہ چیز اب مال تجارت نہ رہی .نصاب کا سال پورا ہونے کے بعد نیت بدلی ہے تو پچهلے سال کی زکوہ بنے گی لیکن آئندہ کی نہیں.
🔵🔸سوال: (7)🔸بیچنے کے لئے نہیں خریدی تهی بعد میں بیچنے کی نیت ہو گئی اس پر زکوہ فرض ہوگی ؟
📝جواب: جی نہیں ایسے مال پر زکوہ فرض نہیں صرف نیت کرنے سے کوئی چیز مال تجارت نہیں بن جاتی
🔵🔸سوال: (8)🔸 ہم نےکسی اور کا جو مال بطور امانت لیا ہوکیا اس پر ہم زکوہ دیں گے ؟ جیسے ہماری کرایہ کی پراپرٹی کا ایڈوانس ہمارے پاس جمع ہو--کوئی بی سی بهرتا ہو اس کے پاس لوگوں کی امانت جمع ہو —ہم نے کسی سے قرضہ لے رکها ہو وغیرہ وغیرہ
📝جواب: ان تمام صورتوں میں آپ اس مال کے مالک نہیں تو آپ پر اس مال کی زکوہ نہیں جو مالک ہے وہ خود اپنا حساب لگائے گا اور شرائط پائے جانے پر زکوہ دے گا
🔵🔸سوال: (9)🔸چرائی کے جانور کے علاوہ جو پانچ چیزیں آپ نے بیان کی ہیں اگر یہ تهوڑی تهوڑی ہوں تو کیا زکوہ فرض ہوگی ؟
📝جواب: ہاں بقیہ پانچ چیزیں یعنی سونا، چاندی، کرنسی ،پرائز بانڈ اور مال تجارت جب نصاب سے کم کم ہو مثلا سونا ساڑهے سات تولہ پورا نہ ہو یا چاندی ساڑهے باون تولہ نہ ہو تو ایسی صورت میں اموال زکوہ کی مالیت کو ملائیں گے اگر پانچوں میں چیزوں میں سے کوئی بهی دو یا زائد اموال مل کر ساڑهے باون تولہ چاندی کے نصاب کو پہنچتے ہوں اور بقیہ شرائط پائی جائے تو زکوہ فرض ہوگی
🔵🔸سوال: (10)🔸دکان کا فرنیچر اور فیکٹری میں مال بنانے والی مشین پر زکوہ ہوگی ؟
📝جواب: جی نہیں عام طور سے دکان کا فرنیچر آفس کے کمپیوٹر وغیرہ بیچنے کے لئے نہیں خریدے جاتے اور نہ ہی فیکٹری کی مشین اس نیت سے خریدی جاتی ہے لهذا ان چیزوں پر زکوہ نہیں البتہ دکان ہی اگر فرنیچر کی ہو تو اس میں بهی جو چیزیں بیچنے کے لئے ہوں صرف اس پر زکوہ ہوگی . واللہ اعلم بالصواب
*مفتی ابو محمد علی اصغر العطاری*
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*🌟زکوہ کے چند اہم مسائل🌟*
*حصہ اول :عنوان اموال زکوہ*
📣📣
🔵🔸ہر ہر چیز پر زکوہ فرض نہیں.
🔵🔸ان چه چیزوں پر زکوہ فرض ہے
*🔹(1)سونا*
*🔹 (2)چاندی*
*🔹(3)کرنسی*
*🔹 (4)پرائز بانڈ*
*🔹 (5)مال تجارت*
*🔹(6) چرائی کے وہ جانور جن کو خرید کر چارہ نہیں ڈالا جاتا بلکہ سال کا اکثر حصہ وہ مفت سرکاری چراگاہ میں چرتے ہیں*
—-------------------
🔵🔸سوال(1)🔸سوناچاندی پہننے کا ہو تو بهی زکوہ ہوگی
📝جواب: جی ہاں نصاب کو پہنچتا ہو اور شرائط پائی جاتی ہوں تو زکوہ ہوگی
—-------------------
🔵🔸سوال (2)🔸سونے کی زکوہ شوہر نکالے گا یا بیوی؟
📝جواب : جو سونے کا مالک ہے وہ زکوہ نکالے گا عورت کا جو سونا میکے سے ملا وہ اس کی ملکیت ہے جو لڑکے نے پہلی رات دیا وہ بهی گفٹ ہو کر ملکیت ہوگیا لیکن جو سسرال سے لڑکی کو دی جاتا ہے اس میں مختلف برادریوں کے مختلف عرف ہیں ان کا پتا خاص کر طلاق ہونے پر چلتا ہے کہ واپس لیا جاتا ہے یا نہیں الغرض لڑکی کے سسرال سے صریح الفاظ هبہ نہ کہے گئے ہوں تو برادری کے عرف کے مطابق لڑے یا لڑکی کی ملکیت تصور ہوگا
—-------------------
🔵🔸سوال (3)🔸عورت کے پاس پیسے ہی نہ ہوں لیکن سونا نصاب سے زائد اور باقی شرائط بهی پائی جاتی ہوں تو کیا کرے ؟
📝جواب : قرض لے کر زکوہ ادا کرے یا پهر سونے کو بیچ کر زکوہ تو دینی ہوگی
—-------------------
🔵🔸سوال (4)🔸مال تجارت سے کیا مراد ہے؟؟
📝جواب: وہ چیز جس کو خریدتے وقت بیچنے کی نیت کی ہو
—-------------------
🔵🔸سوال (5)🔸جو چیز کرایہ پر چلانے کے لئے خریدی کیا اس پر زکوہ ہوگی؟
📝جواب: جی نہیں ایسی چیز پر زکوہ نہیں ہوگی خواہ ٹرانسپورٹ ہو یا پراپرٹی جس کو کرایہ پر چلانے کے لئے خریدا اس پر زکوہ نہیں
—-------------------
🔵🔸سوال: (6)🔸جس چیز کو بیچنے کے لئے خریدا مگر بعد میں بیچنے کی نیت بدل گئی اپنے یا بچوں کے استعمال یا کرایہ پر چلانے کی نیت ہو گئی تو کیا زکوہ ہوگی ؟؟
📝جواب: جی نہیں ان سب صورتوں میں یہ چیز اب مال تجارت نہ رہی .نصاب کا سال پورا ہونے کے بعد نیت بدلی ہے تو پچهلے سال کی زکوہ بنے گی لیکن آئندہ کی نہیں.
🔵🔸سوال: (7)🔸بیچنے کے لئے نہیں خریدی تهی بعد میں بیچنے کی نیت ہو گئی اس پر زکوہ فرض ہوگی ؟
📝جواب: جی نہیں ایسے مال پر زکوہ فرض نہیں صرف نیت کرنے سے کوئی چیز مال تجارت نہیں بن جاتی
🔵🔸سوال: (8)🔸 ہم نےکسی اور کا جو مال بطور امانت لیا ہوکیا اس پر ہم زکوہ دیں گے ؟ جیسے ہماری کرایہ کی پراپرٹی کا ایڈوانس ہمارے پاس جمع ہو--کوئی بی سی بهرتا ہو اس کے پاس لوگوں کی امانت جمع ہو —ہم نے کسی سے قرضہ لے رکها ہو وغیرہ وغیرہ
📝جواب: ان تمام صورتوں میں آپ اس مال کے مالک نہیں تو آپ پر اس مال کی زکوہ نہیں جو مالک ہے وہ خود اپنا حساب لگائے گا اور شرائط پائے جانے پر زکوہ دے گا
🔵🔸سوال: (9)🔸چرائی کے جانور کے علاوہ جو پانچ چیزیں آپ نے بیان کی ہیں اگر یہ تهوڑی تهوڑی ہوں تو کیا زکوہ فرض ہوگی ؟
📝جواب: ہاں بقیہ پانچ چیزیں یعنی سونا، چاندی، کرنسی ،پرائز بانڈ اور مال تجارت جب نصاب سے کم کم ہو مثلا سونا ساڑهے سات تولہ پورا نہ ہو یا چاندی ساڑهے باون تولہ نہ ہو تو ایسی صورت میں اموال زکوہ کی مالیت کو ملائیں گے اگر پانچوں میں چیزوں میں سے کوئی بهی دو یا زائد اموال مل کر ساڑهے باون تولہ چاندی کے نصاب کو پہنچتے ہوں اور بقیہ شرائط پائی جائے تو زکوہ فرض ہوگی
🔵🔸سوال: (10)🔸دکان کا فرنیچر اور فیکٹری میں مال بنانے والی مشین پر زکوہ ہوگی ؟
📝جواب: جی نہیں عام طور سے دکان کا فرنیچر آفس کے کمپیوٹر وغیرہ بیچنے کے لئے نہیں خریدے جاتے اور نہ ہی فیکٹری کی مشین اس نیت سے خریدی جاتی ہے لهذا ان چیزوں پر زکوہ نہیں البتہ دکان ہی اگر فرنیچر کی ہو تو اس میں بهی جو چیزیں بیچنے کے لئے ہوں صرف اس پر زکوہ ہوگی . واللہ اعلم بالصواب
ﻏﺰﻭﺍﺕ ﮐﯽ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺳﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﯽ ﮐﺌﯽ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﻟﮍﻧﺎ ﭘﮍﯾﮟ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺷﺮﯾﮏ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﺰﻭﮦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﺮﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮨﻢ ﻏﺰﻭﺍﺕ ﯾﺎ ﺳﺮﯾﺎﺕ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺑﺪﺭ : 17 ﺭﻣﻀﺎﻥ 2 ﮪ ( 17 ﻣﺎﺭﭺ 624 ﺀ ) ﮐﻮ ﺑﺪﺭ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻏﺰﻭﮦ ﺑﺪﺭ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 313 ﺟﺒﮑﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﻣﮑّﮧ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 1300 ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻓﺘﺢ ﮨﻮﺋﯽ۔ 70 ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﻣﺎﺭﮮ ﮔﺌﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 36 ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﮐﺮﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺟﮩﮧ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ 70 ﺟﻨﮕﯽ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 14 ﺗﮭﯽ۔ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻓﺘﺢ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﻗﻮﺕ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﮮ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺍﺣﺪ 7: ﺷﻮﺍﻝ 3 ﮪ ( 23 ﻣﺎﺭﭺ 625 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮﺳﻔﯿﺎﻥ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ 3000 ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺣﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﻏﺰﻭﮦ ﺍﺣﺪ ﮐﮩﻼﺋﯽ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭨﯿﻠﮯ ﭘﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺟﻨﮓ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ۔
ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﻮ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﭨﯿﻠﮯ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﻓﺘﺢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﯾﺎ ﻣﺎﻝِ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﯾﮧ ﺣﻤﻠﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻔﺎﺭ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭧ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﺒﻖ ﻣﻼ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺧﻼﻑ ﻭﺭﺯﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺧﻨﺪﻕ ( ﺍﺣﺰﺍﺏ ) : ﺷﻮﺍﻝ۔ ﺫﯼ ﺍﻟﻘﻌﺪﮦ 5 ﮪ ( ﻣﺎﺭﭺ 627 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ ﻣﮕﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺳﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺍﯾﮏ ﺧﻨﺪﻕ ﮐﮭﻮﺩ ﻟﯽ۔ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺑﮕﺎﮌ ﺳﮑﮯ۔ ﺧﻨﺪﻕ ﮐﮭﻮﺩﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﮭﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﯾﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﻣﺤﺎﺻﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺌﯽ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺑﻌﺾ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﻧﮯ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﮐﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﺍﮐﮭﺎﮌ ﭘﮭﯿﻨﮑﮯ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺑﻨﯽ ﻗﺮﯾﻈﮧ : ﺫﯼ ﺍﻟﻘﻌﺪﮦ ۔ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ 5 ﮪ ( ﺍﭘﺮﯾﻞ 627 ﺀ ) ﮐﻮ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺑﻨﯽ ﻣﺼﻄﻠﻖ : ﺷﻌﺒﺎﻥ 6 ﮪ ( ﺩﺳﻤﺒﺮ 627 ﺀ۔ ﺟﻨﻮﺭﯼ 628 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺑﻨﯽ ﻣﺼﻄﻠﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﺋﮯ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺧﯿﺒﺮ : ﻣﺤﺮﻡ 7 ﮪ ( ﻣﺌﯽ 628 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﺋﮯ۔
ﺟﻨﮓِ ﻣﻮﺗﮧ : 5 ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻻﻭﻝ 8 ﮪ ( ﺍﮔﺴﺖ ۔ ﺳﺘﻤﺒﺮ 629 ﺀ ) ﮐﻮ ﻣﻮﺗﮧ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﻏﺰﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﻓﺘﺢ ( ﻓﺘﺢِ ﻣﮑﮧ ) : ﺭﻣﻀﺎﻥ 8 ﮪ ( ﺟﻨﻮﺭﯼ 630 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﮑّﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ۔ ﺟﻨﮓ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﯿﺒﺖ ﺳﮯ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﮈﺭ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﮑّﮧ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺣﻨﯿﻦ : ﺷﻮﺍﻝ 8 ﮪ ( ﺟﻨﻮﺭﯼ ۔ ﻓﺮﻭﺭﯼ 630 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻓﺘﺢ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺗﺒﻮﮎ : ﺭﺟﺐ 9 ﮪ ( ﺍﮐﺘﻮﺑﺮ 630 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﭘﮭﯿﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮧ ﺑﺎﺯﻧﻄﯿﻨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﻮﺝ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﺤﺎﺫ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﻮﺝ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺒﻮﮎ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺷﻤﻦ ﻓﻮﺝ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺟﻨﮓ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﻗﺒﺎﺋﻞ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺰﯾﮧ ﻣﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﭼﺮﭼﮯ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ...
رضا مرکزی..
📚"غزوات رسولﷺ "بک کی ایک جھلک
👆👆👆👆👆
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﯽ ﮐﺌﯽ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﻟﮍﻧﺎ ﭘﮍﯾﮟ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺷﺮﯾﮏ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﺰﻭﮦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﺮﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮨﻢ ﻏﺰﻭﺍﺕ ﯾﺎ ﺳﺮﯾﺎﺕ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺑﺪﺭ : 17 ﺭﻣﻀﺎﻥ 2 ﮪ ( 17 ﻣﺎﺭﭺ 624 ﺀ ) ﮐﻮ ﺑﺪﺭ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻏﺰﻭﮦ ﺑﺪﺭ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 313 ﺟﺒﮑﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﻣﮑّﮧ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 1300 ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻓﺘﺢ ﮨﻮﺋﯽ۔ 70 ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﻣﺎﺭﮮ ﮔﺌﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 36 ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﮐﺮﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺟﮩﮧ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ 70 ﺟﻨﮕﯽ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 14 ﺗﮭﯽ۔ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻓﺘﺢ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﻗﻮﺕ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﮮ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺍﺣﺪ 7: ﺷﻮﺍﻝ 3 ﮪ ( 23 ﻣﺎﺭﭺ 625 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮﺳﻔﯿﺎﻥ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ 3000 ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺣﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﻏﺰﻭﮦ ﺍﺣﺪ ﮐﮩﻼﺋﯽ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭨﯿﻠﮯ ﭘﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺟﻨﮓ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ۔
ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﻮ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﭨﯿﻠﮯ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﻓﺘﺢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﯾﺎ ﻣﺎﻝِ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﯾﮧ ﺣﻤﻠﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻔﺎﺭ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭧ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﺒﻖ ﻣﻼ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺧﻼﻑ ﻭﺭﺯﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺧﻨﺪﻕ ( ﺍﺣﺰﺍﺏ ) : ﺷﻮﺍﻝ۔ ﺫﯼ ﺍﻟﻘﻌﺪﮦ 5 ﮪ ( ﻣﺎﺭﭺ 627 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ ﻣﮕﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺳﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺍﯾﮏ ﺧﻨﺪﻕ ﮐﮭﻮﺩ ﻟﯽ۔ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺑﮕﺎﮌ ﺳﮑﮯ۔ ﺧﻨﺪﻕ ﮐﮭﻮﺩﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﮭﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﯾﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﻣﺤﺎﺻﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺌﯽ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺑﻌﺾ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﻧﮯ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﮐﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﺍﮐﮭﺎﮌ ﭘﮭﯿﻨﮑﮯ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺑﻨﯽ ﻗﺮﯾﻈﮧ : ﺫﯼ ﺍﻟﻘﻌﺪﮦ ۔ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ 5 ﮪ ( ﺍﭘﺮﯾﻞ 627 ﺀ ) ﮐﻮ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺑﻨﯽ ﻣﺼﻄﻠﻖ : ﺷﻌﺒﺎﻥ 6 ﮪ ( ﺩﺳﻤﺒﺮ 627 ﺀ۔ ﺟﻨﻮﺭﯼ 628 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺑﻨﯽ ﻣﺼﻄﻠﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﺋﮯ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺧﯿﺒﺮ : ﻣﺤﺮﻡ 7 ﮪ ( ﻣﺌﯽ 628 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﺋﮯ۔
ﺟﻨﮓِ ﻣﻮﺗﮧ : 5 ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻻﻭﻝ 8 ﮪ ( ﺍﮔﺴﺖ ۔ ﺳﺘﻤﺒﺮ 629 ﺀ ) ﮐﻮ ﻣﻮﺗﮧ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﻏﺰﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﻓﺘﺢ ( ﻓﺘﺢِ ﻣﮑﮧ ) : ﺭﻣﻀﺎﻥ 8 ﮪ ( ﺟﻨﻮﺭﯼ 630 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﮑّﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ۔ ﺟﻨﮓ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﯿﺒﺖ ﺳﮯ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﮈﺭ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﮑّﮧ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺣﻨﯿﻦ : ﺷﻮﺍﻝ 8 ﮪ ( ﺟﻨﻮﺭﯼ ۔ ﻓﺮﻭﺭﯼ 630 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻓﺘﺢ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺗﺒﻮﮎ : ﺭﺟﺐ 9 ﮪ ( ﺍﮐﺘﻮﺑﺮ 630 ﺀ ) ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﭘﮭﯿﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮧ ﺑﺎﺯﻧﻄﯿﻨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﻮﺝ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﺤﺎﺫ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﻮﺝ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺒﻮﮎ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺷﻤﻦ ﻓﻮﺝ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺟﻨﮓ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﻗﺒﺎﺋﻞ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺰﯾﮧ ﻣﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﭼﺮﭼﮯ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ...
رضا مرکزی..
📚"غزوات رسولﷺ "بک کی ایک جھلک
👆👆👆👆👆
*کپڑا موڑ کر نماز پڑھنا کیسا؟*
مسئلہ کف ثوب....
اس مسئلہ کے پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پینٹ، شلوار یا کپڑا نہ موڑنے کا حکم کیوں آیا؟
اس کی وجہ اہلِ اسلام کو تکبر سے پاک کرنا تھا جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ *رسول اللہ ﷺ نے سات اعضاء پر سجدہ کرنے اور بالوں اور کپڑے کو نہ موڑنے کا حکم دیا ہے* )وہ سات اعضاء یہ ہیں( پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔
)بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا،حدیث 3665، ص 667، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان
شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں کپڑے کا موڑنا )فولڈ کرنا( اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ فعل کپڑے کاٹخنوں کے نیچے رہنے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا "بغیر تکبر" کی نیت کے ٹخنے سے نیچے رکھنے میں نماز مکروہ تنزیہی )برا( ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے )مکروہ تحریمی ہے( اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین وغیرہ موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ )نماز کو دوبارہ لوٹاناہے(۔
)بحوالہ: عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 6، ص 90(
*مذکورہ شرح سے یہ ثابت ہوا کہ کپڑے کو موڑنا مکروہِ تحریمی ہے اور مکروہِ تحریمی کی صورت میں نماز لوٹانی ضروری ہوتی ہے۔ جبکہ کپڑے کا ٹخنوں سے نیچے ہونا مکروہِ تنزیہی یعنی برا عمل ہے لیکن اس سے نماز کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔*
فقہِ حنفی کی معتبر کتاب در مختار میں ہے؛
کف ثوب )کپڑے کو فولڈکرنا( مکروہ تحریمی ہے یعنی کپڑے کا موڑنا اگرچہ کپڑے کو مٹی سے بچانے کی نیت سے ہو، جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میں نماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا جب بھی مکروہ تحریمی ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا )فولڈ( کرنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں، خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ تحریمی ہے ۔
)در مختار، جلد اول، ص 598(۔
اب یہاں اس مسئلہ کی وضاحت بھی ہو جائے کہ ٹخنوں سے نیچے شلوار کی ممانعت تب ہے جب کوئی اس نیت سے شلوار یا پینٹ ٹخنوں سے نیچے لٹکائے اور اس کا ارادہ تکبر کا ہو۔ الحمد للہ فی زمانہ ایسا بہت کم ہے۔ آقا کریم ﷺ کی ظاہری حیات پاک میں ہی اس کی ایک مثال ملتی ہے، حدیث پاک ملاحظہ ہو؛
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُیَ. لَاءَ، لَمْ يَنْظُرِ اﷲُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.*
جس نے غرور و تکبر سے اپنا کپڑا )تہبند، چادر، شلوار، پتلون، جبہ وغیرہ( گھسیٹا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔
اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میری چادر )تہبند( کا ایک کنارہ میں پکڑے رکھتا ہوں )ورنہ لٹک جاتا ہے(؟ فرمایا :
*إِنَّکَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذَلِکَ خُیَ. لَاءَ.*
تم غرور و تکبر سے گھسیٹنے والوں میں سے نہیں۔
)بخاری، الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 3 : 1345، رقم : 3465(
.
بارگاہِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے *وسیلہ* سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا کہ یہ حکم خاص ان لوگوں کے لئیے ہے جو تکبر والے ہیں۔ آج کل زیادہ تر لوگ اپنے دفتری لباس میں پینٹ پہنتے ہیں، ان کا تکبر کا ارادہ و نیت نہیں ہوتی۔ لہٰذا پینٹ ٹخنوں سے نیچے رکھ کر اگر نماز پڑھی تو نماز ہوگئی لیکن پینٹ یا شلوار کو اندر یا باہر کی طرف موڑنا اور اٹھانا مکروہِ تحریمی و گناہ کا کام ہے اور پینٹ یا شلوار موڑ کر نماز نہیں پڑھنی چاہئیے۔
اللہ تعالٰی توفیق دے تو ہم لباس ہی ایسا پہنیں جو سنت کے مطابق درست ہو اور ٹخنے ننگے ہی رہیں تاکہ موڑنے یا اٹھانے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔
*واللہ ورسولہ اعلم بالصواب*
مسئلہ کف ثوب....
اس مسئلہ کے پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پینٹ، شلوار یا کپڑا نہ موڑنے کا حکم کیوں آیا؟
اس کی وجہ اہلِ اسلام کو تکبر سے پاک کرنا تھا جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ *رسول اللہ ﷺ نے سات اعضاء پر سجدہ کرنے اور بالوں اور کپڑے کو نہ موڑنے کا حکم دیا ہے* )وہ سات اعضاء یہ ہیں( پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔
)بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا،حدیث 3665، ص 667، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان
شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں کپڑے کا موڑنا )فولڈ کرنا( اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ فعل کپڑے کاٹخنوں کے نیچے رہنے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا "بغیر تکبر" کی نیت کے ٹخنے سے نیچے رکھنے میں نماز مکروہ تنزیہی )برا( ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے )مکروہ تحریمی ہے( اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین وغیرہ موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ )نماز کو دوبارہ لوٹاناہے(۔
)بحوالہ: عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 6، ص 90(
*مذکورہ شرح سے یہ ثابت ہوا کہ کپڑے کو موڑنا مکروہِ تحریمی ہے اور مکروہِ تحریمی کی صورت میں نماز لوٹانی ضروری ہوتی ہے۔ جبکہ کپڑے کا ٹخنوں سے نیچے ہونا مکروہِ تنزیہی یعنی برا عمل ہے لیکن اس سے نماز کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔*
فقہِ حنفی کی معتبر کتاب در مختار میں ہے؛
کف ثوب )کپڑے کو فولڈکرنا( مکروہ تحریمی ہے یعنی کپڑے کا موڑنا اگرچہ کپڑے کو مٹی سے بچانے کی نیت سے ہو، جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میں نماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا جب بھی مکروہ تحریمی ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا )فولڈ( کرنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں، خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ تحریمی ہے ۔
)در مختار، جلد اول، ص 598(۔
اب یہاں اس مسئلہ کی وضاحت بھی ہو جائے کہ ٹخنوں سے نیچے شلوار کی ممانعت تب ہے جب کوئی اس نیت سے شلوار یا پینٹ ٹخنوں سے نیچے لٹکائے اور اس کا ارادہ تکبر کا ہو۔ الحمد للہ فی زمانہ ایسا بہت کم ہے۔ آقا کریم ﷺ کی ظاہری حیات پاک میں ہی اس کی ایک مثال ملتی ہے، حدیث پاک ملاحظہ ہو؛
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُیَ. لَاءَ، لَمْ يَنْظُرِ اﷲُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.*
جس نے غرور و تکبر سے اپنا کپڑا )تہبند، چادر، شلوار، پتلون، جبہ وغیرہ( گھسیٹا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔
اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میری چادر )تہبند( کا ایک کنارہ میں پکڑے رکھتا ہوں )ورنہ لٹک جاتا ہے(؟ فرمایا :
*إِنَّکَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذَلِکَ خُیَ. لَاءَ.*
تم غرور و تکبر سے گھسیٹنے والوں میں سے نہیں۔
)بخاری، الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 3 : 1345، رقم : 3465(
.
بارگاہِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے *وسیلہ* سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا کہ یہ حکم خاص ان لوگوں کے لئیے ہے جو تکبر والے ہیں۔ آج کل زیادہ تر لوگ اپنے دفتری لباس میں پینٹ پہنتے ہیں، ان کا تکبر کا ارادہ و نیت نہیں ہوتی۔ لہٰذا پینٹ ٹخنوں سے نیچے رکھ کر اگر نماز پڑھی تو نماز ہوگئی لیکن پینٹ یا شلوار کو اندر یا باہر کی طرف موڑنا اور اٹھانا مکروہِ تحریمی و گناہ کا کام ہے اور پینٹ یا شلوار موڑ کر نماز نہیں پڑھنی چاہئیے۔
اللہ تعالٰی توفیق دے تو ہم لباس ہی ایسا پہنیں جو سنت کے مطابق درست ہو اور ٹخنے ننگے ہی رہیں تاکہ موڑنے یا اٹھانے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔
*واللہ ورسولہ اعلم بالصواب*
❤1
🌙 *وتر کے تیسری رکعت میں قرات کے بعد امام نے رکوع کردیا........جواب مکمل پوسٹ میں ملاحظہ فرمائیں!*
ا==================|
🗂 سوال:
اسلام علیکم ،،سوال ،،،،،حضرت وتر کے تیسری رکعت میں قرات کے بعد امام نے رکوع کردیا پچھے سے مقتدیوں نے لقمہ دیا پہر تکبیر اور دعائے قنوت کے بعد آخر میں سجدہ کیا تو نماز سہی ہوئی یا نہیں برائے مہربانی جواب عنایت کریں
ا==================|
✍🏼 جواب:
الحمدللہ والصلوة علی رسولﷲ۔
📖 *سجدہ سہو کرلیا ہے تو نماز ہوجائے گی۔*
⭕ مصنف بہار شریعت علامہ امجد علی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
📌 اگر دعاء قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو نہ قیام کیطرف لوٹے نہ رکوع میں پڑھے
اور اگر قیام کی طرف لوٹ آیا اور قنوت پڑھا اور رکوع نہ کیا تو نماز فاسد نہ ہوگی مگر گنہ گار ہوگا اوراگر صرف الحمد پڑھکر رکوع میں چلا گیا تو لوٹے، سورت وقنوت پڑھے پھر۔رکوع کرے اور آخرمیں سجدہ سہو کرے !
📕 بہار شریعت ح۔4. ص۔7.
📌 دوسری جگہ ص۔31 پر ہے
قنوت یا تکبیر قنوت بھول گیا سجدہ سہو کرے.
📘 ماخوذ
بہار شریعت ح۔4 ۔ص۔7۔۔31
وﷲ اعلم ورسولہ بالصواب
محمدرضا مرکزي
ا==================|
🗂 سوال:
اسلام علیکم ،،سوال ،،،،،حضرت وتر کے تیسری رکعت میں قرات کے بعد امام نے رکوع کردیا پچھے سے مقتدیوں نے لقمہ دیا پہر تکبیر اور دعائے قنوت کے بعد آخر میں سجدہ کیا تو نماز سہی ہوئی یا نہیں برائے مہربانی جواب عنایت کریں
ا==================|
✍🏼 جواب:
الحمدللہ والصلوة علی رسولﷲ۔
📖 *سجدہ سہو کرلیا ہے تو نماز ہوجائے گی۔*
⭕ مصنف بہار شریعت علامہ امجد علی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
📌 اگر دعاء قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو نہ قیام کیطرف لوٹے نہ رکوع میں پڑھے
اور اگر قیام کی طرف لوٹ آیا اور قنوت پڑھا اور رکوع نہ کیا تو نماز فاسد نہ ہوگی مگر گنہ گار ہوگا اوراگر صرف الحمد پڑھکر رکوع میں چلا گیا تو لوٹے، سورت وقنوت پڑھے پھر۔رکوع کرے اور آخرمیں سجدہ سہو کرے !
📕 بہار شریعت ح۔4. ص۔7.
📌 دوسری جگہ ص۔31 پر ہے
قنوت یا تکبیر قنوت بھول گیا سجدہ سہو کرے.
📘 ماخوذ
بہار شریعت ح۔4 ۔ص۔7۔۔31
وﷲ اعلم ورسولہ بالصواب
محمدرضا مرکزي
🌹سورہ قدرکی تفسیر
+++++++++++++++++++++
📚اناانزلنه فی لیلۃ القدر،وماادرٰک مالیلۃ القدرلیلۃ القدرخیرمن الف شھر،تنزل الملائکۃ والروح فیھاباذن ربھم من کل امرسلٰم ھی حتی مطلع الفجر،،،،،،،ترجمہ👈🏻👇🏻👇🏻
👈بیشک ہم نےاسےشب قدرمیں اتارا،اورتم نےکیاجاناکیاشب قدر،شب قدرہزارمہینوں سےبہتراس میں فرشتےاورجبرئیل اترتےہیں،اپنےرب کے حکم سے،ہرکام کیلئے وہ سلامتی ہےصبح چمکنےتک،،،،،،،،،،!
🌹سورہ قدرکایہ ترجمہ سیدنااعلی حضرت امام اہل سنت مجدددین وملت شیخ الاسلام والمسلمین قطب عالم غوث زماں امام احمدرضاخاں فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کےترجمہ قرآن "کنزالایمان" سےنقل کیاگیا،،،،،،،،!
📚درمنثورجوسیدی امام جلال الدین الملۃ والدین سیوطی شافعی رضی اللہ عنہ کی تفسیرقرآن ہے،،،،اس میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سےحضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کاارشادمنقول ہےکہ شب قدراللہ عزوجل نےمیری امت کوعطافرمائی اگلی امتوں کوعطانہ کی گئ،اس سلسلہ میں مختلف روایتیں ہیں کہ اس نعمت عظمٰی اورفضیلت کبریٰ کی عطاکاسبب کیاہے،،،،،!
📚بعض حدیثوں سےپتہ چلتاہےکہ نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےامم سابقہ کی عمروں کوملاحظہ فرمایاکہ ان کی عمریں لمبی لمبی ہوئیں اوراپنی امت کی عمروں پرنظرفرمائی توتھوڑی معلوم ہوئی کہ اگرمیری امت کےلوگ اعمال صالحہ اورافعال خیرمیں ان کی برابری کرناچاہیں توبظاہرممکن نہیں اس وجہ سے اور اس خیال سےسرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کےخاطرعاطرکورنج وملال ہوا،اورچہرہ انورپرحزن وغم کےآثارنمودارہوے:لہذاسورہ قدرکونازل فرماکررب رحیم نےعمروں کی کمی کوثواب کی کثرت وزیادتی سےپورافرمادیا،اگرکسی خوش بخت اورسعیدازلی کومقدرکی خوبی سےزندگی میں دس راتیں شب قدرسےمل جائیں اوروہ خوش نصیب ان کوعبادت خداوندی میں بسرکرلےتوگویااس نےآٹھ سوتینتیس(833)برس چارماہ سےزیادہ اپنےمولیٰ کی عبادت کی ،،،،،،،،،!
📚بعض حدیثوں سےمعلوم ہوتاہےکہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےبنی اسرائیل کےکسی شخص کاذکرفرمایاکہ اس نےہزارمہینےتک اللہ کی راہ میں جہادکیاصحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کواس پررشک ہواتورب رحیم وغفورنےاس مبارک رات کونازل فرمایا،،،،،،!
📚بعض احادیث مبارکہ سےظاہرہوتاہےکہ سرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےبنی اسرائیل کےچاراشخاص کاذکرفرمایا:حضرت سیدالصابرین سیدناایوب نبیناوعلیہ الصلوۃ والتسلیم،سیدالعابدین حضرت زکریاعلیہ السلام،امام الزاہدین وراس المجاہدین سیدناحزقیل علیہ السلام،رئیس العابدین سیدالمجاھدین فی سبیل اللہ خلفہ کلیم اللہ حضرت یوشع ابن نون علیہ السلام،،،،،،،یہ اللہ کےمقدس اوربرگزیدہ نبی اسی(80)اسی(80)برس اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول ومصروف رہےاورطرفۃ العین پلک جھپکنےتک بھی اللہ کی یادسےغافل نہ رہے،اورنہ ہی اس کی نافرمانی کی،اس پرصحابہ کرام رضی المولیٰ عنہم کوحیرت واستعجاب ہواتوسیدالملائکہ مکین سدرہ روح القدس حضرجبرئیل علیہ السلام بارگاہ رسالت مآب میں سورہ قدرکی عظیم بشارت لےکرحاضرہوے،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورخودسرکاراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خوش ہوےاورقلب کوتسلی ہوئی صحابہ کرام پروانہ نبوت کوقرارآیا،،،،،،،،،!
------------------------------------------
📚اناانزلنہ فی الیلۃالقدر:-
👈بلاشبہ یقینًاہم نےقرآن عظیم کوشب قدرمیں اتارایعنی قرآن مقدس لوح محفوظ سےسماءدنیاآسمان اول پراسی عظمت والی رات میں دفعۃً واحدۃً یک بارگی پوراقرآن مکمل طورپرنازل کیاگیا،شب قدرکی فضیلت کیلئےیہی ایک چیزکافی تھی،مولیٰ کریم رب غفورورحیم نےبےشمارعظمت ورفعت خیروبرکت سےاس شب کونوازا،،،،،!
------------------------------------------
پھرذوق وشوق کی خاطرارشادخداوندی
ہوتاہے:-
📚وماادراک مالیلۃ القدر:-
👈اورتم نےکیاجانا،کیاشب قدریعنی اےمحبوب تمہیں معلوم ہےکہ شب قدرکیاہے،،،،؟آگےارشادہوتاہے
جس سےاس کی فضیلت کااظہارہوتاہے، "لیلۃ القدرخیرمن الف شھر" ،شب قدرہزارمہینوں سےبہترہزارمہینوں میں جتناعبادت کاثواب حاصل ہو سکتا ہے اس سےکہیں زیادہ اس مقدرومنورشب قدرمیں عبادت کاثواب حاصل ہوگا،،،،،!
-----------------------------------------
📚تنزل الملآئکۃ والروح:-
👈اس میں فرشتےاورجبرئیل اترتےہیں اس مقدس ونورانی رات میں بکثرت فرشتوں کانزول ہوتاہے،،،،،،،،!
-----------------------------------------
📚امام اجل فخرالملۃ والدین رازی رحمۃ اللہ علیہ "تفسیرکبیر" فرماتےہیں کہ اےانسان!ابتداءمیں فرشتوں نےتجھےدیکھاتھاتواظہار نفرت فرمایاتھا،اوربارگاہ ذوالجلال میں عرض کیاتھاپروردگارتوایسی چیزپیداکرنےوالاہےجودنیا
میں فتنہ فسادبرپاکرگی،
اورخونریزی اورقتل وغارت گری اس کاشیوہ ہوگا_بعدازاں تجھےوالدین نےمنی کےقطرہ کی صورت میں دیکھاتھاتواظہارنفرت کیاتھا،یہاں تک کہ اگرکپڑے
میں وہ مادہ منویہ لگ جاتاتودھوناناگریزہوتا
🕋🌍 *مرکزی لائبریری وشرعی عدالت*🌍🕋
📱8446974711
+++++++++++++++++++++
📚اناانزلنه فی لیلۃ القدر،وماادرٰک مالیلۃ القدرلیلۃ القدرخیرمن الف شھر،تنزل الملائکۃ والروح فیھاباذن ربھم من کل امرسلٰم ھی حتی مطلع الفجر،،،،،،،ترجمہ👈🏻👇🏻👇🏻
👈بیشک ہم نےاسےشب قدرمیں اتارا،اورتم نےکیاجاناکیاشب قدر،شب قدرہزارمہینوں سےبہتراس میں فرشتےاورجبرئیل اترتےہیں،اپنےرب کے حکم سے،ہرکام کیلئے وہ سلامتی ہےصبح چمکنےتک،،،،،،،،،،!
🌹سورہ قدرکایہ ترجمہ سیدنااعلی حضرت امام اہل سنت مجدددین وملت شیخ الاسلام والمسلمین قطب عالم غوث زماں امام احمدرضاخاں فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کےترجمہ قرآن "کنزالایمان" سےنقل کیاگیا،،،،،،،،!
📚درمنثورجوسیدی امام جلال الدین الملۃ والدین سیوطی شافعی رضی اللہ عنہ کی تفسیرقرآن ہے،،،،اس میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سےحضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کاارشادمنقول ہےکہ شب قدراللہ عزوجل نےمیری امت کوعطافرمائی اگلی امتوں کوعطانہ کی گئ،اس سلسلہ میں مختلف روایتیں ہیں کہ اس نعمت عظمٰی اورفضیلت کبریٰ کی عطاکاسبب کیاہے،،،،،!
📚بعض حدیثوں سےپتہ چلتاہےکہ نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےامم سابقہ کی عمروں کوملاحظہ فرمایاکہ ان کی عمریں لمبی لمبی ہوئیں اوراپنی امت کی عمروں پرنظرفرمائی توتھوڑی معلوم ہوئی کہ اگرمیری امت کےلوگ اعمال صالحہ اورافعال خیرمیں ان کی برابری کرناچاہیں توبظاہرممکن نہیں اس وجہ سے اور اس خیال سےسرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کےخاطرعاطرکورنج وملال ہوا،اورچہرہ انورپرحزن وغم کےآثارنمودارہوے:لہذاسورہ قدرکونازل فرماکررب رحیم نےعمروں کی کمی کوثواب کی کثرت وزیادتی سےپورافرمادیا،اگرکسی خوش بخت اورسعیدازلی کومقدرکی خوبی سےزندگی میں دس راتیں شب قدرسےمل جائیں اوروہ خوش نصیب ان کوعبادت خداوندی میں بسرکرلےتوگویااس نےآٹھ سوتینتیس(833)برس چارماہ سےزیادہ اپنےمولیٰ کی عبادت کی ،،،،،،،،،!
📚بعض حدیثوں سےمعلوم ہوتاہےکہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےبنی اسرائیل کےکسی شخص کاذکرفرمایاکہ اس نےہزارمہینےتک اللہ کی راہ میں جہادکیاصحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کواس پررشک ہواتورب رحیم وغفورنےاس مبارک رات کونازل فرمایا،،،،،،!
📚بعض احادیث مبارکہ سےظاہرہوتاہےکہ سرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےبنی اسرائیل کےچاراشخاص کاذکرفرمایا:حضرت سیدالصابرین سیدناایوب نبیناوعلیہ الصلوۃ والتسلیم،سیدالعابدین حضرت زکریاعلیہ السلام،امام الزاہدین وراس المجاہدین سیدناحزقیل علیہ السلام،رئیس العابدین سیدالمجاھدین فی سبیل اللہ خلفہ کلیم اللہ حضرت یوشع ابن نون علیہ السلام،،،،،،،یہ اللہ کےمقدس اوربرگزیدہ نبی اسی(80)اسی(80)برس اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول ومصروف رہےاورطرفۃ العین پلک جھپکنےتک بھی اللہ کی یادسےغافل نہ رہے،اورنہ ہی اس کی نافرمانی کی،اس پرصحابہ کرام رضی المولیٰ عنہم کوحیرت واستعجاب ہواتوسیدالملائکہ مکین سدرہ روح القدس حضرجبرئیل علیہ السلام بارگاہ رسالت مآب میں سورہ قدرکی عظیم بشارت لےکرحاضرہوے،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورخودسرکاراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خوش ہوےاورقلب کوتسلی ہوئی صحابہ کرام پروانہ نبوت کوقرارآیا،،،،،،،،،!
------------------------------------------
📚اناانزلنہ فی الیلۃالقدر:-
👈بلاشبہ یقینًاہم نےقرآن عظیم کوشب قدرمیں اتارایعنی قرآن مقدس لوح محفوظ سےسماءدنیاآسمان اول پراسی عظمت والی رات میں دفعۃً واحدۃً یک بارگی پوراقرآن مکمل طورپرنازل کیاگیا،شب قدرکی فضیلت کیلئےیہی ایک چیزکافی تھی،مولیٰ کریم رب غفورورحیم نےبےشمارعظمت ورفعت خیروبرکت سےاس شب کونوازا،،،،،!
------------------------------------------
پھرذوق وشوق کی خاطرارشادخداوندی
ہوتاہے:-
📚وماادراک مالیلۃ القدر:-
👈اورتم نےکیاجانا،کیاشب قدریعنی اےمحبوب تمہیں معلوم ہےکہ شب قدرکیاہے،،،،؟آگےارشادہوتاہے
جس سےاس کی فضیلت کااظہارہوتاہے، "لیلۃ القدرخیرمن الف شھر" ،شب قدرہزارمہینوں سےبہترہزارمہینوں میں جتناعبادت کاثواب حاصل ہو سکتا ہے اس سےکہیں زیادہ اس مقدرومنورشب قدرمیں عبادت کاثواب حاصل ہوگا،،،،،!
-----------------------------------------
📚تنزل الملآئکۃ والروح:-
👈اس میں فرشتےاورجبرئیل اترتےہیں اس مقدس ونورانی رات میں بکثرت فرشتوں کانزول ہوتاہے،،،،،،،،!
-----------------------------------------
📚امام اجل فخرالملۃ والدین رازی رحمۃ اللہ علیہ "تفسیرکبیر" فرماتےہیں کہ اےانسان!ابتداءمیں فرشتوں نےتجھےدیکھاتھاتواظہار نفرت فرمایاتھا،اوربارگاہ ذوالجلال میں عرض کیاتھاپروردگارتوایسی چیزپیداکرنےوالاہےجودنیا
میں فتنہ فسادبرپاکرگی،
اورخونریزی اورقتل وغارت گری اس کاشیوہ ہوگا_بعدازاں تجھےوالدین نےمنی کےقطرہ کی صورت میں دیکھاتھاتواظہارنفرت کیاتھا،یہاں تک کہ اگرکپڑے
میں وہ مادہ منویہ لگ جاتاتودھوناناگریزہوتا
🕋🌍 *مرکزی لائبریری وشرعی عدالت*🌍🕋
📱8446974711
*عیدالفطر کی نماز کا طریقہ*
*پہلے نیت کریں
☽ نیت کرتا ہوں میں دو رکعت نماز عیدالفطر کی زائد چھ تکبیروں کے ساتھ منہ میرا کعبہ شریف کی طرف
واسطے اللہ تعالی کے پیچھے اس امام کے.
امام تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ کرثنا پڑھےگا ہمیں بھی تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ لینا ہے اس کے بعد تین زائد تكبيریں ہوں گی.
⛤ پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے
⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے
⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لینا ہے
اسكے بعد امام قرآت کرےگایعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے گااور رکوع سجدہ کرکے پہلی رکعت مکمل ہوگی
🌹دوسری رکعت کے لئے اٹھتے ہی امام قرآت کرے گا یعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھےگا اس کے بعدرکوع میں جانے سے پہلے زائد تینوں تكبيرے ہوں گی
⛤پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے
⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے
⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دینا ہے
یہاں تک زائد تكبيرے مکمل ہوگئ.
☽ اب اس کے بعد بغیر ہاتھ اٹھاے تکبیر کہہ کر رکوع میں جاینگے.
☽اور بس آگے کی نماز دوسری نمازوں کی طرح پڑھنا ہےپھر سلام پھیرنا ہوگی.
*نماز عیدالفطر سے پہلے خوب شئیر کریں اللہ عمل کی توفیق عطاءفرمائے*
*پہلے نیت کریں
☽ نیت کرتا ہوں میں دو رکعت نماز عیدالفطر کی زائد چھ تکبیروں کے ساتھ منہ میرا کعبہ شریف کی طرف
واسطے اللہ تعالی کے پیچھے اس امام کے.
امام تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ کرثنا پڑھےگا ہمیں بھی تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ لینا ہے اس کے بعد تین زائد تكبيریں ہوں گی.
⛤ پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے
⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے
⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لینا ہے
اسكے بعد امام قرآت کرےگایعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے گااور رکوع سجدہ کرکے پہلی رکعت مکمل ہوگی
🌹دوسری رکعت کے لئے اٹھتے ہی امام قرآت کرے گا یعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھےگا اس کے بعدرکوع میں جانے سے پہلے زائد تینوں تكبيرے ہوں گی
⛤پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے
⛤دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے
⛤تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دینا ہے
یہاں تک زائد تكبيرے مکمل ہوگئ.
☽ اب اس کے بعد بغیر ہاتھ اٹھاے تکبیر کہہ کر رکوع میں جاینگے.
☽اور بس آگے کی نماز دوسری نمازوں کی طرح پڑھنا ہےپھر سلام پھیرنا ہوگی.
*نماز عیدالفطر سے پہلے خوب شئیر کریں اللہ عمل کی توفیق عطاءفرمائے*
سوال: *کیا فرماتے ہیں علماء دین اس بارے میں کہ وہابیوں دیوبندیوں اور قرآت میں اور قرآن کی تلاوت کرتے وقت (ض کی جگہ ظا) پڑھنے والوں اور بدمذھبوں گستاخوں کا شرعا کیا حکم ہے ،ان سے میل جول،اپنی مسجد میں بلانا یا انہیں آنے دینا، درس کی اجازت دینا،شادی بیاہ کرنا کیسا ہے؟*
*(سائل :محمد الطاف قادری)*
باسمہ سبحانہ و تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب:
ایسا بدمذھب گستاخ جس کی گستاخی حد کفر کو پہنچ چکی ہو ،یا ضروریات دین کا منکر ہو وہ کافر ہے ، اورایسا بد مذھب کہ کفریہ عقائد خود نہیں رکھتا مگر ایسے کفریہ و گستاخانہ عقائد والوں کو اپنا امام یا پیشوا بتاتا ہے یا انہیں مسلمان گردانتا ہے تو وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے، کیونکہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے اسی طرح ان کے منکر کو کافر نہ جاننابھی کفر ہے ،وجیز امام کردری و در مختار و شفائے امام قاضی عیاض و غیرہ میں ہے
اللفظ للشفاء مختصرا اجمع العلماء ان من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر ]
’’شفاء کے الفاظ اختصارا یہ ہیں ،علماء کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے ‘‘
(کتاب الشفاء ،القسم الرابع ،البا ب ا لاول،۲/۲۰۸،مطبوعہ،دار سعادت،بیروت، در مختار ،کتاب الجھاد،باب المرتد،۱/۳۵۶،مطبوعہ ،مجتبائی،دھلی، فتاوی رضویہ اا/۳۷۸ مطبوعہ لاھور،)
ایسے بدمذھبو گستاخوں سے دوستی،محبت ،میل جول،ان کے یہاں جانا ،انہیں اپنے یہاں بلانا ،اھل سنت کی مسجد میں آنے دینا ،درس و تبلیغ کی اجازت دینا ،ان کے ساتھ صحبت رکھنا ،ان کی طرف جھکاؤ اور مائل ہونا ،الغرض ہر وہ کام جس سے بدمذھبوں سے انسیت و تعلق و وابستگی یا میلان کا اظہار ہو بدمذھبی و سخت حرام ،اور شادی بیاہ کرنا ناجائز ،نکاح باطل محض و زناء کما صرح بہ الامام المجدد البریلوی فی ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار،قرآن کریم کی نصوص صریحہ و احادیث شریفہ سے ان تمام کی ممانعت ثابت
اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے
:
{ و لاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار }( ھود۱۱/۱۱۳)
’’اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی ‘‘ (کنز الایمان )
اس آیت کی تفسیر میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
’’یہاں ظالم سے مراد کافر اور سارے گمراہ و مرتدین ہیں اور ان سے ملنے سے مراد ان سے محبت یا میل جول رکھنا ‘‘(تفسیر نور العرفان)
نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :
{ و اما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین }(الانعام ۶/۶۸)
’’اور اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو ‘‘(کنز الایمان )
نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :
{ ومن یتولھم منکم فانہ منھم }( المائدۃ ۵/۵۱ )
’’اورتم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے‘‘(کنز الایمان )
اور بد مذھبوں کی نسبت حضور اکرم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
[ و لا تجالسوھم و لا تواکلو ھم و لا تشاربوھم و لا تناکحوھم و لا تخالطوھم ولا تعودوا مرضاھم و لا تصلوا معھم و لا تصلوا علیھم ]
’’ اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ اور پانی نہ پیو اور بیاہ شادی نہ کرو، اور میل جول نہ کرو،اور ان کے بیماروں کی عیادت نہ کرو ، اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو ، اور مرجائیں تو ان کا جنازہ نہ پڑھو ‘‘
(صحیح ابن حبان،۱/۲۷۷،سنن البیھقی الکبری،۱۰/۲۰۵،السنۃ لعبد اللہ بن احمد،۱/۱۲۶،اعتقاد اھل السنۃ،۱/۱۳۴،مسند الربیع،۱/۳۰۲،السنۃ لابن ابی عاصم،۱/۱۴۴،الجرح و التعدیل،۷/۵۲،میزان الاعتدال، ۲/۳۱،لسان المیزان، ۲/۵۲،المجروحین،۱/۱۸۷،تھذیب الکمال،۶/۴۹۹، العلل المتناھیۃ، ۱/۱۶۸،تغلیق التعلیق،۵/۱۲۵،الجامع لاخلاق الراوی و السامع،۲/۱۱۸،المغنی،۹/۱۱ الضعفاء للعقیلی ۱/۱۲۶ دار الکتب العلمیۃ ،بیروت،۱۴۰۴ھـ ،تاریخ بغداد ۸/۱۴۳، الکفایۃ فی علم الروایۃ ۱/۴۸ ،المکتبۃ العلمیۃ، المدینۃ المنورۃ،خلق افعال العباد۱/۳۰،دار المعارف السعودیۃ،الریاض،۱۳۹۸ھـ)
نیز حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:
[ ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم ]
’’گمراہوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو ، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیںفتنہ میں نہ ڈال دیں‘‘
(صحیح مسلم،۱/۱۲،دار احیاء التراث العربی،بیروت)
نیز حضور اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا:
[ اصحاب البدع کلاب اھل النار ]
’’بد مذھبی والے جہنمیوں کے کتے ہیں‘‘
(التدوین فی اخبار قزوین ۲/۴۵۸،مطبوعہ،دار الکتب العلمیۃ،بیروت ،۱۹۸۷ء ، فیض القدیر ، ۱/۵۲۸ المکتبۃ التجاریۃ الکبری،مصر، ۱۳۵۶ھ رقم الحدیث ۱۰۸۰،کنز العمال ،رقم الحدیث ۱۰۹۴،)
اور حضور اقدس ﷺ نے بد مذھب سے شادی کرنے کے بارے میں فرمایا:
ایحب احدکم ان تکون کریمتہ فراش کلب فکرھتموہ
’’کیا تم میں کسی کو پسند آتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے کے نیچے بچھے !تم اسے بہت برا جانو گے‘‘
(سنن ابن ماجہ ،ابواب النکاح ص،۱۳۹،مسند احمد ۱/۸۶ دار الفکر بیروت، لبنان)
یعنی بد مذھب جہنمیوں کے کتے ہیں اور انہیں بیٹی ی
*(سائل :محمد الطاف قادری)*
باسمہ سبحانہ و تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب:
ایسا بدمذھب گستاخ جس کی گستاخی حد کفر کو پہنچ چکی ہو ،یا ضروریات دین کا منکر ہو وہ کافر ہے ، اورایسا بد مذھب کہ کفریہ عقائد خود نہیں رکھتا مگر ایسے کفریہ و گستاخانہ عقائد والوں کو اپنا امام یا پیشوا بتاتا ہے یا انہیں مسلمان گردانتا ہے تو وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے، کیونکہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے اسی طرح ان کے منکر کو کافر نہ جاننابھی کفر ہے ،وجیز امام کردری و در مختار و شفائے امام قاضی عیاض و غیرہ میں ہے
اللفظ للشفاء مختصرا اجمع العلماء ان من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر ]
’’شفاء کے الفاظ اختصارا یہ ہیں ،علماء کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے ‘‘
(کتاب الشفاء ،القسم الرابع ،البا ب ا لاول،۲/۲۰۸،مطبوعہ،دار سعادت،بیروت، در مختار ،کتاب الجھاد،باب المرتد،۱/۳۵۶،مطبوعہ ،مجتبائی،دھلی، فتاوی رضویہ اا/۳۷۸ مطبوعہ لاھور،)
ایسے بدمذھبو گستاخوں سے دوستی،محبت ،میل جول،ان کے یہاں جانا ،انہیں اپنے یہاں بلانا ،اھل سنت کی مسجد میں آنے دینا ،درس و تبلیغ کی اجازت دینا ،ان کے ساتھ صحبت رکھنا ،ان کی طرف جھکاؤ اور مائل ہونا ،الغرض ہر وہ کام جس سے بدمذھبوں سے انسیت و تعلق و وابستگی یا میلان کا اظہار ہو بدمذھبی و سخت حرام ،اور شادی بیاہ کرنا ناجائز ،نکاح باطل محض و زناء کما صرح بہ الامام المجدد البریلوی فی ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار،قرآن کریم کی نصوص صریحہ و احادیث شریفہ سے ان تمام کی ممانعت ثابت
اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے
:
{ و لاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار }( ھود۱۱/۱۱۳)
’’اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی ‘‘ (کنز الایمان )
اس آیت کی تفسیر میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
’’یہاں ظالم سے مراد کافر اور سارے گمراہ و مرتدین ہیں اور ان سے ملنے سے مراد ان سے محبت یا میل جول رکھنا ‘‘(تفسیر نور العرفان)
نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :
{ و اما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین }(الانعام ۶/۶۸)
’’اور اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو ‘‘(کنز الایمان )
نیزاللہ تعالی ارشاد فرماتاہے :
{ ومن یتولھم منکم فانہ منھم }( المائدۃ ۵/۵۱ )
’’اورتم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے‘‘(کنز الایمان )
اور بد مذھبوں کی نسبت حضور اکرم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
[ و لا تجالسوھم و لا تواکلو ھم و لا تشاربوھم و لا تناکحوھم و لا تخالطوھم ولا تعودوا مرضاھم و لا تصلوا معھم و لا تصلوا علیھم ]
’’ اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ اور پانی نہ پیو اور بیاہ شادی نہ کرو، اور میل جول نہ کرو،اور ان کے بیماروں کی عیادت نہ کرو ، اور ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو ، اور مرجائیں تو ان کا جنازہ نہ پڑھو ‘‘
(صحیح ابن حبان،۱/۲۷۷،سنن البیھقی الکبری،۱۰/۲۰۵،السنۃ لعبد اللہ بن احمد،۱/۱۲۶،اعتقاد اھل السنۃ،۱/۱۳۴،مسند الربیع،۱/۳۰۲،السنۃ لابن ابی عاصم،۱/۱۴۴،الجرح و التعدیل،۷/۵۲،میزان الاعتدال، ۲/۳۱،لسان المیزان، ۲/۵۲،المجروحین،۱/۱۸۷،تھذیب الکمال،۶/۴۹۹، العلل المتناھیۃ، ۱/۱۶۸،تغلیق التعلیق،۵/۱۲۵،الجامع لاخلاق الراوی و السامع،۲/۱۱۸،المغنی،۹/۱۱ الضعفاء للعقیلی ۱/۱۲۶ دار الکتب العلمیۃ ،بیروت،۱۴۰۴ھـ ،تاریخ بغداد ۸/۱۴۳، الکفایۃ فی علم الروایۃ ۱/۴۸ ،المکتبۃ العلمیۃ، المدینۃ المنورۃ،خلق افعال العباد۱/۳۰،دار المعارف السعودیۃ،الریاض،۱۳۹۸ھـ)
نیز حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:
[ ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم ]
’’گمراہوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو ، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیںفتنہ میں نہ ڈال دیں‘‘
(صحیح مسلم،۱/۱۲،دار احیاء التراث العربی،بیروت)
نیز حضور اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا:
[ اصحاب البدع کلاب اھل النار ]
’’بد مذھبی والے جہنمیوں کے کتے ہیں‘‘
(التدوین فی اخبار قزوین ۲/۴۵۸،مطبوعہ،دار الکتب العلمیۃ،بیروت ،۱۹۸۷ء ، فیض القدیر ، ۱/۵۲۸ المکتبۃ التجاریۃ الکبری،مصر، ۱۳۵۶ھ رقم الحدیث ۱۰۸۰،کنز العمال ،رقم الحدیث ۱۰۹۴،)
اور حضور اقدس ﷺ نے بد مذھب سے شادی کرنے کے بارے میں فرمایا:
ایحب احدکم ان تکون کریمتہ فراش کلب فکرھتموہ
’’کیا تم میں کسی کو پسند آتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کسی کتے کے نیچے بچھے !تم اسے بہت برا جانو گے‘‘
(سنن ابن ماجہ ،ابواب النکاح ص،۱۳۹،مسند احمد ۱/۸۶ دار الفکر بیروت، لبنان)
یعنی بد مذھب جہنمیوں کے کتے ہیں اور انہیں بیٹی ی
ا بہن دینا ایسا ہے جیسے کتے کے تصرف میں دیا،بہر حال ان عبارات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بد مذھب سے میل جول ،ان کے یہاں جانا ،انہیں بلانا ،اھل سنت و جماعت کی مسجد میں درس و تبلیغ کی اجازت دینا،شادی کرنا جائز نہیں ہے نیز وہ وھابی ، دیوبندی لوگ جن کی گمراہی و بد مذھبی حد کفر کو پہنچ چکی ہے ان کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ،نیز ایسا شخص جو خود تو کفریہ عقائد نہیں رکھتا مگر جن لوگوں نے حضور سرور عالم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی ہیں انہیں مسلمان جانتا ہے وہ بھی یقینااجماعاکافر ہے،
جیسے رئیس الوھابیہ،اسماعیل دھلوی(م۱۲۴۶ھ)نے لکھا معاذ اللہ کہ:
’’اور یہ یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘
(تقویۃ الایمان ، ص /۲۳ مطبوعہ دھلی ، ۱۳۵۶ھ ۱۹۴۷ء ، مطبوعہ ،مطبع علیمی اندرون لوھاری دروازہ، لاھور)
’’یقین مانو کہ ہر شخص خواہ وہ بڑے سے بڑا انسان ہو یا مقرب ترین فرشتہ اس کی حیثیت شان الوھیت کے مقابلہ پر ایک چمار کی حیثیت سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘(تقویۃ الایمان ،ص۲۲،مطبوعہ ،دار الاشاعت ،اردو بازار ،کراچی)
دیوبند کے حجۃ الاسلام،بانیٔ مدرسۂ دیوبند ،محمد قاسم نانوتوی (م۱۲۹۷ھ)نے لکھا معاذاللہ کہ:
’’اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی ﷺبھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی ﷺ میں کچھ فرق نہ آئے گا ‘‘(تحذیر الناس ،ص۲۴،مطبوعہ،کتب خانہ امدادیہ ، دیوبند)
دیوبند کے قطب عالم،رشید احمد گنگوہی (م۱۳۲۳ھ) نے لکھامعاذاللہ کہ:
’’کذب داخل تحت قدرت باری تعالی ہے‘‘(فتاوی رشیدیہ،مبوب بطرز جدید،کتاب العقائدص/۲۳۷،مطبوعہ،دار اشاعت،کراچی)
اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی( معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد) جھوٹ بولنے پر قادر ہے۔
دیوبند کے محدث،خلیل احمد انبیٹھوی(۱۳۴۶ھ)نے لکھامعاذاللہ کہ:
’’الحاصل غور کرنا چاہیے کہ شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے ،شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ،فخر عالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے ، کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ‘‘(براھین قاطعہ،ص/۵۵،مطبوعہ،دار الاشاعت،کراچی)
دیوبند کے حکیم الامت،اشرفعلی تھانوی(م۱۳۶۳ھ)نے لکھامعاذاللہ کہ:
’’پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانااگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل ،اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے، ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی(بچہ)و مجنون (پاگل)بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے
(حفظ الایمان،ص/۱۳،مطبوعہ،قدیمی کتب خانہ،کراچی)
ان مذکورہ بالا نام نہاد گستاخ علمائ(سوئ)دیوبند اپنی گستاخانہ عبارات کی روشنی میں دائرئہ اسلام سے خارج ہیں اور ایسے کافر ہیں کہ جو انہیں کافر نہ مانے ،یا ان کے کفر و عذاب میں شک کرے کافر ہے (کما مر فیما سبق) تفصیل،امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی تصانیف حسام الحرمین و تمہید ایمان و غیرھما میں ملاحظہ فرمائیں، اور عقائد اھل سنت و جماعت کی معلومات و دلائل کے لیے حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب جاء الحق کا مطالعہ فرمائیں۔
*جواب از طرف: حضرت علامہ مفتی ابو الفضل بہاء الدین محمد نعمان شیراز السنی یو پی بریلی شریف۔*
جیسے رئیس الوھابیہ،اسماعیل دھلوی(م۱۲۴۶ھ)نے لکھا معاذ اللہ کہ:
’’اور یہ یقین جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘
(تقویۃ الایمان ، ص /۲۳ مطبوعہ دھلی ، ۱۳۵۶ھ ۱۹۴۷ء ، مطبوعہ ،مطبع علیمی اندرون لوھاری دروازہ، لاھور)
’’یقین مانو کہ ہر شخص خواہ وہ بڑے سے بڑا انسان ہو یا مقرب ترین فرشتہ اس کی حیثیت شان الوھیت کے مقابلہ پر ایک چمار کی حیثیت سے بھی زیادہ ذلیل ہے ‘‘(تقویۃ الایمان ،ص۲۲،مطبوعہ ،دار الاشاعت ،اردو بازار ،کراچی)
دیوبند کے حجۃ الاسلام،بانیٔ مدرسۂ دیوبند ،محمد قاسم نانوتوی (م۱۲۹۷ھ)نے لکھا معاذاللہ کہ:
’’اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی ﷺبھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی ﷺ میں کچھ فرق نہ آئے گا ‘‘(تحذیر الناس ،ص۲۴،مطبوعہ،کتب خانہ امدادیہ ، دیوبند)
دیوبند کے قطب عالم،رشید احمد گنگوہی (م۱۳۲۳ھ) نے لکھامعاذاللہ کہ:
’’کذب داخل تحت قدرت باری تعالی ہے‘‘(فتاوی رشیدیہ،مبوب بطرز جدید،کتاب العقائدص/۲۳۷،مطبوعہ،دار اشاعت،کراچی)
اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی( معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد) جھوٹ بولنے پر قادر ہے۔
دیوبند کے محدث،خلیل احمد انبیٹھوی(۱۳۴۶ھ)نے لکھامعاذاللہ کہ:
’’الحاصل غور کرنا چاہیے کہ شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے ،شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ،فخر عالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے ، کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ‘‘(براھین قاطعہ،ص/۵۵،مطبوعہ،دار الاشاعت،کراچی)
دیوبند کے حکیم الامت،اشرفعلی تھانوی(م۱۳۶۳ھ)نے لکھامعاذاللہ کہ:
’’پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانااگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل ،اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے، ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی(بچہ)و مجنون (پاگل)بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے
(حفظ الایمان،ص/۱۳،مطبوعہ،قدیمی کتب خانہ،کراچی)
ان مذکورہ بالا نام نہاد گستاخ علمائ(سوئ)دیوبند اپنی گستاخانہ عبارات کی روشنی میں دائرئہ اسلام سے خارج ہیں اور ایسے کافر ہیں کہ جو انہیں کافر نہ مانے ،یا ان کے کفر و عذاب میں شک کرے کافر ہے (کما مر فیما سبق) تفصیل،امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی تصانیف حسام الحرمین و تمہید ایمان و غیرھما میں ملاحظہ فرمائیں، اور عقائد اھل سنت و جماعت کی معلومات و دلائل کے لیے حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب جاء الحق کا مطالعہ فرمائیں۔
*جواب از طرف: حضرت علامہ مفتی ابو الفضل بہاء الدین محمد نعمان شیراز السنی یو پی بریلی شریف۔*
*السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ*
*کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ بغل اور زیر ناف کے بال چالیس دن سے زیادہ رکھنے سے کیا ناپاک ھو جاتا ہے اور نماز نہیں ھوتی ھے*؟
بینوا باالدلیل
المستفتی
عتیق عالم حیدرآباد
27/7/17 بروز جمعرات
بمطابق ٣،ذی قعدہ ١٤٣٨
➖➖➖➖➖➖➖
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الجواب بعون الملک الوہاب
📖✍ *چالیس روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیں*،
*بعد چالس روز کے گنہگار ہوں گے، ایک آدھ بارمیں گناہ صغیرہ ہوگا عادت ڈالنے سے کبیرہ ہوجائیگا فسق ہوگا،صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے*:📖✍
*وقت لنا لفظہ عنداحمد وابی داؤد و الترمذی والنسائی وقت لنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط و حلق العانۃ ان لانترک اکثر من اربعین لیلۃ*
۱؎۔ہمارے لئے وقت مقرر فرمایا
📖✍(مسلم شریف کے الفاظ)
📖✍مسند احمد، ابوداؤد،
📖✍جامع الترمذی
📖✍ سنن النسائی کے الفاظ یہ ہیں
*وقت لنا*
*یعنی ہمارے لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مونچھیں کترنے*،
*ناخن کاٹنے، زیر بغل بال اکھاڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے ایک وقت مقرر فرمایا کہ ہم میں سےکوئی شخص چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے*
📖✍🌺۔ (ت) (۱؎ صحیح مسلم
📖✍ کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ
📖✍🌹 قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹)
*سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی اخذا لشارب آفتاب عالم پریس لاہور*
۲/ ۲۲۱)(📖✍🌹
*سنن النسائی ذکر التوقیت فی ذٰلک نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی*
۱/ ۷)(
*جامع الترمذی ابواب الآداب باب ماجاء فی تقلیم الاظفار*
📖✍🌹 امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰)
*درمختار میں ہے:کرہ ترکہ وراء الاربعین ۱؎۔چالیس روز سے زیادہ چھوڑدینا مکروہے*
۔ (ت) (۱؎📖✍🌹
*درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی*
۲/ ۲۵۰)
*ردالمحتار میں ہے:ای تحریما لقول المجتبٰی ولا عذر فیما وراء الاربعین ویستحق الوعید*
۲؎۔
*یہاں کراہت سے مکروہ تحریمی مراد ہے*
*المجتبٰی کے اس قول کی وجہ سے کہ چالس دن سے زیادہ دیر لگانے میں کوئی عذر*
(مقبول)
نہیں، *لہذا اگر ایسا کیا گیا تو پھر عذاب کی دھمکی کا مستحق ہے*
اھ (ت) (۲؎
*ر دالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت*
واللہ تعالٰی اعلم
➖➖➖
☎☎☎☎☎☎
+918446974711
*کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ بغل اور زیر ناف کے بال چالیس دن سے زیادہ رکھنے سے کیا ناپاک ھو جاتا ہے اور نماز نہیں ھوتی ھے*؟
بینوا باالدلیل
المستفتی
عتیق عالم حیدرآباد
27/7/17 بروز جمعرات
بمطابق ٣،ذی قعدہ ١٤٣٨
➖➖➖➖➖➖➖
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
الجواب بعون الملک الوہاب
📖✍ *چالیس روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیں*،
*بعد چالس روز کے گنہگار ہوں گے، ایک آدھ بارمیں گناہ صغیرہ ہوگا عادت ڈالنے سے کبیرہ ہوجائیگا فسق ہوگا،صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے*:📖✍
*وقت لنا لفظہ عنداحمد وابی داؤد و الترمذی والنسائی وقت لنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط و حلق العانۃ ان لانترک اکثر من اربعین لیلۃ*
۱؎۔ہمارے لئے وقت مقرر فرمایا
📖✍(مسلم شریف کے الفاظ)
📖✍مسند احمد، ابوداؤد،
📖✍جامع الترمذی
📖✍ سنن النسائی کے الفاظ یہ ہیں
*وقت لنا*
*یعنی ہمارے لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مونچھیں کترنے*،
*ناخن کاٹنے، زیر بغل بال اکھاڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے ایک وقت مقرر فرمایا کہ ہم میں سےکوئی شخص چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے*
📖✍🌺۔ (ت) (۱؎ صحیح مسلم
📖✍ کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ
📖✍🌹 قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹)
*سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی اخذا لشارب آفتاب عالم پریس لاہور*
۲/ ۲۲۱)(📖✍🌹
*سنن النسائی ذکر التوقیت فی ذٰلک نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی*
۱/ ۷)(
*جامع الترمذی ابواب الآداب باب ماجاء فی تقلیم الاظفار*
📖✍🌹 امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰)
*درمختار میں ہے:کرہ ترکہ وراء الاربعین ۱؎۔چالیس روز سے زیادہ چھوڑدینا مکروہے*
۔ (ت) (۱؎📖✍🌹
*درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی*
۲/ ۲۵۰)
*ردالمحتار میں ہے:ای تحریما لقول المجتبٰی ولا عذر فیما وراء الاربعین ویستحق الوعید*
۲؎۔
*یہاں کراہت سے مکروہ تحریمی مراد ہے*
*المجتبٰی کے اس قول کی وجہ سے کہ چالس دن سے زیادہ دیر لگانے میں کوئی عذر*
(مقبول)
نہیں، *لہذا اگر ایسا کیا گیا تو پھر عذاب کی دھمکی کا مستحق ہے*
اھ (ت) (۲؎
*ر دالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت*
واللہ تعالٰی اعلم
➖➖➖
☎☎☎☎☎☎
+918446974711
سوال میت والے کے یہاں کیا رو ٹی پکانا منع ہے.؟
الجواب.. موت کی پریشانی کے سبب وہ لوگ پکاتے نہیں ہیں پکانا کوئی شرعاً منع نہیں یہ سنت ہے کہ پہلے دن صرف گھر والوں کے لیے کھانا بھیجا جائے اور انہیں با اصرار کھلایا جائے نہ دوسرے دن بھیجیں نہ گھر سے زیادہ آدمیوں کے لیے بھیجیں....... واللہ اعلم
محمد رضا مرکزی ...مالیگاﺅں
الجواب.. موت کی پریشانی کے سبب وہ لوگ پکاتے نہیں ہیں پکانا کوئی شرعاً منع نہیں یہ سنت ہے کہ پہلے دن صرف گھر والوں کے لیے کھانا بھیجا جائے اور انہیں با اصرار کھلایا جائے نہ دوسرے دن بھیجیں نہ گھر سے زیادہ آدمیوں کے لیے بھیجیں....... واللہ اعلم
محمد رضا مرکزی ...مالیگاﺅں
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*قربانی کے مسائل اقوال فقہاء کی روشنی میں
📜📜📜📜📜📜📜📜
*☆ مسئلہ:جو شخص حاجت کے سواکسی ایسی چیز کا مالک ہوجس کی قیمت ساڑھےباون تولہ چاندی کے برابر ہو یاکسی طرح اتنی آمدنی ہوتی ہےکہ سال بھرکا خرچ پورا ہونے کے بعدنصاب کے برابررقم قربانی کے موقعے پر موجود ہے تواس پر قربانی واجب ہے(📚فیصلہ فقہی سیمینار بورڈ دہلی)*
*☆ ساڑھے باون تولہ چاندی ٦٥٣/گرام١٨٤/ملی گرام ہوا جس کی موجودہ قیمت تقریبا پچیس ہزار تین سو بارہ روپیہ اٹھارہ پیسہ ہے*
*☆ مسئلہ : صاحب نصاب پر ہرسال اپنے نام سے قربانی کرنا واجب ہے اور اگراپنی طرف سے قربانی کے بجاےدوسرے کی طرف سے کرے اپنے طرف سے نہ کرے تو سخت گنہگار ہوگا اگر دوسرے کی طرف سے بھی کرنا چاہتا ہےتوایک دوسری قربانی کا انتظام کرے(📘انوارالحدیث ص ٢٥٤)*
*☆ مسئلہ :اگر گھر میں کئی مالک نصاب ہوں تو ہرایک کے نام سے قربانی واجب ہوگی (📙فتاوی فیض الرسول ج ٢ص٤٣٩)*
*☆ مسئلہ :جو صاحب نصاب ہو اوراس کے پاس نقد روپیہ نہ ہوتو قربانی کرنے کےلئےاپنی کوئی چیز فروخت کرےیا قرض لے کر کرے(📗وقارالفتاوی ج ٢ص٤٧٠)*
*☆مسئلہ:اگر جانور کے سر پرسفید بال (چان) ہوتواس کی قربانی جائزہے بال کے سفید ہونے سے قربانی پر کوئی اثرانہیں پڑتا (📕 مستفاد ازکتب فقہ)*
*☆مسئلہ :گھیگھا کی وجہ سے اگرجانور کی قیمت میں کمی آتی ہےتویہ عیب ہےاوراس کی قربانی ناجائز ہے اورقیمت کم نہ ہوتو جائز ہے مگرکراہت کے ساتھ (📚 فتاوی مرکزتربیت افتاء ج٢ص٣١٦)*
*☆مسئلہ :ایک بڑے جانور میں سات لوگوں کی طرف سے قربانی ہوسکتی ہےلیکن اگرچھ لوگ شریک ہوکر ساتواں حصہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے کریں تویہ بھی جائزہے(📓 فتاوی فقیہ ملت ج٢ص ٢٤٦)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے جانورکی عمریہ ہونی چاہئے اونٹ پانچ سال کا بھینس وغیرہ دوسال،بکرابکری ایک سال کی اس سے عمر کم ہوتو قربانی جائز نہیں زیادہ ہوتو جائز بلکہ افضل ہے (📚 بہارشریعت حصہ پانژدہم ص ٣٤٠)*
*☆ البتہ عوام میں جو یہ مشہورہے کہ جانورکادانتنا ضروری ہے غلط اور بے اصل ہے*
*☆مسئلہ بڑے جانور کے شرکاء میں سے اگرکوئی بدمذہب دیوبندی وہابی ہو توکسی کی قربانی نہیں ہوگی اگرایام قربانی باقی ہیں تو پھر سے کرناواجب ہےورنہ اتنی رقم کا صدقہ کرنا لازم ہے(📚فیصلہ جات شرعی کونسل بریلی شریف ص٢٩٨/فتاوی مرکزتربیت افتاءج٢ص٣٢٩)*
*☆ مسئلہ :بڑے جانوروں میں قربانی کے ساتھ عقیقہ بھی ہوسکتا ہے(📘فتاوی بحرالعلوم ج٥ص٢٠٦)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے گوشت کا تین حصہ کرنا بہتر ہے ضروری نہیں (📙فتاوی فیض الرسول ج٢ص٤٤٣)*
*☆ مسئلہ: میت کی طرف سے قربانی کی تواس کے گوشت کا حکم یہ ہےکہ خود کھاے دوست واحباب کو دےیہ ضروری نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے،اگرمیت نے کہہ دیا ہےکہ میری طرف سے قربانی کردیناتو اس میں سے نہ کھاےبلکہ کل گوشت صدقہ کردے (📓 ردالمحتار ج٩ص١٨٥)*
*☆ مسئلہ : منت کی قربانی میں سےکچھ نہ کھاےبلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کردےاورکچھ کھالیا توجتنا کھایااس کی قیمت صدقہ کرے(📚فتاوی ھندیہ ج٥ص٢٩٥)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے کچے اورپکے دونوں قسم کے گوشت کا ایک ہی حکم ہےکہ یہاں کے غیرمسلموں کو نہیں کھلاسکتے(📕فتاوی بحرالعلوم ج٥ص١٩٨)*
*☆ مسئلہ : اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی اور گناہ ہےاسے دفن کردینا چاہئے اگرکافرلے جاےیا کافرکودی جاےتوحرج نہیں (📚فتاوی فقیہ ملت ج٢ص٢٥١)-واللہ تعالی اعلم*
-------------
محمد رضا مرکزی...شرعی عدالت ومرکزی لائبریری
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
*قربانی کے مسائل اقوال فقہاء کی روشنی میں
📜📜📜📜📜📜📜📜
*☆ مسئلہ:جو شخص حاجت کے سواکسی ایسی چیز کا مالک ہوجس کی قیمت ساڑھےباون تولہ چاندی کے برابر ہو یاکسی طرح اتنی آمدنی ہوتی ہےکہ سال بھرکا خرچ پورا ہونے کے بعدنصاب کے برابررقم قربانی کے موقعے پر موجود ہے تواس پر قربانی واجب ہے(📚فیصلہ فقہی سیمینار بورڈ دہلی)*
*☆ ساڑھے باون تولہ چاندی ٦٥٣/گرام١٨٤/ملی گرام ہوا جس کی موجودہ قیمت تقریبا پچیس ہزار تین سو بارہ روپیہ اٹھارہ پیسہ ہے*
*☆ مسئلہ : صاحب نصاب پر ہرسال اپنے نام سے قربانی کرنا واجب ہے اور اگراپنی طرف سے قربانی کے بجاےدوسرے کی طرف سے کرے اپنے طرف سے نہ کرے تو سخت گنہگار ہوگا اگر دوسرے کی طرف سے بھی کرنا چاہتا ہےتوایک دوسری قربانی کا انتظام کرے(📘انوارالحدیث ص ٢٥٤)*
*☆ مسئلہ :اگر گھر میں کئی مالک نصاب ہوں تو ہرایک کے نام سے قربانی واجب ہوگی (📙فتاوی فیض الرسول ج ٢ص٤٣٩)*
*☆ مسئلہ :جو صاحب نصاب ہو اوراس کے پاس نقد روپیہ نہ ہوتو قربانی کرنے کےلئےاپنی کوئی چیز فروخت کرےیا قرض لے کر کرے(📗وقارالفتاوی ج ٢ص٤٧٠)*
*☆مسئلہ:اگر جانور کے سر پرسفید بال (چان) ہوتواس کی قربانی جائزہے بال کے سفید ہونے سے قربانی پر کوئی اثرانہیں پڑتا (📕 مستفاد ازکتب فقہ)*
*☆مسئلہ :گھیگھا کی وجہ سے اگرجانور کی قیمت میں کمی آتی ہےتویہ عیب ہےاوراس کی قربانی ناجائز ہے اورقیمت کم نہ ہوتو جائز ہے مگرکراہت کے ساتھ (📚 فتاوی مرکزتربیت افتاء ج٢ص٣١٦)*
*☆مسئلہ :ایک بڑے جانور میں سات لوگوں کی طرف سے قربانی ہوسکتی ہےلیکن اگرچھ لوگ شریک ہوکر ساتواں حصہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے کریں تویہ بھی جائزہے(📓 فتاوی فقیہ ملت ج٢ص ٢٤٦)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے جانورکی عمریہ ہونی چاہئے اونٹ پانچ سال کا بھینس وغیرہ دوسال،بکرابکری ایک سال کی اس سے عمر کم ہوتو قربانی جائز نہیں زیادہ ہوتو جائز بلکہ افضل ہے (📚 بہارشریعت حصہ پانژدہم ص ٣٤٠)*
*☆ البتہ عوام میں جو یہ مشہورہے کہ جانورکادانتنا ضروری ہے غلط اور بے اصل ہے*
*☆مسئلہ بڑے جانور کے شرکاء میں سے اگرکوئی بدمذہب دیوبندی وہابی ہو توکسی کی قربانی نہیں ہوگی اگرایام قربانی باقی ہیں تو پھر سے کرناواجب ہےورنہ اتنی رقم کا صدقہ کرنا لازم ہے(📚فیصلہ جات شرعی کونسل بریلی شریف ص٢٩٨/فتاوی مرکزتربیت افتاءج٢ص٣٢٩)*
*☆ مسئلہ :بڑے جانوروں میں قربانی کے ساتھ عقیقہ بھی ہوسکتا ہے(📘فتاوی بحرالعلوم ج٥ص٢٠٦)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے گوشت کا تین حصہ کرنا بہتر ہے ضروری نہیں (📙فتاوی فیض الرسول ج٢ص٤٤٣)*
*☆ مسئلہ: میت کی طرف سے قربانی کی تواس کے گوشت کا حکم یہ ہےکہ خود کھاے دوست واحباب کو دےیہ ضروری نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے،اگرمیت نے کہہ دیا ہےکہ میری طرف سے قربانی کردیناتو اس میں سے نہ کھاےبلکہ کل گوشت صدقہ کردے (📓 ردالمحتار ج٩ص١٨٥)*
*☆ مسئلہ : منت کی قربانی میں سےکچھ نہ کھاےبلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کردےاورکچھ کھالیا توجتنا کھایااس کی قیمت صدقہ کرے(📚فتاوی ھندیہ ج٥ص٢٩٥)*
*☆ مسئلہ :قربانی کے کچے اورپکے دونوں قسم کے گوشت کا ایک ہی حکم ہےکہ یہاں کے غیرمسلموں کو نہیں کھلاسکتے(📕فتاوی بحرالعلوم ج٥ص١٩٨)*
*☆ مسئلہ : اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی اور گناہ ہےاسے دفن کردینا چاہئے اگرکافرلے جاےیا کافرکودی جاےتوحرج نہیں (📚فتاوی فقیہ ملت ج٢ص٢٥١)-واللہ تعالی اعلم*
-------------
محمد رضا مرکزی...شرعی عدالت ومرکزی لائبریری
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
Telegram
🖊️شرعی عدالت آپ کے مسائل کا حل 📚
https://t.me/joinchat/AAAAAEK9aDOKzWs-fMlhlw
شرعی مسائل سوال وجواب....محمد رضا مرکزی
شرعی مسائل سوال وجواب....محمد رضا مرکزی