🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا الیاس قادری موجودہ دور سے نا آشنا ہیں؟

شاید وہ امام شافعی علیہ الرحمہ تھے جو کسی بزرگ سے ملنے کے لیے دور دراز کا سفر کر رہے تھے راہ میں ملنے والوں سے ان بزرگ کے احوال پوچھتے رہے ، سب تعریف کرتے ، آخرکار وہ مقام قریب آگیا جہاں وہ بزرگ قیام پذیر تھے پھر ایک شخص سے اس بزرگ کے احوال پوچھے تو اسنے ان بزرگ کو بہت برا بھلا کہا اور امام سے کہا نہ ملیے ایسے گمراہ شخص سے ۔۔۔ امام شافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے شکر کیا میرا سفر رائیگاں نہیں گیا ۔ جب سب تعریفیں ہی کر رہے تھے تو میں شک میں پڑگیا اب جبکہ تم نے برا بھلا کہا تو تسلی ہوئی کہ جس کی زیارت کے لیے میں نے سفر کیا وہ بندہ ٹھیک ہی ہوگا
ہر بڑی شخصیت کو اس کے ہم عصروں میں برا بھلا کہنے والے ضرور پاۓ جاتے ہیں اگرچہ محبت کرنے والے کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ، مولانا محمد الیاس قادری صاحب تو ویسے بھی فتنوں سے بھرپور سوشل میڈیا کے دور میں زندہ ہیں ، ویسے بھی الیاس قادری صاحب کے مخالفین پیدا ہونے میں خود ان کا ہاتھ ہے ، ان سے غلطی در غلطی ہوتی رہی اور ناقدین بڑھتے رہے ، انکی کچھ خطاٶں کا جائزہ لیتے ہیں

انہوں نے نعرہ بلند کیا صلو علی الحبیب ان سے متعلقین نے الصلوة والسلام علیک یا رسول اللہ کو حرزِ جاں بنالیا تو کچھ لوگ جنہیں آل سعود سے چندہ ملتا تھا وہ خلاف ہوگئے کہ الیاس قادری معاذاللہ مشرک ہے ۔
ملتان میں ہر سال ہونے والے لاکھوں مسلمانوں کے اجتماع میں ” تصور مدینہ “ کروا کر مسلمان کے دلوں میں حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع فروزاں کرنے کی کوششیں کی گئیں تو محبت کا یہ انداز کچھ لوگوں کی سمجھ میں نا آیا اور ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئے ، الیاس قادری صاحب کی خوب بھد اڑائی جاتی رہی لیکن عام سادہ مسلمان الیاس قادری کے دیوانے ہوتے گئے
الیاس قادری واقعہ کربلا بیان کرتے تو پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں ، وہ خود اور ان کے متعلقین ” مولا مشکل کشا “ شہید کربلا “ والا شجرہ طریقت پڑھتے ہیں ، کبھی شبیر و شبر فاطمہ حیدر کے واسطے دیتے ہیں ، پھر کونڈوں کی نیاز دلواتے ہیں امام جعفر صادق کا ذکر خیر کرتے ہیں ، سید زادوں کو احتراماً باپو کہہ کر مخاطب کرتے ہیں تو کچھ لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اُٹھتے تھے اور کہتے تھے الیاس قادری کا جھکاٶ ” اُن “ کی طرف ہے لیکن محبان اہل بیت الیاس قادری صاحب کے گرد جمع ہوتے گئے اگرچہ مخالفین نے بہت رولا ڈالا ۔
الیاس قادری صاحب میں ایک ” پُر خطر “ عادت یہ بھی ہے کہ خیر خواہئ مسلم کا بہت شوق ہے انہیں ۔ لہذا کبھی پان گٹگا اور سگریٹ نوشی سے منع کرتے ہیں تو کبھی پکوڑوں سموسوں سے معدے پر ہونے والے مضر نقصانات سے روکتے ہیں ، کبھی بجلی کے ضیاع پر رسالہ لکھ ڈالتے ہیں تو کبھی سبزیاں کاٹتے وقت کیے جانے والے اسراف پر سمجھاتے ہیں ، اس سادہ آدمی کو تو پتا ہی نہیں کہ دنیا اب چاند چھوڑ مریخ پر جانے کی تیاری کر رہی ہے تو حضرت صاحب ایک بڑی غلطی کر بیٹھے ۔ جب فیس بک کے بڑے بڑے ” روشن خیال “ اور مہذب قسم کے تقریبا ڈیڑھ درجن دانشوروں نے باقاعدہ طنزیہ پوسٹس لکھیں تو تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ معمولی نہیں بلکہ بڑی سنگین غلطی تھی کہ انہوں نے عام مسلمانوں کو بتایا کہ کھیرا کاٹتے وقت چھلکوں کو یوں کاٹو کہ غذائی اجزاء ضائع نہ ہوں ، ویسے بھی الیاس قادری صاحب کو چاہیے تھا کہ ان دقیانوسی باتوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو گردنیں کاٹنے اور خود کش جیکٹیں تیار کرنے کے گُر بتاتے تاکہ ” دانشورانِ سوشل میڈیا “ کے کلیجے مع گردے کو ٹھنڈ پٖڑ جاتی ۔ الیاس قادری چار سال سے اپنی اس غلطی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں
الیاس قادری صاحب غلطی در غلطی کرتے رہے ، جب کراچی میں عالمی مرکز کا راستہ بند کیا گیا تو کچھ جوشیلے اکٹھے ہوکر آگئے کہ حضرت آپ کے لاکھوں مرید ہیں آپ اشارہ کیجیے ہم ہڑتال کریں گے شہر جام کر دیں لیکن کیا کیجیے الیاس قادری صاحب ” مروجہ اصولِ کامیابی “ سے آگاہ نہیں ہیں فرمانے لگے بیٹا جس ہڑتال سے توڑ پھوڑ ہو ، لوگوں کو تکلیف ہو ، املاک کو نقصان پہنچے اسے شریعت منع کرتی ہے ہم کبھی یہ کام نہیں کریں گے بلکہ میری وصیت ہے کوئی مجھے قتل بھی کردے تم قانون ہاتھ میں مت لینا۔ کاش الیاس قادری صاحب کو کوئی سمجھاتا کہ کامیابی کے لیے پاور شو ، ہڑتالیں وغیرہ بہت ضروری ہیں لیکن یہ عجیب آدمی ہیں ہمیشہ اپنے متعلقین کو ایسے کاموں سے روکتے ہیں
الیاس قادری صاحب کو یہ بھی نہیں پتا کہ آجکل ذات کی نفی اور تواضع انکساری سے کام نہیں چلتا بلکہ بڑے بڑے بول بولنے چاہیے اپنی دھاک بٹھانی چاہیے ، کبھی یہ کہا کہ میں نے کبھی کسی مدرسے سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ”عقل سلیم “ والوں نے اس میں بھی کیڑے نکال لیے ۔ وہ جو مفتی وقار الدین رحمة اللہ علیہ کے سامنے سالہاسال تک زانوۓ تلمذ طے کئے رہے شائد اسکی کوئی ویڈیو ہی بنالی ہوتی وہ مفتی وقار الدین جنھوں نے آپکو خلافت سے نوازا یا وہ شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی صاحب کا آپکو دیئے گئے
اجازت نامے کی کاپیاں تشہیر کے لیے چھپواتے اور گلی کوچوں میں چسپاں کروا دی ہوتیں مگر کیا کیجیے الیاس قادری صاحب کو مشہور ہونے کے گُر نہیں آتے ۔
اب کوئی آکر کہتا کہ حضرت صاحب فلاں تکفیری کالعدم تنظیم والے آپکے خلاف محاذ کھڑا کیے ہوۓ ہیں آپ حکم دیجیے آپکا اشارہ ابرو درکار ہے آپ پر کئ بار قاتلانہ حملہ کیا گیا ، ان تکفیری دہشتگرد تنظیموں کی وجہ سے آپکا بین الاقوامی ملتان اجتماع بند کردیا گیا آپ بس حکم دیجیے ان کی ایسی کی تیسی کردیں گے چاہے جیلیں بھرنی پڑیں ، اب الیاس قادری صاحب نے کتنی بڑی غلطی کی کہنے لگے میں وطن عزیز میں فساد نہیں چاہتا اور میری تحریک کا مقصد جیلیں بھرنا نہیں بلکہ مسجدیں بھرنا ہے ۔ میں محبتیں پھیلانے اور نفرتیں مٹانا چاہتا ہوں ۔ کاش کوئی الیاس قادری صاحب کو سمجھاتا کہ صاحب ! یہ شرافت کا زمانہ نہیں بلکہ ڈنڈے سوٹے چلانے کا ہے ۔
کوئی آکر کہتا ہے حضرت صاحب فلاں بندہ بہت گھٹیا ہے آپ کو گالیاں دیتا ہے ، فلاں نے آپکے خلاف کتاب لکھی ہے انکو منہ توڑ جواب دیجیے ۔ زمانے سے ہم آہنگ نہ چلنے والے الیاس قادری صاحب کہتے ہیں بیٹا میرے پاس جواب دینے کا وقت نہیں ۔ میرے مسلمان بہن بھائی پریشان حال ہیں ، افریقی مسلم کی غربت و جہالت اسے عیسائی مشنریز کا تر نوالہ بنارہی ہے ، شامی مہاجرین اغیار کا آسان ھدف بنے ہوۓ ہیں مجھے ان تک پیغامِ محمدی پہچانا ہے ، عطرِ حب رسول سے انکی زخم خوردہ روح کو مہکانا ہے اگر میں سب کو جواب دینے بیٹھ جاتا تو بیسیوں ممالک تک کیسے سلسلہ دراز ہوتا ۔
اے کاش کوئی الیاس قادری صاحب کو سمجھاتا کہ جناب اپنی بات پر اَڑ جانا ہی اصل کمال ہے ، انہیں ذرا بھی خیال نہیں کہ چینل پر بیٹھ کر غلطی کا اعتراف کرنے سے شخصیت کا وقار مجروح ہوتا ہے ، اوپر سے ہر مذاکرے سے پہلے کہہ دیتے ہیں کہ مجھ سے غلطی ہو جاۓ تو فورا میری اصلاح فرما دیجیے ۔۔۔۔ کتنی پرسنلٹی ڈیمیج ہوتی ہے ان باتوں سے لیکن حضرت صاحب عجیب ہیں سمجھتے ہی نہیں ۔
کاش الیاس قادری صاحب کو اچھے مشیر میسر آتے جو انہیں سمجھاتے کہ آپ دنیا بھر میں پھیلے مربوط نیٹورک ، بڑے اشاعتی ادارے اور سوشل میڈیا پیجز کے ذریعے اپنے مخالفین کو دندان شکن جواب دیتے مگر حضرت صاحب نے اپنے متعلقین کو فرض علوم سیکھنے ، غیبت چغلی بدگمانی تکبر ریاکاری ایسے مہلکات سے بچنے اور اخلاص تواضع حیا وغیرہ کی تعریفات میں الجھا رکھا ہے
الیاس قادری صاحب کی سب سے بڑی غلطی بلکہ جرم عظیم یہ ہے کہ وہ پیری مریدی اور روایتی نذرانوں کو لے کر خانقاہ میں گوشہ نشین نہیں ہوۓ بلکہ بد عقیدگی اور بے عملی کے خلاف چار دہائیوں سے رسمِ شبیری ادا کر رہے ہیں
الیاس قادری صاحب اپنی غلطیوں سے مشرک بدعتی جاہل ڈرامے باز ایسے خطابات تو پاہی چکے تھے اب اپنی تازہ غلطی سے نئے مخالفین پیدا کرچکے ہیں ، جس سے صحابی رسول پر سب سے زیادہ زبان درازی کی جاتی ہے اسکے نام پر چند درجن مساجد بنانے کااعلان کر دیا جس کے وجہ سے اب ناصبی ہونے کا خطاب بھی مل گیا ۔ ویسے یہ بھی ایک عجوبہ ہے کہ جسے ناصبی کہا جارہا ہے اس الیاس قادری پر ناصبی خارجی طبقہ کئ بار قاتلانہ حملہ کر چکے ہیں ۔

ہم نے سوچا کہ مولانا الیاس قادری صاحب آخر اتنے مخالفین اور طنز و تشنیع کا دباٶ کیسے برداشت کرتے ہیں آخر انسانی ہمت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ اپنے آپ کو غوث و خواجہ کا غلام کہنے والے الیاس قادری کی طاقت کا منبع ، ذرہ ریگ کو طلوعِ آفتاب دینے والے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر رحمت ہے ، حضرت عطارؔ بارگاہ رسالت میں اپنا استغاثہ پیش کر چکے ہیں

شہا عطاؔر پر ہر آن رحمت کی نظر رکھنا
کرے دن رات سنت کی خدمت یا رسول اللہ ﷺ

عطار تیرے حامئ و ناصر ہیں مصطفے ﷺ
کس کی مجال ہے جو تجھ کو دبا سکے۔
.
❤️
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 236:*
کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شھادت ظہر کی نماز کا سجدہ کرنے کی حالت میں ہوئی ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے شھادت سے پہلے اپنے اصحاب کو نمازِ ظہر پڑھائی، نماز کے بعد سخت لڑائی شروع ہوگئی، جس میں آپ کے اصحاب شہید ہو گئے پھر آخر میں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس سے پتہ چلا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت نمازِ ظہر کے دوران نہیں ہوئی، اب رہ گئی یہ بات کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت سجدے کی حالت میں ہوئی یا نہیں؟
تو کافی کتب میں شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کے سجدہ کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا اور بعض نے سجدہ شکر کا ذکر کیا ہے کہ شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے سجدہ شکر کیا اور اسی دوران ایک بدبخت فاسق نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کردیا۔
چنانچہ چنانچہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں :
*"ثم صلی الحسین باصحابہ الظھر صلاۃ الخوف ثم اقتتلوا بعدھا قتالا شدیدا۔۔۔۔۔۔۔ فتقدم زرعۃ بن شریک التمیمی فضربہ بالسیف علی عاتقہ ثم طعنہ سنان بن انس بن عمرو النخعی بالرمح ثم نزل فاحتز راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نمازِ ظہر نمازِ خوف کی طرح پڑھائی پھر نماز ادا کرنے کے بعد سخت لڑائی ہوئی۔۔۔
(امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی شہید ہونے کے بعد) پھر زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر تلوار کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک کندھے پر وار کیا پھر سنان بن انس بن عمرو نخعی نے آپ رضی اللہ عنہ پر نیزے سے وار کیا پھر شمر اترا اور آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک سر کو (مبارک بدن سے) جدا کر دیا اور (جدا کر کے) مبارک سر خولی کے حوالے کر دیا۔
*(البدایہ النھایہ، صفۃ مقتل حسین، جلد 8 صفحہ 260، 265 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
امام عبدالملک بن حسین بن عبدالملک شافعی عاصمی مکی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ثم حضر وقت الصلاة ۔۔۔۔۔۔ ثم صلی الحسین الظھر صلاۃ الخوف، ثم اشتد القتال بعد الصلاة ۔۔۔۔۔۔۔*
*و اشتد عطش الحسین، فجاء لیشرب من الفرات، فرمی حصین بن تمیم یسھم فی فمہ فجعل یتلقی الدم و یدعو ثم اقبل شمر بن ذی الجوشن فی عشرۃ من رجالتہ، فحالوا بین الحسین و بین اھلہ، فقال : امنعوا اھلی و رحلی من طغامکم، فقال : ذلک لک، ثم حمل علیھم و حملوا علیہ و احاطوا بہ من یمینہ و شمالہ۔*
*وخرجت زینت تنادی فلقیت عمر بن سعد، فقالت : یا عمر، یقتل ابو عبداللہ، و انت تنظر؟! فبکی و زوی عنھا وجھہ، ثم نادی شمر : ماذا تنظرون بالرجل؟! فحملوا علیہ، و ضرب زرعۃ بن شریک التمیمی کتفہ الایسر و علی عاتقہ فاوھنہ، ثم طعنہ سنان بن قیس النخعی بالرمح، و قال لخولی بن یزید الاصبحی : جز راسہ، فارعد، فنزل الیہ سنان فاخذ راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی پھر نماز کا وقت ہوگیا۔۔۔ پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے نمازِ ظہر، نمازِ خوف کی طرح پڑھی، پھر نماز کے بعد لڑائی سخت ہوگئی۔۔۔
اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیاس سخت ہو گئی، پس آپ رضی اللہ عنہ فرات پر پانی پینے کے لئے آئے تو حصین بن تمیم نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ اقدس میں تیر مارا، پس خون نکل کر بہنے لگا پھر شمر ذی الجوشن اپنے لشکر کے دس افراد کو لے کر آگے بڑھا، پس امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل کے درمیان حائل ہو گئے تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
تم میرے اہل اور میری قیام گاہ سے اپنی کمینگی کو باز رکھو،
تو شمر بولا :
یہ آپ کے لئے ہے،
پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے دائیں اور بائیں سے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا۔
اور حضرت زینب رضی اللہ عنھا ندا کرتے ہوئے نکلیں پس عمر بن سعد سے ملاقات ہوئی تو فرمایا :
اے عمر! ابو عبداللہ (یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ) لڑائی کر رہے ہیں اور تو دیکھ رہا ہے ؟
پس وہ رویا اور آپ رضی اللہ عنھا سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر شمر نے ندا کی :
تم (اس) مرد کو کیا دیکھ رہے ہو؟
پس انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کے بائیں کندھے پر اور آپ کی گردن پر تلوار ماری تو اس نے آپ کو کمزور کر دیا پھر سنان بن قیس نخعی نے آپ کو نیزہ مارا اور خولی بن یزید اصبحی سے کہا :
ان کا سر جدا کر دیجیے۔
پس اس پر لرزا طاری ہوگیا۔
تو سنان نے سواری سے اتر کر آپ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کر دیا اور اسے خولی کے حوالے کر دیا۔
*(سمط النجوم العوالی فی انباء الاوائل و التوالی، جلد 3 صفحہ 179، 180 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
برادرِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مولانا حسن رضا خان برکاتی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"جب شمر خبیث نے کام نکلتا نہ دیکھا، لشکر کو للکارا :
’’تمہاری مائیں تم کو پیٹیں کیا انتظار کر رہے ہو حسین کو قتل کرو۔‘‘
اب چار طرف سے ظلمت کے ابر اور تاریکی کے بادل فاطمہ (رضی اللہ
تعالٰی عنہا) کے چاند پر چھا گئے۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے بائیں شانہ مبارک پر تلوار ماری، امام تھک گئے ہیں۔۔۔۔زخموں سے چور ہیں۔۔۔۔ 33 زخم نیزے کے 34 گھاؤ تلواروں کے لگے ہیں۔۔۔۔ تیروں کا شمار نہیں۔۔۔۔ اٹھنا چاہتے ہیں اور گر پڑتے ہیں۔۔۔۔ اسی حالت میں سنان بن انس نخعی شقی ناری جہنمی نے نیزہ مارا کہ وہ عرش کا تارا زمین پر ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔ سنان مردود نے خولی بن یزید سے کہا : سر کاٹ لے۔
اس کا ہاتھ کانپا۔ سنان ولد الشیطان بولا :
’’تیرا ہاتھ بیکار ہو‘‘
اور خود گھوڑے سے اتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے جگر پارے، تین دن کے پیاسے کو ذبح کیا اور سر مبارک جدا کر لیا۔"
*(آئینہ قیامت صفحہ 69، 70 ناشر جمیعت اشاعت اھلسنت پاکستان)*
صدرالافاضل علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"تیر اندازوں کی جماعتیں ہر طرف سے گھر آئیں اور امامِ تشنہ کام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گردابِ بلا میں گھیر کر تیر برسانے شروع کر دئیے، گھوڑا اِس قدر زخمی ہوگیا کہ اس میں کام کرنے کی قوت نہ رہی ناچار حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک جگہ ٹھہرنا پڑا، ہر طرف سے تیر ا ٓرہے ہیں اور امام مظلو م کا تنِ ناز پرور نشانہ بنا ہوا ہے، نورانی جسم زخموں سے چکنا چور اور لہولہان ہو رہا ہے، بے شرم کوفیوں نے سنگدلی سے محترم مہمان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ ایک تیر پیشانی اقدس پر لگا یہ پیشانی مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بوسہ گاہ تھی، یہ سیمائے نور حبیب خدا عزوجل و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آرزو مندانِ جمال کا قرارِ دل ہے۔ بے ادبانِ کوفہ نے اس پیشانیٔ مُصَفّا اور اس جبینِ پُر ضِیا کو تیر سے گھائل کیا، حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چکر آگیا اور گھوڑے سے نیچے آئے، اب نامردانِ سیاہ باطن نے نیزوں پر رکھ لیا، نورانی پیکر خون میں نہا گیا اور آپ شہید ہوکر زمین پر گر پڑے۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ ۔
ظالمانِ بدکیش نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مصیبتوں کا اسی پر خاتمہ نہیں ہوگیا۔ دشمنانِ ایمان نے سرِ مبارک کو تنِ اقدس سے جدا کرنا چاہا اور نضر ابن خرشہ اس ناپاک ارادہ سے آگے بڑھا مگر امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہیبت سے اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار چھوٹ پڑی۔ خولی ابن یزید پلید نے یا شبل ابن یزید نے بڑھ کر آپ کے سرِ اقدس کو تنِ مبارک سے جدا کیا۔"
*(سوانح کربلا صفحہ 169، 170 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"ہر طرف سے تیر آرہے ہیں اور امام مظلوم کا جسم اقدس تیروں کا نشانہ بنا ہوا ہے، تن نازنین زخموں سے چور اور لہولہان ہو رہا ہے۔ بے وفا کرفیوں نے جگر پارہ رسول، فرزندِ بتول کو مہمان بلا کر، ان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ یہاں تک کہ زہر میں بجھا ہوا ایک تیر آپ کی اس مقدس پیشانی پر لگا جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہزاروں بار چوما تھا۔ تیر لگتے ہی چہرہ انور پر خون کا دھارا بہ نکلا۔ آپ غش کھا کر گھوڑے کی زین سے فرشِ زمین پر آگئے۔ اب ظالموں نے نیزوں سے حملہ کیا، شیطان صفت سنان نے ایک ایسا نیزہ مارا جو تنِ اقدس کے پار ہوگیا۔ تیر اور نیزہ و شمشیر کے بہتر زخم کھانے کے بعد آپ سجدے میں گرے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے واصلِ بحق ہوگئے۔ 56 سال، 5 ماہ، 5 دن کی عمر میں جمعہ کے دن محرم کی دسویں تاریخ 61ھ مطابق 680ء کو امام عالی مقام نے اس دارِفانی سے رحلت فرمائی۔"
*(خطباتِ محرم صفحہ 360 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
*نوٹ :*
کچھ دنوں سے چند جاہل لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیخِ طریقت امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ کے متعلق طوفانِ بدتمیزی برپا کر رکھا ہے کہ انہوں نے جو یہ بیان دیا ہے کہ بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ نمازِ (ظہر) کی حالت میں نہیں تھے، یہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی گستاخی ہے حالانکہ نہ یہ گستاخی ہے اور نہ یہ خلافِ واقع ہے لیکن کہتے ہیں کہ اعتراض کرنے والا اندھے کی طرح ہوتا ہے اور یہ بات ان جاہل لوگوں پر کامل طور پر سچی آتی ہے کہ ان عقل کے اندھوں کو اپنے گھر کی بھی خبر نہیں کیونکہ اگر کچھ عقل و شعور رکھتے تو اپنے گھر کی بھی خبر رکھتے، اب ہم ان کے گھر کی گواہی دکھاتے ہیں کہ جس میں بوقتِ شھادت نہ تو امامِ حیسن رضی اللہ عنہ کی نماز کا ذکر ہے اور نہ سجدے کا، لہذا ایسے لوگوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ حسد کی آگ میں جل کر خاکستر ہونے کے بجائے اسے پڑھیں۔
چنانچہ ڈاکٹر طاہر القادری منہاجی لکھتا ہے :
"شمر لعین کے اکسانے پر یزیدی لشکر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر آپ کے بائیں کندھے پر تلوار ماری جس سے آپ لڑ کھڑا گئے اس پر سب حملہ آور پیچھے ہٹ گئے پھر سنان بن ابی
عمرو بن انس نخعی نے آگے بڑھ کر آپ کو نیزہ مارا جس سے آپ گھائل ہو کر گر پڑے سنان نے سواری سے اتر کر آپ کو ذبح کر دیا اور سر تن سے جدا کر کے خولی بن یزید کے حوالے کردیا۔"
*(شہادت امام حسین، فلسفہ و تعلیمات، صفحہ 176 منہاج القرآن پبلی کیشنز)*
مشہور شیعہ محقق، طالب جوہری بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سجدہ کی نفی کرتے ہوئے لکھتا ہے :
"ہلال بن نافع کہتا ہے کہ لشکر کے لوگوں نے جب امام حسین علیہ السلام کا کلام سنا تو اس طرح غضب میں آگئے جیسے اللہ نے رحم انکے دل میں ڈالا ہی نہ ہو۔ ابھی حسین باتیں کر ہی رہے تھے کہ ان کا سر کاٹ لیا گیا۔"
*(حدیثِ کربلا صفحہ 501)*
شیعہ مذہب کا محقق و مجتہد محمد حسین نجفی بھی بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نہ سجدے کا ذکر کرتا ہے اور نہ نماز کا، چنانچہ وہ لکھتا ہے :
"آخر کار شمر لعین نے للکار کر کہا ۔ کیا انتظار ہے؟ ان کا جام جلد تمام کرو۔ خولی ابن یزید اصبحی لعین آگے بڑھا مگر وہ لرزہ براندام ہوکر واپس چلا گیا۔۔۔ اس کے بعد یہ (شمر) ملعون خود آگے بڑھا۔۔۔۔ بہرحال اس شقی ازلی نے کند تلوار کی بارہ ضربات سے خامس آل عبا نواسہ رسول خدا جناب سیدالشھداء علیہ آلاف التحیۃ و الثناء کا پس گردن سے سر اقدس تن اطہر سے جدا کردیا۔"
*(سعادت الدارین فی مقتل الحسین صفحہ 476 اسلامک بک سنٹر اسلام آباد)*
اس شیعہ محقق حیسن نجفی نے اس بات پر کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عین شہادت کے وقت نماز اور سجدہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے، بارہ (12) کتابوں کے حوالے پیش کیے جو کہ درج ذیل ہیں :
1- مقتل عوالم صفحہ 100،
2- مقتل خوارزمی جلد 2 صفحہ 72،
3- مقتل مقرم صفحہ 333،
4- بحار الانوار،
5- قمقام ذخار،
6- ارشاد شیخ مفید،
7- امالی شیخ صدوق،
8- مقتل ابن نماز،
9- تاریخ طبری،
10- تاریخ کامل،
11- ناسخ التواریخ
12- نفس المہموم وغیرھا۔
اللہ پاک ہم سب سنی مسلمانوں کو صحابہ کرام اور اہلِ بیت رضی اللہ عنھم اجمعين کی سچی محبت عطاء فرمائے اور ان جاہل لوگوں کی فتنہ گری سے محفوظ فرمائے۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
09/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
یہ سچ ہے کہ علامہ ارشد القادری علیہ الرحمۃ والرضوان نے دعوت اسلامی کی بنیاد رکھی لیکن اس کی آبیاری اور نشو ونما حضرت مولانا الیاس قادری صاحب نے کی اور اسے ایک عظیم تنظیم بنا دی.
حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ اور حضور تاج الشریعہ علیما الرحمۃ والرضوان نے بہت سے تبلیغی اسفار کیے اور اس کا فائدہ بھی ہوا ہے.
بلکہ علامہ ارشد علیہ الرحمہ کا امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے جو انھوں نے باہری ملکوں میں اہل سنت و جماعت کی ترویج و اشاعت کے لیے مختلف تنظیموں کی بنیاد رکھی اور آج الحمد للہ ان سے بہت کام ہورہا ہے.
رہی بات دعوت اسلامی کے فوٹو اور ویڈیو کی تو پاکستان کے اکثر علماے کرام کے عمل سے ظاہر ہے کہ وہ جواز کے قائل ہیں.
آج جو بھی کام دعوت اسلامی کررہی ہے، جس منظم طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے اور زمینی سطح پر اس کا کام نظر آرہا ہے اس کے مقابل کوئی تنظیم نہیں ہے.
اس طرح کی تحریر لکھنے والے سے گزارش ہے کہ اگر خود کوئی کام نہیں کرسکتے تو کم سے کم جو لوگ کام کررہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کریں اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ہاتھ اور منھ سل لیں.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
ایک دیوبندی شُبہہ کا جواب ،،
تحریر : میثم عباس قادری رضوی ،،

کچھ دن قبل ایک شریر ساجد خان دیوبندی کے پیج کی پوسٹ دیکھی جس میں اس نے دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس عطّار قادری صاحب پر اس وجہ سے اعتراض کیا تھا کہ ان کے سامنے دورانِ خطاب بُلٹ پروف شیشہ لگا ہوتا ہے اس پوسٹ سے اس کا مقصد.یہ تھا کہ امیرِ دعوت اسلامی کو موت سے ڈر لگتا ہے اس شریر کا یہ اعتراض ان علماءِ اہلِ سنت پر بھی وارد ہوتاہے جو اپنے ساتھ مسلح گارڈ رکھتے ہیں وقت کی شدید قلت ہے لیکن مناسب سمجھا کہ مختصرا اس دیوبندی خباثت کا جواب علاج بالمثل کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے دیو بندی فرقہ کی کتاب سے ہی پیش کر دوں تاکہ سادہ لوح عوام اس کی شیطنت سے واقف ہو سکیں
اب جواب کی طرف آئیے بات کچھ یوں ہے کہ دیوبندی فرقہ کے بڑے مفتی رشیداحمد لدھیانوی کراچوی
جو کچھ عرصہ قبل آنجہانی ہواہے ہرجگہ مسلح گارڈوں کے گھیرے میں ہوتے تھے یہ گھیرا اِتنا سخت ہوتا کہ عام آدمی مفتی صاحب سے مل نہیں سکتا تھا حتی کہ ان کی مزعومہ مسجد کے منبر پر بھی مسلح باڈی گارڈ کھڑے ہوتے حفاظتی پہرے کے اس خاص اہتمام کی وجہ سے ان پرکچھ اعتراضات بھی ہوئے جن کا مفصل جواب ان کے دارالافتاء کے نائب مفتی عبدالرحیم دیوبندی نے تحریر کیا.یہ جواب "احسن الفتاوی"جلد6 میں شامل ہے.اس کے علاوہ یہ جواب"مسلح پہرہ اور توکل"کے نام سے الگ بھی شائع ہوا اس جوابی تحریر کے چند اقتباسات ملاحظہ کریں.جن میں ساجد خان دیوبندی کی فضول بَک بَک کا جواب موجود ہے بہرحال معترض معاند ساجد خان دیوبندی کو چاہیے کہ اس طرح کی ایک پوسٹ مفتی رشید احمد لدھیانوی دیوبندی کی بُزدلی کی بابت بھی کر دے تاکہ معلوم ہوکہ آپ اپنے پرائے کا فرق روا نہیں رکھتے لیکن کہے دیتا ہوں ایسا نہیں ہو گا
اس دیوبندی اعتراض سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی کہ دیوبندیوں کی طرف سے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرعمل کادعویٰ صرف زبانی جمع خرچ ہے وگرنہ اگریہ عاملِ سنت ہونے کے دعویٰ میں سچے ہوتے تو کبھی بھی(حفاظتی پہرہ داری کی)سنت کے عامل پر بُزدل ہونے کا طعنہ نہ دیتے
نوٹ:اس پوسٹ کو سرقہ نہ کیا جائے بلکہ من و عن شیئر کیا جائے ،،
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
*(1)ولادتِ باسَعادت*
شیخِ طریقت، امیرِاَہلسنّت ،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد اِلیاس عطّارؔقادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہٍْ کی ولادتِ باسعادت ۲۶رَمَضانُ المبارَک ۱۳۶۹ھ مطابق 12جولائی  1950ء بروزبدھ پاکستان کے مشہور شہر باب المدینہ(کراچی) کے علاقہ بمبئی بازارکھارا در میں وقتِ مغرب سے کچھ دیر قبل ہوئی

*(2)ولدیت*
حاجی عبدالرَحمن قادِری بن عبدالرحیم

*(3)نام و نسب*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کا اسمِ گرامی محمد ہے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کا عُرفی نام الیاس ہے حضور سیِّدُنا غوث الاعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ْکے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہونے کی نسبت سے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ قادِری،امامِ اہلسنّت مجدّدِ دین وملت اِمام احمد رضا خان عَلَیْہ ِرَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ (جو امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے دادا پیر بھی ہیں )کی تحقیقاتِ انیقہ پر مکمل کار بند ہونے اور والہانہ عقیدت و محبت کی بنا پر رَضَوی،اورخلیفۂ اعلیٰ حضرت، قطبِ مدینہ، حضرت مولانا ضیاء ُالدِّین مدنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہ ِالْغَنِیْ کے مُرید ہونے کی نسبت سےضیائی کہلاتے ہیں اعتقاد کے اعتبار سے سچے پکے سُنّی اور فقہ میں آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ ائمہ اربعہ (یعنی امامِ اعظم ابوحنیفہ امام شافعی،امام مالک ،امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِمْ) میں سے امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کے پیروکار ہیں اس نسبت سےحنفی ہیں

*(4)کُنْیَتْ و تَخَلُّصْ*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی کُنْیَت ابو بلال اور تَخَلُّصْ عطّاؔر ہے

*(5)میں عطّاؔر کیسے بنا؟*
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ نے ایک مَدَنی مذاکرے میں جو کچھ ارشاد فرمایا اُس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:’’ میں عطّاؔر کیسے بنا ؟ یہ بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے میں اُن دنوں میں نُور مسجد ( کاغذی بازار باب المدینہ کراچی ) میں اِمامت کرتا تھا دعوت اسلامی کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا مجھے شاعری کا شوق اس وقت بھی تھا میں نے غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کی بارگاہ میں ایک سلام لکھا تھا؛

*سلطان اولیاء کو ہمارا سلام ہو*
*جیلاں کے پیشوا کو ہمارا سلام ہو*

پھر کسی طرح میں نے غالباً30 روپے میں ایک ہزار پرچے خوبصورت (فریم میں لگائے جانے والے) چھپوائے تاکہ انہیں مفت بانٹ سکوں ایک بار میرے پاس ایک شیوڈ نوجوان مجھے ڈھونڈتا ہوا نور مسجد آیا اور مجھ سے یہ پرچہ مانگا میں نے اسے اپنے مختصر سے حجرے میں بٹھایا اور اس پر انفرادی کوشش بھی کی اس دوران پتا چلا کہ اُس کا عطر کا ہول سیل کا کاروبار ہے مجھے عطر لگانے کا بہت شوق تھا میں نے اُسے اپنے اِس شوق کے بارے میں بتایا تو اُس نے مجھے اپنی دکان کا پتا سمجھایا میں اُس کی دکان پر عطر خریدنے گیا تو مجھے بہت سستا محسوس ہو میں نے کچھ خالی شیشیاں خریدیں اور ہول سیل میں عطر خرید کر وہ شیشیاں بھریں اور عطر بیچنا شروع کر دیا عطر کے کام کی نسبت سے میں نے اپنا تخلص عطّاؔر رکھا یوں میں عطّاؔر بن گیا اس میں ایک بہت بڑے بزرگ (جو’’تذکرۃ الاولیاء‘‘کے مؤلف بھی ہیں ) حضرت سیدنا شیخ فرید الدین عطّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارْ کی نسبت بھی ہے یہ تخلص اتنا مشہور ہوا کہ لوگ مجھے الیاس کم اور عطّاؔر زیادہ کہتے ہیں
*(مدنی مذاکرہ، نمبر 26)*

اَلقابات پاک وہند کے علماء و عوام میں آپ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْکے لَقَب سے مشہور ہیں مُریدین آپ کا نامِ نامی لینے سے پہلے عموماًشیخِ طریقت کا اضافہ کرتے ہیں بعض اوقات آپ کو’’ حضرت صاحب‘‘ کہہ کر بھی یاد کیا جاتا ہے،تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی ہونے کی وجہ سے آپ کو ’’بانیٔ دعوتِ اسلامی بھی کہا جاتا ہے آپ کے شہزادگان اور قُربِ خاص کی برکتیں پانے والے متعدد اسلامی بھائی آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْسے عرض و معروض کے وقت ’’باپا‘‘کے اپنائیت بھرے لفظ سے بھی پُکارتے ہیں پاک و ہند کے مختلف علماء کرام ومفتیانِ عِظام دَامَتْ فُیُوْضُھُمْ نے مختلف مواقع پر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کو جن اَلقابات سے تحریراً یاد کیا ہے ،ان میں سے چند ملاحظہ ہوں :

عالمِ نبیل،فاضل جلیل،عاشق رسول مقبول ،یادگار اسلاف،نمونہ اسلاف،مبلغ اسلام رھبرقوم،عاشق مدینہ،فدائےمدینہ،فدائےغوث الوریٰ،فدائے سیدنا امام احمد رضا(رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ)صاحب تقویٰ، مسلک اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کےعظیم ناشر و مبلغ و پاسبان ترجمان،صاحب المجدوالجاہ،فیض رساں،عمیم الجودوالاحسان،امیر دعوت اسلامی،امیر اھل سنت،فخر اھل سنت،نائب غوث اعظم،نائب اعلیٰ حضرت (رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ)پیکر سنت،حامی سنت،ماحی بدعت،شیخ وقت،پیر طریقت،امیرملت،وغیرہ۔
.
Forwarded from Urdu Tahrir
*(6)میمن گھرانا*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ نے میمن گھرانے میں آنکھ کھولی ایک بار دوران مدنی مذاکرہ خودارشادفرمایا ’’ ہند (انڈیا) میں ہندوقوم’’لوہانہ‘‘کی طرف غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ کی اولاد میں سے ایک بُزُرگ سیِّدنا یوسُفُ الدین عَلَیْہِ رَ حْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن تشریف لائے اور لَوہانہ قوم میں نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچائیں جس کی بَرَکت سے ہماری برادری کے لوگ مسلمان ہوئے اور ’’مُومِن‘‘لقب پایا،جو بعد میں مومِن سے تبدیل ہوکر’’ میمن‘‘ہو گیا)
*رسالہ ابتدائی حالات،ص۱)*
.
https://t.me/SirfUrduTahrir/825
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
http://T.me/SirfUrduTahrir
.
*امیرِ اہلسنت محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کے آباؤ اجداد*

*آپ کے آباؤ اجداد:*
آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے آباواَجدادہند کے گاؤں ’’کُتیانہ‘‘(جُوناگڑھ)میں مقیم تھے۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے دادا جان ’’عبدالرحیم‘‘ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم کی نیک نامی اورپارسائی پورے ’’کتیانہ ‘‘ میں مشہورتھی اورہر سُو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ  کے حسنِ اخلاق کے چرچے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ انتہائی سادہ طبیعت اور مُنْکَسِرُالْمِزاج تھے۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے مرحوم نانا جان کا نام حاجی محمد ہاشِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ اور نانی جان کانام حلیمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہَا تھا۔

*والد ین کریمین:*
امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ْکے والدِبُزرگوارحاجی عبدالرَحمن قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُاللہ ِ الْھَادِیْ  پرہیزگار انسان تھے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ!سنّت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی تھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ اکثر نگاہیں نیچی رکھ کر چلا کرتے تھے اور انہیں بہت سی اَحادیثِ مبارَکہ زبانی یاد تھیں۔ دُنیوی مال ودولت جمع کرنے کا لالچ نہیں تھا۔ امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی والدۂ ماجدہ امینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہَا ایک نیک  اور پرہیزگار خاتون تھیں۔

والد ین کی ہجرت:

جب پاکستان معرضِ وُجود میں آیا توغیر مسلموں نے مسلمانوں کو خوب لُوٹااور بے شمار مسلمانوں کو نہایت ہی بے دردی و سفّاکی کے ساتھ شہید کردیا گیا۔ ان نامُساعد حالات میں جُوں توں جان بچا کر امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدین ماجدین ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے اور بابُ الْمدینہ(کراچی) میں قیام پذیرہوئے ۔یہاں والدِ محترم  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ نے حُصولِ مُعاش کیلئے ایک فرْم میں ملازمت اختیار کرلی۔ اس فرْم کی ایک شاخ’’سیلون‘‘کےدارالخلافہ’’کولمبو‘‘ میں بھی تھی،کچھ ہی عرصے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کا تبادلہ ’’کولمبو‘‘ کردیا گیا۔

والد محترم کی کَرامت:   

امیرِ اَہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدِ بُزُرگوارعَلَیْہِ رَحْمَۃُالْغَفَّارْسلسلۂ عالیہ قادِریہ کے صاحبِ کرامت بُزُرگ تھے۔1979ء میں جب شَیخِ طریقت امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ ’’کولمبو‘‘ تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں کو والدصاحب سے بَہُت متأثر پایا۔کیونکہ انہوں نے وہاں کی عالیشان حَنَفی میمن مسجد کے انتظامات سنبھالے تھے اور اس مسجد کی کافی خدمت بھی کی تھی۔ وہاں پر امام صاحب کی غیر حاضری میں نمازیں بھی پڑھادیا کرتے تھے ۔کولمبو میں قیام کے دوران امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے خالو نے دورانِ گفتگو آپ کو بتایا کہ ’’آپ کے والد صاحب بہت نیک آدمی تھے ،غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ کےبہت چاہنے والے اور قصیدۂ غوثیہ کے عامل تھے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب کبھی چار پائی پر بیٹھ کر آپ کے والد صاحبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ ’’قصیدۂ غوثیہ‘ ‘پڑھتے تو ان کی چار پائی زمین سے بلند ہو جاتی تھی۔‘‘(سُبْحَانَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ)

 والدِ بُزرگوار کا وِصال:

امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کی عمرڈیڑھ یا دو برس کی تھی جب کہ آپ کے والدبُزرگوار کو مدینے شریف کا بُلاوا آیا۔ چنانچہ ۱۳۷۰ ھ میں  انہوں نے سفرِ حج اختیار کیا۔والد صاحب کے سوئے عَرَب روانہ ہونے کے وقت امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کو بخار تھا اور آپ کو ایک کمبل میں لپیٹ کر والد ِ مرحوم کو اَلوداع کرنے کے لئے ائیرپورٹ لایا گیا ۔ اَیّامِ حج میں مِنٰی شریف میں سخت لوُ (یعنی گرم ہوا) چلی  تھی جس کے نتیجے میں بے شمار حجاج کرام شہید اوربہت سے لاپتہ ہوگئے ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہْ کے والدِ محترم بھی لاپتہ ہونے والوں میں شامل تھے،جو تلاش بسیا ر کے بعدبھی نہ مل سکے۔اُن کے ایک رفیق سفر کا بیان ہے کہ اُن دنوں  شیر بیشۂ اہلسنّت ،حضرت ِ مولاناحشمت علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُاللہالْمَنَّانْ بھی حج کیلئے آئے ہوئے تھے۔ ہم نے اُن کی خدمت میں حاضر ہوکرمدعا عرض کیا اور  عرض کی کہ’’آپ دعا کردیں کہ حاجی عبدالرحمن ہمیں مل جائیں۔ ‘‘انہوں نے دعا کی اور فرمایا کہ مل جائیں گے(اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ) ۔ بالآخروہ ہمیں جدّہ شریف کے ایک ہسپتال میں سخت علالت کی حالت میں ملے۔ انہیں لُو لگ گئی تھی اور اِسی حالت میں وہ۱۴ذوالْحِجَّۃِ الْحَرام ۱۳۷۰ ھ کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔  (اِنَّا لِلّٰہِ واِنّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْن)

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔

خو
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دعوت اسلامی. عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کی تحریک ہے، اس کا ساتھ دیا جائے. اور اس کے امیر مولانا محمد الیاس قادری سنی صحیح العقیدہ انسان ہیں یہی جمہور علماء ہندوپاک کا مسلک ہے. اور *شرعی عدالت* گروپ کا بھی یہی موقف ہے. واللہ تعالٰی اعلم.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
🌹 اختلافی مسائل میں
بحث و مباحثہ کِس کا حق ؟

Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
احیاء العلوم 📖 جِـ³ صَـ³⁶
امام غزالی علیہ الرحمہ
دلائل کی روشنی میں اپنے اساتذہ اور مرشد سے اختلاف کیا جاسکتا ہے. اس سے ارادت اور شاگردی میں کوئی فرق نہیں پڑتا. ہاں اگر نفسانیت کی بنیاد پر مخالفت شروع ہوجائے تو فیض رسانی کا سلسلہ موقوف ہوجاتا ہے. مگر حلقۂ شاگردی اور مریدی میں اب بھی باقی رہتا ہے. واللہ تعالٰی اعلم