🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
وں نے دیے ہیں ،ان کے بعض فتاوے کئی کئی صفحے کے ہیں ،فقہ اور حدیث پر ان کی نطر بڑی وسیع ہے دو جلدیں اس سے پہلے شائع ہو چکی ہیں ِاب تیسری جلد دارالاشاعت مبارک پور اعظم گڑھ نے شائع کی ہے ،اس جلد میں ۸۴۲ مسائل ہیں ابھی ان کے فتاوے کی آٹھ جلدیں اور باقی ہیں ان فتاویٰ میں بعض پیدا شدہ مسائل کے متعلق بھی فتوے ہیں جن کا جواب مولانا نے بڑی وسعت نظری سے دیا ہے ۔بہر حال مولانا کے مخصوص خیالات (مسئلہ تکفیر )سے قطع نظر ان کے فتاویٰ اس قابل ہیںکہ ان کا مطالعہ کیا جائے ،ان سے معلومات میں اضافہ ہوتا ہے‘‘ (معارف اعظم گڑھ فروری ۱۹۶۲ئ)

ہفت روزہ’’ شہاب‘‘ لاہور نے بھی برملا اس حقیقت کا اعتراف کیا ،ملاحظہ ہو:

’’مولانا غلام علی صاحب نائب مولانا مودودی صاحب نے مولانا احمد رضا خان صاحب کی کتابیں لے کر مطالعہ فرمائیں تو فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں ،ان کی بعض تصانیف اور فتاویٰ کے مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہونچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی وہ بہت کم علمامیں پائی جاتی ہے اور عشق خدا ورسول تو ان کی سطر سطر سے پھوٹا پڑتا ہے ۔مجھے تو ان سے سوائے مسئلہ تکفیر کے کسی مسئلہ میں کوئی خاص اختلاف نہیں ۔جتنے بھی اختلاف ہیں وہ بہت معمولی ہیں ،البتہ علمائے دیو بند کی تکفیر کے بارے میں انہوں نے تشدد برتا ہے ،یہ علاحدہ بات ہے کہ وہ ا س میں مخلص نظر آتے ہیں تا ہم ان کے نتیجے سے ہم متفق نہیں کہ ان کی عبارات کی کوئی قابل قبول تاویل نہیں۔ اگر چہ وہ عبارات قابل اعتراض ہیں مگر ان کی نیت پر شبہہ اور تکفیر پر اصرار زیادتی ہے۔ ( ہفت روزہ شہاب لاہور ۲۵؍نومبر ۱۹۶۲ئ)

فتاویٰ رضویہ کی ایک بہت بڑی خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ سولات کا جواب دینے میں سائل کی نفسیات کا بھر پور خیال ملحوظ رکھا گیا ہے ،قدرتی طور پر امام احمد رضا کو احساس ہوجاتا تھا کہ مستفتی کی اپنی علمی قابلیت ولیاقت کس معیار کی ہے ،اس کا تعلق عوام سے ہے یا خواص سے ؟تفصیلی جواب کا طالب ہے یا اجمالاً نفس جواب کا متمنی ہے ؟دوسری بات یہ کہ آپ کا اسلوب تحقیق بہت بلند ہے ،انداز تحریر بڑا دلکش ہے ،در حقیقت فتاویٰ رضویہ دلائل وبراہین ،شواہد ونظائر کا ایسا خوب صورت امتزاج ہے کہ قاری کے دل میں شک وشبہہ کی گنجائش یکسر ختم ہوجاتی ہے اور وہ مزید کسی دلیل کا متقاضی نہیں ہوتا ،اگر غیر جانب دار ہے ،عناد وعداوت سے پرے ہوکر ان کا مطالعہ کرتا ہے تو حق قبول کرنا اس کی مجبوری بن جاتی ہے ،اردو،عربی اور فارسی تین زبانوں میں موجود یہ فتاویٰ مسائل شرعیہ کا ایک عظیم شاہ کار ہیں ،علوم وفنون کا گراں قدر سرمایہ ہیں ،تحقیقات وتنقیحات کا حسین گل دستہ ہیں ،محققانہ جلال ،عالمانہ وفقیہانہ جمال کے آبدار موتیوں سے سجے دکھائی دیتے ہیںاور مجتہدانہ شان ٹپکتی ہے ۔ ؎

وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے

اگلوں نے تو لکھا ہے بہت علم دین پر ۔۔۔۔۔۔۔جو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا کا ہے
==================
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2825871821025460&id=100008080090753
فتاویٰ رضویہ کے متعلق ³ PHD مقالے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2825871821025460&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*_سوال_* ؛
*کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیائے عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک لڑکے کا نکاح کسی وہابی یا دیوبندی نے پڑھا یا تھا اور لڑکی بھی وہابی گھرانے کی تھی لیکن وہ بالکل جاہل ہے اور مجھے معلوم ہے کہ اس کا عقیدہ کفری نہیں اور لڑکی اس بات کا اقرار بھی کرتی ہے کہ میں سنی ہوں اور سنی رہونگی اور ان دونوں سے ایک لڑکا بھی پیدا ہوا ہے اور شادی ہوئے تقریبا چھ سال ہو گیا طلب امر یہ ہے کہ دیوبندی یا وہابی عالم کے نکاح سے ان دونوں کا نکاح ہوا کہ نہیں یا پھر دوبارہ نکاح پڑھایا پڑے گا جب کہ یہ بات دھیان رکھے کہ ان دونوں کا عقیدہ کفری نہیں ہے مکمل تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی*
*_سائل_محمدظہیرخان ، سدھارتھ نگر ، (یوپی)*_

*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*📝الـــجــــــــــوابـــــــ :۔ ⇩* لڑکا اگر سنی عقیدےوالا ہے اور لڑکی بھی اگر واوقعی سنی عقائد رکھتی تو اگرچہ وہابی نےنکاح پڑھایا ہونکاح ہوگیا. لیکن سنی عالم کے ہوتےہوئےہرگز ہرگز کسی دیوبندی یاوہابی سےنکاح نہیں پڑھواناچاہیے، کیونکہ ناچاہتے ہوئے بھی ان کی تعظیم کرنی پڑےگی جو حرام ہے.لہذا جن لوگوں نے اسے نکاح پڑھوانےکےلیےبلایا تھا وہ توبہ کریں اور آئندہ بچیں.
جب نکاح درست ہےتو دوبارہ پڑھنےکی ضرورت نہیں.
وہ بچہ انہیں کا ہے، اس کےلیے کوئی حکم نہیں.

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَتَجُوزُ وَكَالَةُ الْمُرْتَدِّ بِأَنْ وَكَّلَ مُسْلِمٌ مُرْتَدًّا، وَكَذَا لَوْ كَانَ مُسْلِمًا وَقْتَ التَّوْكِيلِ ثُمَّ ارْتَدَّ فَهُوَ عَلَى وَكَالَتِهِ إلَّا أَنْ يَلْحَقَ بِدَارِ الْحَرْبِ فَتَبْطُلُ وَكَالَتُهُ كَذَا فِي الْبَدَائِعِ."
(کتاب الوکالہ، الباب الأول...)

واللہ تعالی اعلم
کتبہ:عدیل احمد قادری مصباحی علیمی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا حضرت امیر معاویہ نے حضرت علی کو گالی دینے پر اکسایا تھا؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ایک مقرر صاحب جو شاید نیم رافضی ہیں، ایک روایت بیان کررہے تھے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو ابھارتے تھے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دیں ۔
کیا ایسی کوئی روایت ہے؟
سائل : محمد ساجد بھدوکی (بہار )
ــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــ الجواب : شاید مذکورہ خطیب نے اس روایت کو سامنے رکھ کر غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے :
أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ ؟
یہ روایت صحیح مسلم شریف میں موجود ہے. ـــــــ مگر
*یسب* کا ترجمہ جو معنی مشہور میں گالی دینا کیا گیا ہے. یہ غلط ہے. اس کے اور بھی کئی معانی آتے ہیں.
"دروس البلاغۃ من قواعد کتب اللغہ العربیۃ" ـــــ میں اس کا ایک معنی "عیب" بھی بتایا ہے. عربی شاعر سمؤل کا شعر ہے :
وإنا أناسا لانری القتل سبة
إذا ما رأته عامر وسلول
[ص: 193، ]
ترجمہ : اور بے شک ہم وہ قوم ہیں جو قتل وجنگ کو "عیب" نہیں سمجھتے. جب کہ قبیلہ عامر اور سلول کے لوگ اسے " عیب" گمان کرتے ہیں.

مقام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس قسم کی عبارتوں کی مناسب توجیہ کی جائے. اور بدباطن خبیث رافضیوں کے پھیلائے ہوئے خرافات پر کان نہ دھرا جائے جس کے پیچھے "حب علی کم، اور بغض معاویہ زیادہ " کا جلوہ کارفرما ہے.

امام نووی نے اپنی شرح المنھاج میں لکھا ہے کہ اس حدیث کو ظاہر سے پھیر کر تاویل کرنا واجب ہے تاکہ کسی صحابی کی طرف بدگمانی سے بچا جاسکے. پھر اس کے بعد کئ مفاہیم ایسے ذکر کیے ہیں کہ ان سے کسی بھی قسم کی گالی کا شائبہ نہیں ہوتا.
یہاں پر ایک اچھی تاویل یہ پیش کی گئی ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بس یہ پوچھا کہ سَبّ نہ کرنے کا کیا سبب ہے؟ ــــــــ کیا رکنا ورع اور ان کی جلالت شان کے پیش نظر ہے. تب تو اچھی بات ہے.

المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :
‌‏قوله : ( إن معاوية قال لسعد بن أبي وقاص : ما منعك أن تسب أبا تراب ؟ ) ، قال العلماء : الأحاديث الواردة التي في ظاهرها دخل على صحابي يجب تأويلها ، قالوا : ولا يقع في روايات الثقات إلا ما يمكن تأويله ، فقول معاوية هذا ليس فيه تصريح بأنه أمر سعدا بسبه ، وإنما سأله عن السبب المانع له من السب ، كأنه يقول : هل امتنعت تورعا ، أو خوفا ، أو غير ذلك ، فإن كان تورعا وإجلالا له عن السب فأنت مصيب محسن ، وإن كان غير ذلك فله جواب آخر ، ولعل سعدا قد كان في طائفة يسبون فلم يسب معهم ، وعجز عن الإنكار ، وأنكر عليهم ، فسأله هذا السؤال ، قالوا : ويحتمل تأويلا آخر ، أن معناه : ما منعك أن تخطئه في رأيه واجتهاده ، وتظهر للناس حسن رأينا واجتهادنا ، وأنه أخطأ ؟ .

خلاصہ کلام یہ ہے کہ :
مسلم شریف کی پیش کردہ روایت سے بس یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سب سے بچنے کا سبب پوچھا ہے. سب پر اکسایا نہیں ہے. اس سے غلط معنی نکالنا بدباطن رافضیہ کا طریقہ ہے. امام نووی اور اہل سنت کے اکابر علما کی تعلیمات کے منافی ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی شان میں گستاخی کی جرأت کرنے والوں سے بچائے رکھے.واللہ تعالٰی اعلم
فیضان سرور مصباحی
10/ جنوری 2020 ء
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
امام احمد رضا کو دنیا بھر کے علوم اعلیٰ حضرت کو کتنے علوم و فنون مسلمانوں کی قبروں پر پاؤں رکھنا مزارات پر عورتوں کو حاضری دینا شعر : سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ امام احمد رضا امام اعظم ثانی ہیں مجدد کا ثبوت احادیث نبوی سے مجدد کی شناخت کیسے کی جائے بزرگان دین…
اعلیٰ حضرت محافظ مسلک حنفیت
اعلیٰ کی تمام تصانیف | خصوصیات

بالوں میں خضاب لگانا کیسا ہے ؟
کیا نکاح کے لئے مرد سیاہ خضاب
شعر : ان کی مہک نے دل کے غنچے
امام احمد رضا غیر مسلم ماہرین
کیا حسن حسین وسمہ کا خضاب
نا محرم عورتوں کا مشائخین بوسہ
ایام عرس میں ہونے والی خرافات
شعر : سر تا با قدم ہیں تن سلطان
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ¹² جِلدیں
📇 دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ
مکتبہ #رضا_اکیڈمی_ممبئ_الہند
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2685

فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
🌐 مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2241

فتاویٰ رضویه 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
ویب 🌐 اعلیٰ حضرت نیٹ ورک
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2304

فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ لوہاری دروازہ
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2339
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
محنة يعرف به أهل البدع!
بدعتی کے پہچاننے کا آزمائشی آلہ!

أحمد بن يعقوب يقول: ''و كان أبو حنيفة محنة يعرف به أهل البدع من الجماعة''. (الانتقاء)

احمد بن یعقوب فرماتے ہیں: ''امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ و الرضوان آزمائش تھے، ان کے سبب بدعتی کا اہل سنت و جماعت سے امتیاز ہوجایا کرتا تھا''۔

و الأزهري يقول: ''و کان و لم یزل الإمام أحمد رضا محنة يعرف به أهل البدع من الجماعة''.

اور فقیر ازہری کہتا ہے: ''مجدد دین و ملت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ آزمائش تھے اور ہیں، آپ کے ذریعے بدعتی کا اہل سنت و جماعت سے امتیاز ہوجایا کرتا ہے''۔

طالب دعا:

أبوعاتکہ أزھار أحمد أمجدی أزھری غفرلہ
بانی فقیہ ملت فاؤنڈیشن، خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ، أوجھاگنج، بستی، یوپی، انڈیا۔
۲/صفر المظفر ۱٤٤١ھ مطابق ۲/اکتوبر ۲۰۱۹ء