فتاویٰ رضویہ کا علمی مقام
مستقیم الفکر
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی علیہ الرحمۃ والرضوان (۱۲۷۲ھ۔۱۳۴۰ھ)کی بلند پایہ ،قابل قدر اور ہمہ جہت شخصیت نہ صرف برصغیر ہندوپاک بلکہ پورے عالم اسلام میں کسی تعارف وتبصرے کی محتاج نہیں ،آپ کی ذات بلا شبہہ برہان الٰہی ہے ،معجزۂ رسول ہے ،وہبی علوم وفنون کا ایک ایسا بحر ذخار ہے جس کی گہرائی ،وسعت اور گیرائی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ،حکمت ودانائی کا ایک بیش بہا خزانہ ہے جس کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی ،علم ومشاہدہ ،فقہ وتدبر کا ایسا عمیق سمندر ہے جس میں غوطہ لگانے والا ’’ہل من مزید ‘‘ کا نعرہ بلند کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایسے نادر ونایاب موتی لے کر نکلتا ہے جس سے آنکھیں خیرہ ہوتیں ،قلوب اذہان کو روشنی ملتی ،اہل اسلام کے ایمان وایقان کو جلا ملتی اور عقائدو اعمال کی تزئین کاری ہوتی ہے۔اللہ عز وجل نے آپ کو حرارت ایمانی ،استقامت علی الدین ،تصلب فی الدین اور عشق رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایسا وافر وبیش بہا خزانہ عطا فرمایا بلا شبہہ جو تائید ربانی اور خالص عطائے الٰہی کا مظہر اتم ہے ۔امام احمد رضا قدس سرہ نے تقریباً ۵۴ سال تک مسند افتا کو رونق بخشی ،ایک ہزار سے زائد کتب ورسائل تحریر فرمائے ،۵۵سے زیادہ علوم وفنون میں تبحر حاصل کیا ، ان گنت تحقیقات علمیہ وادبیہ پیش کیے ،بے شمار فتاویٰ لکھے اور اس قدر باریک بینی اور دقت نظر سے لا ینحل مسائل کا تصفیہ فرمایا کہ اپنے وقت کا بڑے سے بڑا تنقید نگار بھی قلم ہاتھ میں لیے سوچتا رہ گیا ،وقت کے مقتدر علما وفقہا نے جن چار شخصیات کے بارے میں متفقہ طور پر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قلم کو خطا سے محفوظ رکھا ہے امام احمد رضا کی ذات ان میں ایک ہے ۔آپ کے فتاویٰ کا خوب صورت مجموعہ ’’العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ ‘‘کے مبارک نام سے نہ صرف یہ کہ مشہور ہے بلکہ علماوفقہا ومفتیان کرام کے لیے ایک ضرورت ہے ،ہر کوئی ان کی اہمیت وافادیت تسلیم کرتا ہے ۔
انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سید عبدالرحمٰن بخاری لکھتے ہیں :
’’لوگ احمد رضا کو اپنے عہد کا مجدد کہتے ہیں اور میں اسے آنے والے ہر دور کے لیے اپنے رسول صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معجزہ سمجھتا ہوں۔ لوگ اسے فاضل بریلوی پکارتے ہیں اور میں اسے آیت الٰہی دیکھتا ہوں ۔لوگ اسے فقیہ وعالم ٹھہراتے ہیں اور میں اسے فہم دین میں ’’حجت ‘‘گردانتا ہوں ‘‘
(سہ ماہی افکار رضاممبئی شمارہ اپریل تا جون ۲۰۰۰ء ص۵۸)
امام احمد رضا کی آفاقی ذات پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ حنیف خان رضوی بریلوی (مرتب جامع الاحادیث)رقم طراز ہیں :
’’امام احمد رضا بلا شبہہ اپنے دور میں پوری دنیا کے لیے مرجع فتاویٰ تھے ۔ آپ کے دارالافتا میں بر اعظم ایشیا،افریقہ،یورپ اور امریکہ سے استفتا آتے تھے اور ایک وقت میں پانچ پانچ سو جمع ہو جاتے تھے اور سب کے جواب اسی شرح وبسط کے ساتھ مجتہدانہ شان سے دیے جاتے ،لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید سے سر مو انحراف نہیں ہوتا بلکہ اپنے مسلک حنفی پر شدت سے کار بند رہتے ،آپ کے فتاویٰ سے عوام وخواص ،علما وصلحا اور مفتیا ن دین متین وقاضیان عدالت سبھی مستفید ہوتے تھے اور آج بھی ہو رہے ہیں ،آپ کی اس شان فقاہت اور تبحر علمی سے متاثر ہو کر ہی علمائے عرب وعجم نے بالاتفاق چودہویں صدی کا مجدد تسلیم کیا اور علمائے حرمین شریفین زاد ہما شرفاً وتعظیماً تو کثیر تعداد میں آپ کے سامنے زانوے ادب طے کرتے نظر آئے ،آپ سے سندیں حاصل کیں ا‘‘ (مقدمہ فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص۷)
حافظ کتب حرم شریف مکہ حضرت علامہ سید اسماعیل خلیل مکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ آپ کی علمی تحقیقات اور فقہی جواہر پاروں کو دیکھ کر پکار اٹھے: (ترجمہ)’’میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اگر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان فتاویٰ کو دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور ان فتاویٰ کے مؤلف یعنی امام احمد رضا کو اپنے تلامذہ میں شامل کرلیتے‘‘(الاجازۃ المتنیۃ لعلماء بکۃ والمدینۃص۲۲ص)
تاج العلما اولاد رسول حضرت محمد میاں مارہروی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :’’اعلیٰ حضرت کو میں علامہ ابن عابدین شامی پر فوقیت دیتا ہوں ،کیوں کہ جو جامعیت اعلیٰ حضرت کے ہاں ہے وہ ابن عابدین شامی کے ہاں نہیں ‘‘(امام احمد رضا کی فقہی بصیرت ص۶۴)
فتاویٰ رضویہ کے علمی مقام اور جامعیت ،آپ کی شان فقاہت ،علمیت ،اور محققانہ قدرووقار کا آپ سے نظریاتی اختلاف رائے رکھنے والوں نے بھی اعتراف کیا ۔ماہ نامہ’’ معارف ‘‘اعظم گڑھ کا فتاویٰ رضویہ پر یہ تبصرہ پڑھئے اور عش عش کر اٹھئے ،لکھتا ہے :
’’مولانااحمد رضا خان صاحب مرحوم اپنے وقت کے زبر دست عالم ،مصنف اور فقیہ تھے ،انہوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں فقہی مسائل سے متعلق رسالے لکھے ہیں ،قرآن کا ایک سلیس ترجمہ بھی کیا ہے ۔ان علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ ہزار ہا فتووں کے جوابات بھی انہ
مستقیم الفکر
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی علیہ الرحمۃ والرضوان (۱۲۷۲ھ۔۱۳۴۰ھ)کی بلند پایہ ،قابل قدر اور ہمہ جہت شخصیت نہ صرف برصغیر ہندوپاک بلکہ پورے عالم اسلام میں کسی تعارف وتبصرے کی محتاج نہیں ،آپ کی ذات بلا شبہہ برہان الٰہی ہے ،معجزۂ رسول ہے ،وہبی علوم وفنون کا ایک ایسا بحر ذخار ہے جس کی گہرائی ،وسعت اور گیرائی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ،حکمت ودانائی کا ایک بیش بہا خزانہ ہے جس کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی ،علم ومشاہدہ ،فقہ وتدبر کا ایسا عمیق سمندر ہے جس میں غوطہ لگانے والا ’’ہل من مزید ‘‘ کا نعرہ بلند کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایسے نادر ونایاب موتی لے کر نکلتا ہے جس سے آنکھیں خیرہ ہوتیں ،قلوب اذہان کو روشنی ملتی ،اہل اسلام کے ایمان وایقان کو جلا ملتی اور عقائدو اعمال کی تزئین کاری ہوتی ہے۔اللہ عز وجل نے آپ کو حرارت ایمانی ،استقامت علی الدین ،تصلب فی الدین اور عشق رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایسا وافر وبیش بہا خزانہ عطا فرمایا بلا شبہہ جو تائید ربانی اور خالص عطائے الٰہی کا مظہر اتم ہے ۔امام احمد رضا قدس سرہ نے تقریباً ۵۴ سال تک مسند افتا کو رونق بخشی ،ایک ہزار سے زائد کتب ورسائل تحریر فرمائے ،۵۵سے زیادہ علوم وفنون میں تبحر حاصل کیا ، ان گنت تحقیقات علمیہ وادبیہ پیش کیے ،بے شمار فتاویٰ لکھے اور اس قدر باریک بینی اور دقت نظر سے لا ینحل مسائل کا تصفیہ فرمایا کہ اپنے وقت کا بڑے سے بڑا تنقید نگار بھی قلم ہاتھ میں لیے سوچتا رہ گیا ،وقت کے مقتدر علما وفقہا نے جن چار شخصیات کے بارے میں متفقہ طور پر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قلم کو خطا سے محفوظ رکھا ہے امام احمد رضا کی ذات ان میں ایک ہے ۔آپ کے فتاویٰ کا خوب صورت مجموعہ ’’العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ ‘‘کے مبارک نام سے نہ صرف یہ کہ مشہور ہے بلکہ علماوفقہا ومفتیان کرام کے لیے ایک ضرورت ہے ،ہر کوئی ان کی اہمیت وافادیت تسلیم کرتا ہے ۔
انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سید عبدالرحمٰن بخاری لکھتے ہیں :
’’لوگ احمد رضا کو اپنے عہد کا مجدد کہتے ہیں اور میں اسے آنے والے ہر دور کے لیے اپنے رسول صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معجزہ سمجھتا ہوں۔ لوگ اسے فاضل بریلوی پکارتے ہیں اور میں اسے آیت الٰہی دیکھتا ہوں ۔لوگ اسے فقیہ وعالم ٹھہراتے ہیں اور میں اسے فہم دین میں ’’حجت ‘‘گردانتا ہوں ‘‘
(سہ ماہی افکار رضاممبئی شمارہ اپریل تا جون ۲۰۰۰ء ص۵۸)
امام احمد رضا کی آفاقی ذات پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ حنیف خان رضوی بریلوی (مرتب جامع الاحادیث)رقم طراز ہیں :
’’امام احمد رضا بلا شبہہ اپنے دور میں پوری دنیا کے لیے مرجع فتاویٰ تھے ۔ آپ کے دارالافتا میں بر اعظم ایشیا،افریقہ،یورپ اور امریکہ سے استفتا آتے تھے اور ایک وقت میں پانچ پانچ سو جمع ہو جاتے تھے اور سب کے جواب اسی شرح وبسط کے ساتھ مجتہدانہ شان سے دیے جاتے ،لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید سے سر مو انحراف نہیں ہوتا بلکہ اپنے مسلک حنفی پر شدت سے کار بند رہتے ،آپ کے فتاویٰ سے عوام وخواص ،علما وصلحا اور مفتیا ن دین متین وقاضیان عدالت سبھی مستفید ہوتے تھے اور آج بھی ہو رہے ہیں ،آپ کی اس شان فقاہت اور تبحر علمی سے متاثر ہو کر ہی علمائے عرب وعجم نے بالاتفاق چودہویں صدی کا مجدد تسلیم کیا اور علمائے حرمین شریفین زاد ہما شرفاً وتعظیماً تو کثیر تعداد میں آپ کے سامنے زانوے ادب طے کرتے نظر آئے ،آپ سے سندیں حاصل کیں ا‘‘ (مقدمہ فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص۷)
حافظ کتب حرم شریف مکہ حضرت علامہ سید اسماعیل خلیل مکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ آپ کی علمی تحقیقات اور فقہی جواہر پاروں کو دیکھ کر پکار اٹھے: (ترجمہ)’’میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اگر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان فتاویٰ کو دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور ان فتاویٰ کے مؤلف یعنی امام احمد رضا کو اپنے تلامذہ میں شامل کرلیتے‘‘(الاجازۃ المتنیۃ لعلماء بکۃ والمدینۃص۲۲ص)
تاج العلما اولاد رسول حضرت محمد میاں مارہروی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :’’اعلیٰ حضرت کو میں علامہ ابن عابدین شامی پر فوقیت دیتا ہوں ،کیوں کہ جو جامعیت اعلیٰ حضرت کے ہاں ہے وہ ابن عابدین شامی کے ہاں نہیں ‘‘(امام احمد رضا کی فقہی بصیرت ص۶۴)
فتاویٰ رضویہ کے علمی مقام اور جامعیت ،آپ کی شان فقاہت ،علمیت ،اور محققانہ قدرووقار کا آپ سے نظریاتی اختلاف رائے رکھنے والوں نے بھی اعتراف کیا ۔ماہ نامہ’’ معارف ‘‘اعظم گڑھ کا فتاویٰ رضویہ پر یہ تبصرہ پڑھئے اور عش عش کر اٹھئے ،لکھتا ہے :
’’مولانااحمد رضا خان صاحب مرحوم اپنے وقت کے زبر دست عالم ،مصنف اور فقیہ تھے ،انہوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں فقہی مسائل سے متعلق رسالے لکھے ہیں ،قرآن کا ایک سلیس ترجمہ بھی کیا ہے ۔ان علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ ہزار ہا فتووں کے جوابات بھی انہ
وں نے دیے ہیں ،ان کے بعض فتاوے کئی کئی صفحے کے ہیں ،فقہ اور حدیث پر ان کی نطر بڑی وسیع ہے دو جلدیں اس سے پہلے شائع ہو چکی ہیں ِاب تیسری جلد دارالاشاعت مبارک پور اعظم گڑھ نے شائع کی ہے ،اس جلد میں ۸۴۲ مسائل ہیں ابھی ان کے فتاوے کی آٹھ جلدیں اور باقی ہیں ان فتاویٰ میں بعض پیدا شدہ مسائل کے متعلق بھی فتوے ہیں جن کا جواب مولانا نے بڑی وسعت نظری سے دیا ہے ۔بہر حال مولانا کے مخصوص خیالات (مسئلہ تکفیر )سے قطع نظر ان کے فتاویٰ اس قابل ہیںکہ ان کا مطالعہ کیا جائے ،ان سے معلومات میں اضافہ ہوتا ہے‘‘ (معارف اعظم گڑھ فروری ۱۹۶۲ئ)
ہفت روزہ’’ شہاب‘‘ لاہور نے بھی برملا اس حقیقت کا اعتراف کیا ،ملاحظہ ہو:
’’مولانا غلام علی صاحب نائب مولانا مودودی صاحب نے مولانا احمد رضا خان صاحب کی کتابیں لے کر مطالعہ فرمائیں تو فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں ،ان کی بعض تصانیف اور فتاویٰ کے مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہونچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی وہ بہت کم علمامیں پائی جاتی ہے اور عشق خدا ورسول تو ان کی سطر سطر سے پھوٹا پڑتا ہے ۔مجھے تو ان سے سوائے مسئلہ تکفیر کے کسی مسئلہ میں کوئی خاص اختلاف نہیں ۔جتنے بھی اختلاف ہیں وہ بہت معمولی ہیں ،البتہ علمائے دیو بند کی تکفیر کے بارے میں انہوں نے تشدد برتا ہے ،یہ علاحدہ بات ہے کہ وہ ا س میں مخلص نظر آتے ہیں تا ہم ان کے نتیجے سے ہم متفق نہیں کہ ان کی عبارات کی کوئی قابل قبول تاویل نہیں۔ اگر چہ وہ عبارات قابل اعتراض ہیں مگر ان کی نیت پر شبہہ اور تکفیر پر اصرار زیادتی ہے۔ ( ہفت روزہ شہاب لاہور ۲۵؍نومبر ۱۹۶۲ئ)
فتاویٰ رضویہ کی ایک بہت بڑی خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ سولات کا جواب دینے میں سائل کی نفسیات کا بھر پور خیال ملحوظ رکھا گیا ہے ،قدرتی طور پر امام احمد رضا کو احساس ہوجاتا تھا کہ مستفتی کی اپنی علمی قابلیت ولیاقت کس معیار کی ہے ،اس کا تعلق عوام سے ہے یا خواص سے ؟تفصیلی جواب کا طالب ہے یا اجمالاً نفس جواب کا متمنی ہے ؟دوسری بات یہ کہ آپ کا اسلوب تحقیق بہت بلند ہے ،انداز تحریر بڑا دلکش ہے ،در حقیقت فتاویٰ رضویہ دلائل وبراہین ،شواہد ونظائر کا ایسا خوب صورت امتزاج ہے کہ قاری کے دل میں شک وشبہہ کی گنجائش یکسر ختم ہوجاتی ہے اور وہ مزید کسی دلیل کا متقاضی نہیں ہوتا ،اگر غیر جانب دار ہے ،عناد وعداوت سے پرے ہوکر ان کا مطالعہ کرتا ہے تو حق قبول کرنا اس کی مجبوری بن جاتی ہے ،اردو،عربی اور فارسی تین زبانوں میں موجود یہ فتاویٰ مسائل شرعیہ کا ایک عظیم شاہ کار ہیں ،علوم وفنون کا گراں قدر سرمایہ ہیں ،تحقیقات وتنقیحات کا حسین گل دستہ ہیں ،محققانہ جلال ،عالمانہ وفقیہانہ جمال کے آبدار موتیوں سے سجے دکھائی دیتے ہیںاور مجتہدانہ شان ٹپکتی ہے ۔ ؎
وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے
اگلوں نے تو لکھا ہے بہت علم دین پر ۔۔۔۔۔۔۔جو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا کا ہے
==================
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2825871821025460&id=100008080090753
ہفت روزہ’’ شہاب‘‘ لاہور نے بھی برملا اس حقیقت کا اعتراف کیا ،ملاحظہ ہو:
’’مولانا غلام علی صاحب نائب مولانا مودودی صاحب نے مولانا احمد رضا خان صاحب کی کتابیں لے کر مطالعہ فرمائیں تو فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں ،ان کی بعض تصانیف اور فتاویٰ کے مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہونچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی وہ بہت کم علمامیں پائی جاتی ہے اور عشق خدا ورسول تو ان کی سطر سطر سے پھوٹا پڑتا ہے ۔مجھے تو ان سے سوائے مسئلہ تکفیر کے کسی مسئلہ میں کوئی خاص اختلاف نہیں ۔جتنے بھی اختلاف ہیں وہ بہت معمولی ہیں ،البتہ علمائے دیو بند کی تکفیر کے بارے میں انہوں نے تشدد برتا ہے ،یہ علاحدہ بات ہے کہ وہ ا س میں مخلص نظر آتے ہیں تا ہم ان کے نتیجے سے ہم متفق نہیں کہ ان کی عبارات کی کوئی قابل قبول تاویل نہیں۔ اگر چہ وہ عبارات قابل اعتراض ہیں مگر ان کی نیت پر شبہہ اور تکفیر پر اصرار زیادتی ہے۔ ( ہفت روزہ شہاب لاہور ۲۵؍نومبر ۱۹۶۲ئ)
فتاویٰ رضویہ کی ایک بہت بڑی خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ سولات کا جواب دینے میں سائل کی نفسیات کا بھر پور خیال ملحوظ رکھا گیا ہے ،قدرتی طور پر امام احمد رضا کو احساس ہوجاتا تھا کہ مستفتی کی اپنی علمی قابلیت ولیاقت کس معیار کی ہے ،اس کا تعلق عوام سے ہے یا خواص سے ؟تفصیلی جواب کا طالب ہے یا اجمالاً نفس جواب کا متمنی ہے ؟دوسری بات یہ کہ آپ کا اسلوب تحقیق بہت بلند ہے ،انداز تحریر بڑا دلکش ہے ،در حقیقت فتاویٰ رضویہ دلائل وبراہین ،شواہد ونظائر کا ایسا خوب صورت امتزاج ہے کہ قاری کے دل میں شک وشبہہ کی گنجائش یکسر ختم ہوجاتی ہے اور وہ مزید کسی دلیل کا متقاضی نہیں ہوتا ،اگر غیر جانب دار ہے ،عناد وعداوت سے پرے ہوکر ان کا مطالعہ کرتا ہے تو حق قبول کرنا اس کی مجبوری بن جاتی ہے ،اردو،عربی اور فارسی تین زبانوں میں موجود یہ فتاویٰ مسائل شرعیہ کا ایک عظیم شاہ کار ہیں ،علوم وفنون کا گراں قدر سرمایہ ہیں ،تحقیقات وتنقیحات کا حسین گل دستہ ہیں ،محققانہ جلال ،عالمانہ وفقیہانہ جمال کے آبدار موتیوں سے سجے دکھائی دیتے ہیںاور مجتہدانہ شان ٹپکتی ہے ۔ ؎
وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے
اگلوں نے تو لکھا ہے بہت علم دین پر ۔۔۔۔۔۔۔جو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا کا ہے
==================
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2825871821025460&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
فتاویٰ رضویہ کے متعلق ³ PHD مقالے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2825871821025460&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2825871821025460&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*_سوال_* ؛
*کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیائے عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک لڑکے کا نکاح کسی وہابی یا دیوبندی نے پڑھا یا تھا اور لڑکی بھی وہابی گھرانے کی تھی لیکن وہ بالکل جاہل ہے اور مجھے معلوم ہے کہ اس کا عقیدہ کفری نہیں اور لڑکی اس بات کا اقرار بھی کرتی ہے کہ میں سنی ہوں اور سنی رہونگی اور ان دونوں سے ایک لڑکا بھی پیدا ہوا ہے اور شادی ہوئے تقریبا چھ سال ہو گیا طلب امر یہ ہے کہ دیوبندی یا وہابی عالم کے نکاح سے ان دونوں کا نکاح ہوا کہ نہیں یا پھر دوبارہ نکاح پڑھایا پڑے گا جب کہ یہ بات دھیان رکھے کہ ان دونوں کا عقیدہ کفری نہیں ہے مکمل تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی*
*_سائل_محمدظہیرخان ، سدھارتھ نگر ، (یوپی)*_
➖➖➖➖➖
*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*📝الـــجــــــــــوابـــــــ :۔ ⇩* لڑکا اگر سنی عقیدےوالا ہے اور لڑکی بھی اگر واوقعی سنی عقائد رکھتی تو اگرچہ وہابی نےنکاح پڑھایا ہونکاح ہوگیا. لیکن سنی عالم کے ہوتےہوئےہرگز ہرگز کسی دیوبندی یاوہابی سےنکاح نہیں پڑھواناچاہیے، کیونکہ ناچاہتے ہوئے بھی ان کی تعظیم کرنی پڑےگی جو حرام ہے.لہذا جن لوگوں نے اسے نکاح پڑھوانےکےلیےبلایا تھا وہ توبہ کریں اور آئندہ بچیں.
جب نکاح درست ہےتو دوبارہ پڑھنےکی ضرورت نہیں.
وہ بچہ انہیں کا ہے، اس کےلیے کوئی حکم نہیں.
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وَتَجُوزُ وَكَالَةُ الْمُرْتَدِّ بِأَنْ وَكَّلَ مُسْلِمٌ مُرْتَدًّا، وَكَذَا لَوْ كَانَ مُسْلِمًا وَقْتَ التَّوْكِيلِ ثُمَّ ارْتَدَّ فَهُوَ عَلَى وَكَالَتِهِ إلَّا أَنْ يَلْحَقَ بِدَارِ الْحَرْبِ فَتَبْطُلُ وَكَالَتُهُ كَذَا فِي الْبَدَائِعِ."
(کتاب الوکالہ، الباب الأول...)
واللہ تعالی اعلم
کتبہ:عدیل احمد قادری مصباحی علیمی
*_سوال_* ؛
*کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیائے عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک لڑکے کا نکاح کسی وہابی یا دیوبندی نے پڑھا یا تھا اور لڑکی بھی وہابی گھرانے کی تھی لیکن وہ بالکل جاہل ہے اور مجھے معلوم ہے کہ اس کا عقیدہ کفری نہیں اور لڑکی اس بات کا اقرار بھی کرتی ہے کہ میں سنی ہوں اور سنی رہونگی اور ان دونوں سے ایک لڑکا بھی پیدا ہوا ہے اور شادی ہوئے تقریبا چھ سال ہو گیا طلب امر یہ ہے کہ دیوبندی یا وہابی عالم کے نکاح سے ان دونوں کا نکاح ہوا کہ نہیں یا پھر دوبارہ نکاح پڑھایا پڑے گا جب کہ یہ بات دھیان رکھے کہ ان دونوں کا عقیدہ کفری نہیں ہے مکمل تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی*
*_سائل_محمدظہیرخان ، سدھارتھ نگر ، (یوپی)*_
➖➖➖➖➖
*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*📝الـــجــــــــــوابـــــــ :۔ ⇩* لڑکا اگر سنی عقیدےوالا ہے اور لڑکی بھی اگر واوقعی سنی عقائد رکھتی تو اگرچہ وہابی نےنکاح پڑھایا ہونکاح ہوگیا. لیکن سنی عالم کے ہوتےہوئےہرگز ہرگز کسی دیوبندی یاوہابی سےنکاح نہیں پڑھواناچاہیے، کیونکہ ناچاہتے ہوئے بھی ان کی تعظیم کرنی پڑےگی جو حرام ہے.لہذا جن لوگوں نے اسے نکاح پڑھوانےکےلیےبلایا تھا وہ توبہ کریں اور آئندہ بچیں.
جب نکاح درست ہےتو دوبارہ پڑھنےکی ضرورت نہیں.
وہ بچہ انہیں کا ہے، اس کےلیے کوئی حکم نہیں.
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وَتَجُوزُ وَكَالَةُ الْمُرْتَدِّ بِأَنْ وَكَّلَ مُسْلِمٌ مُرْتَدًّا، وَكَذَا لَوْ كَانَ مُسْلِمًا وَقْتَ التَّوْكِيلِ ثُمَّ ارْتَدَّ فَهُوَ عَلَى وَكَالَتِهِ إلَّا أَنْ يَلْحَقَ بِدَارِ الْحَرْبِ فَتَبْطُلُ وَكَالَتُهُ كَذَا فِي الْبَدَائِعِ."
(کتاب الوکالہ، الباب الأول...)
واللہ تعالی اعلم
کتبہ:عدیل احمد قادری مصباحی علیمی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆
کیا حضرت امیر معاویہ نے حضرت علی کو گالی دینے پر اکسایا تھا؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک مقرر صاحب جو شاید نیم رافضی ہیں، ایک روایت بیان کررہے تھے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو ابھارتے تھے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دیں ۔
کیا ایسی کوئی روایت ہے؟
سائل : محمد ساجد بھدوکی (بہار )
ــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــ الجواب : شاید مذکورہ خطیب نے اس روایت کو سامنے رکھ کر غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے :
أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ ؟
یہ روایت صحیح مسلم شریف میں موجود ہے. ـــــــ مگر
*یسب* کا ترجمہ جو معنی مشہور میں گالی دینا کیا گیا ہے. یہ غلط ہے. اس کے اور بھی کئی معانی آتے ہیں.
"دروس البلاغۃ من قواعد کتب اللغہ العربیۃ" ـــــ میں اس کا ایک معنی "عیب" بھی بتایا ہے. عربی شاعر سمؤل کا شعر ہے :
وإنا أناسا لانری القتل سبة
إذا ما رأته عامر وسلول
[ص: 193، ]
ترجمہ : اور بے شک ہم وہ قوم ہیں جو قتل وجنگ کو "عیب" نہیں سمجھتے. جب کہ قبیلہ عامر اور سلول کے لوگ اسے " عیب" گمان کرتے ہیں.
مقام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس قسم کی عبارتوں کی مناسب توجیہ کی جائے. اور بدباطن خبیث رافضیوں کے پھیلائے ہوئے خرافات پر کان نہ دھرا جائے جس کے پیچھے "حب علی کم، اور بغض معاویہ زیادہ " کا جلوہ کارفرما ہے.
امام نووی نے اپنی شرح المنھاج میں لکھا ہے کہ اس حدیث کو ظاہر سے پھیر کر تاویل کرنا واجب ہے تاکہ کسی صحابی کی طرف بدگمانی سے بچا جاسکے. پھر اس کے بعد کئ مفاہیم ایسے ذکر کیے ہیں کہ ان سے کسی بھی قسم کی گالی کا شائبہ نہیں ہوتا.
یہاں پر ایک اچھی تاویل یہ پیش کی گئی ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بس یہ پوچھا کہ سَبّ نہ کرنے کا کیا سبب ہے؟ ــــــــ کیا رکنا ورع اور ان کی جلالت شان کے پیش نظر ہے. تب تو اچھی بات ہے.
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :
قوله : ( إن معاوية قال لسعد بن أبي وقاص : ما منعك أن تسب أبا تراب ؟ ) ، قال العلماء : الأحاديث الواردة التي في ظاهرها دخل على صحابي يجب تأويلها ، قالوا : ولا يقع في روايات الثقات إلا ما يمكن تأويله ، فقول معاوية هذا ليس فيه تصريح بأنه أمر سعدا بسبه ، وإنما سأله عن السبب المانع له من السب ، كأنه يقول : هل امتنعت تورعا ، أو خوفا ، أو غير ذلك ، فإن كان تورعا وإجلالا له عن السب فأنت مصيب محسن ، وإن كان غير ذلك فله جواب آخر ، ولعل سعدا قد كان في طائفة يسبون فلم يسب معهم ، وعجز عن الإنكار ، وأنكر عليهم ، فسأله هذا السؤال ، قالوا : ويحتمل تأويلا آخر ، أن معناه : ما منعك أن تخطئه في رأيه واجتهاده ، وتظهر للناس حسن رأينا واجتهادنا ، وأنه أخطأ ؟ .
خلاصہ کلام یہ ہے کہ :
مسلم شریف کی پیش کردہ روایت سے بس یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سب سے بچنے کا سبب پوچھا ہے. سب پر اکسایا نہیں ہے. اس سے غلط معنی نکالنا بدباطن رافضیہ کا طریقہ ہے. امام نووی اور اہل سنت کے اکابر علما کی تعلیمات کے منافی ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی شان میں گستاخی کی جرأت کرنے والوں سے بچائے رکھے.واللہ تعالٰی اعلم
فیضان سرور مصباحی
10/ جنوری 2020 ء
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک مقرر صاحب جو شاید نیم رافضی ہیں، ایک روایت بیان کررہے تھے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو ابھارتے تھے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دیں ۔
کیا ایسی کوئی روایت ہے؟
سائل : محمد ساجد بھدوکی (بہار )
ــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــ الجواب : شاید مذکورہ خطیب نے اس روایت کو سامنے رکھ کر غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے :
أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ ؟
یہ روایت صحیح مسلم شریف میں موجود ہے. ـــــــ مگر
*یسب* کا ترجمہ جو معنی مشہور میں گالی دینا کیا گیا ہے. یہ غلط ہے. اس کے اور بھی کئی معانی آتے ہیں.
"دروس البلاغۃ من قواعد کتب اللغہ العربیۃ" ـــــ میں اس کا ایک معنی "عیب" بھی بتایا ہے. عربی شاعر سمؤل کا شعر ہے :
وإنا أناسا لانری القتل سبة
إذا ما رأته عامر وسلول
[ص: 193، ]
ترجمہ : اور بے شک ہم وہ قوم ہیں جو قتل وجنگ کو "عیب" نہیں سمجھتے. جب کہ قبیلہ عامر اور سلول کے لوگ اسے " عیب" گمان کرتے ہیں.
مقام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس قسم کی عبارتوں کی مناسب توجیہ کی جائے. اور بدباطن خبیث رافضیوں کے پھیلائے ہوئے خرافات پر کان نہ دھرا جائے جس کے پیچھے "حب علی کم، اور بغض معاویہ زیادہ " کا جلوہ کارفرما ہے.
امام نووی نے اپنی شرح المنھاج میں لکھا ہے کہ اس حدیث کو ظاہر سے پھیر کر تاویل کرنا واجب ہے تاکہ کسی صحابی کی طرف بدگمانی سے بچا جاسکے. پھر اس کے بعد کئ مفاہیم ایسے ذکر کیے ہیں کہ ان سے کسی بھی قسم کی گالی کا شائبہ نہیں ہوتا.
یہاں پر ایک اچھی تاویل یہ پیش کی گئی ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بس یہ پوچھا کہ سَبّ نہ کرنے کا کیا سبب ہے؟ ــــــــ کیا رکنا ورع اور ان کی جلالت شان کے پیش نظر ہے. تب تو اچھی بات ہے.
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :
قوله : ( إن معاوية قال لسعد بن أبي وقاص : ما منعك أن تسب أبا تراب ؟ ) ، قال العلماء : الأحاديث الواردة التي في ظاهرها دخل على صحابي يجب تأويلها ، قالوا : ولا يقع في روايات الثقات إلا ما يمكن تأويله ، فقول معاوية هذا ليس فيه تصريح بأنه أمر سعدا بسبه ، وإنما سأله عن السبب المانع له من السب ، كأنه يقول : هل امتنعت تورعا ، أو خوفا ، أو غير ذلك ، فإن كان تورعا وإجلالا له عن السب فأنت مصيب محسن ، وإن كان غير ذلك فله جواب آخر ، ولعل سعدا قد كان في طائفة يسبون فلم يسب معهم ، وعجز عن الإنكار ، وأنكر عليهم ، فسأله هذا السؤال ، قالوا : ويحتمل تأويلا آخر ، أن معناه : ما منعك أن تخطئه في رأيه واجتهاده ، وتظهر للناس حسن رأينا واجتهادنا ، وأنه أخطأ ؟ .
خلاصہ کلام یہ ہے کہ :
مسلم شریف کی پیش کردہ روایت سے بس یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سب سے بچنے کا سبب پوچھا ہے. سب پر اکسایا نہیں ہے. اس سے غلط معنی نکالنا بدباطن رافضیہ کا طریقہ ہے. امام نووی اور اہل سنت کے اکابر علما کی تعلیمات کے منافی ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی شان میں گستاخی کی جرأت کرنے والوں سے بچائے رکھے.واللہ تعالٰی اعلم
فیضان سرور مصباحی
10/ جنوری 2020 ء
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
امام احمد رضا کو دنیا بھر کے علوم اعلیٰ حضرت کو کتنے علوم و فنون مسلمانوں کی قبروں پر پاؤں رکھنا مزارات پر عورتوں کو حاضری دینا شعر : سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ امام احمد رضا امام اعظم ثانی ہیں مجدد کا ثبوت احادیث نبوی سے مجدد کی شناخت کیسے کی جائے بزرگان دین…
اعلیٰ حضرت محافظ مسلک حنفیت
اعلیٰ کی تمام تصانیف | خصوصیات
بالوں میں خضاب لگانا کیسا ہے ؟
کیا نکاح کے لئے مرد سیاہ خضاب
شعر : ان کی مہک نے دل کے غنچے
امام احمد رضا غیر مسلم ماہرین
کیا حسن حسین وسمہ کا خضاب
نا محرم عورتوں کا مشائخین بوسہ
ایام عرس میں ہونے والی خرافات
شعر : سر تا با قدم ہیں تن سلطان
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜 ⁶
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
اعلیٰ کی تمام تصانیف | خصوصیات
بالوں میں خضاب لگانا کیسا ہے ؟
کیا نکاح کے لئے مرد سیاہ خضاب
شعر : ان کی مہک نے دل کے غنچے
امام احمد رضا غیر مسلم ماہرین
کیا حسن حسین وسمہ کا خضاب
نا محرم عورتوں کا مشائخین بوسہ
ایام عرس میں ہونے والی خرافات
شعر : سر تا با قدم ہیں تن سلطان
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜 ⁶
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ¹² جِلدیں
📇 دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ
مکتبہ #رضا_اکیڈمی_ممبئ_الہند
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2685
فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
🌐 مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2241
فتاویٰ رضویه 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
ویب 🌐 اعلیٰ حضرت نیٹ ورک
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2304
فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ لوہاری دروازہ
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2339
📇 دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ
مکتبہ #رضا_اکیڈمی_ممبئ_الہند
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2685
فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
🌐 مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2241
فتاویٰ رضویه 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
ویب 🌐 اعلیٰ حضرت نیٹ ورک
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2304
فتاویٰ رضویہ 📖 مکمل ³⁰جِلدیں
📇 رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ لوہاری دروازہ
https://t.me/Kutube_Fataawaa/2339
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM