Forwarded from Abde Mustafa Organisation
نظامِ تعلیم کے متعلق اعلیٰ حضرت کے نظریات
(1) عظیمُ الشّان مَدارِس کھولے جائیں، باقاعدہ تعلیمیں ہوں۔
(2) طَلَبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گرویدہ (یعنی مائل) ہوں۔
(3) مُدَرِّسوں کی بیش قرار (یعنی معقول) تنخواہیں اُن کی کارروائیوں پر دی جائیں کہ لالچ سے جان توڑ کر کوشش کریں۔
(4) طبائع طَلَبہ(یعنی طَلَبہ کی صلاحیتوں) کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دے کر اُس میں لگایا جائے۔ یوں اُن میں کچھ مُدَرِّسین بنائے جائیں، کچھ واعظین، کچھ مصنّفین، کچھ مناظرین، پھر تصنیف و مُناظَرہ میں بھی توزیع (تقسیم کاری) ہو، کوئی کسی فن پر کوئی کسی پر۔
(5) اُن میں جو تیّار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریراً وتقریراً ووَعْظاً و مُناظَرَۃً اِشاعتِ دین و مذہب کریں۔
(6) حمایتِ (مذہب) و رَدِّ بد مذہباں میں مُفید کُتُب و رسائل مُصنّفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں۔
(7) تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوش خط چھاپ کر ملک میں مفت شائع کئے جائیں۔
(8) شہروں شہروں آپ کےسفیرنگران رہیں، جہاں جس قسم کے واعِظ یا مُناظِر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں۔ آپ سر کوبیِ اعداء (یعنی دشمنوں کے رد) کے لئے اپنی فوجیں، میگزین رسالےبھیجتے رہیں۔
(9) جو ہم میں قابل کار، موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں وظائف مُقرّر کرکے فارِغُ البال(یعنی خوشحال) بنائے جائیں، اور جس کام میں اُنہیں مہارت ہو لگائے جائیں۔
(10) آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتاً فوقتاً ہر قسم کے حمایت ِمذہب میں مضامین تمام ملک میں بقیمت و بلا قیمت روزانہ یا کم از کم ہفتہ وار پہنچاتے رہیں۔
(فتاوی رضویہ،ج 29،ص599)
عبد مصطفیٰ دانش شاہان
(1) عظیمُ الشّان مَدارِس کھولے جائیں، باقاعدہ تعلیمیں ہوں۔
(2) طَلَبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گرویدہ (یعنی مائل) ہوں۔
(3) مُدَرِّسوں کی بیش قرار (یعنی معقول) تنخواہیں اُن کی کارروائیوں پر دی جائیں کہ لالچ سے جان توڑ کر کوشش کریں۔
(4) طبائع طَلَبہ(یعنی طَلَبہ کی صلاحیتوں) کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دے کر اُس میں لگایا جائے۔ یوں اُن میں کچھ مُدَرِّسین بنائے جائیں، کچھ واعظین، کچھ مصنّفین، کچھ مناظرین، پھر تصنیف و مُناظَرہ میں بھی توزیع (تقسیم کاری) ہو، کوئی کسی فن پر کوئی کسی پر۔
(5) اُن میں جو تیّار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریراً وتقریراً ووَعْظاً و مُناظَرَۃً اِشاعتِ دین و مذہب کریں۔
(6) حمایتِ (مذہب) و رَدِّ بد مذہباں میں مُفید کُتُب و رسائل مُصنّفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں۔
(7) تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوش خط چھاپ کر ملک میں مفت شائع کئے جائیں۔
(8) شہروں شہروں آپ کےسفیرنگران رہیں، جہاں جس قسم کے واعِظ یا مُناظِر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں۔ آپ سر کوبیِ اعداء (یعنی دشمنوں کے رد) کے لئے اپنی فوجیں، میگزین رسالےبھیجتے رہیں۔
(9) جو ہم میں قابل کار، موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں وظائف مُقرّر کرکے فارِغُ البال(یعنی خوشحال) بنائے جائیں، اور جس کام میں اُنہیں مہارت ہو لگائے جائیں۔
(10) آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتاً فوقتاً ہر قسم کے حمایت ِمذہب میں مضامین تمام ملک میں بقیمت و بلا قیمت روزانہ یا کم از کم ہفتہ وار پہنچاتے رہیں۔
(فتاوی رضویہ،ج 29،ص599)
عبد مصطفیٰ دانش شاہان
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟ (پارٹ 3) عورت، اسلام سے پہلے اسلام سے پہلے عورتوں کا حال بہت خراب تھا۔ دنیا میں عورتوں کی کوئی عزت و وقعت ہی نہیں تھی۔ مردوں کی نظر میں اس سے زیادہ عورتوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی کہ وہ مردوں کی نفسانی خواہش پوری کرنے کا ایک…
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟
(پارٹ 4)
عورت، اسلام کے بعد
جب ہمارے رسول رحمت حضرت محمد مصطفی ﷺ خدا کی طرف سے ''دین اسلام'' لے کر تشریف لائے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا، اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی اور روندی ہوئی عورتوں کادرجہ اس قدر بلند و بالا ہوگیا کہ عبادات و معاملات بلکہ زندگی اور موت کے ہر مرحلے اور ہر موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں اور مردوں کی برابری کے درجہ پر پہنچ گئیں۔
مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر ہوگئے اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے خداوندی قانون آسمان سے نازل ہوگئے اوران کے حقوق دلانے کے لیے اسلامی قانون کی ماتحتی میں عدالتیں قائم ہوگئیں۔ عورتوں کو مالکانہ حقوق حاصل ہوگئے۔ چنانچہ عورتیں اپنے مہر کی رقموں، اپنی تجارتوں، اپنی جائدادوں کی مالک بنادی گئیں اور اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اولاد اور شوہر کی میراثوں کی وارث قرار دی گئیں۔
غرض وہ عورتیں جو مردوں کی جوتیوں سے زیادہ ذلیل و خوار اور انتہائی مجبور و لاچار تھیں وہ مردوں کے دلوں کا سکون اور ان کے گھروں کی ملکہ بن گئیں چنانچہ قرآن مجید نے صاف صاف لفظوں میں اعلان فرمادیا کہ:
خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیہا و جعل بینکم مودۃ و رحمۃ
''اللہ نے تمہارے لیے تمھاری جنس سے بیویاں پیدا کر دیں تاکہ تمھیں ان سے تسکین حاصل ہو اور اس نے تمھارے درمیان محبت و شفقت پیدا کردی۔'' (پ21، روم:21)
اب کوئی مرد بلا وجہ نہ عورتوں کو مار پیٹ سکتا ہے نہ ان کو گھروں سے نکال سکتا ہے اور نہ کوئی ان کے مال و اسباب یا جائدادوں کو چھین سکتا ہے بلکہ ہر مرد مذہبی طور پر عورتوں کے حقوق ادا کرنے پر مجبور ہے چنانچہ خداوند قدوس نے قرآن مجید میں فرمایا کہ:
ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف
''عورتوں اور مردوں پر ایسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر اچھے سلوک کے ساتھ۔'' (پ2،البقرہ:228)
اور مرد کے لیے فرمان جاری فرمادیا کہ:
وعاشروہن بالمعروف
''اور اچھے سلوک سے عورتوں کے ساتھ زندگی بسر کرو۔'' (پ4،النساء:19)
تمام دنیا دیکھ لے کہ دین اسلام نے میاں بیوی کی اجتماعی زندگی کی صدارت اگرچہ مرد کو عطا فرمائی ہے اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنادیا ہے تاکہ نظام خانہ داری میں اگر کوئی بڑی مشکل آن پڑے تو مرد اپنی خداداد طاقت و صلاحیت سے اس مشکل کو حل کردےلیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں مردوں کے کچھ حقوق عورتوں پر واجب کر دیے ہیں، وہاں عورتوں کے بھی کچھ حقوق مردوں پر لازم ٹھہرا دیے گئے ہیں۔ اس لیے عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے حقوق میں جکڑے ہوئے ہیں تاکہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کر کے اپنی اجتماعی زندگی کو شادمانی و مسرت کی جنت بنادیں اور نفاق و شقاق اور لڑائی جھگڑوں کے جہنم سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائیں۔
عورتوں کو درجات و مراتب کی اتنی بلند منزلوں پر پہنچا دینا یہ حضور نبی رحمت ﷺ کا وہ احسان عظیم ہے کہ تمام دنیا کی عورتیں اگر اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس احسان کا شکریہ ادا کرتی رہیں پھر بھی وہ اس عظیم الشان احسان کی شکر گزاری کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو سکتیں۔ سبحان اللہ! تمام دنیا کے محسن اعظم حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان رحمت کا کیا کہنا!
(ماخوذ از جنتی زیور)
جاری...
عبد مصطفی آفیشل
(پارٹ 4)
عورت، اسلام کے بعد
جب ہمارے رسول رحمت حضرت محمد مصطفی ﷺ خدا کی طرف سے ''دین اسلام'' لے کر تشریف لائے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا، اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی اور روندی ہوئی عورتوں کادرجہ اس قدر بلند و بالا ہوگیا کہ عبادات و معاملات بلکہ زندگی اور موت کے ہر مرحلے اور ہر موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں اور مردوں کی برابری کے درجہ پر پہنچ گئیں۔
مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر ہوگئے اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے خداوندی قانون آسمان سے نازل ہوگئے اوران کے حقوق دلانے کے لیے اسلامی قانون کی ماتحتی میں عدالتیں قائم ہوگئیں۔ عورتوں کو مالکانہ حقوق حاصل ہوگئے۔ چنانچہ عورتیں اپنے مہر کی رقموں، اپنی تجارتوں، اپنی جائدادوں کی مالک بنادی گئیں اور اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اولاد اور شوہر کی میراثوں کی وارث قرار دی گئیں۔
غرض وہ عورتیں جو مردوں کی جوتیوں سے زیادہ ذلیل و خوار اور انتہائی مجبور و لاچار تھیں وہ مردوں کے دلوں کا سکون اور ان کے گھروں کی ملکہ بن گئیں چنانچہ قرآن مجید نے صاف صاف لفظوں میں اعلان فرمادیا کہ:
خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیہا و جعل بینکم مودۃ و رحمۃ
''اللہ نے تمہارے لیے تمھاری جنس سے بیویاں پیدا کر دیں تاکہ تمھیں ان سے تسکین حاصل ہو اور اس نے تمھارے درمیان محبت و شفقت پیدا کردی۔'' (پ21، روم:21)
اب کوئی مرد بلا وجہ نہ عورتوں کو مار پیٹ سکتا ہے نہ ان کو گھروں سے نکال سکتا ہے اور نہ کوئی ان کے مال و اسباب یا جائدادوں کو چھین سکتا ہے بلکہ ہر مرد مذہبی طور پر عورتوں کے حقوق ادا کرنے پر مجبور ہے چنانچہ خداوند قدوس نے قرآن مجید میں فرمایا کہ:
ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف
''عورتوں اور مردوں پر ایسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر اچھے سلوک کے ساتھ۔'' (پ2،البقرہ:228)
اور مرد کے لیے فرمان جاری فرمادیا کہ:
وعاشروہن بالمعروف
''اور اچھے سلوک سے عورتوں کے ساتھ زندگی بسر کرو۔'' (پ4،النساء:19)
تمام دنیا دیکھ لے کہ دین اسلام نے میاں بیوی کی اجتماعی زندگی کی صدارت اگرچہ مرد کو عطا فرمائی ہے اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنادیا ہے تاکہ نظام خانہ داری میں اگر کوئی بڑی مشکل آن پڑے تو مرد اپنی خداداد طاقت و صلاحیت سے اس مشکل کو حل کردےلیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں مردوں کے کچھ حقوق عورتوں پر واجب کر دیے ہیں، وہاں عورتوں کے بھی کچھ حقوق مردوں پر لازم ٹھہرا دیے گئے ہیں۔ اس لیے عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے حقوق میں جکڑے ہوئے ہیں تاکہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کر کے اپنی اجتماعی زندگی کو شادمانی و مسرت کی جنت بنادیں اور نفاق و شقاق اور لڑائی جھگڑوں کے جہنم سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائیں۔
عورتوں کو درجات و مراتب کی اتنی بلند منزلوں پر پہنچا دینا یہ حضور نبی رحمت ﷺ کا وہ احسان عظیم ہے کہ تمام دنیا کی عورتیں اگر اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس احسان کا شکریہ ادا کرتی رہیں پھر بھی وہ اس عظیم الشان احسان کی شکر گزاری کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو سکتیں۔ سبحان اللہ! تمام دنیا کے محسن اعظم حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان رحمت کا کیا کہنا!
(ماخوذ از جنتی زیور)
جاری...
عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
السلام علیکم ورحمتہ اللہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں اگر کسی عورت کے شوہر انتقال ھو جائے تو کونسی کون سی چیز پہنا منع ہے
سائل شاکر رضا بنگال
وعلیکم السلام ورحمت اللہ. وبرکاتہ.
الجواب: جس عورت کا شوہر مرجائےاس عورت کی عدت چار مہینے دس دن ہے. اس مدت میں وہ عورت سو گ کرے گی.
ہم بہار شریعت کی عبارت پیش کرتےہیں جس سے واضح ہوجائےگا کہ سوگ میں کیاکیاچیزیں عورت کے لیے منع ہیں.
"مسئلہ ۱: سوگ کے یہ معنی ہیں کہ زینت کو ترک کرے یعنی ہر قسم کے زیور چاندی سونے جواہر وغیرہا کے اور ہر قسم اور ہر رنگ کے ریشم کے کپڑے اگرچہ سیاہ ہوں نہ پہنے اورخوشبو کا بدن یا کپڑوں میں استعمال نہ کرے اور نہ تیل کا استعمال کرے اگرچہ اُس میں خوشبو نہ ہو جیسے روغن زیتون اور کنگھا کرنا اور سیاہ سرمہ لگانا۔ یوہیں سفید خوشبودار سرمہ لگانا اور مہندی لگانا اور زعفران یا کسم یا گیرو کا رنگا ہوا یا سُرخ رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے ان سب چیزوں کا ترک واجب ہے۔(2) (جوہرہ، درمختار، عالمگیری) یوہیں پڑیا کا رنگ گلابی۔ دھانی۔ چمپئی اور طرح طرح کے رنگ جن میں تزین (3)ہوتا ہے سب کو ترک کرے۔"*
( سوگ کا بیان، ج2ص: 242)
سوگ کی مزید تفصیل دیکھنی ہوتو اسی حوالے کےذریعےبہارشریعت کا مطالعہ کریں.
واللہ تعالی اعلم
کتبہ : عدیل احمد قادری مصباحی
سائل شاکر رضا بنگال
وعلیکم السلام ورحمت اللہ. وبرکاتہ.
الجواب: جس عورت کا شوہر مرجائےاس عورت کی عدت چار مہینے دس دن ہے. اس مدت میں وہ عورت سو گ کرے گی.
ہم بہار شریعت کی عبارت پیش کرتےہیں جس سے واضح ہوجائےگا کہ سوگ میں کیاکیاچیزیں عورت کے لیے منع ہیں.
"مسئلہ ۱: سوگ کے یہ معنی ہیں کہ زینت کو ترک کرے یعنی ہر قسم کے زیور چاندی سونے جواہر وغیرہا کے اور ہر قسم اور ہر رنگ کے ریشم کے کپڑے اگرچہ سیاہ ہوں نہ پہنے اورخوشبو کا بدن یا کپڑوں میں استعمال نہ کرے اور نہ تیل کا استعمال کرے اگرچہ اُس میں خوشبو نہ ہو جیسے روغن زیتون اور کنگھا کرنا اور سیاہ سرمہ لگانا۔ یوہیں سفید خوشبودار سرمہ لگانا اور مہندی لگانا اور زعفران یا کسم یا گیرو کا رنگا ہوا یا سُرخ رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے ان سب چیزوں کا ترک واجب ہے۔(2) (جوہرہ، درمختار، عالمگیری) یوہیں پڑیا کا رنگ گلابی۔ دھانی۔ چمپئی اور طرح طرح کے رنگ جن میں تزین (3)ہوتا ہے سب کو ترک کرے۔"*
( سوگ کا بیان، ج2ص: 242)
سوگ کی مزید تفصیل دیکھنی ہوتو اسی حوالے کےذریعےبہارشریعت کا مطالعہ کریں.
واللہ تعالی اعلم
کتبہ : عدیل احمد قادری مصباحی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک شاگرد نے دورہ حدیث شریف مکمل کیا ہے ، وہ نصیحت کا طالب تھا ، سو اُس کے حسبِ حال یہ نصیحت کی :
🥀 آپ مسلمان ہیں ، اور سُنی ہیں ؛ ہمیشہ کے لیے یہی آپ کا تشخص ہونا چاہیے ۔
کبھی بھی نانک شاہی ( صلح کلی ) نہیں بننا ، نہ نانک شاہیوں سے بلاوجہ تعلقات بنانے ہیں ۔
🥀 جہاں بھی جاؤ ، جس کے سامنے بھی جاؤ ........... آپ کی پہچان سُنی کے طور پر ہونی چاہیے ۔
جب کسی بدمذہب کے سامنے آپ اپنا تشخص چھپا رہے ہوتے ہیں تو وہ آپ کو بے وقوف نہ بھی سمجھے ، احساس کمتری کا شکار اور ایک بے یقینا انسان ضرور سمجھے گا ۔
🥀 بعض لوگ جب تھوڑے بہت مشہور ہوتے ہیں اور چار بندے ان کی عزت کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ آلو کی طرح ہو جاتے ہیں ۔ جیسے:
آلو ہر ہانڈی کا حصہ بن جاتا ہے ( چاہے اسے گوبھی میں ڈال لو ، گوشت میں ڈال لو ، دال میں ڈال لو ) ، اسی طرح وہ بھی سارے فرقوں میں گُھل مل جاتے ہیں ۔
آپ نے کبھی بھی ایسا نہیں بننا ، ایسا ہونا کم ظرفی ، کوتاہ فہمی اور بے عقلی کی علامت ہے ۔
🥀 اہل سنت ، صراط مستقیم پر گامزن عظیم " جماعت " ہے ، اور بقیہ سب فرقے ہیں ۔
جماعت پرسایۂ رحمت ہوتاہے ، جماعت سے کبھی بھی الگ نہیں ہونا چاہیے ۔
🥀 اہلِ سنت کی سب سے پیاری علامت ، رسول اللہ ﷺ سے بے پناہ اور بے حد محبت ہے ۔
آپ کی شخصیت سے اس علامت کا ہمہوقت اظہار ہونا چاہیے ۔
جو آپ کے پاس بیٹھے ، وہ حبیب پاک ﷺ کا ذکر سنے بغیر نہ اٹھے ۔
✍️لقمان شاہد
24-9-2020 ء
🥀 آپ مسلمان ہیں ، اور سُنی ہیں ؛ ہمیشہ کے لیے یہی آپ کا تشخص ہونا چاہیے ۔
کبھی بھی نانک شاہی ( صلح کلی ) نہیں بننا ، نہ نانک شاہیوں سے بلاوجہ تعلقات بنانے ہیں ۔
🥀 جہاں بھی جاؤ ، جس کے سامنے بھی جاؤ ........... آپ کی پہچان سُنی کے طور پر ہونی چاہیے ۔
جب کسی بدمذہب کے سامنے آپ اپنا تشخص چھپا رہے ہوتے ہیں تو وہ آپ کو بے وقوف نہ بھی سمجھے ، احساس کمتری کا شکار اور ایک بے یقینا انسان ضرور سمجھے گا ۔
🥀 بعض لوگ جب تھوڑے بہت مشہور ہوتے ہیں اور چار بندے ان کی عزت کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ آلو کی طرح ہو جاتے ہیں ۔ جیسے:
آلو ہر ہانڈی کا حصہ بن جاتا ہے ( چاہے اسے گوبھی میں ڈال لو ، گوشت میں ڈال لو ، دال میں ڈال لو ) ، اسی طرح وہ بھی سارے فرقوں میں گُھل مل جاتے ہیں ۔
آپ نے کبھی بھی ایسا نہیں بننا ، ایسا ہونا کم ظرفی ، کوتاہ فہمی اور بے عقلی کی علامت ہے ۔
🥀 اہل سنت ، صراط مستقیم پر گامزن عظیم " جماعت " ہے ، اور بقیہ سب فرقے ہیں ۔
جماعت پرسایۂ رحمت ہوتاہے ، جماعت سے کبھی بھی الگ نہیں ہونا چاہیے ۔
🥀 اہلِ سنت کی سب سے پیاری علامت ، رسول اللہ ﷺ سے بے پناہ اور بے حد محبت ہے ۔
آپ کی شخصیت سے اس علامت کا ہمہوقت اظہار ہونا چاہیے ۔
جو آپ کے پاس بیٹھے ، وہ حبیب پاک ﷺ کا ذکر سنے بغیر نہ اٹھے ۔
✍️لقمان شاہد
24-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کبھی خیال آتا تھا:
پتا نہیں ، لوگ بے وفا کیوں ہوجاتے ہیں ؟؟
اب معلوم ہوا کہ:
اگر دنیا میں بے وفا نہ ہوتے ، تو وفاداروں کی قدر و قیمت کسی کو معلوم نہ ہوتی ۔
( جو لوگ اپنے دین و مسلک سے وفا کرتے ہیں ، وہ بہت انمول ہوتے ہیں ، انھیں کھونا نہیں چاہیے ۔ )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2964739813806188&id=100008105947430
پتا نہیں ، لوگ بے وفا کیوں ہوجاتے ہیں ؟؟
اب معلوم ہوا کہ:
اگر دنیا میں بے وفا نہ ہوتے ، تو وفاداروں کی قدر و قیمت کسی کو معلوم نہ ہوتی ۔
( جو لوگ اپنے دین و مسلک سے وفا کرتے ہیں ، وہ بہت انمول ہوتے ہیں ، انھیں کھونا نہیں چاہیے ۔ )
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2964739813806188&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
اعلیٰ حضرت کی بیعت و خلافت اے اللہ میں تیرے لئے احمد رضا... اعلیٰ حضرت روزانہ کتنا لکھتے تھے اعلیٰ حضرت ایک مجذوب ولی کی شعر = زمیں و زماں تمہارے لئے ... امام احمد رضا کی بخشش ان کے کنز الایمان نے شان الوہیت اور ... کتب تفسیر و لغت دیکھے بغیر ... کنزالایمان…
اعلیٰ حضرت سید اسمٰعیل کی نظر
سید اسماعیل خلیل مکی کون ہیں؟
صف اول میں نماز پڑھنے کی فضیلت
📜 نماز با جماعت کی فضیلت 📜
پیارے مصطفیٰ ایمان کی جان ہیں!
امام احمد رضا شبلی نعمانی کی نظر
📜 کیا پیر سے پردہ لازم ہے ؟ 📜
کیا اندھوں سے پردہ لازم ہے ؟ 📃
ہجڑہ کی نماز جنازہ پڑھی جائے یا
نبی کے مثل کائنات میں کوئی نہیں
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜 ³
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
سید اسماعیل خلیل مکی کون ہیں؟
صف اول میں نماز پڑھنے کی فضیلت
📜 نماز با جماعت کی فضیلت 📜
پیارے مصطفیٰ ایمان کی جان ہیں!
امام احمد رضا شبلی نعمانی کی نظر
📜 کیا پیر سے پردہ لازم ہے ؟ 📜
کیا اندھوں سے پردہ لازم ہے ؟ 📃
ہجڑہ کی نماز جنازہ پڑھی جائے یا
نبی کے مثل کائنات میں کوئی نہیں
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜 ³
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM