Forwarded from Urdu Tahrir
*(1)ولادتِ باسَعادت*
شیخِ طریقت، امیرِاَہلسنّت ،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد اِلیاس عطّارؔقادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہٍْ کی ولادتِ باسعادت ۲۶رَمَضانُ المبارَک ۱۳۶۹ھ مطابق 12جولائی 1950ء بروزبدھ پاکستان کے مشہور شہر باب المدینہ(کراچی) کے علاقہ بمبئی بازارکھارا در میں وقتِ مغرب سے کچھ دیر قبل ہوئی
*(2)ولدیت*
حاجی عبدالرَحمن قادِری بن عبدالرحیم
*(3)نام و نسب*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کا اسمِ گرامی محمد ہے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کا عُرفی نام الیاس ہے حضور سیِّدُنا غوث الاعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ْکے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہونے کی نسبت سے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ قادِری،امامِ اہلسنّت مجدّدِ دین وملت اِمام احمد رضا خان عَلَیْہ ِرَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ (جو امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے دادا پیر بھی ہیں )کی تحقیقاتِ انیقہ پر مکمل کار بند ہونے اور والہانہ عقیدت و محبت کی بنا پر رَضَوی،اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت، قطبِ مدینہ، حضرت مولانا ضیاء ُالدِّین مدنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہ ِالْغَنِیْ کے مُرید ہونے کی نسبت سےضیائی کہلاتے ہیں اعتقاد کے اعتبار سے سچے پکے سُنّی اور فقہ میں آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ ائمہ اربعہ (یعنی امامِ اعظم ابوحنیفہ امام شافعی،امام مالک ،امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِمْ) میں سے امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کے پیروکار ہیں اس نسبت سےحنفی ہیں
*(4)کُنْیَتْ و تَخَلُّصْ*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی کُنْیَت ابو بلال اور تَخَلُّصْ عطّاؔر ہے
*(5)میں عطّاؔر کیسے بنا؟*
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ نے ایک مَدَنی مذاکرے میں جو کچھ ارشاد فرمایا اُس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:’’ میں عطّاؔر کیسے بنا ؟ یہ بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے میں اُن دنوں میں نُور مسجد ( کاغذی بازار باب المدینہ کراچی ) میں اِمامت کرتا تھا دعوت اسلامی کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا مجھے شاعری کا شوق اس وقت بھی تھا میں نے غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کی بارگاہ میں ایک سلام لکھا تھا؛
*سلطان اولیاء کو ہمارا سلام ہو*
*جیلاں کے پیشوا کو ہمارا سلام ہو*
پھر کسی طرح میں نے غالباً30 روپے میں ایک ہزار پرچے خوبصورت (فریم میں لگائے جانے والے) چھپوائے تاکہ انہیں مفت بانٹ سکوں ایک بار میرے پاس ایک شیوڈ نوجوان مجھے ڈھونڈتا ہوا نور مسجد آیا اور مجھ سے یہ پرچہ مانگا میں نے اسے اپنے مختصر سے حجرے میں بٹھایا اور اس پر انفرادی کوشش بھی کی اس دوران پتا چلا کہ اُس کا عطر کا ہول سیل کا کاروبار ہے مجھے عطر لگانے کا بہت شوق تھا میں نے اُسے اپنے اِس شوق کے بارے میں بتایا تو اُس نے مجھے اپنی دکان کا پتا سمجھایا میں اُس کی دکان پر عطر خریدنے گیا تو مجھے بہت سستا محسوس ہو میں نے کچھ خالی شیشیاں خریدیں اور ہول سیل میں عطر خرید کر وہ شیشیاں بھریں اور عطر بیچنا شروع کر دیا عطر کے کام کی نسبت سے میں نے اپنا تخلص عطّاؔر رکھا یوں میں عطّاؔر بن گیا اس میں ایک بہت بڑے بزرگ (جو’’تذکرۃ الاولیاء‘‘کے مؤلف بھی ہیں ) حضرت سیدنا شیخ فرید الدین عطّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارْ کی نسبت بھی ہے یہ تخلص اتنا مشہور ہوا کہ لوگ مجھے الیاس کم اور عطّاؔر زیادہ کہتے ہیں
*(مدنی مذاکرہ، نمبر 26)*
اَلقابات پاک وہند کے علماء و عوام میں آپ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْکے لَقَب سے مشہور ہیں مُریدین آپ کا نامِ نامی لینے سے پہلے عموماًشیخِ طریقت کا اضافہ کرتے ہیں بعض اوقات آپ کو’’ حضرت صاحب‘‘ کہہ کر بھی یاد کیا جاتا ہے،تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی ہونے کی وجہ سے آپ کو ’’بانیٔ دعوتِ اسلامی بھی کہا جاتا ہے آپ کے شہزادگان اور قُربِ خاص کی برکتیں پانے والے متعدد اسلامی بھائی آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْسے عرض و معروض کے وقت ’’باپا‘‘کے اپنائیت بھرے لفظ سے بھی پُکارتے ہیں پاک و ہند کے مختلف علماء کرام ومفتیانِ عِظام دَامَتْ فُیُوْضُھُمْ نے مختلف مواقع پر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کو جن اَلقابات سے تحریراً یاد کیا ہے ،ان میں سے چند ملاحظہ ہوں :
عالمِ نبیل،فاضل جلیل،عاشق رسول مقبول ،یادگار اسلاف،نمونہ اسلاف،مبلغ اسلام رھبرقوم،عاشق مدینہ،فدائےمدینہ،فدائےغوث الوریٰ،فدائے سیدنا امام احمد رضا(رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ)صاحب تقویٰ، مسلک اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کےعظیم ناشر و مبلغ و پاسبان ترجمان،صاحب المجدوالجاہ،فیض رساں،عمیم الجودوالاحسان،امیر دعوت اسلامی،امیر اھل سنت،فخر اھل سنت،نائب غوث اعظم،نائب اعلیٰ حضرت (رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ)پیکر سنت،حامی سنت،ماحی بدعت،شیخ وقت،پیر طریقت،امیرملت،وغیرہ۔
.
شیخِ طریقت، امیرِاَہلسنّت ،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد اِلیاس عطّارؔقادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہٍْ کی ولادتِ باسعادت ۲۶رَمَضانُ المبارَک ۱۳۶۹ھ مطابق 12جولائی 1950ء بروزبدھ پاکستان کے مشہور شہر باب المدینہ(کراچی) کے علاقہ بمبئی بازارکھارا در میں وقتِ مغرب سے کچھ دیر قبل ہوئی
*(2)ولدیت*
حاجی عبدالرَحمن قادِری بن عبدالرحیم
*(3)نام و نسب*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کا اسمِ گرامی محمد ہے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کا عُرفی نام الیاس ہے حضور سیِّدُنا غوث الاعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ْکے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہونے کی نسبت سے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ قادِری،امامِ اہلسنّت مجدّدِ دین وملت اِمام احمد رضا خان عَلَیْہ ِرَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ (جو امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے دادا پیر بھی ہیں )کی تحقیقاتِ انیقہ پر مکمل کار بند ہونے اور والہانہ عقیدت و محبت کی بنا پر رَضَوی،اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت، قطبِ مدینہ، حضرت مولانا ضیاء ُالدِّین مدنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہ ِالْغَنِیْ کے مُرید ہونے کی نسبت سےضیائی کہلاتے ہیں اعتقاد کے اعتبار سے سچے پکے سُنّی اور فقہ میں آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ ائمہ اربعہ (یعنی امامِ اعظم ابوحنیفہ امام شافعی،امام مالک ،امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِمْ) میں سے امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کے پیروکار ہیں اس نسبت سےحنفی ہیں
*(4)کُنْیَتْ و تَخَلُّصْ*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی کُنْیَت ابو بلال اور تَخَلُّصْ عطّاؔر ہے
*(5)میں عطّاؔر کیسے بنا؟*
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ نے ایک مَدَنی مذاکرے میں جو کچھ ارشاد فرمایا اُس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:’’ میں عطّاؔر کیسے بنا ؟ یہ بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے میں اُن دنوں میں نُور مسجد ( کاغذی بازار باب المدینہ کراچی ) میں اِمامت کرتا تھا دعوت اسلامی کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا مجھے شاعری کا شوق اس وقت بھی تھا میں نے غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کی بارگاہ میں ایک سلام لکھا تھا؛
*سلطان اولیاء کو ہمارا سلام ہو*
*جیلاں کے پیشوا کو ہمارا سلام ہو*
پھر کسی طرح میں نے غالباً30 روپے میں ایک ہزار پرچے خوبصورت (فریم میں لگائے جانے والے) چھپوائے تاکہ انہیں مفت بانٹ سکوں ایک بار میرے پاس ایک شیوڈ نوجوان مجھے ڈھونڈتا ہوا نور مسجد آیا اور مجھ سے یہ پرچہ مانگا میں نے اسے اپنے مختصر سے حجرے میں بٹھایا اور اس پر انفرادی کوشش بھی کی اس دوران پتا چلا کہ اُس کا عطر کا ہول سیل کا کاروبار ہے مجھے عطر لگانے کا بہت شوق تھا میں نے اُسے اپنے اِس شوق کے بارے میں بتایا تو اُس نے مجھے اپنی دکان کا پتا سمجھایا میں اُس کی دکان پر عطر خریدنے گیا تو مجھے بہت سستا محسوس ہو میں نے کچھ خالی شیشیاں خریدیں اور ہول سیل میں عطر خرید کر وہ شیشیاں بھریں اور عطر بیچنا شروع کر دیا عطر کے کام کی نسبت سے میں نے اپنا تخلص عطّاؔر رکھا یوں میں عطّاؔر بن گیا اس میں ایک بہت بڑے بزرگ (جو’’تذکرۃ الاولیاء‘‘کے مؤلف بھی ہیں ) حضرت سیدنا شیخ فرید الدین عطّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارْ کی نسبت بھی ہے یہ تخلص اتنا مشہور ہوا کہ لوگ مجھے الیاس کم اور عطّاؔر زیادہ کہتے ہیں
*(مدنی مذاکرہ، نمبر 26)*
اَلقابات پاک وہند کے علماء و عوام میں آپ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْکے لَقَب سے مشہور ہیں مُریدین آپ کا نامِ نامی لینے سے پہلے عموماًشیخِ طریقت کا اضافہ کرتے ہیں بعض اوقات آپ کو’’ حضرت صاحب‘‘ کہہ کر بھی یاد کیا جاتا ہے،تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی ہونے کی وجہ سے آپ کو ’’بانیٔ دعوتِ اسلامی بھی کہا جاتا ہے آپ کے شہزادگان اور قُربِ خاص کی برکتیں پانے والے متعدد اسلامی بھائی آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْسے عرض و معروض کے وقت ’’باپا‘‘کے اپنائیت بھرے لفظ سے بھی پُکارتے ہیں پاک و ہند کے مختلف علماء کرام ومفتیانِ عِظام دَامَتْ فُیُوْضُھُمْ نے مختلف مواقع پر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کو جن اَلقابات سے تحریراً یاد کیا ہے ،ان میں سے چند ملاحظہ ہوں :
عالمِ نبیل،فاضل جلیل،عاشق رسول مقبول ،یادگار اسلاف،نمونہ اسلاف،مبلغ اسلام رھبرقوم،عاشق مدینہ،فدائےمدینہ،فدائےغوث الوریٰ،فدائے سیدنا امام احمد رضا(رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ)صاحب تقویٰ، مسلک اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کےعظیم ناشر و مبلغ و پاسبان ترجمان،صاحب المجدوالجاہ،فیض رساں،عمیم الجودوالاحسان،امیر دعوت اسلامی،امیر اھل سنت،فخر اھل سنت،نائب غوث اعظم،نائب اعلیٰ حضرت (رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ)پیکر سنت،حامی سنت،ماحی بدعت،شیخ وقت،پیر طریقت،امیرملت،وغیرہ۔
.
Forwarded from Urdu Tahrir
*(6)میمن گھرانا*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ نے میمن گھرانے میں آنکھ کھولی ایک بار دوران مدنی مذاکرہ خودارشادفرمایا ’’ ہند (انڈیا) میں ہندوقوم’’لوہانہ‘‘کی طرف غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کی اولاد میں سے ایک بُزُرگ سیِّدنا یوسُفُ الدین عَلَیْہِ رَ حْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن تشریف لائے اور لَوہانہ قوم میں نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچائیں جس کی بَرَکت سے ہماری برادری کے لوگ مسلمان ہوئے اور ’’مُومِن‘‘لقب پایا،جو بعد میں مومِن سے تبدیل ہوکر’’ میمن‘‘ہو گیا)
*رسالہ ابتدائی حالات،ص۱)*
.
https://t.me/SirfUrduTahrir/825
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ نے میمن گھرانے میں آنکھ کھولی ایک بار دوران مدنی مذاکرہ خودارشادفرمایا ’’ ہند (انڈیا) میں ہندوقوم’’لوہانہ‘‘کی طرف غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کی اولاد میں سے ایک بُزُرگ سیِّدنا یوسُفُ الدین عَلَیْہِ رَ حْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن تشریف لائے اور لَوہانہ قوم میں نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچائیں جس کی بَرَکت سے ہماری برادری کے لوگ مسلمان ہوئے اور ’’مُومِن‘‘لقب پایا،جو بعد میں مومِن سے تبدیل ہوکر’’ میمن‘‘ہو گیا)
*رسالہ ابتدائی حالات،ص۱)*
.
https://t.me/SirfUrduTahrir/825
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
http://T.me/SirfUrduTahrir
.
*امیرِ اہلسنت محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کے آباؤ اجداد*
*آپ کے آباؤ اجداد:*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے آباواَجدادہند کے گاؤں ’’کُتیانہ‘‘(جُوناگڑھ)میں مقیم تھے۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے دادا جان ’’عبدالرحیم‘‘ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم کی نیک نامی اورپارسائی پورے ’’کتیانہ ‘‘ میں مشہورتھی اورہر سُو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کے حسنِ اخلاق کے چرچے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ انتہائی سادہ طبیعت اور مُنْکَسِرُالْمِزاج تھے۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے مرحوم نانا جان کا نام حاجی محمد ہاشِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ اور نانی جان کانام حلیمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہَا تھا۔
*والد ین کریمین:*
امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْکے والدِبُزرگوارحاجی عبدالرَحمن قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُاللہ ِ الْھَادِیْ پرہیزگار انسان تھے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ!سنّت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی تھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ اکثر نگاہیں نیچی رکھ کر چلا کرتے تھے اور انہیں بہت سی اَحادیثِ مبارَکہ زبانی یاد تھیں۔ دُنیوی مال ودولت جمع کرنے کا لالچ نہیں تھا۔ امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی والدۂ ماجدہ امینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہَا ایک نیک اور پرہیزگار خاتون تھیں۔
والد ین کی ہجرت:
جب پاکستان معرضِ وُجود میں آیا توغیر مسلموں نے مسلمانوں کو خوب لُوٹااور بے شمار مسلمانوں کو نہایت ہی بے دردی و سفّاکی کے ساتھ شہید کردیا گیا۔ ان نامُساعد حالات میں جُوں توں جان بچا کر امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدین ماجدین ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے اور بابُ الْمدینہ(کراچی) میں قیام پذیرہوئے ۔یہاں والدِ محترم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ نے حُصولِ مُعاش کیلئے ایک فرْم میں ملازمت اختیار کرلی۔ اس فرْم کی ایک شاخ’’سیلون‘‘کےدارالخلافہ’’کولمبو‘‘ میں بھی تھی،کچھ ہی عرصے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کا تبادلہ ’’کولمبو‘‘ کردیا گیا۔
والد محترم کی کَرامت:
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدِ بُزُرگوارعَلَیْہِ رَحْمَۃُالْغَفَّارْسلسلۂ عالیہ قادِریہ کے صاحبِ کرامت بُزُرگ تھے۔1979ء میں جب شَیخِ طریقت امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ ’’کولمبو‘‘ تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں کو والدصاحب سے بَہُت متأثر پایا۔کیونکہ انہوں نے وہاں کی عالیشان حَنَفی میمن مسجد کے انتظامات سنبھالے تھے اور اس مسجد کی کافی خدمت بھی کی تھی۔ وہاں پر امام صاحب کی غیر حاضری میں نمازیں بھی پڑھادیا کرتے تھے ۔کولمبو میں قیام کے دوران امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے خالو نے دورانِ گفتگو آپ کو بتایا کہ ’’آپ کے والد صاحب بہت نیک آدمی تھے ،غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کےبہت چاہنے والے اور قصیدۂ غوثیہ کے عامل تھے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب کبھی چار پائی پر بیٹھ کر آپ کے والد صاحبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ ’’قصیدۂ غوثیہ‘ ‘پڑھتے تو ان کی چار پائی زمین سے بلند ہو جاتی تھی۔‘‘(سُبْحَانَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ)
والدِ بُزرگوار کا وِصال:
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی عمرڈیڑھ یا دو برس کی تھی جب کہ آپ کے والدبُزرگوار کو مدینے شریف کا بُلاوا آیا۔ چنانچہ ۱۳۷۰ ھ میں انہوں نے سفرِ حج اختیار کیا۔والد صاحب کے سوئے عَرَب روانہ ہونے کے وقت امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کو بخار تھا اور آپ کو ایک کمبل میں لپیٹ کر والد ِ مرحوم کو اَلوداع کرنے کے لئے ائیرپورٹ لایا گیا ۔ اَیّامِ حج میں مِنٰی شریف میں سخت لوُ (یعنی گرم ہوا) چلی تھی جس کے نتیجے میں بے شمار حجاج کرام شہید اوربہت سے لاپتہ ہوگئے ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدِ محترم بھی لاپتہ ہونے والوں میں شامل تھے،جو تلاش بسیا ر کے بعدبھی نہ مل سکے۔اُن کے ایک رفیق سفر کا بیان ہے کہ اُن دنوں شیر بیشۂ اہلسنّت ،حضرت ِ مولاناحشمت علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُاللہالْمَنَّانْ بھی حج کیلئے آئے ہوئے تھے۔ ہم نے اُن کی خدمت میں حاضر ہوکرمدعا عرض کیا اور عرض کی کہ’’آپ دعا کردیں کہ حاجی عبدالرحمن ہمیں مل جائیں۔ ‘‘انہوں نے دعا کی اور فرمایا کہ مل جائیں گے(اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ) ۔ بالآخروہ ہمیں جدّہ شریف کے ایک ہسپتال میں سخت علالت کی حالت میں ملے۔ انہیں لُو لگ گئی تھی اور اِسی حالت میں وہ۱۴ذوالْحِجَّۃِ الْحَرام ۱۳۷۰ ھ کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ (اِنَّا لِلّٰہِ واِنّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْن)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
خو
.
*امیرِ اہلسنت محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کے آباؤ اجداد*
*آپ کے آباؤ اجداد:*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے آباواَجدادہند کے گاؤں ’’کُتیانہ‘‘(جُوناگڑھ)میں مقیم تھے۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے دادا جان ’’عبدالرحیم‘‘ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم کی نیک نامی اورپارسائی پورے ’’کتیانہ ‘‘ میں مشہورتھی اورہر سُو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کے حسنِ اخلاق کے چرچے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ انتہائی سادہ طبیعت اور مُنْکَسِرُالْمِزاج تھے۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے مرحوم نانا جان کا نام حاجی محمد ہاشِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ اور نانی جان کانام حلیمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہَا تھا۔
*والد ین کریمین:*
امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْکے والدِبُزرگوارحاجی عبدالرَحمن قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُاللہ ِ الْھَادِیْ پرہیزگار انسان تھے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ!سنّت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی تھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ اکثر نگاہیں نیچی رکھ کر چلا کرتے تھے اور انہیں بہت سی اَحادیثِ مبارَکہ زبانی یاد تھیں۔ دُنیوی مال ودولت جمع کرنے کا لالچ نہیں تھا۔ امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی والدۂ ماجدہ امینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہَا ایک نیک اور پرہیزگار خاتون تھیں۔
والد ین کی ہجرت:
جب پاکستان معرضِ وُجود میں آیا توغیر مسلموں نے مسلمانوں کو خوب لُوٹااور بے شمار مسلمانوں کو نہایت ہی بے دردی و سفّاکی کے ساتھ شہید کردیا گیا۔ ان نامُساعد حالات میں جُوں توں جان بچا کر امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدین ماجدین ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے اور بابُ الْمدینہ(کراچی) میں قیام پذیرہوئے ۔یہاں والدِ محترم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ نے حُصولِ مُعاش کیلئے ایک فرْم میں ملازمت اختیار کرلی۔ اس فرْم کی ایک شاخ’’سیلون‘‘کےدارالخلافہ’’کولمبو‘‘ میں بھی تھی،کچھ ہی عرصے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کا تبادلہ ’’کولمبو‘‘ کردیا گیا۔
والد محترم کی کَرامت:
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدِ بُزُرگوارعَلَیْہِ رَحْمَۃُالْغَفَّارْسلسلۂ عالیہ قادِریہ کے صاحبِ کرامت بُزُرگ تھے۔1979ء میں جب شَیخِ طریقت امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ ’’کولمبو‘‘ تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں کو والدصاحب سے بَہُت متأثر پایا۔کیونکہ انہوں نے وہاں کی عالیشان حَنَفی میمن مسجد کے انتظامات سنبھالے تھے اور اس مسجد کی کافی خدمت بھی کی تھی۔ وہاں پر امام صاحب کی غیر حاضری میں نمازیں بھی پڑھادیا کرتے تھے ۔کولمبو میں قیام کے دوران امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے خالو نے دورانِ گفتگو آپ کو بتایا کہ ’’آپ کے والد صاحب بہت نیک آدمی تھے ،غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کےبہت چاہنے والے اور قصیدۂ غوثیہ کے عامل تھے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب کبھی چار پائی پر بیٹھ کر آپ کے والد صاحبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ ’’قصیدۂ غوثیہ‘ ‘پڑھتے تو ان کی چار پائی زمین سے بلند ہو جاتی تھی۔‘‘(سُبْحَانَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ)
والدِ بُزرگوار کا وِصال:
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی عمرڈیڑھ یا دو برس کی تھی جب کہ آپ کے والدبُزرگوار کو مدینے شریف کا بُلاوا آیا۔ چنانچہ ۱۳۷۰ ھ میں انہوں نے سفرِ حج اختیار کیا۔والد صاحب کے سوئے عَرَب روانہ ہونے کے وقت امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کو بخار تھا اور آپ کو ایک کمبل میں لپیٹ کر والد ِ مرحوم کو اَلوداع کرنے کے لئے ائیرپورٹ لایا گیا ۔ اَیّامِ حج میں مِنٰی شریف میں سخت لوُ (یعنی گرم ہوا) چلی تھی جس کے نتیجے میں بے شمار حجاج کرام شہید اوربہت سے لاپتہ ہوگئے ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدِ محترم بھی لاپتہ ہونے والوں میں شامل تھے،جو تلاش بسیا ر کے بعدبھی نہ مل سکے۔اُن کے ایک رفیق سفر کا بیان ہے کہ اُن دنوں شیر بیشۂ اہلسنّت ،حضرت ِ مولاناحشمت علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُاللہالْمَنَّانْ بھی حج کیلئے آئے ہوئے تھے۔ ہم نے اُن کی خدمت میں حاضر ہوکرمدعا عرض کیا اور عرض کی کہ’’آپ دعا کردیں کہ حاجی عبدالرحمن ہمیں مل جائیں۔ ‘‘انہوں نے دعا کی اور فرمایا کہ مل جائیں گے(اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ) ۔ بالآخروہ ہمیں جدّہ شریف کے ایک ہسپتال میں سخت علالت کی حالت میں ملے۔ انہیں لُو لگ گئی تھی اور اِسی حالت میں وہ۱۴ذوالْحِجَّۃِ الْحَرام ۱۳۷۰ ھ کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ (اِنَّا لِلّٰہِ واِنّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْن)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
خو
Telegram
Urdu Tahrir
Follow Channel on WhatsApp:
https://whatsapp.com/channel/0029VakZKCLKWEKw9AEgEh1x
@HajiAbdulHabibAttariMp3
@FaizaneAlahazrat25
@MadaniMuzakra
@DarsiKutubPdf
@HajiImranAttari
@SirfUrduTahrir
@OnlyIslamicLinkSharing
@NaatiaKalaam
@DawateIslamiBooks
https://whatsapp.com/channel/0029VakZKCLKWEKw9AEgEh1x
@HajiAbdulHabibAttariMp3
@FaizaneAlahazrat25
@MadaniMuzakra
@DarsiKutubPdf
@HajiImranAttari
@SirfUrduTahrir
@OnlyIslamicLinkSharing
@NaatiaKalaam
@DawateIslamiBooks
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضان سرور مصباحی
دعوت اسلامی. عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کی تحریک ہے، اس کا ساتھ دیا جائے. اور اس کے امیر مولانا محمد الیاس قادری سنی صحیح العقیدہ انسان ہیں یہی جمہور علماء ہندوپاک کا مسلک ہے. اور *شرعی عدالت* گروپ کا بھی یہی موقف ہے. واللہ تعالٰی اعلم.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
🌹 اختلافی مسائل میں
بحث و مباحثہ کِس کا حق ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
احیاء العلوم 📖 جِـ³ صَـ³⁶
✍ امام غزالی علیہ الرحمہ
بحث و مباحثہ کِس کا حق ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
احیاء العلوم 📖 جِـ³ صَـ³⁶
✍ امام غزالی علیہ الرحمہ
Forwarded from فیضان سرور مصباحی
دلائل کی روشنی میں اپنے اساتذہ اور مرشد سے اختلاف کیا جاسکتا ہے. اس سے ارادت اور شاگردی میں کوئی فرق نہیں پڑتا. ہاں اگر نفسانیت کی بنیاد پر مخالفت شروع ہوجائے تو فیض رسانی کا سلسلہ موقوف ہوجاتا ہے. مگر حلقۂ شاگردی اور مریدی میں اب بھی باقی رہتا ہے. واللہ تعالٰی اعلم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 💎فخـر ازهـر فقہی گروپ چینل💎
شکریہ_امیردعوت_اسلامی_مولانا_الیاس_قادری_صاحب_حفظہ_اللہ.pdf
1.3 MB
🌹{شکریہ امیر دعوت اسلامی مولانا
محمد الیاس قادری صاحب حفظہ اللہ تعالی.pdf }🌹
محمد الیاس قادری صاحب حفظہ اللہ تعالی.pdf }🌹
Forwarded from 💎فخـر ازهـر فقہی گروپ چینل💎
شارح_بخاری_کی_نظر_میں_دعوت_اسلامی_اور_امیر_دعوت_اسلامی.pdf
5.7 MB
شارح بخاری کی نظر میں دعوت اسلامی اور امیر دعوت اسلامی
{نائب مفتئ اعظم ہند وشارح بخاری حضرت العلام حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق صاحب قبلہ امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان}
{نائب مفتئ اعظم ہند وشارح بخاری حضرت العلام حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق صاحب قبلہ امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان}
فتاویٰ رضویہ سے اختلاف کیوں ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍ #علامہ_یاسین_اختر مصباحی
صَاحَبۡ قِبۡلَہۡ دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡـعَـالِـیَہۡ
Misbahi786.mk@gmail.com
موبائل نمبر¹ +919560848408
موبائل نمبر² +919350902937
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
✍ #علامہ_یاسین_اختر مصباحی
صَاحَبۡ قِبۡلَہۡ دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡـعَـالِـیَہۡ
Misbahi786.mk@gmail.com
موبائل نمبر¹ +919560848408
موبائل نمبر² +919350902937
{فتاوی رضویہ _ سے اختلاف کیوں _؟}.pdf
1.6 MB
{فتاوی رضویہ _ سے اختلاف کیوں _؟}.pdf
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام احمد رضا خان سید کیوں نہیں تھے؟
سید العلماء حضرت علامہ مولانا سید آل مصطفی میاں صاحب سجادہ نشین آستانہ عالیہ برکاتیہ مارہرہ فرماتے ہیں:
میں نے بہت غور و فکر کیا کہ اعلی حضرت ہر فضیلت و کرامت کے حامل تھے انکی ذات بابرکات مظہر ذات و صفات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تھی
لیکن اللہ تعالی نے آپ کو پٹھان قوم میں کیوں پیدا فرمایا ، سادات میں کیوں پیدا نہیں فرمایا؟؟
غور و فکر کیا تو سمجھ آیا کہ اگر آپ سید ہوتے اور سید ہوکر سیدوں کا احترام کرتے، انکی تعظیم کے خطبہ پڑھتے ،تو لوگ کہ سکتے تھے میاں اپنی منہ اپنی تعریف کررہے ہیں اور اپنی توقیر کرانے کیلئے یہ طریقے اپنا رہے ہیں
تو رب تعالی کی یہ حکمت ظاہر ہوئی کہ آپ کو سادات میں سے پیدا نہیں فرمایا کہ قیامت تک اعداء دین کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے
*سید امانت رسول قادری* فرماتے ہیں:
جس شان سے اعلی حضرت نے سیدوں کا ادب و احترام فرمایا اور سادات کی تعظیم و تکریم کرکے امت کو دیکھایا تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی
⭐ : سید اعلی حضرت کی محفل میں کوئی پھل وغیرہ آتا تو آپ پہل بھی سادات سے فرماتے اور بقیہ حاضرین کی بنسبت دوگنا پیش فرماتے
⭐: ایک غریب سید صاحب جو چھوٹے بچے تھے کام کرنے کےسلسلے میں آئے تو آپ نے انکا کا مشاہرہ بھی طے فرمایا اور اپنے گھر والوں سے فرمایا دیا کہ یہ مخدوم زادے ہیں انکی ضرورت کا خیال رکھا جائے اور کوئی کام بھی نہ لیا جائے
اور آپ کا پالکی والا واقعہ مشہور ہے کہ وقت کے امام اور عاشق صادق نے خون رسول کی خوشبو سونگھ لی اوربڑھاپے کے عالم میں
وقت کا امام روتے ہوئے عرض گزار ہورہا ہے
سید زادے سے معافی مانگ رہا ہے
معافی مل جاتی ہے مگر امام جلیل اصرار کررہا ہے کہ اب آپ بیٹھیں گے میں پالکی کو اٹھاوں گا یہی میری معافی کا کفارہ ہے
مجبورا سید زادے سوار ہوتے ہیں وقت کا امام اپنے آقا علیہ السلام کے شہزادے کو کاندھوں پہ اٹھا رہا ہے
ہزاروں مرید التجائیں کررہے ہیں کہ ہم آقا زادے کی خدمت کرتے ہیں
مگر مجدد وقت کے منہ سے الفاظ نکلتے ہیں وہ سونے کے قلم اور چاندی کے ورق پر لکھنے کے قابل ہیں
*مجدد وقت فرماتے ہیں کہ اگر روز قیامت میرے آقا نے پوچھ لیا*
*اے احمد رضا تجھے اٹھانے کیلئے میرے شہزادے کے کندھے ملے تھے تو کیا جواب دوں گا*
یہ وہ اولاد رسول کے ادب کا انوکھا انداز کہ رہتی دنیا تک تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ لکھا جائے گا
(فیضان اعلی حضرت ص٣٠١)
✍ #محمد_ساجد_مدنی
سید العلماء حضرت علامہ مولانا سید آل مصطفی میاں صاحب سجادہ نشین آستانہ عالیہ برکاتیہ مارہرہ فرماتے ہیں:
میں نے بہت غور و فکر کیا کہ اعلی حضرت ہر فضیلت و کرامت کے حامل تھے انکی ذات بابرکات مظہر ذات و صفات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تھی
لیکن اللہ تعالی نے آپ کو پٹھان قوم میں کیوں پیدا فرمایا ، سادات میں کیوں پیدا نہیں فرمایا؟؟
غور و فکر کیا تو سمجھ آیا کہ اگر آپ سید ہوتے اور سید ہوکر سیدوں کا احترام کرتے، انکی تعظیم کے خطبہ پڑھتے ،تو لوگ کہ سکتے تھے میاں اپنی منہ اپنی تعریف کررہے ہیں اور اپنی توقیر کرانے کیلئے یہ طریقے اپنا رہے ہیں
تو رب تعالی کی یہ حکمت ظاہر ہوئی کہ آپ کو سادات میں سے پیدا نہیں فرمایا کہ قیامت تک اعداء دین کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے
*سید امانت رسول قادری* فرماتے ہیں:
جس شان سے اعلی حضرت نے سیدوں کا ادب و احترام فرمایا اور سادات کی تعظیم و تکریم کرکے امت کو دیکھایا تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی
⭐ : سید اعلی حضرت کی محفل میں کوئی پھل وغیرہ آتا تو آپ پہل بھی سادات سے فرماتے اور بقیہ حاضرین کی بنسبت دوگنا پیش فرماتے
⭐: ایک غریب سید صاحب جو چھوٹے بچے تھے کام کرنے کےسلسلے میں آئے تو آپ نے انکا کا مشاہرہ بھی طے فرمایا اور اپنے گھر والوں سے فرمایا دیا کہ یہ مخدوم زادے ہیں انکی ضرورت کا خیال رکھا جائے اور کوئی کام بھی نہ لیا جائے
اور آپ کا پالکی والا واقعہ مشہور ہے کہ وقت کے امام اور عاشق صادق نے خون رسول کی خوشبو سونگھ لی اوربڑھاپے کے عالم میں
وقت کا امام روتے ہوئے عرض گزار ہورہا ہے
سید زادے سے معافی مانگ رہا ہے
معافی مل جاتی ہے مگر امام جلیل اصرار کررہا ہے کہ اب آپ بیٹھیں گے میں پالکی کو اٹھاوں گا یہی میری معافی کا کفارہ ہے
مجبورا سید زادے سوار ہوتے ہیں وقت کا امام اپنے آقا علیہ السلام کے شہزادے کو کاندھوں پہ اٹھا رہا ہے
ہزاروں مرید التجائیں کررہے ہیں کہ ہم آقا زادے کی خدمت کرتے ہیں
مگر مجدد وقت کے منہ سے الفاظ نکلتے ہیں وہ سونے کے قلم اور چاندی کے ورق پر لکھنے کے قابل ہیں
*مجدد وقت فرماتے ہیں کہ اگر روز قیامت میرے آقا نے پوچھ لیا*
*اے احمد رضا تجھے اٹھانے کیلئے میرے شہزادے کے کندھے ملے تھے تو کیا جواب دوں گا*
یہ وہ اولاد رسول کے ادب کا انوکھا انداز کہ رہتی دنیا تک تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ لکھا جائے گا
(فیضان اعلی حضرت ص٣٠١)
✍ #محمد_ساجد_مدنی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹امام احمد رضا خان اور علم حدیث🌹
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ جس طرح علم تفسیر میں مہارت تامہ رکھتے تھے
اسی طرح علم حدیث میں درجہ امامت پر فائز تھے اور آپ کو علم حدیث پر ید طولی حاصل تھا
جب آپ اس فن پر قلم اٹھاتے تو امام جلال الدین سیوطی، علامہ ابن حجر عسقلانی کی جھلک نظر آتی
آپ کے اس فن پر منہ بولتا ثبوت
منیر العین ،حاجزالبحرین ،الفضل الموہبی رسائل ہیں
آپ کے بارے میں سید محمد احمد مصباحی زید مجدہ فرماتے ہیں
امام احمد رضا بلند پایہ محدث تھے اور علم حدیث پر بڑا تبحر حاصل تھا آپ کا مطالعہ وسیع تھا
آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے علم حدیث کی کتابوں میں سے کون کون سی کتب پڑھی یا پڑھائی ہیں
آپ نے فرمایا
*صحاح ستہ، مسند امام اعظم، مؤطا امام محمد، موطا امام مالک ، کتاب الآثار امام طحاوی، مسند امام شافعی، مسند امام محمد، سنن دارمی، ملتقی لابن الجارود، ذو علل متناہیہ ،مشکوة، جامع صغیر، جامع کبیر، بلوغ المرام، عمل واللیلة لابن السني، خصائص الکبری، کتاب الترغیب، کتاب الفرج بعد الشدة ، کتاب الاسماء والصفات وغیرہ*
پچاس سے زائد کتب میرے درس و تدریس و مطالعہ میں رہیں
امام احمد رضا خان کے وسعت مطالعہ کی یہ شان ہے کہ آپ کے شرح عقائد نسفی کے مطالعہ کے وقت 70 شروحات سامنے رہیں
*مولانا حنیف رضا خان*
اپنی کتاب جامع الاحادیث میں فرماتے ہیں
علم حدیث اپنی انواع کے اعتبار سے بہت وسیع علم ہے علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے تدریب الراوی میں تقریبا 100 علوم شمار کرائے ہیں جن میں علم حدیث سے واسطہ ضروری ہے
*علماء کرام فرماتے ہیں* کہ آپ نے حدیث، معرفت حدیث اور مبادیات حدیث پر جیسی شاندار اور نفیس ترین بحثیں کی ہیں
اگر امام بخاری و مسلم دیکھتے تو انکی بھی ٹھنڈی ہوتیں
عمدة المحدثین، حافظ بخاری
حضرت شاہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ سے محدث اعظم ہند سید محمد محدث کھچھوچھوی علیہ الرحمہ نے سوال کیا :
امام احمد رضا خان کا علم حدیث میں کیا مقام ہے ؟؟
آپ نے فرمایا امام احمد رضا اس وقت *"امیر المومنین فی الحدیث "* ہیں
پھر عاجزی فرماتے ہوئے فرمایا
صاحبزادے اسکا مطلب پتا ہے آپ کو کہ اگر میں ساری زندگی انکی شاگردی اختیار کروں تو بھی انکے مقام کو نہیں پہنچ سکتا
سید محمد محدث کھچھوچھوی نے کہا کہ سچ فرمایا
*ولی راولی می شناسدوعالم راعالم می داند*
ولی ولی کو اور عالم عالم کو پہچانتا ہے
خود محدث کھچھوچھوی فرماتے ہیں
علم الحدیث میں سب سے نازک شعبہ علم
*"اسماء الرجال"* کا ہے
اعلی حضرت کے سامنے کوئی سند پڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا
ہر راوی کے جرح و تعدیل کے جو الفاظ فرما دیتے
بعد میں تدریب الراوی، تقریب، تذھیب وغیرہ کتب دیکھی جاتیں تو وہی الفاظ ملتے
اسے کہتے ہیں علم راسخ، علم میں شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت
حفظ حدیث اور علم حدیث میں مہارت تامہ کا مشاہدہ کرنا ہو تو آپ کی تصنیفات
کا مطالعہ کر کے اسکا اندازہ ہر ذی علم کرسکتا ہے ورق ورق پر احادیث و آثار کی تابشیں نجوم و کواکب کی طرح درخشندہ و تابندہ ہیں
مولانا حنیف رضا خان خود فرماتے ہیں کہ
میں نے امام احمد رضا خان کی 300 سے زائد کتب کا مطالعہ جن سے 10000 ہزار احادیث کو جمع کرکے انکو ترتیب دیا
پھر مکررات کو نکال کر 3663 بنتی ہیں اور یہ صرف آپ کی تصنیفات کے ایک تہائی سے نکالا ہے اگر تمام سے نکالا جائے تو کتنا ضخیم حصہ ہاتھ آئے گا
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دئیے ہیں
(فیضان اعلی حضرت ص٤٨٥)
محمد ساجد مدنی
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ جس طرح علم تفسیر میں مہارت تامہ رکھتے تھے
اسی طرح علم حدیث میں درجہ امامت پر فائز تھے اور آپ کو علم حدیث پر ید طولی حاصل تھا
جب آپ اس فن پر قلم اٹھاتے تو امام جلال الدین سیوطی، علامہ ابن حجر عسقلانی کی جھلک نظر آتی
آپ کے اس فن پر منہ بولتا ثبوت
منیر العین ،حاجزالبحرین ،الفضل الموہبی رسائل ہیں
آپ کے بارے میں سید محمد احمد مصباحی زید مجدہ فرماتے ہیں
امام احمد رضا بلند پایہ محدث تھے اور علم حدیث پر بڑا تبحر حاصل تھا آپ کا مطالعہ وسیع تھا
آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے علم حدیث کی کتابوں میں سے کون کون سی کتب پڑھی یا پڑھائی ہیں
آپ نے فرمایا
*صحاح ستہ، مسند امام اعظم، مؤطا امام محمد، موطا امام مالک ، کتاب الآثار امام طحاوی، مسند امام شافعی، مسند امام محمد، سنن دارمی، ملتقی لابن الجارود، ذو علل متناہیہ ،مشکوة، جامع صغیر، جامع کبیر، بلوغ المرام، عمل واللیلة لابن السني، خصائص الکبری، کتاب الترغیب، کتاب الفرج بعد الشدة ، کتاب الاسماء والصفات وغیرہ*
پچاس سے زائد کتب میرے درس و تدریس و مطالعہ میں رہیں
امام احمد رضا خان کے وسعت مطالعہ کی یہ شان ہے کہ آپ کے شرح عقائد نسفی کے مطالعہ کے وقت 70 شروحات سامنے رہیں
*مولانا حنیف رضا خان*
اپنی کتاب جامع الاحادیث میں فرماتے ہیں
علم حدیث اپنی انواع کے اعتبار سے بہت وسیع علم ہے علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے تدریب الراوی میں تقریبا 100 علوم شمار کرائے ہیں جن میں علم حدیث سے واسطہ ضروری ہے
*علماء کرام فرماتے ہیں* کہ آپ نے حدیث، معرفت حدیث اور مبادیات حدیث پر جیسی شاندار اور نفیس ترین بحثیں کی ہیں
اگر امام بخاری و مسلم دیکھتے تو انکی بھی ٹھنڈی ہوتیں
عمدة المحدثین، حافظ بخاری
حضرت شاہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ سے محدث اعظم ہند سید محمد محدث کھچھوچھوی علیہ الرحمہ نے سوال کیا :
امام احمد رضا خان کا علم حدیث میں کیا مقام ہے ؟؟
آپ نے فرمایا امام احمد رضا اس وقت *"امیر المومنین فی الحدیث "* ہیں
پھر عاجزی فرماتے ہوئے فرمایا
صاحبزادے اسکا مطلب پتا ہے آپ کو کہ اگر میں ساری زندگی انکی شاگردی اختیار کروں تو بھی انکے مقام کو نہیں پہنچ سکتا
سید محمد محدث کھچھوچھوی نے کہا کہ سچ فرمایا
*ولی راولی می شناسدوعالم راعالم می داند*
ولی ولی کو اور عالم عالم کو پہچانتا ہے
خود محدث کھچھوچھوی فرماتے ہیں
علم الحدیث میں سب سے نازک شعبہ علم
*"اسماء الرجال"* کا ہے
اعلی حضرت کے سامنے کوئی سند پڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا
ہر راوی کے جرح و تعدیل کے جو الفاظ فرما دیتے
بعد میں تدریب الراوی، تقریب، تذھیب وغیرہ کتب دیکھی جاتیں تو وہی الفاظ ملتے
اسے کہتے ہیں علم راسخ، علم میں شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت
حفظ حدیث اور علم حدیث میں مہارت تامہ کا مشاہدہ کرنا ہو تو آپ کی تصنیفات
کا مطالعہ کر کے اسکا اندازہ ہر ذی علم کرسکتا ہے ورق ورق پر احادیث و آثار کی تابشیں نجوم و کواکب کی طرح درخشندہ و تابندہ ہیں
مولانا حنیف رضا خان خود فرماتے ہیں کہ
میں نے امام احمد رضا خان کی 300 سے زائد کتب کا مطالعہ جن سے 10000 ہزار احادیث کو جمع کرکے انکو ترتیب دیا
پھر مکررات کو نکال کر 3663 بنتی ہیں اور یہ صرف آپ کی تصنیفات کے ایک تہائی سے نکالا ہے اگر تمام سے نکالا جائے تو کتنا ضخیم حصہ ہاتھ آئے گا
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دئیے ہیں
(فیضان اعلی حضرت ص٤٨٥)
محمد ساجد مدنی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM