Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
🌹 اختلافی مسائل میں
بحث و مباحثہ کِس کا حق ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
احیاء العلوم 📖 جِـ³ صَـ³⁶
✍ امام غزالی علیہ الرحمہ
بحث و مباحثہ کِس کا حق ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
احیاء العلوم 📖 جِـ³ صَـ³⁶
✍ امام غزالی علیہ الرحمہ
Forwarded from فیضان سرور مصباحی
دلائل کی روشنی میں اپنے اساتذہ اور مرشد سے اختلاف کیا جاسکتا ہے. اس سے ارادت اور شاگردی میں کوئی فرق نہیں پڑتا. ہاں اگر نفسانیت کی بنیاد پر مخالفت شروع ہوجائے تو فیض رسانی کا سلسلہ موقوف ہوجاتا ہے. مگر حلقۂ شاگردی اور مریدی میں اب بھی باقی رہتا ہے. واللہ تعالٰی اعلم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 💎فخـر ازهـر فقہی گروپ چینل💎
شکریہ_امیردعوت_اسلامی_مولانا_الیاس_قادری_صاحب_حفظہ_اللہ.pdf
1.3 MB
🌹{شکریہ امیر دعوت اسلامی مولانا
محمد الیاس قادری صاحب حفظہ اللہ تعالی.pdf }🌹
محمد الیاس قادری صاحب حفظہ اللہ تعالی.pdf }🌹
Forwarded from 💎فخـر ازهـر فقہی گروپ چینل💎
شارح_بخاری_کی_نظر_میں_دعوت_اسلامی_اور_امیر_دعوت_اسلامی.pdf
5.7 MB
شارح بخاری کی نظر میں دعوت اسلامی اور امیر دعوت اسلامی
{نائب مفتئ اعظم ہند وشارح بخاری حضرت العلام حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق صاحب قبلہ امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان}
{نائب مفتئ اعظم ہند وشارح بخاری حضرت العلام حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق صاحب قبلہ امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان}
فتاویٰ رضویہ سے اختلاف کیوں ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍ #علامہ_یاسین_اختر مصباحی
صَاحَبۡ قِبۡلَہۡ دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡـعَـالِـیَہۡ
Misbahi786.mk@gmail.com
موبائل نمبر¹ +919560848408
موبائل نمبر² +919350902937
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍ #علامہ_یاسین_اختر مصباحی
صَاحَبۡ قِبۡلَہۡ دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡـعَـالِـیَہۡ
Misbahi786.mk@gmail.com
موبائل نمبر¹ +919560848408
موبائل نمبر² +919350902937
{فتاوی رضویہ _ سے اختلاف کیوں _؟}.pdf
1.6 MB
{فتاوی رضویہ _ سے اختلاف کیوں _؟}.pdf
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام احمد رضا خان سید کیوں نہیں تھے؟
سید العلماء حضرت علامہ مولانا سید آل مصطفی میاں صاحب سجادہ نشین آستانہ عالیہ برکاتیہ مارہرہ فرماتے ہیں:
میں نے بہت غور و فکر کیا کہ اعلی حضرت ہر فضیلت و کرامت کے حامل تھے انکی ذات بابرکات مظہر ذات و صفات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تھی
لیکن اللہ تعالی نے آپ کو پٹھان قوم میں کیوں پیدا فرمایا ، سادات میں کیوں پیدا نہیں فرمایا؟؟
غور و فکر کیا تو سمجھ آیا کہ اگر آپ سید ہوتے اور سید ہوکر سیدوں کا احترام کرتے، انکی تعظیم کے خطبہ پڑھتے ،تو لوگ کہ سکتے تھے میاں اپنی منہ اپنی تعریف کررہے ہیں اور اپنی توقیر کرانے کیلئے یہ طریقے اپنا رہے ہیں
تو رب تعالی کی یہ حکمت ظاہر ہوئی کہ آپ کو سادات میں سے پیدا نہیں فرمایا کہ قیامت تک اعداء دین کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے
*سید امانت رسول قادری* فرماتے ہیں:
جس شان سے اعلی حضرت نے سیدوں کا ادب و احترام فرمایا اور سادات کی تعظیم و تکریم کرکے امت کو دیکھایا تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی
⭐ : سید اعلی حضرت کی محفل میں کوئی پھل وغیرہ آتا تو آپ پہل بھی سادات سے فرماتے اور بقیہ حاضرین کی بنسبت دوگنا پیش فرماتے
⭐: ایک غریب سید صاحب جو چھوٹے بچے تھے کام کرنے کےسلسلے میں آئے تو آپ نے انکا کا مشاہرہ بھی طے فرمایا اور اپنے گھر والوں سے فرمایا دیا کہ یہ مخدوم زادے ہیں انکی ضرورت کا خیال رکھا جائے اور کوئی کام بھی نہ لیا جائے
اور آپ کا پالکی والا واقعہ مشہور ہے کہ وقت کے امام اور عاشق صادق نے خون رسول کی خوشبو سونگھ لی اوربڑھاپے کے عالم میں
وقت کا امام روتے ہوئے عرض گزار ہورہا ہے
سید زادے سے معافی مانگ رہا ہے
معافی مل جاتی ہے مگر امام جلیل اصرار کررہا ہے کہ اب آپ بیٹھیں گے میں پالکی کو اٹھاوں گا یہی میری معافی کا کفارہ ہے
مجبورا سید زادے سوار ہوتے ہیں وقت کا امام اپنے آقا علیہ السلام کے شہزادے کو کاندھوں پہ اٹھا رہا ہے
ہزاروں مرید التجائیں کررہے ہیں کہ ہم آقا زادے کی خدمت کرتے ہیں
مگر مجدد وقت کے منہ سے الفاظ نکلتے ہیں وہ سونے کے قلم اور چاندی کے ورق پر لکھنے کے قابل ہیں
*مجدد وقت فرماتے ہیں کہ اگر روز قیامت میرے آقا نے پوچھ لیا*
*اے احمد رضا تجھے اٹھانے کیلئے میرے شہزادے کے کندھے ملے تھے تو کیا جواب دوں گا*
یہ وہ اولاد رسول کے ادب کا انوکھا انداز کہ رہتی دنیا تک تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ لکھا جائے گا
(فیضان اعلی حضرت ص٣٠١)
✍ #محمد_ساجد_مدنی
سید العلماء حضرت علامہ مولانا سید آل مصطفی میاں صاحب سجادہ نشین آستانہ عالیہ برکاتیہ مارہرہ فرماتے ہیں:
میں نے بہت غور و فکر کیا کہ اعلی حضرت ہر فضیلت و کرامت کے حامل تھے انکی ذات بابرکات مظہر ذات و صفات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تھی
لیکن اللہ تعالی نے آپ کو پٹھان قوم میں کیوں پیدا فرمایا ، سادات میں کیوں پیدا نہیں فرمایا؟؟
غور و فکر کیا تو سمجھ آیا کہ اگر آپ سید ہوتے اور سید ہوکر سیدوں کا احترام کرتے، انکی تعظیم کے خطبہ پڑھتے ،تو لوگ کہ سکتے تھے میاں اپنی منہ اپنی تعریف کررہے ہیں اور اپنی توقیر کرانے کیلئے یہ طریقے اپنا رہے ہیں
تو رب تعالی کی یہ حکمت ظاہر ہوئی کہ آپ کو سادات میں سے پیدا نہیں فرمایا کہ قیامت تک اعداء دین کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے
*سید امانت رسول قادری* فرماتے ہیں:
جس شان سے اعلی حضرت نے سیدوں کا ادب و احترام فرمایا اور سادات کی تعظیم و تکریم کرکے امت کو دیکھایا تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی
⭐ : سید اعلی حضرت کی محفل میں کوئی پھل وغیرہ آتا تو آپ پہل بھی سادات سے فرماتے اور بقیہ حاضرین کی بنسبت دوگنا پیش فرماتے
⭐: ایک غریب سید صاحب جو چھوٹے بچے تھے کام کرنے کےسلسلے میں آئے تو آپ نے انکا کا مشاہرہ بھی طے فرمایا اور اپنے گھر والوں سے فرمایا دیا کہ یہ مخدوم زادے ہیں انکی ضرورت کا خیال رکھا جائے اور کوئی کام بھی نہ لیا جائے
اور آپ کا پالکی والا واقعہ مشہور ہے کہ وقت کے امام اور عاشق صادق نے خون رسول کی خوشبو سونگھ لی اوربڑھاپے کے عالم میں
وقت کا امام روتے ہوئے عرض گزار ہورہا ہے
سید زادے سے معافی مانگ رہا ہے
معافی مل جاتی ہے مگر امام جلیل اصرار کررہا ہے کہ اب آپ بیٹھیں گے میں پالکی کو اٹھاوں گا یہی میری معافی کا کفارہ ہے
مجبورا سید زادے سوار ہوتے ہیں وقت کا امام اپنے آقا علیہ السلام کے شہزادے کو کاندھوں پہ اٹھا رہا ہے
ہزاروں مرید التجائیں کررہے ہیں کہ ہم آقا زادے کی خدمت کرتے ہیں
مگر مجدد وقت کے منہ سے الفاظ نکلتے ہیں وہ سونے کے قلم اور چاندی کے ورق پر لکھنے کے قابل ہیں
*مجدد وقت فرماتے ہیں کہ اگر روز قیامت میرے آقا نے پوچھ لیا*
*اے احمد رضا تجھے اٹھانے کیلئے میرے شہزادے کے کندھے ملے تھے تو کیا جواب دوں گا*
یہ وہ اولاد رسول کے ادب کا انوکھا انداز کہ رہتی دنیا تک تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ لکھا جائے گا
(فیضان اعلی حضرت ص٣٠١)
✍ #محمد_ساجد_مدنی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹امام احمد رضا خان اور علم حدیث🌹
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ جس طرح علم تفسیر میں مہارت تامہ رکھتے تھے
اسی طرح علم حدیث میں درجہ امامت پر فائز تھے اور آپ کو علم حدیث پر ید طولی حاصل تھا
جب آپ اس فن پر قلم اٹھاتے تو امام جلال الدین سیوطی، علامہ ابن حجر عسقلانی کی جھلک نظر آتی
آپ کے اس فن پر منہ بولتا ثبوت
منیر العین ،حاجزالبحرین ،الفضل الموہبی رسائل ہیں
آپ کے بارے میں سید محمد احمد مصباحی زید مجدہ فرماتے ہیں
امام احمد رضا بلند پایہ محدث تھے اور علم حدیث پر بڑا تبحر حاصل تھا آپ کا مطالعہ وسیع تھا
آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے علم حدیث کی کتابوں میں سے کون کون سی کتب پڑھی یا پڑھائی ہیں
آپ نے فرمایا
*صحاح ستہ، مسند امام اعظم، مؤطا امام محمد، موطا امام مالک ، کتاب الآثار امام طحاوی، مسند امام شافعی، مسند امام محمد، سنن دارمی، ملتقی لابن الجارود، ذو علل متناہیہ ،مشکوة، جامع صغیر، جامع کبیر، بلوغ المرام، عمل واللیلة لابن السني، خصائص الکبری، کتاب الترغیب، کتاب الفرج بعد الشدة ، کتاب الاسماء والصفات وغیرہ*
پچاس سے زائد کتب میرے درس و تدریس و مطالعہ میں رہیں
امام احمد رضا خان کے وسعت مطالعہ کی یہ شان ہے کہ آپ کے شرح عقائد نسفی کے مطالعہ کے وقت 70 شروحات سامنے رہیں
*مولانا حنیف رضا خان*
اپنی کتاب جامع الاحادیث میں فرماتے ہیں
علم حدیث اپنی انواع کے اعتبار سے بہت وسیع علم ہے علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے تدریب الراوی میں تقریبا 100 علوم شمار کرائے ہیں جن میں علم حدیث سے واسطہ ضروری ہے
*علماء کرام فرماتے ہیں* کہ آپ نے حدیث، معرفت حدیث اور مبادیات حدیث پر جیسی شاندار اور نفیس ترین بحثیں کی ہیں
اگر امام بخاری و مسلم دیکھتے تو انکی بھی ٹھنڈی ہوتیں
عمدة المحدثین، حافظ بخاری
حضرت شاہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ سے محدث اعظم ہند سید محمد محدث کھچھوچھوی علیہ الرحمہ نے سوال کیا :
امام احمد رضا خان کا علم حدیث میں کیا مقام ہے ؟؟
آپ نے فرمایا امام احمد رضا اس وقت *"امیر المومنین فی الحدیث "* ہیں
پھر عاجزی فرماتے ہوئے فرمایا
صاحبزادے اسکا مطلب پتا ہے آپ کو کہ اگر میں ساری زندگی انکی شاگردی اختیار کروں تو بھی انکے مقام کو نہیں پہنچ سکتا
سید محمد محدث کھچھوچھوی نے کہا کہ سچ فرمایا
*ولی راولی می شناسدوعالم راعالم می داند*
ولی ولی کو اور عالم عالم کو پہچانتا ہے
خود محدث کھچھوچھوی فرماتے ہیں
علم الحدیث میں سب سے نازک شعبہ علم
*"اسماء الرجال"* کا ہے
اعلی حضرت کے سامنے کوئی سند پڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا
ہر راوی کے جرح و تعدیل کے جو الفاظ فرما دیتے
بعد میں تدریب الراوی، تقریب، تذھیب وغیرہ کتب دیکھی جاتیں تو وہی الفاظ ملتے
اسے کہتے ہیں علم راسخ، علم میں شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت
حفظ حدیث اور علم حدیث میں مہارت تامہ کا مشاہدہ کرنا ہو تو آپ کی تصنیفات
کا مطالعہ کر کے اسکا اندازہ ہر ذی علم کرسکتا ہے ورق ورق پر احادیث و آثار کی تابشیں نجوم و کواکب کی طرح درخشندہ و تابندہ ہیں
مولانا حنیف رضا خان خود فرماتے ہیں کہ
میں نے امام احمد رضا خان کی 300 سے زائد کتب کا مطالعہ جن سے 10000 ہزار احادیث کو جمع کرکے انکو ترتیب دیا
پھر مکررات کو نکال کر 3663 بنتی ہیں اور یہ صرف آپ کی تصنیفات کے ایک تہائی سے نکالا ہے اگر تمام سے نکالا جائے تو کتنا ضخیم حصہ ہاتھ آئے گا
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دئیے ہیں
(فیضان اعلی حضرت ص٤٨٥)
محمد ساجد مدنی
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ جس طرح علم تفسیر میں مہارت تامہ رکھتے تھے
اسی طرح علم حدیث میں درجہ امامت پر فائز تھے اور آپ کو علم حدیث پر ید طولی حاصل تھا
جب آپ اس فن پر قلم اٹھاتے تو امام جلال الدین سیوطی، علامہ ابن حجر عسقلانی کی جھلک نظر آتی
آپ کے اس فن پر منہ بولتا ثبوت
منیر العین ،حاجزالبحرین ،الفضل الموہبی رسائل ہیں
آپ کے بارے میں سید محمد احمد مصباحی زید مجدہ فرماتے ہیں
امام احمد رضا بلند پایہ محدث تھے اور علم حدیث پر بڑا تبحر حاصل تھا آپ کا مطالعہ وسیع تھا
آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے علم حدیث کی کتابوں میں سے کون کون سی کتب پڑھی یا پڑھائی ہیں
آپ نے فرمایا
*صحاح ستہ، مسند امام اعظم، مؤطا امام محمد، موطا امام مالک ، کتاب الآثار امام طحاوی، مسند امام شافعی، مسند امام محمد، سنن دارمی، ملتقی لابن الجارود، ذو علل متناہیہ ،مشکوة، جامع صغیر، جامع کبیر، بلوغ المرام، عمل واللیلة لابن السني، خصائص الکبری، کتاب الترغیب، کتاب الفرج بعد الشدة ، کتاب الاسماء والصفات وغیرہ*
پچاس سے زائد کتب میرے درس و تدریس و مطالعہ میں رہیں
امام احمد رضا خان کے وسعت مطالعہ کی یہ شان ہے کہ آپ کے شرح عقائد نسفی کے مطالعہ کے وقت 70 شروحات سامنے رہیں
*مولانا حنیف رضا خان*
اپنی کتاب جامع الاحادیث میں فرماتے ہیں
علم حدیث اپنی انواع کے اعتبار سے بہت وسیع علم ہے علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے تدریب الراوی میں تقریبا 100 علوم شمار کرائے ہیں جن میں علم حدیث سے واسطہ ضروری ہے
*علماء کرام فرماتے ہیں* کہ آپ نے حدیث، معرفت حدیث اور مبادیات حدیث پر جیسی شاندار اور نفیس ترین بحثیں کی ہیں
اگر امام بخاری و مسلم دیکھتے تو انکی بھی ٹھنڈی ہوتیں
عمدة المحدثین، حافظ بخاری
حضرت شاہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ سے محدث اعظم ہند سید محمد محدث کھچھوچھوی علیہ الرحمہ نے سوال کیا :
امام احمد رضا خان کا علم حدیث میں کیا مقام ہے ؟؟
آپ نے فرمایا امام احمد رضا اس وقت *"امیر المومنین فی الحدیث "* ہیں
پھر عاجزی فرماتے ہوئے فرمایا
صاحبزادے اسکا مطلب پتا ہے آپ کو کہ اگر میں ساری زندگی انکی شاگردی اختیار کروں تو بھی انکے مقام کو نہیں پہنچ سکتا
سید محمد محدث کھچھوچھوی نے کہا کہ سچ فرمایا
*ولی راولی می شناسدوعالم راعالم می داند*
ولی ولی کو اور عالم عالم کو پہچانتا ہے
خود محدث کھچھوچھوی فرماتے ہیں
علم الحدیث میں سب سے نازک شعبہ علم
*"اسماء الرجال"* کا ہے
اعلی حضرت کے سامنے کوئی سند پڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا
ہر راوی کے جرح و تعدیل کے جو الفاظ فرما دیتے
بعد میں تدریب الراوی، تقریب، تذھیب وغیرہ کتب دیکھی جاتیں تو وہی الفاظ ملتے
اسے کہتے ہیں علم راسخ، علم میں شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت
حفظ حدیث اور علم حدیث میں مہارت تامہ کا مشاہدہ کرنا ہو تو آپ کی تصنیفات
کا مطالعہ کر کے اسکا اندازہ ہر ذی علم کرسکتا ہے ورق ورق پر احادیث و آثار کی تابشیں نجوم و کواکب کی طرح درخشندہ و تابندہ ہیں
مولانا حنیف رضا خان خود فرماتے ہیں کہ
میں نے امام احمد رضا خان کی 300 سے زائد کتب کا مطالعہ جن سے 10000 ہزار احادیث کو جمع کرکے انکو ترتیب دیا
پھر مکررات کو نکال کر 3663 بنتی ہیں اور یہ صرف آپ کی تصنیفات کے ایک تہائی سے نکالا ہے اگر تمام سے نکالا جائے تو کتنا ضخیم حصہ ہاتھ آئے گا
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دئیے ہیں
(فیضان اعلی حضرت ص٤٨٥)
محمد ساجد مدنی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🥀 *اعلی حضرت ایک ہمہ جہت شخصیت*🥀
اعلی حضرت امام اہلسنت رضی اللہ عنہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔۔۔ آپ بیک وقت مجدد،مجتھد، مترجم قرآن،مفسر قرآن ، کثیر التصانیف مصنف، بہت بڑے عالم، مفتی ، مصلح ، عاشق رسول ، اور شاعر تھے ۔۔۔
امام اہلسنت رضی اللہ عنہ کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو بہت سی خوبیاں ایسی نظر آتی ہیں جنہیں آپ کی خصوصیات کہا جا سکتا ہے۔۔۔ ان میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ سوال پوچھنے والا جس زبان اور انداز میں سوال کرتا آپ اسی زبان و انداز میں جواب تحریر فرماتے۔۔۔
اردو میں پوچھے گئے سوال کا جواب اردو میں،فارسی کا فارسی میں ،عربی کا عربی میں نثر کا نثر میں جبکہ اشعار کی صورت میں پوچھے گئے سوال کا جواب بھی اشعار میں دیتے۔۔۔۔۔۔۔
ہر عقل مند شخص اس بات کو سمجھ سکتا ہے مخصوص فقہی حکم کو نظم کی صورت میں اس طرح مرتب کرنا کہ شرعی مسئلہ بھی درست بیان ہو اور فن شاعری کے اصول و ضوابط بھی پورے ہوجائیں یہ کس قدر مشکل کام ہے۔۔۔
امام اہلسنت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کردہ منظوم سوال اور نظم کی صورت میں اس کا جواب ملاحظہ فرما کر علم فقہ اور علم شاعری دونوں میں مہارت کا نظارہ کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔
منظوم سوال:-
عالمان شرع سے ہے اس طرح میرا سوال
دیں جواب اس کا برائے حق مجھے وہ خوشخصال
گر کسی نے ترجمہ سجدے کی آیت کا پڑھا
تب بھی سجدہ کرنا کیا اس شخص پر واجب ہوا؟
اور ہوں سجدے تلاوت کے ادا کرنے جسے
پھر ادا کرنے سے ان سجدوں کے پہلے وہ مرے
پس سبک دوشی کی اس کے کیا ہوگی جناب
چاہئے ہے آپ کو دینا جواب بالصواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب منظوم میں جواب ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ بھی اصل سا ہے وجہ بالیقیں
فرق یہ ہے فہم معنی اس میں شرط اس میں نہیں
آیت سجدہ سنی جانا کہ ہے سجدہ کی جا
اب زباں سمجھے نہ سمجھے سجدہ واجب ہوگیا
ترجمہ میں اس زباں کا جاننا بھی چاہئے
نظم و معنی دو ہیں ان میں ایک تو باقی رہے
تاکہ من وجہ تو صادق ہو سنا قرآن کو
ورنہ اک موج ہوا تھی چھو گئی جو کان کو
ہے یہی مذہب بہ یفتی علیہ الاعتماد
شامی از فیض و نہر واللہ اعلم بالرشاد
سجدہ کا فدیہ نہیں اشباہ میں تصریح کی
صیرفیہ میں اسی انکار کی تصحیح کی
کہتے ہیں واجب نہیں اس پر وصیت وقت موت
فدیہ گر ہوتا تو کیوں واجب نہ ہوتا جبر فوت
یعنی اس کا شرع میں کوئی بدل ٹھرا نہیں
جز ادا یا توبہ وقت عجز کچھ چارہ نہیں
یہ نہیں معنی کہ ناجائز ہے یا بیکار ہے
آخر اک نیکی ہے نیکی ماحی اوزار ہے
قلتہ اخذا من التعلیل فی امر الصلوہ
وھو بحث ظاھر والعلم حقا للالہ
🥀 ماہنامہ فیضان مدینہ کچھ ترمیم کے ساتھ 🥀.
کل ان شاء اللہ عزوجل پوسٹ کا موضوع
" اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی ذخیرہ حدیث پر نظر " ہوگا
✍️ ابو الغوث عطاری
Date 25/09/2020
اعلی حضرت امام اہلسنت رضی اللہ عنہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔۔۔ آپ بیک وقت مجدد،مجتھد، مترجم قرآن،مفسر قرآن ، کثیر التصانیف مصنف، بہت بڑے عالم، مفتی ، مصلح ، عاشق رسول ، اور شاعر تھے ۔۔۔
امام اہلسنت رضی اللہ عنہ کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو بہت سی خوبیاں ایسی نظر آتی ہیں جنہیں آپ کی خصوصیات کہا جا سکتا ہے۔۔۔ ان میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ سوال پوچھنے والا جس زبان اور انداز میں سوال کرتا آپ اسی زبان و انداز میں جواب تحریر فرماتے۔۔۔
اردو میں پوچھے گئے سوال کا جواب اردو میں،فارسی کا فارسی میں ،عربی کا عربی میں نثر کا نثر میں جبکہ اشعار کی صورت میں پوچھے گئے سوال کا جواب بھی اشعار میں دیتے۔۔۔۔۔۔۔
ہر عقل مند شخص اس بات کو سمجھ سکتا ہے مخصوص فقہی حکم کو نظم کی صورت میں اس طرح مرتب کرنا کہ شرعی مسئلہ بھی درست بیان ہو اور فن شاعری کے اصول و ضوابط بھی پورے ہوجائیں یہ کس قدر مشکل کام ہے۔۔۔
امام اہلسنت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کردہ منظوم سوال اور نظم کی صورت میں اس کا جواب ملاحظہ فرما کر علم فقہ اور علم شاعری دونوں میں مہارت کا نظارہ کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔
منظوم سوال:-
عالمان شرع سے ہے اس طرح میرا سوال
دیں جواب اس کا برائے حق مجھے وہ خوشخصال
گر کسی نے ترجمہ سجدے کی آیت کا پڑھا
تب بھی سجدہ کرنا کیا اس شخص پر واجب ہوا؟
اور ہوں سجدے تلاوت کے ادا کرنے جسے
پھر ادا کرنے سے ان سجدوں کے پہلے وہ مرے
پس سبک دوشی کی اس کے کیا ہوگی جناب
چاہئے ہے آپ کو دینا جواب بالصواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب منظوم میں جواب ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ بھی اصل سا ہے وجہ بالیقیں
فرق یہ ہے فہم معنی اس میں شرط اس میں نہیں
آیت سجدہ سنی جانا کہ ہے سجدہ کی جا
اب زباں سمجھے نہ سمجھے سجدہ واجب ہوگیا
ترجمہ میں اس زباں کا جاننا بھی چاہئے
نظم و معنی دو ہیں ان میں ایک تو باقی رہے
تاکہ من وجہ تو صادق ہو سنا قرآن کو
ورنہ اک موج ہوا تھی چھو گئی جو کان کو
ہے یہی مذہب بہ یفتی علیہ الاعتماد
شامی از فیض و نہر واللہ اعلم بالرشاد
سجدہ کا فدیہ نہیں اشباہ میں تصریح کی
صیرفیہ میں اسی انکار کی تصحیح کی
کہتے ہیں واجب نہیں اس پر وصیت وقت موت
فدیہ گر ہوتا تو کیوں واجب نہ ہوتا جبر فوت
یعنی اس کا شرع میں کوئی بدل ٹھرا نہیں
جز ادا یا توبہ وقت عجز کچھ چارہ نہیں
یہ نہیں معنی کہ ناجائز ہے یا بیکار ہے
آخر اک نیکی ہے نیکی ماحی اوزار ہے
قلتہ اخذا من التعلیل فی امر الصلوہ
وھو بحث ظاھر والعلم حقا للالہ
🥀 ماہنامہ فیضان مدینہ کچھ ترمیم کے ساتھ 🥀.
کل ان شاء اللہ عزوجل پوسٹ کا موضوع
" اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی ذخیرہ حدیث پر نظر " ہوگا
✍️ ابو الغوث عطاری
Date 25/09/2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
निज़ाम-ए-तालीम के मुताल्लिक़ आला हज़रत के नज़रियात
(1) अज़िम उश्शान मदारिस खोले जाएं, बाक़ायदा तालीमें हो
(2) तलबा को वज़ाइफ़ मिलें कि ख़्वाही नख़्वाही गरवीदा (यानी माइल) हो
(3) मुदर्रिसों की बेश क़रार (यानी माक़ूल) तनख़्वाहें उन की कार्यवाईयों पर दी जाएं कि लालच से जान तोड़ कर कोशिश करें
(4) तबाइअ तलबा (यानी तलबा की सलाहीयतों) की जांच हो जो जिस काम के ज़्यादा मुनासिब देखा जाये माक़ूल वज़ीफ़ा देकर उस में लगाया जाये। यूं उन में कुछ मुदर्रिसीन बनाए जाएं, कुछ वाइज़ीन, कुछ मुसन्निफ़ीन, कुछ मुनाज़िरीन, फिर तसनीफ़-ओ-मुनाज़रा में भी तोज़ेइ (तक़सीम कारी) हो, कोई किसी फ़न पर कोई किसी पर।
(5) इन में जो तय्यार होते जाएं तनख़्वाहें देकर मुल्क में फैलाए जाएं कि तहरीरन व तकरीरं व वाज़न व मुनाज़रन इशाअत-ए-दीन-ओ-मज़हब करें।
(6) हिमायत ए (मज़हब) व रद्दे बद मज़हबां में मुफ़ीद कुतुब-ओ-रसाइल मुसन्नफ़ों को नज़राने देकर तसनीफ़ कराए जाएं।
(7) तसनीफ़ शूदा और नौ तसनीफ़ रसाइल उम्दा और ख़ुशख़त छाप कर मुल्क में मुफ़्त शाय किए जाएं।
(8) शहरों शहरों आप के सफ़ीर निगरान रहें, जहां जिस किस्म के वाअइज़ या मुनाज़िर या तसनीफ़ की हाजत हो आपको इत्तिला दें। आप सर कोबे आदा(यानी दुश्मनों के रद्द ) के लिए अपनी फ़ौजें, मैगज़ीन रिसाले भेजते रहें।
(9) जो हम में काबिल कार, मौजूद और अपनी मआश में मशग़ूल हैं वज़ाइफ़ मुक़र्रर करके फ़ारिग़ु उलबाल(यानी ख़ुशहाल ) बनाए जाएं, और जिस काम में उन्हें महारत हो लगाए जाएं।
(10) आपके मज़हबी अख़बार शाय हो और वक़तन फ़वक़तन हर किस्म के हिमायत मज़हब में मज़ामीन तमाम मुल्क में बकीमत व बिला क़ीमत रोज़ाना या कम अज़ कम हफ़्ता-वार पहुंचाते रहें
(फतावा रिज़वीया,ज29،स599)
अबदे मुस्तफ़ा दानिश शाहान
(1) अज़िम उश्शान मदारिस खोले जाएं, बाक़ायदा तालीमें हो
(2) तलबा को वज़ाइफ़ मिलें कि ख़्वाही नख़्वाही गरवीदा (यानी माइल) हो
(3) मुदर्रिसों की बेश क़रार (यानी माक़ूल) तनख़्वाहें उन की कार्यवाईयों पर दी जाएं कि लालच से जान तोड़ कर कोशिश करें
(4) तबाइअ तलबा (यानी तलबा की सलाहीयतों) की जांच हो जो जिस काम के ज़्यादा मुनासिब देखा जाये माक़ूल वज़ीफ़ा देकर उस में लगाया जाये। यूं उन में कुछ मुदर्रिसीन बनाए जाएं, कुछ वाइज़ीन, कुछ मुसन्निफ़ीन, कुछ मुनाज़िरीन, फिर तसनीफ़-ओ-मुनाज़रा में भी तोज़ेइ (तक़सीम कारी) हो, कोई किसी फ़न पर कोई किसी पर।
(5) इन में जो तय्यार होते जाएं तनख़्वाहें देकर मुल्क में फैलाए जाएं कि तहरीरन व तकरीरं व वाज़न व मुनाज़रन इशाअत-ए-दीन-ओ-मज़हब करें।
(6) हिमायत ए (मज़हब) व रद्दे बद मज़हबां में मुफ़ीद कुतुब-ओ-रसाइल मुसन्नफ़ों को नज़राने देकर तसनीफ़ कराए जाएं।
(7) तसनीफ़ शूदा और नौ तसनीफ़ रसाइल उम्दा और ख़ुशख़त छाप कर मुल्क में मुफ़्त शाय किए जाएं।
(8) शहरों शहरों आप के सफ़ीर निगरान रहें, जहां जिस किस्म के वाअइज़ या मुनाज़िर या तसनीफ़ की हाजत हो आपको इत्तिला दें। आप सर कोबे आदा(यानी दुश्मनों के रद्द ) के लिए अपनी फ़ौजें, मैगज़ीन रिसाले भेजते रहें।
(9) जो हम में काबिल कार, मौजूद और अपनी मआश में मशग़ूल हैं वज़ाइफ़ मुक़र्रर करके फ़ारिग़ु उलबाल(यानी ख़ुशहाल ) बनाए जाएं, और जिस काम में उन्हें महारत हो लगाए जाएं।
(10) आपके मज़हबी अख़बार शाय हो और वक़तन फ़वक़तन हर किस्म के हिमायत मज़हब में मज़ामीन तमाम मुल्क में बकीमत व बिला क़ीमत रोज़ाना या कम अज़ कम हफ़्ता-वार पहुंचाते रहें
(फतावा रिज़वीया,ज29،स599)
अबदे मुस्तफ़ा दानिश शाहान
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
نظامِ تعلیم کے متعلق اعلیٰ حضرت کے نظریات
(1) عظیمُ الشّان مَدارِس کھولے جائیں، باقاعدہ تعلیمیں ہوں۔
(2) طَلَبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گرویدہ (یعنی مائل) ہوں۔
(3) مُدَرِّسوں کی بیش قرار (یعنی معقول) تنخواہیں اُن کی کارروائیوں پر دی جائیں کہ لالچ سے جان توڑ کر کوشش کریں۔
(4) طبائع طَلَبہ(یعنی طَلَبہ کی صلاحیتوں) کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دے کر اُس میں لگایا جائے۔ یوں اُن میں کچھ مُدَرِّسین بنائے جائیں، کچھ واعظین، کچھ مصنّفین، کچھ مناظرین، پھر تصنیف و مُناظَرہ میں بھی توزیع (تقسیم کاری) ہو، کوئی کسی فن پر کوئی کسی پر۔
(5) اُن میں جو تیّار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریراً وتقریراً ووَعْظاً و مُناظَرَۃً اِشاعتِ دین و مذہب کریں۔
(6) حمایتِ (مذہب) و رَدِّ بد مذہباں میں مُفید کُتُب و رسائل مُصنّفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں۔
(7) تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوش خط چھاپ کر ملک میں مفت شائع کئے جائیں۔
(8) شہروں شہروں آپ کےسفیرنگران رہیں، جہاں جس قسم کے واعِظ یا مُناظِر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں۔ آپ سر کوبیِ اعداء (یعنی دشمنوں کے رد) کے لئے اپنی فوجیں، میگزین رسالےبھیجتے رہیں۔
(9) جو ہم میں قابل کار، موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں وظائف مُقرّر کرکے فارِغُ البال(یعنی خوشحال) بنائے جائیں، اور جس کام میں اُنہیں مہارت ہو لگائے جائیں۔
(10) آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتاً فوقتاً ہر قسم کے حمایت ِمذہب میں مضامین تمام ملک میں بقیمت و بلا قیمت روزانہ یا کم از کم ہفتہ وار پہنچاتے رہیں۔
(فتاوی رضویہ،ج 29،ص599)
عبد مصطفیٰ دانش شاہان
(1) عظیمُ الشّان مَدارِس کھولے جائیں، باقاعدہ تعلیمیں ہوں۔
(2) طَلَبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گرویدہ (یعنی مائل) ہوں۔
(3) مُدَرِّسوں کی بیش قرار (یعنی معقول) تنخواہیں اُن کی کارروائیوں پر دی جائیں کہ لالچ سے جان توڑ کر کوشش کریں۔
(4) طبائع طَلَبہ(یعنی طَلَبہ کی صلاحیتوں) کی جانچ ہو جو جس کام کے زیادہ مناسب دیکھا جائے معقول وظیفہ دے کر اُس میں لگایا جائے۔ یوں اُن میں کچھ مُدَرِّسین بنائے جائیں، کچھ واعظین، کچھ مصنّفین، کچھ مناظرین، پھر تصنیف و مُناظَرہ میں بھی توزیع (تقسیم کاری) ہو، کوئی کسی فن پر کوئی کسی پر۔
(5) اُن میں جو تیّار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریراً وتقریراً ووَعْظاً و مُناظَرَۃً اِشاعتِ دین و مذہب کریں۔
(6) حمایتِ (مذہب) و رَدِّ بد مذہباں میں مُفید کُتُب و رسائل مُصنّفوں کو نذرانے دے کر تصنیف کرائے جائیں۔
(7) تصنیف شدہ اور نو تصنیف رسائل عمدہ اور خوش خط چھاپ کر ملک میں مفت شائع کئے جائیں۔
(8) شہروں شہروں آپ کےسفیرنگران رہیں، جہاں جس قسم کے واعِظ یا مُناظِر یا تصنیف کی حاجت ہو آپ کو اطلاع دیں۔ آپ سر کوبیِ اعداء (یعنی دشمنوں کے رد) کے لئے اپنی فوجیں، میگزین رسالےبھیجتے رہیں۔
(9) جو ہم میں قابل کار، موجود اور اپنی معاش میں مشغول ہیں وظائف مُقرّر کرکے فارِغُ البال(یعنی خوشحال) بنائے جائیں، اور جس کام میں اُنہیں مہارت ہو لگائے جائیں۔
(10) آپ کے مذہبی اخبار شائع ہوں اور وقتاً فوقتاً ہر قسم کے حمایت ِمذہب میں مضامین تمام ملک میں بقیمت و بلا قیمت روزانہ یا کم از کم ہفتہ وار پہنچاتے رہیں۔
(فتاوی رضویہ،ج 29،ص599)
عبد مصطفیٰ دانش شاہان
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟ (پارٹ 3) عورت، اسلام سے پہلے اسلام سے پہلے عورتوں کا حال بہت خراب تھا۔ دنیا میں عورتوں کی کوئی عزت و وقعت ہی نہیں تھی۔ مردوں کی نظر میں اس سے زیادہ عورتوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی کہ وہ مردوں کی نفسانی خواہش پوری کرنے کا ایک…
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟
(پارٹ 4)
عورت، اسلام کے بعد
جب ہمارے رسول رحمت حضرت محمد مصطفی ﷺ خدا کی طرف سے ''دین اسلام'' لے کر تشریف لائے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا، اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی اور روندی ہوئی عورتوں کادرجہ اس قدر بلند و بالا ہوگیا کہ عبادات و معاملات بلکہ زندگی اور موت کے ہر مرحلے اور ہر موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں اور مردوں کی برابری کے درجہ پر پہنچ گئیں۔
مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر ہوگئے اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے خداوندی قانون آسمان سے نازل ہوگئے اوران کے حقوق دلانے کے لیے اسلامی قانون کی ماتحتی میں عدالتیں قائم ہوگئیں۔ عورتوں کو مالکانہ حقوق حاصل ہوگئے۔ چنانچہ عورتیں اپنے مہر کی رقموں، اپنی تجارتوں، اپنی جائدادوں کی مالک بنادی گئیں اور اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اولاد اور شوہر کی میراثوں کی وارث قرار دی گئیں۔
غرض وہ عورتیں جو مردوں کی جوتیوں سے زیادہ ذلیل و خوار اور انتہائی مجبور و لاچار تھیں وہ مردوں کے دلوں کا سکون اور ان کے گھروں کی ملکہ بن گئیں چنانچہ قرآن مجید نے صاف صاف لفظوں میں اعلان فرمادیا کہ:
خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیہا و جعل بینکم مودۃ و رحمۃ
''اللہ نے تمہارے لیے تمھاری جنس سے بیویاں پیدا کر دیں تاکہ تمھیں ان سے تسکین حاصل ہو اور اس نے تمھارے درمیان محبت و شفقت پیدا کردی۔'' (پ21، روم:21)
اب کوئی مرد بلا وجہ نہ عورتوں کو مار پیٹ سکتا ہے نہ ان کو گھروں سے نکال سکتا ہے اور نہ کوئی ان کے مال و اسباب یا جائدادوں کو چھین سکتا ہے بلکہ ہر مرد مذہبی طور پر عورتوں کے حقوق ادا کرنے پر مجبور ہے چنانچہ خداوند قدوس نے قرآن مجید میں فرمایا کہ:
ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف
''عورتوں اور مردوں پر ایسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر اچھے سلوک کے ساتھ۔'' (پ2،البقرہ:228)
اور مرد کے لیے فرمان جاری فرمادیا کہ:
وعاشروہن بالمعروف
''اور اچھے سلوک سے عورتوں کے ساتھ زندگی بسر کرو۔'' (پ4،النساء:19)
تمام دنیا دیکھ لے کہ دین اسلام نے میاں بیوی کی اجتماعی زندگی کی صدارت اگرچہ مرد کو عطا فرمائی ہے اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنادیا ہے تاکہ نظام خانہ داری میں اگر کوئی بڑی مشکل آن پڑے تو مرد اپنی خداداد طاقت و صلاحیت سے اس مشکل کو حل کردےلیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں مردوں کے کچھ حقوق عورتوں پر واجب کر دیے ہیں، وہاں عورتوں کے بھی کچھ حقوق مردوں پر لازم ٹھہرا دیے گئے ہیں۔ اس لیے عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے حقوق میں جکڑے ہوئے ہیں تاکہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کر کے اپنی اجتماعی زندگی کو شادمانی و مسرت کی جنت بنادیں اور نفاق و شقاق اور لڑائی جھگڑوں کے جہنم سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائیں۔
عورتوں کو درجات و مراتب کی اتنی بلند منزلوں پر پہنچا دینا یہ حضور نبی رحمت ﷺ کا وہ احسان عظیم ہے کہ تمام دنیا کی عورتیں اگر اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس احسان کا شکریہ ادا کرتی رہیں پھر بھی وہ اس عظیم الشان احسان کی شکر گزاری کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو سکتیں۔ سبحان اللہ! تمام دنیا کے محسن اعظم حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان رحمت کا کیا کہنا!
(ماخوذ از جنتی زیور)
جاری...
عبد مصطفی آفیشل
(پارٹ 4)
عورت، اسلام کے بعد
جب ہمارے رسول رحمت حضرت محمد مصطفی ﷺ خدا کی طرف سے ''دین اسلام'' لے کر تشریف لائے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا، اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی اور روندی ہوئی عورتوں کادرجہ اس قدر بلند و بالا ہوگیا کہ عبادات و معاملات بلکہ زندگی اور موت کے ہر مرحلے اور ہر موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں اور مردوں کی برابری کے درجہ پر پہنچ گئیں۔
مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر ہوگئے اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے خداوندی قانون آسمان سے نازل ہوگئے اوران کے حقوق دلانے کے لیے اسلامی قانون کی ماتحتی میں عدالتیں قائم ہوگئیں۔ عورتوں کو مالکانہ حقوق حاصل ہوگئے۔ چنانچہ عورتیں اپنے مہر کی رقموں، اپنی تجارتوں، اپنی جائدادوں کی مالک بنادی گئیں اور اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اولاد اور شوہر کی میراثوں کی وارث قرار دی گئیں۔
غرض وہ عورتیں جو مردوں کی جوتیوں سے زیادہ ذلیل و خوار اور انتہائی مجبور و لاچار تھیں وہ مردوں کے دلوں کا سکون اور ان کے گھروں کی ملکہ بن گئیں چنانچہ قرآن مجید نے صاف صاف لفظوں میں اعلان فرمادیا کہ:
خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیہا و جعل بینکم مودۃ و رحمۃ
''اللہ نے تمہارے لیے تمھاری جنس سے بیویاں پیدا کر دیں تاکہ تمھیں ان سے تسکین حاصل ہو اور اس نے تمھارے درمیان محبت و شفقت پیدا کردی۔'' (پ21، روم:21)
اب کوئی مرد بلا وجہ نہ عورتوں کو مار پیٹ سکتا ہے نہ ان کو گھروں سے نکال سکتا ہے اور نہ کوئی ان کے مال و اسباب یا جائدادوں کو چھین سکتا ہے بلکہ ہر مرد مذہبی طور پر عورتوں کے حقوق ادا کرنے پر مجبور ہے چنانچہ خداوند قدوس نے قرآن مجید میں فرمایا کہ:
ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف
''عورتوں اور مردوں پر ایسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر اچھے سلوک کے ساتھ۔'' (پ2،البقرہ:228)
اور مرد کے لیے فرمان جاری فرمادیا کہ:
وعاشروہن بالمعروف
''اور اچھے سلوک سے عورتوں کے ساتھ زندگی بسر کرو۔'' (پ4،النساء:19)
تمام دنیا دیکھ لے کہ دین اسلام نے میاں بیوی کی اجتماعی زندگی کی صدارت اگرچہ مرد کو عطا فرمائی ہے اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنادیا ہے تاکہ نظام خانہ داری میں اگر کوئی بڑی مشکل آن پڑے تو مرد اپنی خداداد طاقت و صلاحیت سے اس مشکل کو حل کردےلیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں مردوں کے کچھ حقوق عورتوں پر واجب کر دیے ہیں، وہاں عورتوں کے بھی کچھ حقوق مردوں پر لازم ٹھہرا دیے گئے ہیں۔ اس لیے عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے حقوق میں جکڑے ہوئے ہیں تاکہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کر کے اپنی اجتماعی زندگی کو شادمانی و مسرت کی جنت بنادیں اور نفاق و شقاق اور لڑائی جھگڑوں کے جہنم سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائیں۔
عورتوں کو درجات و مراتب کی اتنی بلند منزلوں پر پہنچا دینا یہ حضور نبی رحمت ﷺ کا وہ احسان عظیم ہے کہ تمام دنیا کی عورتیں اگر اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس احسان کا شکریہ ادا کرتی رہیں پھر بھی وہ اس عظیم الشان احسان کی شکر گزاری کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو سکتیں۔ سبحان اللہ! تمام دنیا کے محسن اعظم حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان رحمت کا کیا کہنا!
(ماخوذ از جنتی زیور)
جاری...
عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM