فارسی زبان میں ایک شعر ہے ؎
علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی !
اس کا اُردو میں مطلب ہے:
" علی پاک میرے امام ہیں ، اور میں علی پاک کا غلام ہوں ۔
میری ایک نہیں ، ہزار قیمتی جانیں بھی نامِ علی پر فِدا ۔ "
یہاں شاعر نے اِظہارِ مُدّعا کے لیے دو لفظوں کا انتخاب کیا ۔
پہلے مصرعے میں " منم " کہا ، اور دوسرے میں " گرامی " ۔
¹ مَنَم کا معنیٰ ہے: میں ہوں ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس لفظ کو وہاں بھی استعمال کیا جاتا ہے جہاں اپنی بڑائی بیان کرنا مقصود ہو ۔
گویا شاعر یہاں منم لا کر بتارہاہے:
علی پاک کا امام ہونا ، اور میرا غلام ہونا ، کسی شرف سے کم نہیں ؛ یہ میرے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ۔
² گرامی کا مطلب ہے: قیمتی ۔
یہاں اس کے دو مطلب لیے جاسکتے ہیں ۔
پہلا یہ کہ:
مولاعلی کی غلامی اتنی عظیم تھی کہ جب مجھے میسر آئی تو میری جان گرامی ( قیمتی اور بیش بہا ) ہوگئی ۔
اب میرا جی چاہتا ہے کہ ایسی قیمتی ایک جان نہیں ، ہزاروں جانیں بھی ہوں تو اس سرکار کے نام پر قربان کردوں ۔
دوسرا یہ کہ:
علی پاک کےنام پر ایک جان سے نہیں ، ہزار قیمتی جانوں سے قربان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے آپ کی غلامی کی صورت میں رب تعالیٰ نے کتنی بڑی دولت عطا فرمائی !!
علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی
✍️لقمان شاہد
21-9-2020 ء
علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی !
اس کا اُردو میں مطلب ہے:
" علی پاک میرے امام ہیں ، اور میں علی پاک کا غلام ہوں ۔
میری ایک نہیں ، ہزار قیمتی جانیں بھی نامِ علی پر فِدا ۔ "
یہاں شاعر نے اِظہارِ مُدّعا کے لیے دو لفظوں کا انتخاب کیا ۔
پہلے مصرعے میں " منم " کہا ، اور دوسرے میں " گرامی " ۔
¹ مَنَم کا معنیٰ ہے: میں ہوں ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس لفظ کو وہاں بھی استعمال کیا جاتا ہے جہاں اپنی بڑائی بیان کرنا مقصود ہو ۔
گویا شاعر یہاں منم لا کر بتارہاہے:
علی پاک کا امام ہونا ، اور میرا غلام ہونا ، کسی شرف سے کم نہیں ؛ یہ میرے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ۔
² گرامی کا مطلب ہے: قیمتی ۔
یہاں اس کے دو مطلب لیے جاسکتے ہیں ۔
پہلا یہ کہ:
مولاعلی کی غلامی اتنی عظیم تھی کہ جب مجھے میسر آئی تو میری جان گرامی ( قیمتی اور بیش بہا ) ہوگئی ۔
اب میرا جی چاہتا ہے کہ ایسی قیمتی ایک جان نہیں ، ہزاروں جانیں بھی ہوں تو اس سرکار کے نام پر قربان کردوں ۔
دوسرا یہ کہ:
علی پاک کےنام پر ایک جان سے نہیں ، ہزار قیمتی جانوں سے قربان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے آپ کی غلامی کی صورت میں رب تعالیٰ نے کتنی بڑی دولت عطا فرمائی !!
علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی
✍️لقمان شاہد
21-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#بڑھتا_الحاد_اور_ہماری_ذمہ_داری
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
الحاد اور بے دینی ایسے لفظ ہیں جن کو سنتے ہی ذہن منتشر ہونے لگتا ہے، عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے یہ دیکھ کر کہ کیسے لوگ غفلت اور لالچ کی بھینٹ چڑھ کر ایمان جیسی قیمتی شی سے ہاتھ دھوتے جارہے ہیں۔ آئیے ہم ایمان اور الحاد کے درمیان کا فرق اور مسلموں میں اس کی شرح آج کیوں بڑھ رہی ہے اس کو سمجھتے ہیں، سب سے پہلے ہم بیان کریں گے کہ ایمان کیا ہے؟ اور اس کے تقاضے کیا ہیں؟.
#ایمان_کیا_ہے؟
ایمان کی لغوی تعریف: ایمان عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا مادہ ’’ا۔ م۔ ن‘‘ (امن) سے مشتق ہے۔ لغت کی رو سے کسی خوف سے محفوظ ہو جانے، دل کے مطمئن ہو جانے اور انسان کے خیر و عافیت سے ہمکنار ہونے کو امن کہتے ہیں۔
(لسان العرب)
ایمان کی اصلاحی تعریف:
الاىمان: "ھو التصدیق بما جاء بهٖ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من عند الله ضرورۃً"
مذہب اسلام کے مطابق ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بھی نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ کی طرف لائے اس کی تصدیق کرنا۔
#الحاد_کیا_ہے؟
الحاد/Atheism)
الحاد کا عربی زبان میں لغوی معنی انحراف یا راستے سے ہٹ جانا ہے۔الحاد کو انگریزی زبان میں atheism کہا جاتا ہے جس کا اردو زبان میں مطلب لامذبیت یا لادینیت لیا جاتا ہے۔الحاد اسلامی مضامین میں استعمال کی جانے والی ایک اصطلاح ہے جو کافروں(خدا کے ناماننے والوں) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
(ملحد/Atheist)
الحاد کے پیروکاروں کو ملحد،دہریے،مادیت پرست یا atheists بھی کہا جاتا ہے۔الحاد کے ماننے والوں کی تعداد ماہرین سماجیات Ariela Keysar کے الحاد پر متعدد عالمی مطالعہ اور Juhem Navarro rivera کے جائزے کے مطابق،ایک ارب ملحد اور agnostics دنیا بھر میں ہیں(دنیا کی آبادی کا 7 فیصد)،اور دنیا میں سب سے زیادہ ملحد چین میں ہیں جن کی تعداد 40 کروڑ ہے۔
(عقائد/Beliefs)
ملحدین کا خیال ہے کہ دنیا کسی خدا نے نہیں بنائی بلکہ خودبخود وجود میں آئی ہے یا پھر پہلے سے موجود تھی اور مختلف اشکال میں ہمیشہ موجود رہے گی۔ ملحدین صرف ان باتوں پر یقین کرتے ہیں جن کا کوئی عقلی یا سائنسی ثبوت ہو۔ اس کے علاوہ سائنس اور دنیاوی علوم کو ہی سب کچھ مانتے ہیں۔ مذہبی قیود کے سخت خلاف ہوتے ہیں۔
الحاد یا دہریت کا عالمی دن 17 مارچ ہے جس کی شروعات 2013 میں ہوئی.(2013-03-17)
(ویکیپیڈیا)
جس طرح مذہب ہمیشہ سے ہے اسی طرح مذہب کا انکار کرنے والے بھی شروع سے رہے ہیں لیکن یہ کبھی زور نہیں پا سکے۔ دنیا بھر میں یا تو موحدین رہے یا مشرکین۔
چند مشہور فلسفیوں اور ان کے معتقدین کو چھوڑ کر الحاد کہیں اور نہ پھیل سکا۔
#الحاد_کا_ارتقاء:
انیسویں صدی میں جب چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو مقبولیت حاصل ہوئی توگویا الحاد نے ایک مذہب کی صورت اختیار کر لی۔ اور بڑی تیزی سے مذہب کی پابندیوں سے آزادی کے خواہاں اس قافلہ میں شریک ہونے لگے۔
الحاد ابتداءً اسلام کے سامنے بالکل ناکام و نامراد رہا مگر اب مادیت پرستی کے دور میں دینی علوم سے ناآشنا مسلموں میں بھی تیزی سے الحاد بڑھ رہا ہے۔
الحاد نے کئی چولے بدلے اور مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے جانا گیا؛ انہیں ناموں میں سے مشہور نام کمیونزم اور سیکولرزم ہیں.
کارل مارکس اور اس کے ساتھی فریڈرک اینجلز (جو بہت بڑا ملحد فلسفی تھا) کے مشترکہ نظریے نے کمیونسٹ انقلاب برپا کیا، جس نے یکلخت ملحدوں کی تعداد لاکھوں کے ہندسے سے نکال کر کروڑوں تک پہنچا دی۔
#اہل_ایمان_میں_الحاد_کیسے_ایا؟
جیسا کہ ماقبل میں ذکر ہوا کہ الحاد مسلمانوں میں بالکل بے اثر رہا اور جب ملحدین نے یہ دیکھا کہ اسلام کے متبعین پر اس کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے تو انہوں نے بڑی چالاکی اور ہشیاری سے دنیاوی تعلیم کے بڑے ادارے قائم کیے جن میں سیکولرزم جیسا خوبصورت نام رکھ کر الحاد کو پروسا گیا اور لوگ اعلی تعلیم کے خواب میں ان اداروں میں جاتے رہے اور انجانے میں الحاد کا شکار ہوتے رہے۔
ساتھ ہی انہوں نے مرد و زن کی مخلوط تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا تاکہ نفس کے پرستار اس جال سے نکل ہی نہ سکیں۔ اور ہماری آنکھیں اس بات کی گواہ ہیں کہ اعلی تعلیم کے نام پر جو ادارے قائم کیے گئے انہوں نے الحاد کو گھر گھر تک پہنچایا، یہاں تک کہ علما کے بچے بھی پکے ملحد دیکھے گئے۔
اس بعد وہ تمام افراد جو آزادی چاہتے ہیں گناہ کرنے کی جو کہ مذہب انہیں ہرگز نہیں دے سکتا تو ایسے افراد نے بھی الحاد اور لادینیت کا سہارا لیا اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کے لیے، کیوں کہ اگر دین کو اپنے گلے کا طوق بنائیں گے تو دین جن باتوں سے روکتا ہے ان سے باز رہنا پڑے گا اور جن باتوں کا حکم دیتا ہے ان کی تعمیل کرنی ہوگی؛ مگر الحاد ان تمام چیزوں سے بے نیاز ہے۔ جو آپ کا دل کرے آپ کرتے جائیں کوئی بندش نہیں، کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہیں۔
اگر دین کو مانیں گے تو دین کے احکام کو بھی ماننا پڑے گا جو کہ من مانی کی راہ میں سب سے بڑا
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
الحاد اور بے دینی ایسے لفظ ہیں جن کو سنتے ہی ذہن منتشر ہونے لگتا ہے، عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے یہ دیکھ کر کہ کیسے لوگ غفلت اور لالچ کی بھینٹ چڑھ کر ایمان جیسی قیمتی شی سے ہاتھ دھوتے جارہے ہیں۔ آئیے ہم ایمان اور الحاد کے درمیان کا فرق اور مسلموں میں اس کی شرح آج کیوں بڑھ رہی ہے اس کو سمجھتے ہیں، سب سے پہلے ہم بیان کریں گے کہ ایمان کیا ہے؟ اور اس کے تقاضے کیا ہیں؟.
#ایمان_کیا_ہے؟
ایمان کی لغوی تعریف: ایمان عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا مادہ ’’ا۔ م۔ ن‘‘ (امن) سے مشتق ہے۔ لغت کی رو سے کسی خوف سے محفوظ ہو جانے، دل کے مطمئن ہو جانے اور انسان کے خیر و عافیت سے ہمکنار ہونے کو امن کہتے ہیں۔
(لسان العرب)
ایمان کی اصلاحی تعریف:
الاىمان: "ھو التصدیق بما جاء بهٖ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من عند الله ضرورۃً"
مذہب اسلام کے مطابق ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بھی نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ کی طرف لائے اس کی تصدیق کرنا۔
#الحاد_کیا_ہے؟
الحاد/Atheism)
الحاد کا عربی زبان میں لغوی معنی انحراف یا راستے سے ہٹ جانا ہے۔الحاد کو انگریزی زبان میں atheism کہا جاتا ہے جس کا اردو زبان میں مطلب لامذبیت یا لادینیت لیا جاتا ہے۔الحاد اسلامی مضامین میں استعمال کی جانے والی ایک اصطلاح ہے جو کافروں(خدا کے ناماننے والوں) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
(ملحد/Atheist)
الحاد کے پیروکاروں کو ملحد،دہریے،مادیت پرست یا atheists بھی کہا جاتا ہے۔الحاد کے ماننے والوں کی تعداد ماہرین سماجیات Ariela Keysar کے الحاد پر متعدد عالمی مطالعہ اور Juhem Navarro rivera کے جائزے کے مطابق،ایک ارب ملحد اور agnostics دنیا بھر میں ہیں(دنیا کی آبادی کا 7 فیصد)،اور دنیا میں سب سے زیادہ ملحد چین میں ہیں جن کی تعداد 40 کروڑ ہے۔
(عقائد/Beliefs)
ملحدین کا خیال ہے کہ دنیا کسی خدا نے نہیں بنائی بلکہ خودبخود وجود میں آئی ہے یا پھر پہلے سے موجود تھی اور مختلف اشکال میں ہمیشہ موجود رہے گی۔ ملحدین صرف ان باتوں پر یقین کرتے ہیں جن کا کوئی عقلی یا سائنسی ثبوت ہو۔ اس کے علاوہ سائنس اور دنیاوی علوم کو ہی سب کچھ مانتے ہیں۔ مذہبی قیود کے سخت خلاف ہوتے ہیں۔
الحاد یا دہریت کا عالمی دن 17 مارچ ہے جس کی شروعات 2013 میں ہوئی.(2013-03-17)
(ویکیپیڈیا)
جس طرح مذہب ہمیشہ سے ہے اسی طرح مذہب کا انکار کرنے والے بھی شروع سے رہے ہیں لیکن یہ کبھی زور نہیں پا سکے۔ دنیا بھر میں یا تو موحدین رہے یا مشرکین۔
چند مشہور فلسفیوں اور ان کے معتقدین کو چھوڑ کر الحاد کہیں اور نہ پھیل سکا۔
#الحاد_کا_ارتقاء:
انیسویں صدی میں جب چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو مقبولیت حاصل ہوئی توگویا الحاد نے ایک مذہب کی صورت اختیار کر لی۔ اور بڑی تیزی سے مذہب کی پابندیوں سے آزادی کے خواہاں اس قافلہ میں شریک ہونے لگے۔
الحاد ابتداءً اسلام کے سامنے بالکل ناکام و نامراد رہا مگر اب مادیت پرستی کے دور میں دینی علوم سے ناآشنا مسلموں میں بھی تیزی سے الحاد بڑھ رہا ہے۔
الحاد نے کئی چولے بدلے اور مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے جانا گیا؛ انہیں ناموں میں سے مشہور نام کمیونزم اور سیکولرزم ہیں.
کارل مارکس اور اس کے ساتھی فریڈرک اینجلز (جو بہت بڑا ملحد فلسفی تھا) کے مشترکہ نظریے نے کمیونسٹ انقلاب برپا کیا، جس نے یکلخت ملحدوں کی تعداد لاکھوں کے ہندسے سے نکال کر کروڑوں تک پہنچا دی۔
#اہل_ایمان_میں_الحاد_کیسے_ایا؟
جیسا کہ ماقبل میں ذکر ہوا کہ الحاد مسلمانوں میں بالکل بے اثر رہا اور جب ملحدین نے یہ دیکھا کہ اسلام کے متبعین پر اس کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے تو انہوں نے بڑی چالاکی اور ہشیاری سے دنیاوی تعلیم کے بڑے ادارے قائم کیے جن میں سیکولرزم جیسا خوبصورت نام رکھ کر الحاد کو پروسا گیا اور لوگ اعلی تعلیم کے خواب میں ان اداروں میں جاتے رہے اور انجانے میں الحاد کا شکار ہوتے رہے۔
ساتھ ہی انہوں نے مرد و زن کی مخلوط تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا تاکہ نفس کے پرستار اس جال سے نکل ہی نہ سکیں۔ اور ہماری آنکھیں اس بات کی گواہ ہیں کہ اعلی تعلیم کے نام پر جو ادارے قائم کیے گئے انہوں نے الحاد کو گھر گھر تک پہنچایا، یہاں تک کہ علما کے بچے بھی پکے ملحد دیکھے گئے۔
اس بعد وہ تمام افراد جو آزادی چاہتے ہیں گناہ کرنے کی جو کہ مذہب انہیں ہرگز نہیں دے سکتا تو ایسے افراد نے بھی الحاد اور لادینیت کا سہارا لیا اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کے لیے، کیوں کہ اگر دین کو اپنے گلے کا طوق بنائیں گے تو دین جن باتوں سے روکتا ہے ان سے باز رہنا پڑے گا اور جن باتوں کا حکم دیتا ہے ان کی تعمیل کرنی ہوگی؛ مگر الحاد ان تمام چیزوں سے بے نیاز ہے۔ جو آپ کا دل کرے آپ کرتے جائیں کوئی بندش نہیں، کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہیں۔
اگر دین کو مانیں گے تو دین کے احکام کو بھی ماننا پڑے گا جو کہ من مانی کی راہ میں سب سے بڑا
و نہ ہماری نسلوں میں ملحد ہوتے، نہ بد عقیدہ، نہ ہی بے نمازی آزاد خیال۔ بلکہ ہمارے بچے دنیاوی اعلی تعلیم کے ساتھ دینی اعلی تعلیم عملی اور اخلاقی قدروں کے ساتھ سیکھتے۔
#ایمان_سب_سے_بڑی_دولت_ہے:
میں اپنی قوم کے مفکرین، اہل وسائل اور ذی وقار شخصیات سے فریاد کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اپنی آنے والی نسلوں کو گمراہی، بد عملی اور الحاد و لادینیت جیسی بلاؤں سے محفوظ رکھنا چاہتے تو ایسے تعلیمی ادارے قائم کرو جن میں مرد و زن کی مخلوط تعلیم تو نہ ہو مگر دینی اور دنیاوی تعلیم کا بہترین سنگم ضرور ہو۔ تاکہ وہ بچہ جسے ہم ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل بنانا چاہتے ہیں وہ دینی اور مذہبی اقدار سے غافل نہ ہو بلکہ وہ دنیوی تعلیم کے ساتھ اعلی دینی تعلیم کے ساتھ ان پر عمل پیرا بھی ہو۔
پیارے بھائیو! ایمان سب سے بڑی دولت ہے اگر دنیاوی تعلیم دلانے کے چکر میں آپ نے اپنے بچے کو دین سے دور کردیا اور وہ بچہ غیر مسلموں کے اسکولوں اور کالجوں پڑھ کر سورج کو پوجنے لگا، تعلیم کی دیوی کی پرستش کرنے لگا یا عیسائیوں کے اسکولوں میں پڑھ کر دین بیزار ہوگیا تو اللہ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟؟؟
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
نائب صدر: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
14 ستمبر 2020
#ایمان_سب_سے_بڑی_دولت_ہے:
میں اپنی قوم کے مفکرین، اہل وسائل اور ذی وقار شخصیات سے فریاد کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اپنی آنے والی نسلوں کو گمراہی، بد عملی اور الحاد و لادینیت جیسی بلاؤں سے محفوظ رکھنا چاہتے تو ایسے تعلیمی ادارے قائم کرو جن میں مرد و زن کی مخلوط تعلیم تو نہ ہو مگر دینی اور دنیاوی تعلیم کا بہترین سنگم ضرور ہو۔ تاکہ وہ بچہ جسے ہم ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل بنانا چاہتے ہیں وہ دینی اور مذہبی اقدار سے غافل نہ ہو بلکہ وہ دنیوی تعلیم کے ساتھ اعلی دینی تعلیم کے ساتھ ان پر عمل پیرا بھی ہو۔
پیارے بھائیو! ایمان سب سے بڑی دولت ہے اگر دنیاوی تعلیم دلانے کے چکر میں آپ نے اپنے بچے کو دین سے دور کردیا اور وہ بچہ غیر مسلموں کے اسکولوں اور کالجوں پڑھ کر سورج کو پوجنے لگا، تعلیم کی دیوی کی پرستش کرنے لگا یا عیسائیوں کے اسکولوں میں پڑھ کر دین بیزار ہوگیا تو اللہ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟؟؟
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
نائب صدر: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
14 ستمبر 2020
روڑا ہیں جیسے:
کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ
ترجمہ: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
(سورة آل عمران: 110)
یا جیسے:
اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَ الۡاِحۡسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ یَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۹۰﴾
ترجمہ: بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف، نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا۔ اور منع فرماتابے حیائی، برُی بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو.
(سورة النحل: 90)
یا
وَ لَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ؕ وَ سَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾
ترجمہ: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے ، اور بہت ہی بری راہ.
(سورة بنی اسراءیل: 32)
اور ان احکام کو ماننے کے لیے دین کی سمجھ اور دین سے محبت ضروری ہے جو ان سیکولر اسکول، کالج یا یونیورسٹی کے پڑھے لوگوں میں نہیں ہوتی اسی لیے وہ الحاد کی طرف چلے جاتے ہیں۔
یہ ساری لادینیت جو بڑھتی جارہی ہے اس کے ذمہ دار عیسائیوں اور یہودیوں کے یا ان کی فکر پر کام کرنے والے اعلی تعلیمی ادارے ہیں جن میں اعلی تعلیم کے نام پر مذہب بیزاری کا سبق دیا جاتا ہے؛ اور مساوات کے نام پر مخلوط تعلیم کی آڑ میں نفس پرستی اور گناہوں کی کھلی چھوٹ دے کر دل کالے کیے جاتے ہیں۔
جیسا کہ لارڈ میکالے کا بیان ہے کہ:
"ان تعلیمی اداروں میں مسلمان عیسائی نہ بھی بنیں گے تو کم ازکم مسلمان بھی نہ رہیں گے
یعنی سیکولر لادین، نیچری اور ملحد بن جائیں گے".
اہل فراست اس چیز کو بیت پہلے ہی سمجھ گئے تھے اسی لیے تو اقبال اس مفہوم کی ترجمانی یوں کرتے ہیں:
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا "الحاد" بھی ساتھ
الحاد سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟
خاص کر ملک ہند میں آزادی کے بعد علما نے تعلیمی میدان کافی حد تک اپنا کام کیا اور ہر شہر ہر گاؤں میں مدارس کا قیام کیا تاکہ دینی تعلیم سے مسلمان بہراور ہوتے رہیں۔
مگر دنیاوی تعلیم یافتہ طبقہ نے اس کے مقابل اسکول اور کالیجیز قائم نہیں کیے، اگر وہ بھی اسی طرح یہ سلسلہ جاری رکھتے تو شاید الحاد اس تیزی کے ساتھ نہ پھیلتا۔
اور ایک بڑی لغزش دونوں طبقوں سے یہ ہوئی کہ ان دونوں تعلیموں کو ساتھ لانے کی اتنی کوشش نہیں کی جتنی ضروری تھی۔ اگر مدرسہ میں جانے والا دنیاوی تعلیم سے بھی آشنا ہوتا یا اسکول جانے والا ضروری دینی تعلیم سے بھی واقفیت رکھتا تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔
دونوں طبقوں کے مابین وقت کے ساتھ دوری بڑھتی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ایک دوسرے کو قبول کرنا ہی نہیں چاہتے۔
"البرکات" کا ایک یادگار واقعہ:
دوسال قبل حضرت سید امان میاں صاحب قبلہ کی دعوت پر تقریباً پندرہ روز "البرکات" میں قیام رہا، اس دوران کافی کچھ یادگار لمحے آئے مگر ایک ایسا لمحہ بھی آیا کہ جس کو میں بھول ہی نہیں سکتا.
رمضان کا مہینہ تھا اور البرکات پبلک اسکول کے امتحانات چل رہے تھے شاید، جب ہم سحری کے وقت ڈائننگ ہال میں جاتے تو تعجب ہوتا کہ "البرکات پبلک اسکول" میں پڑھنے والے چھوٹے چھوٹے بچے بھی روزہ رکھنے کے لیے سحری کھانے آتے اور ہر نماز میں پہلے سے موجود رہتے۔ غالباً دسواں روزہ تھا (اور ایسی شدید گرمی کے روزے تھے جن میں بڑے بڑے بھی روزہ نہ رکھنے کا بہانہ تلاش کرتے ہیں.) فجر کی اذان ہو چکی تھی اور میں جماعت کے انتظار میں مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا تھا، اسی دوران ایک چھوٹا سا بچہ (جس کی عمر میرے اندازے کے مطابق دس یا گیارہ سال رہی ہوگی.) میرے قریب آکر بیٹھا اور سلام کیا جواب کے بعد اس نے ایک مسئلہ دریافت کیا (جس کو سنتے ہی میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل ائے۔) کہ "آج میں سحری میں نہیں پہنچ سکا تو کیا بغیر سحری کا روزہ ہوسکتا ہے؟"
میں نے اس کو نیچے سے اوپر تک دیکھا اور کہا: "بیٹا بہت گرمی ہوتی ہے اور ابھی تم پر روزہ فرض بھی نہیں لہذا اگر سحری نہیں کی تو آج روزہ مت رکھو"۔ اس نے کہا: "میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں اگر ہوجائے تو رکھوں گا". میں نے کہا: "روزہ تو ہوجائے گا". اس کے چہرے پر خوشی کے آثار صاف دیکھے جاسکتے تھے۔
عصر کی نماز میں اس بچے کو دیکھا تو اس کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا، میں اس کے قریب گیا اور پوچھا: "بھوک لگ رہی ہے کیا؟" تو بڑا معصومانہ جواب تھا "بھوک تو نہیں لگی بس تھوڑی پیاس لگی ہے". میں نے کہا :صبر کرو! اب تھوڑا وقت بچا ہے اللہ بڑا اجر دیگا"۔ اور اس بچے کے لیے دل سے دعائیں نکلیں کہ یا اللہ!!! اس بچے کو کامیابیوں کی منزلیں طے کرادے۔
#قابل_توجہ_امر:
کاش البرکات پبلک اسکول جیسے ہزاروں اسکول ہمارے پاس ہوتے ت
کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ
ترجمہ: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
(سورة آل عمران: 110)
یا جیسے:
اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَ الۡاِحۡسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ یَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۹۰﴾
ترجمہ: بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف، نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا۔ اور منع فرماتابے حیائی، برُی بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو.
(سورة النحل: 90)
یا
وَ لَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ؕ وَ سَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾
ترجمہ: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے ، اور بہت ہی بری راہ.
(سورة بنی اسراءیل: 32)
اور ان احکام کو ماننے کے لیے دین کی سمجھ اور دین سے محبت ضروری ہے جو ان سیکولر اسکول، کالج یا یونیورسٹی کے پڑھے لوگوں میں نہیں ہوتی اسی لیے وہ الحاد کی طرف چلے جاتے ہیں۔
یہ ساری لادینیت جو بڑھتی جارہی ہے اس کے ذمہ دار عیسائیوں اور یہودیوں کے یا ان کی فکر پر کام کرنے والے اعلی تعلیمی ادارے ہیں جن میں اعلی تعلیم کے نام پر مذہب بیزاری کا سبق دیا جاتا ہے؛ اور مساوات کے نام پر مخلوط تعلیم کی آڑ میں نفس پرستی اور گناہوں کی کھلی چھوٹ دے کر دل کالے کیے جاتے ہیں۔
جیسا کہ لارڈ میکالے کا بیان ہے کہ:
"ان تعلیمی اداروں میں مسلمان عیسائی نہ بھی بنیں گے تو کم ازکم مسلمان بھی نہ رہیں گے
یعنی سیکولر لادین، نیچری اور ملحد بن جائیں گے".
اہل فراست اس چیز کو بیت پہلے ہی سمجھ گئے تھے اسی لیے تو اقبال اس مفہوم کی ترجمانی یوں کرتے ہیں:
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا "الحاد" بھی ساتھ
الحاد سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟
خاص کر ملک ہند میں آزادی کے بعد علما نے تعلیمی میدان کافی حد تک اپنا کام کیا اور ہر شہر ہر گاؤں میں مدارس کا قیام کیا تاکہ دینی تعلیم سے مسلمان بہراور ہوتے رہیں۔
مگر دنیاوی تعلیم یافتہ طبقہ نے اس کے مقابل اسکول اور کالیجیز قائم نہیں کیے، اگر وہ بھی اسی طرح یہ سلسلہ جاری رکھتے تو شاید الحاد اس تیزی کے ساتھ نہ پھیلتا۔
اور ایک بڑی لغزش دونوں طبقوں سے یہ ہوئی کہ ان دونوں تعلیموں کو ساتھ لانے کی اتنی کوشش نہیں کی جتنی ضروری تھی۔ اگر مدرسہ میں جانے والا دنیاوی تعلیم سے بھی آشنا ہوتا یا اسکول جانے والا ضروری دینی تعلیم سے بھی واقفیت رکھتا تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔
دونوں طبقوں کے مابین وقت کے ساتھ دوری بڑھتی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ایک دوسرے کو قبول کرنا ہی نہیں چاہتے۔
"البرکات" کا ایک یادگار واقعہ:
دوسال قبل حضرت سید امان میاں صاحب قبلہ کی دعوت پر تقریباً پندرہ روز "البرکات" میں قیام رہا، اس دوران کافی کچھ یادگار لمحے آئے مگر ایک ایسا لمحہ بھی آیا کہ جس کو میں بھول ہی نہیں سکتا.
رمضان کا مہینہ تھا اور البرکات پبلک اسکول کے امتحانات چل رہے تھے شاید، جب ہم سحری کے وقت ڈائننگ ہال میں جاتے تو تعجب ہوتا کہ "البرکات پبلک اسکول" میں پڑھنے والے چھوٹے چھوٹے بچے بھی روزہ رکھنے کے لیے سحری کھانے آتے اور ہر نماز میں پہلے سے موجود رہتے۔ غالباً دسواں روزہ تھا (اور ایسی شدید گرمی کے روزے تھے جن میں بڑے بڑے بھی روزہ نہ رکھنے کا بہانہ تلاش کرتے ہیں.) فجر کی اذان ہو چکی تھی اور میں جماعت کے انتظار میں مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا تھا، اسی دوران ایک چھوٹا سا بچہ (جس کی عمر میرے اندازے کے مطابق دس یا گیارہ سال رہی ہوگی.) میرے قریب آکر بیٹھا اور سلام کیا جواب کے بعد اس نے ایک مسئلہ دریافت کیا (جس کو سنتے ہی میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل ائے۔) کہ "آج میں سحری میں نہیں پہنچ سکا تو کیا بغیر سحری کا روزہ ہوسکتا ہے؟"
میں نے اس کو نیچے سے اوپر تک دیکھا اور کہا: "بیٹا بہت گرمی ہوتی ہے اور ابھی تم پر روزہ فرض بھی نہیں لہذا اگر سحری نہیں کی تو آج روزہ مت رکھو"۔ اس نے کہا: "میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں اگر ہوجائے تو رکھوں گا". میں نے کہا: "روزہ تو ہوجائے گا". اس کے چہرے پر خوشی کے آثار صاف دیکھے جاسکتے تھے۔
عصر کی نماز میں اس بچے کو دیکھا تو اس کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا، میں اس کے قریب گیا اور پوچھا: "بھوک لگ رہی ہے کیا؟" تو بڑا معصومانہ جواب تھا "بھوک تو نہیں لگی بس تھوڑی پیاس لگی ہے". میں نے کہا :صبر کرو! اب تھوڑا وقت بچا ہے اللہ بڑا اجر دیگا"۔ اور اس بچے کے لیے دل سے دعائیں نکلیں کہ یا اللہ!!! اس بچے کو کامیابیوں کی منزلیں طے کرادے۔
#قابل_توجہ_امر:
کاش البرکات پبلک اسکول جیسے ہزاروں اسکول ہمارے پاس ہوتے ت
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 244:*
کیا ہئیر ٹرانسپلانٹ کرانا (یعنی اپنے سر کے پیچھے کے بال سر کے اگلے حصے پر لگوانا) جائز ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
اس طرح ہیئر ٹرانسپلانٹ کرانا کہ اپنے سر کے اگلے حصے پر سر کے پچھلے حصے کے بال یا کسی دوسرے انسان یا خنزیر کے بال لگوا رہا ہے تو یہ ناجائز و حرام ہے، البتہ اگر کوئی آرٹیفشل (یعنی نقلی) بال لگوائے یا خنزیر کے علاوہ کسی اور جانور کے بال لگوائے تو پھر جائز ہے، کتے کے بال لگوانا اگرچہ جائز ہیں لیکن اس کے بارے ميں علمائے کرام کا شدید اختلاف ہے، اس لیے کتے کے بالوں کو نہ لگوانا بہتر ہے۔
چنانچہ علامہ زین الدین بن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"وَ شَعْرِ الْإِنْسَانِ وَالِانْتِفَاعِ بِهِ لَمْ يَجُزْ بَيْعُهُ وَالِانْتِفَاعُ بِهِ لِأَنَّ الْآدَمِيَّ مُكَرَّمٌ غَيْرُ مُبْتَذَلٍ فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ أَجْزَائِهِ مُهَانًا مُبْتَذَلًا، وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَ الْمُسْتَوْصِلَةَ» وَإِنَّمَا يُرَخَّصُ فِيمَا يُتَّخَذُ مِنْ الْوَبَرِ فَيَزِيدُ فِي قُرُونِ النِّسَاءِ وَ ذَوَائِبِهِنَّ"*
یعنی انسان کے بالوں کی خرید و فروخت اور اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے کیونکہ آدمی محترم ہے اس کے کسی جزء کو استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
"اللہ پاک ایسی عورت پر لعنت بھیجتا ہے جو اپنے بالوں میں (انسان یا خنزیر کے) بال ملاتی ہے یا ملواتی ہے۔"
ہاں عورت کا اپنے مینڈھیوں میں جانوروں کے بالوں کو استعمال کرنے میں رخصت ہے۔"
*(البحر الرائق كتاب البيوع باب بیع الفاسد جلد 6 صفحہ 88 مطبوعہ دار الكتاب الاسلامی بیروت)*
2-علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف ابن ھمام رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"(لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ) وَھٰذَا اللَّعْنُ لِلْاِنْتِفَاعِ بِمَا لاَیَحِلُّ الْاِنْتِفَاعُ بِہٖ، اَلاَ تَرَی اَنَّہٗ رَخَّصَ فِیْ اِتِّخَاذِ الْقَرَامِیْلِ وَھُوَمَایُتَّخَذُ مِنَ الْوَبَرِ لِیَزِیْدَ فِی قُرُوْنِ النِّسَاءِ لِلتَّکْثِیْرِ ، فَظَھَرَ اَنَّ اللَّعْنَ لَیْسَ لِلتَّکْثِیْرِ مَعَ عَدَمِ الْکَثْرَةِ وَاِلاَّ لَمَنَعَ الْقَرَامِیْلُ وَلاَشَکَّ اَنَّ الزِّیْنَةَ حَلاَلࣨ،*
*قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ : قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَالَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ، فَلَو ْلاَلُزُوْمُ الْاِھَانَةِ بِالْاِسْتِعْمَالِ لَحَلَّ وَصْلُھَا بِشُعُوْرِ النِّسَاءِ اَیْضاً"*
یعنی (لعن اللہ الواصلة والمستوصلة) یہ لعنت اس انتفاع کیلیے ہے جس کے ساتھ انتفاع حلال نہیں، کیا تو نہیں دیکھتا کہ شرع نے موباف (جانوروں کے بالوں) کو ملانے میں رخصت دی ہے اور یہ اونٹ اور خرگوش وغیرہ کے بالوں سے بنایا جاتا ہے، تاکہ وہ عورتوں کی مینڈھیوں میں بالوں کو زیادہ کرنے کیلیے زیادتی کرے پس ظاہر ہوگیا کہ لعنت کم بالوں کے ساتھ بالوں کو زیادہ کرنے کیلیے نہیں ورنہ موباف (جانوروں کے بال) بھی ضرور منع ہوتے، اور کوئی شک نہیں کہ زینت حلال ہے،
اللہ تعالی نے فرمایا :
"تم فرماؤ کس نےحرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کیلیے نکالی."
پس اگر (انسانوں کے بالوں کو) استعمال کرنے کے ساتھ اہانت لازم نہ آتی تو بالوں کو عورتوں کے بالوں کے ساتھ ملانا بھی ضرور حلال ہوتاـ
*(فتح القدیر، البیع الفاسد، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"وَاِنَّمَا الرُّخْصَةُ فِی شَعْرِ غَیْرِ بَنِیْ اٰدَمَ تَتَّخِذُہٗ الْمَرْاَةُ لِتَزِیْدَ فِیْ قُرُوْنِھَا"*
یعنی بنی آدم (انسانوں) کے بالوں کے علاوہ میں ہی رخصت ہے جن کو عورت ملاتی ہے تاکہ عورت اپنی مینڈھیوں (گیسیوں) میں اضافہ کرسکےـ
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، فصل فی النظر و اللمس، جلد 9، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"انسان کے بال کی بیع درست نہیں اور انہیں کام میں لانا بھی جائز نہیں، مثلاً ان کی چوٹیاں بنا کر عورتیں استعمال کریں حرام ہے، حدیث میں اس پر لعنت فرمائی۔"
*(بہارِ شریعت جلد 2 صفحہ 700 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
فتاوی یورپ میں ہے :
زنده یا مرده انسانوں کے بالوں سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا ممنوع و ناجائز ہے اور اس کا کھانا پینا احتراماً و اکراماً حرام ہے، اسی طرح اس کی خرید و فروخت اور اس کا کاروبار ناجائز ہے۔
البحرالرائق میں ہے :
*"شعر الانسان و الانتفاع بہ ای لم یجز بیعہ و الانتفاع بہ لان الآدمی مکرم"*
انسانی بال سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا (خواہ وہ کھانے پینے سے متعلق ہو یا خریدو فروخت سے) جائز نہیں ہے کیونکہ انسان اپنے تمام اعضاء انسانی کے ساتھ لائقِ تعظیم ہے۔
*(فتاوی یورپ صفحہ 466 م
کیا ہئیر ٹرانسپلانٹ کرانا (یعنی اپنے سر کے پیچھے کے بال سر کے اگلے حصے پر لگوانا) جائز ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
اس طرح ہیئر ٹرانسپلانٹ کرانا کہ اپنے سر کے اگلے حصے پر سر کے پچھلے حصے کے بال یا کسی دوسرے انسان یا خنزیر کے بال لگوا رہا ہے تو یہ ناجائز و حرام ہے، البتہ اگر کوئی آرٹیفشل (یعنی نقلی) بال لگوائے یا خنزیر کے علاوہ کسی اور جانور کے بال لگوائے تو پھر جائز ہے، کتے کے بال لگوانا اگرچہ جائز ہیں لیکن اس کے بارے ميں علمائے کرام کا شدید اختلاف ہے، اس لیے کتے کے بالوں کو نہ لگوانا بہتر ہے۔
چنانچہ علامہ زین الدین بن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"وَ شَعْرِ الْإِنْسَانِ وَالِانْتِفَاعِ بِهِ لَمْ يَجُزْ بَيْعُهُ وَالِانْتِفَاعُ بِهِ لِأَنَّ الْآدَمِيَّ مُكَرَّمٌ غَيْرُ مُبْتَذَلٍ فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ أَجْزَائِهِ مُهَانًا مُبْتَذَلًا، وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَ الْمُسْتَوْصِلَةَ» وَإِنَّمَا يُرَخَّصُ فِيمَا يُتَّخَذُ مِنْ الْوَبَرِ فَيَزِيدُ فِي قُرُونِ النِّسَاءِ وَ ذَوَائِبِهِنَّ"*
یعنی انسان کے بالوں کی خرید و فروخت اور اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے کیونکہ آدمی محترم ہے اس کے کسی جزء کو استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
"اللہ پاک ایسی عورت پر لعنت بھیجتا ہے جو اپنے بالوں میں (انسان یا خنزیر کے) بال ملاتی ہے یا ملواتی ہے۔"
ہاں عورت کا اپنے مینڈھیوں میں جانوروں کے بالوں کو استعمال کرنے میں رخصت ہے۔"
*(البحر الرائق كتاب البيوع باب بیع الفاسد جلد 6 صفحہ 88 مطبوعہ دار الكتاب الاسلامی بیروت)*
2-علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف ابن ھمام رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"(لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ) وَھٰذَا اللَّعْنُ لِلْاِنْتِفَاعِ بِمَا لاَیَحِلُّ الْاِنْتِفَاعُ بِہٖ، اَلاَ تَرَی اَنَّہٗ رَخَّصَ فِیْ اِتِّخَاذِ الْقَرَامِیْلِ وَھُوَمَایُتَّخَذُ مِنَ الْوَبَرِ لِیَزِیْدَ فِی قُرُوْنِ النِّسَاءِ لِلتَّکْثِیْرِ ، فَظَھَرَ اَنَّ اللَّعْنَ لَیْسَ لِلتَّکْثِیْرِ مَعَ عَدَمِ الْکَثْرَةِ وَاِلاَّ لَمَنَعَ الْقَرَامِیْلُ وَلاَشَکَّ اَنَّ الزِّیْنَةَ حَلاَلࣨ،*
*قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ : قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَالَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ، فَلَو ْلاَلُزُوْمُ الْاِھَانَةِ بِالْاِسْتِعْمَالِ لَحَلَّ وَصْلُھَا بِشُعُوْرِ النِّسَاءِ اَیْضاً"*
یعنی (لعن اللہ الواصلة والمستوصلة) یہ لعنت اس انتفاع کیلیے ہے جس کے ساتھ انتفاع حلال نہیں، کیا تو نہیں دیکھتا کہ شرع نے موباف (جانوروں کے بالوں) کو ملانے میں رخصت دی ہے اور یہ اونٹ اور خرگوش وغیرہ کے بالوں سے بنایا جاتا ہے، تاکہ وہ عورتوں کی مینڈھیوں میں بالوں کو زیادہ کرنے کیلیے زیادتی کرے پس ظاہر ہوگیا کہ لعنت کم بالوں کے ساتھ بالوں کو زیادہ کرنے کیلیے نہیں ورنہ موباف (جانوروں کے بال) بھی ضرور منع ہوتے، اور کوئی شک نہیں کہ زینت حلال ہے،
اللہ تعالی نے فرمایا :
"تم فرماؤ کس نےحرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کیلیے نکالی."
پس اگر (انسانوں کے بالوں کو) استعمال کرنے کے ساتھ اہانت لازم نہ آتی تو بالوں کو عورتوں کے بالوں کے ساتھ ملانا بھی ضرور حلال ہوتاـ
*(فتح القدیر، البیع الفاسد، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"وَاِنَّمَا الرُّخْصَةُ فِی شَعْرِ غَیْرِ بَنِیْ اٰدَمَ تَتَّخِذُہٗ الْمَرْاَةُ لِتَزِیْدَ فِیْ قُرُوْنِھَا"*
یعنی بنی آدم (انسانوں) کے بالوں کے علاوہ میں ہی رخصت ہے جن کو عورت ملاتی ہے تاکہ عورت اپنی مینڈھیوں (گیسیوں) میں اضافہ کرسکےـ
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، فصل فی النظر و اللمس، جلد 9، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"انسان کے بال کی بیع درست نہیں اور انہیں کام میں لانا بھی جائز نہیں، مثلاً ان کی چوٹیاں بنا کر عورتیں استعمال کریں حرام ہے، حدیث میں اس پر لعنت فرمائی۔"
*(بہارِ شریعت جلد 2 صفحہ 700 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
فتاوی یورپ میں ہے :
زنده یا مرده انسانوں کے بالوں سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا ممنوع و ناجائز ہے اور اس کا کھانا پینا احتراماً و اکراماً حرام ہے، اسی طرح اس کی خرید و فروخت اور اس کا کاروبار ناجائز ہے۔
البحرالرائق میں ہے :
*"شعر الانسان و الانتفاع بہ ای لم یجز بیعہ و الانتفاع بہ لان الآدمی مکرم"*
انسانی بال سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا (خواہ وہ کھانے پینے سے متعلق ہو یا خریدو فروخت سے) جائز نہیں ہے کیونکہ انسان اپنے تمام اعضاء انسانی کے ساتھ لائقِ تعظیم ہے۔
*(فتاوی یورپ صفحہ 466 م
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
طبوعہ شبیر برادرز لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
22/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح،
*مفتی و حکیم محمد عارف محمود خان معطر قادری،مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی۔*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
22/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح،
*مفتی و حکیم محمد عارف محمود خان معطر قادری،مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی۔*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
دار الإفتاء اہل سنت دعوت اسلامی کا ایک فتویٰ آپ کو پیش کرتا ہوں جو ماہنامہ فیضان مدینہ میں بھی شائع ہوا ہے:
داڑھ بھروانے کی صورت میں وُضو و غسل کا حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی شخص نے اگر اپنی داڑھ بھروائی ہو تو کیا اس کا وُضو و غسل ہو جائے گا؟ جبکہ داڑھ بھروائی ہو تو اس کو نکالا نہیں جاسکتا۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
داڑھ بھروانا شرعی طور پر جائز ہے اور اگر کسی نے داڑھ بھروائی ہو تو اس کا وُضو و غسل بِلاکراہت ہو جائے گا اور اس کے نیچے پانی نہ پہنچانے کو وُضو میں ترکِ سنّت اور غسل میں ترکِ فرض قرار نہ دیا جائے گا کیونکہ ایسی حالت میں اس کے نیچے پانی بہانا ناممکن ہوتا ہے اور جس جگہ تک پانی پہنچانا مُتَعَذِّر ہو یا مَشَقَّت و حرج کا باعث ہو وہاں تک پانی پہنچانے کا شریعت نے مُکَلَّف نہیں کیا۔
اس کی نَظِیر ہلتا ہوا دانت ہے کہ اگر تار سے باندھا ہو یا کسی مسالے وغیرہ سے جمایا ہو یا دانتوں میں چونا یا مِسِّی کی ریخیں جم گئی ہوں تو شرعی طور پر اس کے نیچے پانی بہانا ضَروری نہیں یونہی مصنوعی دانت لگوانے کی صورت میں اگر دانت کو اُتارنا حرج و مَشَقَّت کا باعث ہو تو اُتار کر نیچے پانی بہانے کی حاجت نہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
مُجِیْب مُصَدِّق
محمد ساجد عطاری محمدہاشم خان العطاری المدنی
داڑھ بھروانے کی صورت میں وُضو و غسل کا حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی شخص نے اگر اپنی داڑھ بھروائی ہو تو کیا اس کا وُضو و غسل ہو جائے گا؟ جبکہ داڑھ بھروائی ہو تو اس کو نکالا نہیں جاسکتا۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
داڑھ بھروانا شرعی طور پر جائز ہے اور اگر کسی نے داڑھ بھروائی ہو تو اس کا وُضو و غسل بِلاکراہت ہو جائے گا اور اس کے نیچے پانی نہ پہنچانے کو وُضو میں ترکِ سنّت اور غسل میں ترکِ فرض قرار نہ دیا جائے گا کیونکہ ایسی حالت میں اس کے نیچے پانی بہانا ناممکن ہوتا ہے اور جس جگہ تک پانی پہنچانا مُتَعَذِّر ہو یا مَشَقَّت و حرج کا باعث ہو وہاں تک پانی پہنچانے کا شریعت نے مُکَلَّف نہیں کیا۔
اس کی نَظِیر ہلتا ہوا دانت ہے کہ اگر تار سے باندھا ہو یا کسی مسالے وغیرہ سے جمایا ہو یا دانتوں میں چونا یا مِسِّی کی ریخیں جم گئی ہوں تو شرعی طور پر اس کے نیچے پانی بہانا ضَروری نہیں یونہی مصنوعی دانت لگوانے کی صورت میں اگر دانت کو اُتارنا حرج و مَشَقَّت کا باعث ہو تو اُتار کر نیچے پانی بہانے کی حاجت نہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
مُجِیْب مُصَدِّق
محمد ساجد عطاری محمدہاشم خان العطاری المدنی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
السلام علیکم ورحمتہ اللہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں نماز جنازہ میں آخری صف میں کیوں زیادہ ثواب ہے اور نماز پنجگانہ میں پہلی صف میں وجہ کیا ہے رہنمائی فرمائیں مع حوالہ
سائل شاکر رضا بنگال.
وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ.
الجواب : بہار شریعت میں درمختار کےحوالےسےہے:
"مسئلہ ۶: جنازہ میں پچھلی صف کو تمام صفوں پر فضیلت ہے۔"
درمختار میں ہے :
"افضل صفوفہا آخرھا اظہار للتواضع"
اور آخری صف کی فضیلت کی وجہ یہ بتائی کہ لوگوں کا تواضع اختیارکرنا ہے، جس کی قدرے وضاحت یہ ہےکہ..
اصلا نمازجنازہ ایک دعاکانام ہے ۔۔اوردعامیں میت کے لیےسفارش کی جاتی ہے۔۔۔اورسفارش کا زیادہ حق اسےہےجوزیادہ متقی وپرہیزگارہو۔
اب یہ وہ چیزہےکہ کوئی بھی اپنےمتعلق نہیں کہہ سکتاکہ وہ سب سے بڑامتقی ہے۔۔۔بلکہ وہ عجزوانکساری سےپیچھے ہٹنا چاہےگا، ظاہر ہےیہ سلسلہ دراز ہوگا.
لیکن صاحب ردالمحتار نے اسے تسلیم نہیں کیاہےو ماقالہ مذکور ھناک.
واللہ تعالی اعلم
کتبہ :عدیل احمد قادری مصباحی
سائل شاکر رضا بنگال.
وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ.
الجواب : بہار شریعت میں درمختار کےحوالےسےہے:
"مسئلہ ۶: جنازہ میں پچھلی صف کو تمام صفوں پر فضیلت ہے۔"
درمختار میں ہے :
"افضل صفوفہا آخرھا اظہار للتواضع"
اور آخری صف کی فضیلت کی وجہ یہ بتائی کہ لوگوں کا تواضع اختیارکرنا ہے، جس کی قدرے وضاحت یہ ہےکہ..
اصلا نمازجنازہ ایک دعاکانام ہے ۔۔اوردعامیں میت کے لیےسفارش کی جاتی ہے۔۔۔اورسفارش کا زیادہ حق اسےہےجوزیادہ متقی وپرہیزگارہو۔
اب یہ وہ چیزہےکہ کوئی بھی اپنےمتعلق نہیں کہہ سکتاکہ وہ سب سے بڑامتقی ہے۔۔۔بلکہ وہ عجزوانکساری سےپیچھے ہٹنا چاہےگا، ظاہر ہےیہ سلسلہ دراز ہوگا.
لیکن صاحب ردالمحتار نے اسے تسلیم نہیں کیاہےو ماقالہ مذکور ھناک.
واللہ تعالی اعلم
کتبہ :عدیل احمد قادری مصباحی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گندگی اور بو سے بہت نفرت کی ہے، اور نظافت کے حوالے آیا ہے "النظافۃ نصف الایمان"حلال چیز، جسے کھانے سے منہ میں بو پیدا ہو، اسے کھا کر اپنی عبادت گاہ کی طرف آنے سے منع فرما دیا جبکہ لہسن یا پیاز صحت کے لیے نقصان دہ بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو چیزیں جان کے لیے خطرہ ثابت ہوں ان کے استعمال کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟ جیسا کہ سگریٹ کے ہر ڈبے اور ہر نشہ اوار چیز کے پیکٹ پر لکھا ہوتا ہے ’’تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے‘‘ اور جس مستند ڈاکٹر سے بھی پوچھ لیں وہ یہی کہے گا کہ پان، سگریٹ اور ایسی دیگر اشیاء منہ، گلے، پھیپھڑوں، سینے وغیرہ کا کینسراور ٹی بی جیسی مہلک بیماروں کا سبب بنتی ہیں۔
لہذا ایسی چیز کو ویسے بھی استعمال سے بچے.
عَنْ اَبِي هُرَيْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُوْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے۔
مسلم، الصحيح، 1: 394، رقم: 563
احمد بن حنبل، المسند، 2: 266، رقم: 7599
عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اﷲِ عَنْ اَکْلِ الْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَة فَاَکَلْنَا مِنْهَا فَقَالَ مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة الْمُنْتِنَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَة تَاَذَّی مِمَّا يَتَاَذَّی مِنْهُ الْإِنْسُ.
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ ہم نے ضرورت سے مغلوب ہو کر انہیں کھا لیا تو حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ان بدبودار درختوں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
مسلم، الصحیح، 1: 394، رقم: 564
احمد بن حنبل، المسند، 3: 374، رقم: 15056
معلوم ہوا انسانوں کی طرح فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف ہوتی ہے۔ لہٰذا جو شخص اپنے منہ اور باقی جسم کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا وہ انسانوں کو تو تکلیف دینےکے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف دیتا ہے۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہ والکریم سے روایت ہے:
إِنَّ اَفْوَهَکُمْ طُرُقٌ لِلْقُرْانِ فَطَيِّبُوهَا بِالسِّوَاکِ.
تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں انہیں مسواک سے صاف کیا کرو۔
ابن ماجه، السنن، 1: 106، رقم: 291، دار الفکر بيروت.
اس سے معلوم ہوا کہ جب لہسن،،پیاز کو استعمال کرکے مسجد سے دور رہنے کا ہمارے پیارے آقا ﷺ نے حکم دیا ہے تو ہم قرآن کی تلاوت اور درود شریف کے پڑھنے کے وقت بھی اس طرح کی ہر بدبودار چیزوں سے بچیں کیوں کہ یہ فرشتوں کی دوری اور انسانوں کی دوری کا سبب ہے.
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد بلال
لہذا ایسی چیز کو ویسے بھی استعمال سے بچے.
عَنْ اَبِي هُرَيْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُوْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے۔
مسلم، الصحيح، 1: 394، رقم: 563
احمد بن حنبل، المسند، 2: 266، رقم: 7599
عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اﷲِ عَنْ اَکْلِ الْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَة فَاَکَلْنَا مِنْهَا فَقَالَ مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة الْمُنْتِنَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَة تَاَذَّی مِمَّا يَتَاَذَّی مِنْهُ الْإِنْسُ.
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ ہم نے ضرورت سے مغلوب ہو کر انہیں کھا لیا تو حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ان بدبودار درختوں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
مسلم، الصحیح، 1: 394، رقم: 564
احمد بن حنبل، المسند، 3: 374، رقم: 15056
معلوم ہوا انسانوں کی طرح فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف ہوتی ہے۔ لہٰذا جو شخص اپنے منہ اور باقی جسم کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا وہ انسانوں کو تو تکلیف دینےکے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف دیتا ہے۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہ والکریم سے روایت ہے:
إِنَّ اَفْوَهَکُمْ طُرُقٌ لِلْقُرْانِ فَطَيِّبُوهَا بِالسِّوَاکِ.
تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں انہیں مسواک سے صاف کیا کرو۔
ابن ماجه، السنن، 1: 106، رقم: 291، دار الفکر بيروت.
اس سے معلوم ہوا کہ جب لہسن،،پیاز کو استعمال کرکے مسجد سے دور رہنے کا ہمارے پیارے آقا ﷺ نے حکم دیا ہے تو ہم قرآن کی تلاوت اور درود شریف کے پڑھنے کے وقت بھی اس طرح کی ہر بدبودار چیزوں سے بچیں کیوں کہ یہ فرشتوں کی دوری اور انسانوں کی دوری کا سبب ہے.
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد بلال
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
سوال:
🚭 *تمباکو اور ماوا (تمباکو بنا ہوا) منہ میں رکھ کر قران شریف کی تلاوت اور درود شریف کا ورد کرنا کیسا ہے؟* 🚭_______________
الجواب: ﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گندگی اور بدبو سے بہت نفرت کی ہے، اور نظافت کے حوالے سے آیا ہے "النظافۃ نصف الایمان"حلال چیز، جسے کھانے سے منہ میں بدبو پیدا ہو، اسے کھا کر اپنی عبادت گاہ کی طرف آنے سے منع فرما دیا جب کہ لہسن یا پیاز صحت کے لیے نقصان دہ بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو چیزیں جان کے لیے خطرہ ثابت ہوں ان کے استعمال کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟ جیسا کہ سگریٹ کے ہر ڈبے اور ہر نشہ آور چیز کے پیکٹ پر لکھا ہوتا ہے ’’تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے‘‘ اور جس مستند ڈاکٹر سے بھی پوچھ لیں وہ یہی کہے گا کہ پان، سگریٹ اور ایسی دیگر اشیاء منہ، گلے، پھیپھڑوں، سینے وغیرہ کا کینسراور ٹی بی جیسی مہلک بیماروں کا سبب بنتی ہیں۔
لہذا ایسی چیز کے استعمال سے ویسے بھی بچے.
عَنْ اَبِي هُرَيْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِﷺ : مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُوْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے۔
مسلم، الصحيح، 1: 394، رقم: 563
احمد بن حنبل، المسند، 2: 266، رقم: 7599
عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ ﷲِ عَنْ اَکْلِ الْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَة فَاَکَلْنَا مِنْهَا فَقَالَ مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة الْمُنْتِنَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَة تَاَذَّی مِمَّا يَتَاَذَّی مِنْهُ الْإِنْسُ.
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ ہم نے ضرورت سے مغلوب ہو کر انہیں کھا لیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ان بدبودار درختوں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیوں کہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
مسلم، الصحیح، 1: 394، رقم: 564
احمد بن حنبل، المسند، 3: 374، رقم: 15056
معلوم ہوا انسانوں کی طرح فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف ہوتی ہے۔ لہٰذا جو شخص اپنے منہ اور باقی جسم کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا وہ انسانوں کو تکلیف دینےکے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف دیتا ہے۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے:
إِنَّ اَفْوَهَکُمْ طُرُقٌ لِلْقُرْانِ فَطَيِّبُوهَا بِالسِّوَاکِ.
تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں انہیں مسواک سے صاف کیا کرو۔
ابن ماجه، السنن، 1: 106، رقم: 291، دار الفکر بيروت.
اس سے معلوم ہوا کہ جب لہسن، پیاز کو استعمال کرکے مسجد سے دور رہنے کا ہمارے پیارے آقا ﷺ نے حکم دیا ہے تو ہم قرآن کی تلاوت اور درود شریف کے پڑھنے کے وقت بھی اس طرح کی ہر بدبودار چیزوں سے بچیں کیوں کہ یہ فرشتوں کی دوری اور انسانوں کی دوری کا سبب ہے.
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد بلال
🚭 *تمباکو اور ماوا (تمباکو بنا ہوا) منہ میں رکھ کر قران شریف کی تلاوت اور درود شریف کا ورد کرنا کیسا ہے؟* 🚭_______________
الجواب: ﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گندگی اور بدبو سے بہت نفرت کی ہے، اور نظافت کے حوالے سے آیا ہے "النظافۃ نصف الایمان"حلال چیز، جسے کھانے سے منہ میں بدبو پیدا ہو، اسے کھا کر اپنی عبادت گاہ کی طرف آنے سے منع فرما دیا جب کہ لہسن یا پیاز صحت کے لیے نقصان دہ بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو چیزیں جان کے لیے خطرہ ثابت ہوں ان کے استعمال کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟ جیسا کہ سگریٹ کے ہر ڈبے اور ہر نشہ آور چیز کے پیکٹ پر لکھا ہوتا ہے ’’تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے‘‘ اور جس مستند ڈاکٹر سے بھی پوچھ لیں وہ یہی کہے گا کہ پان، سگریٹ اور ایسی دیگر اشیاء منہ، گلے، پھیپھڑوں، سینے وغیرہ کا کینسراور ٹی بی جیسی مہلک بیماروں کا سبب بنتی ہیں۔
لہذا ایسی چیز کے استعمال سے ویسے بھی بچے.
عَنْ اَبِي هُرَيْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِﷺ : مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُوْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے۔
مسلم، الصحيح، 1: 394، رقم: 563
احمد بن حنبل، المسند، 2: 266، رقم: 7599
عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ ﷲِ عَنْ اَکْلِ الْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَة فَاَکَلْنَا مِنْهَا فَقَالَ مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة الْمُنْتِنَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَة تَاَذَّی مِمَّا يَتَاَذَّی مِنْهُ الْإِنْسُ.
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ ہم نے ضرورت سے مغلوب ہو کر انہیں کھا لیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ان بدبودار درختوں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیوں کہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
مسلم، الصحیح، 1: 394، رقم: 564
احمد بن حنبل، المسند، 3: 374، رقم: 15056
معلوم ہوا انسانوں کی طرح فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف ہوتی ہے۔ لہٰذا جو شخص اپنے منہ اور باقی جسم کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا وہ انسانوں کو تکلیف دینےکے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف دیتا ہے۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے:
إِنَّ اَفْوَهَکُمْ طُرُقٌ لِلْقُرْانِ فَطَيِّبُوهَا بِالسِّوَاکِ.
تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں انہیں مسواک سے صاف کیا کرو۔
ابن ماجه، السنن، 1: 106، رقم: 291، دار الفکر بيروت.
اس سے معلوم ہوا کہ جب لہسن، پیاز کو استعمال کرکے مسجد سے دور رہنے کا ہمارے پیارے آقا ﷺ نے حکم دیا ہے تو ہم قرآن کی تلاوت اور درود شریف کے پڑھنے کے وقت بھی اس طرح کی ہر بدبودار چیزوں سے بچیں کیوں کہ یہ فرشتوں کی دوری اور انسانوں کی دوری کا سبب ہے.
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد بلال
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 119:*
جانوروں کو بٹائی پر دینا کیسا ہے ؟
سائل : محمد خالد صابری جڑانوالہ
*جواب :*
جانوروں کو بٹائی پر دینے کی دو صورتیں ہیں :
1- جانوروں کو اس طرح بٹائی پر دینا کہ جانور اور ان کے بچے مالک کے ہی ہوں گے اور ان کو پالنے والے کو معین طے شدہ اجرت ملے گی تو یہ بالکل جائز ہے.
2- جانوروں کو اس طرح بٹائی پر دینا کہ ان کے جتنے بچے پیدا ہوں گے، دونوں آپس میں نصف نصف کرکے بانٹ لیں گے تو یہ صورت جائز نہیں ہے، اگر کسی نے ایسا کرلیا تو وہ جانور اور بچے مالک کے ہوں گے اور پالنے والے کو پالنے کی اتنی اجرت ملے گی جتنی وہاں کے عرف میں پالنے کی ہوتی ہے.
1- چنانچہ عمدۃ المحققین علامہ محمد شامی مصری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"اذا دفع البقرۃ بعلف فیکون الحادث بینھما نصفین فما حدث فھو لصاحب البقرۃ وللاخر مثل علفہ واجر مثلہ تاتارخانیہ"*
یعنی جب کسی نے (دوسرے کو) چارے پر گائے دی (اس شرط پر) کہ پیدا ہونے والا (بچہ) ان دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا تو جو بچہ پیدا ہوا پس وہ گائے کے مالک کیلئے ہوگا اور دوسرے کو اس کے چارے کی مثل اور اس کے کام کی مثل اجرت ملے گی.
*(فتاوی فیض الرسول جلد سوم صفحہ 220 بحوالہ ردالمحتار جلد سوم صفحہ 351)*
2- صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"گائے بھینس خرید کر دوسرے کو دے دیتے ہیں کہ اسے کھلائے پلائے جو کچھ دودھ ہوگا وہ دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا، یہ اجارہ بھی فاسد ہے، کل دودھ مالک کا ہے اور دوسرے کو اس کے کام کی اجرت مثل ملے گی اور جو کچھ اپنے پاس کھلایا ہے اس کی قیمت ملے گی اور گائے نے جو کچھ چرا ہے اس کا کوئی معاوضہ نہیں اور دوسرے نے جو کچھ دودھ صرف کرلیا ہے اتنا ہی دودھ مالک کو دے کہ دودھ مثلی چیز ہے."
*(بہارشریعت جلد 3 حصہ 14 صفحہ 150، 151 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
3- صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :
"بعض لوگ بکری بٹائی پر دیتے ہیں کہ جو کچھ بچے پیدا ہوں گے، دونوں نصف نصف لے لیں گے یہان اجارہ بھی فاسد ہے بچے اسی کے ہیں جس کی بکری ہے, دوسرے کو صرف اس کے کام کی اجرتِ مثل ملے گی."
*(بہار شریعت جلد 3 حصہ 14 صفحہ 151 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
4- فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ :
بہت سے لوگ گائے بکری یا مرغی اس شرط پر دوسرے کو دیتے ہیں کہ تم اس کی پرورش کرو بچے اور انڈے جس قدر ہوں گے وہ ہم لوگ آپس میں بانٹ لیں گے تو اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
آپ نے جواباً تحریر فرمایا :
"اس طرح کا معاملہ کرنا جائز نہیں۔"
*(فتاوی فیض الرسول جلد سوم صفحہ 219 شبیربرادرز لاہور)*
*نوٹ :*
اس کے جواز کا ایک آسان حیلہ یہ ہے کہ جانور جس شخص کو بٹائی پر دے رہے ہیں، اس سے جانور کی آدھی قیمت لے کر جانور میں آدھا شریک کرلیں یا نقد رقم نہ ہو تو ادھار پر شریک کرلیں تو اس حیلہ سے جانور پالنے کے بعد منافع میں دونوں آدھے آدھے کے شریک ہوجائیں گے اور جانور پالنے والے کو پورا حق ہوگا کہ جو چارہ خرید کر کھلایا ہے، اس کی آدھی قیمت جانور کو بٹائی پر دینے والے سے وصول کرلے.
لہذا اس حیلے کے بعد اگر چاہیں تو اپنے حصے کے جانور کے بچے لے لیں اور اس کے حصے کے اس کو اصل بٹائی والا جانور دے دیں.
اور اگر ادھار پر جانور بیچا ہوتو وہ رقم اس سے وصول کر لیں یا اس رقم کو لینے بدلے اس سے جانور یا اس کا بچہ خرید لیں. ۔
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے :
*"والحیلة فی جوازہ أن یبیع نصف البقرة منہ بثمن ویبرء ہ عنہ ثم یأمر باتخاذ اللبن والمصل فیکون بینہما الخ"*
اور اس کے جواز میں حیلہ یہ ہے کہ وہ اس کو ثمن (یعنی قیمت) کے بدلے آدھی گائے فروخت کر دے اور وہ اس سے بری ہوجائے پھر اس کو دودھ اور دودھ سے ٹپکا ہوا پانی لینے کا حکم دے، پس یہ (سب) ان دونوں کے درمیان (نصف نصف) ہوگا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الاجارہ، الفصل الثالث فی قفیز الطحان و فی معناہ، جلد 4 صفحہ 446 دارالفکر بیروت)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
21/08/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
آپ کے استفتاء ١١٩ کا جواب بالکل درست ہے اور بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین محمد عارف محمود معطر القادری عطاری غفرلہ الباری*
جانوروں کو بٹائی پر دینا کیسا ہے ؟
سائل : محمد خالد صابری جڑانوالہ
*جواب :*
جانوروں کو بٹائی پر دینے کی دو صورتیں ہیں :
1- جانوروں کو اس طرح بٹائی پر دینا کہ جانور اور ان کے بچے مالک کے ہی ہوں گے اور ان کو پالنے والے کو معین طے شدہ اجرت ملے گی تو یہ بالکل جائز ہے.
2- جانوروں کو اس طرح بٹائی پر دینا کہ ان کے جتنے بچے پیدا ہوں گے، دونوں آپس میں نصف نصف کرکے بانٹ لیں گے تو یہ صورت جائز نہیں ہے، اگر کسی نے ایسا کرلیا تو وہ جانور اور بچے مالک کے ہوں گے اور پالنے والے کو پالنے کی اتنی اجرت ملے گی جتنی وہاں کے عرف میں پالنے کی ہوتی ہے.
1- چنانچہ عمدۃ المحققین علامہ محمد شامی مصری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"اذا دفع البقرۃ بعلف فیکون الحادث بینھما نصفین فما حدث فھو لصاحب البقرۃ وللاخر مثل علفہ واجر مثلہ تاتارخانیہ"*
یعنی جب کسی نے (دوسرے کو) چارے پر گائے دی (اس شرط پر) کہ پیدا ہونے والا (بچہ) ان دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا تو جو بچہ پیدا ہوا پس وہ گائے کے مالک کیلئے ہوگا اور دوسرے کو اس کے چارے کی مثل اور اس کے کام کی مثل اجرت ملے گی.
*(فتاوی فیض الرسول جلد سوم صفحہ 220 بحوالہ ردالمحتار جلد سوم صفحہ 351)*
2- صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"گائے بھینس خرید کر دوسرے کو دے دیتے ہیں کہ اسے کھلائے پلائے جو کچھ دودھ ہوگا وہ دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا، یہ اجارہ بھی فاسد ہے، کل دودھ مالک کا ہے اور دوسرے کو اس کے کام کی اجرت مثل ملے گی اور جو کچھ اپنے پاس کھلایا ہے اس کی قیمت ملے گی اور گائے نے جو کچھ چرا ہے اس کا کوئی معاوضہ نہیں اور دوسرے نے جو کچھ دودھ صرف کرلیا ہے اتنا ہی دودھ مالک کو دے کہ دودھ مثلی چیز ہے."
*(بہارشریعت جلد 3 حصہ 14 صفحہ 150، 151 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
3- صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :
"بعض لوگ بکری بٹائی پر دیتے ہیں کہ جو کچھ بچے پیدا ہوں گے، دونوں نصف نصف لے لیں گے یہان اجارہ بھی فاسد ہے بچے اسی کے ہیں جس کی بکری ہے, دوسرے کو صرف اس کے کام کی اجرتِ مثل ملے گی."
*(بہار شریعت جلد 3 حصہ 14 صفحہ 151 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
4- فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ :
بہت سے لوگ گائے بکری یا مرغی اس شرط پر دوسرے کو دیتے ہیں کہ تم اس کی پرورش کرو بچے اور انڈے جس قدر ہوں گے وہ ہم لوگ آپس میں بانٹ لیں گے تو اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
آپ نے جواباً تحریر فرمایا :
"اس طرح کا معاملہ کرنا جائز نہیں۔"
*(فتاوی فیض الرسول جلد سوم صفحہ 219 شبیربرادرز لاہور)*
*نوٹ :*
اس کے جواز کا ایک آسان حیلہ یہ ہے کہ جانور جس شخص کو بٹائی پر دے رہے ہیں، اس سے جانور کی آدھی قیمت لے کر جانور میں آدھا شریک کرلیں یا نقد رقم نہ ہو تو ادھار پر شریک کرلیں تو اس حیلہ سے جانور پالنے کے بعد منافع میں دونوں آدھے آدھے کے شریک ہوجائیں گے اور جانور پالنے والے کو پورا حق ہوگا کہ جو چارہ خرید کر کھلایا ہے، اس کی آدھی قیمت جانور کو بٹائی پر دینے والے سے وصول کرلے.
لہذا اس حیلے کے بعد اگر چاہیں تو اپنے حصے کے جانور کے بچے لے لیں اور اس کے حصے کے اس کو اصل بٹائی والا جانور دے دیں.
اور اگر ادھار پر جانور بیچا ہوتو وہ رقم اس سے وصول کر لیں یا اس رقم کو لینے بدلے اس سے جانور یا اس کا بچہ خرید لیں. ۔
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے :
*"والحیلة فی جوازہ أن یبیع نصف البقرة منہ بثمن ویبرء ہ عنہ ثم یأمر باتخاذ اللبن والمصل فیکون بینہما الخ"*
اور اس کے جواز میں حیلہ یہ ہے کہ وہ اس کو ثمن (یعنی قیمت) کے بدلے آدھی گائے فروخت کر دے اور وہ اس سے بری ہوجائے پھر اس کو دودھ اور دودھ سے ٹپکا ہوا پانی لینے کا حکم دے، پس یہ (سب) ان دونوں کے درمیان (نصف نصف) ہوگا.
*(فتاوی عالمگیری، کتاب الاجارہ، الفصل الثالث فی قفیز الطحان و فی معناہ، جلد 4 صفحہ 446 دارالفکر بیروت)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
21/08/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
آپ کے استفتاء ١١٩ کا جواب بالکل درست ہے اور بندہ ناچیز اس کی تائید و توثیق کرتا ہے۔
*ابوالحسنین محمد عارف محمود معطر القادری عطاری غفرلہ الباری*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شمر قتل کے بعد کتوں کے حوالے شمر قتل کے بعد کتوں کے حوالے علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے امام حسین کا سر مبارک لٹکانے عبد اللہ بن مسلم کے ہاتھ سے عبد اللہ بن مسلم کے قاتل کو قتل حسین پر راضی ہونے والے…
ابن زیاد کی ناک میں ³بار سانپ
قاتل حسین کی اولاد کو چیچک
قتل حسین کے بدلے ¹لاکھ ⁴⁰ہزار
مختار کا دعویٰ نبوت
میرے صحابہ کو برا نہ کہو !
ہدیہ تشکر و استغفار
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁰
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
قاتل حسین کی اولاد کو چیچک
قتل حسین کے بدلے ¹لاکھ ⁴⁰ہزار
مختار کا دعویٰ نبوت
میرے صحابہ کو برا نہ کہو !
ہدیہ تشکر و استغفار
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜¹⁰
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی