کھانے میں مِلائے گئے زہر کاعلاج آسان ہے ، کانوں میں گھولے گئے زہر کا علاج مشکل ۔
خدا توفیق دے تو لوگوں سے رس بھری باتیں کیا کریں ، زہر نہ اُگلا کریں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2969790893301080&id=100008105947430
خدا توفیق دے تو لوگوں سے رس بھری باتیں کیا کریں ، زہر نہ اُگلا کریں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2969790893301080&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*.....آخر انصاف اپنے انجام کو پہنچا !!*
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
سی بی آئی کی خصوصی کورٹ نے 30 ستمبر 2020 کو بابری مسجد انہدام کے جملہ "ملزمین" کو بری قرار دے دیا اس طرح 1949 سے شروع ہوا "عدالتی انصاف" اپنے انجام کو پہنچ گیا۔71 سال کے اس سفر میں بابری مسجد نے "انصاف" کے نئے نئے رنگ دیکھے۔1528ء میں تعمیر ہونے والی مسجد میں 1949 تک بلا ناغہ نمازیں ادا کی جاتی رہیں۔ برطانوی راج میں پہلی مرتبہ 1885 میں رگھبیر داس نامی شخص نے "سب جج" کی عدالت میں مسجد سے سو قدم کے فاصلے پر مندر کی اجازت مانگی جسے رد کردیا گیا۔ 1936 کے فرقہ وارانہ فساد میں بابری مسجد پر حملہ ہوا جس میں جزوی نقصان ہوا۔اس وقت ملک میں کانگریس کی عبوری حکومت تھی اور مرکزی اقتدار انگریزوں کے ہی پاس تھا۔ تاریخی طور پر یہ بات درست ہے کہ بابری مسجد پر تنازع انگریزوں نے ہی کھڑا کیا لیکن انہوں نے اپنے عہد میں مسجد کو نقصان نہیں ہونے دیا۔لیکن آزادی کے دو سال بعد ہی دسمبر 1949 کو رات کے اندھیرے میں مسجد میں مورتیاں رکھ دی گئیں۔صبح شور مچا دیا گیا کہ بھگوان "پرکٹ" ہوئے ہیں۔
انصاف کا پہلا نمونہ اس وقت ظاہر ہوا جب ضلع انتظامیہ نے مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روک دیا جبکہ چار پجاریوں کے تقرر کے ساتھ ہندوؤں کو پوجا پاٹ کی اجازت دے دی گئی۔ اس طرح مسجد پر قبضے کی سرکاری کوششوں کا آغاز ہوا۔خدا جانے یہ کیسا انصاف تھا کہ صدیوں سے چلی آرہی نماز بند کردی گئی اور غیر قانونی طریقے سے رکھی گئی مورتی پر پوجا کی اجازت دے دی گئی۔
ضلع انتظامیہ کے جانب دارانہ رویے کے خلاف وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے یوپی وزیر اعلی کو خط لکھ کر مسجد کو مورتی سے پاک کرنے کا حکم جاری کیا لیکن مجسٹریٹ نے حکم ماننے سے انکار کردیا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک مجسٹریٹ وزیر اعظم کا حکم ماننے سے انکار کردے؟آخر وہ کون سا سہارا تھا جس کے بوتے مجسٹریٹ وزیر اعظم کے خلاف کھڑا تھا؟
حکم کی خلاف ورزی پر اس کے خلاف کوئی کاروائی کس لیے نہیں کی گئی؟
مسلمان انصاف کی آس میں در بدر پھرتے رہے لیکن مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ 31 جنوری 1986 میں ضلع جج ایم کے پانڈے کی عدالت میں بابری مسجد کا تالا کھولنے اور پوجا کی عام اجازت کا مطالبہ کیا گیا۔ جج صاحب کی "منصف مزاجی" کی داد دینا ہوگی کہ ایک دن کی سنوائی میں ہی انہوں نے تالا کھولنے اور پوجا کی عام اجازت دینے کا حکم جاری کردیا۔ اس حکم نامے کے پس پشت راجیو گاندھی کی منشا شامل تھی۔ تالا کھلنے کے تیسرے سال 1989 میں وزیر اعظم راجیو گاندھی نے رام مندر کا شلانیاس (سنگ بنیاد) کرایا۔ اس سے قبل راجیو گاندھی کے کہنے پر ہی "راماین" نامی ٹی وی ڈرامہ شروع کرایا گیا جس نے عوامی ذہن کو رام مندر تعمیر کے لیے برانگیختہ کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد شدت پسندوں کا جنون بڑھتا گیا اسی جنون کا اثر تھا کہ31 اکتوبر اور 2 نومبر 1990 کو جنونی ہندوؤں کی بھیڑ نے مسجد پر حملہ کیا۔حفاظتی دستوں کی فائرنگ میں چند شرپسند ہلاک بھی ہوئے۔اسی اتفاقی حادثے نے ملائم سنگھ یادو کو مسلمانوں کا مسیحا بنا دیا اور آج تک ان کا کنبہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھا رہا ہے۔
___ مسجد کے وجود پر خطرات بڑھتے جارہے تھے لیکن سیاسی پارٹیاں اور حکومتی ادارے اپنی ہی چال میں مست تھے۔ کوئی مسجد گرانے کے نام پر کامیاب تھا تو کوئی بچانے کے نام پر، ناکام صرف مسلمان تھے جن سے نہ صرف عبادت کا حق چھین لیا گیا تھا بلکہ ان کی نگاہوں کے سامنے مسجد کے مقدس منبر پر مورتی رکھ کر پوجا کی جارہی تھی۔ چالیس سال سے انصاف کی امید لگائے مسلمان اس وقت سہم گئے جب بی جے پی رہنما ایل کے اڈوانی نے "سوم ناتھ سے اجودھیا" کے لیے رتھ یاترا کا اعلان کیا۔ملکی حالات انتہائی کشیدہ اور خطرناک موڑ پر تھے لیکن حکومت اور قانونی ادارے بالکل خاموش تھے۔ رتھ یاترا جہاں سے گزری قتل وغارت گری کی آگ لگاتی گئی۔ ہزاروں مسلمان شہید ہوئے۔دوسال تک قتل وخون کا بازار گرم کرنے کے بعد 1992 میں بابری مسجد پر "کار سیوا" کا اعلان کیا گیا جسے کچھ شرائط کے ساتھ سپریم کورٹ نے بھی منظوری دے دی۔ اس وقت یوپی میں بی جے پی اور مرکز میں کانگریس کی حکومت چل رہی تھی۔
'کار سیوا' ایک علامتی پوجا تھی جس میں "سرجو ندی" کے پانی سے مجوزہ مندر کے مقام کو دھونا شامل تھا۔ ایسے سخت ماحول میں کار سیوا کی اجازت سمجھ سے باہر تھی۔ لیکن "انصاف" مرکزی اور صوبائی حکومت کی یقین دہانیوں سے مطمئن تھا۔
'کار سیوا' کی اجازت ملتے ہی ملک بھر سے شدت پسندوں کے ٹولے اجودھیا کے لیے نکل پڑے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اجودھیا میں لاکھوں کار سیوکوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ حالات نہایت کشیدہ بن گئے تھے بابری مسجد بارود کے ڈھیر پر تھی،بی بی سی کے رپورٹر "رام دت ترپاٹھی" لکھتے ہیں:
"30 نومبر سے ہی اجودھیا کا ماحول گرم ہونے لگا تھا۔ کار سیوکوں نے وہاں کی مزاروں میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ ان حملہ آور کار سیوکوں کو مسجد کے پاس ہی ٹھہ
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
سی بی آئی کی خصوصی کورٹ نے 30 ستمبر 2020 کو بابری مسجد انہدام کے جملہ "ملزمین" کو بری قرار دے دیا اس طرح 1949 سے شروع ہوا "عدالتی انصاف" اپنے انجام کو پہنچ گیا۔71 سال کے اس سفر میں بابری مسجد نے "انصاف" کے نئے نئے رنگ دیکھے۔1528ء میں تعمیر ہونے والی مسجد میں 1949 تک بلا ناغہ نمازیں ادا کی جاتی رہیں۔ برطانوی راج میں پہلی مرتبہ 1885 میں رگھبیر داس نامی شخص نے "سب جج" کی عدالت میں مسجد سے سو قدم کے فاصلے پر مندر کی اجازت مانگی جسے رد کردیا گیا۔ 1936 کے فرقہ وارانہ فساد میں بابری مسجد پر حملہ ہوا جس میں جزوی نقصان ہوا۔اس وقت ملک میں کانگریس کی عبوری حکومت تھی اور مرکزی اقتدار انگریزوں کے ہی پاس تھا۔ تاریخی طور پر یہ بات درست ہے کہ بابری مسجد پر تنازع انگریزوں نے ہی کھڑا کیا لیکن انہوں نے اپنے عہد میں مسجد کو نقصان نہیں ہونے دیا۔لیکن آزادی کے دو سال بعد ہی دسمبر 1949 کو رات کے اندھیرے میں مسجد میں مورتیاں رکھ دی گئیں۔صبح شور مچا دیا گیا کہ بھگوان "پرکٹ" ہوئے ہیں۔
انصاف کا پہلا نمونہ اس وقت ظاہر ہوا جب ضلع انتظامیہ نے مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روک دیا جبکہ چار پجاریوں کے تقرر کے ساتھ ہندوؤں کو پوجا پاٹ کی اجازت دے دی گئی۔ اس طرح مسجد پر قبضے کی سرکاری کوششوں کا آغاز ہوا۔خدا جانے یہ کیسا انصاف تھا کہ صدیوں سے چلی آرہی نماز بند کردی گئی اور غیر قانونی طریقے سے رکھی گئی مورتی پر پوجا کی اجازت دے دی گئی۔
ضلع انتظامیہ کے جانب دارانہ رویے کے خلاف وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے یوپی وزیر اعلی کو خط لکھ کر مسجد کو مورتی سے پاک کرنے کا حکم جاری کیا لیکن مجسٹریٹ نے حکم ماننے سے انکار کردیا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک مجسٹریٹ وزیر اعظم کا حکم ماننے سے انکار کردے؟آخر وہ کون سا سہارا تھا جس کے بوتے مجسٹریٹ وزیر اعظم کے خلاف کھڑا تھا؟
حکم کی خلاف ورزی پر اس کے خلاف کوئی کاروائی کس لیے نہیں کی گئی؟
مسلمان انصاف کی آس میں در بدر پھرتے رہے لیکن مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ 31 جنوری 1986 میں ضلع جج ایم کے پانڈے کی عدالت میں بابری مسجد کا تالا کھولنے اور پوجا کی عام اجازت کا مطالبہ کیا گیا۔ جج صاحب کی "منصف مزاجی" کی داد دینا ہوگی کہ ایک دن کی سنوائی میں ہی انہوں نے تالا کھولنے اور پوجا کی عام اجازت دینے کا حکم جاری کردیا۔ اس حکم نامے کے پس پشت راجیو گاندھی کی منشا شامل تھی۔ تالا کھلنے کے تیسرے سال 1989 میں وزیر اعظم راجیو گاندھی نے رام مندر کا شلانیاس (سنگ بنیاد) کرایا۔ اس سے قبل راجیو گاندھی کے کہنے پر ہی "راماین" نامی ٹی وی ڈرامہ شروع کرایا گیا جس نے عوامی ذہن کو رام مندر تعمیر کے لیے برانگیختہ کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد شدت پسندوں کا جنون بڑھتا گیا اسی جنون کا اثر تھا کہ31 اکتوبر اور 2 نومبر 1990 کو جنونی ہندوؤں کی بھیڑ نے مسجد پر حملہ کیا۔حفاظتی دستوں کی فائرنگ میں چند شرپسند ہلاک بھی ہوئے۔اسی اتفاقی حادثے نے ملائم سنگھ یادو کو مسلمانوں کا مسیحا بنا دیا اور آج تک ان کا کنبہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھا رہا ہے۔
___ مسجد کے وجود پر خطرات بڑھتے جارہے تھے لیکن سیاسی پارٹیاں اور حکومتی ادارے اپنی ہی چال میں مست تھے۔ کوئی مسجد گرانے کے نام پر کامیاب تھا تو کوئی بچانے کے نام پر، ناکام صرف مسلمان تھے جن سے نہ صرف عبادت کا حق چھین لیا گیا تھا بلکہ ان کی نگاہوں کے سامنے مسجد کے مقدس منبر پر مورتی رکھ کر پوجا کی جارہی تھی۔ چالیس سال سے انصاف کی امید لگائے مسلمان اس وقت سہم گئے جب بی جے پی رہنما ایل کے اڈوانی نے "سوم ناتھ سے اجودھیا" کے لیے رتھ یاترا کا اعلان کیا۔ملکی حالات انتہائی کشیدہ اور خطرناک موڑ پر تھے لیکن حکومت اور قانونی ادارے بالکل خاموش تھے۔ رتھ یاترا جہاں سے گزری قتل وغارت گری کی آگ لگاتی گئی۔ ہزاروں مسلمان شہید ہوئے۔دوسال تک قتل وخون کا بازار گرم کرنے کے بعد 1992 میں بابری مسجد پر "کار سیوا" کا اعلان کیا گیا جسے کچھ شرائط کے ساتھ سپریم کورٹ نے بھی منظوری دے دی۔ اس وقت یوپی میں بی جے پی اور مرکز میں کانگریس کی حکومت چل رہی تھی۔
'کار سیوا' ایک علامتی پوجا تھی جس میں "سرجو ندی" کے پانی سے مجوزہ مندر کے مقام کو دھونا شامل تھا۔ ایسے سخت ماحول میں کار سیوا کی اجازت سمجھ سے باہر تھی۔ لیکن "انصاف" مرکزی اور صوبائی حکومت کی یقین دہانیوں سے مطمئن تھا۔
'کار سیوا' کی اجازت ملتے ہی ملک بھر سے شدت پسندوں کے ٹولے اجودھیا کے لیے نکل پڑے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اجودھیا میں لاکھوں کار سیوکوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ حالات نہایت کشیدہ بن گئے تھے بابری مسجد بارود کے ڈھیر پر تھی،بی بی سی کے رپورٹر "رام دت ترپاٹھی" لکھتے ہیں:
"30 نومبر سے ہی اجودھیا کا ماحول گرم ہونے لگا تھا۔ کار سیوکوں نے وہاں کی مزاروں میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ ان حملہ آور کار سیوکوں کو مسجد کے پاس ہی ٹھہ
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
رایا گیا تھا۔"
4 دسمبر کو شرپسندوں نے بابری مسجد انہدام کی ریہرسل بھی کی تھی تاکہ کم وقت میں جلد سے جلد مسجد شہید کی جاسکے۔یہ ریہرسل بی جے پی کے ایک ایم پی نے کرائی تھی۔ انڈین ایکس پریس کے فوٹو گرافر "پروین جین" بھیس بدل کر اس ریہرسل میں پہنچے تھے۔ کار سیوکوں کے ساتھ کئی نیتا بھی منہ ڈھک کر مسجد توڑنے کی ریہرسل میں شامل تھے۔ لبراہن کمیشن نے بھی مسجد توڑنے کی ریہرسل کی بات اپنی رپورٹ میں شامل کی تھی۔
6 دسمبر کی صبح جب 'کار سیوا' شروع ہوئی تو لوگوں کے ہاتھوں میں رسّیاں، کُدال، پھاوڑے اور بیلچے موجود تھے۔ اسٹیج پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈران موجود تھے۔ اشتعال انگیز تقریریں اور نعرے بازی ہورہی تھی۔ تقریباً 11 بجے کار سیوکوں نے مسجد پر چڑھائی کردی۔دو بجے کے آس پاس پہلا گنبد شہید ہوا۔ گنبد گرتے ہی بی جے پی لیڈر اوما بھارتی مارے خوشی کے مرلی منوہر جوشی کے کندھوں پر چڑھ گئی تھی۔ ایک طرف مسجد پر حملے ہورہے تھے، دوسری جانب ایس پی فیض آباد چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔بعد میں یہی ایس پی، بی جے پی کا ایم پی بھی منتخب ہوا۔کہنے کو CRPF کی 200 کمپنیاں حفاظت کو تعینات تھیں۔مسجد شہید ہوتی رہی لیکن ساری فورس حکم کے انتظار میں بیٹھی رہی۔ شام پانچ بجے تک سارے گنبد گرا دئے گئے۔رات گئے تک سارے ملبے کو برابر کرکے ٹینٹ لگا کر مورتی نصب کی اور عارضی مندر بنا دیا گیا۔بابری مسجد کے ساتھ اجودھیا کی تقریباً 28/30 مسجدوں اور 300 سے زائد مکانوں پر حملہ کیا گیا لیکن افسران "سب کچھ کنٹرول میں ہے" کی رپورٹ کر رہے تھے۔سارے کام ہوجانے کے بعد اگلے دن CRPF نے کنٹرول سنبھالا اور کار سیوک اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔بعد میں وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے مسجد کی تعمیر کا بھروسہ دلایا لیکن جب بنی ہوئی مسجد ہی شہید کردی گئی تو شہید مسجد کے بننے کا یقین سوائے کانگریسی مسلمانوں کے، کسی کو نہیں تھا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ آخرکار 9 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے ثبوت نہ ہونے کے باوجود محض "آستھا" کی بنیاد اور اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے رام مندر کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ غنیمت یہ رہی کہ چیف جسٹس نے کچھ باتیں بہت واضح انداز میں صاف کردیں:
1- بابری مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر نہیں کی گئی تھی۔
2- 1949 میں مسلمانوں کو غیر قانونی طریقے پر نماز پڑھنے سے روکا گیا تھا۔
3-بابری مسجد کا انہدام سپریم کورٹ کی خلاف ورزی اور سخت مجرمانہ عمل تھا۔
*انصاف کے نئے نئے رنگ*
بابری مسجد کے ساتھ قانون وانصاف کی آنکھ مچولی 1949 سے شروع ہوئی۔ آنکھ مچولی کا یہ سلسلہ 2019 تک جاری رہا۔ اس درمیان کانگریس/سوشلسٹ/کمیونل نظریات کی حامل پارٹیاں مرکز اور یوپی میں حکمراں رہیں۔ سبھی پارٹیوں میں ایک بات کامن تھی کہ "رام مندر بنانا ہے" بس بنانے کے طور طریقوں اور منصوبہ بندی میں فرق تھا۔اسی لیے 71 سالہ دور میں "انصاف" کے الگ الگ رنگ نظر آئے:
_ 421 سال سے جس مسجد میں نماز چلی آرہی تھی وہاں ایک مورتی رکھ دینے سے نماز بند اور پوجا شروع کرا دی گئی۔
_1949 تا 2019 مورتی رکھے جانے کو "غیر قانونی" قرار دیا جاتا رہا لیکن مورتی نہیں ہٹائی گئی۔
_مسلمان لگاتار نماز کی اجازت مانگتے رہے لیکن محروم رہے جبکہ ہندو فریق کی درخواست پر تالا کھول کر پوجا کی عام اجازت مل گئی۔
_معاملہ کورٹ میں ہونے کے باوجود نومبر 1989 میں شلانیاس (سنگ بنیاد) بھی کرایا گیا۔
_اڈوانی کی رتھ یاترا اور اس کے نتیجے میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے باوجود 1992 میں 'کار سیوا' کی اجازت دی گئی۔
_لاکھوں کار سیوکوں کو مسجد کے پاس ٹھہرا کر انہیں مشتعل کیا گیا لیکن حکومت وانتظامیہ تماشائی بنے رہے۔
_کار سیوکوں کے ہاتھوں کے پھاوڑے، بیلچے کُدال کسی نظر نہ آئے۔ اجودھیا کے مقابر ومساجد اور مسلم بستیوں پر حملے بھی کسی کو نظر نہ آئے۔
_6 دسمبر کو بابری مسجد کو دن کے اجالے میں شہید کیا گیا، سیکڑوں لوگ عینی شاہد تھے۔ دنیا نے دیکھا مگر "انصاف" کو ثبوت نہیں ملے۔مسجد گرنے کی خوشی میں اوما بھارتی کو مرلی منوہر جوشی کے کندھوں پر چڑھتے زمانے نے دیکھا مگر "انصاف" کی آنکھوں پر پڑی پٹی نے کچھ دیکھنے نہ دیا۔
___بابری کے قاتل آج بھی کھلے عام بابری مسجد انہدام قبول کر رہے ہیں لیکن "انصاف" کے کان ایسی آوازوں کو سننے سے بے نیاز ہوچکے ہیں۔
رام مندر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے چیف جسٹس گوگوئی نے انہدام بابری کو "مجرمانہ عمل" قرار دیا تھا اب یہ معمہ کون سلجھائے کہ جس مسجد کا انہدام مجرمانہ عمل تھا تو اس کے ملزمین کس لیے بری کیے گئے ہیں؟
13 صفرالمظفر 1442ھ
یکم اکتوبر 2020 بروز جمعرات
4 دسمبر کو شرپسندوں نے بابری مسجد انہدام کی ریہرسل بھی کی تھی تاکہ کم وقت میں جلد سے جلد مسجد شہید کی جاسکے۔یہ ریہرسل بی جے پی کے ایک ایم پی نے کرائی تھی۔ انڈین ایکس پریس کے فوٹو گرافر "پروین جین" بھیس بدل کر اس ریہرسل میں پہنچے تھے۔ کار سیوکوں کے ساتھ کئی نیتا بھی منہ ڈھک کر مسجد توڑنے کی ریہرسل میں شامل تھے۔ لبراہن کمیشن نے بھی مسجد توڑنے کی ریہرسل کی بات اپنی رپورٹ میں شامل کی تھی۔
6 دسمبر کی صبح جب 'کار سیوا' شروع ہوئی تو لوگوں کے ہاتھوں میں رسّیاں، کُدال، پھاوڑے اور بیلچے موجود تھے۔ اسٹیج پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈران موجود تھے۔ اشتعال انگیز تقریریں اور نعرے بازی ہورہی تھی۔ تقریباً 11 بجے کار سیوکوں نے مسجد پر چڑھائی کردی۔دو بجے کے آس پاس پہلا گنبد شہید ہوا۔ گنبد گرتے ہی بی جے پی لیڈر اوما بھارتی مارے خوشی کے مرلی منوہر جوشی کے کندھوں پر چڑھ گئی تھی۔ ایک طرف مسجد پر حملے ہورہے تھے، دوسری جانب ایس پی فیض آباد چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔بعد میں یہی ایس پی، بی جے پی کا ایم پی بھی منتخب ہوا۔کہنے کو CRPF کی 200 کمپنیاں حفاظت کو تعینات تھیں۔مسجد شہید ہوتی رہی لیکن ساری فورس حکم کے انتظار میں بیٹھی رہی۔ شام پانچ بجے تک سارے گنبد گرا دئے گئے۔رات گئے تک سارے ملبے کو برابر کرکے ٹینٹ لگا کر مورتی نصب کی اور عارضی مندر بنا دیا گیا۔بابری مسجد کے ساتھ اجودھیا کی تقریباً 28/30 مسجدوں اور 300 سے زائد مکانوں پر حملہ کیا گیا لیکن افسران "سب کچھ کنٹرول میں ہے" کی رپورٹ کر رہے تھے۔سارے کام ہوجانے کے بعد اگلے دن CRPF نے کنٹرول سنبھالا اور کار سیوک اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔بعد میں وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے مسجد کی تعمیر کا بھروسہ دلایا لیکن جب بنی ہوئی مسجد ہی شہید کردی گئی تو شہید مسجد کے بننے کا یقین سوائے کانگریسی مسلمانوں کے، کسی کو نہیں تھا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ آخرکار 9 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے ثبوت نہ ہونے کے باوجود محض "آستھا" کی بنیاد اور اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے رام مندر کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ غنیمت یہ رہی کہ چیف جسٹس نے کچھ باتیں بہت واضح انداز میں صاف کردیں:
1- بابری مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر نہیں کی گئی تھی۔
2- 1949 میں مسلمانوں کو غیر قانونی طریقے پر نماز پڑھنے سے روکا گیا تھا۔
3-بابری مسجد کا انہدام سپریم کورٹ کی خلاف ورزی اور سخت مجرمانہ عمل تھا۔
*انصاف کے نئے نئے رنگ*
بابری مسجد کے ساتھ قانون وانصاف کی آنکھ مچولی 1949 سے شروع ہوئی۔ آنکھ مچولی کا یہ سلسلہ 2019 تک جاری رہا۔ اس درمیان کانگریس/سوشلسٹ/کمیونل نظریات کی حامل پارٹیاں مرکز اور یوپی میں حکمراں رہیں۔ سبھی پارٹیوں میں ایک بات کامن تھی کہ "رام مندر بنانا ہے" بس بنانے کے طور طریقوں اور منصوبہ بندی میں فرق تھا۔اسی لیے 71 سالہ دور میں "انصاف" کے الگ الگ رنگ نظر آئے:
_ 421 سال سے جس مسجد میں نماز چلی آرہی تھی وہاں ایک مورتی رکھ دینے سے نماز بند اور پوجا شروع کرا دی گئی۔
_1949 تا 2019 مورتی رکھے جانے کو "غیر قانونی" قرار دیا جاتا رہا لیکن مورتی نہیں ہٹائی گئی۔
_مسلمان لگاتار نماز کی اجازت مانگتے رہے لیکن محروم رہے جبکہ ہندو فریق کی درخواست پر تالا کھول کر پوجا کی عام اجازت مل گئی۔
_معاملہ کورٹ میں ہونے کے باوجود نومبر 1989 میں شلانیاس (سنگ بنیاد) بھی کرایا گیا۔
_اڈوانی کی رتھ یاترا اور اس کے نتیجے میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے باوجود 1992 میں 'کار سیوا' کی اجازت دی گئی۔
_لاکھوں کار سیوکوں کو مسجد کے پاس ٹھہرا کر انہیں مشتعل کیا گیا لیکن حکومت وانتظامیہ تماشائی بنے رہے۔
_کار سیوکوں کے ہاتھوں کے پھاوڑے، بیلچے کُدال کسی نظر نہ آئے۔ اجودھیا کے مقابر ومساجد اور مسلم بستیوں پر حملے بھی کسی کو نظر نہ آئے۔
_6 دسمبر کو بابری مسجد کو دن کے اجالے میں شہید کیا گیا، سیکڑوں لوگ عینی شاہد تھے۔ دنیا نے دیکھا مگر "انصاف" کو ثبوت نہیں ملے۔مسجد گرنے کی خوشی میں اوما بھارتی کو مرلی منوہر جوشی کے کندھوں پر چڑھتے زمانے نے دیکھا مگر "انصاف" کی آنکھوں پر پڑی پٹی نے کچھ دیکھنے نہ دیا۔
___بابری کے قاتل آج بھی کھلے عام بابری مسجد انہدام قبول کر رہے ہیں لیکن "انصاف" کے کان ایسی آوازوں کو سننے سے بے نیاز ہوچکے ہیں۔
رام مندر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے چیف جسٹس گوگوئی نے انہدام بابری کو "مجرمانہ عمل" قرار دیا تھا اب یہ معمہ کون سلجھائے کہ جس مسجد کا انہدام مجرمانہ عمل تھا تو اس کے ملزمین کس لیے بری کیے گئے ہیں؟
13 صفرالمظفر 1442ھ
یکم اکتوبر 2020 بروز جمعرات
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3280536382063770&id=100003223204679
*ڈاکٹر شمس مصباحی: اصاغر نواز، معارف پرور شخصیت !!*
ممبئی میں منعقدہ "اعزازیہ تقریب" کے خطاب کا خلاصہ
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
جنوری 2011 کے اوائل کی بات ہے جب میں صدرالافاضل کی صحافتی یادگار "ماہنامہ السوادالاعظم مرادآباد" کی احیا کے لیے پر تول رہا تھا۔ عمر 22/23 سال ،تجربہ صفر مگر ارادے پختہ تھے۔ انہیں دنوں دہلی میں اہل سنت کے ایک مشہور صاحب قلم کی آمد ہوئی، فقیر ان سے مشاورت ومعاونت کے لیے ملنے چلا گیا۔ لیکن آنجناب کی "تجرباتی عنایتیں" اس قدر ہوئیں کہ طبیعت برداشت نہ کرسکی۔ بمشکل جذبات کو قابو کیا اور اجازت لیکر واپس آگیا۔ پھر ایک "مہربان" کی امید وفا پر ممبئی کا سفر کیا لیکن:
جہاں سے چلے واپس وہیں پر پہنچے
حاصل سفر، یادگار اسلاف مفتی محمد شعبان علی نعیمی حبابی رحمہ اللہ سے ملاقات تھی۔آپ نے بڑی شفقت ومحبت سے نوازا اور رسالہ کے تعلق سے مشاورت کے لیے امیر القلم ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی صاحب کا نام سُجھایا۔ڈاکٹر شمس مصباحی رضویات پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ رضویات پر جتنی وسیع نگاہ ان کی ہے معاصرین میں ایسی مثالیں کمیاب ہیں۔آپ کی کتاب "پرواز خیال" کے ذریعے قدرے غائبانہ تعارف تھا، مفتی صاحب کی ایما پر عازم ملاقات ہوا۔ فون پر رابطہ کرتے ہوئے آپ کی جائے مسکن "میرا روڈ" پہنچا۔ شمس مسجد کے بغل میں ہی آپ کی "مملکت قرطاس وقلم" آباد تھی۔
میں نوعمر لڑکا پہلے ہی کئی مشہور افراد سے مل کر ذہنی کوفت اٹھا چکا تھا، ڈر تھا کہ وہی تجربہ یہاں بھی نہ ہوجائے؟ڈر کے باوجود سعادت لوح وقلم پروفیسر مسعود احمد علیہ الرحمہ کی وہ تقدیمی تحریر بھروسہ دلاتی تھی جسے انہوں نے "پرواز خیال" پر تحریر فرمایا تھا کہ:
"ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی عربی وفارسی اور علوم وفنون کے فاضل ہیں... عمر چونتیس سال ہے... مگر کام ماشاء اللہ عمر سے بہت زیادہ ہیں... بہت سی ڈگریاں ہیں *مگر غرور علم سے پاک ہیں*"
جیسا پروفیسر مسعود صاحب نے لکھا ملاقات پر آپ کو اس سے سِوا ہی پایا۔ اونچا لمبا قد، چوڑی پیشانی، آنکھوں میں گہرائی، اور لبوں پر پان کی ہلکی سی سرخی شخصیت میں چار چاند لگاتی ہے۔ انتہائی اپنائیت کے ساتھ خیر مقدم کیا، شاندار ضیافت فرمائی اور دیر تک محو گفتگو رہے۔ رسالہ کا خاکہ دیکھا، کچھ اہم کالمز شامل کرائے اور اپنی علمی جدوجہد کی داستان سنا کر دل پر چھائی ہوئی اداسی اور پژمردگی کو دور کیا۔ کسی سابقہ تعارف کے بغیر ایک نوعمر سے اس قدر اپنائیت سے پیش آنا ان کی اصاغر نوازی اور حسن اخلاق کی نشانی ہے۔
دہلی واپس آکر بکھری ہوئی ہمت کو سمیٹا اور تین ماہ کے بعد ہی "السوادالاعظم مرادآباد" سہ ماہی سواد اعظم دہلی کی شکل میں فلک صحافت پر ضیابار ہوا۔
____ نومبر 2011 میں ایک بار پھر ممبئی کا سفر ہوا، اس بار ڈاکٹر شمس مصباحی کی خدمت میں بطور ہدیہ "سہ ماہی سواد اعظم دہلی" کا پہلا شمارہ پیش کیا۔ رسالہ دیکھتے ہی آنکھوں میں چمک اور لبوں پر مسکراہٹ تیر گئی، مبارک باد دی اور بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ اسی وقت قلم برداشتہ ایک تحریر لکھی جو سواد اعظم دہلی کے دوسرے شمارے میں شائع ہوئی تھی، آپ نے لکھا تھا:
"آج 29 نومبر 2011 ہے۔ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی صاحب تشریف لائے ہیں۔سہ ماہی سواد اعظم دہلی ہمراہ لائے ہیں۔کچھ مہینے قبل بھی آپ آئے تھے، ایک علمی تحفہ "اسلامی نظریات" دے گئے تھے۔اس کتاب کے مصنف بھی وہ خود ہی ہیں۔اس وقت انہوں نے "سواد اعظم" کا تخیل پیش کیا تھا۔مگر یہ اس وقت محض تخیل تھا۔آج جو تشریف لائے ہیں تو سواد اعظم سہ ماہی کی صورت میں سامنے موجود ہے۔آفریں ہے اس ہے جرأت رندانہ اور ہمت مردانہ پر!"
وقت پر لگا کر اڑتا رہا، یہاں تک کہ تقریباً آٹھ نو سال کے بعد وہ لمحہ بھی آیا کہ 6 ستمبر 2020 کو "مرکز برکات رضا ٹرسٹ" مِیرَا روڈ ممبئی میں ایک اعزازیہ تقریب منعقد ہوئی۔ جہاں فقیر کے علاوہ نبیرہ صدرالشریعہ مفتی فیضان المصطفیٰ قادری صاحب، گھوسی، محترم قمر غنی عثمانی صاحب(صدر TFI) کو بھی اعزازیہ دیا گیا۔اس ٹرسٹ کے روح رواں آپ ہی ہیں۔یہ ایک تعلیمی ورفاہی ادارہ ہے۔جس کے تحت دینی وعصری طلبہ کو تعلیمی وظائف اور نادار ومساکین افراد کو راشن فراہم کیا جاتا ہے۔ ضرورت مند مریضوں کو ادویات اور غریب بچیوں کی شادیوں میں بھی ٹرسٹ تعاون کرتا ہے۔
____آٹھ نو برس قبل جس نوجوان نے ڈاکٹر شمس مصباحی سے آگے بڑھنے کا حوصلہ پایا تھا آج اسی کو موصوف نے "اعتراف خدمات" کے نام سے "ہدیہ سپاس" پیش کیا اور اہل علم کے درمیان اعزازیہ دے کر نئی نسل کی حوصلہ افزائی کا اہم کارنامہ انجام دیا۔ڈاکٹر صاحب نے جب اس تقریب کے بارے میں اطلاع دی تو میں نے عرض کیا تھا حضرت! ابھی تو محنت کے دن ہیں ابھی سے اعزاز و اوارڈ کی کیا ضرورت؟
آپ نے جواباً فرمایا:صحیح وقت پر نسل نو کی ہمت افزائی کرنا بزرگوں کا وتیرہ رہا ہے تاکہ وہ قومی قیادت کا
*ڈاکٹر شمس مصباحی: اصاغر نواز، معارف پرور شخصیت !!*
ممبئی میں منعقدہ "اعزازیہ تقریب" کے خطاب کا خلاصہ
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
جنوری 2011 کے اوائل کی بات ہے جب میں صدرالافاضل کی صحافتی یادگار "ماہنامہ السوادالاعظم مرادآباد" کی احیا کے لیے پر تول رہا تھا۔ عمر 22/23 سال ،تجربہ صفر مگر ارادے پختہ تھے۔ انہیں دنوں دہلی میں اہل سنت کے ایک مشہور صاحب قلم کی آمد ہوئی، فقیر ان سے مشاورت ومعاونت کے لیے ملنے چلا گیا۔ لیکن آنجناب کی "تجرباتی عنایتیں" اس قدر ہوئیں کہ طبیعت برداشت نہ کرسکی۔ بمشکل جذبات کو قابو کیا اور اجازت لیکر واپس آگیا۔ پھر ایک "مہربان" کی امید وفا پر ممبئی کا سفر کیا لیکن:
جہاں سے چلے واپس وہیں پر پہنچے
حاصل سفر، یادگار اسلاف مفتی محمد شعبان علی نعیمی حبابی رحمہ اللہ سے ملاقات تھی۔آپ نے بڑی شفقت ومحبت سے نوازا اور رسالہ کے تعلق سے مشاورت کے لیے امیر القلم ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی صاحب کا نام سُجھایا۔ڈاکٹر شمس مصباحی رضویات پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ رضویات پر جتنی وسیع نگاہ ان کی ہے معاصرین میں ایسی مثالیں کمیاب ہیں۔آپ کی کتاب "پرواز خیال" کے ذریعے قدرے غائبانہ تعارف تھا، مفتی صاحب کی ایما پر عازم ملاقات ہوا۔ فون پر رابطہ کرتے ہوئے آپ کی جائے مسکن "میرا روڈ" پہنچا۔ شمس مسجد کے بغل میں ہی آپ کی "مملکت قرطاس وقلم" آباد تھی۔
میں نوعمر لڑکا پہلے ہی کئی مشہور افراد سے مل کر ذہنی کوفت اٹھا چکا تھا، ڈر تھا کہ وہی تجربہ یہاں بھی نہ ہوجائے؟ڈر کے باوجود سعادت لوح وقلم پروفیسر مسعود احمد علیہ الرحمہ کی وہ تقدیمی تحریر بھروسہ دلاتی تھی جسے انہوں نے "پرواز خیال" پر تحریر فرمایا تھا کہ:
"ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی عربی وفارسی اور علوم وفنون کے فاضل ہیں... عمر چونتیس سال ہے... مگر کام ماشاء اللہ عمر سے بہت زیادہ ہیں... بہت سی ڈگریاں ہیں *مگر غرور علم سے پاک ہیں*"
جیسا پروفیسر مسعود صاحب نے لکھا ملاقات پر آپ کو اس سے سِوا ہی پایا۔ اونچا لمبا قد، چوڑی پیشانی، آنکھوں میں گہرائی، اور لبوں پر پان کی ہلکی سی سرخی شخصیت میں چار چاند لگاتی ہے۔ انتہائی اپنائیت کے ساتھ خیر مقدم کیا، شاندار ضیافت فرمائی اور دیر تک محو گفتگو رہے۔ رسالہ کا خاکہ دیکھا، کچھ اہم کالمز شامل کرائے اور اپنی علمی جدوجہد کی داستان سنا کر دل پر چھائی ہوئی اداسی اور پژمردگی کو دور کیا۔ کسی سابقہ تعارف کے بغیر ایک نوعمر سے اس قدر اپنائیت سے پیش آنا ان کی اصاغر نوازی اور حسن اخلاق کی نشانی ہے۔
دہلی واپس آکر بکھری ہوئی ہمت کو سمیٹا اور تین ماہ کے بعد ہی "السوادالاعظم مرادآباد" سہ ماہی سواد اعظم دہلی کی شکل میں فلک صحافت پر ضیابار ہوا۔
____ نومبر 2011 میں ایک بار پھر ممبئی کا سفر ہوا، اس بار ڈاکٹر شمس مصباحی کی خدمت میں بطور ہدیہ "سہ ماہی سواد اعظم دہلی" کا پہلا شمارہ پیش کیا۔ رسالہ دیکھتے ہی آنکھوں میں چمک اور لبوں پر مسکراہٹ تیر گئی، مبارک باد دی اور بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ اسی وقت قلم برداشتہ ایک تحریر لکھی جو سواد اعظم دہلی کے دوسرے شمارے میں شائع ہوئی تھی، آپ نے لکھا تھا:
"آج 29 نومبر 2011 ہے۔ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی صاحب تشریف لائے ہیں۔سہ ماہی سواد اعظم دہلی ہمراہ لائے ہیں۔کچھ مہینے قبل بھی آپ آئے تھے، ایک علمی تحفہ "اسلامی نظریات" دے گئے تھے۔اس کتاب کے مصنف بھی وہ خود ہی ہیں۔اس وقت انہوں نے "سواد اعظم" کا تخیل پیش کیا تھا۔مگر یہ اس وقت محض تخیل تھا۔آج جو تشریف لائے ہیں تو سواد اعظم سہ ماہی کی صورت میں سامنے موجود ہے۔آفریں ہے اس ہے جرأت رندانہ اور ہمت مردانہ پر!"
وقت پر لگا کر اڑتا رہا، یہاں تک کہ تقریباً آٹھ نو سال کے بعد وہ لمحہ بھی آیا کہ 6 ستمبر 2020 کو "مرکز برکات رضا ٹرسٹ" مِیرَا روڈ ممبئی میں ایک اعزازیہ تقریب منعقد ہوئی۔ جہاں فقیر کے علاوہ نبیرہ صدرالشریعہ مفتی فیضان المصطفیٰ قادری صاحب، گھوسی، محترم قمر غنی عثمانی صاحب(صدر TFI) کو بھی اعزازیہ دیا گیا۔اس ٹرسٹ کے روح رواں آپ ہی ہیں۔یہ ایک تعلیمی ورفاہی ادارہ ہے۔جس کے تحت دینی وعصری طلبہ کو تعلیمی وظائف اور نادار ومساکین افراد کو راشن فراہم کیا جاتا ہے۔ ضرورت مند مریضوں کو ادویات اور غریب بچیوں کی شادیوں میں بھی ٹرسٹ تعاون کرتا ہے۔
____آٹھ نو برس قبل جس نوجوان نے ڈاکٹر شمس مصباحی سے آگے بڑھنے کا حوصلہ پایا تھا آج اسی کو موصوف نے "اعتراف خدمات" کے نام سے "ہدیہ سپاس" پیش کیا اور اہل علم کے درمیان اعزازیہ دے کر نئی نسل کی حوصلہ افزائی کا اہم کارنامہ انجام دیا۔ڈاکٹر صاحب نے جب اس تقریب کے بارے میں اطلاع دی تو میں نے عرض کیا تھا حضرت! ابھی تو محنت کے دن ہیں ابھی سے اعزاز و اوارڈ کی کیا ضرورت؟
آپ نے جواباً فرمایا:صحیح وقت پر نسل نو کی ہمت افزائی کرنا بزرگوں کا وتیرہ رہا ہے تاکہ وہ قومی قیادت کا
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
بار مکمل طور اٹھا سکیں !!
__ فقیر نے پروفیسر مسعود صاحب کو نہیں دیکھا لیکن ان کی تحریرات اور ان کی محفل کے حاضر باشوں سے جتنا سنا مجھے ان کی خوبیاں ڈاکٹر شمس مصباحی میں نظر آتی ہیں۔ جس طرح پروفیسر مسعود صاحب نئی صلاحیتوں کی قدر دانی فرماتے تھے اسی طرح آج ڈاکٹر شمس مصباحی بھی نوجوان علما کی علمی معاونت کرتے ہیں۔علمی مجلسوں میں ان کی خدمات کا تعارف کراتے ہیں اور نہایت فراخ دلی کے ساتھ اعتراف خدمات بھی کرتے ہیں۔
پچھلے دنوں 29 فروری 2020 کو کٹک (اڑیسہ) میں منعقدہ *مجاہد ملت سیمینار* میں آپ نے حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ ودیگر اکابرین کے درمیان نہایت فراخ دلی کے ساتھ برادرم مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی، مولانا ریاضت حسین ازہری رسول پور اڑیسہ، اور راقم الحروف سمیت کئی نوجوان علما کی دینی،علمی اور تحریری خدمات کا بھرپور تذکرہ فرمایا۔آج کے دور قحط الرجال میں جہاں کوئی ہمت افزائی کے دو بول کہنے تیار نہیں،وہاں ڈاکٹر شمس مصباحی نسل نو کی علمی معاونت اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔
پروفیسر مسعود احمد صاحب کی مصاحبت کے وقت ڈاکٹر صاحب 22/23 سال کے جوان تھے آج ڈاکٹر صاحب کے دو سعادت مند بیٹے ان کے کاندھوں کو چھونے کی منزل میں ہیں لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ ہی آپ کا علم واخلاق مزید جوان ہوتا جارہا ہے۔ آج ہماری جماعت کو ایسے ہی مخلص افراد کی ضرورت ہے جو اپنے ہاتھوں سے نسل نو کو سنوار سکیں، انہیں تراش کر ہیرا بنا سکیں۔ صلاحیتوں کی نہ کل کمی تھی نہ آج، بس ضرورت مخلص معماروں کی ہے جو اپنے علم وتجربہ کے چاک میں صلاحیتوں کو اچھی طرح ڈھال کر انہیں مفید وکارآمد بنا سکیں۔
9 صفر المظفر 1442ھ
27 ستمبر 2020 بروز اتوار
__ فقیر نے پروفیسر مسعود صاحب کو نہیں دیکھا لیکن ان کی تحریرات اور ان کی محفل کے حاضر باشوں سے جتنا سنا مجھے ان کی خوبیاں ڈاکٹر شمس مصباحی میں نظر آتی ہیں۔ جس طرح پروفیسر مسعود صاحب نئی صلاحیتوں کی قدر دانی فرماتے تھے اسی طرح آج ڈاکٹر شمس مصباحی بھی نوجوان علما کی علمی معاونت کرتے ہیں۔علمی مجلسوں میں ان کی خدمات کا تعارف کراتے ہیں اور نہایت فراخ دلی کے ساتھ اعتراف خدمات بھی کرتے ہیں۔
پچھلے دنوں 29 فروری 2020 کو کٹک (اڑیسہ) میں منعقدہ *مجاہد ملت سیمینار* میں آپ نے حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری مدظلہ ودیگر اکابرین کے درمیان نہایت فراخ دلی کے ساتھ برادرم مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی، مولانا ریاضت حسین ازہری رسول پور اڑیسہ، اور راقم الحروف سمیت کئی نوجوان علما کی دینی،علمی اور تحریری خدمات کا بھرپور تذکرہ فرمایا۔آج کے دور قحط الرجال میں جہاں کوئی ہمت افزائی کے دو بول کہنے تیار نہیں،وہاں ڈاکٹر شمس مصباحی نسل نو کی علمی معاونت اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔
پروفیسر مسعود احمد صاحب کی مصاحبت کے وقت ڈاکٹر صاحب 22/23 سال کے جوان تھے آج ڈاکٹر صاحب کے دو سعادت مند بیٹے ان کے کاندھوں کو چھونے کی منزل میں ہیں لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ ہی آپ کا علم واخلاق مزید جوان ہوتا جارہا ہے۔ آج ہماری جماعت کو ایسے ہی مخلص افراد کی ضرورت ہے جو اپنے ہاتھوں سے نسل نو کو سنوار سکیں، انہیں تراش کر ہیرا بنا سکیں۔ صلاحیتوں کی نہ کل کمی تھی نہ آج، بس ضرورت مخلص معماروں کی ہے جو اپنے علم وتجربہ کے چاک میں صلاحیتوں کو اچھی طرح ڈھال کر انہیں مفید وکارآمد بنا سکیں۔
9 صفر المظفر 1442ھ
27 ستمبر 2020 بروز اتوار
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اَلْحَمْدُلِلّٰہ راقم کی مرتبہ کتاب
اسلام میں پردہ کی اہمیت 📖
شائع ہوکرآگئی ہے.صفحات:719
ناشرکاپتہ:اکبربک سیلرز,زبیدہ سنٹر,اردوبازار,لاہور
رابطہ نمبر:03008852283
اسلام میں پردہ کی اہمیت 📖
شائع ہوکرآگئی ہے.صفحات:719
ناشرکاپتہ:اکبربک سیلرز,زبیدہ سنٹر,اردوبازار,لاہور
رابطہ نمبر:03008852283
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فتاویٰ رضویہ کا علمی مقام
مستقیم الفکر
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی علیہ الرحمۃ والرضوان (۱۲۷۲ھ۔۱۳۴۰ھ)کی بلند پایہ ،قابل قدر اور ہمہ جہت شخصیت نہ صرف برصغیر ہندوپاک بلکہ پورے عالم اسلام میں کسی تعارف وتبصرے کی محتاج نہیں ،آپ کی ذات بلا شبہہ برہان الٰہی ہے ،معجزۂ رسول ہے ،وہبی علوم وفنون کا ایک ایسا بحر ذخار ہے جس کی گہرائی ،وسعت اور گیرائی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ،حکمت ودانائی کا ایک بیش بہا خزانہ ہے جس کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی ،علم ومشاہدہ ،فقہ وتدبر کا ایسا عمیق سمندر ہے جس میں غوطہ لگانے والا ’’ہل من مزید ‘‘ کا نعرہ بلند کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایسے نادر ونایاب موتی لے کر نکلتا ہے جس سے آنکھیں خیرہ ہوتیں ،قلوب اذہان کو روشنی ملتی ،اہل اسلام کے ایمان وایقان کو جلا ملتی اور عقائدو اعمال کی تزئین کاری ہوتی ہے۔اللہ عز وجل نے آپ کو حرارت ایمانی ،استقامت علی الدین ،تصلب فی الدین اور عشق رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایسا وافر وبیش بہا خزانہ عطا فرمایا بلا شبہہ جو تائید ربانی اور خالص عطائے الٰہی کا مظہر اتم ہے ۔امام احمد رضا قدس سرہ نے تقریباً ۵۴ سال تک مسند افتا کو رونق بخشی ،ایک ہزار سے زائد کتب ورسائل تحریر فرمائے ،۵۵سے زیادہ علوم وفنون میں تبحر حاصل کیا ، ان گنت تحقیقات علمیہ وادبیہ پیش کیے ،بے شمار فتاویٰ لکھے اور اس قدر باریک بینی اور دقت نظر سے لا ینحل مسائل کا تصفیہ فرمایا کہ اپنے وقت کا بڑے سے بڑا تنقید نگار بھی قلم ہاتھ میں لیے سوچتا رہ گیا ،وقت کے مقتدر علما وفقہا نے جن چار شخصیات کے بارے میں متفقہ طور پر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قلم کو خطا سے محفوظ رکھا ہے امام احمد رضا کی ذات ان میں ایک ہے ۔آپ کے فتاویٰ کا خوب صورت مجموعہ ’’العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ ‘‘کے مبارک نام سے نہ صرف یہ کہ مشہور ہے بلکہ علماوفقہا ومفتیان کرام کے لیے ایک ضرورت ہے ،ہر کوئی ان کی اہمیت وافادیت تسلیم کرتا ہے ۔
انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سید عبدالرحمٰن بخاری لکھتے ہیں :
’’لوگ احمد رضا کو اپنے عہد کا مجدد کہتے ہیں اور میں اسے آنے والے ہر دور کے لیے اپنے رسول صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معجزہ سمجھتا ہوں۔ لوگ اسے فاضل بریلوی پکارتے ہیں اور میں اسے آیت الٰہی دیکھتا ہوں ۔لوگ اسے فقیہ وعالم ٹھہراتے ہیں اور میں اسے فہم دین میں ’’حجت ‘‘گردانتا ہوں ‘‘
(سہ ماہی افکار رضاممبئی شمارہ اپریل تا جون ۲۰۰۰ء ص۵۸)
امام احمد رضا کی آفاقی ذات پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ حنیف خان رضوی بریلوی (مرتب جامع الاحادیث)رقم طراز ہیں :
’’امام احمد رضا بلا شبہہ اپنے دور میں پوری دنیا کے لیے مرجع فتاویٰ تھے ۔ آپ کے دارالافتا میں بر اعظم ایشیا،افریقہ،یورپ اور امریکہ سے استفتا آتے تھے اور ایک وقت میں پانچ پانچ سو جمع ہو جاتے تھے اور سب کے جواب اسی شرح وبسط کے ساتھ مجتہدانہ شان سے دیے جاتے ،لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید سے سر مو انحراف نہیں ہوتا بلکہ اپنے مسلک حنفی پر شدت سے کار بند رہتے ،آپ کے فتاویٰ سے عوام وخواص ،علما وصلحا اور مفتیا ن دین متین وقاضیان عدالت سبھی مستفید ہوتے تھے اور آج بھی ہو رہے ہیں ،آپ کی اس شان فقاہت اور تبحر علمی سے متاثر ہو کر ہی علمائے عرب وعجم نے بالاتفاق چودہویں صدی کا مجدد تسلیم کیا اور علمائے حرمین شریفین زاد ہما شرفاً وتعظیماً تو کثیر تعداد میں آپ کے سامنے زانوے ادب طے کرتے نظر آئے ،آپ سے سندیں حاصل کیں ا‘‘ (مقدمہ فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص۷)
حافظ کتب حرم شریف مکہ حضرت علامہ سید اسماعیل خلیل مکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ آپ کی علمی تحقیقات اور فقہی جواہر پاروں کو دیکھ کر پکار اٹھے: (ترجمہ)’’میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اگر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان فتاویٰ کو دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور ان فتاویٰ کے مؤلف یعنی امام احمد رضا کو اپنے تلامذہ میں شامل کرلیتے‘‘(الاجازۃ المتنیۃ لعلماء بکۃ والمدینۃص۲۲ص)
تاج العلما اولاد رسول حضرت محمد میاں مارہروی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :’’اعلیٰ حضرت کو میں علامہ ابن عابدین شامی پر فوقیت دیتا ہوں ،کیوں کہ جو جامعیت اعلیٰ حضرت کے ہاں ہے وہ ابن عابدین شامی کے ہاں نہیں ‘‘(امام احمد رضا کی فقہی بصیرت ص۶۴)
فتاویٰ رضویہ کے علمی مقام اور جامعیت ،آپ کی شان فقاہت ،علمیت ،اور محققانہ قدرووقار کا آپ سے نظریاتی اختلاف رائے رکھنے والوں نے بھی اعتراف کیا ۔ماہ نامہ’’ معارف ‘‘اعظم گڑھ کا فتاویٰ رضویہ پر یہ تبصرہ پڑھئے اور عش عش کر اٹھئے ،لکھتا ہے :
’’مولانااحمد رضا خان صاحب مرحوم اپنے وقت کے زبر دست عالم ،مصنف اور فقیہ تھے ،انہوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں فقہی مسائل سے متعلق رسالے لکھے ہیں ،قرآن کا ایک سلیس ترجمہ بھی کیا ہے ۔ان علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ ہزار ہا فتووں کے جوابات بھی انہ
مستقیم الفکر
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی علیہ الرحمۃ والرضوان (۱۲۷۲ھ۔۱۳۴۰ھ)کی بلند پایہ ،قابل قدر اور ہمہ جہت شخصیت نہ صرف برصغیر ہندوپاک بلکہ پورے عالم اسلام میں کسی تعارف وتبصرے کی محتاج نہیں ،آپ کی ذات بلا شبہہ برہان الٰہی ہے ،معجزۂ رسول ہے ،وہبی علوم وفنون کا ایک ایسا بحر ذخار ہے جس کی گہرائی ،وسعت اور گیرائی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ،حکمت ودانائی کا ایک بیش بہا خزانہ ہے جس کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی ،علم ومشاہدہ ،فقہ وتدبر کا ایسا عمیق سمندر ہے جس میں غوطہ لگانے والا ’’ہل من مزید ‘‘ کا نعرہ بلند کرتا دکھائی دیتا ہے اور ایسے نادر ونایاب موتی لے کر نکلتا ہے جس سے آنکھیں خیرہ ہوتیں ،قلوب اذہان کو روشنی ملتی ،اہل اسلام کے ایمان وایقان کو جلا ملتی اور عقائدو اعمال کی تزئین کاری ہوتی ہے۔اللہ عز وجل نے آپ کو حرارت ایمانی ،استقامت علی الدین ،تصلب فی الدین اور عشق رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایسا وافر وبیش بہا خزانہ عطا فرمایا بلا شبہہ جو تائید ربانی اور خالص عطائے الٰہی کا مظہر اتم ہے ۔امام احمد رضا قدس سرہ نے تقریباً ۵۴ سال تک مسند افتا کو رونق بخشی ،ایک ہزار سے زائد کتب ورسائل تحریر فرمائے ،۵۵سے زیادہ علوم وفنون میں تبحر حاصل کیا ، ان گنت تحقیقات علمیہ وادبیہ پیش کیے ،بے شمار فتاویٰ لکھے اور اس قدر باریک بینی اور دقت نظر سے لا ینحل مسائل کا تصفیہ فرمایا کہ اپنے وقت کا بڑے سے بڑا تنقید نگار بھی قلم ہاتھ میں لیے سوچتا رہ گیا ،وقت کے مقتدر علما وفقہا نے جن چار شخصیات کے بارے میں متفقہ طور پر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قلم کو خطا سے محفوظ رکھا ہے امام احمد رضا کی ذات ان میں ایک ہے ۔آپ کے فتاویٰ کا خوب صورت مجموعہ ’’العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ ‘‘کے مبارک نام سے نہ صرف یہ کہ مشہور ہے بلکہ علماوفقہا ومفتیان کرام کے لیے ایک ضرورت ہے ،ہر کوئی ان کی اہمیت وافادیت تسلیم کرتا ہے ۔
انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سید عبدالرحمٰن بخاری لکھتے ہیں :
’’لوگ احمد رضا کو اپنے عہد کا مجدد کہتے ہیں اور میں اسے آنے والے ہر دور کے لیے اپنے رسول صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معجزہ سمجھتا ہوں۔ لوگ اسے فاضل بریلوی پکارتے ہیں اور میں اسے آیت الٰہی دیکھتا ہوں ۔لوگ اسے فقیہ وعالم ٹھہراتے ہیں اور میں اسے فہم دین میں ’’حجت ‘‘گردانتا ہوں ‘‘
(سہ ماہی افکار رضاممبئی شمارہ اپریل تا جون ۲۰۰۰ء ص۵۸)
امام احمد رضا کی آفاقی ذات پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ حنیف خان رضوی بریلوی (مرتب جامع الاحادیث)رقم طراز ہیں :
’’امام احمد رضا بلا شبہہ اپنے دور میں پوری دنیا کے لیے مرجع فتاویٰ تھے ۔ آپ کے دارالافتا میں بر اعظم ایشیا،افریقہ،یورپ اور امریکہ سے استفتا آتے تھے اور ایک وقت میں پانچ پانچ سو جمع ہو جاتے تھے اور سب کے جواب اسی شرح وبسط کے ساتھ مجتہدانہ شان سے دیے جاتے ،لیکن امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید سے سر مو انحراف نہیں ہوتا بلکہ اپنے مسلک حنفی پر شدت سے کار بند رہتے ،آپ کے فتاویٰ سے عوام وخواص ،علما وصلحا اور مفتیا ن دین متین وقاضیان عدالت سبھی مستفید ہوتے تھے اور آج بھی ہو رہے ہیں ،آپ کی اس شان فقاہت اور تبحر علمی سے متاثر ہو کر ہی علمائے عرب وعجم نے بالاتفاق چودہویں صدی کا مجدد تسلیم کیا اور علمائے حرمین شریفین زاد ہما شرفاً وتعظیماً تو کثیر تعداد میں آپ کے سامنے زانوے ادب طے کرتے نظر آئے ،آپ سے سندیں حاصل کیں ا‘‘ (مقدمہ فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص۷)
حافظ کتب حرم شریف مکہ حضرت علامہ سید اسماعیل خلیل مکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ آپ کی علمی تحقیقات اور فقہی جواہر پاروں کو دیکھ کر پکار اٹھے: (ترجمہ)’’میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اگر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان فتاویٰ کو دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور ان فتاویٰ کے مؤلف یعنی امام احمد رضا کو اپنے تلامذہ میں شامل کرلیتے‘‘(الاجازۃ المتنیۃ لعلماء بکۃ والمدینۃص۲۲ص)
تاج العلما اولاد رسول حضرت محمد میاں مارہروی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :’’اعلیٰ حضرت کو میں علامہ ابن عابدین شامی پر فوقیت دیتا ہوں ،کیوں کہ جو جامعیت اعلیٰ حضرت کے ہاں ہے وہ ابن عابدین شامی کے ہاں نہیں ‘‘(امام احمد رضا کی فقہی بصیرت ص۶۴)
فتاویٰ رضویہ کے علمی مقام اور جامعیت ،آپ کی شان فقاہت ،علمیت ،اور محققانہ قدرووقار کا آپ سے نظریاتی اختلاف رائے رکھنے والوں نے بھی اعتراف کیا ۔ماہ نامہ’’ معارف ‘‘اعظم گڑھ کا فتاویٰ رضویہ پر یہ تبصرہ پڑھئے اور عش عش کر اٹھئے ،لکھتا ہے :
’’مولانااحمد رضا خان صاحب مرحوم اپنے وقت کے زبر دست عالم ،مصنف اور فقیہ تھے ،انہوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں فقہی مسائل سے متعلق رسالے لکھے ہیں ،قرآن کا ایک سلیس ترجمہ بھی کیا ہے ۔ان علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ ہزار ہا فتووں کے جوابات بھی انہ
وں نے دیے ہیں ،ان کے بعض فتاوے کئی کئی صفحے کے ہیں ،فقہ اور حدیث پر ان کی نطر بڑی وسیع ہے دو جلدیں اس سے پہلے شائع ہو چکی ہیں ِاب تیسری جلد دارالاشاعت مبارک پور اعظم گڑھ نے شائع کی ہے ،اس جلد میں ۸۴۲ مسائل ہیں ابھی ان کے فتاوے کی آٹھ جلدیں اور باقی ہیں ان فتاویٰ میں بعض پیدا شدہ مسائل کے متعلق بھی فتوے ہیں جن کا جواب مولانا نے بڑی وسعت نظری سے دیا ہے ۔بہر حال مولانا کے مخصوص خیالات (مسئلہ تکفیر )سے قطع نظر ان کے فتاویٰ اس قابل ہیںکہ ان کا مطالعہ کیا جائے ،ان سے معلومات میں اضافہ ہوتا ہے‘‘ (معارف اعظم گڑھ فروری ۱۹۶۲ئ)
ہفت روزہ’’ شہاب‘‘ لاہور نے بھی برملا اس حقیقت کا اعتراف کیا ،ملاحظہ ہو:
’’مولانا غلام علی صاحب نائب مولانا مودودی صاحب نے مولانا احمد رضا خان صاحب کی کتابیں لے کر مطالعہ فرمائیں تو فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں ،ان کی بعض تصانیف اور فتاویٰ کے مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہونچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی وہ بہت کم علمامیں پائی جاتی ہے اور عشق خدا ورسول تو ان کی سطر سطر سے پھوٹا پڑتا ہے ۔مجھے تو ان سے سوائے مسئلہ تکفیر کے کسی مسئلہ میں کوئی خاص اختلاف نہیں ۔جتنے بھی اختلاف ہیں وہ بہت معمولی ہیں ،البتہ علمائے دیو بند کی تکفیر کے بارے میں انہوں نے تشدد برتا ہے ،یہ علاحدہ بات ہے کہ وہ ا س میں مخلص نظر آتے ہیں تا ہم ان کے نتیجے سے ہم متفق نہیں کہ ان کی عبارات کی کوئی قابل قبول تاویل نہیں۔ اگر چہ وہ عبارات قابل اعتراض ہیں مگر ان کی نیت پر شبہہ اور تکفیر پر اصرار زیادتی ہے۔ ( ہفت روزہ شہاب لاہور ۲۵؍نومبر ۱۹۶۲ئ)
فتاویٰ رضویہ کی ایک بہت بڑی خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ سولات کا جواب دینے میں سائل کی نفسیات کا بھر پور خیال ملحوظ رکھا گیا ہے ،قدرتی طور پر امام احمد رضا کو احساس ہوجاتا تھا کہ مستفتی کی اپنی علمی قابلیت ولیاقت کس معیار کی ہے ،اس کا تعلق عوام سے ہے یا خواص سے ؟تفصیلی جواب کا طالب ہے یا اجمالاً نفس جواب کا متمنی ہے ؟دوسری بات یہ کہ آپ کا اسلوب تحقیق بہت بلند ہے ،انداز تحریر بڑا دلکش ہے ،در حقیقت فتاویٰ رضویہ دلائل وبراہین ،شواہد ونظائر کا ایسا خوب صورت امتزاج ہے کہ قاری کے دل میں شک وشبہہ کی گنجائش یکسر ختم ہوجاتی ہے اور وہ مزید کسی دلیل کا متقاضی نہیں ہوتا ،اگر غیر جانب دار ہے ،عناد وعداوت سے پرے ہوکر ان کا مطالعہ کرتا ہے تو حق قبول کرنا اس کی مجبوری بن جاتی ہے ،اردو،عربی اور فارسی تین زبانوں میں موجود یہ فتاویٰ مسائل شرعیہ کا ایک عظیم شاہ کار ہیں ،علوم وفنون کا گراں قدر سرمایہ ہیں ،تحقیقات وتنقیحات کا حسین گل دستہ ہیں ،محققانہ جلال ،عالمانہ وفقیہانہ جمال کے آبدار موتیوں سے سجے دکھائی دیتے ہیںاور مجتہدانہ شان ٹپکتی ہے ۔ ؎
وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے
اگلوں نے تو لکھا ہے بہت علم دین پر ۔۔۔۔۔۔۔جو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا کا ہے
==================
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2825871821025460&id=100008080090753
ہفت روزہ’’ شہاب‘‘ لاہور نے بھی برملا اس حقیقت کا اعتراف کیا ،ملاحظہ ہو:
’’مولانا غلام علی صاحب نائب مولانا مودودی صاحب نے مولانا احمد رضا خان صاحب کی کتابیں لے کر مطالعہ فرمائیں تو فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں ،ان کی بعض تصانیف اور فتاویٰ کے مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہونچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی وہ بہت کم علمامیں پائی جاتی ہے اور عشق خدا ورسول تو ان کی سطر سطر سے پھوٹا پڑتا ہے ۔مجھے تو ان سے سوائے مسئلہ تکفیر کے کسی مسئلہ میں کوئی خاص اختلاف نہیں ۔جتنے بھی اختلاف ہیں وہ بہت معمولی ہیں ،البتہ علمائے دیو بند کی تکفیر کے بارے میں انہوں نے تشدد برتا ہے ،یہ علاحدہ بات ہے کہ وہ ا س میں مخلص نظر آتے ہیں تا ہم ان کے نتیجے سے ہم متفق نہیں کہ ان کی عبارات کی کوئی قابل قبول تاویل نہیں۔ اگر چہ وہ عبارات قابل اعتراض ہیں مگر ان کی نیت پر شبہہ اور تکفیر پر اصرار زیادتی ہے۔ ( ہفت روزہ شہاب لاہور ۲۵؍نومبر ۱۹۶۲ئ)
فتاویٰ رضویہ کی ایک بہت بڑی خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ سولات کا جواب دینے میں سائل کی نفسیات کا بھر پور خیال ملحوظ رکھا گیا ہے ،قدرتی طور پر امام احمد رضا کو احساس ہوجاتا تھا کہ مستفتی کی اپنی علمی قابلیت ولیاقت کس معیار کی ہے ،اس کا تعلق عوام سے ہے یا خواص سے ؟تفصیلی جواب کا طالب ہے یا اجمالاً نفس جواب کا متمنی ہے ؟دوسری بات یہ کہ آپ کا اسلوب تحقیق بہت بلند ہے ،انداز تحریر بڑا دلکش ہے ،در حقیقت فتاویٰ رضویہ دلائل وبراہین ،شواہد ونظائر کا ایسا خوب صورت امتزاج ہے کہ قاری کے دل میں شک وشبہہ کی گنجائش یکسر ختم ہوجاتی ہے اور وہ مزید کسی دلیل کا متقاضی نہیں ہوتا ،اگر غیر جانب دار ہے ،عناد وعداوت سے پرے ہوکر ان کا مطالعہ کرتا ہے تو حق قبول کرنا اس کی مجبوری بن جاتی ہے ،اردو،عربی اور فارسی تین زبانوں میں موجود یہ فتاویٰ مسائل شرعیہ کا ایک عظیم شاہ کار ہیں ،علوم وفنون کا گراں قدر سرمایہ ہیں ،تحقیقات وتنقیحات کا حسین گل دستہ ہیں ،محققانہ جلال ،عالمانہ وفقیہانہ جمال کے آبدار موتیوں سے سجے دکھائی دیتے ہیںاور مجتہدانہ شان ٹپکتی ہے ۔ ؎
وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے
اگلوں نے تو لکھا ہے بہت علم دین پر ۔۔۔۔۔۔۔جو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا کا ہے
==================
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2825871821025460&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
فتاویٰ رضویہ کے متعلق ³ PHD مقالے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2825871821025460&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2825871821025460&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM