🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ا رِوایَت فرماتی ہیں، حضرتِ سَیَّدُنا حَمزہ بِن عَمر و اَسلَمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہُت روزے رکھا کرتے تھے ۔اُنہوں نے تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، پیکرِ جُودو سخاوت ، سراپا رَحمت، محبوبِ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے دریافت کیا، سَفر میں روزہ رکھوں؟ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''چاہے رکھو،چاہے نہ رکھو۔''

📒(صحیح بُخاری ج۱ص۶۴۰حدیث۱۹۴۳)

📌حضرتِ سَیِّدُنا ابُو سَعِید خُدری رضی اللہ تعالیٰ عنہُ فرماتے ہیں،سَو لہویں رَمَضانُ الْمُبارَک کو سرورِ کائنات،شاہِ موجودات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہم جِہاد میں گئے،ہم میں بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا۔نہ تو روزہ داروں نے غَیر روزہ داروں پر عَیب لگایا اور نہ اِنہوں نے اُن پر۔

📙(صحیح مُسلم ص۵۶۴حدیث۱۱۱۶)

📌حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک کَعبِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ مَدینے کے تاجدار، غریبوں کے غمگُسارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ خوشگوار ہے: اللہ عزوجل نے مُسافِر سے آدھی نَماز مُعاف فرمادی ۔ (یعنی چار رَکْعَت والی فَرْض نَماز دو رَکْعَت پڑھے ) اور مُسافِر اور دُودھ پِلانے والی حامِلہ سے روزہ مُعاف فرمادیا۔ (کہ اجازت ہے اُس وَقْت نہ رکھیں بعد میں وہ مِقْدار پُوری کرلیں) حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک کَعبِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ مَدینے کے تاجدار، غریبوں کے غمگُسارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ خوشگوار ہے: اللہ عزوجل نے مُسافِر سے آدھی نَماز مُعاف فرمادی ۔ (یعنی چار رَکْعَت والی فَرْض نَماز دو رَکْعَت پڑھے ) اور مُسافِر اور دُودھ پِلانے والی حامِلہ سے روزہ مُعاف فرمادیا۔ (کہ اجازت ہے اُس وَقْت نہ رکھیں بعد میں وہ مِقْدار پُوری کرلیں)

📕(جامع تِرمذی ج۲ص ۱۷۰ حدیث ۷۱۵)
[02/06 3:30 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 8⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*

*''واہ کیا بات ہے ماہِ رمضان کی ''کے اکیس حُرُوف کی نسبت سے روزہ نہ توڑنے والی چیزوں کے متعلق 21 پَیرے*

👈🏿بُھول کر کھایا،پِیا یا جِماع کیا روزہ فاسِد نہ ہوا،خواہ وہ روزہ فَرض ہو یا نَفْل۔

📕(دُرِّمُخْتار ،رَدُّ المحتار ج۳ص۳۶۵)

📌کِسی روزہ دار کو اِن اَفعال میں دیکھیں تَو یاد دِلانا واجِب ہے۔ہاں اگر روزہ دار بَہُت ہی کمزور ہو کہ یاد دِلانے پر وہ کھانا چھوڑدے گا جس کی وجہ سے کمزوری اِتنی بڑھ جائے گی کہ اِس کیلئے روزہ رکھنا ہی دُشوار ہوجائے گااور اگر کھالے گا تَو روزہ بھی اچھّی طرح پُورا کرلے گا اور دیگر عِبادَتیں بھی بَخوبی اداکرسکے گا(اور چُونکہ بُھول کر کھاپی رہا ہے اِس لئے اِس کا روزہ تَو ہو ہی جائے گا) لہٰذا اِس صُورت میں یاد نہ دِلانا ہی بِہتر ہے۔ بَعْض مَشائخِ کِرام (رحِمَھُمُ اللہُ تعالیٰ)فرماتے ہیں:''جو ان کو دیکھے تو یاد دِلادے اور بُوڑھے کو دیکھے تَو یاد نہ دِلانے میں حَرَج نہیں۔''مگر یہ حُکم اکثر کے لِحاظ سے ہے کیونکہ جَوان اکثر قَوی (یعنی طاقتور ) ہوتے ہیں اور بوڑھے اکثر کمزور ۔چُنانچِہ اَصل حُکم یِہی ہے کہ جَوانی اور بڑھاپے کو کوئی دَخل نہیں،بلکہ قوّت وضُعف (یعنی طاقت اور کمزوری) کا لِحاظ ہے لہٰذا اگر جوان اِس قَدَر کمزور ہوتَو یاد نہ دِلانے میں حَرَج نہیں اور بوڑھا قَوی (یعنی طاقتور ) ہو تو یاد دِلانا واجِب ہے.

📘( رَدُّالْمُحتَارج۳ص۳۶۵)

👈🏿روزہ یاد ہونے کے باوُجود بھی مکھّی یا غُبار یا دُھواں حَلْق میں چلے جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔خواہ غُبار آٹے کا ہو جَو چَکّی پیسنے یا آٹا چھاننے میں اُڑتا ہے یاغَلّہ کا غُبار ہویا ہَوا سے خاک اُڑی یاجانور وں کے کُھر یا ٹاپ سے۔

📙(دُرِّمُخْتار رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۶۶)

👈🏿اسی طرح بس یا کا ر کا دُھواں یا اُن سے غُبار اُڑ کر حَلْق میں پَہُنچا اگر چِہ روزہ دار ہونایا د تھا،روزہ نہیں جائے گا۔
اگر بتّی سُلَگ رہی ہے اوراُس کا دُھواں ناک میں گیا تَو روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ ہاں اگر لُوبان یا اگر بتّی سُلگ رہی ہو اور روزہ یاد ہونے کے باوُجُود مُنہ قریب لے جاکر اُس کا دُھواں ناک سے کھینچا تَوروزہ فاسِد ہوجائیگا۔

📒(رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۶۶)

📘بھری سِینگی( یہ درد کے علاج کا ایک مخصوص طریقہ ہے جس میں سوراخ کیا ہوا سینگ درد کی جگہ رکھ کر منہ کے ذریعے جسم کی گرمی کھینچتے ہیں۔) لگوائی یا تیل یا سُرمہ لگایا تَو روزہ نہ گیا اگرچِہ تیل یا سُرمہ کا مزہ حَلْق میں محسوس ہوتا ہو بلکہ تُھوک میں سُرمہ کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہو جب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔

📕(الجَوْہَرَۃ النیرۃ ج۱ص۱۷۹)

👈🏿غُسُل کیا اور پانی کی خنکی (یعنی ٹھنڈک )اندر مَحسوس ہوئی جب بھی روزہ نہیں ٹوٹا۔

📙(عالمگیری ج۱ص۲۳۰)

👈🏿کُلّی کی اور پانی بِالکل پھینک دیا صِرف کچھ تَری مُنہ میں باقی رہ گئی تھی تُھوک کے ساتھ اِسے نِگل لیا،روزہ نہیں ٹوٹا۔

📒(رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۶۷)

👈🏿دوا کُو
ٹی اور حَلْق میں اِس کا مزہ محسُوس ہوا روز ہ نہیں ٹوٹا۔

📕(اَیْضاً)

👈🏿کان میں پانی چلاگیا جب بھی روزہ نہیں ٹوٹا۔بلکہ خود پانی ڈالا جب بھی نہ ٹوٹا۔

📕(دُرِّمُخْتار ج۳ص۳۶۷)

تِنکے سے کان کُھجایا اور اُس پر کان کا مَیل لگ گیا پھر وُہی مَیل لگاہُوا تِنکا کان میں ڈالا اگرچِہ چند بار ایسا کیا ہوجب بھی روزہ نہ ٹوٹا۔

📙(اَیضاً)

👈🏿دانت یا مُنہ میں خَفِیف (یعنی معمولی )چیز بے معلوم سی رہ گئی کہ لُعاب کےساتھ خود ہی اُترجائے گی اور وہ اُترگئی ،روزہ نہیں ٹوٹا۔

📘 (اَیْضاً)

👈🏿دانتوں سے خُون نِکل کر حَلْق تک پَہُنچا مگر حَلْق سے نیچے نہ اُترا تَو روزہ نہ گیا۔

📘(فتح القدیر ج۲ص۲۵۸)

📒 مَکھّی حَلْق میں چلی گئی روزہ نہ گیا اور قَصْداً (یعنی جا ن بو جھ کر) نِگلی تَو چلاگیا۔

📙(عالمگیری ج۱ص۲۰۳)

👈🏿بُھولے سے کھانا کھارہے تھے ،یا دآتے ہی لُقمہ پھینک دیا یا پانی پی رہے تھے یاد آتے ہی مُنہ کا پانی پھینک دیا تَو روزہ نہ گیا ۔اگر مُنہ میں کا لُقمہ یا پانی یادآنے کے باوُجُود نِگل گئے تو روزہ گیا۔

📕(اَیْضاً)

صُبحِ صادِق سے پہلے کھایا پی رہے تھے اور صُبح ہوتے ہی(یعنی سَحَری کا وَقتخَتْم ہوتے ہی)مُنہ میں کا سب کچھ اُگل دیا تَو روزہ نہ گیا،اور اگر نِگل لیا تو جاتا رہا۔

📒(عالمگیری ج۱ص۲۰۳)

👈🏿غِیبت کی تَو روزہ نہ گیا۔

📕(دُرِّمُخْتارج۳ص۳۶۲)

📌اگر چِہ غِیبت سَخت کبیرہ گُناہ ہے۔ قُرآنِ مجید میں غِیبت کرنے کی نِسْبت فرمایا،''جیسے اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا۔''اور حدیثِ پاک میں فرمایا، ''غِیبت زِنا سے بھی سخت تَر ہے۔''

📘(الترغیب والترہیب ج۳ص۳۳۱حدیث۲۴ )

📢غِیبت کی وجہ سے روزہ کی نورانیَّت جاتی رہتی ہے۔

📙(بہارِشریعت حصّہ ۵ص۶۱۱)

👈🏿جَنَابَت (یعنی غُسل فَرْ ض ہونے)کی حالت میں صُبح کی بلکہ اگرچِہ سارے دِن جُنُب (یعنی بے غُسل) رہا روزہ نہ گیا۔

📕(دُرِّمُخْتار ج ۳ ص ۳۷۲)

📌مگر اتنی دیر تک قَصْداً (یعنی جان بُوجھ کر)غُسل نہ کرنا کہ نَماز قَضاء ہوجائے گُناہ وحرام ہے۔حدیثِ شریف میں فرمایا،جس گھر میں جُنُب ہو اُس میں رَحمت کے فِرِشتے نہیں آتے۔''

📘(بہارِشریعت حصّہ ۵ ص۱۱۶)

👈🏿تِل یا تِل کے برابرکوئی چیز چَبائی اور تُھوک کے ساتھ حَلْق سے اُتر گئی تَو روزہ نہ گیا مگر جب کہ اُس کا مزہ حَلْق میں مَحسُوس ہوتا ہوتو روزہ جاتا رہا۔

📒(فتح القدیر ج۲ص۲۵۹)

👈🏿تُھوک یا بَلْغَم مُنہ میں آیا پھر اُسے نِگل گئے تَو روزہ نہ گیا۔

📙(رَدُّالْمُحتَارج۳ص۳۷۳)

👈🏿اِسی طرح ناک میں رِینٹھ جمع ہوگئی ،سانس کے ذَرِیعے کھینچ کر نِگل جانے سے بھی روزہ نہیں جاتا۔

📕(اَیْضاً)
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
[02/06 3:30 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 7⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*

*روزہ میں قَے ہونا*

بَعض اَوْقات جب روزہ میں قَے ہوجاتی ہے تَو لوگ پریشان ہوجاتے ہیں بلکہ بعض تَو سمجھتے ہیں کہ روزہ میں خُود بَخُود قَے ہوجانے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں۔
*چُنانچِہ سَیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حُضورِ پُرنور ،شافِعِ یومُ النُّشُورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ترجَمہ:جس کو ماہ ِ رَمَضان میں خود بخود قَے آئی اسکا روزہ نہ ٹوٹا اور جس نے جان بوجھ کر قَے کی اسکا روزہ ٹوٹ گیا۔*

📘(کنزالعُمّال ج۸ص۲۳۰حدیث۲۳۸۱۴)

🔘ایک اورمقام پر ارشاد فرمایا، *''جس کو خود بخود قَے آئی اس پر قضَاء نہیں اور جس نے جان بوجھ کر قَے کی وہ روزہ کی قضاء کرے۔*

📙(ترمذی ج۲ص۱۷۳حدیث۷۲۰)

💫 *''کرم یاربّ !'' کے سات حُرُوف کی نسبت سے قَے کے بارے میں 7 پَیرے* 💫

👈🏿 روزہ میں خود بخود کتنی ہی قَے (اُلٹی) ہوجائے(خواہ بالٹی ہی کیوں نہ بھر جائے)اِس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

📕(دُرِّمُختَار ج۳ص۳۹۲)

👈🏿اگر روزہ یاد ہونے کے باوُجُود قَصْداً (یعنی جان بُوجھ کر)قَے کی اور اگر وہ مُنہ بھر ہے (مُنہ بھر کی تعریف آگے آتی ہے)تَو اب روزہ ٹوٹ جائے گا۔

📒(دُرِّمُختَار ج۳ص۳۹۲)

👈🏿قَصْداً مُنہ بھر ہونے والی قَے سے بھی اِس صُورت میں روزہ ٹوٹے گا جبکہ قَے میں کھانا یا ( پانی )یا صَفْراء(یعنی کڑوا پانی ) یا خُون آئے۔

📕 (اَیْضاً )

👈🏿اگر قَے میں صِرف بَلْغَم نِکلا تَو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

📘(اَیْضاًص۳۹۴)

👈🏿قَصْداً قَے کی مگر تھوڑی سی آئی ،مُنہ بھر نہ آئی تَو اب بھی روزہ نہ ٹوٹا۔

📙(دُرِّمُختَار ج۳ص۳۹۳)

👈🏿مُنہ بھر سے کم قَے ہوئی اور مُنہ ہی سے دوبارہ لوٹ گئی یا خُود ہی لَوٹا دی ، ان دونوں صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

📒(اَیْضاً )

👈🏿مُنہ بھر قَے بِلا اِختِیار ہوگئی تَو روزہ تَو نہ ٹوٹاالبَتَّہ اگر اِس میں سے ایک چَنے کے برابر بھی واپَس لوٹا دی تَو روزہ ٹو ٹ جائے گا۔اور ایک چَنے سے کم ہو تَو روزہ نہ ٹوٹا۔

📘(دُرِّمُختَار ج۳ص۳۹۲)

📌 *منہ بھر قَے کی تعریف*

مُنہ بھر قَے کے مَعنٰی یہ ہیں،''اِسے بِلاتَکَلُّف نہ روکا جاسک
ے۔''

📕(عالمگیری ج۱ص۲۰۴)

📢 *ضروری ہدایت*

مُنہ بھرقَے(عِلاوہ بَلْغَم کے) ناپاک ہے۔اِس کا کوئی چھینٹا کپڑے یا جِسْم پر نہ گِرنے پائے اِس کی اِحتِیاط فرمائیے۔آج کل لوگ اِس میں بڑی بے اِحْتِیاطی کرتے ہیں،کپڑوں پر چھینٹے پڑنے کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور مُنہ وغیرہ پر جَوناپاک قَےلگ جاتی ہے اُس کو بھی بِلاجِھجک اپنے کپڑوں سے پُونچھ لیتے ہیں۔ اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ ہمیں نَجاست سے بچنے کا ذہن عنایت فرمائے۔

ٰاٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

📌 *بُھول کر کھانے پِینے سے روزہ نہیں جاتا*

حضرتِ سَیِّدُنا ابُوہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہے کہ سلطانِ دوجہان، شَہَنْشاہِ کون ومکان، رحمتِ عالمیان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں کہ جس روزہ دار نے بُھول کر کھایا پِیا وہ اپنے روزہ کو پُورا کرے کہ اُسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کھِلایا اور پِلایا

📘(صحیح بُخاری ج۱ص۶۳۶حدیث۱۹۳۳)
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*
[02/06 3:31 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 6⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*

*''صَدقے یا رسولَ اﷲ '' کے ۱۴ حُرُوف کی نسبت سے روزہ توڑنے والی باتوں کے 14 پَیرے*

👈🏿کھانے ،پینے یا ہَمبِستری کرنے سے روزہ جاتا رہتا ہے جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔

📘(رَدُّالْمُحتَار ج۳ ص۳۶۵)

👈🏿حُقَّہ،سِگار،سِگریٹ ،چُرَٹ وغیرہ پینے سے بھی روزہ جاتا رہتا ہے۔ اگرچِہ اپنے خَیال میں حَلق تک دُھواں نہ پہنچتا ہو۔

📕(بہارِ شریعت حصّہ پنجم ص۱۱۷)

👈🏿پان یا صِرف تمباکو کھانے سے بھی روزہ جاتا رہے گا اگر چِہ آپ بار بار اس کی پِیک تُھوکتے رہیں۔کیوں کہ حَلْق میں اُس کے باریک اَجْزاء ضَرور پہنچتے ہیں۔

📕( اَیضاً)

👈🏿شَکر وغیرہ ایسی چیزیں جو مُنہ میں رکھنے سے گُھل جاتی ہیں مُنہ میں رکھی اور تُھوک نِگل گئے روزہ جاتا رہا۔

📒( اَیضاً)

👈🏿دانتوں کے دَرمیان کوئی چیز چَنے کے برابر یا زیادہ تھی اُسے کھا گئے یا کم ہی تھی مگر مُنہ سے نِکال کر پھر کھا لی تَو روزہ ٹوٹ گیا۔

📙(دُرِّ مُخْتَار ج۳ص۳۹۴)

👈🏿دانتوں سے خُون نِکل کر حَلْق سے نِیچے اُترا اور خُون تُھوک سے زیادہ یا برابر یا کم تھا مگر اِس کا مزا حَلْق میں مَحسوس ہواتَوروزہ جاتا رہا اور اگر کم تھا اور مزہ بھی حَلْق میں مَحسوس نہ ہوا تو روزہ نہ گیا۔

📘(دُرِّمختَار ، رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۶۸)

👈🏿روزہ یاد رہنے کے باوُجُودحُقنَہ ۱؎ لیا۔یا ناک کے نَتھنوں سے دوائی چڑھائی روزہ جاتا رہا۔

📒(عالمگیری ج۱ ص۲۰۴)

👈🏿کُلّی کررہے تھے بِلا قَصدپانی حَلْق سے اُتر گیا یا ناک میں پانی چڑھایا اور دِماغ کو چڑ ھ گیا روزہ جاتا رہا مگرجبکہ روزہ دار ہونا بُھول گیا ہو تَو نہ ٹوٹے گااگرچِہ قَصداً ہو۔یُوں ہی روزے دار کی طرف کسی نے کوئی چیز پھینکی وہ اُس کے حَلْق میں چلی گئی توروزہ جاتا رہا۔

📕(الجوہرۃ النیرۃ ج۱ ص۱۷۸)

👈🏿سَوتے میں (یعنی نیند کی حالت میں ) پانی پی لیا یا کچھ کھالیا،یامُنہ کُھلا تھا،پانی کا قَطْرہ یا بارِش کا اَوْلا حَلْق میں چلاگیاتوروزہ جاتا رہا۔

📙(الجوہرۃ النیرۃ ج۱ ص۱۷۸)

👈🏿دُوسرے کا تُھوک نِگل لیا یا اپنا ہی تُھوک ہاتھ میں لے کر نِگل لیا تَو روزہ جاتا رہا۔

📘(عالمگیری ج۱ص ۲۰۳)

👈🏿جب تک تُھوک یا بَلْغَم مُنہ کے اندر موجُود ہواُسے نِگل جانے سے روزہ نہیں جاتا،بار بار تُھوکتے رہنا ضَروری نہیں۔
مُنہ میں رنگین ڈَورا وغیرہ رکھّاجس سے تُھوک رنگین ہوگیا پھر وُہی رنگین تُھوک نِگل گئے تَو روزہ جاتا رہا۔

📒(عالمگیری ج۱ص۲۰۳)

👈🏿آنسو مُنہ میں چلاگیا اور آپ اُسے نِگل گئے ۔اگر قَطْرہ دو قَطْرہ ہے تو روزہ نہ گیا اور زیادہ تھا کہ اُس کی نَمکینی پورے مُنہ میں مَحسوس ہوئی تَو جاتا رہا ۔ پسینہ کا بھی یِہی حُکم ہے۔

📕(عالمگیری ج۱ص۲۰۳)

👈🏿فُضلے کا مَقام باہَر نِکل آیا تَو حُکم یہ ہے کہ خُوب اچھّی طرح کسی کپڑے وغیرہ سے پُونچھ کر اُٹھیں تاکہ تَری باقی نہ رہے۔اگر کچھ پانی اُس پر باقی تھا اور کھڑے ہوگئے جِس کی وجہ سے پانی اندر چلاگیا تَو روزہ فاسِد ہو گیا ۔ اِسی وجہ سے فُقہائے کِرام رَحِمَھُمُ اللہُ تعالٰیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ دار اِسْتِنْجا ء کرنے میں سانس نہ ۔

📙(عالمگیری ج۱ص۲۰۴)
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
[02/06 3:33 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر: 2⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*
🔹 *روزہ کی نیت اور اور نیت کے متعلق مسائل*

*روزہ کی نیت*

روزہ کیلئے بھی اُسی طرح نِیَّت شَرط ہے جِس طرح کہ نَماز ، زکوٰۃ وغیرہ کے لئے ۔ لہٰذا ''بے نِیَّتِ روزہ اگر کوئی اِسلامی بھائی یا اسلامی بہن صُبحِ صادِق کے بعد سے لے کر غُروبِ آفتاب تک بالکل نہ کھائے پئے تب بھی اُس کا روزہ نہ ہوگا
📙 (رَدُّالْمُحتَار ج۳ ص۳۳۱)

📌 رَمَضان شریف کا روزہ ہو یا نَفْل یا نَذْرِ مُعَیّن کا روزہ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے کسی مَخصُوص دِن کے روزہ کی مَنّ
َت مانی ہو مَثَلاً خُود سُن سکے اتنی آواز سے یُوں کہا ہو کہ ''مجھ پراللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے اِس سال رَبِیْعُ النُّور شریف کی ہر پیرشریف کا روزہ ہے ۔تَو یہ نَذْرِمُعَیَّن ہے اور اِس مَنّت کا پُورا کرنا واجِب ہوگیا۔اِن تینوں قِسم کے روزوں کے لئے غُروبِ آفتاب کے بعد سے لیکر''نِصْفُ النَّہارِ شَرعی ''(اِسے ضَحوَہ کُبریٰ بھی کہتے ہیں ) سے پہلے پہلے تک جب بھی نِیَّت کرلیں روزہ ہوجائے گا۔

📒(رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۳۲)

*''مجھے ماہِ رَمَضان سے پیار ہے '' کے بیس حُرُوف کی نسبت سے روزہ کی نیّت کے 20مَدَنی پھول*

📌 ادائے روزہ رَمَضان اور نَذْرِ مُعَیَّن اور نَفْل کے روزوں کیلئے نِیَّت کا وَقت غُروبِ آفتاب کے بعد سے ضَحوَہ کُبْریٰ یعنی نِصفُ النَّہارِ شرعی سے پہلے پہلے تک ہے اِس پورے وَقت کے دَوران آپ جب بھی نِیَّت کرلیں گے یہ روزے ہوجائیں گے۔

📕(رَدُّالْمحتار ج۳ ص ۳۳۲ )

📌نِیَّت دِل کے اِرادے کا نام ہے زَبان سے کہنا شَرط نہیں،مگر زَبان سے کہہ لینا مُستَحَب ہے اگر رات میں روزہ رَمَضان کی نِیَّت کریں تَو یُوں کہیں: نَوَیتُ اَنْ اَصُوْ مَ غَدًا لِلّٰہِ تَعَالیٰ مِنْ فَرْضِ رَمَضان۔

ترجَمہ :میں نے نِیَّت کی کہ اللہ عَزَّوَجَل کے لئے اِس رَمَضان کا فَرض روزہ کل رکھوں گا ۔
اگر دن میں نِیَّت کریں تَو یُوں کہیں-:

نَوَیتُ اَنْ اَصُوْ مَ ھٰذاالْیومَ لِلّٰہِ تَعَالیٰ مِنْ فَرضِ رَمَضان ۔

ترجَمہ :میں نے نِیَّت کی کہ اللہ عَزَّوَجَل کے لئے اِس رَمَضان کا فَرض روزہ رکھوں گا۔

📙(رَدُّالْمحتار ج۳ ص ۳۳۲ )

📌عَرَبی میں نِیَّت کے کلِمات ادا کرنے اُسی وَقت نِیَّت شُمار کئے جائیں گے جبکہ اُن کے معنیٰ بھی آتے ہوں۔اور یہ بھی یاد رہے کہ زَبان سے نِیَّت کرنا خواہ کسی بھی زَبان میں ہواُسی وَقت کار آمد ہوگا جبکہ اُس وقت دِل میں بھی نِیَّت مَوجُود ہو۔ (اَیْضاً)
نِیَّت اپنی مادَری زَبان میں بھی کی جاسکتی ہے ۔مگر شَرط یِہی ہے کہ عَرَبی میں کریں خواہ کسی اور زَبان میں۔ نِیَّت کرتے وَقت دِل میں بھی اِرادہ مَوجُود ہو،وَرنہ بے خیالی میں صِرف زَبان سے رَٹے رَٹائے جملے ادا کرلینے سے نِیَّت نہ ہوگی۔ہاں اگر بِالفَرض زَبان سے رَٹی ہوئی نِیَّت کہہ لی مگر بعد میں نیّت کیلئے مقرّرہ وَقت کے اندر دِل میں بھی نِیَّت کرلی تَواب نِیَّت صحیح ہے۔

📕(رَدُّالْمحتار ج۳ ص ۳۳۲ )

📌اگر دِن میں نِیَّت کریں تَو ضَروری ہے کہ یہ نِیَّت کریں کہ میں صُبح سے روزہ دار ہوں ۔اگر اِس طرح نِیَّت کی کہ اب سے روزہ دار ہوں صُبح سے نہیں ،تَو روزہ نہ ہوا۔

📒( الجَوْہَرَۃُ النَّیِّرۃ ج۱ ص۱۷۵)

📌دِن میں وہ نِیَّت کام کی ہے کہ صُبحِ صادِق سے نِیَّت کرتے وَقت تک روزے کے خِلاف کوئی اَمْرنہ پایا گیا ہو۔البتَّہ اگرصُبحِ صادِق کے بعد بُھول کر کھاپی لیا یا جِماع کرلیا تب بھی نِیَّت صحیح ہوجائے گی۔کیوں کہ بُھول کر اگر کوئی ڈَٹ کربھی کھاپی لے تَو اِس سے روزہ نہیں جاتا۔

📘(مُلَخَّص از ردالمحتار ج۳ ص۳۶۷)

📌آپ نے اگر یُوں نِیَّت کی کہ ''کل کہیں دعوت ہوئی تَو روزہ نہیں اور نہ ہوئی تَو روزہ ہے''۔یہ نِیَّت صحیح نہیں۔بَہَرحال آپ روزہ دار نہ ہوئے۔

📙(عَالمگِیری ج۱ص۱۹۵)

📌ماہِ رَمَضان کے دِن میں نہ روزہ کی نِیَّت کی نہ ہی یہ کہ ''روزہ نہیں'' اگرچِہ معلوم ہے کہ یہ رَمَضانُ الْمبارَک کا مہینہ ہے تَو روزہ نہ ہوگا۔

📘(عَالمگِیری ج۱ص۱۹۵)

📌غُروبِ آفتاب کے بعد سے لیکر رات کے کسی وَقْت میں بھی نِیَّت کی پھر اِس کے بعد رات ہی میں کھایاپِیا تَو نِیَّت نہ ٹُوٹی ،وُہی پہلی ہی کافی ہے پھر سے نِیَّت کرنا ضَروری نہیں۔

📒(الجَوْہَرَۃُ النَّیرۃ ج۱ ص۱۷۵)

📌آپ نے اگر رات میں روزہ کی نِیَّت تَو کی مگر پھر راتوں رات پکاّ اِرادہ کرڈالا کہ ''روزہ نہیں رکھوں گا۔''تَو اب وہ آپ کی ،کی ہوئی نِیَّت جاتی رہی ۔اگر نئی نِیَّت نہ کی اور دِن بھر روزہ دار وں کی طرح بھوکے پیاسے رہے تب بھی روزہ نہ ہوا۔

📒(درمُختار مع ردّالمُحتار ج۳ص۳۴۵)

📌دَورانِ نَماز کلام (بات چیت) کی نِیَّت تَو کی مگر بات نہیں کی تَو نَماز فاسِد نہ ہوگی۔اِسی طرح روزے کے دَوران توڑنے کی صِرف نِیَّت کر لینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا جب تک توڑنے والی کوئی چیز نہ کرے ۔

📕(الجَوْہَرَۃُ النَّیَّرۃ ج۱ ص۱۷۵)

📌یعنی صِرف یہ نِیَّت کرلی بس اب میں روزہ توڑ ڈالتا ہوں تو اسطرح اُ س وَقت تک روزہ نہیں ٹوٹے گا جب تک حَلْق کے نیچے کوئی چیز نہ اُتاریں گے یا کوئی ایسافِعل نہ کر گزریں گے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہو۔
سَحَریکھانا بھی نِیَّت ہی ہے۔خواہ ماہِ رَمَضان کے روزے کیلئے ہو یا کسی اور روزے کیلئے مگر جب سَحَری کھاتے وَقت یہ اِرادہ ہے کہ صُبح کو روزہ نہ رکھوں گا تَو یہ سَحَری کھانا نِیَّت نہیں۔

📙(الجَوْہَرَۃُ النَّیَّرۃ ج۱ ص ۱۷۶)

📌رَمَضانُ الْمبارَک کے ہر روزے کے لئے نئی نِیَّت ضَروری ہے ۔ پہلی تاریخ یا کسی بھی اور تاریخ میں اگر پوُرے ماہِ رَمَضان کے روزے کی نِیَّت کر بھی لی تَو یہ ن
ِیَّت صِرف اُسی ایک دن کے حق میں ہے ،باقی دِنوں کیلئے نہیں۔

📕(ایضاً ص۱۶۷)

📌ادائے رَمَضان اور نَذْرِ مُعَیَّن اور نَفْل کے عِلاوہ باقی روزے مَثَلاً قضائے رَمَضان اور نَذْر ِ غیرمُعَیَّن اور نَفْل کی قَضاء (یعنی نَفْلی روزہ رکھ کر توڑ دیا تھا اُس کی قضائ)اور نَذْرِ مُعَیَّن کی قَضاء اور کَفَّارے کا روزہ اور تَمَتُّع ۱؎کا روزہ اِن سب میں عَین صُبح چمکتے وَقت یا رات میں نِیَّت کرنا ضَروری ہے اور یہ بھی ضَروری ہے کہ جو روزہ رکھنا ہے خاص اُسی مَخصُوص روزے کی نِیَّت کریں۔اگر اِن روزوں کی نِیَّت دِن میں (یعنی صُبحِ صادِق سے لیکر ضَحوہ کُبریٰ سے پہلے پہلے)کی تَو نَفل ہوئے پھر بھی اِن کا پُورا کرنا ضَروری ہے ۔توڑیں گے تو قَضاء واجِب ہوگی۔اگر چِہ یہ بات آپ کے عِلْم میں ہو کہ میں جو روزہ رکھنا چاہتا تھا یہ وہ روزہ نہیں ہے بلکہ نَفْل ہی ہے۔

📒(دُرِّمُختَار مَعَہ، رَدُّالْمُحتَار ج۳ ص۳۴۴)

📌آپ نے یہ گُمان کرکے روزہ رکھا کہ میرے ذِمّے روزے کی قَضاء ہے،اب رکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ گُمان غَلَط تھا۔اگر فوراًتوڑدیں تو کوئی حَرَج نہیں ۔البتّہ بِہتریِہی ہے کہ پُورا کرلیں۔اگر معلوم ہونے کے فوراً بعد نہ توڑا تو اب لازِم ہوگیااسے نہیں توڑسکتے اگر توڑیں گے تَو قَضاء واجِب ہے.

📘(رَدُّالْمُحتَارج۳ص۳۴۶)

📌رات میں آپ نے قَضا ء روزے کی نِیَّت کی، اگر اب صُبح شُروع ہو جانے کے بعداسے نَفْل کرنا چاہتے ہیں تو نہیں کرسکتے ۔

📙(ایضاً ص ۳۴۵ )

📌دَورانِ نَماز بھی اگر روزے کی نِیَّت کی تو یہ نِیَّت صحیح ہے۔

📕(دُرِّمُختَار، رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۴۵)

📌کئی روزے قَضاء ہوں تَو نِیَّت میں یہ ہونا چاہیے کہ اُس رَمَضان کے پہلے روزے کی قَضاء ،دوسرے کی قَضاء اور اگر کچھ اِس سال کے قَضاء ہوگئے کچھ پچھلے سال کے باقی ہیں تَو یہ نِیَّت ہونی چاہئے کہ اِس رَمَضان کی قضاء اور اُس رَمَضان کی قضاء اور اگر دِن کو مُعَیَّن نہ کیا، جب بھی ہوجائیں گے۔

📘(عالمگیری ج۱ص۱۹۶)

📌معَاذَاللہ عَزَّوَجَلّ َآپ نے رَمَضان کا روزہ قَصداً (یعنی جان بُوجھ کر ) توڑ ڈالا تھا تَو آپ پر اِس روزہ کی قَضاء بھی ہے اور (اگر کَفَّارے کی شرائط پائی گئیں تو) ساٹھ روزے کفَّارے کے بھی ۔اب آپ نے اِکسٹھ روزے رکھ لئے قَضاء کا دِن مُعَیَّن نہ کیا تو اِس میں قَضاء اور کفَّارہ دونوں ادا ہوگئے ۔

📙(عَالَمگِیری ج۱ ص۱۹۶)
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
[02/06 3:33 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 3⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*

*کیا روزے کے لیے سحری شرط ہے؟*

کسی کو یہ غَلط فہمی نہ ہو جائے کہ سَحَری روزہ کیلئے شَرط ہے ۔ایسا نہیں سَحَری کے بِغیر بھی روزہ ہوسکتا ہے۔مگر جان بُوجھ کر سَحَری نہ کرنا مُناسِب نہیں کہ ایک عظیم سُنَّت سے مَحروی ہے او ریہ بھی یاد رہے کہ سَحَری میں خُوب ڈَٹ کر کھانا ہی ضَروری نہیں۔ چندکَھجوریں اور پانی ہی اگر بہ نِیّتِ سَحَری استِعمال کرلیں جب بھی کافی ہے بلکہ کَھجور اورپانی سے تَو سَحَری کرنا سُنَّت بھی ہے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بِن مالِک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ مدینہ، سُرورِ قَلبُ وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سَحَری کے وَقت مجھ سے فرماتے : *''میرا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے مجھے کچھ کھِلاؤ۔ تو میں کچھ کَھجُوریں اور ایک برتن میں پانی پیش کرتا۔ ''*

📙(السُّنَنُ الکُبریٰ لِلنَّسائی ج۲ ص۸۰حدیث۲۴۷۷)

📌 *سَحری کا وقت کب ہوتا ہے؟*

عَرَبی کی مشہُور کتابِ لُغت ''قامُوس'' میں ہے کہ سَحَر اُس کھانے کو کہتے ہیں جو صُبح کے وَقت کھایا جائے ۔ '' حنفیوں کے زبردست پیشوا حضرتِ علاّمہ مولیٰنا علی بن سلطان محمد المعروف مُلاّ علی قاری عَلَیہِ رَحمۃُ الْباری فرماتے ہیں، ''بعضوں کے نزدیک سَحَری کا وَقت آدھی رات سے شُروع ہوجاتا ہے۔''

📘(مرقاۃالمفاتیح شرح مشکوٰۃالمصابیح ج۴ ص۴۷۷)

📌 سَحَری میں تاخِیر اَفضل ہے جیسا کہ حدیثِ مُبارَک میں آتاہے کہ حضرتِ سَیِدُّنا یَعْلیٰ بن مُرَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ پیارے سرکار،مدینے کے تاجدارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: *''تین چیزوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ مَحبوب رکھتا ہے*
(ا)اِفطار میں جلدی اور (۲)سَحَری میں تاخِیر اور (۳)نَماز (کے قِیام ) میں ہاتھ پر ہاتھ رکھنا۔''

📒(اَلتَّرْغِیب وَالتَّرھِیب ج۲ص۹۱حدیث۴)

👈🏿 *سحر ی میں تاخیر سے کون سا وقت مراد ہے؟*

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سَحَری میں تاخِیر کرنا مُسْتَحَب ہے اور دیر سے سَحَری کرنے میں زیادہ ثواب مِلتا ہے۔مگر اتنی تاخیر بھی نہ کی جائے کہ صبحِ صادق کا شُبہ ہونے لگے! یہاں ذِہن میں یہ سُوال پیدا ہوتا ہے کہ ''تاخِیر '' سے مُراد کونسا وَقت ہے؟
مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان ''تفسیر نعیمی''میں فرماتے ہیں کہ اِس سے مُراد رات کا چھٹا حِصّہ ہے ۔پھر سُوال ذِہن میں اُبھرا کہ رات کا چَھٹا حِصّہ کیسے معلوم کیا
جائے؟
اِس کا جواب یہ ہے کہ غُروبِ آفتاب سے لیکر صُبح صادِق تک رات کہلاتی ہے ۔مَثَلاً کسی دِن سات بجے شام کو سُورج غُروب ہوا اورپھر چار بجے صُبحِ صادِق ہوئی۔اِس طرح غروبِ آفتاب سے لیکر صُبحِ صادِق تک جو نو گھنٹے کا وَقفہ گُزرا وہ رات کہلایا۔اب رات کے اِ ن نو گھنٹوں کے برابر برابر چھ حِصّے کر دیجئے ۔ہر حِصّہ ڈیڑھ گھنٹے کا ہوا اب رات کے آخِری ڈیڑھ گھنٹے (یعنی اڑھائی بجے تا چار بجے ) کے دوران صُبحِ صادِق سے پہلے پہلے جب بھی سَحَری کی ، وہ تاخیر سے کرنا ہوا ۔ سَحَری واِفطَار کا وَقت عُمُوماً روزانہ تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔بیان کئے ہوئے طریقے کے مطابِق جب بھی چاہیں رات کا چھٹا حصّہ نِکال سکتے ہیں اگر رات سَحَری کر لی اور روزہ کی نِیَّت بھی کرلی ۔ بلکہ عَوامی اِصطِلاح میں ''روزہ بند ''بھی کرلیا پھر بھی بَقِیَّہ رات میں جب چاہیں کھاپی سکتے ہیں۔نئی نیَّت کی حاجت نہیں۔
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
[02/06 3:33 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 4⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*

*اَذان فجر نماز کے لیے ہے نہ کہ روزہ بند کرنے کے لیے!*

سَحَری میں اِتنی تاخِیر بھی نہ کردیں کہ صُبحِ صادِق کا شک ہونے لگے۔ بلکہ بعض لوگ تو صُبحِ صادِق کے بعد فَجر کی اذانیں ہورہی ہوتی ہیں مگر کھاتے پیتے رہتے ہیں۔اور کان لگا کر سنتے ہیں کہ ابھی فُلاں مسجِد کی اذان خَتْم نہیں ہوئی یا وہ سنو! دُور سے اذان کی آواز آرہی ہے! اور یوں کچھ نہ کچھ کھا لیتے ہیں۔ اگر کھاتے نہیں تَو پانی پی کر اپنی اِصطِلاح میں ''روزہ بند ''ضَرور کرتے ہیں۔آہ ! اِس طرح ''روزہ بند' ' تو کیاکریں گے روزے کو بِالکل ہی''کُھلا '' چھوڑ دیتے ہیں اور یوں ان کا روزہ ہوتا ہی نہیں اور سارادن بُھوک پیاس کے سِوا کچھ ہاتھ آتا ہی نہیں۔'' *روزہ بند ''کرنے کا تَعلُّق اَذانِ فَجر سے نہیں۔صُبحِ صادِق سے پہلے پہلے کھانا پینا بند کرنا ضَروری ہے*
جیسا کہ آیَتِ مُقَدَّسہ کے تَحت گُزرا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر مسلمان کو عَقلِ سَلیم عطا فرمائے اور صحیح اَوقات کی معلُومات کرکے روزہ نَماز وغیرہ عبادات صحیح صحیح بجالانے کی توفیق مَرحَمت فرمائے۔
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

📌 *کھانا پینا بند کردیجئے*

آج کل عِلْمِ دین سے دُوری کے سبب عام طور پر لوگوں کایِہی مَعمُول دیکھا گیا ہے کہ *وہ اَذان یا سائرن ہی پر سَحَری و اِفطَار کا دارو مَدار رکھتے ہیں۔بلکہ بَعض تَو اَذانِ فَجر کے دَوران ہی ''روزہ بند ''کرتے ہیں۔*اِس عام غَلطی کو دُور کرنے کیلئے کیا ہی اچھّا ہوکہ رَمَضان الْمُبارَک میں روزانہ صُبحِ صادِق سے تین مِنَٹ پہلے ہر مَسجِد میں بُلندآواز سے صَلُّو ا عَلَی الْحَبیب ! صلَّی اﷲُ تعالیٰ علیٰ محمّد کہنے کے بعد اِس طرح تین بار اِعلان کردیا جائے، ''روزہ رکھنے والو!آج سَحَری کا آخری وَقت (مَثَلاً)چار بج کر بارہ مِنَٹ ہے۔ وَقت خَتْم ہورہا ہے، فوراًکھانا پینا بند کر دیجئے ۔ اذان کا ہرگز انتظار نہ فرمائیے ، اذان سَحَری کاوقت ختم ہو جانے کے بعدنَمازِ فَجر کے لئے دی جاتی ہے۔''ہر ایک کو یہ بات ذِہن نشین کرنی ضَروری ہے کہ اَذانِ فَجر لازِمی طور پر صُبحِ صادِق کے بعد ہی ہوتی ہے اور وہ ''روزہ بند '' کرنے کیلئے نہیں بلکہ صِرف نَمازِ فَجر کیلئے دی جاتی ہے۔

🔊 *صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد*
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*
[02/06 3:33 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 5⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*
*اِفطار کا بیان*
جب غُروبِ آفتاب کا یقین ہوجائے، اِفطَار کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیئے۔ نہ سائرِن کا اِنتِظار کیجئے، نہ اَذان کا۔ فَوراً کوئی چیز کھایا پی لیجئے مگر کَھجور یا چُھوہارہ یا پانی سے اِفطَار کرنا سُنَّت ہے ۔کَھجور کھا کر یا پانی پی لینے کے بعد یہ دُعاء پڑھئے:
*اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ لَکَ صُمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ۔*
*ترجَمہ:اے اللہ عَزَّوَجَلّ َمیں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھی پر بَھرَوسہ کیا اور تیرے دئیے ہوئے رِزق سے روزہ اِفطار کیا۔*

📘(عالمگیری ج۱ ص۲۰۰)

افطار کیلئے اذان شرط نہیں ۔ ورنہ اُن علاقوں میں روزہ کیسے کُھلے گا جہاں مساجِد ہی نہیں یا اذان کی آواز نہیں آتی ۔ بہر حال مَغرِب کی اَذان نَمازِ مغرِب کیلئے ہوتی ہے ۔ جہاں مساجِد ہوں وہاں کاش یہ طریق کار رائج ہو جائے کہ جیسے ہی آفتاب غُروب ہونے کا یقین ہوجائے۔ بُلندآواز سے
''صَلُّو ا عَلَی الْحَبیب ! صلَّی اﷲُ تعالیٰ علیٰ محمّد کہنے کے بعد اس طرح تین بار اِعلان کر دیا جائے : ''روزہ دارو! روزہ اِفطَار کرلیجئے''

*_'' یا غوثَ الْا عظم '' کے گیارہ حُرُوف کی نِسبت سے افطار کے 11 فضائل_*

👈🏿 حضرتِ سَیِّدُنا سَہْل بِن سَعْدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ بحرو بر کے بادشاہ ، دو عالم کے شَہَنْشاہ ، اُمّت کے خ
یر خواہ، آمِنہ کے مہر و ماہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں،''ہمیشہ لوگ خَیر کے ساتھ رہیں گے جب تک اِفْطَار میں جلدی کرینگے۔''

📙(صحیح بُخاری ج۱ص۶۴۵حدیث۱۹۵۷)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جیسے ہی غُروبِ آفتاب کا یقین ہوجائے بِلاتاخِیرکَھجوریا پانی وغیرہ سے روزہ کھول لیں اور دُعاء بھی اب روزہ کھول کر مانگیں تاکہ اِفطَار میں کِسی قسم کی تاخِیر نہ ہو ۔

👈🏿 سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک و مختار ،شَہَنْشاہِ اَبرار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ مشکبار ہے : ''میری اُمَّت میری سُنَّت پر رہے گی جب تک اِفْطَار میں سِتاروں کا اِنتِظارنہ کرے۔''
📕(الاحسان بترتیب صحیح اِبْنِ حِبان ج ۵ ص ۲۰۹ حدیث ۳۵۰۱)

👈🏿 حضرتِ سَیِّدُنا ابُوہُرَیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے،سلطانِ دوجہان، مدینے کے سلطان،رحمتِ عالمیان ، سرورِذیشان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا:''میرے بندوں میں مجھے زیادہ پیارا وہ ہے جو اِفْطَار میں جلدی کرتا ہے۔''

📒( ترمذی ج۲ص۱۶۴حدیث۷۰۰)

📌 سُبْحٰنَ اللہ ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کاپیارا بننا ہے تو اِفطار کے وَقت کِسی قسم کی مشغُولِیت مت رکھئے ،بس فوراً اِفطَار کرلیجئے۔

👈🏿 حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،میں نے اللہ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کبھی اس طرح نہیں دیکھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِفْطار سے پہلے نَمازِ مغرِب ادا فرمائی ہو، چاہے ایک گُھونٹ پانی ہی ہوتا۔ (آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس سے اِفْطار فرماتے)۔

📘(الترغیب والترہیب ج۲ ص۹۱حدیث۹۱)

👈🏿حضرتِ سَیِّدُنا ابُوہُرَیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ سرکارِ والا تبار، بِاِذن ِپروردگار دو جہاں کے مالِک ومختار، شَہَنشاہِ اَبرار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:'' یہ دِین ہمیشہ غالِب رہے گاجب تک لوگ اِفْطَار میں جلدی کرتے رہیں گے کہ یَہُود و نَصاریٰ تاخِیر کرتے ہیں۔''
📕(سنن ابوداو،دج۲ ص۴۴۶حدیث۲۳۵۳)
📌میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!اس حدیثِ پاک میں بھی اِفْطَار میں تاخِیر کرنے پر ناپسند یدَگی کا اِظہار کیا گیا ہے۔اور اِفْطَار میں تاخِیر کرنا چُونکہ یَہُودو نَصاریٰ کا فِعل ہے اِس لئے اِن کی مُشابَہَت (یعنی نَقْل) سے روکا گیا ہے۔
👈🏿حضرتِ سَیِّدُنا زَید بِن خالدجُھَنِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ تاجدارِ مدینہ منوّرہ، سلطانِ مکّہ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
*مَنْ جَھَّزَ غَازِیاً اَوْحَاجًّا اَوْ خَلَفَہ ٗ فِیْ اَھْلِہٖ اَوْ فَطَّرَصَائِماً کَانَ لَہ ٗ مِثْلُ اَجْرِہِ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْقُصَ مِنْ اُجُوْ رِھِمْ شَیْئٌ*
ترجَمہ:جس نے کِسی غازی یا حاجی کو سامان (زادِ راہ )دیا یا اسکے پیچھے اسکے گھر والوں کی دیکھ بھال کی یا کسی روزہ دار کا روزہ افْطَار کروایاتو اُسے بھی انہی کی مِثْل اجْر ملے گا بِغیر اس کے کہ اُن کے اجْر میں کچھ کمی ہو۔

📙(السُنَن الکبریٰ للنَسائی ج۲ ص ۲۵۶ حدیث ۳۳۳۰)

📒سبحٰنَ اللہ عزوجل !کتنی پیاری بِشارت ہے کہ غازی کو سامانِ جہاد فَراہم کرنے والے کو غازی جیسا، حج پر جانے والے کی مالی مدد کرنے پرحاجی جیسا او راِفطار کروانے والے کو روزہ دار جیسا ثواب دیا جائے گا اور کرم بالائے کرم یہ کہ اُن لوگوں کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ ذَالِکَ فَضْلُ اللہ عزوجل ۔ مگر یہ حکمِ شریعت یاد رکھئے کہ حج و عمرہ کیلئے سُوال کرنا حرام ہے اور اِس سُوال کرنے والے کو دینا بھی گناہ ہے۔

*اِفطار کروانے کی عظیم الشّان فضیلت*

👈🏿حضرتِ سَیِّدُنا سَلْمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ حُضورِ انور ، شافِعِ مَحشر ،مدینے کے تاجور ،باِذنِ ربِّ اکبر غیبوں سے باخبر محبوبِ داوَر عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ رُوح پرور ہے :''جس نے حَلال کھانے یا پانی سے(کسی مُسلمان کو)روزہ اِفْطَار کروایا،فِرِشتے ماہِ رَمَضان کے اَوْقات میں اُس کے لئے اِسْتِغفَار کرتے ہیں اور جبرِیل (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) شبِ قَدْرمیں اُس کیلئے اِسْتِغفَار کرتے ہیں ۔ ''

📘(طبرانی المعجم الکبیر ج۶ ص۲ ۶ ۲حدیث۶۱۶۲ )

📌سُبحٰنَ اللہ! سُبحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! قُربان جائیے اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی عنایت و رَحمت پر کہ کوئی مسلمان ماہِ رَمَضان میں اگر کسی روزہ دار کو ایک آدھ کَھجورکھِلا کر یا پانی کا ایک گُھونٹ پِلا کر روزہ اِفْطَار کروادے تَو اُس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلّ َکے مَعصُوم فِرِشتے رَمَضانُ الْمُبارَک کے اَوقات میں اور فِرِشتوں کے سردار حضرتِ سَیِدُّنا جِبرِیل علیہ السلام شبِ قدْر میں دُعائے مَغْفِرت فرماتے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ
عَلٰی اِحسَانِہٖ ؕ

*🔘جِبرِیل اَمین کے مُصافَحَہ کرنے کی علامت*

👈🏿ایک رِوایَت میں آتا ہے ،''جو حَلال کمائی سے رَمَضان میں روزہ اِفْطَار کروائے ۔ رَمَضان کی تمام راتوں میں فِرِشتے اُس پر دُرُودبھیجتے ہیں اور شبِ قَدْر میں جِبرِیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُس سے مُصَافَحَہ کرتے ہیں۔ اور جِس سے جِبرِیل علیہ السلام مُصَافَحَہ کرلیں اُس کی آنکھیں (خوفِ خداعزوجل سے) اشک بار ہوجاتی ہیں اور اسکا دل نَرْم ہوجاتا ہے۔

📙(کنزالعمال ج۸ص۲۱۵حدیث۲۳۶۵۳)

🔘 *روزہ دار کو پانی پلانے کی فضیلت*

👈🏿ایک اور رِوایَت میں ہے ،''جو روزہ دار کو پانی پلائے گا ا للہ عَزَّوَجَلَّ اُسے میرے حَوض سے پلائے گا کہ جَنَّت میں داخِل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔ ''

📕(صحیح ابن خُزَیمہ،ج ۳ ص۱۹۲حدیث۱۸۸۷)

👈🏿حضرتِ سَیِّدُنا سَلْمان بن عامِررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے،خا تمُ المُر سَلین، رَحمۃٌ لِّلْعٰلمین ،شفیعُ الْمُذْنِبیْنِ، انیسُ الْغَرِیبین، سِراجُ السَّالِکین، مَحبوبِ ربُّ الْعٰلمین،جنابِ صادِق واَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے:''جب تم میں کوئی روزہ اِفْطار کرے تو کَھجُور یا چُھوہارے سے اِفْطار کرے کہ وہ بَرَکت ہے اور اگر نہ مِلے تو پانی سے کہ وہ پاک کرنے والا ہے ۔''

📘(جامع تِرْمذی ج۲ص۱۶۲الحدیث۶۹۵)

📌اِس حدیثِ پاک میں یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہوسکے تو کَھجور یا چُھوہار ے سے اِفْطَارکیاجائے کہ یہ سُنَّت ہے اور اگر کھَجور مُیَسَّر نہ ہو تو پھر پانی سے اِفْطار کرلیجئے کہ یہ بھی پاک کرنے والا ہے۔
📌حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے''طبیبوں کے طبیب ، اللہ کے حبیب ، حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نَمازسے پہلے تَر کَھجو ر وں سے روزہ اِفْطَار فرماتے ،تَر کَھجوریں نہ ہوتیں تَو چند خشک کَھجوریں یعنی چُھوہاروں سے اور یہ بھی نہ ہوتیں تو چند چُلُّو پانی پیتے۔

📙(سنن ابوداو،د ج۲ص۴۴۷حدیث۲۳۵۶)

📌اِس حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایاگیاہے کہ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اوَّلاً تَرکَھجور سے روزہ اِفْطَار کرنا پسند فرماتے اگر یہ حاضِر نہ ہوتیں تَو پھر چُھو ہا رو ں سے، یہ بھی اگر مَوجُود نہ ہوتے تَو پھر پانی سے روزہ اِفْطَار فرماتے ۔لہٰذا ہماری پہلی کوشِش یہ ہونی چاہئے کہ ہمیں اِفْطَار کیلئے مِیٹھی مِیٹھی تر کَھجور مِل جائے جو کہ میٹھے میٹھے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی میٹھی میٹھی سُنَّت ہے ۔یہ بھی نہ مِلے تَو پھر چھُوہارا او ر یہ بھی مُیَسَّر نہ ہو تو پھر اب پانی سے روزہ اِفْطَار کرلیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! احادیثِ مبارَکہ میں سَحَری اور افِطار میں کَھجور کے استعمال کی کافی ترغیب موجود ہے ۔کَھجورکھانا، اِس کو بِھگو کر اس کا پانی پینا، اس سے علاج تجویز کرنا یہ سب سنّتیں ہیں ۔ اَلْغَرَض اس میں لا تعداد برکتیں اوربے شمار بیماریوں کا علاج ہے.
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
*رمضان المبارک کے جدید مسائل:*

*مسئلہ:* افطارکرنے کی دعا افطارکے بعدپڑھنا سنت ہے قبل افطار نہیں۔(فتاوی رضویہ ج۴ص۶۵۱)

*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں گل اور منجن اور کولگیٹ کا استعمال سخت ممنوع ہے بعض صورتوں میں روزہ ٹوٹ بھی جاتا ہے۔(فیصلہ فقہی بورڈ)

*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں انار اور بانس کی لکڑی کے علاوہ ہر کڑوی لکڑی کی ہی مسواک بہتر ہے۔(ردالمحتار ج ۱ص۲۳۵)

*مسئلہ:* گلوز کا ڈراپ یا طاقت کا انجکشن لگوانے سے روزہ فاسد نہ ہو گا اگر چہ بھوک پیاس ختم ہو جائے،ہاں اگر بھوک پیاس سے بچنے کے لئے ایسا کرے تو مکروہ ہے۔(مستفاداز فتاوی ہندیہ ج۱ص۲۰۳)

*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنے میں کوئی حرج نہیں۔(مستفادازشامی ج۲ص۳۹۵)

*مسئلہ:* بغیرسحری کے روزہ رکھنا جائز ہے۔(فتاوی فیض الرسول ج۱ص۵۱۳)

*مسئلہ:* روزه کی حالت میں عطر لگانا،پھول سونگھنا،سرمہ لگانا، تیل لگانا،بال ترشوانا،موئے زیر ناف مونڈنا،بام لگانا،ویسلین یاکریم لگانا،تیل کی مالش کرنا یہ سب جائز ہیں ان سب چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔(فتاوی مرکزی دارالافتاء بریلی شریف ص۳۵۸)

*مسئلہ:* سورج ڈوبنے کے بعدبلا تاخیر فوراً افطار کریں،اذان کا انتظار نہ کریں۔(فتاوی فیض الرسول ج۱ص۵۱۴)

*مسئلہ:* ماہ رمضان کی راتوں میں بیوی سے ہمبستری کرنا جائز ہے۔(قرآن مجیدپ۲ رکوع۷)

*مسئلہ:* روزہ رکھنے کے لئے حائضہ عورت اگر ٹیبلیٹ کا استعمال کرے تو اس کا روزہ صحیح ہے البتہ اس کا یہ فعل جائز نہیں کہ بہت ساری بیماریوں کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔(مستفاد از ہدایہ اولین ص۶۳)

*مسئلہ:* روزہ کی حالت میں غسل کرنے یا احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔(بہار شریعت وغیرہ)

*مسئلہ:* عید ،بقرعیداورایام تشریق۱۱،۱۲،۱۳، ذی الحجہ کو روزہ رکھناحرام ہے۔(بہار شریعت ح۵ص۱۴۲)

*مسئلہ:* جو شخص روزہ نہ رکھے اس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے کیونکہ صدقہ فطر کے وجوب کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں۔(شامی ج۲ص۷۶)

*مسئلہ:* ادائے رمضان کا روزہ اور نذر معین ونفلی روزہ کی نیت رات سے کرناضروری نہیں اگر ضحوۂ کبری یعنی دوپہر سے پہلے نیت کرلی تب بھی یہ روزے ہو جائیں گے اور ان تینوں روزوں کے علاوہ قضائے رمضان نذر غیر معین اور نفل کی قضا وغیرہ روزوں کی نیت عین اجالا شروع ہونے کے وقت یارات میں کرنا ضروری ہے ان میں سے کسی روزہ کی نیت اگر دس بجے دن میں کی تو وہ روزہ نہ ہوا(عالمگیری ج۱ص۱۳۸)

*مسئلہ:* حالت جنابت میں روزہ درست ہے۔اس سے روزے میں کوئی نقص وخلل نہیں آئے گا کہ طہارت باجماع ائمہ اربعہ شرط صوم نہیں ہے البتہ وہ شخص نمازیں قصدا چھوڑنے کے سبب اشد گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو گا۔(فتاوی رضویہ ج۴ ص۶۱۵)
سوال : کپڑے موڑ کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟؟
اور ٹخنے کے نیچے لٹکاناکیسا ہے ؟؟

الجواب : حضرت سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات اعضاء پر سجدہ کرنے اور بالوں اور کپڑے کو نہ موڑنے کا حکم دیا ہے (وہ سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی ، دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔
(بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا ، حدیث : ٣٦٦٥ ، ص : ٦٦٧)
شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیه الرحمه اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں کپڑے کا موڑنا (فولڈ کرنا) اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ فعل کپڑے کاٹخنوں کے نیچے رہنے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا "بغیر تکبر" کی نیت کے ٹخنے سے نیچے رکھنے میں نماز مکروہ تنزیہی (برا) ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے (مکروہ تحریمی ہے) اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین وغیرہ موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ (نماز کو دوبارہ لوٹانا)ہے ۔
(عمدة القاری شرح صحیح بخاری ، جلد : ٦ ، ص : ٩٠)
مذکورہ شرح سے یہ ثابت ہوا کہ کپڑے کو موڑنا مکروہِ تحریمی ہے اور مکروہِ تحریمی کی صورت میں نماز لوٹانی ضروری ہوتی ہے۔ جبکہ کپڑے کا ٹخنوں سے نیچے ہونا مکروہِ تنزیہی یعنی برا عمل ہے لیکن اس سے نماز کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
فقہِ حنفی کی معتبر کتاب در مختار میں ہے :
کف ثوب مکروہ تحریمی ہے یعنی کپڑے کا موڑنا اگرچہ کپڑے کو مٹی سے بچانے کی نیت سے ہو ، جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میں نماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا جب بھی مکروہ تحریمی ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا (فولڈ) کرنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ، خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ تحریمی ہے ۔(در مختار ، ج :١ ، ص : ٥٩٨)۔
اور ٹخنوں سے نیچے شلوار لٹکانے کی ممانعت تب ہے جب کوئی تکبر کی نیت سے شلوار یا پینٹ ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ۔ اور حدیث پاک میں اس کی صراحت بھی موجود ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
"مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُیَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اﷲُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"۔
’’جس نے غرور و تکبر سے اپنا کپڑا (تہبند ، چادر ، شلوار ، پتلون ، جبہ وغیرہ) گھسیٹا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا"۔
اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میری چادر (تہبند) کا ایک کنارہ میں پکڑے رکھتا ہوں (ورنہ لٹک جاتا ہے)؟ فرمایا :
"إِنَّکَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذَلِکَ خُیَلَاءَ"۔
تم غرور و تکبر سے گھسیٹنے والوں میں سے نہیں۔
(صحیح البخاری ، کتاب فضائل الصحابة ، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، ج : ٣ ، ٣٤٥ ، حديث : ٣٤٦٥)
صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا کہ یہ حکم خاص ان لوگوں کے لیے ہے جو تکبر والے ہیں۔ آج کل زیادہ تر لوگ اپنے دفتری لباس میں پینٹ پہنتے ہیں ، ان کا تکبر کا ارادہ و نیت نہیں ہوتی۔ لہٰذا پینٹ ٹخنوں سے نیچے رکھ کر اگر نماز پڑھی تو نماز ہوگئی لیکن پینٹ یا شلوار کو اندر یا باہر کی طرف موڑنا اور اٹھانا مکروہِ تحریمی و گناہ کا کام ہے اور پینٹ یا شلوار موڑ کر نماز نہیں پڑھنی چاہئیے۔
اللہ تعالٰی توفیق دے تو ہم لباس ہی ایسا پہنیں جو سنت کے مطابق درست ہو اور ٹخنے ننگے ہی رہیں تاکہ موڑنے یا اٹھانے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔ واللہ تعالی اعلم
ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ ! ﮐﯿﺎ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﮔﺮﻭﯼ ﭘﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ؟
ﺟﻮﺍﺏ :
ﺍﮨﻞِ ﻟﻐﺖ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺭﮨﻦ ﯾﻌﻨﯽ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﮯ ﻟﻐﻮﯼ ﻭ ﺍﺻﻄﻼﺣﯽ ‏( ﺷﺮﻋﯽ ‏) ﻣﻌﻨﯽٰ ﻭ ﻣﻔﺎﮨﯿﻢ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ :
ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎﻟﻐﻮﯼ ﻣﻌﻨﯽٰ :
ﻣﺎ ﻭﺿﻊ ﻋﻨﺪﮎ ﻟﻴﻨُﻮﺏَ ﻣﻨﺎﺏ ﻣﺎ ﺍﺧﺬ ﻣﻨﮏ
ﮔﺮﻭﯼ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺷﮯ ﮐﺎ ﻗﺎﺋﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﻮ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔
ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎ ﺷﺮﻋﯽ ﻭ ﺍﺻﻄﻼﺣﯽ ﻣﻌﻨﯽٰ :
ﺟﻌﻞ ﻋﻴﻦ ﻣﺎﻟﻴﺔ ﻭ ﺛﻴﻘﺔ ﺑﺪﻳﻦ ﻻﺯﻡ
ﮐﺴﯽ ﻣﺎﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺑﻨﺎﻧﺎ۔
ﺳﻴﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺮﺗﻀﯽ ﺍﻟﺤﺴﻨﯽ ﺍﻟﻮﺳﻄﯽ ﺍﻟﺰﺑﻴﺪﯼ، ﺗﺎﺝ ﺍﻟﻌﺮﻭﺱ ﻣﻦ ﺷﺮﺡ ﺟﻮﺍﻫﺮ ﺍﻟﻘﺎﻣﻮﺱ، :9 221 ، ﺩﺍﺭ ﺍﺣﻴﺎﺀ ﺍﻟﺘﺮﺍﺙ ﺍﻟﻌﺮﺑﯽ . ﺑﯿﺮﻭﺕ
ﺭﻫﻦ : ﺍﻟﺮَّﻫﻨُﻤﺎ ﻭﺿﻊ ﻋﻨﺪ ﺍﻻﻧﺴﺎﻥ ﻣﻤﺎ ﻳﻨﻮﺏ ﻣﻨﺎﺏ ﻣﺎ ﺍﺧﺬ ﻣﻨﻪ , ﻳﻘﺎﻝ : ﺭَﻫﻨْﺖُ ﻓﻼﻧﺎً ﺩﺍﺭًﺍ ﺭَﻫﻨًﺎ ﻭﺍﺭْﺗَﻬﻨﻪ ﺍِﺫﺍ ﺍَﺧﺬﻩ ﺭَﻫﻨﺎً
ﺭﮨﻦ : ﺟﻮ ﭼﯿﺰ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻟﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ، ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﺳﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﮔﺮﻭﯼ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﻋﻼﻣﻪ ﺍﺑﻦ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﺍﻓﺮﻳﻘﯽ، ﻟﺴﺎﻥ ﺍﻟﻌﺮﺏ، :5 348 ، ﺩﺍﺭ ﺍﺣﻴﺎﺀ ﺍﻟﺘﺮﺍﺙ ﺍﻟﻌﺮﺑﻲ ﺑﻴﺮﻭﺕ
ﻣَﺎ ﻳُﻮﺿَﻊُ ﻭﺛِﻴﻘَﺔ ﻟﻠﺪَّﻳْﻦِ ... ﺣﻘﻴﻘﺔ ﺫﻟﮏ ﺍَﻥ ﻳَﺪْﻓَﻊَ ﺳِﻠْﻌﺔ ﺗَﻘْﺪِﻣَﺔ ﻓﯽ ﺛَﻤَﻨِﻪ ﻓَﺘَﺠْﻌﻠَﻬﺎ ﺭَﻫﻴﻨَﺔ ﻟِﺎِﺗْﻤﺎﻡِ ﺛَﻤَﻨِﻬﺎ .
ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺑﻄﻮﺭ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﻨﺎ۔۔۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺩَﯾﻦ ‏( ﻗﺮﺽ ‏) ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﯾﺎ ﺯﺍﺋﺪ ﮨﻮ ﺗﺎﮐﮧ ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻗﺮﺽ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ‏( ﺍﻭﺭ ﺩﺍﺋﻦ ‏[ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ‏] ﮐﻮ ﻣﺎﻟﯽ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻧﮧ ﮨﻮ ‏) ۔
.1 ﺍﻟﻤﻔﺮﺩﺍﺕ ﻓﻲ ﻏﺮﻳﺐ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ : 204 ، ﻃﺒﻊ ﻟﻬﻮﺭ
.2 ﺍﺑﻦ ﺍﻻﺛﻴﺮﺍﻟﺠﺰﺭﯼ، ﺍﻟﻨﻬﻴﺔ، :2 285 ، ﻃﺒﻊ ﺍﻳﺮﺍﻥ
ﻓﻘﮩﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ :
ﻫﻮ ﺟﻌﻞ ﺍﻟﺸﻴﯽ ﻣﺤﺒﻮﺳًﺎ ﺑﺤﻖ
ﺣﻖ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﻨﺎ ‏( ﺭﮨﻦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ ‏)
.1 ﺍﻟﺪﺭﺍﻟﻤﺨﺘﺎﺭ، :6 478 ، ﻃﺒﻊ ﮐﺮﺍﭼﻴﯽ
.2 ﻫﺪﺍﻳﻪ، :4 437 ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺮﻫﻦ، ﻃﺒﻊ ﮐﺮﺍﭼﯽ
ﺷﺮﻋﺎً ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍُﺱ ﺣﻖ ‏( ﻗﺮﺽ ‏) ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺟﺴﮯ ﻗﺮﺿﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ۔
ﻫﻮ ﻗﻮﻝ ﺍﻟﺮﻫﻦ ﺭﻫﻨﺖ ﻋﻨﺪﮎ ﻫﺬﺍ ﺍﻟﺸﯽ ﺑﻤﺎﻟﮏ ﻋﻠﯽ ﺩﻳﻦ
ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﯾﻮﮞ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻗﺮﺽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ۔
.1 ﻋﻼﻣﻪ ﺯﻳﻦ ﺍﻟﺪﻳﻦ ﺍﺑﻦ ﻧﺠﻴﻢ ﺍﻟﺤﻨﻔﯽ، ﺍﻟﺒﺤﺮﺍﻟﺮﺍﺋﻖ ﺷﺮﺡ ﮐﻨﺰ
ﺍﻟﺪﻗﺎﺋﻖ، :8 231 ، ﻃﺒﻊ ﮐﺮﺍﭼﻲ
.2 ﺍﻣﺎﻡ ﮐﺎﺳﺎﻧﻲ ﺣﻨﻔﻲ، ﺑﺪﺍﺋﻊ ﺍﻟﺼﻨﺎﺋﻊ ﻓﻲ ﺗﺮﺗﻴﺐ ﺍﻟﺸﺮﺍﺋﻊ، :6 174 ، ﺩﺍﺭ ﺍﻟﮑﺘﺎﺏ ﺍﻟﻌﺮﺑﻲ ﺑﻴﺮﻭﺕ
ﻓﻬﻮ ﺟﻌﻞ ﻋﻴﻦ ﻟﻬﺎ ﻗﻴﻤﺔ ﻣﺎﻟﻴﺔ ﻓﻲ ﻧﻈﺮ ﺍﻟﺸﺮﻉ ﻭﺛﻴﻘﺔ ﺑﺪﻳﻦ ﺑﺤﻴﺚ ﻳﻤﮑﻦ ﺍﺧﺬ ﺍﻟﺪﻳﻦ ﺍﻭ ﺍﺧﺬ ﺑﻌﻀﻪ ﻣﻦ ﺗﻠﮏ ﺍﻟﻌﻴﻦ
ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺷﺮﻋﺎً ﻣﺎﻟﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮨﻮ ﺍُﺳﮯ ﻗﺮﺽ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﺳﺘﺎﻭﯾﺰ ﺍﻭﺭ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﻗﺮﺽ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﺣﺼﮧ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ۔
.1 ﻋﻼﻣﻪ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺠﺰﺭﯼ، ﺍﻟﻔﻘﻪ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻤﺬﻫﺐ ﺍﻻﺭﺑﻌﺔ، 2:319 ، ﻃﺒﻊ ﻣﺼﺮ
.2 ﻋﻼﻣﻪ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺪّﻳﻦ ﺍَﻟﺴَّﺮْﺧَﺴِﯽ، ﺍﻟﻤﺒﺴﻮﻁ، 11:63 ، ﻃﺒﻊ ﺑﯿﺮﻭﺕ
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ :
ﻭَ ﺍِﻥْ ﮐُﻨْﺘُﻢْ ﻋَﻠٰﯽ ﺳَﻔَﺮٍ ﻭَّﻟَﻢْ ﺗَﺠِﺪُﻭْﺍ ﮐَﺎﺗِﺒًﺎ ﻓَﺮِﻫﻦٌ ﻣَّﻘْﺒُﻮْﺿَﺔ
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮧ ﭘﺎﺅ ﺗﻮ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺍﻟﺒﻘﺮﺓ، :2 283
ﻋﮩﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ :
ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﻬﺎ ﺍﻥ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺷﺘﺮﯼ ﻃﻌﺎﻣًﺎ ﻣﻦ ﻳﻬﻮﺩﯼ ﺍِﻟٰﯽ ﺍﺟﻞ ﻭ ﺭﻫﻨﻪ ﺩِﺭﻋًﺎ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺪ
.1 ﺑﺨﺎﺭﻱ، ﻡ 256 ﻩ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ، :2 729 ، ﺭﻗﻢ : 1962 ، ﺩﺍﺭ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﻴﺮ ﺍﻟﻴﻤﺎﻣﻪ ﺑﻴﺮﻭﺕ، 1407 ﻩ
.2 ﻣﺴﻠﻢ، ﻡ 261 ﻩ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ، :3 1226 ، ﺭﻗﻢ : 1603 ، ﺩﺍﺭ ﺍِﺣﻴﺎﺀ ﺍﻟﺘﺮﺍﺙ ﺍﻟﻌﺮﺑﻲ ﺑﻴﺮﻭﺕ
ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺳﯿﺪﮦ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺪﺕ ﺗﮏ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﻏﻠﮧ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﭘﻨﯽ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﯽ ﺫﺭﻉ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﻬﺎ ﻗﺎﻟﺖ : ﺗُﻮُﻓّﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭ ﺩﺭﻋﻪ ﻣﺮﻫﻮﻧﺔ ﻋﻨﺪ ﻳﻬﻮﺩﯼ ﺑﺜﻼﺛﻴﻦ ﺻﺎﻋًﺎ ﻣﻦ ﺷﻌﻴﺮ
.1 ﺑﺨﺎﺭﯼ ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ ، 3:1068 ، ﺭﻗﻢ : 2759
.2 ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ، ﻡ 241 ﻩ، ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ، :1 361 ، ﺭﻗﻢ : 3409 ، ﻣﻮٔﺳﺴﺔ ﻗﺮﻃﺒﺔ ﻣﺼﺮ
.3 ﻧﺴﺎﺋﻲ، ﻡ 303 ﻩ، ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ، :4 49 ، ﺭﻗﻢ : 6247 ، ﺩﺍﺭ ﺍﻟﮑﺘﺐ ﺍﻟﻌﻠﻤﯿﺔ ﺑﯿﺮﻭﺕ
.4 ﺍﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ ، ﻡ 354 ﻩ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ، :13 262 ، ﺭﻗﻢ : 5936 ، ﻣﻮٔﺳﺴﺔ ﺍﻟﺮﺳﺎﻟﺔ ﺑﻴﺮﻭﺕ، ﺳﻦ ﺍٔﺷﺎﻋﺖ 1414 ﻩ
.5 ﻋﺒﺪ ﺑﻦ ﺣﻤﻴﺪ، ﻡ 249 ﻩ، ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ، :1 202 ، ﺭﻗﻢ : 587 ، ﻣﮑﺘﺒﺔ ﺍﻟﺴﻨﺔ ﺍﻟﻘﻬﺮ ﻩ، ﺳﻦ ﺍٔﺷﺎﻋﺖ 1408 ﻩ
.6 ﺑﻴﻬﻘﻲ، ﻡ 458 ﻩ، ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ، :6 36 ، ﺭﻗﻢ : 10973 ، ﻣﮑﺘﺒﺔ ﺩﺍﺭ ﺍﻟﺒﺎﺯ ﻣﮑﺔ ﺍﻟﻤﮑﺮﻣﺔ، ﺳﻦ ﺍٔﺷﺎﻋﺖ 1414 ﻩ
ﺍﻡ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﺳﯿﺪﮦ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮩﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ : ﺭﺳﻮﻝ ﺍﷲ ﺻﻠﯽٰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺫﺭﻉ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﯿﺲ ‏( 30 ‏) ﺻﺎﻉ ﺟَﻮ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺧﻼﺻﮧ ﮐﻼﻡ :
ﺳﻔﺮ ﯾﺎ ﺣﻀﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﯾﺎ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﻮ ﺭﻗﻢ ﯾﺎ ﺟﻨﺲ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻭﮦ ﺭﻗﻢ ﯾﺎ ﺟﻨﺲ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮐﻮ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﻭﺻﻮﻟﯽ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ، ﻣﮑﺎﻥ،ﮔﺎﮌﯼ ﯾﺎ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﯾﺎ ﺟﻨﺲ
ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ’ ﻣﺮﺗﮩﻦ ‘ ، ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ’ ﺭﺍﮨﻦ ‘ ، ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﺷﮯ ﮐﻮ ’ ﻣﺮﮨﻮﻧﮧ ‘ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﮐﻮ ’ ﺭﮨﻦ ‘ ﯾﺎ ’ ﺭﮨﺎﻥ ‘ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﮨﻦ ﮐﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﮐﺎﻥ ﮨﯿﮟ :
.1 ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﯾﻌﻨﯽ ﺭﺍﮨﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﮩﻦ
.2 ﺍﺷﯿﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ : ﺷﮯ ﻣﺮﮨﻮﻧﮧ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺭﻗﻢ
.3 ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ‏( ﺟﻮ ﻟﯿﻦ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ‏)
ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺭﮨﻦ ﮐﮯ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺍﮨﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﮩﻦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺑﯿﻊ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﻨﻮﻥ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺷﻌﻮﺭ ﻭ ﻧﺎﺑﺎﻟﻎ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺭﮨﻦ ﺷﺮﻋﺎً ﺧﺮﯾﺪ ﻭ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ‏( ﭼﻨﺪ ﺍﺳﺘﺜﻨﺎﺋﯽ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ‏) ﮨﺮ ﻭﮦ ﺷﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺑﯿﻊ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺭﮨﻦ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﺭﮨﻦ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﺘﺎﺏ ﻭ ﺳﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﻤﺎﻉ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﻞ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﻘﺎﺋﺺ ﻭ ﻣﻔﺎﺳﺪ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﻈﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠّﻂ ﮨﯿﮟ۔
ﺭﮨﻦ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ :
ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺩﺍﺋﻦ ‏( ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ‏) ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻟﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﻣﺜﻼً ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻓﺼﻞ ﻏﻠﮧ، ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﭘﮭﻞ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﮑﺎﻥ، ﺩﮐﺎﻥ، ﭘﻼﭦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﯾﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﯾﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ، ﺗﻮ ﺟﺐ ﻗﺮﺿﺪﺍﺭ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺩﺍﺋﻦ ﻧﮯ ﻣﺎﻟﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺘﻨﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ، ﻗﺮﺽ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺭﻗﻢ ﺳﮯ ﺍُﺳﮯ ﻣﻨﮩﺎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﮔﻮﯾﺎ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﺩﯾﮑﺮ ﺩﺍﺋﻦ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﮮ۔ ﺭﮨﻦ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﻣﺜﻼً ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﮔﺮﻭﯼ ﭼﯿﺰ ‏( ﻣﮑﺎﻥ، ﺩﮐﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ‏) ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﺗﻮ ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﻭﺻﻮﻟﯽ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮐﻮ ﺍﺻﻞ ﻗﺮﺽ ﺳﮯ ﻣﻨﮩﺎ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻣﻨﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺳُﻮﺩ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﮐﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺁﺝ ﮐﻞ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﮯ۔
ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺑﺎﻻ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺻﻮﺭﺗﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﻄﻮﺭ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮯ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﮔﺮﻭﯼ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﺪﯾﺪ ﺻﻮﺭﺕ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﮑﺎﻥ، ﭘﻼﭦ، ﺩﮐﺎﻥ ﯾﺎ ﺯﻣﯿﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﯾﻖ ‏( ﺭﺍﮨﻦ ‏) ﺷﺌﮯ ﻣَﺮﮨﻮﻧﮧ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻓﺮﯾﻖ ‏( ﻣُﺮﺗَﮩِﻦ ‏) ﻗﺮﺽ ﻟﯽ ﮔﺌﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻣﻘﺮﺭﮦ ﻣﺪﺕ ﺗﮏ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﺎﺻﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﻮﯾﺎ ﯾﮧ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺷﮑﻞ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﮐﺴﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔
ﻟﮩٰﺬﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮯ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺻﻮﺭﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ : ﺍﯾﮏ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﺑﺴﯽ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻗﺮﺽ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻗﺮﺽ۔ ﺍﻧﮩﯽ ﺩﻭﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﺑﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﺽ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻭ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﻠﻮﮎ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﺗﺎﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﻋﮑﺲ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﻭﯼ ﺷﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﻃﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﯽ ﺍﻥ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﮐﺮﻟﯿﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺽ ﻟﯿﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﺭﺳﻮﻟﮧ ﺍﻋﻠﻢ ﺑﺎﻟﺼﻮﺍﺏ۔
ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮔﺮﻭﯼ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺟﻮ ﭘﯿﺴﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺯﮐﻮۃ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﻥ ﺩﮮ ﮔﺎ؟
ﺟﻮﺍﺏ :
ﺍﮔﺮ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﺼﺎﺏ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺯﮐﻮۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﯽ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺻﻮﺭﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﺼﺎﺏ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮑﺎﻥ ﮔﺮﻭﯼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﻗﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺎﻝ ﻭﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻼ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺳﺐ ﻣﺎﻝ ﻭﺩﻭﻟﺖ ﭘﺮ ﺯﮐﻮۃ ﻻﮔﻮ ﮨﻮ ﮔﯽ۔
ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻭ ﺭﺳﻮﻟﮧ ﺍﻋﻠﻢ ﺑﺎﻟﺼﻮﺍﺏ۔
ﺟﺲ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﯾﺢ ﺣﮑﻢ ﻧﮧ ﮨﻮ، ﻭﮦ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺍﺟﺘﮩﺎﺩﯼ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻋﺎﻟِﻢ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮨﻮ، ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻓﺘﻮﮮ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﯾﮟ ----
‏( ﺗﻔﮩﯿﻢ ﺍﻟﻤﺴﺎﺋﻞ ﺟﻠﺪ 9 ﺹ 180 ﺿﯿﺎﺀﺍﻟﻘﺮﺁﻥ)
💧 *ناپاک کپڑا پاک ہونے کی کیا صورتیں ہے؟*
ا===================|
سوال:

کپڑا ناپاک ہوگیا مثلا (دم حیض سے اور اسکے علاوہ ) اس کپڑے کو پاک کرنے کے بعد بھی اس میں داغ وغیرہ باقی رہ گیا تو اب اسکا حکم کیا ہے ...
ا===================|
✍🏼 الجواب بعون الملک الوھاب
💦 مرئی وغیر مرئی ہونے کے اعتبار سے نجاست کی دو قسمیں ہیں
1⃣ نجاست مر ئیہ
نجاست مرئیہ جو جرم دار ہو دیکھنے میں آئے مثلا پاخانے خون
🔮 نجاست مرئیہ کی طہارت کا حکم یہ ہیکہ عین کا زوال جب تک نہ ہو جائے دھوتے رہے اگر ایک ہی مرتبہ میں زائل ہو جائے تو پاک اور جبتک عین باقی رہیگا پاک نہ ہوگا اگر عینیت کا زوال ہو جائے اور داغ و دھبہ کا اثر باقی رہے تو کوئی مضائقہ نہیں !

🔮 بقائے اثر سے طہارت پر فرق نہ پڑنے پر حضرت خولہ بنت قتادہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بہی استدلال کیا جاسکتا ہے کہ سرکار علیہ السلام نے ان سے فرمایا ولا یضرک اثرہ یعنی خون کے دھبہ باقی رہنے سے طہارت میں کوئی ضرر نہیں دے گا

📙 بحوالہ بنایہ ج اول ص 751

📝 مذکورہ بالا تفصیلات نجاست مرئی کی ہے

2⃣ نجاست غیر مرئیہ جیسے پیشاب

🔮 اور غیر مرئی کے متعلق حکم یہ ہیکہ اس وقت تک دھولا جائے جب تک ظن غالب نہ ہو جائے کہ یہ پاک ہو گیا اس لئیے نجاست یقینی کی طہارت کے لئیے غلبہ ظن کا ہو نا ضروری ہے جیسا کہ قبلہ مشتبہ ہونے کی صورت میں تحری ظن غالب کی بناء پر ہے پہر ظن غالب کی مقدار فقہائے کرا م نے تین مرتبہ کی قید لگائی ہے کہ تین مرتبہ دھونے سے ظن غالب یہ ہیکہ پاک ہو جائیگا باب طہارت میں ظن غالب کو تین مرتبہ سے مقید کر نا اس حدیث کی بنا پر ہے جسمیں سرکار علیہ السلام نے فرمایا اذا استیقظ احدکم من منامہ فلا یغمسن یدہ فی الاناء حتی یغسلھا ثلاثا قبل ان یدخلھا فی الاناء فانہ لایدری این باتت یدہ ھدایہ

🔮 یعنی جب تم میں سے کوئی نیندسے بیدار ہو تو برتن میں ہاتھ نہ ڈالے تین مرتبہ دھونے سے پہلے اس لئیے کہ وہ نہیں جانتا ہیکہ ہاتھ نے رات کہاں گزارا ہے

📚 مزید تفصیل ھدایہ ج اول باب الانجاس میں دیکھ سکتے ہیں

ھذا ماظھر لی وسبحانہ تعالی اعلم بالصواب
عورت کو ہر ماہ حیص آتا ھے اس کی کم سے کم مدت 3 دن اور زیادہ سے زیادہ 10 دن ھے

عورت کو حالت حیص میں روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کی شرعا اجازت نھی بلکہ نمازمعاف ھے اور اس کی قضا بھی نھی رھا روزو کا معاملہ تو ان کی قضا کرے گی

نفا س کہتے ھیں اس کو کہ جس عورت کو بچہ جننے کے بعد خون آتا ھے اس کی مدت 40 دن ھے

اس حالت میں بھی روزہ نماز معاف ھے
لیکن روزو کی قضا کرے گی

نکتہ ۔ اگر کسی عورت کا خون 40 دن سے پہلے رک گیا مثالا 20۔۔۔25 دن ھی میں تو خون رکنے بعد ھی نماز پڑھے اور روزے رکھے
حوالہ
بہارےشریعت ۔۔۔۔۔۔
اگر میں بیت الخلاء کے پانی میں اپنے مقعد کو دھوتے ہوئے پانی مقعد میں داخل ہوجائے تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
جواب..
اگر مقعد دھوتے وقت مقعد کے اندر پانی نہیں گیا تو روزہ باقی رہے گا اور اگر مقعد کے اندر پانی چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ بہت احتیاط سے پانی استعمال کیا جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
مزید
استنجا میں اگر اس قدر مبالغہ کیا جائے کہ پانی حقنہ تک پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا (حقنہ پائخانہ کی راہ میں وہ جگہ ہے، جہاں پر پچکاری وغیرہ کے ذریعے دوا پہنچائی جاتی ہے) یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب کوشش اور ارادہ کے ساتھ ایسا کیا جائے، مگر استنجا میں بالعموم ایسا نہیں ہوتا ولو بالغ في الاستنجاء حتی بلغ موضع الحقنة فسد وہذا قلما یکون ولو کان فیورث داء عظیما (شامی) البتہ آپ خیال رکھیں کہ روزے کی حالت میں استنجا میں مبالغہ سے کام نہ لیں ویبالغ في إرخاء المقعدة․․․ إن لم یکن صائمًا، والصوم لا یبالغ حفظًا للصوم عن الفساد (مراقي الفلاح: ۴۸)
واللہ تعالیٰ اعلم
#Darulifta_Ahlesunnat.
*مفتی ابو محمد علی اصغر العطاری*

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*🌟زکوہ کے چند اہم مسائل🌟*
*حصہ اول :عنوان اموال زکوہ*
📣📣
🔵🔸ہر ہر چیز پر زکوہ فرض نہیں.
🔵🔸ان چه چیزوں پر زکوہ فرض ہے
*🔹(1)سونا*
*🔹 (2)چاندی*
*🔹(3)کرنسی*
*🔹 (4)پرائز بانڈ*
*🔹 (5)مال تجارت*
*🔹(6) چرائی کے وہ جانور جن کو خرید کر چارہ نہیں ڈالا جاتا بلکہ سال کا اکثر حصہ وہ مفت سرکاری چراگاہ میں چرتے ہیں*
—-------------------
🔵🔸سوال(1)🔸سوناچاندی پہننے کا ہو تو بهی زکوہ ہوگی
📝جواب: جی ہاں نصاب کو پہنچتا ہو اور شرائط پائی جاتی ہوں تو زکوہ ہوگی
—-------------------
🔵🔸سوال (2)🔸سونے کی زکوہ شوہر نکالے گا یا بیوی؟
📝جواب : جو سونے کا مالک ہے وہ زکوہ نکالے گا عورت کا جو سونا میکے سے ملا وہ اس کی ملکیت ہے جو لڑکے نے پہلی رات دیا وہ بهی گفٹ ہو کر ملکیت ہوگیا لیکن جو سسرال سے لڑکی کو دی جاتا ہے اس میں مختلف برادریوں کے مختلف عرف ہیں ان کا پتا خاص کر طلاق ہونے پر چلتا ہے کہ واپس لیا جاتا ہے یا نہیں الغرض لڑکی کے سسرال سے صریح الفاظ هبہ نہ کہے گئے ہوں تو برادری کے عرف کے مطابق لڑے یا لڑکی کی ملکیت تصور ہوگا
—-------------------
🔵🔸سوال (3)🔸عورت کے پاس پیسے ہی نہ ہوں لیکن سونا نصاب سے زائد اور باقی شرائط بهی پائی جاتی ہوں تو کیا کرے ؟
📝جواب : قرض لے کر زکوہ ادا کرے یا پهر سونے کو بیچ کر زکوہ تو دینی ہوگی
—-------------------
🔵🔸سوال (4)🔸مال تجارت سے کیا مراد ہے؟؟
📝جواب: وہ چیز جس کو خریدتے وقت بیچنے کی نیت کی ہو
—-------------------
🔵🔸سوال (5)🔸جو چیز کرایہ پر چلانے کے لئے خریدی کیا اس پر زکوہ ہوگی؟
📝جواب: جی نہیں ایسی چیز پر زکوہ نہیں ہوگی خواہ ٹرانسپورٹ ہو یا پراپرٹی جس کو کرایہ پر چلانے کے لئے خریدا اس پر زکوہ نہیں
—-------------------
🔵🔸سوال: (6)🔸جس چیز کو بیچنے کے لئے خریدا مگر بعد میں بیچنے کی نیت بدل گئی اپنے یا بچوں کے استعمال یا کرایہ پر چلانے کی نیت ہو گئی تو کیا زکوہ ہوگی ؟؟
📝جواب: جی نہیں ان سب صورتوں میں یہ چیز اب مال تجارت نہ رہی .نصاب کا سال پورا ہونے کے بعد نیت بدلی ہے تو پچهلے سال کی زکوہ بنے گی لیکن آئندہ کی نہیں.
🔵🔸سوال: (7)🔸بیچنے کے لئے نہیں خریدی تهی بعد میں بیچنے کی نیت ہو گئی اس پر زکوہ فرض ہوگی ؟
📝جواب: جی نہیں ایسے مال پر زکوہ فرض نہیں صرف نیت کرنے سے کوئی چیز مال تجارت نہیں بن جاتی
🔵🔸سوال: (8)🔸 ہم نےکسی اور کا جو مال بطور امانت لیا ہوکیا اس پر ہم زکوہ دیں گے ؟ جیسے ہماری کرایہ کی پراپرٹی کا ایڈوانس ہمارے پاس جمع ہو--کوئی بی سی بهرتا ہو اس کے پاس لوگوں کی امانت جمع ہو —ہم نے کسی سے قرضہ لے رکها ہو وغیرہ وغیرہ
📝جواب: ان تمام صورتوں میں آپ اس مال کے مالک نہیں تو آپ پر اس مال کی زکوہ نہیں جو مالک ہے وہ خود اپنا حساب لگائے گا اور شرائط پائے جانے پر زکوہ دے گا
🔵🔸سوال: (9)🔸چرائی کے جانور کے علاوہ جو پانچ چیزیں آپ نے بیان کی ہیں اگر یہ تهوڑی تهوڑی ہوں تو کیا زکوہ فرض ہوگی ؟
📝جواب: ہاں بقیہ پانچ چیزیں یعنی سونا، چاندی، کرنسی ،پرائز بانڈ اور مال تجارت جب نصاب سے کم کم ہو مثلا سونا ساڑهے سات تولہ پورا نہ ہو یا چاندی ساڑهے باون تولہ نہ ہو تو ایسی صورت میں اموال زکوہ کی مالیت کو ملائیں گے اگر پانچوں میں چیزوں میں سے کوئی بهی دو یا زائد اموال مل کر ساڑهے باون تولہ چاندی کے نصاب کو پہنچتے ہوں اور بقیہ شرائط پائی جائے تو زکوہ فرض ہوگی
🔵🔸سوال: (10)🔸دکان کا فرنیچر اور فیکٹری میں مال بنانے والی مشین پر زکوہ ہوگی ؟
📝جواب: جی نہیں عام طور سے دکان کا فرنیچر آفس کے کمپیوٹر وغیرہ بیچنے کے لئے نہیں خریدے جاتے اور نہ ہی فیکٹری کی مشین اس نیت سے خریدی جاتی ہے لهذا ان چیزوں پر زکوہ نہیں البتہ دکان ہی اگر فرنیچر کی ہو تو اس میں بهی جو چیزیں بیچنے کے لئے ہوں صرف اس پر زکوہ ہوگی . واللہ اعلم بالصواب
ﻏﺰﻭﺍﺕ ﮐﯽ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺳﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﯽ ﮐﺌﯽ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﻟﮍﻧﺎ ﭘﮍﯾﮟ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺷﺮﯾﮏ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﺰﻭﮦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﺮﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮨﻢ ﻏﺰﻭﺍﺕ ﯾﺎ ﺳﺮﯾﺎﺕ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺑﺪﺭ : 17 ﺭﻣﻀﺎﻥ 2 ﮪ ‏( 17 ﻣﺎﺭﭺ 624 ﺀ ‏) ﮐﻮ ﺑﺪﺭ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻏﺰﻭﮦ ﺑﺪﺭ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 313 ﺟﺒﮑﮧ ﮐﻔﺎﺭ ﻣﮑّﮧ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 1300 ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻓﺘﺢ ﮨﻮﺋﯽ۔ 70 ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﻣﺎﺭﮮ ﮔﺌﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 36 ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﮐﺮﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺟﮩﮧ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ 70 ﺟﻨﮕﯽ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 14 ﺗﮭﯽ۔ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻓﺘﺢ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﻗﻮﺕ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﮮ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺍﺣﺪ 7: ﺷﻮﺍﻝ 3 ﮪ ‏( 23 ﻣﺎﺭﭺ 625 ﺀ ‏) ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮﺳﻔﯿﺎﻥ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ 3000 ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺣﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﻏﺰﻭﮦ ﺍﺣﺪ ﮐﮩﻼﺋﯽ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭨﯿﻠﮯ ﭘﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺟﻨﮓ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ۔
ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﻮ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﭨﯿﻠﮯ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﻓﺘﺢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﯾﺎ ﻣﺎﻝِ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﯾﮧ ﺣﻤﻠﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻔﺎﺭ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭧ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﺒﻖ ﻣﻼ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺧﻼﻑ ﻭﺭﺯﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺧﻨﺪﻕ ‏( ﺍﺣﺰﺍﺏ ‏) : ﺷﻮﺍﻝ۔ ﺫﯼ ﺍﻟﻘﻌﺪﮦ 5 ﮪ ‏( ﻣﺎﺭﭺ 627 ﺀ ‏) ﻣﯿﮟ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ ﻣﮕﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺳﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺍﯾﮏ ﺧﻨﺪﻕ ﮐﮭﻮﺩ ﻟﯽ۔ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺑﮕﺎﮌ ﺳﮑﮯ۔ ﺧﻨﺪﻕ ﮐﮭﻮﺩﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﮭﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﯾﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﻣﺤﺎﺻﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺌﯽ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺑﻌﺾ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﻧﮯ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﮐﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﺍﮐﮭﺎﮌ ﭘﮭﯿﻨﮑﮯ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺑﻨﯽ ﻗﺮﯾﻈﮧ : ﺫﯼ ﺍﻟﻘﻌﺪﮦ ۔ ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠﮧ 5 ﮪ ‏( ﺍﭘﺮﯾﻞ 627 ﺀ ‏) ﮐﻮ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺑﻨﯽ ﻣﺼﻄﻠﻖ : ﺷﻌﺒﺎﻥ 6 ﮪ ‏( ﺩﺳﻤﺒﺮ 627 ﺀ۔ ﺟﻨﻮﺭﯼ 628 ﺀ ‏) ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺑﻨﯽ ﻣﺼﻄﻠﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﺋﮯ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺧﯿﺒﺮ : ﻣﺤﺮﻡ 7 ﮪ ‏( ﻣﺌﯽ 628 ﺀ ‏) ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﺋﮯ۔
ﺟﻨﮓِ ﻣﻮﺗﮧ : 5 ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻻﻭﻝ 8 ﮪ ‏( ﺍﮔﺴﺖ ۔ ﺳﺘﻤﺒﺮ 629 ﺀ ‏) ﮐﻮ ﻣﻮﺗﮧ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﻏﺰﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﻓﺘﺢ ‏( ﻓﺘﺢِ ﻣﮑﮧ ‏) : ﺭﻣﻀﺎﻥ 8 ﮪ ‏( ﺟﻨﻮﺭﯼ 630 ﺀ ‏) ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﮑّﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ۔ ﺟﻨﮓ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﯿﺒﺖ ﺳﮯ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦِ ﻣﮑّﮧ ﮈﺭ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﮑّﮧ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺣﻨﯿﻦ : ﺷﻮﺍﻝ 8 ﮪ ‏( ﺟﻨﻮﺭﯼ ۔ ﻓﺮﻭﺭﯼ 630 ﺀ ‏) ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻓﺘﺢ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ۔
ﻏﺰﻭﮦ ﺗﺒﻮﮎ : ﺭﺟﺐ 9 ﮪ ‏( ﺍﮐﺘﻮﺑﺮ 630 ﺀ ‏) ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﭘﮭﯿﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮧ ﺑﺎﺯﻧﻄﯿﻨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﻮﺝ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﺤﺎﺫ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﻮﺝ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺒﻮﮎ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺷﻤﻦ ﻓﻮﺝ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺟﻨﮓ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﻗﺒﺎﺋﻞ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺰﯾﮧ ﻣﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﭼﺮﭼﮯ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ...
رضا مرکزی..
📚"غزوات رسولﷺ "بک کی ایک جھلک
👆👆👆👆👆
*کپڑا موڑ کر نماز پڑھنا کیسا؟*
مسئلہ کف ثوب....
اس مسئلہ کے پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پینٹ، شلوار یا کپڑا نہ موڑنے کا حکم کیوں آیا؟
اس کی وجہ اہلِ اسلام کو تکبر سے پاک کرنا تھا جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ *رسول اللہ ﷺ نے سات اعضاء پر سجدہ کرنے اور بالوں اور کپڑے کو نہ موڑنے کا حکم دیا ہے* )وہ سات اعضاء یہ ہیں( پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔
)بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا،حدیث 3665، ص 667، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان
شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں کپڑے کا موڑنا )فولڈ کرنا( اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ فعل کپڑے کاٹخنوں کے نیچے رہنے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا "بغیر تکبر" کی نیت کے ٹخنے سے نیچے رکھنے میں نماز مکروہ تنزیہی )برا( ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے )مکروہ تحریمی ہے( اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین وغیرہ موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ )نماز کو دوبارہ لوٹاناہے(۔
)بحوالہ: عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 6، ص 90(

*مذکورہ شرح سے یہ ثابت ہوا کہ کپڑے کو موڑنا مکروہِ تحریمی ہے اور مکروہِ تحریمی کی صورت میں نماز لوٹانی ضروری ہوتی ہے۔ جبکہ کپڑے کا ٹخنوں سے نیچے ہونا مکروہِ تنزیہی یعنی برا عمل ہے لیکن اس سے نماز کا اعادہ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔*

فقہِ حنفی کی معتبر کتاب در مختار میں ہے؛
کف ثوب )کپڑے کو فولڈکرنا( مکروہ تحریمی ہے یعنی کپڑے کا موڑنا اگرچہ کپڑے کو مٹی سے بچانے کی نیت سے ہو، جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میں نماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا جب بھی مکروہ تحریمی ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا )فولڈ( کرنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں، خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ تحریمی ہے ۔
)در مختار، جلد اول، ص 598(۔

اب یہاں اس مسئلہ کی وضاحت بھی ہو جائے کہ ٹخنوں سے نیچے شلوار کی ممانعت تب ہے جب کوئی اس نیت سے شلوار یا پینٹ ٹخنوں سے نیچے لٹکائے اور اس کا ارادہ تکبر کا ہو۔ الحمد للہ فی زمانہ ایسا بہت کم ہے۔ آقا کریم ﷺ کی ظاہری حیات پاک میں ہی اس کی ایک مثال ملتی ہے، حدیث پاک ملاحظہ ہو؛
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
*مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُیَ. لَاءَ، لَمْ يَنْظُرِ اﷲُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.*
جس نے غرور و تکبر سے اپنا کپڑا )تہبند، چادر، شلوار، پتلون، جبہ وغیرہ( گھسیٹا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔
اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میری چادر )تہبند( کا ایک کنارہ میں پکڑے رکھتا ہوں )ورنہ لٹک جاتا ہے(؟ فرمایا :
*إِنَّکَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذَلِکَ خُیَ. لَاءَ.*
تم غرور و تکبر سے گھسیٹنے والوں میں سے نہیں۔
)بخاری، الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 3 : 1345، رقم : 3465(
.
بارگاہِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے *وسیلہ* سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا کہ یہ حکم خاص ان لوگوں کے لئیے ہے جو تکبر والے ہیں۔ آج کل زیادہ تر لوگ اپنے دفتری لباس میں پینٹ پہنتے ہیں، ان کا تکبر کا ارادہ و نیت نہیں ہوتی۔ لہٰذا پینٹ ٹخنوں سے نیچے رکھ کر اگر نماز پڑھی تو نماز ہوگئی لیکن پینٹ یا شلوار کو اندر یا باہر کی طرف موڑنا اور اٹھانا مکروہِ تحریمی و گناہ کا کام ہے اور پینٹ یا شلوار موڑ کر نماز نہیں پڑھنی چاہئیے۔
اللہ تعالٰی توفیق دے تو ہم لباس ہی ایسا پہنیں جو سنت کے مطابق درست ہو اور ٹخنے ننگے ہی رہیں تاکہ موڑنے یا اٹھانے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔
*واللہ ورسولہ اعلم بالصواب*
1
🌙 *وتر کے تیسری رکعت میں قرات کے بعد امام نے رکوع کردیا........جواب مکمل پوسٹ میں ملاحظہ فرمائیں!*
ا==================|
🗂 سوال:
اسلام علیکم ،،سوال ،،،،،حضرت وتر کے تیسری رکعت میں قرات کے بعد امام نے رکوع کردیا پچھے سے مقتدیوں نے لقمہ دیا پہر تکبیر اور دعائے قنوت کے بعد آخر میں سجدہ کیا تو نماز سہی ہوئی یا نہیں برائے مہربانی جواب عنایت کریں
ا==================|
✍🏼 جواب:
الحمدللہ والصلوة علی رسولﷲ۔
📖 *سجدہ سہو کرلیا ہے تو نماز ہوجائے گی۔*
مصنف بہار شریعت علامہ امجد علی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
📌 اگر دعاء قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو نہ قیام کیطرف لوٹے نہ رکوع میں پڑھے
اور اگر قیام کی طرف لوٹ آیا اور قنوت پڑھا اور رکوع نہ کیا تو نماز فاسد نہ ہوگی مگر گنہ گار ہوگا اوراگر صرف الحمد پڑھکر رکوع میں چلا گیا تو لوٹے، سورت وقنوت پڑھے پھر۔رکوع کرے اور آخرمیں سجدہ سہو کرے !
📕 بہار شریعت ح۔4. ص۔7.
📌 دوسری جگہ ص۔31 پر ہے
قنوت یا تکبیر قنوت بھول گیا سجدہ سہو کرے.
📘 ماخوذ
بہار شریعت ح۔4 ۔ص۔7۔۔31
وﷲ اعلم ورسولہ بالصواب
محمدرضا مرکزي