🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
سوال:
🚭 *تمباکو اور ماوا (تمباکو بنا ہوا) منہ میں رکھ کر قران شریف کی تلاوت اور درود شریف کا ورد کرنا کیسا ہے؟* 🚭_______________
الجواب: ‌‌‍‌ﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گندگی اور بدبو سے بہت نفرت کی ہے، اور نظافت کے حوالے سے آیا ہے "النظافۃ نصف الایمان"حلال چیز، جسے کھانے سے منہ میں بدبو پیدا ہو، اسے کھا کر اپنی عبادت گاہ کی طرف آنے سے منع فرما دیا جب کہ لہسن یا پیاز صحت کے لیے نقصان دہ بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو چیزیں جان کے لیے خطرہ ثابت ہوں ان کے استعمال کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟ جیسا کہ سگریٹ کے ہر ڈبے اور ہر نشہ آور چیز کے پیکٹ پر لکھا ہوتا ہے ’’تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے‘‘ اور جس مستند ڈاکٹر سے بھی پوچھ لیں وہ یہی کہے گا کہ پان، سگریٹ اور ایسی دیگر اشیاء منہ، گلے، پھیپھڑوں، سینے وغیرہ کا کینسراور ٹی بی جیسی مہلک بیماروں کا سبب بنتی ہیں۔
لہذا ایسی چیز کے استعمال سے ویسے بھی بچے.

 عَنْ اَبِي هُرَيْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِﷺ : مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُوْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے۔

مسلم، الصحيح، 1: 394، رقم: 563

احمد بن حنبل، المسند، 2: 266، رقم: 7599

عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ ﷲِ عَنْ اَکْلِ الْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَة فَاَکَلْنَا مِنْهَا فَقَالَ مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة الْمُنْتِنَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَة تَاَذَّی مِمَّا يَتَاَذَّی مِنْهُ الْإِنْسُ.

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ ہم نے ضرورت سے مغلوب ہو کر انہیں کھا لیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ان بدبودار درختوں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیوں کہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

مسلم، الصحیح، 1: 394، رقم: 564

احمد بن حنبل، المسند، 3: 374، رقم: 15056

معلوم ہوا انسانوں کی طرح فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف ہوتی ہے۔ لہٰذا جو شخص اپنے منہ اور باقی جسم کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا وہ انسانوں کو تکلیف دینےکے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف دیتا ہے۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے:

إِنَّ اَفْوَهَکُمْ طُرُقٌ لِلْقُرْانِ فَطَيِّبُوهَا بِالسِّوَاکِ.

تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں انہیں مسواک سے صاف کیا کرو۔

ابن ماجه، السنن، 1: 106، رقم: 291، دار الفکر بيروت.


اس سے معلوم ہوا کہ جب لہسن، پیاز کو استعمال کرکے مسجد سے دور رہنے کا ہمارے پیارے آقا ﷺ نے حکم دیا ہے تو ہم قرآن کی تلاوت اور درود شریف کے پڑھنے کے وقت بھی اس طرح کی ہر بدبودار چیزوں سے بچیں کیوں کہ یہ فرشتوں کی دوری اور انسانوں کی دوری کا سبب ہے.


واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد بلال
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 119:*
جانوروں کو بٹائی پر دینا کیسا ہے ؟
سائل : محمد خالد صابری جڑانوالہ
*جواب :*
جانوروں کو بٹائی پر دینے کی دو صورتیں ہیں :
1- جانوروں کو اس طرح بٹائی پر دینا کہ جانور اور ان کے بچے مالک کے ہی ہوں گے اور ان کو پالنے والے کو معین طے شدہ اجرت ملے گی تو یہ بالکل جائز ہے.
2- جانوروں کو اس طرح بٹائی پر دینا کہ ان کے جتنے بچے پیدا ہوں گے، دونوں آپس میں نصف نصف کرکے بانٹ لیں گے تو یہ صورت جائز نہیں ہے، اگر کسی نے ایسا کرلیا تو وہ جانور اور بچے مالک کے ہوں گے اور پالنے والے کو پالنے کی اتنی اجرت ملے گی جتنی وہاں کے عرف میں پالنے کی ہوتی ہے.
1- چنانچہ عمدۃ المحققین علامہ محمد شامی مصری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"اذا دفع البقرۃ بعلف فیکون الحادث بینھما نصفین فما حدث فھو لصاحب البقرۃ وللاخر مثل علفہ واجر مثلہ تاتارخانیہ"*
یعنی جب کسی نے (دوسرے کو) چارے پر گائے دی (اس شرط پر) کہ پیدا ہونے والا (بچہ) ان دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا تو جو بچہ پیدا ہوا پس وہ گائے کے مالک کیلئے ہوگا اور دوسرے کو اس کے چارے کی مثل اور اس کے کام کی مثل اجرت ملے گی.
*(فتاوی فیض الرسول جلد سوم صفحہ 220 بحوالہ ردالمحتار جلد سوم صفحہ 351)*
2- صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"گائے بھینس خرید کر دوسرے کو دے دیتے ہیں کہ اسے کھلائے پلائے جو کچھ دودھ ہوگا وہ دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا، یہ اجارہ بھی فاسد ہے، کل دودھ مالک کا ہے اور دوسرے کو اس کے کام کی اجرت مثل ملے گی اور جو کچھ اپنے پاس کھلایا ہے اس کی قیمت ملے گی اور گائے نے جو کچھ چرا ہے اس کا کوئی معاوضہ نہیں اور دوسرے نے جو کچھ دودھ صرف کرلیا ہے اتنا ہی دودھ مالک کو دے کہ دودھ مثلی چیز ہے."
*(بہارشریعت جلد 3 حصہ 14 صفحہ 150، 151 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
3- صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :
"بعض لوگ بکری بٹائی پر دیتے ہیں کہ جو کچھ بچے پیدا ہوں گے، دونوں نصف نصف لے لیں گے یہان اجارہ بھی فاسد ہے بچے اسی کے ہیں جس کی بکری ہے, دوسرے کو صرف اس کے کام کی اجرتِ مثل ملے گی."
*(بہار شریعت جلد 3 حصہ 14 صفحہ 151 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
4- فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ :
بہت سے لوگ گائے بکری یا مرغی اس شرط پر دوسرے کو دیتے ہیں کہ تم اس کی پرورش کرو بچے اور انڈے جس قدر ہوں گے وہ ہم لوگ آپس میں بانٹ لیں گے تو اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
آپ نے جواباً تحریر فرمایا :
"اس طرح کا معاملہ کرنا جائز نہیں۔"
*(فتاوی فیض الرسول جلد سوم صفحہ 219 شبیربرادرز لاہور)*
*نوٹ :*
اس کے جواز کا ایک آسان حیلہ یہ ہے کہ جانور جس شخص کو بٹائی پر دے رہے ہیں، اس سے جانور کی آدھی قیمت لے کر جانور میں آدھا شریک کرلیں یا نقد رقم نہ ہو تو ادھار پر شریک کرلیں تو اس حیلہ سے جانور پالنے کے بعد منافع میں دونوں آدھے آدھے کے شریک ہوجائیں گے اور جانور پالنے والے کو پورا حق ہوگا کہ جو چارہ خرید کر کھلایا ہے، اس کی آدھی قیمت جانور کو بٹائی پر دینے والے سے وصول کرلے.
لہذا اس حیلے کے بعد اگر چاہیں تو اپنے حصے کے جانور کے بچے لے لیں اور اس کے حصے کے اس کو اصل بٹائی والا جانور دے دیں.
اور اگر ادھار پر جانور بیچا ہوتو وہ رقم اس سے وصول کر لیں یا اس رقم کو لینے بدلے اس سے جانور یا اس کا بچہ خرید لیں. ۔
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے :
*"والحیلة فی جوازہ أن یبیع نصف البقرة منہ بثمن ویبرء ہ عنہ ثم یأمر باتخاذ اللبن والمصل فیکون بینہما الخ"*
اور اس کے جواز میں حیلہ یہ ہے کہ وہ اس کو ثمن (یعنی قیمت) کے بدلے آدھی گائے فروخت کر دے اور وہ اس سے بری ہوجائے پھر اس کو دودھ اور دودھ سے ٹپکا ہوا پانی لینے کا حکم دے، پس یہ (سب) ان دونوں کے درمیان (نصف نصف) ہوگا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الاجارہ، الفصل الثالث فی قفیز الطحان و فی معناہ، جلد 4 صفحہ 446 دارالفکر بیروت)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
21/08/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
آپ کے استفتاء ١١٩ کا جواب بالکل درست ہے اور بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین محمد عارف محمود معطر القادری عطاری غفرلہ الباری*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#عرس_قادری_رضوی ۲۴۴۱؁ھ ۱۰۲ واں سالانہ عرس رضوی #عرس_اعلی_حضرت 1442 25 صفر 1442 اکتوبر 2020 @islaamic_Knowledge عرس کا پروگرام جانشینِ تاج الشریعہ قائِدِ اہلِ‌سُنّت #مفتی_عسجد_رضا_خان_قادری صَاحَبۡ قِـبۡلَـہۡ دَامَـتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہۡ کے…
اصلاح معاشرہ اور امام احمد رضا
اعلیٰ حضرت کی ولادت سے قبل
" " دادا صاحب کی پیشن گوئی
تاریخ ولادت قرآن کریم سے نکالی
صالح باپ کی برکات کئی پشتوں

عالم طفل میں ... حاضر جوابی
احمد میاں تم آدمی ہو یا جن ؟
امام احمد رضا کی ایک جھلک ¹
امام احمد رضا کی ایک جھلک ²
سلام رضا مصطفیٰ جان رحمت
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #اعلی_حضرت 📜 ¹
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی