🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Follow this link to join my WhatsApp group: https://chat.whatsapp.com/L0n32WByy6D9Iewai9afWs
📱 : ➡️ +917666324686
Mu'hammad Imtiyaaz
'Alee Razavee T.T.S.
@Dar_ul_ifta_Ahlesunnat_official

@IslamicPDFLibrary

@tehqiqat

@ATTARHAQ

@DawateislamiGallary

@Maktaba_tul_Madina

@DaruliftaAhleSunat

@NaatiaKalaam

@farazattari26

@FiqaHanfiBooks

@MadaniMuzakra

@Madanichannal

•─━━━━━━━══════━━━━━━━━─•
•••••• تاثرات اور مدنی مشوروں کے لئے👇••••••
@ZohaibHasanAttari 🔍
@SarmadLatifQadri 🔍
@IrfanAttari 🔍
ثواب کی نیت سے
یہ چینلز خود بھی جوائن کریں
اور دوسروں کو بھی جوائن کروائیں
قسط#03: سلسلہ "کلامِ الٰہی کی پہچان"
🔹قرآن کریم کو پڑھنے سیکھنے اورسمجھنے کے احکام و فضائل اور کلام الٰہی کی اثر آفرینی، قرآنی آیات سے متعلق زندگیاں بدلتے عبرت انگیز واقعات پر مشتمل بہترین اور معلوماتی کتب و رسائل ملاحظہ فرمائیں.
👇🔹👇
🔸فضائل قرآن اردو
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/772
🔸قرآن کیسے جمع ہوا.
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/781
🔸میں کس کا ترجمہ قرآن پڑھوں؟
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/138
🔸قرآت کورس مکمل
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/139
🔸قرآن کریم کی سائنسی تفسیر تحقیق
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/149
🔸قرآن کو جمع کرنا
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/151
🔸امام احمد رضا اور فن تفسیر
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/177
🔸شان حبیب الرحمٰن من آیات القرآن
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/187
🔸علم القرآن
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/193
🔸قرآن کوئز
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/299
🔸احسن البیان فی علوم القرآن
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/424
🔸احکام القرآن مکمل 06 جلدیں
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/457
🔸احکام القرآن بحوالہ خزائن العرفان
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/465
🔸رسم قرآنی اور اصول کتابت
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/500
🔸المعجم الموضوعی الآیات القرآن الکریم
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/523
🔸کنزالایمان اور اھل علم و دانش
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/532
🔸سورہ والضحٰی کے تراجم میں کنزالایمان کا مقام
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/538
🔸مصباح القرآن
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/626
🔸القرآن الکریم مع تشریح المتشابھات
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/628
🔸قرآنی آیات میں مکالمہ
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/630
🔸قرآن ہدایت ہے
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/765
🔸قرآنی آیات میں گفتگو
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/767
🔸قرآن نہ جلاؤ
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/771
🔸البرھان فی السور و القرآن
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/777
🔸مودودی اور قرآن
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/779
🔸قرآن میں ناسخ و منسوخ
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/782
🔸جانوروں کی شکل میں قرآنی آیات لکھنا کیسا؟
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/785
🔸آئینہ مضامین قرآن
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/787
🔸قرآن اور حاملین قرآن
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/789
🔸منتخبات من آیات القرآن الکریم
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/791
🔸العمانیوں و القرآن الکریم
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/793
🔸تلاوت قرآن کی برکتیں
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/795
🔸کثرتِ تلاوت کرنیوالوں کے واقعات
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/797
🔸فیضان تلاوت قرآن اور تلاوت کے مدنی پھول
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/799
🔸 رُشدُالایمان
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/803
🔸قرآن شریف کے غلط ترجموں کی نشاندہی
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/806
🔸قرآن سیکھاتا ہے آدابِ حبیب
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/808
🔸قہررحمان بر منکر قرآن
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/812
🔸انوارالمنان فی توحیدالقرآن
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/814
🔸ضاد کو پڑھنے کا بہترین طریقہ
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/818
🔸مفھوم قرآن بدلنے کی واردات
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/820
🔸قرآن ہر شے کا بیان
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/823
🔸معارف القرآن
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/827
🔸قرآن پاک کے نئے نئے سائنسی معجزات جواب
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/829
🔸قرآنی علوم
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/833
🔸تعظیم کتاب اللہ
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/835
🔸یاایھاالذین آمنو مکمل دو جلد (اردو)
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/839
🔸کلام الٰہی کی اثر آفرینی
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/842
🔸قرآن کا محور اردو
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/844
🔸مدنی قاعدہ 9 مختلف زبانوں میں
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/1663
🔸تعمیر ادب قاعدہ رحمانی فارسی و فاطمی قاعدہ
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/1674
🔸رہنمائے مدرسین قاعدہ پڑھانے والے اساتذہ کیلئے
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/1688
🔸التجدید في الاتقان و التجوید عربی کتب
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/1692
🔸البرھان فی تجوید القرآن تجوید اردو کتب
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/1706
🔸فیضان تجوید نصاب التجوید گلزار التجوید اردو
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/1712
🔸گلزار تجوید و قرأت اردو
👉 https://t.me/IslamicPDFLibrary/1717
🔹قرآن کریم کی محبت دلوں میں پیدا کرنے کیلئے اس پیغام کو بہ نیت ثواب و اخلاص تمام لوگوں تک پہنچا دیں.
👇🔹👇
https://t.me/IslamicPDFLibrary
🚫 *طلاق تفویض کیا ہے*
ا===================|
🛑 سوال:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان دین متین یہ کہ طلاق تفویض کیا ہے.؟ اس کی کتنی صورت ہے؟ شوہر کب اور کس کو کسکو تفویض کرسکتا ہے جواب عنایت فرمائیں محمد سلیم بستوی
ا===================|
✍🏼 جواب:

🔮 *تفویض کا معنی ہے *سپرد کرنا*

🗂 طلاق تفویض کے متعلق تفصیلی بیان بہارشریعت حصہ 8 میں موجود ہے ، اس باب کا مطالعہ طلاق تفویض کے جمیع مسائل کو جاننے کےلئے ضروری ہے .

📌 *کچھ مسائل پیش خدمت ہیں*

1⃣ عورت سے کہا *تجهے اختیار ہے* یا *تیرا معاملہ تیرے ہاتھ ہے* اور اس سے مقصود طلاق کا اختیار دینا ہے تو عورت اس مجلس میں اپنے کو طلاق دے سکتی ہے اگرچہ وہ مجلس کتنی ہی طویل ہو اور مجلس بدلنے کے بعد کچھ نہیں کر سکتی اور اگر عورت وہاں موجود نہ تهی یا موجود تهی مگر سنا نہیں اور اسے اختیار انہیں لفظوں سے دیا تو جس مجلس میں اسے اس کا علم ہوا اس کا اعتبار ہے.

2⃣ اگر شوہر نے کوئی وقت مقرر کردیا تها مثلاً آج اسے اختیار ہے اور وقت گزرنے کے بعد اسے علم ہوا تو اب کچھ نہیں کر سکتی...الخ

3⃣ اگر عورت سے کہا تو اپنی سوت کو طلاق دیدے یا کسی اور شخص سے کہا تو میری عورت کو طلاق دیدے تو مجلس کے ساتھ مقید نہیں بعد مجلس بهی طلاق ہو سکتی ہے اور اس میں رجوع کر سکتا ہے کہ *یہ وکیل ہے اور موکل کو اختیار ہے کہ وکیل کو معزول کر دے مگر جبکہ مشیت (ارادہ) پر معلق کر دیا ہو یعنی کہہ دیا ہو کہ اگر تو چاہے تو طلاق دیدے تو اب توکیل (یعنی وکیل بنانا) نہیں بلکہ تملیک( یعنی مالک بنانا ) ہے لہذا مجلس کے ساتھ خاص ہے اور رجوع نہ کر سکے گا. ...الخ*

4⃣ تملیک و توکیل میں چند باتوں کا فرق ہے تملیک میں رجوع نہیں کر سکتا- معزول نہیں کر سکتا بعد تملیک کے شوہر مجنون ہوجائے تو باطل نہ ہوگی.

5⃣ جس کو مالک بنایا اس کا عاقل ہونا ضروری نہیں اور مجلس کے ساتھ مقید ہے اور *توکیل* میں ان سب کا عکس ہے اگر بالکل ناسمجھ بچے سے کہا تو میری عورت کو اگر چاہے طلاق دیدے اور وہ ( ناسمجھ بچہ) بول سکتا اس نے طلاق دیدی واقع ہوگئی.

6⃣ *تفویض طلاق میں یہ ضرور ہے کہ زن و شو ( یعنی میاں بیوی) دونوں میں سے ایک کے* *کلام میں لفظ " نفس " یا "طلاق"*
*کا ذکر ہو اگر شوہر نے کہا تجهے اختیار ہے عورت نے کہا میں نے اختیار کیا طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر جواب میں کہا میں *نے اپنے نفس کو اختیار کیا یا شوہر نے کہا تها تو اپنے نفس کو اختیار کر عورت نے (جواب میں ) کہا میں نے اختیار کیا یا کہا میں نے کیا تو اگر نیت طلاق تهی تو (طلاق) ہوگئی*
*اور یہ بهی ضرور ہے کہ لفظ نفس کو متصلاً ( یعنی ساتھ ہی)*
*ذکر کرے اور اگر اس لفظ کو کچھ دیر بعد کہا اور مجلس بدلی نہ ہو تو متصل ہی کے حکم میں ہے* *یعنی طلاق واقع ہوگی اور مجلس بدلنے کے بعد کہا تو بیکار ہے-*

7⃣ اجنبی شخص سے کہا کہ میری عورت کا امر(یعنی معاملہ) تیرے ہاتھ ہے تو اس کو طلاق دینے کا اختیار حاصل ہے اور وہی احکام ہیں جو خود عورت کے ہاتھ اختیار دینے کے ہیں.

8⃣ *ایک طلاق دینے کےلئے وکیل کیا ، وکیل نے دو (2) دیدیں تو واقع نہ ہوئی اور بائن کےلئے وکیل کیا وکیل نے رجعی دی تو بائن ہوگی اور رجعی کےلئے وکیل سے کہا اس نے بائن دی تو رجعی ہوئی-*

9⃣ اگر ایسے کو وکیل کیا جو غائب ہے اور اسے ابهی تک وکالت کی خبر نہیں اور موکل کی عورت کو طلاق دیدی تو واقع نہ ہوئی کہ ابهی تک وکیل ہی نہیں

0⃣1⃣ *طلاق کے وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ دوسرے کو وکیل بنا دے-*

📗( بہارشریعت حصہ 8 طلاق سپرد کرنے کا بیان)

واللہ تعالی اعلم
ا===================
ﻣﻔﺘﯽ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺍﺻﻐﺮ ﻋﻄﺎﺭﯼ ﻣﺪﻧﯽ *
* ﭘﮩﻠﯽ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ *
ﺍﻟﭩﯽ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ .
ﺩﺭﺳﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺯ ﺧﻮﺩ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺍﻟﭩﯽ ﯾﺎ ﻗﮯ ﺁﺋﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﺘﺎ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺧﻮﺩ ﻗﺼﺪﺍ ﻣﺜﻼ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻗﮯ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﻨﮧ ﺑﻬﺮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﻬﺮ ﺭﻭﺯﮦ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
* ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ *
ﯾﮧ ﺑﻬﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﺣﺎﻟﺖ ﺭﻭﺯﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﻼﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺩﺭﺳﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺭﻭﺯﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﻼﻡ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﺘﺎ
* ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ *
ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﻬﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻏﺴﻞ ﻓﺮﺽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺭﻭﺯﮦ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻠﯽ ﯾﺎ ﻧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﯽ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﺩﺭﺳﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﺯﮦ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻏﺴﻞ ﻓﺮﺽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﻼﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﺴﻞ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ . ﻏﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻧﺮﻡ ﺣﺼﮧ ﺗﮏ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﺎ ﻓﺮﺽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮧ ﻏﺴﻞ ﺍﺗﺮﮮ ﮔﺎ ﻧﮧ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ . ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﺯﮦ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻏﺮﻏﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻡ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻬﯽ ﻏﺮﻏﺮﮦ ﻏﺴﻞ ﮐﺎ ﻓﺮﺽ ﯾﺎ ﮐﻠﯽ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺪﺍﮔﺎﻧﮧ ﺳﻨﺖ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﻬﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﺐ ﺭﻭﺯﮦ ﻧﮧ ﮨﻮ . ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺭﻭﺯﮦ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﮭﯿﻨﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ
* ﭼﻮﺗﮭﯽ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ *
ﮐﭽﻪ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺭﻭﺯﮦ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ
ﺩﺭﺳﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﭨﻮﺗﻪ ﭘﯿﺴﭧ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺠﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯﯾﻮﻧﮩﯿﮟ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺭﯾﺸﮯ ﺣﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﯿﮟ
* ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ *
ﮐﭽﻪ ﻟﻮﮒ ﺭﻭﺯﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻞ , ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺋﮯ ﺯﯾﺮ ﻧﺎﻑ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻮ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﻪ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ
ﺩﺭﺳﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﺭﻭﺯﮦ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﯿﮟ ﺳﺮﻣﮧ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﮯ ﮔﺎ . ﺍﻟﺒﺘﮧ ﮐﺎﺟﻞ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺳﺮﻣﮧ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺎﺟﻞ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ
* ﭼﮭﭩﯽ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ *
ﮐﭽﻪ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺳﺤﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﻪ ﻧﮧ ﮐﻬﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺤﺮﯼ ﮐﻬﺎﻧﺎ ﭼﻬﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﺩﺭﺳﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺤﺮﯼ ﺭﻭﺯﮦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺮﻁ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﺖ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﭘﻬﺮ ﺯﻭﺍﻝ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﯿﺖ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﺐ ﺑﻬﯽ ﭨﻬﯿﮏ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺧﺎﺹ ﻣﺪ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﻬﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﻝ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺭﻭﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻨﺎﻓﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﮐﺎﻡ ﻣﺜﻼ ﮐﻬﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻧﯿﺖ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ
* ﺳﺎﺗﻮﯾﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ *
ﮐﭽﻪ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭼﻮﭦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻟﮕﻨﮯ ﭘﺮ ﺧﻮﻥ ﻧﮑﻞ ﺁﻧﮯ ﯾﺎ ﺧﻮﻥ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﺭﻭﺯﮦ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺛﺮ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﺩﺭﺳﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﺯﮦ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﮯﻣﻌﺪﮮ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭨﻮﭨﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﺘﺎ ﻟﮭﺬﺍ ﺧﻮﻥ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﮯ ﮔﺎ
* ﺁﭨﮭﻮﯾﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ *
ﮐﭽﻪ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﻭﺯﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﮑﯿﺸﻦ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﺩﺭﺳﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﺍﻥ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺟﻦ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻒ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺟﻮ ﻗﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺩﻻﺋﻞ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﺘﺎﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮈﺭﭖ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔
* ﻧﻮﯾﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ *
ﮐﭽﻪ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﺫﺍﻥ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﺳﺤﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺩﺭﺳﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺳﺤﺮﯼ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺫﺍﻥ ﻓﺠﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﻓﺠﺮ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﻟﮭﺬﺍ ﺟﻮ ﺳﺤﺮﯼ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺫﺍﻥ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﭘﯿﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ
* ﺩﺳﻮﯾﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ *
ﮐﭽﻪ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﮭﻮﮎ ﯾﺎ ﺑﻠﻐﻢ ﻧﮕﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﯾﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﺳﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺗﮭﻮﮐﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﺭﺳﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﮭﻮﮎ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﻐﻢ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻧﮕﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﮯ ﮔﺎ ﮨﺎﮞ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻣﺜﻼ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮎ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﮈﺍﻻ ﺗﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
* ﮔﯿﺎﺭﮨﻮﯾﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ *
ﮐﭽﻪ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﻭﺯﮦ ﻣﯿﮟ ﻋﻄﺮ ﯾﺎ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﻮﻧﮕﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺩﺭﺳﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﺋﻊ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﯾﻌﻨﯽ ﻟﯿﮑﻮﮈ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﭨﮭﻮﺱ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﻮﻧﮕﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﺘﺎ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﮔﺮ ﺑﺘﯽ ﮐﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﻣﺜﻼ ﻣﻨﮧ ﯾﺎ ﻧﺎﮎ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﮭﯿﻨﭽﮭﺎﺟﻮ ﮐﺎﻣﺤﺎﻟﮧ ﺣﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺩﺍﺭ ﯾﺎ ﻏﯿﺮ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺩﺍﺭ ﺩﮬﻮﺋﯿﮟ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻧﯽ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻟﯽ ﮐﮧ ﻣﺜﻼ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﮬﻮﺋﯿﮟ ﮐﻮ ﻧﺎﮎ ﯾﺎﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺣﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ
* ﺍﺿﺎﻓﮧ ﺟﺪﯾﺪ ﻭ ﺗﺮﻣﯿﻢ *
ﯾﮑﻢ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ 1438 ﺑﻤﻄﺎﺑﻖ 28 ﻣﺌﯽ
زکوٰة
Zakat information
Qustion no.1
سوال: زکوة کے لغوی معنی بتائیے؟
جواب: پاکی اور بڑھو تری کے ہیں۔
Qustion no.2
سوال: زکوة کی شرعی تعریف کیجئے؟
جواب: مال مخصوص کا مخصوص شرائط کے ساتھ کسی مستحقِ زکوۃ کومالک بنانا۔
Qustion no. 3
سوال: کتناسونا ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو
Qustion :04
سوال: کتنی چاندی ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ ہو۔
Qustion :05
سوال: کتنا روپیہ ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
Qustion :06
سوال: کتنا مالِ تجارت ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
Qustion :07
سوال: اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، ان کو ملاکر دیکھا جائےتو ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بنتی ہےاس صورت میں زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟
جواب: فرض ہے۔
Qustion :-08
سوال: چرنے والے مویشیوں پر بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب: فرض ہے۔
Qustion :-09
سوال: عشری زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب: فرض ہے۔
Qustion :- 10
سوال: ایک صاحب نصاب شخص کودرمیان سال میں ۳۵ہزار کی آمدنی ہوئی،تویہ۳۵ ہزار بھی اموالِ زکوۃ میں شامل کئے جائیں گے یا نہیں؟
جواب: شامل کئے جائیں گے۔
Qustion : 11
سوال: صنعت کار کے پاس دو قسم کا مال ہوتا ہے، ایک خام مال، جو چیزوں کی تیاری میں کام آتا ہے، اور دُوسرا تیار شدہ مال، ان دونوں قسم کے مالوں پر زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب: فرض ہے۔
Qustion :- 12
سوال: مشینری اور دیگر وہ چیزیں جن کے ذریعہ مال تیار کیا جاتا ہے، ان پر زکوٰة فرض ہے یا نہیں؟
جواب: فرض نہیں ہے۔
Qustion :- 13
سوال: سونے میں جو نگ وغیرہ لگاتے ہیں ان پر زکوٰة ہےیا نہیں؟
جواب: ہے۔
Qustion :- 14
سوال: کھوٹ ملے سونے کی بازار میں جو قیمت ہوگی اس کے حساب سے زکوٰة ادا کی جائے گی یا سونے کے حساب سے؟
جواب: بازار میں جوقیمت ہوگی۔
Qustion : 15
سوال: استعمال والے زیورات پر زکوٰة ہے یا نہیں؟
جواب: زکوٰة ہے۔
Qustion :- 16
سوال: زکوٰة انگریزی مہینوں کےحساب سےنکالی جائےگی یاہجری(قمری)مہینوں کےحساب سےنکالی جائےگی؟
جواب: قمری مہینوں کے حساب سے نکالی جائےگی۔
Qustion : 17
سوال: پلاٹ اگر اس نیت سے لیا گیا تھا کہ اس کو فروخت کریں گے اس پر زکوٰة واجب ہوگی یانہیں؟
جواب: واجب ہوگی۔
Qustion :- 18
سوال: پلاٹ خریدتے وقت تو فروخت کرنے کی نیت نہیں تھی، لیکن بعد میں فروخت کرنے کا ارادہ ہوگیا تو اس پر زکوٰة واجب ہےیا نہیں؟
جواب: جب فروخت کردیا جائے زکوۃ واجب ہوگی۔
Qustion :- 19
سوال: جو پلاٹ رہائشی مکان کے لئے خریدا گیا ہو اس پر زکوٰة ہےیا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Qustion :- 20
سوال: اگر پلاٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا جائے اور فروخت کرنے کی نیت سے پلا
[02/06 3:28 pm] razamarkazi: *مسائل روزہ*
*پوسٹ نمبر* 0⃣1⃣

🌴 *''الصَّلٰوۃ وَالسَّلامُ علیکَ یا سیِّدی یا رسولَ اﷲ'' کے تینتیس حُرُوف کی نسبت سے روزہ نہ رکھنے کی اجازات پر مبنی33پیرے*🌴

📢📢(مگر وہ مجبوری ختم ہوجانے کی صُورت میں ہرروزہ کے بدلے ایک روزہ قَضا ء رکھنا ہوگا)

👈🏿مُسافِر کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اِخْتِیار ہے۔

📘(رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۰۳)

📌اگر خود اُس مُسافِر کو اور اُس کے ساتھ والے کو روزہ رکھنے میں ضَرَر (یعنی نقصَان)نہ پہنچے تَوروزہ رکھنا سَفَر میں بِہتر ہے اور اگر دونوں یا اُن میں سے کسی ایک کونقصان ہورہا ہو تو روزہ نہ رکھنا بِہتر ہے۔

📕(دُرِّمُخْتار ج۳ ص۴۰۵)

مُسافِر نے ضَحْوَ ہ کُبریٰ(ضَحْوَہ كُبریٰ كی تعریف روزے كی نیّت كے بیان میں گزرچكی ہے)سے پیشتر اِقامَت کی اور ابھی کچھ کھایا نہیں تَوروزہ کی نِیَّت کرلینا واجِب ہے۔

📕(الجَوْہَرۃالنیرۃ ج۱ص۱۸۶)
مَثَلاً آپ کا گھر پاکستان کے مشہور شہر حیدر آباد میں ہے اور آپ بابُ المدینہ کراچی سے حیدرآبادکیلئے چلے اور صُبح دس بجے پہنچ گئے اور صُبحِ صادِق کے بعد راستے میں کچھ کھایا پِیا نہ تھاتو اب روزہ کی نِیَّت کرلیجئے۔
دِن میں اگر سَفر کیا تَو اُس دِن کا روزہ چھوڑدینے کیلئے آج کا سَفَر عُذر نہیں۔ البَتَّہ اگر دَورانِ سَفر تَوڑدیں گے تَو کفَّارہ لازِم نہ آئے گامگر گُناہ ضَرور ہوگا۔
📙(رَدُّالْمُحتَار ج۳ ص۴۱۶) اور روزہ قضا کرنا فرض رہے گا۔
اگر سَفَر شُروع کرنے سے پہلے توڑدیا ۔پھر سَفَر کیا تَو (اگر کفّارے کے شرائط پائے گئے تو) کَفَّارہ بھی لازِ م آئیگا۔

📘(اَیْضاً)

👈🏿اگر دن میں سَفَر شُروع کیا (اور دَورانِ سَفر روزہ توڑ انہ تھا)اور مکان پرکوئی چیز بھول گئے تھے اسے لینے واپَس آئے اور اب اگر آکر روزہ توڑ ڈالا تَو(شرائط پائے جانے کی صورت میں) کفَّارہ بھی واجِب ہے ۔اگر دَورانِ سَفَر ہی توڑدیا ہوتا تَو صِرف قضاء رکھنا فَرْض ہوتا جیسا کہ نمبر۴ میں گُزر ا۔

📒(فتاوٰی عالمگیری ج۱ص۲۰۷)

👈🏿کسی کو روزہ توڑ ڈالنے پر مجبور کیا گیا تَو روزہ تو توڑ سکتا ہے مگر صَبْر کیا تَو اَجْر ملے گا۔(مجبوری کی تعریف ص ۲۳۴ پر گُزری)

📙(رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۰۲)

👈🏿سانپ نے ڈَس لیا اور جان خَطْرے میں پڑگئی تَو روزہ توڑدے ۔

📒(رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۰۲)

👈🏿جن لوگوں نے اِن مجبوریوں کے سَبَب روزہ توڑااُن پر فَرض ہے کہ اُن روزوں کی قَضَاء رکھیں اور اِن قَضاء روزوں میں ترتیب فَرْض نہیں ۔ لہٰذا اگر اُن روزوں کی قضا کرنے سے قَبل نَفْل روزے رکھے تَو یہ نَفْلی روزے ہوگئے، مگر حُکم یہ ہے کہ عُذْر جانے کے بعدآئندہ رَمَضانُ الْمُبارَک کے آنے سے پہلے پہلے قَضاء رکھ لیں۔حدیثِ پاک میں فرمایا، ''جس پر گُزَشْتہ رَمَضانُ الْمُبارَک کی قَضاء باقی ہے اور وہ نہ رکھے ، اُس کے اِس رَمضانُ الْمبارَک کے روزے قَبول نہ ہوں گے۔'' 📘(مجمع الزوائد ج۳ص۴۱۵) اگر وَقت گزرتا گیا اور قَضاء روزے نہ رکھے یہاں تک کہ دُوسرا رَمَضان شریف آگیا تَو اب قَضاء روزے رکھنے کی بجائے پہلے اِسی رَمَضانُ الْمُبارَک کے روزے رکھ لیجئے۔ قَضا ء بعد میں رکھ لیجئے۔بلکہ اگر غیرِ مَریض و مُسافِر نے قَضاء کی نِیَّت کی جب بھی قَضاء نہیں بلکہ اِسی رَمَضان شریف کے روزے ہیں۔

📕(دُرِّ مُختار ج۳ ص۴۰۵)

👈🏿حَمْل والی یا دُودھ پِلانے والی عورت کو اگر اپنی یا بچّہ کی جان جانے کا صحیح اَندیشہ ہے تو اجازت ہے کہ اِسوقت روزہ نہ رکھے۔خواہ دُودھ پِلانے والی بچّہ کی ماں ہو یا د ائی،اگر چِہ رَمَضانُ الْمُبارَک میں دُودھ پِلانے کی نوکَری اِختیار کی ہو۔

📙(دُرِّمُختار ، ردُّ الْمُحتار ج۳ص۴۰۳)

👈🏿بُھوک اور پِیاس ایسی ہوکہ ہَلاک کا خوفِ صحیح ہو یانُقصانِ عَقْل کا اندیشہ ہو تَو روزہ نہ رکھیں۔

📒(دُرِّمُختار ،ردُّ الْمُحتار ج۳ص۴۰۲)

👈🏿مَریض کو مَرض بڑھ جانے یادیر میں اچھّا ہونے یا تَنْدُ رُست کو بیمار ہو جانے کا گُمانِ غالِب ہوتَو اِجازت ہے کہ اُس دِن روزہ نہ رکھے۔ (بلکہ بعد میں قَضا کرلے)

📘(دُرِّمُختار ج۳ص۴۰۳)

📌اِن صُورتوں میں غالِب گُمان کی قَید ہے، مَحض وَہم ناکافی ہے ۔ غالِب گُمان کی تین صُورَتیں ہیں۔(ا)پہلی صُورت یہ ہے کہ اس کی ظاہِری نِشانی پائی جاتی ہے(۲)دُوسری یہ کہ اِس شَخْص کا ذاتی تَجرِبہ ہے ۔ (۳) تیسری یہ کہ کسی مُسلمان حاذِق (یعنی تَجربہ کار اوراپنے فَنِّ طِب میں ماہِر) طَبِیبِ مَستُور یعنی غیرِ فاسِق نے اِس کی خبردی ہو ۔اور اگر نہ کوئی عَلامَت ہو،نہ تَجرِبہ ،نہ اِس قسم کے طَبِیب نے اُسے بتایا بلکہ کسی کافِر یافاسِق طَبِیب( مَثَلاً داڑھی مُنڈے ڈاکٹر) کے کہنے سے اِفْطار کرلیا یعنی روزہ توڑ ڈالا تَو شرائط پائے جانے کی صورت میں قَضاء کے ساتھ ساتھ کفّارہ بھی لازِم آئے گا۔

📕(ردُّ الْمُحتار ج۳ص۴۰۴)

👈🏿حَیض یا نَفاس کی حالت میں نماز، روزہ حرام ہے اور ایسی حالت میں نَماز و روزہ صحیح ہوتے ہی نہیں ۔نِیز تِلاوت قُراٰنِ پاک یا ق
ُراٰنِ پاک کی آیاتِ ِمُقَدَّسہ یا اُن کا تَرجَمہ چُھونا یہ سب بھی حرام ہے۔

📙(بہارشریعت حصہ۲ص۸۸،۸۹)

👈🏿حَیض ونَفاس والی کے لئے اِخْتیار ہے کہ چُھپ کر کھائے یا ظاہِراً ۔روزہ دار کی طرح رہنا اُس پر ضَروری نہیں۔

📒(الجَوْہَرۃالنیرۃ ج۱ص۱۸۶)

👈🏿مگر چُھپ کرکھانا بہتر ہے خُصُوصاً حَیض والی کے لئے ۔

📘(بہا رشریعت حصہ ۵ ص ۱۳۵)

👈🏿''شیخِ فانی ''یعنی وہ مُعَمَّر بُزُرگ جِن کی عُمر اتنی بڑھ چُکی ہے کہ اب وہ بے چارے روزبروز کمزور ہی ہوتے چلے جائیں گے۔جب وہ بِالکل ہی روزہ رکھنے سے عاجِز ہوجائیں۔یعنی نہ اب رکھ سکتے ہیں نہ آئِندہ روزے کی طاقت آنے کی اُمّیدہے ۔اُنہیں اب روزہ نہ رکھنے کی اِجازت ہے ۔لہٰذا ہر روزہ کے بدلہ میں( بطور ِ فِدیہ)ایک صَدَقہ فِطْر (دوکلو سے 80 گرام کم) گیہوں یا اُس کاآٹا یا اُن گیہوں کی رقم ہے۔)کی مِقدار مِسْکین کو دَیدیں۔

📕(دُرِّمُختار ج۳ص۴۱۰)

👈🏿اگر ایسا بوڑھا گرمیوں میں روزے نہیں رکھ سکتا تو نہ رکھے مگر اِس کے بدلے سردیوں میں رکھنا فرض ہے۔

📙(ردُّ الْمُحتارج۳ص۴۷۲)

👈🏿اگر فِدْیہ دینے کے بعد روزہ رکھنے کی طاقت آگئی تَو دیا ہوا فِدْیہ صَدقہ نَفْل ہو گیا۔اُن روزوں کی قَضاء رکھیں۔

📒(عَالمگیری ج۱ص۲۰۷)

👈🏿یہ اِختیار ہے کہ شُروعِ رَمَضان ہی میں پُورے رَمَضان کا ایک دَم فِدیہ دے دیں یا آخِر میں دیں۔

📘(عالمگیری ج۱ص۲۰۷)

👈🏿فِدیہ دینے میں یہ ضَروری نہیں کہ جِتنے فِدیے ہوں اُتنے ہی مَساکِین کو الگ الگ دیں۔بلکہ ایک ہی مِسکین کو کئی دِن کے بھی دیئے جاسکتے ہیں۔

📕(دُرِّمُختار ج۳ص۴۱۰)

👈🏿نَفْل روزہ قَصْداً شُروع کرنے والے پر اب پُورا کرنا واجِب ہوجاتا ہے کہ توڑ دیا تَو قَضا ء واجِب ہوگی۔

📙( رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۱۱)

👈🏿اگر آپ نے یہ گُمان کرکے روزہ رکھا کہ میرے ذِمّہ کوئی روزہ ہے مگر روزہ شُروع کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ مجھ پر کسی قِسْم کاکوئی روزہ نہیں ہے، اب اگر فوراً توڑ دیا تَو کُچھ نہیں اور یہ معلوم کرنے کے بعد اگر فَوراًنہ توڑا،تَو اب نہیں توڑسکتے ،اگر توڑیں گے تَو قَضاء واجِب ہوگی۔

📒(دُرِّمُختار ج۳ص۴۱۱)

👈🏿نَفل روزہ قَصْداً نہیں توڑا بلکہ بِلا اِختیار ٹوٹ گیا۔مَثَلاً دَورانِ روزہ عورت کوحَیْض آگیا،جب بھی قَضا ء واجِب ہے۔

📘(دُرِّمُختار ج۳ص۴۱۲)

👈🏿عیدُ الفِطر یا بَقَرعید کے چار دِن یعنی ۱۰،۱۱،۱۲،۱۳ ذُوالحجّۃِ الْحرام میں سے کسی بھی دِن کا روزئہ نَفْل رکھا تَو (چُونکہ اِن پانچ دِنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے لہٰذا ) اِس روزہ کا پورا کرنا واجِب نہیں ۔نہ اِس کے توڑنے پر قضاء واجِب ،بلکہ اِس کا توڑدینا ہی واجِب ہے ۔اور اگر اِن دِنوں میں روزہ رکھنے کی مَنَّت مانی تَو مَنَّت پُوری کرنی واجِب ہے مگر اِن دِنوں میں نہیں،بلکہ اور دِنوں میں۔

📕(ردُّ الْمحْتار ج۳ص۴۱۲)

👈🏿نَفل روزہ بِلاعُذْر توڑ دینا ناجائز ہے۔مِہمان کے ساتھ اگر مَیزبان نہ کھائے گا تَو اُسے ناگوار ہوگا یا مِہمان اگر کھانا نہ کھائے گا تَو میزبان کو اَذِیَّت ہوگی تَو نَفل روزہ توڑدینے کیلئے یہ عُذر ہے۔(سُبحٰنَ اللہ شریعت کو احتِرامِ مسلم کا کس قَدَر لحاظ ہے) بَشَرطیکہ یہ بَھروسہ ہو کہ اِس کی قَضاء رکھ لے گا اور ضَحْوَہئ کُبریٰ سے پہلے توڑدے بعد کو نہیں۔

📙(عالمگیری ج۱ص۲۰۸)

👈🏿دعوت کے سبب ضَحْوَہ کُبرٰی سے پہلے روزہ توڑ سکتا ہے جبکہ دعوت کرنے والا مَحض اس کی موجودگی پر راضی نہ ہو اور اس کے نہ کھانے کے سبب ناراض ہوبشرطیکہ یہ بھروسہ ہوکہ بعد میں رکھ لے گا،لہٰذا اب روزہ توڑ لے اور اُس کی قضا رکھے ۔لیکن اگر دعوت کرنے والامَحض اس کی موجودگی پر راضی ہو جائے اور نہ کھانے پر ناراض نہ ہو تو روزہ توڑنے کی اجازت نہیں ہے۔

📒(فتاویٰ عالمگیری، ج۱،ص۲۰۸ کوئٹہ)

👈🏿نَفْل روزہ زَوَال کے بعد ماں باپ کی ناراضگی کے سَبَب توڑسکتا ہے۔ اوراِس میں عَصْر سے پہلے تک توڑ سکتا ہے بعدِ عَصْر نہیں۔

📘(دُرِّمُخْتار، رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۱۴)

📕عورت بِغیر شَوہَر کی اِجازت کے نَفْل اور مَنَّت وقَسم کے روزے نہ رکھّے اور رکھ لئے تَو شَوہَر تُڑواسکتا ہے مگر توڑے گی تَو قَضا ء واجِب ہوگی مگر اِس کی قَضاء میں بھی شوہَر کی اِجازت دَرْکار ہے۔یاشَوہَر اوراُس کے دَرمیان جُدائی ہوجائے یعنی طلاقِ بائن( طلاقِ بائِن اُس طلاق کو کہتے ہیں جس سے بیوی نکاح سے باہَر ہو جاتی ہے ، اب شوہر رُجوع نہیں کر سکتا)دے دے یا مرجائے ۔ہاں اگر روزہ رکھنے میں شَوہَر کا کچھ حَرَج نہ ہو،مَثَلاً وہ سَفر میں ہے یا بیمارہے یا اِحرام میں ہے تَو ان حالتوں میں بِغیر اِجازت کے بھی قَضاء رکھ سکتی ہے بلکہ وہ مَنْع کرے جب بھی رکھ سکتی ہے۔البَتَّہ اِن دنوں میں بھی شوہَر کی اِجازت کے بِغیر نَفل روزہ نہیں رکھ سکتی ۔

📙(ردُّالْمحتار ج۳ص۴۱۵)

👈🏿رَمَضانُ الْمُبارَک اور قَضائے رَمَضانُ الْمُبارَک کیلئے شوہَر کی اِجازت کی کچھ ضَرورت نہیں بلکہ اُس کی مُمانَعَت پر بھی رکھے۔

(در مختار، رد المحتار ج ۳ ص۴۱
1
۵)


اگر آپ کسی کے ملازِم ہیں یا اُس کے یہاں مزدُوری پر کام کرتے ہیں تَو اُس کی اِجازت کے بِغیر نَفل روزہ نہیں رکھ سکتے کیوں کہ روزہ کی وجہ سے کام میں سُستی آئے گی۔ہاں۔اگر روزہ رکھنے کے باوُجُود آپ باقاعِدہ کام کرسکتے ہیں،اُس کے کام میں کسی قِسْم کی کوتاہی نہیں ہوتی،کام پُورا ہوجاتا ہے۔تَواب نَفل روزہ کی اِجازت لینے کی ضَرورت نہیں۔

📒( رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۱۶)

👈🏿نَفْل روزہ کیلئے بیٹی کو باپ ، ماں کو بیٹے، بَہن کو بھائی سے اِجازت لینے کی ضَرورت نہیں۔

📘( رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۱۶)

👈🏿ماں باپ اگر بیٹے کو روزہ نَفْل سے مَنْع کردیں اِس وجہ سے کہ مَرض کا اندیشہ ہے تو ماں باپ کی اِطاعت کرے۔

📕( رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۱۶)
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
[02/06 3:29 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 9⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*

*روزہ نہ رکھنے کی مجبوریاں*

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بعض مجبوریاں ایسی ہیں جن کے سَبَب رَمَضانُ الْمُبارَک میں روزہ نہ رکھنے کی اِجازت ہے. *مگر یہ یاد رہے کہ مجبوری میں روزہ مُعاف نہیں وہ مجبوری خَتْم ہوجانے کے بعد اس کی قَضاء رکھنا فَرض ہے۔ البتّہ قَضاء کاگُناہ نہیں ہوگا.* جیسا کہ ''بہارِشریعت ''میں''دُرِّمُختار ''کے حَوالہ سے لکھاہے کہ سَفَر و حَمل اور بچہّ کو دُودھ پِلانا اور مَرض اور بُڑھاپا اور خوفِ ہَلاکت و اِکراہ (یعنی اگر کوئی جان سے مار ڈالنے یا کسی عُضو کے کاٹ ڈالنے یا سخت مار مارنے کی صحیح دھمکی دے کر کہے کہ روزہ توڑ ڈال اگر روزہ دار جانتا ہو کہ یہ کہنے والا جو کچھ کہتا ہے وہ کر گزرے گا تو ایسی صورت میں روزہ فاسِد کر دینا یاترک کرنا گناہ نہیں۔ ''اِکراہ سے مُراد یہی ہے'' ) ونُقصانِ عَقل اور جِہاد یہ سب روزہ نہ رکھنے کے عُذْر ہیں اِن وُجُوہ سے اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو گُناہ گار نہیں ۔

📘(دُرِّمُخْتار، رَدُّالْمُحتَارج۳ ص۴۰۲)

💫 *سفر کی تعریف*💫

دَورانِ سَفَربھی روزہ نہ رکھنے کی اِجازت ہے۔سَفَر کی مِقْدار بھی ذِہن نشین کرلیجئے۔سَیِّدی ومُرشِدی امامِ اَہْلِسُنَّت ،اعلی حضرت، مولیٰنا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرحمٰن کی تحقیق کے مُطابِق شَرْعاً سَفَر کی مِقْدارساڑھے ستاون میل (یعنی تقریباً بانوے کلومیٹر)ہے جو کوئی اِتنی مِقدار کا فاصِلہ طے کرنے کی غَرَض سے اپنے شہر یا گاؤں کی آبادی سے باہَر نِکل آیا ، وہ اب شرعاً مُسافِر ہے۔اُسے روزہ قَضا ء کرکے رکھنے کی اِجاز ت ہے اور نَماز میں بھی وہ قَصْر کریگا۔مُسافِر اگر روزہ رکھنا چاہے تَو رکھ سکتا ہے مگر چار رَکْعَت والی فَرض نَمازوں میں اُسے قَصر کرنا واجِب ہے۔ نہیں کریگا تَو گُنہگار ہوگا۔اور جَہالَتاً (یعنی علم نہ ہونے کی وجہ سے)پوری (چار)پڑھی تو اس نَماز کا پھیرنابھی واجب ہے (مُلَخَّصاًفتاوٰی رضویہ تخریج شدہ ج۸ص۲۷۰) یعنی معلومات نہ ہونے کی بِناء پر آج تک جتنی بھی نمازیں سفر میں پوری پڑھی ہیں ان کا حساب لگا کرچار رکعتی فرض قصر کی نیّت سے دو دو لوٹانے ہوں گے۔ ہاں مسافر کو مقیم امام کے پیچھے فرض چار پورے پڑھنے ہوتے ہیں سنتیں اور وتر لوٹانے کی ضرورت نہیں ۔ قَصْر صِرف ظُہر ،عَصْر اور عِشاء کی فَرْض رَکْعَتوں میں کرنا ہے۔یعنی اِن میں چار رَکْعَت فَرْض کی جگہ دو رَکْعَت ادا کی جائیں گی۔باقی سُنَّتوں اور وِتَرْ کی رَکْعَتیں پُوری اداکی جائیں گی۔ دُوسرے شہر یا گاؤں وغیرہ میں پہنچنے کے بعد جب تک پندرہ دِن سے کم مُدَّت تک قِیام کی نِیَّت تھی مُسافِر ہی کہلائے گا اور مُسافِرکے اَحْکام رہیں گے۔اور اگر مُسافِر نے وہاں پہنچ کر پندرہ دِن یا اُس سے زِیادہ قِیام کی نِیَّت کرلی تَو اب مُسافِر کے اَحکام خَتْم ہو جائیں گے ۔اور وہ مُقیم کہلائے گا ۔اب اسے روزہ بھی رکھنا ہوگا اور نَماز بھی قَصْر نہیں کریگا۔ سفر کے متعلق ضروری اَحکام کی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کیلئے بہار ِ شریعت حصّہ چہارم کے باب'' نمازِ مسافِر کا بیان'' کامُطالَعَہ فرمائیں۔

📢 *معمولی بیماری کوئی مجبوری نہیں*

کوئی سخت بیمار ہو اور اُسے روزہ رکھنے کی صُورت میں مَرض بڑھ جانے یا دیر میں شِفا یابی کا گُمانِ غالِب ہو تَو ایسی صُورت میں بھی روزہ قَضاء کرنے کی اِجازت ہے۔(اِس کے تفصیلی اَحْکام آگے آرہے ہیں)مگر آج کل دیکھا جاتا ہے کہ معمولی نَزلہ،بُخار یا دَرْ دِ سَر کی وجہ سے لوگ روزہ تَرک کردیا کرتے ہیں یا مَعَاذَاللہ عزوجل رکھ کر توڑ دیتے ہیں،ایسا ہر گز نہیں ہوناچاہئے۔اگر کسی صحیح شَرعی مجبوری کے بِِغیر کوئی روزہ چھوڑدے اگرچِہ بعد میں ساری عُمْربھی روزے رکھے، اُس ایک روزے کی فضیلت کو نہیں پاسکتا۔میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!اِس سے قَبل کہ روزہ نہ رکھنے کے اَعذار( یعنی مجبوریوں )کا تفصیلی بَیان کیا جائے گا لفظ ''کرم'' کے تین حُرُوف کی نسبت سے تین احادیثِ مُبارَکہ بَیان کی جاتی ہیں۔

📌 *سَفر میں چاہے روزہ رکھو،چاہے نہ رکھو*

اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ا رِوایَت فرماتی ہیں، حضرتِ سَیَّدُنا حَمزہ بِن عَمر و اَسلَمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہُت روزے رکھا کرتے تھے ۔اُنہوں نے تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، پیکرِ جُودو سخاوت ، سراپا رَحمت، محبوبِ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے دریافت کیا، سَفر میں روزہ رکھوں؟ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''چاہے رکھو،چاہے نہ رکھو۔''

📒(صحیح بُخاری ج۱ص۶۴۰حدیث۱۹۴۳)

📌حضرتِ سَیِّدُنا ابُو سَعِید خُدری رضی اللہ تعالیٰ عنہُ فرماتے ہیں،سَو لہویں رَمَضانُ الْمُبارَک کو سرورِ کائنات،شاہِ موجودات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہم جِہاد میں گئے،ہم میں بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا۔نہ تو روزہ داروں نے غَیر روزہ داروں پر عَیب لگایا اور نہ اِنہوں نے اُن پر۔

📙(صحیح مُسلم ص۵۶۴حدیث۱۱۱۶)

📌حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک کَعبِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ مَدینے کے تاجدار، غریبوں کے غمگُسارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ خوشگوار ہے: اللہ عزوجل نے مُسافِر سے آدھی نَماز مُعاف فرمادی ۔ (یعنی چار رَکْعَت والی فَرْض نَماز دو رَکْعَت پڑھے ) اور مُسافِر اور دُودھ پِلانے والی حامِلہ سے روزہ مُعاف فرمادیا۔ (کہ اجازت ہے اُس وَقْت نہ رکھیں بعد میں وہ مِقْدار پُوری کرلیں) حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک کَعبِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ مَدینے کے تاجدار، غریبوں کے غمگُسارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ خوشگوار ہے: اللہ عزوجل نے مُسافِر سے آدھی نَماز مُعاف فرمادی ۔ (یعنی چار رَکْعَت والی فَرْض نَماز دو رَکْعَت پڑھے ) اور مُسافِر اور دُودھ پِلانے والی حامِلہ سے روزہ مُعاف فرمادیا۔ (کہ اجازت ہے اُس وَقْت نہ رکھیں بعد میں وہ مِقْدار پُوری کرلیں)

📕(جامع تِرمذی ج۲ص ۱۷۰ حدیث ۷۱۵)
[02/06 3:30 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 8⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*

*''واہ کیا بات ہے ماہِ رمضان کی ''کے اکیس حُرُوف کی نسبت سے روزہ نہ توڑنے والی چیزوں کے متعلق 21 پَیرے*

👈🏿بُھول کر کھایا،پِیا یا جِماع کیا روزہ فاسِد نہ ہوا،خواہ وہ روزہ فَرض ہو یا نَفْل۔

📕(دُرِّمُخْتار ،رَدُّ المحتار ج۳ص۳۶۵)

📌کِسی روزہ دار کو اِن اَفعال میں دیکھیں تَو یاد دِلانا واجِب ہے۔ہاں اگر روزہ دار بَہُت ہی کمزور ہو کہ یاد دِلانے پر وہ کھانا چھوڑدے گا جس کی وجہ سے کمزوری اِتنی بڑھ جائے گی کہ اِس کیلئے روزہ رکھنا ہی دُشوار ہوجائے گااور اگر کھالے گا تَو روزہ بھی اچھّی طرح پُورا کرلے گا اور دیگر عِبادَتیں بھی بَخوبی اداکرسکے گا(اور چُونکہ بُھول کر کھاپی رہا ہے اِس لئے اِس کا روزہ تَو ہو ہی جائے گا) لہٰذا اِس صُورت میں یاد نہ دِلانا ہی بِہتر ہے۔ بَعْض مَشائخِ کِرام (رحِمَھُمُ اللہُ تعالیٰ)فرماتے ہیں:''جو ان کو دیکھے تو یاد دِلادے اور بُوڑھے کو دیکھے تَو یاد نہ دِلانے میں حَرَج نہیں۔''مگر یہ حُکم اکثر کے لِحاظ سے ہے کیونکہ جَوان اکثر قَوی (یعنی طاقتور ) ہوتے ہیں اور بوڑھے اکثر کمزور ۔چُنانچِہ اَصل حُکم یِہی ہے کہ جَوانی اور بڑھاپے کو کوئی دَخل نہیں،بلکہ قوّت وضُعف (یعنی طاقت اور کمزوری) کا لِحاظ ہے لہٰذا اگر جوان اِس قَدَر کمزور ہوتَو یاد نہ دِلانے میں حَرَج نہیں اور بوڑھا قَوی (یعنی طاقتور ) ہو تو یاد دِلانا واجِب ہے.

📘( رَدُّالْمُحتَارج۳ص۳۶۵)

👈🏿روزہ یاد ہونے کے باوُجود بھی مکھّی یا غُبار یا دُھواں حَلْق میں چلے جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔خواہ غُبار آٹے کا ہو جَو چَکّی پیسنے یا آٹا چھاننے میں اُڑتا ہے یاغَلّہ کا غُبار ہویا ہَوا سے خاک اُڑی یاجانور وں کے کُھر یا ٹاپ سے۔

📙(دُرِّمُخْتار رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۶۶)

👈🏿اسی طرح بس یا کا ر کا دُھواں یا اُن سے غُبار اُڑ کر حَلْق میں پَہُنچا اگر چِہ روزہ دار ہونایا د تھا،روزہ نہیں جائے گا۔
اگر بتّی سُلَگ رہی ہے اوراُس کا دُھواں ناک میں گیا تَو روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ ہاں اگر لُوبان یا اگر بتّی سُلگ رہی ہو اور روزہ یاد ہونے کے باوُجُود مُنہ قریب لے جاکر اُس کا دُھواں ناک سے کھینچا تَوروزہ فاسِد ہوجائیگا۔

📒(رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۶۶)

📘بھری سِینگی( یہ درد کے علاج کا ایک مخصوص طریقہ ہے جس میں سوراخ کیا ہوا سینگ درد کی جگہ رکھ کر منہ کے ذریعے جسم کی گرمی کھینچتے ہیں۔) لگوائی یا تیل یا سُرمہ لگایا تَو روزہ نہ گیا اگرچِہ تیل یا سُرمہ کا مزہ حَلْق میں محسوس ہوتا ہو بلکہ تُھوک میں سُرمہ کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہو جب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔

📕(الجَوْہَرَۃ النیرۃ ج۱ص۱۷۹)

👈🏿غُسُل کیا اور پانی کی خنکی (یعنی ٹھنڈک )اندر مَحسوس ہوئی جب بھی روزہ نہیں ٹوٹا۔

📙(عالمگیری ج۱ص۲۳۰)

👈🏿کُلّی کی اور پانی بِالکل پھینک دیا صِرف کچھ تَری مُنہ میں باقی رہ گئی تھی تُھوک کے ساتھ اِسے نِگل لیا،روزہ نہیں ٹوٹا۔

📒(رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۶۷)

👈🏿دوا کُو
ٹی اور حَلْق میں اِس کا مزہ محسُوس ہوا روز ہ نہیں ٹوٹا۔

📕(اَیْضاً)

👈🏿کان میں پانی چلاگیا جب بھی روزہ نہیں ٹوٹا۔بلکہ خود پانی ڈالا جب بھی نہ ٹوٹا۔

📕(دُرِّمُخْتار ج۳ص۳۶۷)

تِنکے سے کان کُھجایا اور اُس پر کان کا مَیل لگ گیا پھر وُہی مَیل لگاہُوا تِنکا کان میں ڈالا اگرچِہ چند بار ایسا کیا ہوجب بھی روزہ نہ ٹوٹا۔

📙(اَیضاً)

👈🏿دانت یا مُنہ میں خَفِیف (یعنی معمولی )چیز بے معلوم سی رہ گئی کہ لُعاب کےساتھ خود ہی اُترجائے گی اور وہ اُترگئی ،روزہ نہیں ٹوٹا۔

📘 (اَیْضاً)

👈🏿دانتوں سے خُون نِکل کر حَلْق تک پَہُنچا مگر حَلْق سے نیچے نہ اُترا تَو روزہ نہ گیا۔

📘(فتح القدیر ج۲ص۲۵۸)

📒 مَکھّی حَلْق میں چلی گئی روزہ نہ گیا اور قَصْداً (یعنی جا ن بو جھ کر) نِگلی تَو چلاگیا۔

📙(عالمگیری ج۱ص۲۰۳)

👈🏿بُھولے سے کھانا کھارہے تھے ،یا دآتے ہی لُقمہ پھینک دیا یا پانی پی رہے تھے یاد آتے ہی مُنہ کا پانی پھینک دیا تَو روزہ نہ گیا ۔اگر مُنہ میں کا لُقمہ یا پانی یادآنے کے باوُجُود نِگل گئے تو روزہ گیا۔

📕(اَیْضاً)

صُبحِ صادِق سے پہلے کھایا پی رہے تھے اور صُبح ہوتے ہی(یعنی سَحَری کا وَقتخَتْم ہوتے ہی)مُنہ میں کا سب کچھ اُگل دیا تَو روزہ نہ گیا،اور اگر نِگل لیا تو جاتا رہا۔

📒(عالمگیری ج۱ص۲۰۳)

👈🏿غِیبت کی تَو روزہ نہ گیا۔

📕(دُرِّمُخْتارج۳ص۳۶۲)

📌اگر چِہ غِیبت سَخت کبیرہ گُناہ ہے۔ قُرآنِ مجید میں غِیبت کرنے کی نِسْبت فرمایا،''جیسے اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا۔''اور حدیثِ پاک میں فرمایا، ''غِیبت زِنا سے بھی سخت تَر ہے۔''

📘(الترغیب والترہیب ج۳ص۳۳۱حدیث۲۴ )

📢غِیبت کی وجہ سے روزہ کی نورانیَّت جاتی رہتی ہے۔

📙(بہارِشریعت حصّہ ۵ص۶۱۱)

👈🏿جَنَابَت (یعنی غُسل فَرْ ض ہونے)کی حالت میں صُبح کی بلکہ اگرچِہ سارے دِن جُنُب (یعنی بے غُسل) رہا روزہ نہ گیا۔

📕(دُرِّمُخْتار ج ۳ ص ۳۷۲)

📌مگر اتنی دیر تک قَصْداً (یعنی جان بُوجھ کر)غُسل نہ کرنا کہ نَماز قَضاء ہوجائے گُناہ وحرام ہے۔حدیثِ شریف میں فرمایا،جس گھر میں جُنُب ہو اُس میں رَحمت کے فِرِشتے نہیں آتے۔''

📘(بہارِشریعت حصّہ ۵ ص۱۱۶)

👈🏿تِل یا تِل کے برابرکوئی چیز چَبائی اور تُھوک کے ساتھ حَلْق سے اُتر گئی تَو روزہ نہ گیا مگر جب کہ اُس کا مزہ حَلْق میں مَحسُوس ہوتا ہوتو روزہ جاتا رہا۔

📒(فتح القدیر ج۲ص۲۵۹)

👈🏿تُھوک یا بَلْغَم مُنہ میں آیا پھر اُسے نِگل گئے تَو روزہ نہ گیا۔

📙(رَدُّالْمُحتَارج۳ص۳۷۳)

👈🏿اِسی طرح ناک میں رِینٹھ جمع ہوگئی ،سانس کے ذَرِیعے کھینچ کر نِگل جانے سے بھی روزہ نہیں جاتا۔

📕(اَیْضاً)
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
[02/06 3:30 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 7⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*

*روزہ میں قَے ہونا*

بَعض اَوْقات جب روزہ میں قَے ہوجاتی ہے تَو لوگ پریشان ہوجاتے ہیں بلکہ بعض تَو سمجھتے ہیں کہ روزہ میں خُود بَخُود قَے ہوجانے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں۔
*چُنانچِہ سَیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حُضورِ پُرنور ،شافِعِ یومُ النُّشُورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ترجَمہ:جس کو ماہ ِ رَمَضان میں خود بخود قَے آئی اسکا روزہ نہ ٹوٹا اور جس نے جان بوجھ کر قَے کی اسکا روزہ ٹوٹ گیا۔*

📘(کنزالعُمّال ج۸ص۲۳۰حدیث۲۳۸۱۴)

🔘ایک اورمقام پر ارشاد فرمایا، *''جس کو خود بخود قَے آئی اس پر قضَاء نہیں اور جس نے جان بوجھ کر قَے کی وہ روزہ کی قضاء کرے۔*

📙(ترمذی ج۲ص۱۷۳حدیث۷۲۰)

💫 *''کرم یاربّ !'' کے سات حُرُوف کی نسبت سے قَے کے بارے میں 7 پَیرے* 💫

👈🏿 روزہ میں خود بخود کتنی ہی قَے (اُلٹی) ہوجائے(خواہ بالٹی ہی کیوں نہ بھر جائے)اِس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

📕(دُرِّمُختَار ج۳ص۳۹۲)

👈🏿اگر روزہ یاد ہونے کے باوُجُود قَصْداً (یعنی جان بُوجھ کر)قَے کی اور اگر وہ مُنہ بھر ہے (مُنہ بھر کی تعریف آگے آتی ہے)تَو اب روزہ ٹوٹ جائے گا۔

📒(دُرِّمُختَار ج۳ص۳۹۲)

👈🏿قَصْداً مُنہ بھر ہونے والی قَے سے بھی اِس صُورت میں روزہ ٹوٹے گا جبکہ قَے میں کھانا یا ( پانی )یا صَفْراء(یعنی کڑوا پانی ) یا خُون آئے۔

📕 (اَیْضاً )

👈🏿اگر قَے میں صِرف بَلْغَم نِکلا تَو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

📘(اَیْضاًص۳۹۴)

👈🏿قَصْداً قَے کی مگر تھوڑی سی آئی ،مُنہ بھر نہ آئی تَو اب بھی روزہ نہ ٹوٹا۔

📙(دُرِّمُختَار ج۳ص۳۹۳)

👈🏿مُنہ بھر سے کم قَے ہوئی اور مُنہ ہی سے دوبارہ لوٹ گئی یا خُود ہی لَوٹا دی ، ان دونوں صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

📒(اَیْضاً )

👈🏿مُنہ بھر قَے بِلا اِختِیار ہوگئی تَو روزہ تَو نہ ٹوٹاالبَتَّہ اگر اِس میں سے ایک چَنے کے برابر بھی واپَس لوٹا دی تَو روزہ ٹو ٹ جائے گا۔اور ایک چَنے سے کم ہو تَو روزہ نہ ٹوٹا۔

📘(دُرِّمُختَار ج۳ص۳۹۲)

📌 *منہ بھر قَے کی تعریف*

مُنہ بھر قَے کے مَعنٰی یہ ہیں،''اِسے بِلاتَکَلُّف نہ روکا جاسک
ے۔''

📕(عالمگیری ج۱ص۲۰۴)

📢 *ضروری ہدایت*

مُنہ بھرقَے(عِلاوہ بَلْغَم کے) ناپاک ہے۔اِس کا کوئی چھینٹا کپڑے یا جِسْم پر نہ گِرنے پائے اِس کی اِحتِیاط فرمائیے۔آج کل لوگ اِس میں بڑی بے اِحْتِیاطی کرتے ہیں،کپڑوں پر چھینٹے پڑنے کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور مُنہ وغیرہ پر جَوناپاک قَےلگ جاتی ہے اُس کو بھی بِلاجِھجک اپنے کپڑوں سے پُونچھ لیتے ہیں۔ اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ ہمیں نَجاست سے بچنے کا ذہن عنایت فرمائے۔

ٰاٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

📌 *بُھول کر کھانے پِینے سے روزہ نہیں جاتا*

حضرتِ سَیِّدُنا ابُوہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہے کہ سلطانِ دوجہان، شَہَنْشاہِ کون ومکان، رحمتِ عالمیان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں کہ جس روزہ دار نے بُھول کر کھایا پِیا وہ اپنے روزہ کو پُورا کرے کہ اُسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کھِلایا اور پِلایا

📘(صحیح بُخاری ج۱ص۶۳۶حدیث۱۹۳۳)
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*
[02/06 3:31 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 6⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*

*''صَدقے یا رسولَ اﷲ '' کے ۱۴ حُرُوف کی نسبت سے روزہ توڑنے والی باتوں کے 14 پَیرے*

👈🏿کھانے ،پینے یا ہَمبِستری کرنے سے روزہ جاتا رہتا ہے جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔

📘(رَدُّالْمُحتَار ج۳ ص۳۶۵)

👈🏿حُقَّہ،سِگار،سِگریٹ ،چُرَٹ وغیرہ پینے سے بھی روزہ جاتا رہتا ہے۔ اگرچِہ اپنے خَیال میں حَلق تک دُھواں نہ پہنچتا ہو۔

📕(بہارِ شریعت حصّہ پنجم ص۱۱۷)

👈🏿پان یا صِرف تمباکو کھانے سے بھی روزہ جاتا رہے گا اگر چِہ آپ بار بار اس کی پِیک تُھوکتے رہیں۔کیوں کہ حَلْق میں اُس کے باریک اَجْزاء ضَرور پہنچتے ہیں۔

📕( اَیضاً)

👈🏿شَکر وغیرہ ایسی چیزیں جو مُنہ میں رکھنے سے گُھل جاتی ہیں مُنہ میں رکھی اور تُھوک نِگل گئے روزہ جاتا رہا۔

📒( اَیضاً)

👈🏿دانتوں کے دَرمیان کوئی چیز چَنے کے برابر یا زیادہ تھی اُسے کھا گئے یا کم ہی تھی مگر مُنہ سے نِکال کر پھر کھا لی تَو روزہ ٹوٹ گیا۔

📙(دُرِّ مُخْتَار ج۳ص۳۹۴)

👈🏿دانتوں سے خُون نِکل کر حَلْق سے نِیچے اُترا اور خُون تُھوک سے زیادہ یا برابر یا کم تھا مگر اِس کا مزا حَلْق میں مَحسوس ہواتَوروزہ جاتا رہا اور اگر کم تھا اور مزہ بھی حَلْق میں مَحسوس نہ ہوا تو روزہ نہ گیا۔

📘(دُرِّمختَار ، رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۶۸)

👈🏿روزہ یاد رہنے کے باوُجُودحُقنَہ ۱؎ لیا۔یا ناک کے نَتھنوں سے دوائی چڑھائی روزہ جاتا رہا۔

📒(عالمگیری ج۱ ص۲۰۴)

👈🏿کُلّی کررہے تھے بِلا قَصدپانی حَلْق سے اُتر گیا یا ناک میں پانی چڑھایا اور دِماغ کو چڑ ھ گیا روزہ جاتا رہا مگرجبکہ روزہ دار ہونا بُھول گیا ہو تَو نہ ٹوٹے گااگرچِہ قَصداً ہو۔یُوں ہی روزے دار کی طرف کسی نے کوئی چیز پھینکی وہ اُس کے حَلْق میں چلی گئی توروزہ جاتا رہا۔

📕(الجوہرۃ النیرۃ ج۱ ص۱۷۸)

👈🏿سَوتے میں (یعنی نیند کی حالت میں ) پانی پی لیا یا کچھ کھالیا،یامُنہ کُھلا تھا،پانی کا قَطْرہ یا بارِش کا اَوْلا حَلْق میں چلاگیاتوروزہ جاتا رہا۔

📙(الجوہرۃ النیرۃ ج۱ ص۱۷۸)

👈🏿دُوسرے کا تُھوک نِگل لیا یا اپنا ہی تُھوک ہاتھ میں لے کر نِگل لیا تَو روزہ جاتا رہا۔

📘(عالمگیری ج۱ص ۲۰۳)

👈🏿جب تک تُھوک یا بَلْغَم مُنہ کے اندر موجُود ہواُسے نِگل جانے سے روزہ نہیں جاتا،بار بار تُھوکتے رہنا ضَروری نہیں۔
مُنہ میں رنگین ڈَورا وغیرہ رکھّاجس سے تُھوک رنگین ہوگیا پھر وُہی رنگین تُھوک نِگل گئے تَو روزہ جاتا رہا۔

📒(عالمگیری ج۱ص۲۰۳)

👈🏿آنسو مُنہ میں چلاگیا اور آپ اُسے نِگل گئے ۔اگر قَطْرہ دو قَطْرہ ہے تو روزہ نہ گیا اور زیادہ تھا کہ اُس کی نَمکینی پورے مُنہ میں مَحسوس ہوئی تَو جاتا رہا ۔ پسینہ کا بھی یِہی حُکم ہے۔

📕(عالمگیری ج۱ص۲۰۳)

👈🏿فُضلے کا مَقام باہَر نِکل آیا تَو حُکم یہ ہے کہ خُوب اچھّی طرح کسی کپڑے وغیرہ سے پُونچھ کر اُٹھیں تاکہ تَری باقی نہ رہے۔اگر کچھ پانی اُس پر باقی تھا اور کھڑے ہوگئے جِس کی وجہ سے پانی اندر چلاگیا تَو روزہ فاسِد ہو گیا ۔ اِسی وجہ سے فُقہائے کِرام رَحِمَھُمُ اللہُ تعالٰیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ دار اِسْتِنْجا ء کرنے میں سانس نہ ۔

📙(عالمگیری ج۱ص۲۰۴)
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
[02/06 3:33 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر: 2⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*
🔹 *روزہ کی نیت اور اور نیت کے متعلق مسائل*

*روزہ کی نیت*

روزہ کیلئے بھی اُسی طرح نِیَّت شَرط ہے جِس طرح کہ نَماز ، زکوٰۃ وغیرہ کے لئے ۔ لہٰذا ''بے نِیَّتِ روزہ اگر کوئی اِسلامی بھائی یا اسلامی بہن صُبحِ صادِق کے بعد سے لے کر غُروبِ آفتاب تک بالکل نہ کھائے پئے تب بھی اُس کا روزہ نہ ہوگا
📙 (رَدُّالْمُحتَار ج۳ ص۳۳۱)

📌 رَمَضان شریف کا روزہ ہو یا نَفْل یا نَذْرِ مُعَیّن کا روزہ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے کسی مَخصُوص دِن کے روزہ کی مَنّ
َت مانی ہو مَثَلاً خُود سُن سکے اتنی آواز سے یُوں کہا ہو کہ ''مجھ پراللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے اِس سال رَبِیْعُ النُّور شریف کی ہر پیرشریف کا روزہ ہے ۔تَو یہ نَذْرِمُعَیَّن ہے اور اِس مَنّت کا پُورا کرنا واجِب ہوگیا۔اِن تینوں قِسم کے روزوں کے لئے غُروبِ آفتاب کے بعد سے لیکر''نِصْفُ النَّہارِ شَرعی ''(اِسے ضَحوَہ کُبریٰ بھی کہتے ہیں ) سے پہلے پہلے تک جب بھی نِیَّت کرلیں روزہ ہوجائے گا۔

📒(رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۳۲)

*''مجھے ماہِ رَمَضان سے پیار ہے '' کے بیس حُرُوف کی نسبت سے روزہ کی نیّت کے 20مَدَنی پھول*

📌 ادائے روزہ رَمَضان اور نَذْرِ مُعَیَّن اور نَفْل کے روزوں کیلئے نِیَّت کا وَقت غُروبِ آفتاب کے بعد سے ضَحوَہ کُبْریٰ یعنی نِصفُ النَّہارِ شرعی سے پہلے پہلے تک ہے اِس پورے وَقت کے دَوران آپ جب بھی نِیَّت کرلیں گے یہ روزے ہوجائیں گے۔

📕(رَدُّالْمحتار ج۳ ص ۳۳۲ )

📌نِیَّت دِل کے اِرادے کا نام ہے زَبان سے کہنا شَرط نہیں،مگر زَبان سے کہہ لینا مُستَحَب ہے اگر رات میں روزہ رَمَضان کی نِیَّت کریں تَو یُوں کہیں: نَوَیتُ اَنْ اَصُوْ مَ غَدًا لِلّٰہِ تَعَالیٰ مِنْ فَرْضِ رَمَضان۔

ترجَمہ :میں نے نِیَّت کی کہ اللہ عَزَّوَجَل کے لئے اِس رَمَضان کا فَرض روزہ کل رکھوں گا ۔
اگر دن میں نِیَّت کریں تَو یُوں کہیں-:

نَوَیتُ اَنْ اَصُوْ مَ ھٰذاالْیومَ لِلّٰہِ تَعَالیٰ مِنْ فَرضِ رَمَضان ۔

ترجَمہ :میں نے نِیَّت کی کہ اللہ عَزَّوَجَل کے لئے اِس رَمَضان کا فَرض روزہ رکھوں گا۔

📙(رَدُّالْمحتار ج۳ ص ۳۳۲ )

📌عَرَبی میں نِیَّت کے کلِمات ادا کرنے اُسی وَقت نِیَّت شُمار کئے جائیں گے جبکہ اُن کے معنیٰ بھی آتے ہوں۔اور یہ بھی یاد رہے کہ زَبان سے نِیَّت کرنا خواہ کسی بھی زَبان میں ہواُسی وَقت کار آمد ہوگا جبکہ اُس وقت دِل میں بھی نِیَّت مَوجُود ہو۔ (اَیْضاً)
نِیَّت اپنی مادَری زَبان میں بھی کی جاسکتی ہے ۔مگر شَرط یِہی ہے کہ عَرَبی میں کریں خواہ کسی اور زَبان میں۔ نِیَّت کرتے وَقت دِل میں بھی اِرادہ مَوجُود ہو،وَرنہ بے خیالی میں صِرف زَبان سے رَٹے رَٹائے جملے ادا کرلینے سے نِیَّت نہ ہوگی۔ہاں اگر بِالفَرض زَبان سے رَٹی ہوئی نِیَّت کہہ لی مگر بعد میں نیّت کیلئے مقرّرہ وَقت کے اندر دِل میں بھی نِیَّت کرلی تَواب نِیَّت صحیح ہے۔

📕(رَدُّالْمحتار ج۳ ص ۳۳۲ )

📌اگر دِن میں نِیَّت کریں تَو ضَروری ہے کہ یہ نِیَّت کریں کہ میں صُبح سے روزہ دار ہوں ۔اگر اِس طرح نِیَّت کی کہ اب سے روزہ دار ہوں صُبح سے نہیں ،تَو روزہ نہ ہوا۔

📒( الجَوْہَرَۃُ النَّیِّرۃ ج۱ ص۱۷۵)

📌دِن میں وہ نِیَّت کام کی ہے کہ صُبحِ صادِق سے نِیَّت کرتے وَقت تک روزے کے خِلاف کوئی اَمْرنہ پایا گیا ہو۔البتَّہ اگرصُبحِ صادِق کے بعد بُھول کر کھاپی لیا یا جِماع کرلیا تب بھی نِیَّت صحیح ہوجائے گی۔کیوں کہ بُھول کر اگر کوئی ڈَٹ کربھی کھاپی لے تَو اِس سے روزہ نہیں جاتا۔

📘(مُلَخَّص از ردالمحتار ج۳ ص۳۶۷)

📌آپ نے اگر یُوں نِیَّت کی کہ ''کل کہیں دعوت ہوئی تَو روزہ نہیں اور نہ ہوئی تَو روزہ ہے''۔یہ نِیَّت صحیح نہیں۔بَہَرحال آپ روزہ دار نہ ہوئے۔

📙(عَالمگِیری ج۱ص۱۹۵)

📌ماہِ رَمَضان کے دِن میں نہ روزہ کی نِیَّت کی نہ ہی یہ کہ ''روزہ نہیں'' اگرچِہ معلوم ہے کہ یہ رَمَضانُ الْمبارَک کا مہینہ ہے تَو روزہ نہ ہوگا۔

📘(عَالمگِیری ج۱ص۱۹۵)

📌غُروبِ آفتاب کے بعد سے لیکر رات کے کسی وَقْت میں بھی نِیَّت کی پھر اِس کے بعد رات ہی میں کھایاپِیا تَو نِیَّت نہ ٹُوٹی ،وُہی پہلی ہی کافی ہے پھر سے نِیَّت کرنا ضَروری نہیں۔

📒(الجَوْہَرَۃُ النَّیرۃ ج۱ ص۱۷۵)

📌آپ نے اگر رات میں روزہ کی نِیَّت تَو کی مگر پھر راتوں رات پکاّ اِرادہ کرڈالا کہ ''روزہ نہیں رکھوں گا۔''تَو اب وہ آپ کی ،کی ہوئی نِیَّت جاتی رہی ۔اگر نئی نِیَّت نہ کی اور دِن بھر روزہ دار وں کی طرح بھوکے پیاسے رہے تب بھی روزہ نہ ہوا۔

📒(درمُختار مع ردّالمُحتار ج۳ص۳۴۵)

📌دَورانِ نَماز کلام (بات چیت) کی نِیَّت تَو کی مگر بات نہیں کی تَو نَماز فاسِد نہ ہوگی۔اِسی طرح روزے کے دَوران توڑنے کی صِرف نِیَّت کر لینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا جب تک توڑنے والی کوئی چیز نہ کرے ۔

📕(الجَوْہَرَۃُ النَّیَّرۃ ج۱ ص۱۷۵)

📌یعنی صِرف یہ نِیَّت کرلی بس اب میں روزہ توڑ ڈالتا ہوں تو اسطرح اُ س وَقت تک روزہ نہیں ٹوٹے گا جب تک حَلْق کے نیچے کوئی چیز نہ اُتاریں گے یا کوئی ایسافِعل نہ کر گزریں گے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہو۔
سَحَریکھانا بھی نِیَّت ہی ہے۔خواہ ماہِ رَمَضان کے روزے کیلئے ہو یا کسی اور روزے کیلئے مگر جب سَحَری کھاتے وَقت یہ اِرادہ ہے کہ صُبح کو روزہ نہ رکھوں گا تَو یہ سَحَری کھانا نِیَّت نہیں۔

📙(الجَوْہَرَۃُ النَّیَّرۃ ج۱ ص ۱۷۶)

📌رَمَضانُ الْمبارَک کے ہر روزے کے لئے نئی نِیَّت ضَروری ہے ۔ پہلی تاریخ یا کسی بھی اور تاریخ میں اگر پوُرے ماہِ رَمَضان کے روزے کی نِیَّت کر بھی لی تَو یہ ن
ِیَّت صِرف اُسی ایک دن کے حق میں ہے ،باقی دِنوں کیلئے نہیں۔

📕(ایضاً ص۱۶۷)

📌ادائے رَمَضان اور نَذْرِ مُعَیَّن اور نَفْل کے عِلاوہ باقی روزے مَثَلاً قضائے رَمَضان اور نَذْر ِ غیرمُعَیَّن اور نَفْل کی قَضاء (یعنی نَفْلی روزہ رکھ کر توڑ دیا تھا اُس کی قضائ)اور نَذْرِ مُعَیَّن کی قَضاء اور کَفَّارے کا روزہ اور تَمَتُّع ۱؎کا روزہ اِن سب میں عَین صُبح چمکتے وَقت یا رات میں نِیَّت کرنا ضَروری ہے اور یہ بھی ضَروری ہے کہ جو روزہ رکھنا ہے خاص اُسی مَخصُوص روزے کی نِیَّت کریں۔اگر اِن روزوں کی نِیَّت دِن میں (یعنی صُبحِ صادِق سے لیکر ضَحوہ کُبریٰ سے پہلے پہلے)کی تَو نَفل ہوئے پھر بھی اِن کا پُورا کرنا ضَروری ہے ۔توڑیں گے تو قَضاء واجِب ہوگی۔اگر چِہ یہ بات آپ کے عِلْم میں ہو کہ میں جو روزہ رکھنا چاہتا تھا یہ وہ روزہ نہیں ہے بلکہ نَفْل ہی ہے۔

📒(دُرِّمُختَار مَعَہ، رَدُّالْمُحتَار ج۳ ص۳۴۴)

📌آپ نے یہ گُمان کرکے روزہ رکھا کہ میرے ذِمّے روزے کی قَضاء ہے،اب رکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ گُمان غَلَط تھا۔اگر فوراًتوڑدیں تو کوئی حَرَج نہیں ۔البتّہ بِہتریِہی ہے کہ پُورا کرلیں۔اگر معلوم ہونے کے فوراً بعد نہ توڑا تو اب لازِم ہوگیااسے نہیں توڑسکتے اگر توڑیں گے تَو قَضاء واجِب ہے.

📘(رَدُّالْمُحتَارج۳ص۳۴۶)

📌رات میں آپ نے قَضا ء روزے کی نِیَّت کی، اگر اب صُبح شُروع ہو جانے کے بعداسے نَفْل کرنا چاہتے ہیں تو نہیں کرسکتے ۔

📙(ایضاً ص ۳۴۵ )

📌دَورانِ نَماز بھی اگر روزے کی نِیَّت کی تو یہ نِیَّت صحیح ہے۔

📕(دُرِّمُختَار، رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۴۵)

📌کئی روزے قَضاء ہوں تَو نِیَّت میں یہ ہونا چاہیے کہ اُس رَمَضان کے پہلے روزے کی قَضاء ،دوسرے کی قَضاء اور اگر کچھ اِس سال کے قَضاء ہوگئے کچھ پچھلے سال کے باقی ہیں تَو یہ نِیَّت ہونی چاہئے کہ اِس رَمَضان کی قضاء اور اُس رَمَضان کی قضاء اور اگر دِن کو مُعَیَّن نہ کیا، جب بھی ہوجائیں گے۔

📘(عالمگیری ج۱ص۱۹۶)

📌معَاذَاللہ عَزَّوَجَلّ َآپ نے رَمَضان کا روزہ قَصداً (یعنی جان بُوجھ کر ) توڑ ڈالا تھا تَو آپ پر اِس روزہ کی قَضاء بھی ہے اور (اگر کَفَّارے کی شرائط پائی گئیں تو) ساٹھ روزے کفَّارے کے بھی ۔اب آپ نے اِکسٹھ روزے رکھ لئے قَضاء کا دِن مُعَیَّن نہ کیا تو اِس میں قَضاء اور کفَّارہ دونوں ادا ہوگئے ۔

📙(عَالَمگِیری ج۱ ص۱۹۶)
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
[02/06 3:33 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 3⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*

*کیا روزے کے لیے سحری شرط ہے؟*

کسی کو یہ غَلط فہمی نہ ہو جائے کہ سَحَری روزہ کیلئے شَرط ہے ۔ایسا نہیں سَحَری کے بِغیر بھی روزہ ہوسکتا ہے۔مگر جان بُوجھ کر سَحَری نہ کرنا مُناسِب نہیں کہ ایک عظیم سُنَّت سے مَحروی ہے او ریہ بھی یاد رہے کہ سَحَری میں خُوب ڈَٹ کر کھانا ہی ضَروری نہیں۔ چندکَھجوریں اور پانی ہی اگر بہ نِیّتِ سَحَری استِعمال کرلیں جب بھی کافی ہے بلکہ کَھجور اورپانی سے تَو سَحَری کرنا سُنَّت بھی ہے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بِن مالِک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ مدینہ، سُرورِ قَلبُ وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سَحَری کے وَقت مجھ سے فرماتے : *''میرا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے مجھے کچھ کھِلاؤ۔ تو میں کچھ کَھجُوریں اور ایک برتن میں پانی پیش کرتا۔ ''*

📙(السُّنَنُ الکُبریٰ لِلنَّسائی ج۲ ص۸۰حدیث۲۴۷۷)

📌 *سَحری کا وقت کب ہوتا ہے؟*

عَرَبی کی مشہُور کتابِ لُغت ''قامُوس'' میں ہے کہ سَحَر اُس کھانے کو کہتے ہیں جو صُبح کے وَقت کھایا جائے ۔ '' حنفیوں کے زبردست پیشوا حضرتِ علاّمہ مولیٰنا علی بن سلطان محمد المعروف مُلاّ علی قاری عَلَیہِ رَحمۃُ الْباری فرماتے ہیں، ''بعضوں کے نزدیک سَحَری کا وَقت آدھی رات سے شُروع ہوجاتا ہے۔''

📘(مرقاۃالمفاتیح شرح مشکوٰۃالمصابیح ج۴ ص۴۷۷)

📌 سَحَری میں تاخِیر اَفضل ہے جیسا کہ حدیثِ مُبارَک میں آتاہے کہ حضرتِ سَیِدُّنا یَعْلیٰ بن مُرَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ پیارے سرکار،مدینے کے تاجدارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: *''تین چیزوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ مَحبوب رکھتا ہے*
(ا)اِفطار میں جلدی اور (۲)سَحَری میں تاخِیر اور (۳)نَماز (کے قِیام ) میں ہاتھ پر ہاتھ رکھنا۔''

📒(اَلتَّرْغِیب وَالتَّرھِیب ج۲ص۹۱حدیث۴)

👈🏿 *سحر ی میں تاخیر سے کون سا وقت مراد ہے؟*

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سَحَری میں تاخِیر کرنا مُسْتَحَب ہے اور دیر سے سَحَری کرنے میں زیادہ ثواب مِلتا ہے۔مگر اتنی تاخیر بھی نہ کی جائے کہ صبحِ صادق کا شُبہ ہونے لگے! یہاں ذِہن میں یہ سُوال پیدا ہوتا ہے کہ ''تاخِیر '' سے مُراد کونسا وَقت ہے؟
مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان ''تفسیر نعیمی''میں فرماتے ہیں کہ اِس سے مُراد رات کا چھٹا حِصّہ ہے ۔پھر سُوال ذِہن میں اُبھرا کہ رات کا چَھٹا حِصّہ کیسے معلوم کیا
جائے؟
اِس کا جواب یہ ہے کہ غُروبِ آفتاب سے لیکر صُبح صادِق تک رات کہلاتی ہے ۔مَثَلاً کسی دِن سات بجے شام کو سُورج غُروب ہوا اورپھر چار بجے صُبحِ صادِق ہوئی۔اِس طرح غروبِ آفتاب سے لیکر صُبحِ صادِق تک جو نو گھنٹے کا وَقفہ گُزرا وہ رات کہلایا۔اب رات کے اِ ن نو گھنٹوں کے برابر برابر چھ حِصّے کر دیجئے ۔ہر حِصّہ ڈیڑھ گھنٹے کا ہوا اب رات کے آخِری ڈیڑھ گھنٹے (یعنی اڑھائی بجے تا چار بجے ) کے دوران صُبحِ صادِق سے پہلے پہلے جب بھی سَحَری کی ، وہ تاخیر سے کرنا ہوا ۔ سَحَری واِفطَار کا وَقت عُمُوماً روزانہ تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔بیان کئے ہوئے طریقے کے مطابِق جب بھی چاہیں رات کا چھٹا حصّہ نِکال سکتے ہیں اگر رات سَحَری کر لی اور روزہ کی نِیَّت بھی کرلی ۔ بلکہ عَوامی اِصطِلاح میں ''روزہ بند ''بھی کرلیا پھر بھی بَقِیَّہ رات میں جب چاہیں کھاپی سکتے ہیں۔نئی نیَّت کی حاجت نہیں۔
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
[02/06 3:33 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 4⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*

*اَذان فجر نماز کے لیے ہے نہ کہ روزہ بند کرنے کے لیے!*

سَحَری میں اِتنی تاخِیر بھی نہ کردیں کہ صُبحِ صادِق کا شک ہونے لگے۔ بلکہ بعض لوگ تو صُبحِ صادِق کے بعد فَجر کی اذانیں ہورہی ہوتی ہیں مگر کھاتے پیتے رہتے ہیں۔اور کان لگا کر سنتے ہیں کہ ابھی فُلاں مسجِد کی اذان خَتْم نہیں ہوئی یا وہ سنو! دُور سے اذان کی آواز آرہی ہے! اور یوں کچھ نہ کچھ کھا لیتے ہیں۔ اگر کھاتے نہیں تَو پانی پی کر اپنی اِصطِلاح میں ''روزہ بند ''ضَرور کرتے ہیں۔آہ ! اِس طرح ''روزہ بند' ' تو کیاکریں گے روزے کو بِالکل ہی''کُھلا '' چھوڑ دیتے ہیں اور یوں ان کا روزہ ہوتا ہی نہیں اور سارادن بُھوک پیاس کے سِوا کچھ ہاتھ آتا ہی نہیں۔'' *روزہ بند ''کرنے کا تَعلُّق اَذانِ فَجر سے نہیں۔صُبحِ صادِق سے پہلے پہلے کھانا پینا بند کرنا ضَروری ہے*
جیسا کہ آیَتِ مُقَدَّسہ کے تَحت گُزرا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر مسلمان کو عَقلِ سَلیم عطا فرمائے اور صحیح اَوقات کی معلُومات کرکے روزہ نَماز وغیرہ عبادات صحیح صحیح بجالانے کی توفیق مَرحَمت فرمائے۔
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

📌 *کھانا پینا بند کردیجئے*

آج کل عِلْمِ دین سے دُوری کے سبب عام طور پر لوگوں کایِہی مَعمُول دیکھا گیا ہے کہ *وہ اَذان یا سائرن ہی پر سَحَری و اِفطَار کا دارو مَدار رکھتے ہیں۔بلکہ بَعض تَو اَذانِ فَجر کے دَوران ہی ''روزہ بند ''کرتے ہیں۔*اِس عام غَلطی کو دُور کرنے کیلئے کیا ہی اچھّا ہوکہ رَمَضان الْمُبارَک میں روزانہ صُبحِ صادِق سے تین مِنَٹ پہلے ہر مَسجِد میں بُلندآواز سے صَلُّو ا عَلَی الْحَبیب ! صلَّی اﷲُ تعالیٰ علیٰ محمّد کہنے کے بعد اِس طرح تین بار اِعلان کردیا جائے، ''روزہ رکھنے والو!آج سَحَری کا آخری وَقت (مَثَلاً)چار بج کر بارہ مِنَٹ ہے۔ وَقت خَتْم ہورہا ہے، فوراًکھانا پینا بند کر دیجئے ۔ اذان کا ہرگز انتظار نہ فرمائیے ، اذان سَحَری کاوقت ختم ہو جانے کے بعدنَمازِ فَجر کے لئے دی جاتی ہے۔''ہر ایک کو یہ بات ذِہن نشین کرنی ضَروری ہے کہ اَذانِ فَجر لازِمی طور پر صُبحِ صادِق کے بعد ہی ہوتی ہے اور وہ ''روزہ بند '' کرنے کیلئے نہیں بلکہ صِرف نَمازِ فَجر کیلئے دی جاتی ہے۔

🔊 *صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد*
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*
[02/06 3:33 pm] razamarkazi: 💢 *مسائل روزہ* 💢

پوسٹ نمبر 5⃣0⃣
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~*
*اِفطار کا بیان*
جب غُروبِ آفتاب کا یقین ہوجائے، اِفطَار کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیئے۔ نہ سائرِن کا اِنتِظار کیجئے، نہ اَذان کا۔ فَوراً کوئی چیز کھایا پی لیجئے مگر کَھجور یا چُھوہارہ یا پانی سے اِفطَار کرنا سُنَّت ہے ۔کَھجور کھا کر یا پانی پی لینے کے بعد یہ دُعاء پڑھئے:
*اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ لَکَ صُمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ۔*
*ترجَمہ:اے اللہ عَزَّوَجَلّ َمیں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھی پر بَھرَوسہ کیا اور تیرے دئیے ہوئے رِزق سے روزہ اِفطار کیا۔*

📘(عالمگیری ج۱ ص۲۰۰)

افطار کیلئے اذان شرط نہیں ۔ ورنہ اُن علاقوں میں روزہ کیسے کُھلے گا جہاں مساجِد ہی نہیں یا اذان کی آواز نہیں آتی ۔ بہر حال مَغرِب کی اَذان نَمازِ مغرِب کیلئے ہوتی ہے ۔ جہاں مساجِد ہوں وہاں کاش یہ طریق کار رائج ہو جائے کہ جیسے ہی آفتاب غُروب ہونے کا یقین ہوجائے۔ بُلندآواز سے
''صَلُّو ا عَلَی الْحَبیب ! صلَّی اﷲُ تعالیٰ علیٰ محمّد کہنے کے بعد اس طرح تین بار اِعلان کر دیا جائے : ''روزہ دارو! روزہ اِفطَار کرلیجئے''

*_'' یا غوثَ الْا عظم '' کے گیارہ حُرُوف کی نِسبت سے افطار کے 11 فضائل_*

👈🏿 حضرتِ سَیِّدُنا سَہْل بِن سَعْدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ بحرو بر کے بادشاہ ، دو عالم کے شَہَنْشاہ ، اُمّت کے خ
یر خواہ، آمِنہ کے مہر و ماہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں،''ہمیشہ لوگ خَیر کے ساتھ رہیں گے جب تک اِفْطَار میں جلدی کرینگے۔''

📙(صحیح بُخاری ج۱ص۶۴۵حدیث۱۹۵۷)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جیسے ہی غُروبِ آفتاب کا یقین ہوجائے بِلاتاخِیرکَھجوریا پانی وغیرہ سے روزہ کھول لیں اور دُعاء بھی اب روزہ کھول کر مانگیں تاکہ اِفطَار میں کِسی قسم کی تاخِیر نہ ہو ۔

👈🏿 سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک و مختار ،شَہَنْشاہِ اَبرار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ مشکبار ہے : ''میری اُمَّت میری سُنَّت پر رہے گی جب تک اِفْطَار میں سِتاروں کا اِنتِظارنہ کرے۔''
📕(الاحسان بترتیب صحیح اِبْنِ حِبان ج ۵ ص ۲۰۹ حدیث ۳۵۰۱)

👈🏿 حضرتِ سَیِّدُنا ابُوہُرَیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے،سلطانِ دوجہان، مدینے کے سلطان،رحمتِ عالمیان ، سرورِذیشان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا:''میرے بندوں میں مجھے زیادہ پیارا وہ ہے جو اِفْطَار میں جلدی کرتا ہے۔''

📒( ترمذی ج۲ص۱۶۴حدیث۷۰۰)

📌 سُبْحٰنَ اللہ ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کاپیارا بننا ہے تو اِفطار کے وَقت کِسی قسم کی مشغُولِیت مت رکھئے ،بس فوراً اِفطَار کرلیجئے۔

👈🏿 حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،میں نے اللہ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کبھی اس طرح نہیں دیکھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِفْطار سے پہلے نَمازِ مغرِب ادا فرمائی ہو، چاہے ایک گُھونٹ پانی ہی ہوتا۔ (آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس سے اِفْطار فرماتے)۔

📘(الترغیب والترہیب ج۲ ص۹۱حدیث۹۱)

👈🏿حضرتِ سَیِّدُنا ابُوہُرَیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ سرکارِ والا تبار، بِاِذن ِپروردگار دو جہاں کے مالِک ومختار، شَہَنشاہِ اَبرار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:'' یہ دِین ہمیشہ غالِب رہے گاجب تک لوگ اِفْطَار میں جلدی کرتے رہیں گے کہ یَہُود و نَصاریٰ تاخِیر کرتے ہیں۔''
📕(سنن ابوداو،دج۲ ص۴۴۶حدیث۲۳۵۳)
📌میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!اس حدیثِ پاک میں بھی اِفْطَار میں تاخِیر کرنے پر ناپسند یدَگی کا اِظہار کیا گیا ہے۔اور اِفْطَار میں تاخِیر کرنا چُونکہ یَہُودو نَصاریٰ کا فِعل ہے اِس لئے اِن کی مُشابَہَت (یعنی نَقْل) سے روکا گیا ہے۔
👈🏿حضرتِ سَیِّدُنا زَید بِن خالدجُھَنِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ تاجدارِ مدینہ منوّرہ، سلطانِ مکّہ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
*مَنْ جَھَّزَ غَازِیاً اَوْحَاجًّا اَوْ خَلَفَہ ٗ فِیْ اَھْلِہٖ اَوْ فَطَّرَصَائِماً کَانَ لَہ ٗ مِثْلُ اَجْرِہِ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْقُصَ مِنْ اُجُوْ رِھِمْ شَیْئٌ*
ترجَمہ:جس نے کِسی غازی یا حاجی کو سامان (زادِ راہ )دیا یا اسکے پیچھے اسکے گھر والوں کی دیکھ بھال کی یا کسی روزہ دار کا روزہ افْطَار کروایاتو اُسے بھی انہی کی مِثْل اجْر ملے گا بِغیر اس کے کہ اُن کے اجْر میں کچھ کمی ہو۔

📙(السُنَن الکبریٰ للنَسائی ج۲ ص ۲۵۶ حدیث ۳۳۳۰)

📒سبحٰنَ اللہ عزوجل !کتنی پیاری بِشارت ہے کہ غازی کو سامانِ جہاد فَراہم کرنے والے کو غازی جیسا، حج پر جانے والے کی مالی مدد کرنے پرحاجی جیسا او راِفطار کروانے والے کو روزہ دار جیسا ثواب دیا جائے گا اور کرم بالائے کرم یہ کہ اُن لوگوں کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ ذَالِکَ فَضْلُ اللہ عزوجل ۔ مگر یہ حکمِ شریعت یاد رکھئے کہ حج و عمرہ کیلئے سُوال کرنا حرام ہے اور اِس سُوال کرنے والے کو دینا بھی گناہ ہے۔

*اِفطار کروانے کی عظیم الشّان فضیلت*

👈🏿حضرتِ سَیِّدُنا سَلْمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ حُضورِ انور ، شافِعِ مَحشر ،مدینے کے تاجور ،باِذنِ ربِّ اکبر غیبوں سے باخبر محبوبِ داوَر عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ رُوح پرور ہے :''جس نے حَلال کھانے یا پانی سے(کسی مُسلمان کو)روزہ اِفْطَار کروایا،فِرِشتے ماہِ رَمَضان کے اَوْقات میں اُس کے لئے اِسْتِغفَار کرتے ہیں اور جبرِیل (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) شبِ قَدْرمیں اُس کیلئے اِسْتِغفَار کرتے ہیں ۔ ''

📘(طبرانی المعجم الکبیر ج۶ ص۲ ۶ ۲حدیث۶۱۶۲ )

📌سُبحٰنَ اللہ! سُبحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! قُربان جائیے اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی عنایت و رَحمت پر کہ کوئی مسلمان ماہِ رَمَضان میں اگر کسی روزہ دار کو ایک آدھ کَھجورکھِلا کر یا پانی کا ایک گُھونٹ پِلا کر روزہ اِفْطَار کروادے تَو اُس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلّ َکے مَعصُوم فِرِشتے رَمَضانُ الْمُبارَک کے اَوقات میں اور فِرِشتوں کے سردار حضرتِ سَیِدُّنا جِبرِیل علیہ السلام شبِ قدْر میں دُعائے مَغْفِرت فرماتے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ
عَلٰی اِحسَانِہٖ ؕ

*🔘جِبرِیل اَمین کے مُصافَحَہ کرنے کی علامت*

👈🏿ایک رِوایَت میں آتا ہے ،''جو حَلال کمائی سے رَمَضان میں روزہ اِفْطَار کروائے ۔ رَمَضان کی تمام راتوں میں فِرِشتے اُس پر دُرُودبھیجتے ہیں اور شبِ قَدْر میں جِبرِیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُس سے مُصَافَحَہ کرتے ہیں۔ اور جِس سے جِبرِیل علیہ السلام مُصَافَحَہ کرلیں اُس کی آنکھیں (خوفِ خداعزوجل سے) اشک بار ہوجاتی ہیں اور اسکا دل نَرْم ہوجاتا ہے۔

📙(کنزالعمال ج۸ص۲۱۵حدیث۲۳۶۵۳)

🔘 *روزہ دار کو پانی پلانے کی فضیلت*

👈🏿ایک اور رِوایَت میں ہے ،''جو روزہ دار کو پانی پلائے گا ا للہ عَزَّوَجَلَّ اُسے میرے حَوض سے پلائے گا کہ جَنَّت میں داخِل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔ ''

📕(صحیح ابن خُزَیمہ،ج ۳ ص۱۹۲حدیث۱۸۸۷)

👈🏿حضرتِ سَیِّدُنا سَلْمان بن عامِررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے،خا تمُ المُر سَلین، رَحمۃٌ لِّلْعٰلمین ،شفیعُ الْمُذْنِبیْنِ، انیسُ الْغَرِیبین، سِراجُ السَّالِکین، مَحبوبِ ربُّ الْعٰلمین،جنابِ صادِق واَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے:''جب تم میں کوئی روزہ اِفْطار کرے تو کَھجُور یا چُھوہارے سے اِفْطار کرے کہ وہ بَرَکت ہے اور اگر نہ مِلے تو پانی سے کہ وہ پاک کرنے والا ہے ۔''

📘(جامع تِرْمذی ج۲ص۱۶۲الحدیث۶۹۵)

📌اِس حدیثِ پاک میں یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہوسکے تو کَھجور یا چُھوہار ے سے اِفْطَارکیاجائے کہ یہ سُنَّت ہے اور اگر کھَجور مُیَسَّر نہ ہو تو پھر پانی سے اِفْطار کرلیجئے کہ یہ بھی پاک کرنے والا ہے۔
📌حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے''طبیبوں کے طبیب ، اللہ کے حبیب ، حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نَمازسے پہلے تَر کَھجو ر وں سے روزہ اِفْطَار فرماتے ،تَر کَھجوریں نہ ہوتیں تَو چند خشک کَھجوریں یعنی چُھوہاروں سے اور یہ بھی نہ ہوتیں تو چند چُلُّو پانی پیتے۔

📙(سنن ابوداو،د ج۲ص۴۴۷حدیث۲۳۵۶)

📌اِس حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایاگیاہے کہ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اوَّلاً تَرکَھجور سے روزہ اِفْطَار کرنا پسند فرماتے اگر یہ حاضِر نہ ہوتیں تَو پھر چُھو ہا رو ں سے، یہ بھی اگر مَوجُود نہ ہوتے تَو پھر پانی سے روزہ اِفْطَار فرماتے ۔لہٰذا ہماری پہلی کوشِش یہ ہونی چاہئے کہ ہمیں اِفْطَار کیلئے مِیٹھی مِیٹھی تر کَھجور مِل جائے جو کہ میٹھے میٹھے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی میٹھی میٹھی سُنَّت ہے ۔یہ بھی نہ مِلے تَو پھر چھُوہارا او ر یہ بھی مُیَسَّر نہ ہو تو پھر اب پانی سے روزہ اِفْطَار کرلیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! احادیثِ مبارَکہ میں سَحَری اور افِطار میں کَھجور کے استعمال کی کافی ترغیب موجود ہے ۔کَھجورکھانا، اِس کو بِھگو کر اس کا پانی پینا، اس سے علاج تجویز کرنا یہ سب سنّتیں ہیں ۔ اَلْغَرَض اس میں لا تعداد برکتیں اوربے شمار بیماریوں کا علاج ہے.
*~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~