🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
تعالٰی عنہا) کے چاند پر چھا گئے۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے بائیں شانہ مبارک پر تلوار ماری، امام تھک گئے ہیں۔۔۔۔زخموں سے چور ہیں۔۔۔۔ 33 زخم نیزے کے 34 گھاؤ تلواروں کے لگے ہیں۔۔۔۔ تیروں کا شمار نہیں۔۔۔۔ اٹھنا چاہتے ہیں اور گر پڑتے ہیں۔۔۔۔ اسی حالت میں سنان بن انس نخعی شقی ناری جہنمی نے نیزہ مارا کہ وہ عرش کا تارا زمین پر ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔ سنان مردود نے خولی بن یزید سے کہا : سر کاٹ لے۔
اس کا ہاتھ کانپا۔ سنان ولد الشیطان بولا :
’’تیرا ہاتھ بیکار ہو‘‘
اور خود گھوڑے سے اتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے جگر پارے، تین دن کے پیاسے کو ذبح کیا اور سر مبارک جدا کر لیا۔"
*(آئینہ قیامت صفحہ 69، 70 ناشر جمیعت اشاعت اھلسنت پاکستان)*
صدرالافاضل علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"تیر اندازوں کی جماعتیں ہر طرف سے گھر آئیں اور امامِ تشنہ کام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گردابِ بلا میں گھیر کر تیر برسانے شروع کر دئیے، گھوڑا اِس قدر زخمی ہوگیا کہ اس میں کام کرنے کی قوت نہ رہی ناچار حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک جگہ ٹھہرنا پڑا، ہر طرف سے تیر ا ٓرہے ہیں اور امام مظلو م کا تنِ ناز پرور نشانہ بنا ہوا ہے، نورانی جسم زخموں سے چکنا چور اور لہولہان ہو رہا ہے، بے شرم کوفیوں نے سنگدلی سے محترم مہمان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ ایک تیر پیشانی اقدس پر لگا یہ پیشانی مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بوسہ گاہ تھی، یہ سیمائے نور حبیب خدا عزوجل و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آرزو مندانِ جمال کا قرارِ دل ہے۔ بے ادبانِ کوفہ نے اس پیشانیٔ مُصَفّا اور اس جبینِ پُر ضِیا کو تیر سے گھائل کیا، حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چکر آگیا اور گھوڑے سے نیچے آئے، اب نامردانِ سیاہ باطن نے نیزوں پر رکھ لیا، نورانی پیکر خون میں نہا گیا اور آپ شہید ہوکر زمین پر گر پڑے۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ ۔
ظالمانِ بدکیش نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مصیبتوں کا اسی پر خاتمہ نہیں ہوگیا۔ دشمنانِ ایمان نے سرِ مبارک کو تنِ اقدس سے جدا کرنا چاہا اور نضر ابن خرشہ اس ناپاک ارادہ سے آگے بڑھا مگر امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہیبت سے اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار چھوٹ پڑی۔ خولی ابن یزید پلید نے یا شبل ابن یزید نے بڑھ کر آپ کے سرِ اقدس کو تنِ مبارک سے جدا کیا۔"
*(سوانح کربلا صفحہ 169، 170 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"ہر طرف سے تیر آرہے ہیں اور امام مظلوم کا جسم اقدس تیروں کا نشانہ بنا ہوا ہے، تن نازنین زخموں سے چور اور لہولہان ہو رہا ہے۔ بے وفا کرفیوں نے جگر پارہ رسول، فرزندِ بتول کو مہمان بلا کر، ان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ یہاں تک کہ زہر میں بجھا ہوا ایک تیر آپ کی اس مقدس پیشانی پر لگا جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہزاروں بار چوما تھا۔ تیر لگتے ہی چہرہ انور پر خون کا دھارا بہ نکلا۔ آپ غش کھا کر گھوڑے کی زین سے فرشِ زمین پر آگئے۔ اب ظالموں نے نیزوں سے حملہ کیا، شیطان صفت سنان نے ایک ایسا نیزہ مارا جو تنِ اقدس کے پار ہوگیا۔ تیر اور نیزہ و شمشیر کے بہتر زخم کھانے کے بعد آپ سجدے میں گرے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے واصلِ بحق ہوگئے۔ 56 سال، 5 ماہ، 5 دن کی عمر میں جمعہ کے دن محرم کی دسویں تاریخ 61ھ مطابق 680ء کو امام عالی مقام نے اس دارِفانی سے رحلت فرمائی۔"
*(خطباتِ محرم صفحہ 360 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
*نوٹ :*
کچھ دنوں سے چند جاہل لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیخِ طریقت امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ کے متعلق طوفانِ بدتمیزی برپا کر رکھا ہے کہ انہوں نے جو یہ بیان دیا ہے کہ بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ نمازِ (ظہر) کی حالت میں نہیں تھے، یہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی گستاخی ہے حالانکہ نہ یہ گستاخی ہے اور نہ یہ خلافِ واقع ہے لیکن کہتے ہیں کہ اعتراض کرنے والا اندھے کی طرح ہوتا ہے اور یہ بات ان جاہل لوگوں پر کامل طور پر سچی آتی ہے کہ ان عقل کے اندھوں کو اپنے گھر کی بھی خبر نہیں کیونکہ اگر کچھ عقل و شعور رکھتے تو اپنے گھر کی بھی خبر رکھتے، اب ہم ان کے گھر کی گواہی دکھاتے ہیں کہ جس میں بوقتِ شھادت نہ تو امامِ حیسن رضی اللہ عنہ کی نماز کا ذکر ہے اور نہ سجدے کا، لہذا ایسے لوگوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ حسد کی آگ میں جل کر خاکستر ہونے کے بجائے اسے پڑھیں۔
چنانچہ ڈاکٹر طاہر القادری منہاجی لکھتا ہے :
"شمر لعین کے اکسانے پر یزیدی لشکر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر آپ کے بائیں کندھے پر تلوار ماری جس سے آپ لڑ کھڑا گئے اس پر سب حملہ آور پیچھے ہٹ گئے پھر سنان بن ابی
عمرو بن انس نخعی نے آگے بڑھ کر آپ کو نیزہ مارا جس سے آپ گھائل ہو کر گر پڑے سنان نے سواری سے اتر کر آپ کو ذبح کر دیا اور سر تن سے جدا کر کے خولی بن یزید کے حوالے کردیا۔"
*(شہادت امام حسین، فلسفہ و تعلیمات، صفحہ 176 منہاج القرآن پبلی کیشنز)*
مشہور شیعہ محقق، طالب جوہری بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سجدہ کی نفی کرتے ہوئے لکھتا ہے :
"ہلال بن نافع کہتا ہے کہ لشکر کے لوگوں نے جب امام حسین علیہ السلام کا کلام سنا تو اس طرح غضب میں آگئے جیسے اللہ نے رحم انکے دل میں ڈالا ہی نہ ہو۔ ابھی حسین باتیں کر ہی رہے تھے کہ ان کا سر کاٹ لیا گیا۔"
*(حدیثِ کربلا صفحہ 501)*
شیعہ مذہب کا محقق و مجتہد محمد حسین نجفی بھی بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نہ سجدے کا ذکر کرتا ہے اور نہ نماز کا، چنانچہ وہ لکھتا ہے :
"آخر کار شمر لعین نے للکار کر کہا ۔ کیا انتظار ہے؟ ان کا جام جلد تمام کرو۔ خولی ابن یزید اصبحی لعین آگے بڑھا مگر وہ لرزہ براندام ہوکر واپس چلا گیا۔۔۔ اس کے بعد یہ (شمر) ملعون خود آگے بڑھا۔۔۔۔ بہرحال اس شقی ازلی نے کند تلوار کی بارہ ضربات سے خامس آل عبا نواسہ رسول خدا جناب سیدالشھداء علیہ آلاف التحیۃ و الثناء کا پس گردن سے سر اقدس تن اطہر سے جدا کردیا۔"
*(سعادت الدارین فی مقتل الحسین صفحہ 476 اسلامک بک سنٹر اسلام آباد)*
اس شیعہ محقق حیسن نجفی نے اس بات پر کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عین شہادت کے وقت نماز اور سجدہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے، بارہ (12) کتابوں کے حوالے پیش کیے جو کہ درج ذیل ہیں :
1- مقتل عوالم صفحہ 100،
2- مقتل خوارزمی جلد 2 صفحہ 72،
3- مقتل مقرم صفحہ 333،
4- بحار الانوار،
5- قمقام ذخار،
6- ارشاد شیخ مفید،
7- امالی شیخ صدوق،
8- مقتل ابن نماز،
9- تاریخ طبری،
10- تاریخ کامل،
11- ناسخ التواریخ
12- نفس المہموم وغیرھا۔
اللہ پاک ہم سب سنی مسلمانوں کو صحابہ کرام اور اہلِ بیت رضی اللہ عنھم اجمعين کی سچی محبت عطاء فرمائے اور ان جاہل لوگوں کی فتنہ گری سے محفوظ فرمائے۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
09/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
یہ سچ ہے کہ علامہ ارشد القادری علیہ الرحمۃ والرضوان نے دعوت اسلامی کی بنیاد رکھی لیکن اس کی آبیاری اور نشو ونما حضرت مولانا الیاس قادری صاحب نے کی اور اسے ایک عظیم تنظیم بنا دی.
حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ اور حضور تاج الشریعہ علیما الرحمۃ والرضوان نے بہت سے تبلیغی اسفار کیے اور اس کا فائدہ بھی ہوا ہے.
بلکہ علامہ ارشد علیہ الرحمہ کا امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے جو انھوں نے باہری ملکوں میں اہل سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت کے لیے مختلف تنظیموں کی بنیاد رکھی اور آج الحمد للہ ان سے بہت کام ہورہا ہے.
رہی بات دعوت اسلامی کے فوٹو اور ویڈیو کی تو پاکستان کے اکثر علماے کرام کے عمل سے ظاہر ہے کہ وہ جواز کے قائل ہیں.
آج جو بھی کام دعوت اسلامی کررہی ہے، جس منظم طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے اور زمینی سطح پر اس کا کام نظر آرہا ہے اس کے مقابل کوئی تنظیم نہیں ہے.
اس طرح کی تحریر لکھنے والے سے گزارش ہے کہ اگر خود کوئی کام نہیں کرسکتے تو کم سے کم جو لوگ کام کررہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کریں اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ہاتھ اور منھ سل لیں.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
ایک دیوبندی شُبہہ کا جواب ،،
تحریر : میثم عباس قادری رضوی ،،

کچھ دن قبل ایک شریر ساجد خان دیوبندی کے پیج کی پوسٹ دیکھی جس میں اس نے دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس عطّار قادری صاحب پر اس وجہ سے اعتراض کیا تھا کہ ان کے سامنے دورانِ خطاب بُلٹ پروف شیشہ لگا ہوتا ہے اس پوسٹ سے اس کا مقصد.یہ تھا کہ امیرِ دعوت اسلامی کو موت سے ڈر لگتا ہے اس شریر کا یہ اعتراض ان علماءِ اہلِ سنت پر بھی وارد ہوتاہے جو اپنے ساتھ مسلح گارڈ رکھتے ہیں وقت کی شدید قلت ہے لیکن مناسب سمجھا کہ مختصرا اس دیوبندی خباثت کا جواب علاج بالمثل کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے دیو بندی فرقہ کی کتاب سے ہی پیش کر دوں تاکہ سادہ لوح عوام اس کی شیطنت سے واقف ہو سکیں
اب جواب کی طرف آئیے بات کچھ یوں ہے کہ دیوبندی فرقہ کے بڑے مفتی رشیداحمد لدھیانوی کراچوی
جو کچھ عرصہ قبل آنجہانی ہواہے ہرجگہ مسلح گارڈوں کے گھیرے میں ہوتے تھے یہ گھیرا اِتنا سخت ہوتا کہ عام آدمی مفتی صاحب سے مل نہیں سکتا تھا حتی کہ ان کی مزعومہ مسجد کے منبر پر بھی مسلح باڈی گارڈ کھڑے ہوتے حفاظتی پہرے کے اس خاص اہتمام کی وجہ سے ان پرکچھ اعتراضات بھی ہوئے جن کا مفصل جواب ان کے دارالافتاء کے نائب مفتی عبدالرحیم دیوبندی نے تحریر کیا.یہ جواب "احسن الفتاوی"جلد6 میں شامل ہے.اس کے علاوہ یہ جواب"مسلح پہرہ اور توکل"کے نام سے الگ بھی شائع ہوا اس جوابی تحریر کے چند اقتباسات ملاحظہ کریں.جن میں ساجد خان دیوبندی کی فضول بَک بَک کا جواب موجود ہے بہرحال معترض معاند ساجد خان دیوبندی کو چاہیے کہ اس طرح کی ایک پوسٹ مفتی رشید احمد لدھیانوی دیوبندی کی بُزدلی کی بابت بھی کر دے تاکہ معلوم ہوکہ آپ اپنے پرائے کا فرق روا نہیں رکھتے لیکن کہے دیتا ہوں ایسا نہیں ہو گا
اس دیوبندی اعتراض سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی کہ دیوبندیوں کی طرف سے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرعمل کادعویٰ صرف زبانی جمع خرچ ہے وگرنہ اگریہ عاملِ سنت ہونے کے دعویٰ میں سچے ہوتے تو کبھی بھی(حفاظتی پہرہ داری کی)سنت کے عامل پر بُزدل ہونے کا طعنہ نہ دیتے
نوٹ:اس پوسٹ کو سرقہ نہ کیا جائے بلکہ من و عن شیئر کیا جائے ،،
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
*(1)ولادتِ باسَعادت*
شیخِ طریقت، امیرِاَہلسنّت ،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد اِلیاس عطّارؔقادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہٍْ کی ولادتِ باسعادت ۲۶رَمَضانُ المبارَک ۱۳۶۹ھ مطابق 12جولائی  1950ء بروزبدھ پاکستان کے مشہور شہر باب المدینہ(کراچی) کے علاقہ بمبئی بازارکھارا در میں وقتِ مغرب سے کچھ دیر قبل ہوئی

*(2)ولدیت*
حاجی عبدالرَحمن قادِری بن عبدالرحیم

*(3)نام و نسب*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کا اسمِ گرامی محمد ہے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کا عُرفی نام الیاس ہے حضور سیِّدُنا غوث الاعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ْکے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہونے کی نسبت سے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ قادِری،امامِ اہلسنّت مجدّدِ دین وملت اِمام احمد رضا خان عَلَیْہ ِرَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ (جو امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے دادا پیر بھی ہیں )کی تحقیقاتِ انیقہ پر مکمل کار بند ہونے اور والہانہ عقیدت و محبت کی بنا پر رَضَوی،اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت، قطبِ مدینہ، حضرت مولانا ضیاء ُالدِّین مدنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہ ِالْغَنِیْ کے مُرید ہونے کی نسبت سےضیائی کہلاتے ہیں اعتقاد کے اعتبار سے سچے پکے سُنّی اور فقہ میں آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ ائمہ اربعہ (یعنی امامِ اعظم ابوحنیفہ امام شافعی،امام مالک ،امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِمْ) میں سے امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کے پیروکار ہیں اس نسبت سےحنفی ہیں

*(4)کُنْیَتْ و تَخَلُّصْ*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی کُنْیَت ابو بلال اور تَخَلُّصْ عطّاؔر ہے

*(5)میں عطّاؔر کیسے بنا؟*
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ نے ایک مَدَنی مذاکرے میں جو کچھ ارشاد فرمایا اُس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:’’ میں عطّاؔر کیسے بنا ؟ یہ بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے میں اُن دنوں میں نُور مسجد ( کاغذی بازار باب المدینہ کراچی ) میں اِمامت کرتا تھا دعوت اسلامی کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا مجھے شاعری کا شوق اس وقت بھی تھا میں نے غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کی بارگاہ میں ایک سلام لکھا تھا؛

*سلطان اولیاء کو ہمارا سلام ہو*
*جیلاں کے پیشوا کو ہمارا سلام ہو*

پھر کسی طرح میں نے غالباً30 روپے میں ایک ہزار پرچے خوبصورت (فریم میں لگائے جانے والے) چھپوائے تاکہ انہیں مفت بانٹ سکوں ایک بار میرے پاس ایک شیوڈ نوجوان مجھے ڈھونڈتا ہوا نور مسجد آیا اور مجھ سے یہ پرچہ مانگا میں نے اسے اپنے مختصر سے حجرے میں بٹھایا اور اس پر انفرادی کوشش بھی کی اس دوران پتا چلا کہ اُس کا عطر کا ہول سیل کا کاروبار ہے مجھے عطر لگانے کا بہت شوق تھا میں نے اُسے اپنے اِس شوق کے بارے میں بتایا تو اُس نے مجھے اپنی دکان کا پتا سمجھایا میں اُس کی دکان پر عطر خریدنے گیا تو مجھے بہت سستا محسوس ہو میں نے کچھ خالی شیشیاں خریدیں اور ہول سیل میں عطر خرید کر وہ شیشیاں بھریں اور عطر بیچنا شروع کر دیا عطر کے کام کی نسبت سے میں نے اپنا تخلص عطّاؔر رکھا یوں میں عطّاؔر بن گیا اس میں ایک بہت بڑے بزرگ (جو’’تذکرۃ الاولیاء‘‘کے مؤلف بھی ہیں ) حضرت سیدنا شیخ فرید الدین عطّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارْ کی نسبت بھی ہے یہ تخلص اتنا مشہور ہوا کہ لوگ مجھے الیاس کم اور عطّاؔر زیادہ کہتے ہیں
*(مدنی مذاکرہ، نمبر 26)*

اَلقابات پاک وہند کے علماء و عوام میں آپ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْکے لَقَب سے مشہور ہیں مُریدین آپ کا نامِ نامی لینے سے پہلے عموماًشیخِ طریقت کا اضافہ کرتے ہیں بعض اوقات آپ کو’’ حضرت صاحب‘‘ کہہ کر بھی یاد کیا جاتا ہے،تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی ہونے کی وجہ سے آپ کو ’’بانیٔ دعوتِ اسلامی بھی کہا جاتا ہے آپ کے شہزادگان اور قُربِ خاص کی برکتیں پانے والے متعدد اسلامی بھائی آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْسے عرض و معروض کے وقت ’’باپا‘‘کے اپنائیت بھرے لفظ سے بھی پُکارتے ہیں پاک و ہند کے مختلف علماء کرام ومفتیانِ عِظام دَامَتْ فُیُوْضُھُمْ نے مختلف مواقع پر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کو جن اَلقابات سے تحریراً یاد کیا ہے ،ان میں سے چند ملاحظہ ہوں :

عالمِ نبیل،فاضل جلیل،عاشق رسول مقبول ،یادگار اسلاف،نمونہ اسلاف،مبلغ اسلام رھبرقوم،عاشق مدینہ،فدائےمدینہ،فدائےغوث الوریٰ،فدائے سیدنا امام احمد رضا(رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ)صاحب تقویٰ، مسلک اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کےعظیم ناشر و مبلغ و پاسبان ترجمان،صاحب المجدوالجاہ،فیض رساں،عمیم الجودوالاحسان،امیر دعوت اسلامی،امیر اھل سنت،فخر اھل سنت،نائب غوث اعظم،نائب اعلیٰ حضرت (رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ)پیکر سنت،حامی سنت،ماحی بدعت،شیخ وقت،پیر طریقت،امیرملت،وغیرہ۔
.
Forwarded from Urdu Tahrir
*(6)میمن گھرانا*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ نے میمن گھرانے میں آنکھ کھولی ایک بار دوران مدنی مذاکرہ خودارشادفرمایا ’’ ہند (انڈیا) میں ہندوقوم’’لوہانہ‘‘کی طرف غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کی اولاد میں سے ایک بُزُرگ سیِّدنا یوسُفُ الدین عَلَیْہِ رَ حْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن تشریف لائے اور لَوہانہ قوم میں نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچائیں جس کی بَرَکت سے ہماری برادری کے لوگ مسلمان ہوئے اور ’’مُومِن‘‘لقب پایا،جو بعد میں مومِن سے تبدیل ہوکر’’ میمن‘‘ہو گیا)
*رسالہ ابتدائی حالات،ص۱)*
.
https://t.me/SirfUrduTahrir/825
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
http://T.me/SirfUrduTahrir
.
*امیرِ اہلسنت محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کے آباؤ اجداد*

*آپ کے آباؤ اجداد:*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے آباواَجدادہند کے گاؤں ’’کُتیانہ‘‘(جُوناگڑھ)میں مقیم تھے۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے دادا جان ’’عبدالرحیم‘‘ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم کی نیک نامی اورپارسائی پورے ’’کتیانہ ‘‘ میں مشہورتھی اورہر سُو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ  کے حسنِ اخلاق کے چرچے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ انتہائی سادہ طبیعت اور مُنْکَسِرُالْمِزاج تھے۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے مرحوم نانا جان کا نام حاجی محمد ہاشِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ اور نانی جان کانام حلیمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہَا تھا۔

*والد ین کریمین:*
امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْکے والدِبُزرگوارحاجی عبدالرَحمن قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُاللہ ِ الْھَادِیْ  پرہیزگار انسان تھے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ!سنّت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی تھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ اکثر نگاہیں نیچی رکھ کر چلا کرتے تھے اور انہیں بہت سی اَحادیثِ مبارَکہ زبانی یاد تھیں۔ دُنیوی مال ودولت جمع کرنے کا لالچ نہیں تھا۔ امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی والدۂ ماجدہ امینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہَا ایک نیک  اور پرہیزگار خاتون تھیں۔

والد ین کی ہجرت:

جب پاکستان معرضِ وُجود میں آیا توغیر مسلموں نے مسلمانوں کو خوب لُوٹااور بے شمار مسلمانوں کو نہایت ہی بے دردی و سفّاکی کے ساتھ شہید کردیا گیا۔ ان نامُساعد حالات میں جُوں توں جان بچا کر امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدین ماجدین ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے اور بابُ الْمدینہ(کراچی) میں قیام پذیرہوئے ۔یہاں والدِ محترم  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ نے حُصولِ مُعاش کیلئے ایک فرْم میں ملازمت اختیار کرلی۔ اس فرْم کی ایک شاخ’’سیلون‘‘کےدارالخلافہ’’کولمبو‘‘ میں بھی تھی،کچھ ہی عرصے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کا تبادلہ ’’کولمبو‘‘ کردیا گیا۔

والد محترم کی کَرامت:   

امیرِ اَہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدِ بُزُرگوارعَلَیْہِ رَحْمَۃُالْغَفَّارْسلسلۂ عالیہ قادِریہ کے صاحبِ کرامت بُزُرگ تھے۔1979ء میں جب شَیخِ طریقت امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ ’’کولمبو‘‘ تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں کو والدصاحب سے بَہُت متأثر پایا۔کیونکہ انہوں نے وہاں کی عالیشان حَنَفی میمن مسجد کے انتظامات سنبھالے تھے اور اس مسجد کی کافی خدمت بھی کی تھی۔ وہاں پر امام صاحب کی غیر حاضری میں نمازیں بھی پڑھادیا کرتے تھے ۔کولمبو میں قیام کے دوران امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے خالو نے دورانِ گفتگو آپ کو بتایا کہ ’’آپ کے والد صاحب بہت نیک آدمی تھے ،غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کےبہت چاہنے والے اور قصیدۂ غوثیہ کے عامل تھے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب کبھی چار پائی پر بیٹھ کر آپ کے والد صاحبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ ’’قصیدۂ غوثیہ‘ ‘پڑھتے تو ان کی چار پائی زمین سے بلند ہو جاتی تھی۔‘‘(سُبْحَانَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ)

 والدِ بُزرگوار کا وِصال:

امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی عمرڈیڑھ یا دو برس کی تھی جب کہ آپ کے والدبُزرگوار کو مدینے شریف کا بُلاوا آیا۔ چنانچہ ۱۳۷۰ ھ میں  انہوں نے سفرِ حج اختیار کیا۔والد صاحب کے سوئے عَرَب روانہ ہونے کے وقت امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کو بخار تھا اور آپ کو ایک کمبل میں لپیٹ کر والد ِ مرحوم کو اَلوداع کرنے کے لئے ائیرپورٹ لایا گیا ۔ اَیّامِ حج میں مِنٰی شریف میں سخت لوُ (یعنی گرم ہوا) چلی  تھی جس کے نتیجے میں بے شمار حجاج کرام شہید اوربہت سے لاپتہ ہوگئے ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدِ محترم بھی لاپتہ ہونے والوں میں شامل تھے،جو تلاش بسیا ر کے بعدبھی نہ مل سکے۔اُن کے ایک رفیق سفر کا بیان ہے کہ اُن دنوں  شیر بیشۂ اہلسنّت ،حضرت ِ مولاناحشمت علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُاللہالْمَنَّانْ بھی حج کیلئے آئے ہوئے تھے۔ ہم نے اُن کی خدمت میں حاضر ہوکرمدعا عرض کیا اور  عرض کی کہ’’آپ دعا کردیں کہ حاجی عبدالرحمن ہمیں مل جائیں۔ ‘‘انہوں نے دعا کی اور فرمایا کہ مل جائیں گے(اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ) ۔ بالآخروہ ہمیں جدّہ شریف کے ایک ہسپتال میں سخت علالت کی حالت میں ملے۔ انہیں لُو لگ گئی تھی اور اِسی حالت میں وہ۱۴ذوالْحِجَّۃِ الْحَرام ۱۳۷۰ ھ کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔  (اِنَّا لِلّٰہِ واِنّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْن)

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔

خو
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دعوت اسلامی. عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کی تحریک ہے، اس کا ساتھ دیا جائے. اور اس کے امیر مولانا محمد الیاس قادری سنی صحیح العقیدہ انسان ہیں یہی جمہور علماء ہندوپاک کا مسلک ہے. اور *شرعی عدالت* گروپ کا بھی یہی موقف ہے. واللہ تعالٰی اعلم.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
🌹 اختلافی مسائل میں
بحث و مباحثہ کِس کا حق ؟

Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
احیاء العلوم 📖 جِـ³ صَـ³⁶
امام غزالی علیہ الرحمہ
دلائل کی روشنی میں اپنے اساتذہ اور مرشد سے اختلاف کیا جاسکتا ہے. اس سے ارادت اور شاگردی میں کوئی فرق نہیں پڑتا. ہاں اگر نفسانیت کی بنیاد پر مخالفت شروع ہوجائے تو فیض رسانی کا سلسلہ موقوف ہوجاتا ہے. مگر حلقۂ شاگردی اور مریدی میں اب بھی باقی رہتا ہے. واللہ تعالٰی اعلم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شکریہ_امیردعوت_اسلامی_مولانا_الیاس_قادری_صاحب_حفظہ_اللہ.pdf
1.3 MB
🌹{شکریہ امیر دعوت اسلامی مولانا
محمد الیاس قادری صاحب حفظہ اللہ تعالی.pdf }🌹
شارح_بخاری_کی_نظر_میں_دعوت_اسلامی_اور_امیر_دعوت_اسلامی.pdf
5.7 MB
شارح بخاری کی نظر میں دعوت اسلامی اور امیر دعوت اسلامی

{نائب مفتئ اعظم ہند وشارح بخاری حضرت العلام حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق صاحب قبلہ امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان}
فتاویٰ رضویہ سے اختلاف کیوں ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
#علامہ_یاسین_اختر مصباحی
صَاحَبۡ قِبۡلَہۡ دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡـعَـالِـیَہۡ
Misbahi786.mk@gmail.com
موبائل نمبر¹ +919560848408
موبائل نمبر² +919350902937
{فتاوی رضویہ _ سے اختلاف کیوں _؟}.pdf
1.6 MB
{فتاوی رضویہ _ سے اختلاف کیوں _؟}.pdf