🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
امام احمد رضا کو دنیا بھر کے علوم اعلیٰ حضرت کو کتنے علوم و فنون مسلمانوں کی قبروں پر پاؤں رکھنا مزارات پر عورتوں کو حاضری دینا شعر : سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ امام احمد رضا امام اعظم ثانی ہیں مجدد کا ثبوت احادیث نبوی سے مجدد کی شناخت کیسے کی جائے بزرگان دین…
اعلیٰ حضرت محافظ مسلک حنفیت
اعلیٰ کی تمام تصانیف | خصوصیات
بالوں میں خضاب لگانا کیسا ہے ؟
کیا نکاح کے لئے مرد سیاہ خضاب
شعر : ان کی مہک نے دل کے غنچے
امام احمد رضا غیر مسلم ماہرین
کیا حسن حسین وسمہ کا خضاب
نا محرم عورتوں کا مشائخین بوسہ
ایام عرس میں ہونے والی خرافات
شعر : سر تا با قدم ہیں تن سلطان
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜 ⁶
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
اعلیٰ کی تمام تصانیف | خصوصیات
بالوں میں خضاب لگانا کیسا ہے ؟
کیا نکاح کے لئے مرد سیاہ خضاب
شعر : ان کی مہک نے دل کے غنچے
امام احمد رضا غیر مسلم ماہرین
کیا حسن حسین وسمہ کا خضاب
نا محرم عورتوں کا مشائخین بوسہ
ایام عرس میں ہونے والی خرافات
شعر : سر تا با قدم ہیں تن سلطان
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜 ⁶
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ¹² جِلدیں
📇 دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ
مکتبہ #رضا_اکیڈمی_ممبئ_الہند
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2685
فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
🌐 مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2241
فتاویٰ رضویه 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
ویب 🌐 اعلیٰ حضرت نیٹ ورک
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2304
فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ لوہاری دروازہ
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2339
📇 دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ
مکتبہ #رضا_اکیڈمی_ممبئ_الہند
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2685
فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
🌐 مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2241
فتاویٰ رضویه 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
ویب 🌐 اعلیٰ حضرت نیٹ ورک
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2304
فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ لوہاری دروازہ
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2339
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
محنة يعرف به أهل البدع!
بدعتی کے پہچاننے کا آزمائشی آلہ!
أحمد بن يعقوب يقول: ''و كان أبو حنيفة محنة يعرف به أهل البدع من الجماعة''. (الانتقاء)
احمد بن یعقوب فرماتے ہیں: ''امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ و الرضوان آزمائش تھے، ان کے سبب بدعتی کا اہل سنت و جماعت سے امتیاز ہوجایا کرتا تھا''۔
و الأزهري يقول: ''و کان و لم یزل الإمام أحمد رضا محنة يعرف به أهل البدع من الجماعة''.
اور فقیر ازہری کہتا ہے: ''مجدد دین و ملت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ آزمائش تھے اور ہیں، آپ کے ذریعے بدعتی کا اہل سنت و جماعت سے امتیاز ہوجایا کرتا ہے''۔
طالب دعا:
أبوعاتکہ أزھار أحمد أمجدی أزھری غفرلہ
بانی فقیہ ملت فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، أوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا۔
۲/صفر المظفر ۱٤٤١ھ مطابق ۲/اکتوبر ۲۰۱۹ء
بدعتی کے پہچاننے کا آزمائشی آلہ!
أحمد بن يعقوب يقول: ''و كان أبو حنيفة محنة يعرف به أهل البدع من الجماعة''. (الانتقاء)
احمد بن یعقوب فرماتے ہیں: ''امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ و الرضوان آزمائش تھے، ان کے سبب بدعتی کا اہل سنت و جماعت سے امتیاز ہوجایا کرتا تھا''۔
و الأزهري يقول: ''و کان و لم یزل الإمام أحمد رضا محنة يعرف به أهل البدع من الجماعة''.
اور فقیر ازہری کہتا ہے: ''مجدد دین و ملت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ آزمائش تھے اور ہیں، آپ کے ذریعے بدعتی کا اہل سنت و جماعت سے امتیاز ہوجایا کرتا ہے''۔
طالب دعا:
أبوعاتکہ أزھار أحمد أمجدی أزھری غفرلہ
بانی فقیہ ملت فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، أوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا۔
۲/صفر المظفر ۱٤٤١ھ مطابق ۲/اکتوبر ۲۰۱۹ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تلخ حقیقت
آپ چار دن منظر سے غائب ھو کر دیکھیں لوگ آپ کا نام تک بھول جائیں گے،انسان ساری زندگی اس فریب میں گزار دیتا ھے کہ وہ دوسروں کے لیے اہم ھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہونے نا ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا، یہاں تک کہ مر جانےسے بھی کسی کی زندگی پر کوئی فرق نہیں آئے گا یہی لوگ ریسٹ ان پیس اور فیلنگ سیڈ یا بروکن کا سٹیٹس دے کر اپنی اپنی زندگی کی رعنائیوں میں گم ہو جائیں گے، یہ وہ تلخ حقیقت ہے جسے ہم جانتے بوجھتے نظر انداز کرتے ہیں اپنی زندگی کو اللّٰه کے راستے میں وقف کیجئے اللّٰه کے لیے خود کو جہالت سے نکال کر حق اور سچ کی طرف لوٹ آیئے یہ دنیا ایک فریب ہے اس میں خود کو تباہ نہ کیجئے.
منقول
https://www.facebook.com/100008080090753/posts/2826430120969630/
آپ چار دن منظر سے غائب ھو کر دیکھیں لوگ آپ کا نام تک بھول جائیں گے،انسان ساری زندگی اس فریب میں گزار دیتا ھے کہ وہ دوسروں کے لیے اہم ھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہونے نا ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا، یہاں تک کہ مر جانےسے بھی کسی کی زندگی پر کوئی فرق نہیں آئے گا یہی لوگ ریسٹ ان پیس اور فیلنگ سیڈ یا بروکن کا سٹیٹس دے کر اپنی اپنی زندگی کی رعنائیوں میں گم ہو جائیں گے، یہ وہ تلخ حقیقت ہے جسے ہم جانتے بوجھتے نظر انداز کرتے ہیں اپنی زندگی کو اللّٰه کے راستے میں وقف کیجئے اللّٰه کے لیے خود کو جہالت سے نکال کر حق اور سچ کی طرف لوٹ آیئے یہ دنیا ایک فریب ہے اس میں خود کو تباہ نہ کیجئے.
منقول
https://www.facebook.com/100008080090753/posts/2826430120969630/
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مَردوں کی خاموش لغت!
جہاں خواتین اظہارِ دکھ اور غم؛ جذباتی الفاظ کے ذریعے کرتیں ہیں وہیں مردوں کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے.
مَردوں کو جب کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو وہ چپ سادھ لیتے ہیں.
گویا کہ وہ کسی ویرانے میں پنا گزیر ہو جاتے ہیں، جس کے کنارے پر بڑے بڑے سانپ اور بچھو ہوں.
مَردوں کی اس خاموشی کا مقصد یکسوئی حاصل کرنا ، اپنی پریشانی اور پرابلم سے نکلنے کی تدابیر سوچنا ہوتا ہے جبکہ خواتین کو مردوں کی خاموشی سوئیوں کی طرح چبتی ہے.
خواتین کی جانب سے اس خاموشی کو توڑنے کے لیے خلوصِ نیت کے ساتھ کیے جانے والے ہر اقدام کا ردِ عمل برا ہی نکلتا ہے.
مثال سے سمجھیے:
خاموشی کے بعد عورت کی جانب سے کیے جانے والے سوالات :
کیا مسئلہ ہے سب ٹھیک تو ہے؟
مرد: میں ٹھیک ہوں .
عورت کے نزدیک اس جملے کا مطلب:
میں ٹھیک ہوں مجھے پرواہ نہیں، میں کسی سے بات شییر کرنا نہیں چاہتا مجھے تم پر بھروسہ نہیں .
مرد کے نزدیک جملے کا مطلب:
ہاں ٹھیک ہوں میں خود ہی مسئلہ حل کر لوں گا کوئی بات نہیں..
اسی طرح "سب ٹھیک ہے" کا مطلب مردوں کے نزدیک :
مسئلہ تو ہے لیکن تمہارا قصور نہیں میں خود اسے حل کر لوں گا تم مشورے دے کر یا سوال کر کے توجہ نہ ہٹاو..
عورت کے نزدیک مطلب :ابھی تک ٹھیک ہے لیکن غلطی تمہاری ہے اس لیے بات مت کرو فی الحال.
مرد:کوئی خاص بات نہیں
مطلب کہ بات بڑی نہیں ہے میں نمٹ لوں گا بس توجہ دینے دو مجھے؛ پریشان نہ ہو.
عورت کے نزدیک مطلب یہ نکلتا ہے:
تم چھوٹی سی چیز کا بتنگر بنا رہی ہو خاص بات نہیں ہے لیکن تم بات کر بڑھا دو گی..
گویا کہ مرد ویرانوں میں چلے گئے اور خاتونِ خانہ نے کناروں پر جا کر زبردستی پوچھنا چاہا تو سانپ اور بچھوں اسے ڈس لیتے ہیں یعنی پریشان حال خاموش مرد پھر غصے سے بولتا اور بہت کچھ کہہ دے دیتا ہے. جس سے رشتوں میں دڑاڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں.
مرد جب ایسے ویرانوں میں جاتے ہیں تو ان کی واپسی بھی جلد ہو جاتی ہے. عورتوں کو اس پر صبر کرنا چاہیے. اِن کے جذبہِ خیر خواہی میں رتی برابر بھی شک نہیں کہ شوہر نامدار کا دکھ بانٹنا چاہتی ہیں لیکن یہ بھول جاتی ہیں کہ مرد کی فطرت عورت سے الگ ہے. پریشانی دکھ میں خاموش رہ یکسوئی کے ساتھ مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے.مفت مشوروں، بلاوجہ کے سوالوں سے معاملہ سلجھنے کی بجائے اور الجھ جاتا ہے.
ایسی حالت میں عورت کو کسی کام میں مشغول ہو جانا چاہیے اور بغیر پوچھ گچھ کے نارمل طریقے سے رہنا چاہیے کہ مرد جلد ہی خاموشی کے ویرانے سے باہر نکل کر بالکل نارمل ہو جائے گا.
فتدبر (پس غور کیجیے)
فرحان رفیق قادری عفی عنہ
2/10/2020
جہاں خواتین اظہارِ دکھ اور غم؛ جذباتی الفاظ کے ذریعے کرتیں ہیں وہیں مردوں کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے.
مَردوں کو جب کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو وہ چپ سادھ لیتے ہیں.
گویا کہ وہ کسی ویرانے میں پنا گزیر ہو جاتے ہیں، جس کے کنارے پر بڑے بڑے سانپ اور بچھو ہوں.
مَردوں کی اس خاموشی کا مقصد یکسوئی حاصل کرنا ، اپنی پریشانی اور پرابلم سے نکلنے کی تدابیر سوچنا ہوتا ہے جبکہ خواتین کو مردوں کی خاموشی سوئیوں کی طرح چبتی ہے.
خواتین کی جانب سے اس خاموشی کو توڑنے کے لیے خلوصِ نیت کے ساتھ کیے جانے والے ہر اقدام کا ردِ عمل برا ہی نکلتا ہے.
مثال سے سمجھیے:
خاموشی کے بعد عورت کی جانب سے کیے جانے والے سوالات :
کیا مسئلہ ہے سب ٹھیک تو ہے؟
مرد: میں ٹھیک ہوں .
عورت کے نزدیک اس جملے کا مطلب:
میں ٹھیک ہوں مجھے پرواہ نہیں، میں کسی سے بات شییر کرنا نہیں چاہتا مجھے تم پر بھروسہ نہیں .
مرد کے نزدیک جملے کا مطلب:
ہاں ٹھیک ہوں میں خود ہی مسئلہ حل کر لوں گا کوئی بات نہیں..
اسی طرح "سب ٹھیک ہے" کا مطلب مردوں کے نزدیک :
مسئلہ تو ہے لیکن تمہارا قصور نہیں میں خود اسے حل کر لوں گا تم مشورے دے کر یا سوال کر کے توجہ نہ ہٹاو..
عورت کے نزدیک مطلب :ابھی تک ٹھیک ہے لیکن غلطی تمہاری ہے اس لیے بات مت کرو فی الحال.
مرد:کوئی خاص بات نہیں
مطلب کہ بات بڑی نہیں ہے میں نمٹ لوں گا بس توجہ دینے دو مجھے؛ پریشان نہ ہو.
عورت کے نزدیک مطلب یہ نکلتا ہے:
تم چھوٹی سی چیز کا بتنگر بنا رہی ہو خاص بات نہیں ہے لیکن تم بات کر بڑھا دو گی..
گویا کہ مرد ویرانوں میں چلے گئے اور خاتونِ خانہ نے کناروں پر جا کر زبردستی پوچھنا چاہا تو سانپ اور بچھوں اسے ڈس لیتے ہیں یعنی پریشان حال خاموش مرد پھر غصے سے بولتا اور بہت کچھ کہہ دے دیتا ہے. جس سے رشتوں میں دڑاڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں.
مرد جب ایسے ویرانوں میں جاتے ہیں تو ان کی واپسی بھی جلد ہو جاتی ہے. عورتوں کو اس پر صبر کرنا چاہیے. اِن کے جذبہِ خیر خواہی میں رتی برابر بھی شک نہیں کہ شوہر نامدار کا دکھ بانٹنا چاہتی ہیں لیکن یہ بھول جاتی ہیں کہ مرد کی فطرت عورت سے الگ ہے. پریشانی دکھ میں خاموش رہ یکسوئی کے ساتھ مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے.مفت مشوروں، بلاوجہ کے سوالوں سے معاملہ سلجھنے کی بجائے اور الجھ جاتا ہے.
ایسی حالت میں عورت کو کسی کام میں مشغول ہو جانا چاہیے اور بغیر پوچھ گچھ کے نارمل طریقے سے رہنا چاہیے کہ مرد جلد ہی خاموشی کے ویرانے سے باہر نکل کر بالکل نارمل ہو جائے گا.
فتدبر (پس غور کیجیے)
فرحان رفیق قادری عفی عنہ
2/10/2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آمــــــــــد رســـــول کـــی بــرکـتیـں
از قلم (مفتی) خـبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی
بھارت موبائل 7247863786
حـضرت مــحـمـد مـصـطـفـیﷺ کـــی آمــد کــی بـشــــارتیـں اور خـوشـیـاں پیـدائـش سـے پہلـے ہـی اللــہ تعـالـی نےـ ظاہـر و باہر فرمادیں تھیں
تورات نے آپ کے دنیا میں تشریف آوری کی بشارت دی
انجیل نے آپ کی تشریف آوری کی تفصیل بیاں کی
زبور نے آپ کا ذکر جمیل بڑی فصاحت و بلاغت سے کیا
غرض یہ کہ کتب سماویہ اور
انبیاء ومرسلین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے آپ کا ذکر جمیل اور آپ کی تشریف آوری کی بشارتیں دیں چنانچہ حضرت آمنہ خاتون رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حمل پاک کا پہلا مہینہ تھا تو
"رأیت رجلاً طویلا فقال ابشری فقد حملت بسید المرسلین"
میں نے ایک طویل قد والا آدمی دیکھا
اس نے مجھ سے کہا کہ اے آمنہ تجھے مبارک ہو سید المرسلین ﷺ سے حاملہ ہے
میں نے ان سے پوچھا "من انت" آپ کون ہیں؟
جواب ملا: "ابوہ آدم"
میں انکا باپ حضرت آدم علیہ السلام ہوں
پھر دوسرے مہینے میں حضرت شیث علیہ السلام ظاہر ہوئے اور سید الاولین والآخرین کہ کر مبارک باد دی
تیسرے مہینے میں حضرت نوح علیہ السلام تشریف لائے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کہ کر مبارک باد دی
چوتھے مہینے میں حضرت ادریس علیہ السلام نے آ کر نبی العفیف کے لقب پاک و صاحب سے مبارکباد پیش کی
پانچویں مہینے میں حضرت ہود علیہ السلام نے سیدالبشر کہ کر مبارکباد پیش کی
چھٹے مہینے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی الہاشمی کے لقب سے مبارکباد پیش کی
ساتویں مہینے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام نے حبیب رب العالمین کے لقب سے مبارکباد پیش کی
آٹھویں مہینے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خاتم النبیین کے لقب سے مبارکباد پیش کی
نویں مہینے میں حضرت عیسٰی علیہ السلام نے حضور پر نور کا ذاتی اسم شریف محمد ﷺ کے سے مبارک باد پیش کی
ساتواں مہینہ ہوا تو شاہ کسریٰ کے محلات میں زلزلہ آیا دیواریں پھٹ گئیں‘ اور اس کے چودہ کنگرے گر گئے ‘
اور آٹھویں مہینے میں آتشکدہ فارس کی آگ بجھ گئی‘
اور نوے مہینے میں شاہ کسریٰ کے سر سے شاہی تاج گر پڑا '
یہ سب اس لئے ہوا کہ حضور ﷺ کی اس خاکدان گیتی کی طرف تشریف آوری قریب سے قریب تر ہوتی جارہی تھی
اللہ تعالی اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ساری کائنات کا بادشاہ اور سردار بنا کر پیدا کرنے والا تھا
اب کسی دوسرے کی بادشاہت نہیں چلے گی اب صرف اور صرف اللہ تعالی کے محبوب کی بادشاہت چلے گی”
آتشکدہ فارس ٹھنڈا اس لیے بھی ہوا کہ حضورﷺ نور بن کے تشریف لانے والے ہیں اور نور کے مقابل ظلمت ٹک ہی نہیں سکتی“
شاہ کسریٰ کے سر سے تاج شاہی اس لیے گر گیا کہ اب
شاہوں کے شاہ تشریف لانے والے ہیں اب وہی جس کو چاہیں گے تاج پہنا ئیں گے چنانچہ
خصائص الکبری میں ہے
جس رات سید الانبیاء ﷺ کا نور پاک حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن پاک میں منتقل ہوا تو
اس رات قریش مکہّ کے تمام جانور پکار اٹھے رب کعبہ کی قسم محمد ﷺ اپنی ماں کے بطن مبارک میں منتقل ہو چکے ہیں
جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پاک کے نور پاک کو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں منتقل کرنے کا ارادہ فرمایا: تو رضوان جنت کو حکم دیا کہ آج رات فردوسِ اعلیٰ کے دروازے کھول دیئے جائیں اور منادی کرنے والے زمین و آسمان میں منادی کر دیں
کہ خبردار آج کی رات نور مصطفی ﷺ اپنی ماں کے وطن پاک میں قرار پا چکا ہے
مشرق کے جانوروں نے مغرب کے جانوروں کو شارت دےدی
اور اسی طرح سے پانی میں رہنے والی مخلوقات نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی
اور تاریخ الخمیس میں لکھا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش کے تمام جانور بول اٹھے کہ آج رات سردار کائنات ماں کے بطن پاک میں منتقل ہوگئے ہیں
رب اکبر کی قسم اللہ کے رسول ﷺ ساری دنیا کے لیے امن و سلامتی کا پیغام ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بسنے والوں کے لیے روشن چراغ بھی ہونگے؟
جب آپ اس خاندان گیتی میں تشریف لائے
تو آپ نے انسانیت کی تذلیل اور انسانوں کو بینچ نے والے بازاروں کاخاتمہ کر دیا
اور عرب کی لڑکیوں کو زندہ درگور کر دینے والی بے ہودہ رسم کا خاتمہ کر دیا “اسی طرح ہر طرح کی گمراہیت ‘اور جاہلانہ رسوم کا خاتمہ کردیا
آپ جب اس دنیا میں تشریف لائے تو جتنے ‘درخت سوکھے ہوئے تھے سب ہرے بھرے ہو گئے‘
جن بکریوں کے تھنوں میں دودھ نہیں تھا وہ دودھ سے بھر گئے ‘جو بیمار تھے بلا دوا کے صحیح ہوگئے ‘
غرض یہ کہ حضورﷺ کی تشریف آوری ہوئی تو ہر طرف نور ہی نور؛ روشنی ہی روشنی برسنے لگی
نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
آپ کی پیدائش پر ہر طرف خوشی ہی خوشی تھی
آمد رسول ﷺ سے اٹھارہ ہزار عالم کو خوشی ہوئی
مگر شیطان
" وصاح الشیطٰن لعنۃ اللہ علیہ علی جبل ابی قبیس"
"اور شیطان کوہ ابوقبیس پر رویا چیکھا اور چلایا "
تمام شیاطین
از قلم (مفتی) خـبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی
بھارت موبائل 7247863786
حـضرت مــحـمـد مـصـطـفـیﷺ کـــی آمــد کــی بـشــــارتیـں اور خـوشـیـاں پیـدائـش سـے پہلـے ہـی اللــہ تعـالـی نےـ ظاہـر و باہر فرمادیں تھیں
تورات نے آپ کے دنیا میں تشریف آوری کی بشارت دی
انجیل نے آپ کی تشریف آوری کی تفصیل بیاں کی
زبور نے آپ کا ذکر جمیل بڑی فصاحت و بلاغت سے کیا
غرض یہ کہ کتب سماویہ اور
انبیاء ومرسلین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے آپ کا ذکر جمیل اور آپ کی تشریف آوری کی بشارتیں دیں چنانچہ حضرت آمنہ خاتون رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حمل پاک کا پہلا مہینہ تھا تو
"رأیت رجلاً طویلا فقال ابشری فقد حملت بسید المرسلین"
میں نے ایک طویل قد والا آدمی دیکھا
اس نے مجھ سے کہا کہ اے آمنہ تجھے مبارک ہو سید المرسلین ﷺ سے حاملہ ہے
میں نے ان سے پوچھا "من انت" آپ کون ہیں؟
جواب ملا: "ابوہ آدم"
میں انکا باپ حضرت آدم علیہ السلام ہوں
پھر دوسرے مہینے میں حضرت شیث علیہ السلام ظاہر ہوئے اور سید الاولین والآخرین کہ کر مبارک باد دی
تیسرے مہینے میں حضرت نوح علیہ السلام تشریف لائے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کہ کر مبارک باد دی
چوتھے مہینے میں حضرت ادریس علیہ السلام نے آ کر نبی العفیف کے لقب پاک و صاحب سے مبارکباد پیش کی
پانچویں مہینے میں حضرت ہود علیہ السلام نے سیدالبشر کہ کر مبارکباد پیش کی
چھٹے مہینے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی الہاشمی کے لقب سے مبارکباد پیش کی
ساتویں مہینے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام نے حبیب رب العالمین کے لقب سے مبارکباد پیش کی
آٹھویں مہینے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خاتم النبیین کے لقب سے مبارکباد پیش کی
نویں مہینے میں حضرت عیسٰی علیہ السلام نے حضور پر نور کا ذاتی اسم شریف محمد ﷺ کے سے مبارک باد پیش کی
ساتواں مہینہ ہوا تو شاہ کسریٰ کے محلات میں زلزلہ آیا دیواریں پھٹ گئیں‘ اور اس کے چودہ کنگرے گر گئے ‘
اور آٹھویں مہینے میں آتشکدہ فارس کی آگ بجھ گئی‘
اور نوے مہینے میں شاہ کسریٰ کے سر سے شاہی تاج گر پڑا '
یہ سب اس لئے ہوا کہ حضور ﷺ کی اس خاکدان گیتی کی طرف تشریف آوری قریب سے قریب تر ہوتی جارہی تھی
اللہ تعالی اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ساری کائنات کا بادشاہ اور سردار بنا کر پیدا کرنے والا تھا
اب کسی دوسرے کی بادشاہت نہیں چلے گی اب صرف اور صرف اللہ تعالی کے محبوب کی بادشاہت چلے گی”
آتشکدہ فارس ٹھنڈا اس لیے بھی ہوا کہ حضورﷺ نور بن کے تشریف لانے والے ہیں اور نور کے مقابل ظلمت ٹک ہی نہیں سکتی“
شاہ کسریٰ کے سر سے تاج شاہی اس لیے گر گیا کہ اب
شاہوں کے شاہ تشریف لانے والے ہیں اب وہی جس کو چاہیں گے تاج پہنا ئیں گے چنانچہ
خصائص الکبری میں ہے
جس رات سید الانبیاء ﷺ کا نور پاک حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن پاک میں منتقل ہوا تو
اس رات قریش مکہّ کے تمام جانور پکار اٹھے رب کعبہ کی قسم محمد ﷺ اپنی ماں کے بطن مبارک میں منتقل ہو چکے ہیں
جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پاک کے نور پاک کو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں منتقل کرنے کا ارادہ فرمایا: تو رضوان جنت کو حکم دیا کہ آج رات فردوسِ اعلیٰ کے دروازے کھول دیئے جائیں اور منادی کرنے والے زمین و آسمان میں منادی کر دیں
کہ خبردار آج کی رات نور مصطفی ﷺ اپنی ماں کے وطن پاک میں قرار پا چکا ہے
مشرق کے جانوروں نے مغرب کے جانوروں کو شارت دےدی
اور اسی طرح سے پانی میں رہنے والی مخلوقات نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی
اور تاریخ الخمیس میں لکھا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش کے تمام جانور بول اٹھے کہ آج رات سردار کائنات ماں کے بطن پاک میں منتقل ہوگئے ہیں
رب اکبر کی قسم اللہ کے رسول ﷺ ساری دنیا کے لیے امن و سلامتی کا پیغام ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بسنے والوں کے لیے روشن چراغ بھی ہونگے؟
جب آپ اس خاندان گیتی میں تشریف لائے
تو آپ نے انسانیت کی تذلیل اور انسانوں کو بینچ نے والے بازاروں کاخاتمہ کر دیا
اور عرب کی لڑکیوں کو زندہ درگور کر دینے والی بے ہودہ رسم کا خاتمہ کر دیا “اسی طرح ہر طرح کی گمراہیت ‘اور جاہلانہ رسوم کا خاتمہ کردیا
آپ جب اس دنیا میں تشریف لائے تو جتنے ‘درخت سوکھے ہوئے تھے سب ہرے بھرے ہو گئے‘
جن بکریوں کے تھنوں میں دودھ نہیں تھا وہ دودھ سے بھر گئے ‘جو بیمار تھے بلا دوا کے صحیح ہوگئے ‘
غرض یہ کہ حضورﷺ کی تشریف آوری ہوئی تو ہر طرف نور ہی نور؛ روشنی ہی روشنی برسنے لگی
نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
آپ کی پیدائش پر ہر طرف خوشی ہی خوشی تھی
آمد رسول ﷺ سے اٹھارہ ہزار عالم کو خوشی ہوئی
مگر شیطان
" وصاح الشیطٰن لعنۃ اللہ علیہ علی جبل ابی قبیس"
"اور شیطان کوہ ابوقبیس پر رویا چیکھا اور چلایا "
تمام شیاطین
جمع ہوکر اپنے سردار یعنی بڑے شیطان کے پاس گئے اور پوچھا "ماالذی اصابک" اے ہمارے سردار تجھے کس چیز نے رلایا ؛ تجھے کیا تکلیف پہنچی اور کیوں چلاتے ہو؟
اس نے جواب دیا" قد استقر محمد فی بطن امہ" آج رات محمد اپنی ماں کے بطن میں آگیا
لـــــــب لبــــــــاب :
پیدائش رسول پر خوشیاں منانا اللہ والوں کی سنت ہے
اور پیدائش رسول پر خوشیاں نہ منانا؛ اعتراض کرنا ؛غمی منانا؛ یہ ابلیس کے نقش قدم پر چلنا ہے
میـــــــــلاد النبـی منـانـے پـــــر انعــام:
حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس نے میلاد النبی پر کھانا پکایا؛ لوگوں کو جمع کیا ؛نیا لباس پہننا؛ خوشبو سے میلاد کی جگہ کو معطر کیا اور چراغاں کیا اس کا حشر انبیاء علیہم السلام کی رفاقت میں ہوگا
یـــــہ قـصــــہ لطیــف ابھــی ناتمـــــام ہــــے
جــو کچـــھ بیــــاں ہـوا یـہ آغـاز بـاب تھــــا
اس نے جواب دیا" قد استقر محمد فی بطن امہ" آج رات محمد اپنی ماں کے بطن میں آگیا
لـــــــب لبــــــــاب :
پیدائش رسول پر خوشیاں منانا اللہ والوں کی سنت ہے
اور پیدائش رسول پر خوشیاں نہ منانا؛ اعتراض کرنا ؛غمی منانا؛ یہ ابلیس کے نقش قدم پر چلنا ہے
میـــــــــلاد النبـی منـانـے پـــــر انعــام:
حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس نے میلاد النبی پر کھانا پکایا؛ لوگوں کو جمع کیا ؛نیا لباس پہننا؛ خوشبو سے میلاد کی جگہ کو معطر کیا اور چراغاں کیا اس کا حشر انبیاء علیہم السلام کی رفاقت میں ہوگا
یـــــہ قـصــــہ لطیــف ابھــی ناتمـــــام ہــــے
جــو کچـــھ بیــــاں ہـوا یـہ آغـاز بـاب تھــــا
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM