🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*🌹کیا کوئی واقعی چاند پر جا سکتا ہے؟🌹*

*فخــر ازهـــر گـروپ؛ ٹيــلى گـرام*
*لــــنـــک:* t.me/Fakhr_e_Azhar

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اور صاحب معقولات و منقولات اس سوال کے بارے میں
کیا کوئی واقعی چاند پر جا سکتا ہے
جیسا کہ آج کل کے سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے اور کر رہے ہیں
برائے کرم مدلل و مفصل جواب تحریر فرمائیں بینوا و توجروا

🌹المستفتی🌹 محمد شفیع رضا قادری پورنوی

◆ــــــــــــــــــ🔹ــــــــــــــــــ◆
*📿بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 📿*
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

*الجواب بعون الملک الوھاب"*

جی ہاں حفاظتی تدابیرکے ساتھ چاند پر جانا اور رہنا دونوں ممکن ہیں -
جیساکہ حضور فقیہ الملت والدین مفتی جلال الدین احمد قبلہ امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان فتاوی فیض الرسول میں تحریر فرماتے ہیں کہ
" چاند کے محل وقوع کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ وہ آسمان کے نیچے ہے اور جو چیز آسمان کے نیچے ہے حفاظتی تدابیر کے ساتھ اس پر انسان رسائی و رہائش ممکن ہے

📖 قرآن مجید سورۂ انبیاء پارہ 17 / رکوع 3/ کی آیت کریمہ
{" و ھو الذی خلق اللیل والشمس والقمر کل فلک یسبحون "}
کے تحت علامہ ابو البرکات نسفی (متوفی 1310 عیسوی)

📗تفسیر مدارک التنزیل جلد ثالث صفحہ 78 میں فرماتے ہیں
{" عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما الفلک والسماء والجمھور علی ان الفلک موج مکفوف تحت السماء تجری فیہ الشمس والقمر والنجوم "} اھ

یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ فلک ( جس میں شمس و قمر پیر رہے ہیں) آسمان ہے اور جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ فلک آسمان کے نیچے ایک کھڑی ہوئی موج ہے جس میں سورج چاند اور ستارے پیر رہے ہیں " اھ
*( ج:1/ص:138)*

*واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب؛*
◆ــــــــــــــــــ🔹ــــــــــــــــــ◆
*کتـبــه" حضــرت عـلامــہ مفــتـی محـمـد اســرار احمـد نــوری صــاحـب قبلــہ مــدظلـہ العـالـی والنـورانـی*
*صـدر شعـبـئـہ افتـاء مـدرسـہ عـربیـہ اہل سنت فیض العلـوم کالا ڈھـونگی ضلع نیـنـی تـال اتـراکھـنـڈ*
*مورخہ، ١٠ محرم الحرام ١۴۴١ھ*
*🔸فخـر ازهـر فقہی گروپ؛🔸*
*رابطــہ؛ 9756464316*
◆ــــــــــــــــــ🔹ــــــــــــــــــ◆
*الجواب صحيح والمجيب نجيح فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی*
*الجواب صحيح و ھکذا قال العلامۃ المفتی محمد شریف الحق الامجدی رئیس دار الإفتاء بالجامعۃ الاشرفیہ قدس سرہ فی فتاواہ،*

*فقط سید شمس الحق برکاتی مصباحی*
◆ــــــــــــــــــ🔹ــــــــــــــــــ◆
*المشتــہر؛*
*اسيــرتـاج الشـر يعــه خـاكسـار*
*غــــلام احمــــد رضــــا نــــــورى*
◆ــــــــــــــــــ🔹ــــــــــــــــــ◆
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اہل بیت کے لیے لفظ علیہ السلام استعمال کرنا کیسا ہے ؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
بعض حضرات اہل بیت اکرام کے لئے علیہ السلام کا لفظ استعمال کرتے ہیں کیا یہ درست ہے؟
علیہ السلام کا مطلب کیا ہے؟
کچھ لوگوں نے اسے جائز کہا ہے تو کس بنا پر کہا ہے؟
تسلی بخش جواب عنایت کریں محمد ہاشمی قادری

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب الہم بعون الملک الوہاب
علیہ السلام کا لفظ غیر نبی پر بو لا جا ئے یا نہیں تصریحات علماء میں دونوں طرح کی روایتں ملتی ہیں چنانچہ قاضی عیاض مالکی فر ماتے ہیں كذالك يجب تخصيص النبى صلى الله عليه وسلم وسائرالأنبياء بالصلاة والسلام
(شرح شفا للقارئ ٢/١٤٧)

اس سے پتہ چلا کہ الصلوۃ والسلام صرف انبیاء کے ساتھ خاص ہے دوسروں کے لئے اس کا استعمال ممنوع ہے
لیکن ملا علی قاری شرح فقہ اکبر میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل فر ماتے ہیں
(وفى الخلاصة ان فى الاجناس عن ابى حنيفة رضى الله تعالى عنه لا يصلى على غير الأنبياء والملائكة ومن صلى على غير هما لا على وجه التبعية فهى غال من الشيعة التى نسميها الروافض انتهى مفهومه ان حكم السلام ليس كذالك ولعل وجهه ان السلام تحيةاهل السلام لا فرق بين السلام عليه وعليه السلام)
اس عبارت کا مفہوم یہ ہوا کہ غیر انبیاء کو علیہ السلام کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے پس جن لوگوں کے نزدیک علیہ السلام کا اطلاق غیر نبی پر منع ہے تو سبھی حضرات کیلئے منع ہوگا چاہئے وہ حسنین کریمین شیخین طیبین سبھی کیلئے منع ہوگا اور جن آئمہ کے نزدیک سلام کی خصوصیت نہیں ان کے یہاں سب کیلئے جائز قرار دیں گے
علامہ شامی نے علیہ السلام کہنے سے منع فر مایا ہے شامی جلد خامس ص ٤٩٦
لیکن شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے اس کو شعار روافض ہونے میں کلام کیا ہے انھوں نے خود تحفئہ اثنا عشریہ میں جگہ جگہ اہل بیت کو علیہ السلام لکھا ہے
اسی کسی نے ان سے استفسار کیا تو جواب ارشاد فر ماتے ہیں سلام کا لفظ غیر انبیاء کی شان میں کہ سکتے ہیں اہل سنت کے کتب قدیمہ اور ابو داود صحیح بخاری میں حضرت علی ۔حسنین فاطمہ خدیجہ اور حضرت عباس کے ذکر میں لفظ علیہ السلام ہے اصول االشاشی میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کیلئے و السلام علی ابی حنیفتہ و احبابہ
(فتاوی عزیز یہ/۱/۱۶۵)

ان تمام تفضیلات کی روشنی میں معلوم یہ ہوتا ہے کہ حکم یہی ہے کہ غیر نبی کو خواہ اہل سنت ہی کیوں نہ ہو علیہ السلام نہ کہا جائے اس لئے کہ شامی میں ہے
(اما السلام فنقل اللقانى فى شرح جواهر التوحيد عن الا الجوينى انه فى معنى الصلاة يستعمل فى غائب ولا غير الأنبياء فلا يقال عليه السلام)
لیکن یہ حکم اتنا سخت نہیں ہے کیونکہ خود اس کے اطلاق کے حکم میں اختلاف ہے
امام نودی نے مکروہ تنزہی بتایا ہے شرح اشباہ میں مکروہ تحریمی ہے اور خود ہمارے احناف مثلا شامی اور ملا علی قاری کے اشاروں سے خلاف او لی کی جانب اشارہ ملتا ہے اس لئے اس قسم کے مسائل میں شدت نہ برتنا چاہئے
(فتاوی بحر العلوم جلد پنجم ص ۳۱۱)

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ؛ محمد رضا امجدی خادم التدریس دار العلوم چشتیہ رضویہ کشن گڑھ اجمیر شریف المتوطن ہرپوروا باجپٹی سیتا مڑھی بھار
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 دف کے ساتھ نعت رسول صلی للہ علیہ وسلم پڑھنا کیسا ہے ? 🌹


ساٸل رحمت علی ضیاٸ بہراٸچ شریف

{ https://t.me/fakhr_e_azhar}

* الجواب بعون الملک الوھاب *

صورت مسٶلہ میں دف بجانے کے کچہ شراٸط ہیں جن کے ساتھ دف بجانے کو شرع نے جاٸز رکھا ہے

اول : شادی کے موقعہ پر بغرض اعلان نکاح ھو جبکہ مقصود شرع سے تجاوز کرکے محض حصول لذت کے لیے نہ ھو

ثانی : تال سم کے طریقہ پر نہ بجایا جاۓ اور اس میں جھانج نہ ھو

ثالث : بجانے والے مرد نہ ھوں کہ مردوں کو بجانا مطلقا مکروہ ہے اور نہ ہی شرف والی بیبیاں بلکہ بجانے والے یا تو بچیاں ھوں یا باندیاں یا لونڈیاں ھوں

کما قال الامام احمد رضا
{ العطایا النبویة فی الفتاوی الرضویة ج ٩ ص ٧٧ } رضا اکیڈمی ممبٸ

بہر حال صورت مزکورہ میں اس فتوے کی روشنی میں ممنوع ہی ھونا چاہیۓ ، کیوں کی یہاں امام نے اپنے فتوے میں نکاح کی شرط لگاٸ ہے اور صورت مزکورہ میں غرض کچہ اور ہے جس میں شرط کا فقدان ہے

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ عبدہ العاصی مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ
________________________________
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 72 :*
خطبہ کے وقت , خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی ہاتھ میں لینا کیسا ہے ؟
*جواب :*
خطبہ کےوقت , خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی کو ہاتھ میں نہ لینا بہتر ہے, البتہ اگر کوئی عذر ہو تو اس وجہ سے وہ لاٹھی کو ہاتھ میں لے سکتا ہے.
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :
"خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینا بعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت موکدہ نہیں تو بنظرِ اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو"
*وذلک لان الفعل اذا ترد بین السنیۃ والکراھۃ کان ترکہ اولی* (وہ اس لئے کہ جب فعل کے سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہو تو اس کا ترک بہتر ہوتا ہے).
*(فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 303 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03/04/2019
03068209672
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💥تصویر پر سبحان اللہ ماشاء اللہ کے کمنٹ 💥
اسلام علیکم
حضرت مفتی صاحب جواب عنایت فرمایں.
کسی جاندار فوٹو کی تعریف میں سبحان اللہ کہنا یا لکھنا کیسا ہے,
جیسے آجکل فیسبک اور واٹسپ پہ لکھتے ہیں؟؟؟
. سائل:عبد القادر رضوی. بریلی
شریف.
🍀🍀🍀🍀🍀🍀
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جواب: اس بارے میں علمائے کرام کے موقف میں اختلاف ہے. لہذا اسی اعتبار سے حکم بھی جداگانہ ہوگا. ہم یہاں ہندوستانی مفتیانِ عظام اور محققین کی تحقیق اور حکم پیش کر رہے ہیں. جو کہ دوطرح کے ہیں.
🍀ایک تحقیق یہ ہے کہ جاندار کی تصویر چاہے دستی ہو کہ عکسی ہاتھ سے بنائی جائے یا موبائل-فون کی ساکت تصویر ہو. یا پھر ویڈیو سازی کی گئی ہو. ہر طرح کے جاندار کی تصویر بلا شبہ ناجائز وحرام ہے. لہذا ان کے نزدیک جاندار کی ہرطرح کی تصویر دیکھ کر سبحان اللہ اور ماشاءاللہ کے کمنٹس بولنا. یا تصویر کی تعریف کرنا ناجائز وحرام ہوگا.
🍀 دوسری تحقیق یہ ہے کہ موبائل سے لی جانے والی تصویریں یا دوسرے جدید ذرائع ابلاغ سے کھینچی جانے والی ڈیجیٹل تصویریں جب تک برقی شعاع کی صورت میں محفوظ ہیں. باہر اس کی پرنٹ نہیں نکالی گئی ہے. آئینہ میں نظر آنے والے عکس کے مانند ہے. تصویر کے حکم میں نہیں. لہذا اب ان کی تحقیق کے مطابق کسی ڈیجیٹل تصویر پر سبحان اللہ. ماشاء اللہ کے کمنٹس لکھنے اور بولنے میں کوئی حرج نہیں. بلا شبہ جائز ہے.
البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ بچا جائے.
چوں کہ یہ ایک فرعی مسئلہ ہے. لہذا جس عالم دین کی تحقیق پر دل جم جائے. شوق سے عمل کریں. ساتھ ہی اس کے برعکس عمل کرنے والوں پر طعن و تشنیع سے کام نہ لیں. کہ فرعی مسئلے میں الجھنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے. ھذا ماسنح لی والعلم بالحق عند ربی.
✍🏻عدنان غوثی مصباحی
3/صفر المظفر 1439ھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*زاویہ نظر*
*مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیۃ*

شعارِ اختلاف

اہلسنت وجماعت کے حالات ان دنوں انتہائی تکلیف دہ ہیں ، ہم اپنے علمی اختلافات کوداخلی سطح پر طے کرنے کے بجائے عوام میں لے آتے ہیں، پھر سوشل میڈیا پر دین کو بازیچہ اطفال بنادیا جاتا ہے ۔ سوشل میڈیا دو دھاری تلوار ہے اور اس آیت کا مصداق ہے:’’(اے رسولِ مکرّم !) لوگ آپ سے شراب اور جوئے کاحکم پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیے:ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ فائدے بھی ہیں، لیکن ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے بڑا ہے ، (البقرہ:219)‘‘، یہاں آیت کا حوالہ محض مشابہت کو بیان کرنے کے لیے ہے کہ سوشل میڈیا کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ ہے،ورنہ یہ آیت شراب کے بارے میں عبوری دور سے متعلق ہے ، بعد میں سورۃ المائدہ میں حرمتِ خمر کا قطعی حکم نازل ہوا‘‘ ۔

بعض علماء کو یہ شوق لاحق ہوگیا ہے کہ اُن کی ہر بات ، ہر ادا ، ہر قول وفعل بلاتاخیر سوشل میڈیا پر آجائے، یہ روش انتہائی حد تک نقصان دہ ہے ، سوشل میڈیا پر چیزوں کو ایڈٹ کر کے ڈالنا چاہیے اور فائدے کے حصول پر نقصان سے بچنے کوترجیح دینی چاہیے ۔ ہمارے ہاں ایک شعار یہ ہے کہ اگر کسی سے کسی مسئلے میں اختلافِ رائے ہوگیا ہے تو بلاسوچے سمجھے انتہائی درجے کاحکم لگادیا جاتا ہے اور پھر واپسی کا راستہ باقی نہیں رہتا،جبکہ افتاء کا اصول یہ ہے کہ جس درجے کی خطا یا لغزش ہو ، اُسی درجے کا حکم لگایا جائے اور اس میں بھی احتیاط برتی جائے،فقہائے کرام نے تو اس حد تک احتیاط کا حکم دیا ہے کہ اگر کسی کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کی ہوں اور ایک وجہ اسلام کی نکلتی ہو تو اُسے ترجیح دی جائے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہے:اے کافر! تو بے شک دونوں میں سے ایک کفر کے ساتھ لوٹے گا، (بخاری:6103)‘‘، یعنی اگر مخاطَب درحقیقت کفر کامرتکب ہوچکا ہے ، تو اس پر کفر کا اطلاق درست ہوگاورنہ مسلمان کو کافر کہنے والے پر یہ کفر لوٹ جائے گا ،فتاویٰ عالمگیری میں ہے:’’یہ اس صورت میں ہے کہ وہ اسے اعتقاداً کافر سمجھ کر کہے اور اگر محض گالی کے طور پر کہے تو قائل کافر نہیں ہوگا(بلکہ گناہگار ہوگا) ‘‘۔

بعض لوگ اختلافِ رائے کے وقت ازخود کسی شخص کے ایمان ،اخلاص ،قلبی کیفیات ،نیت اورعمل کے محرّکات کے بارے میں گفتگو شروع کردیتے ہیں۔ اختلافِ رائے کے حوالے سے ایک بنیادی خرابی یہ ہے کہ اس نظریے سے بات کا آغازکیا جاتا ہے کہ وہ حق کے آخری درجے پر کھڑاہے اور سامنے والا مِنْ کُلِّ الْوُجُوْہ باطل ہے، لوگ دیانتداری کے ساتھ دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنا ہی نہیں چاہتے ، انانیت کا غلبہ ہوتا ہے ۔جو مراد آپ لے رہے ہیں ، سامنے والا اس کی نفی کر رہا ہے ، مگراصلِ مقصود معاملہ سلجھانا نہیں ہوتا، بلکہ اپنی فتح کو منوانا اور دوسرے کو بدنام کرنا مقصود ہوتا ہے۔ ان سب وجوہ سے ہم تہذیب وشائستگی سے دور چلے جاتے ہیں۔ پس اختلاف ِ رائے کا درست طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کے نقطہ ٔ نظر کو پوری طرح سے سمجھا جائے ،فریقِ مخالف کی وضاحت اگر قابلِ قبول ہے تو اُسے قبول کرلیا جائے ، اصلِ مقصود اصلاح ہونی چاہیے نہ کہ پندارِ فتح۔

علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں:

’’نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور مَلَک کا خاصہ ہے کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ اماموں کو انبیاء کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی وبددینی ہے ۔ عصمتِ انبیاء کے یہ معنی ہیں کہ اُن کے لیے حفظِ الٰہی کاوعدہ ہولیا، جس کے سبب اُن سے صدورِ گناہ شرعاً مُحال ہے، بخلاف ائمہ واکابر اولیا کہ اللہ عزوجل انہیں محفوظ رکھتا ہے ، اُن سے گناہ ہوتا نہیں، مگر ہو تو شرعاً مُحال بھی نہیں۔ انبیاء علیہم السلام شرک وکفر اور ہر ایسے امر سے جو خلق کے لیے باعثِ نفرت ہو، جیسے کذب وخیانت وجہل وغیرہا صفاتِ ذمیمہ ، نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مروّت کے خلاف ہیں، قبلِ نبوت اور بعدِ نبوت بالاجماع معصوم ہیں اور کبائر سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ قصداً صغائر سے بھی قبلِ نبوت اور بعدِ نبوت معصوم ہیں، (بہارِشریعت، ج:1،ص:38-39)‘‘۔اس پر بھی اجماع ہے کہ امورِ تبلیغیہ میں نبی سے سہو ونسیان اور خطا کا صدور مُحال ہے ۔

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:

’’خلاصہ‘‘ ودیگر کتبِ فتاویٰ میںہے :جب ایک مسئلے میں کئی وجوہِ کفر ہوں اور ایک وجہ ایسی ہو جو کفر کا اطلاق کرنے میں مانع ہوتو مفتی پر لازم ہے کہ مسلمان کے ساتھ حسنِ ظن رکھتے ہوئے اسی وجہ کی طرف مائل ہو جو کفر کے اطلاق میں مانع ہے ،سوائے اس کے کہ جب وہ کفر کا سبب بننے والی وجہ کی تصریح کرے توپھر تاویل اس کو فائدہ نہیں دے گی،(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج:6،ص:272)‘‘۔

علامہ ابن نجیم حنفی کفریہ کلمات لکھنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’اس حوالے سے ظاہر بات یہ ہے کہ جس مسلمان کے کلام کو کسی صحیح مفہوم پرمحمول کرنا ممکن ہو اس کی تکفیر نہ کی جائے یا جس کے کفر میں روایتِ ضعیفہ کی وجہ سے اخت
لاف ہو ، اس کی بھی تکفیر نہ کی جائے ، پس اس سبب اکثر کفریہ کلمات (جو ماقبل عبارت میں ) مذکور ہوئے ہیں، ان پر تکفیر نہ کی جائے اور میں نے اپنے آپ کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ ان کے بارے میں کوئی فتویٰ نہ دوں، (البحر الرائق،ج:5،ص:210)‘‘۔

دانشمندی کا تقاضا ہے کہ آپس کے اختلافات کو بازاروں اور چوراہوں میں نہ لایا جائے، آج کل سوشل میڈیا کی مثال بازار اور چوراہے ہی کی ہے ، بلکہ اس سے بھی ہزاردرجے آگے ہے ۔نیز وہ امور جو اہلسنت وجماعت میں مسلّم ہیں ،عوام میں انہی کا ابلاغ کیا جائے ،اگر کسی مسئلے میں کسی کی رائے جمہور سے جدا ہے تو وہ اُسے کلاس روم تک محدود رکھیں ،عوام میں نہ لائیں، اس کا نقصان نفع سے زیادہ ہے ۔اس کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ انتہائی باصلاحیت شخص جومختلف شعبوں میں معرکہ آراء کام انجام دے سکتا ہے ، اس کی صلاحیتیں ان الزامات کے جواب اور جوابی الزامات پر صرف ہوتی ہیں اور بحیثیت مجموعی اہلسنت کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہیں، مخالف حلقوں کویقینا اس سے تسکین ملتی ہوگی ،یہی وجہ ہے کہ وہ آگ کے شعلے بھڑکانے کے لیے جلتی پر تیل ڈالتے ہیں، علامہ اقبال نے کہا تھا:

تری دُعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دُعا ہے تری آرزو بدل جائے!

جس نے کفر کا ارتکاب کیا ہو یا ضروریاتِ دین میں سے کسی کا انکار کیا ہو یا ضروریاتِ مسلک اہلسنت وجماعت میں سے کسی بات کا انکار کیا ہو یا کوئی علانیہ حرام اور فسق وفجور کا ارتکاب کر رہا ہو،توفقہی اعتبار سے ایسے اشخاص سے اعلانِ براء ت ضروری ہوجاتا ہے ۔لیکن جس کے کسی قول کی تاویل کی جاسکتی ہو یا وہ خود کوئی قابلِ قبول تاویل کر رہا ہو تو زبردستی اس پر کوئی معنی ٹھونسنا مناسب نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہم معاصرین کے بارے میں انتہائی سنگ دلی اور قساوتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہیں ،اُن کی گرفت میں حد سے گزر جاتے ہیں، حالانکہ وہی یا اس سے ملتا جلتا کوئی قول بعض متقدمین کے ہاں بھی مل جاتا ہے ، جو مسلّمہ طور پر ہمارے اکابر میں سے ہیں ۔ پھر یاتوہم اُن کے ایسے اقوال سے صرفِ نظر کرتے ہیں یا حتی الامکان ان کی تاویل کرتے ہیں ، ان پر فتویٰ صادر نہیں کرتے۔

مزید یہ کہ ہرشخص دین کا اسٹیک ہولڈر بن گیا ہے ،بعض لوگ اپنی ناموس پر ناموسِ رسالت کے قانون کے اطلاق کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔جو کسی کے دامِ عقیدت میں گرفتار ہیں، وہ اپنے مرجعِ عقیدت سے اختلافِ رائے کرنے والے کے منصب کو نظر انداز کر کے اس کی توہین ، تضحیک اور تحقیر کو اپنا شعار بنالیتے ہیں ، بزرگوں کو چاہیے کہ اپنے ایسے عقیدت مندوں کو لگام دیں۔ آج جنہیں ہم اپنے جسدِ ملّی سے کاٹ کر پھینکنا چاہتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کل کسی دینی ضرورت یا کسی مسلکی مصلحت کے تحت انہیں قبول کرنا پڑے یا اللہ تعالیٰ ان کے دل میں جمہوراہلسنت کے ساتھ مل کر چلنے کا جذبہ پیدا فرمادے اور ہمیں پھر مل بیٹھنا پڑے تو شرمندگی نہ ہو ۔

اسی طرح ہر فریق کو اختلافِ رائے کرتے وقت دوسرے کے علمی مقام اور منصب کی پاسداری کرنی چاہیے ، جو علمی احترام ہم اپنے لیے چاہتے ہیں ، دوسروں کے لیے بھی ہمیں اس کی گنجائش رکھنی چاہیے ۔ مجھے حیرت اس پر ہے کہ جن بزرگوں نے اعلانِ براء ت کیا ہے ، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جو چیز اُن کے نزدیک کسی کی خطا یا لغزش ہے ، وہ اصولِ اِفتاء کے اعتبار سے کس درجے کی ہے اور اس پر کیا حکم لگتا ہے۔

حالیہ ناخوشگوار فضا میں ایک افسوس ناک روش یہ سامنے آئی کہ بعض حضرات نے مسلک کا مخلص اور ہمدرد بن کر بعض ذمے دار اکابر سے بات کی ، انہوں نے اپنے انداز سے وضاحت کی اور انہوں نے خیانت کرتے ہوئے اسے ریکارڈ کیااور پھر سوشل میڈیا پر ڈال دیا ،رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے:’’مجلس میں ہونے والی گفتگو امانت ہے (پس اُسے بلا اجازت اِفشا نہ کیا جائے )،( ابودائود: 4869)‘‘۔میرے نزدیک موجودہ دور میں کسی کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کوبلااجازت ریکارڈ کر کے افشاکرنا یا سوشل میڈیا پر ڈالنا بھی مجلسی امانت میں خیانت ہے ، لہٰذا اس سے لوگوں کو احتراز کرنا چاہیے اور اگر کسی کی بات کو افشاکرنا ہے تو پہلے اس سے اجازت لیں،اگر وہ اجازت دے فبہا، ورنہ امانت کی پاس داری کرنی چاہیے۔

بہت سے لوگ مصلح کے روپ میں آکر نقصان پہنچاتے ہیں ، حضرت آدم وحوا علیہما السلام کے بارے میں شیطان نے اسی شعار کو اختیار کیا تھا ، وہ خیرخواہ کے روپ میں اُن کے سامنے نمودار ہوا اور قسمیں کھاکھاکر اپنے اخلاص کی یقین دہانیاں کرانے لگا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا دوٹوک فیصلہ ہے: ’’بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے (یوسف:5)‘‘۔

پاک وہند کے مسلمانوں کو چند عبارتوں نے ہمیشہ کے لیے تقسیم کردیا ، ان کی تاویلیں بیان کرنے میں درجنوں کتابیں لکھی گئیں ، لیکن شاید ایسے ہی’’ خیرخواہ‘‘ ان کے اردگرد تھے، جنہوں نے شاید یہ باور کرایا ہوگا کہ اگر آپ ان عبارتوں کو بدل دیں گے تو اسے آپ کی شکست پرمحمول کیا جائے گا ، اس سے اسلام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ (روزنامہ دن
یا، 6جولائی2020ء)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 80:*
کیا مکڑی کو مار سکتے ہیں؟
*جواب:*
جو مکڑی حرم میں رہنے والی ہے اس کو مارنا منع ہے, جبکہ عام مکڑی کو مارنے کا حکم خود حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے دیا ہے لہذا اس کو مار سکتے ہیں کیونکہ گھر میں جتنی مکڑیاں زیادہ ہوں گی, اتنے زیادہ جالےبنیں گی اور گھروں میں مکڑی کے جالوں کا ہونا تنگدستی کا باعث ہوتا ہے.
چنانچہ علامہ سید عمر بن احمد آفندی حنفی رحمۃ اللہ علیہ *"زبدہ"* کے حوالے سے حدیثِ مبارکہ تحریر فرماتے ہیں:
*"نھی علیہ السلام عن قتل العنکبوت والحمام الکائنین فی الحرم"*
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکڑی اورکبوتر جو کہ حرم میں رہنے والے ہیں ان کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے.
*(عصیدۃ الشھدۃ شرح قصیدۃ البردۃ صفحہ 196 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
اور عام مکڑی کے بارے میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ حکم فرمایا:
*"العنکبوت شیطان مسخہ اللہ فاقتلوہ"*
یعنی مکڑی شیطان ہے, اللہ تعالی نے اسے مسخ فرمایا ہے پس تم اسے قتل کر دیا کرو.
*(الجامع الصغیر باب حرف العین, فصل فی المحلی رقم الحدیث: 5739 , جلد 2 صفحہ 353, عصیدۃ الشھدۃ صفحہ196 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
اورحضرت ثعلبی حضرت علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ارشادفرمایا :
*"طھروا بیوتکم من نسج العنکبوت, فان ترکہ فی البیوت یورث الفقر"*
یعنی اپنے گھروں کو مکڑی کے جالے سے پاک رکھو, پس بیشک (گھروں میں مکڑی کے) جالے کو چھوڑنا تنگدستی کو پیدا کرتا ہے.
*(فیض القدیر, حرف العین, رقم الحدیث : 5739 جلد 4 صفحہ 519, عصیدۃ الشھدۃ صفحہ 196 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ مسخ شدہ جانور کتنے ہے تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا : وہ تیرہ ہیں :
*"الفیل والدب والخنزیر والقرد والجریث والضب والوطواط والعقرب والدعموض والعنکبوت والارنب وسھیل والزھرۃ"*
یعنی ہاتھی , ریچھ, سور, بندر, مخصوص مچھلی, گوہ, چمگادڑ, بچھو, کرم آبی, مکڑی, خرگوش, سہیل ستارہ اور زہرہ ستارہ.
*(کنزالعمال کتاب خلق العلم رقم الحدیث 15250, جلد 5, صفحہ 70, عصیدۃ الشھدۃ صفحہ 196 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
شیخ طریقت امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتھم العالیہ فرماتے ہیں :
"مکڑی کو مارنے میں حرج نہیں ہے۔ مکڑی کے جالے بھی گھروں سے صاف کرنے چاہئیں ورنہ تنگدستی آتی ہے".
*(بچوں کو دھوپ لگانے کے فوائد، قسط: 14، صفحہ 18 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
30/04/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا الیاس قادری موجودہ دور سے نا آشنا ہیں؟

شاید وہ امام شافعی علیہ الرحمہ تھے جو کسی بزرگ سے ملنے کے لیے دور دراز کا سفر کر رہے تھے راہ میں ملنے والوں سے ان بزرگ کے احوال پوچھتے رہے ، سب تعریف کرتے ، آخرکار وہ مقام قریب آگیا جہاں وہ بزرگ قیام پذیر تھے پھر ایک شخص سے اس بزرگ کے احوال پوچھے تو اسنے ان بزرگ کو بہت برا بھلا کہا اور امام سے کہا نہ ملیے ایسے گمراہ شخص سے ۔۔۔ امام شافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے شکر کیا میرا سفر رائیگاں نہیں گیا ۔ جب سب تعریفیں ہی کر رہے تھے تو میں شک میں پڑگیا اب جبکہ تم نے برا بھلا کہا تو تسلی ہوئی کہ جس کی زیارت کے لیے میں نے سفر کیا وہ بندہ ٹھیک ہی ہوگا
ہر بڑی شخصیت کو اس کے ہم عصروں میں برا بھلا کہنے والے ضرور پاۓ جاتے ہیں اگرچہ محبت کرنے والے کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ، مولانا محمد الیاس قادری صاحب تو ویسے بھی فتنوں سے بھرپور سوشل میڈیا کے دور میں زندہ ہیں ، ویسے بھی الیاس قادری صاحب کے مخالفین پیدا ہونے میں خود ان کا ہاتھ ہے ، ان سے غلطی در غلطی ہوتی رہی اور ناقدین بڑھتے رہے ، انکی کچھ خطاٶں کا جائزہ لیتے ہیں

انہوں نے نعرہ بلند کیا صلو علی الحبیب ان سے متعلقین نے الصلوة والسلام علیک یا رسول اللہ کو حرزِ جاں بنالیا تو کچھ لوگ جنہیں آل سعود سے چندہ ملتا تھا وہ خلاف ہوگئے کہ الیاس قادری معاذاللہ مشرک ہے ۔
ملتان میں ہر سال ہونے والے لاکھوں مسلمانوں کے اجتماع میں ” تصور مدینہ “ کروا کر مسلمان کے دلوں میں حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع فروزاں کرنے کی کوششیں کی گئیں تو محبت کا یہ انداز کچھ لوگوں کی سمجھ میں نا آیا اور ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئے ، الیاس قادری صاحب کی خوب بھد اڑائی جاتی رہی لیکن عام سادہ مسلمان الیاس قادری کے دیوانے ہوتے گئے
الیاس قادری واقعہ کربلا بیان کرتے تو پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں ، وہ خود اور ان کے متعلقین ” مولا مشکل کشا “ شہید کربلا “ والا شجرہ طریقت پڑھتے ہیں ، کبھی شبیر و شبر فاطمہ حیدر کے واسطے دیتے ہیں ، پھر کونڈوں کی نیاز دلواتے ہیں امام جعفر صادق کا ذکر خیر کرتے ہیں ، سید زادوں کو احتراماً باپو کہہ کر مخاطب کرتے ہیں تو کچھ لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اُٹھتے تھے اور کہتے تھے الیاس قادری کا جھکاٶ ” اُن “ کی طرف ہے لیکن محبان اہل بیت الیاس قادری صاحب کے گرد جمع ہوتے گئے اگرچہ مخالفین نے بہت رولا ڈالا ۔
الیاس قادری صاحب میں ایک ” پُر خطر “ عادت یہ بھی ہے کہ خیر خواہئ مسلم کا بہت شوق ہے انہیں ۔ لہذا کبھی پان گٹگا اور سگریٹ نوشی سے منع کرتے ہیں تو کبھی پکوڑوں سموسوں سے معدے پر ہونے والے مضر نقصانات سے روکتے ہیں ، کبھی بجلی کے ضیاع پر رسالہ لکھ ڈالتے ہیں تو کبھی سبزیاں کاٹتے وقت کیے جانے والے اسراف پر سمجھاتے ہیں ، اس سادہ آدمی کو تو پتا ہی نہیں کہ دنیا اب چاند چھوڑ مریخ پر جانے کی تیاری کر رہی ہے تو حضرت صاحب ایک بڑی غلطی کر بیٹھے ۔ جب فیس بک کے بڑے بڑے ” روشن خیال “ اور مہذب قسم کے تقریبا ڈیڑھ درجن دانشوروں نے باقاعدہ طنزیہ پوسٹس لکھیں تو تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ معمولی نہیں بلکہ بڑی سنگین غلطی تھی کہ انہوں نے عام مسلمانوں کو بتایا کہ کھیرا کاٹتے وقت چھلکوں کو یوں کاٹو کہ غذائی اجزاء ضائع نہ ہوں ، ویسے بھی الیاس قادری صاحب کو چاہیے تھا کہ ان دقیانوسی باتوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو گردنیں کاٹنے اور خود کش جیکٹیں تیار کرنے کے گُر بتاتے تاکہ ” دانشورانِ سوشل میڈیا “ کے کلیجے مع گردے کو ٹھنڈ پٖڑ جاتی ۔ الیاس قادری چار سال سے اپنی اس غلطی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں
الیاس قادری صاحب غلطی در غلطی کرتے رہے ، جب کراچی میں عالمی مرکز کا راستہ بند کیا گیا تو کچھ جوشیلے اکٹھے ہوکر آگئے کہ حضرت آپ کے لاکھوں مرید ہیں آپ اشارہ کیجیے ہم ہڑتال کریں گے شہر جام کر دیں لیکن کیا کیجیے الیاس قادری صاحب ” مروجہ اصولِ کامیابی “ سے آگاہ نہیں ہیں فرمانے لگے بیٹا جس ہڑتال سے توڑ پھوڑ ہو ، لوگوں کو تکلیف ہو ، املاک کو نقصان پہنچے اسے شریعت منع کرتی ہے ہم کبھی یہ کام نہیں کریں گے بلکہ میری وصیت ہے کوئی مجھے قتل بھی کردے تم قانون ہاتھ میں مت لینا۔ کاش الیاس قادری صاحب کو کوئی سمجھاتا کہ کامیابی کے لیے پاور شو ، ہڑتالیں وغیرہ بہت ضروری ہیں لیکن یہ عجیب آدمی ہیں ہمیشہ اپنے متعلقین کو ایسے کاموں سے روکتے ہیں
الیاس قادری صاحب کو یہ بھی نہیں پتا کہ آجکل ذات کی نفی اور تواضع انکساری سے کام نہیں چلتا بلکہ بڑے بڑے بول بولنے چاہیے اپنی دھاک بٹھانی چاہیے ، کبھی یہ کہا کہ میں نے کبھی کسی مدرسے سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ”عقل سلیم “ والوں نے اس میں بھی کیڑے نکال لیے ۔ وہ جو مفتی وقار الدین رحمة اللہ علیہ کے سامنے سالہاسال تک زانوۓ تلمذ طے کئے رہے شائد اسکی کوئی ویڈیو ہی بنالی ہوتی وہ مفتی وقار الدین جنھوں نے آپکو خلافت سے نوازا یا وہ شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی صاحب کا آپکو دیئے گئے
اجازت نامے کی کاپیاں تشہیر کے لیے چھپواتے اور گلی کوچوں میں چسپاں کروا دی ہوتیں مگر کیا کیجیے الیاس قادری صاحب کو مشہور ہونے کے گُر نہیں آتے ۔
اب کوئی آکر کہتا کہ حضرت صاحب فلاں تکفیری کالعدم تنظیم والے آپکے خلاف محاذ کھڑا کیے ہوۓ ہیں آپ حکم دیجیے آپکا اشارہ ابرو درکار ہے آپ پر کئ بار قاتلانہ حملہ کیا گیا ، ان تکفیری دہشتگرد تنظیموں کی وجہ سے آپکا بین الاقوامی ملتان اجتماع بند کردیا گیا آپ بس حکم دیجیے ان کی ایسی کی تیسی کردیں گے چاہے جیلیں بھرنی پڑیں ، اب الیاس قادری صاحب نے کتنی بڑی غلطی کی کہنے لگے میں وطن عزیز میں فساد نہیں چاہتا اور میری تحریک کا مقصد جیلیں بھرنا نہیں بلکہ مسجدیں بھرنا ہے ۔ میں محبتیں پھیلانے اور نفرتیں مٹانا چاہتا ہوں ۔ کاش کوئی الیاس قادری صاحب کو سمجھاتا کہ صاحب ! یہ شرافت کا زمانہ نہیں بلکہ ڈنڈے سوٹے چلانے کا ہے ۔
کوئی آکر کہتا ہے حضرت صاحب فلاں بندہ بہت گھٹیا ہے آپ کو گالیاں دیتا ہے ، فلاں نے آپکے خلاف کتاب لکھی ہے انکو منہ توڑ جواب دیجیے ۔ زمانے سے ہم آہنگ نہ چلنے والے الیاس قادری صاحب کہتے ہیں بیٹا میرے پاس جواب دینے کا وقت نہیں ۔ میرے مسلمان بہن بھائی پریشان حال ہیں ، افریقی مسلم کی غربت و جہالت اسے عیسائی مشنریز کا تر نوالہ بنارہی ہے ، شامی مہاجرین اغیار کا آسان ھدف بنے ہوۓ ہیں مجھے ان تک پیغامِ محمدی پہچانا ہے ، عطرِ حب رسول سے انکی زخم خوردہ روح کو مہکانا ہے اگر میں سب کو جواب دینے بیٹھ جاتا تو بیسیوں ممالک تک کیسے سلسلہ دراز ہوتا ۔
اے کاش کوئی الیاس قادری صاحب کو سمجھاتا کہ جناب اپنی بات پر اَڑ جانا ہی اصل کمال ہے ، انہیں ذرا بھی خیال نہیں کہ چینل پر بیٹھ کر غلطی کا اعتراف کرنے سے شخصیت کا وقار مجروح ہوتا ہے ، اوپر سے ہر مذاکرے سے پہلے کہہ دیتے ہیں کہ مجھ سے غلطی ہو جاۓ تو فورا میری اصلاح فرما دیجیے ۔۔۔۔ کتنی پرسنلٹی ڈیمیج ہوتی ہے ان باتوں سے لیکن حضرت صاحب عجیب ہیں سمجھتے ہی نہیں ۔
کاش الیاس قادری صاحب کو اچھے مشیر میسر آتے جو انہیں سمجھاتے کہ آپ دنیا بھر میں پھیلے مربوط نیٹورک ، بڑے اشاعتی ادارے اور سوشل میڈیا پیجز کے ذریعے اپنے مخالفین کو دندان شکن جواب دیتے مگر حضرت صاحب نے اپنے متعلقین کو فرض علوم سیکھنے ، غیبت چغلی بدگمانی تکبر ریاکاری ایسے مہلکات سے بچنے اور اخلاص تواضع حیا وغیرہ کی تعریفات میں الجھا رکھا ہے
الیاس قادری صاحب کی سب سے بڑی غلطی بلکہ جرم عظیم یہ ہے کہ وہ پیری مریدی اور روایتی نذرانوں کو لے کر خانقاہ میں گوشہ نشین نہیں ہوۓ بلکہ بد عقیدگی اور بے عملی کے خلاف چار دہائیوں سے رسمِ شبیری ادا کر رہے ہیں
الیاس قادری صاحب اپنی غلطیوں سے مشرک بدعتی جاہل ڈرامے باز ایسے خطابات تو پاہی چکے تھے اب اپنی تازہ غلطی سے نئے مخالفین پیدا کرچکے ہیں ، جس سے صحابی رسول پر سب سے زیادہ زبان درازی کی جاتی ہے اسکے نام پر چند درجن مساجد بنانے کااعلان کر دیا جس کے وجہ سے اب ناصبی ہونے کا خطاب بھی مل گیا ۔ ویسے یہ بھی ایک عجوبہ ہے کہ جسے ناصبی کہا جارہا ہے اس الیاس قادری پر ناصبی خارجی طبقہ کئ بار قاتلانہ حملہ کر چکے ہیں ۔

ہم نے سوچا کہ مولانا الیاس قادری صاحب آخر اتنے مخالفین اور طنز و تشنیع کا دباٶ کیسے برداشت کرتے ہیں آخر انسانی ہمت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ اپنے آپ کو غوث و خواجہ کا غلام کہنے والے الیاس قادری کی طاقت کا منبع ، ذرہ ریگ کو طلوعِ آفتاب دینے والے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر رحمت ہے ، حضرت عطارؔ بارگاہ رسالت میں اپنا استغاثہ پیش کر چکے ہیں

شہا عطاؔر پر ہر آن رحمت کی نظر رکھنا
کرے دن رات سنت کی خدمت یا رسول اللہ ﷺ

عطار تیرے حامئ و ناصر ہیں مصطفے ﷺ
کس کی مجال ہے جو تجھ کو دبا سکے۔
.
❤️
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 236:*
کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شھادت ظہر کی نماز کا سجدہ کرنے کی حالت میں ہوئی ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے شھادت سے پہلے اپنے اصحاب کو نمازِ ظہر پڑھائی، نماز کے بعد سخت لڑائی شروع ہوگئی، جس میں آپ کے اصحاب شہید ہو گئے پھر آخر میں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس سے پتہ چلا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت نمازِ ظہر کے دوران نہیں ہوئی، اب رہ گئی یہ بات کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت سجدے کی حالت میں ہوئی یا نہیں؟
تو کافی کتب میں شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کے سجدہ کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا اور بعض نے سجدہ شکر کا ذکر کیا ہے کہ شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے سجدہ شکر کیا اور اسی دوران ایک بدبخت فاسق نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کردیا۔
چنانچہ چنانچہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں :
*"ثم صلی الحسین باصحابہ الظھر صلاۃ الخوف ثم اقتتلوا بعدھا قتالا شدیدا۔۔۔۔۔۔۔ فتقدم زرعۃ بن شریک التمیمی فضربہ بالسیف علی عاتقہ ثم طعنہ سنان بن انس بن عمرو النخعی بالرمح ثم نزل فاحتز راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نمازِ ظہر نمازِ خوف کی طرح پڑھائی پھر نماز ادا کرنے کے بعد سخت لڑائی ہوئی۔۔۔
(امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی شہید ہونے کے بعد) پھر زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر تلوار کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک کندھے پر وار کیا پھر سنان بن انس بن عمرو نخعی نے آپ رضی اللہ عنہ پر نیزے سے وار کیا پھر شمر اترا اور آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک سر کو (مبارک بدن سے) جدا کر دیا اور (جدا کر کے) مبارک سر خولی کے حوالے کر دیا۔
*(البدایہ النھایہ، صفۃ مقتل حسین، جلد 8 صفحہ 260، 265 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
امام عبدالملک بن حسین بن عبدالملک شافعی عاصمی مکی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ثم حضر وقت الصلاة ۔۔۔۔۔۔ ثم صلی الحسین الظھر صلاۃ الخوف، ثم اشتد القتال بعد الصلاة ۔۔۔۔۔۔۔*
*و اشتد عطش الحسین، فجاء لیشرب من الفرات، فرمی حصین بن تمیم یسھم فی فمہ فجعل یتلقی الدم و یدعو ثم اقبل شمر بن ذی الجوشن فی عشرۃ من رجالتہ، فحالوا بین الحسین و بین اھلہ، فقال : امنعوا اھلی و رحلی من طغامکم، فقال : ذلک لک، ثم حمل علیھم و حملوا علیہ و احاطوا بہ من یمینہ و شمالہ۔*
*وخرجت زینت تنادی فلقیت عمر بن سعد، فقالت : یا عمر، یقتل ابو عبداللہ، و انت تنظر؟! فبکی و زوی عنھا وجھہ، ثم نادی شمر : ماذا تنظرون بالرجل؟! فحملوا علیہ، و ضرب زرعۃ بن شریک التمیمی کتفہ الایسر و علی عاتقہ فاوھنہ، ثم طعنہ سنان بن قیس النخعی بالرمح، و قال لخولی بن یزید الاصبحی : جز راسہ، فارعد، فنزل الیہ سنان فاخذ راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی پھر نماز کا وقت ہوگیا۔۔۔ پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے نمازِ ظہر، نمازِ خوف کی طرح پڑھی، پھر نماز کے بعد لڑائی سخت ہوگئی۔۔۔
اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیاس سخت ہو گئی، پس آپ رضی اللہ عنہ فرات پر پانی پینے کے لئے آئے تو حصین بن تمیم نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ اقدس میں تیر مارا، پس خون نکل کر بہنے لگا پھر شمر ذی الجوشن اپنے لشکر کے دس افراد کو لے کر آگے بڑھا، پس امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل کے درمیان حائل ہو گئے تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
تم میرے اہل اور میری قیام گاہ سے اپنی کمینگی کو باز رکھو،
تو شمر بولا :
یہ آپ کے لئے ہے،
پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے دائیں اور بائیں سے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا۔
اور حضرت زینب رضی اللہ عنھا ندا کرتے ہوئے نکلیں پس عمر بن سعد سے ملاقات ہوئی تو فرمایا :
اے عمر! ابو عبداللہ (یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ) لڑائی کر رہے ہیں اور تو دیکھ رہا ہے ؟
پس وہ رویا اور آپ رضی اللہ عنھا سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر شمر نے ندا کی :
تم (اس) مرد کو کیا دیکھ رہے ہو؟
پس انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کے بائیں کندھے پر اور آپ کی گردن پر تلوار ماری تو اس نے آپ کو کمزور کر دیا پھر سنان بن قیس نخعی نے آپ کو نیزہ مارا اور خولی بن یزید اصبحی سے کہا :
ان کا سر جدا کر دیجیے۔
پس اس پر لرزا طاری ہوگیا۔
تو سنان نے سواری سے اتر کر آپ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کر دیا اور اسے خولی کے حوالے کر دیا۔
*(سمط النجوم العوالی فی انباء الاوائل و التوالی، جلد 3 صفحہ 179، 180 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
برادرِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مولانا حسن رضا خان برکاتی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"جب شمر خبیث نے کام نکلتا نہ دیکھا، لشکر کو للکارا :
’’تمہاری مائیں تم کو پیٹیں کیا انتظار کر رہے ہو حسین کو قتل کرو۔‘‘
اب چار طرف سے ظلمت کے ابر اور تاریکی کے بادل فاطمہ (رضی اللہ