🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ماہنامہ اعلی حضرت بریلی شریف اکتوبر 2015ء میں شائع ہونے والا راقم کا مضمون جو ایک غیر مقلد وہابی کے جواب میں لکھا گیا اس میں ثابت کیا گیا ہے کہ وہابیہ کے مزعومہ امام مجدد مفسرنواب صدیق حسن قنوجی ثم بھوپالی کی زوجہ ملکہ بھوپال موصوف کی موجودگی میں انگریزوں سے ہاتھ ملاتی,اُن کو اپنے ہاتھ سے پان بنا کر دیتی,ان کو ہار پہناتی کرتی,اور ایک انگریز کے پاس مہینہ رہ کر اپنی بات منوا کر آئی.اسی کی دولت استعمال کر کے نواب صدیق حسن نے اپنی کتب شائع کروا کر وہابیت کی ترویج کی گویا دیگر حربوں کے ساتھ ساتھ العروج بالفروج کے مکروہ فارمولے کو بھی وہابیت کی اشاعت کے لیے استعمال کیا گیا.

میثم عباس قادری رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2817664335179542&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعلٰی حضرت کے والدامام المتکلمین حضرت مولانانقی علی خان رحمۃُ اللّٰہ علیہ پردیوبندی اعتراض کاجواب,یہ مقالہ ماہنامہ اعلٰی حضرت بریلی شریف بابت ماہِ اکتوبر2019ءکے شمارہ میں شامل ہے.

میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2817664251846217&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Daleel.Pk
کتاب خرید کر مصنف سے تعاون کریں -

آج مجھے ایک ایسی عادت کو ڈسکس کرنا ہے جو بہت سے علم دوست کہلانے والے ساتھیوں میں پائی جاتی ہے اور وہ میری نظر میں اچھی عادت نہیں ہے۔ اکثر طلبۃ العلم بلکہ علماء کا بھی رویہ یہ بن چکا ہے کہ انہیں کوئی کتاب خریدنی نہ پڑے اور ہر مصنف انہیں اپنی کتاب ہدیہ اور گفٹ کرے جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے۔

میں پہلے بھی ایک پوسٹ میں عرض کر چکا ہوں کہ اس وقت اردو بازار کے پبلشرز کی صورت حال یہ ہے کہ کوئی آپ کی کتاب پبلش کرنے کو تیار نہیں ہے، چاہے آپ کتنے اچھے ہی لکھاری کیوں نہ ہوں، اور تو اور عطاء الحق قاسمی صاحب نے اپنے ایک کالم میں شکایت کی ہے کہ اب تو وہ دور ہے کہ ہماری کتابیں چھاپنے کے لیے بھی پبلشر پیسے مانگتے ہیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں؛ ایک وجہ تو یہ ہے کہ پہلے مصنفین کی تعداد کم تھی لہذا پبلشرز کو چھاپنے کے لیے کچھ چاہیے تھا اور اب لکھنے والے اتنے ہو گئے ہیں، ما شاءاللّٰہ سے،اور دوسرا یہ کہ پبلشرز نے بھی اتنی کتابیں چھاپ لی ہیں کہ اب ان کے پاس مزید پر انویسٹمنٹ کی گنجائش نہیں ہے۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پبلشرز عموما اس کی کتاب چھاپتے ہیں کہ جس کا بڑا نام ہو اور دوسرا وہ کتاب ایسی ہو کہ بازار میں نکلنے والی ہو یعنی عوامی موضوع ہو۔لہٰذا تحقیقی اور تخلیقی نوعیت کے کام کو کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔ ایسے میں مصنف کو اپنا شہ پارہ، ظاہری بات ہے دوسروں کے نزدیک وہ ردّی ہو گا لیکن اس بے چارے کے نزدیک تو وہ شہ پارہ اور ماسٹر پیس ہی ہو گا، پبلش کروانا ہے اور عوام کے سامنے لانا ہے تو اسے انویسٹمنٹ بھی خود ہی سے کرنی ہو گی۔اور ایک طرف وہ بے چارہ تحقیق اور تخلیق کرے اور پھر اس کو پیسے لگا کر پبلش کروائے اور اب مفت میں تقسیم بھی کرے تو یہ اس کے ساتھ بہت ظلم ہے اور علم کی ناقدری بھی۔
نوجوان اور نئے لکھاریوں کی تصانیف اور تالیفات کی پبلشنگ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حوصلہ افزائی نہیں ہو پاتی لہٰذا آپ کو تحقیق اور تالیف کے نام پر کچھ نئی چیز دیکھنے کو بھی نہیں ملتی۔ اب کچھ عرصے سے اردو بازار میں تحقیق وتصنیف کا غالب رجحان یہی بن چکا ہے کہ گناہ کبیرہ پر کتاب نکال دیں،اس کے بعد عنوان تبدیل کریں اور محرمات اور حرام امور کے نام سے کتاب چھاپ دیں، پھر کبھی جنتی مرد چھاپ دیں اور کبھی جہنمی عورت، کبھی دس تراجم قرآن کو سامنے رکھ کر ایک نیا ترجمہ قرآن چھاپ دیں۔ کبھی حدیث کی کتاب کی ایک تخریج اور تحقیق چھاپ دیں، کبھی دوسری۔ بس ایک ہی موضوع کو عنوان اور ٹائیٹل پیج بدل بدل کر رگڑا لگاتے رہیں۔ بس یہی تحقیق اور تخلیق ہے جو بد قسمتی سے علم وتحقیق کے نام سے باقی رہ گئی ہے۔

ایسے میں اگر کوئی مصنف اس تقلیدی رجحان سے ہٹ کر کچھ تحقیقی پیش کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے محنت کر کے کوئی چیز سامنے لاتا ہے تو اب عوام کے اوپر ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی اس طرح کریں کہ اس کی کتاب خرید کر پڑھیں۔۔۔۔۔۔۔

اگرکوئِی ہمت کر کے اپنے ذاتی خرچہ پر کوئی تصنیف سامنے لاتا بھی ہے تو آپ اس کو خریدنے کے بجائے مفت حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں گے تو آپ انہیں یہ میسج پہنچائیں گے کہ بھئی، یہ کتاب کو شائع کر لی، اسے تومفت تقسیم کر دو، اب اگلی کی غلطی نہ کرنا۔ ایک کتاب کی قیمت اگر دو سو ہے، یعنی آپ کو دو سو میں پڑتی تو مصنف کو وہ دو لاکھ میں پڑتی ہے، آپ کتاب نہیں خریدںیں گے تو وہ دو لاکھ کا مقروض ہو جائے گا۔

اور ویسے بھی ایک مصنف کی کتاب جب شائع ہوتی ہے تو وہ پچاس ساٹھ نسخے یا ستر اسی نسخے ضرور مفت میں لوگوں کو دیتا ہے، اور اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جنہیں فری میں نسخہ ملا ہے تو مصنف کا اچھے سے شکریہ تو ادا کر دیں، میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ستر اسی فیصد علماء اور پروفیسر جن کو آپ فری میں کتاب بھجوائیں، شکریہ تو دور کی بات اتنی اطلاع بھی نہیں دیتے کہ کتاب موصول ہو چکی ہے جبکہ ان کے پاس آپ کا موبائل، ای میل اور پوسٹل ایڈریس سب پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ہمیں اپنے رویوں کو ریوائز کرنے کی ضرورت ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2816001275345848&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک جاپانی پروفیسر کی حیرت انگیز ریسرچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1: معدے کی تیزابیت کا اصل سبب ، الٹا سیدھا کھانا نہیں ، بلکہ بے چینی ہے ۔

2: بلڈ پریشر کی وجہ ، کھانے میں نمک کی زیادتی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ احساسات و جذبات کا عدم اِنضِباط ( بے قابو ہونا ) ہے ۔

3: کولیسٹرول کی زیادتی کا اصلی سبب ، چربی دار کھانے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سُستی ہے ۔

4: سینے سے جڑے مسائل کا اصلی سبب ، آکسیجن کی کمی نہیں ۔۔۔‌‌‌‌۔‌۔‌۔۔۔۔‌‌ شدتِ غم ہے ۔

5: شوگر کی وجہ جسم میں گلوکوز کی زیادتی نہیں ، انانیت اور اپنے موقف پر بےجا شدت ہے ۔

6: جگر کی بیماریوں کا سبب ، نیند کی بے ضابطگی اور نفسیاتی خلل نہیں ، بلکہ مایوسی اور دل شکستگی ہے ۔

7: دل کی بیماریوں کا سبب ، خون کی کمی بیشی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اطمینان و سکون کا فقدان ہے ۔

یہ بیماریاں جن اسباب سے پیدا ہوتی ہیں ان کا تناسب درج ذیل ہے:

50% روحانی اسباب ۔

25% نفسیاتی اسباب ۔

15% معاشرتی اسباب ۔

10% نامیاتی اسباب ۔

اس لیے اگر تم صحت مند زندگی کے خواہاں ہو تو اپنے دل و دماغ کی حفاظت کرو ۔
کینہ ، حسد ، جلن ، نفرت ، غصہ ، تکبر ، انتہاپسندی ، سستی ، گالم گلوچ ، اور دوسروں کی تحقیر و تذلیل سے گریز کرو ۔

درگزر سے کام لو ، پورے یقین کے ساتھ اللہ ﷻ کا ذکر کرو ، پورے خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کرو ، ہمیشہ باوضو رہنے کی کوشش کرو ۔
لوگوں کے ساتھ حسن ظن رکھو ، خواہشات نفسانی کو خود پر غالب نہ‌ہونے دو ، ہمیشہ صدقہ خیرات کرتے رہو اور اِس فرمانِ باری کو کبھی نہ بھولو :

ألا بذكر الله تطمئن القلوب
یقینا یادِ الٰہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے ۔
اور
پیارے حبیب علیہ الصلاۃ والسلام کے اس فرمان کو بھی یاد رکھو کہ:

اپنے بیماروں کا علاج صدقے سے کرو ۔

( یہ تحریر پتانہیں کس کی ہے ، بہت اچھی لگی اس لیے آپ سے شیئر کرلی ۔ لقمان شاہد )
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فارسی زبان میں ایک شعر ہے ؎

علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی !

اس کا اُردو میں مطلب ہے:

" علی پاک میرے امام ہیں ، اور میں علی پاک کا غلام ہوں ۔
میری ایک نہیں ، ہزار قیمتی جانیں بھی نامِ علی پر فِدا ۔ "

یہاں شاعر نے اِظہارِ مُدّعا کے لیے دو لفظوں کا انتخاب کیا ۔
پہلے مصرعے میں " منم " کہا ، اور دوسرے میں " گرامی " ۔

¹ مَنَم کا معنیٰ ہے: میں ہوں ۔

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اِس لفظ کو وہاں بھی استعمال کیا جاتا ہے جہاں اپنی بڑائی بیان کرنا مقصود ہو ۔

گویا شاعر یہاں منم لا کر بتارہاہے:

علی پاک کا امام ہونا ، اور میرا غلام ہونا ، کسی شرف سے کم نہیں ؛ یہ میرے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ۔

² گرامی کا مطلب ہے: قیمتی ۔

یہاں اس کے دو مطلب لیے جاسکتے ہیں ۔

پہلا یہ کہ:

مولاعلی کی غلامی اتنی عظیم تھی کہ جب مجھے میسر آئی تو میری جان گرامی ( قیمتی اور بیش بہا ) ہوگئی ۔
اب میرا جی چاہتا ہے کہ ایسی قیمتی ایک جان نہیں ، ہزاروں جانیں بھی ہوں تو اس سرکار کے نام پر قربان کردوں ۔

دوسرا یہ کہ:

علی پاک کےنام پر ایک جان سے نہیں ، ہزار قیمتی جانوں سے قربان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے آپ کی غلامی کی صورت میں رب تعالیٰ نے کتنی بڑی دولت عطا فرمائی !!

علی اِمامِ مَنَ سْت و مَنَم غُلامِ علی
ہزار جانِ گَرامی فِدائے نامِ علی

✍️لقمان شاہد
21-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#بڑھتا_الحاد_اور_ہماری_ذمہ_داری
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی

الحاد اور بے دینی ایسے لفظ ہیں جن کو سنتے ہی ذہن منتشر ہونے لگتا ہے، عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے یہ دیکھ کر کہ کیسے لوگ غفلت اور لالچ کی بھینٹ چڑھ کر ایمان جیسی قیمتی شی سے ہاتھ دھوتے جارہے ہیں۔ آئیے ہم ایمان اور الحاد کے درمیان کا فرق اور مسلموں میں اس کی شرح آج کیوں بڑھ رہی ہے اس کو سمجھتے ہیں، سب سے پہلے ہم بیان کریں گے کہ ایمان کیا ہے؟ اور اس کے تقاضے کیا ہیں؟.

#ایمان_کیا_ہے؟
ایمان کی لغوی تعریف: ایمان عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا مادہ ’’ا۔ م۔ ن‘‘ (امن) سے مشتق ہے۔ لغت کی رو سے کسی خوف سے محفوظ ہو جانے، دل کے مطمئن ہو جانے اور انسان کے خیر و عافیت سے ہمکنار ہونے کو امن کہتے ہیں۔
(لسان العرب)
ایمان کی اصلاحی تعریف:
الاىمان: "ھو التصدیق بما جاء بهٖ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من عند الله ضرورۃً"
مذہب اسلام کے مطابق ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بھی نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ کی طرف لائے اس کی تصدیق کرنا۔

#الحاد_کیا_ہے؟
الحاد/Atheism)

الحاد کا عربی زبان میں لغوی معنی انحراف یا راستے سے ہٹ جانا ہے۔الحاد کو انگریزی زبان میں atheism کہا جاتا ہے جس کا اردو زبان میں مطلب لامذبیت یا لادینیت لیا جاتا ہے۔الحاد اسلامی مضامین میں استعمال کی جانے والی ایک اصطلاح ہے جو کافروں(خدا کے ناماننے والوں) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

(ملحد/Atheist)

الحاد کے پیروکاروں کو ملحد،دہریے،مادیت پرست یا atheists بھی کہا جاتا ہے۔الحاد کے ماننے والوں کی تعداد ماہرین سماجیات Ariela Keysar کے الحاد پر متعدد عالمی مطالعہ اور Juhem Navarro rivera کے جائزے کے مطابق،ایک ارب ملحد اور agnostics دنیا بھر میں ہیں(دنیا کی آبادی کا 7 فیصد)،اور دنیا میں سب سے زیادہ ملحد چین میں ہیں جن کی تعداد 40 کروڑ ہے۔

(عقائد/Beliefs)
ملحدین کا خیال ہے کہ دنیا کسی خدا نے نہیں بنائی بلکہ خودبخود وجود میں آئی ہے یا پھر پہلے سے موجود تھی اور مختلف اشکال میں ہمیشہ موجود رہے گی۔ ملحدین صرف ان باتوں پر یقین کرتے ہیں جن کا کوئی عقلی یا سائنسی ثبوت ہو۔ اس کے علاوہ سائنس اور دنیاوی علوم کو ہی سب کچھ مانتے ہیں۔ مذہبی قیود کے سخت خلاف ہوتے ہیں۔
الحاد یا دہریت کا عالمی دن 17 مارچ ہے جس کی شروعات 2013 میں ہوئی.(2013-03-17)
(ویکیپیڈیا)

جس طرح مذہب ہمیشہ سے ہے اسی طرح مذہب کا انکار کرنے والے بھی شروع سے رہے ہیں لیکن یہ کبھی زور نہیں پا سکے۔ دنیا بھر میں یا تو موحدین رہے یا مشرکین۔
چند مشہور فلسفیوں اور ان کے معتقدین کو چھوڑ کر الحاد کہیں اور نہ پھیل سکا۔

#الحاد_کا_ارتقاء:
انیسویں صدی میں جب چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو مقبولیت حاصل ہوئی توگویا الحاد نے ایک مذہب کی صورت اختیار کر لی۔ اور بڑی تیزی سے مذہب کی پابندیوں سے آزادی کے خواہاں اس قافلہ میں شریک ہونے لگے۔
الحاد ابتداءً اسلام کے سامنے بالکل ناکام و نامراد رہا مگر اب مادیت پرستی کے دور میں دینی علوم سے ناآشنا مسلموں میں بھی تیزی سے الحاد بڑھ رہا ہے۔
الحاد نے کئی چولے بدلے اور مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے جانا گیا؛ انہیں ناموں میں سے مشہور نام کمیونزم اور سیکولرزم ہیں.
کارل مارکس اور اس کے ساتھی فریڈرک اینجلز (جو بہت بڑا ملحد فلسفی تھا) کے مشترکہ نظریے نے کمیونسٹ انقلاب برپا کیا، جس نے یکلخت ملحدوں کی تعداد لاکھوں کے ہندسے سے نکال کر کروڑوں تک پہنچا دی۔

#اہل_ایمان_میں_الحاد_کیسے_ایا؟
جیسا کہ ماقبل میں ذکر ہوا کہ الحاد مسلمانوں میں بالکل بے اثر رہا اور جب ملحدین نے یہ دیکھا کہ اسلام کے متبعین پر اس کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے تو انہوں نے بڑی چالاکی اور ہشیاری سے دنیاوی تعلیم کے بڑے ادارے قائم کیے جن میں سیکولرزم جیسا خوبصورت نام رکھ کر الحاد کو پروسا گیا اور لوگ اعلی تعلیم کے خواب میں ان اداروں میں جاتے رہے اور انجانے میں الحاد کا شکار ہوتے رہے۔
ساتھ ہی انہوں نے مرد و زن کی مخلوط تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا تاکہ نفس کے پرستار اس جال سے نکل ہی نہ سکیں۔ اور ہماری آنکھیں اس بات کی گواہ ہیں کہ اعلی تعلیم کے نام پر جو ادارے قائم کیے گئے انہوں نے الحاد کو گھر گھر تک پہنچایا، یہاں تک کہ علما کے بچے بھی پکے ملحد دیکھے گئے۔
اس بعد وہ تمام افراد جو آزادی چاہتے ہیں گناہ کرنے کی جو کہ مذہب انہیں ہرگز نہیں دے سکتا تو ایسے افراد نے بھی الحاد اور لادینیت کا سہارا لیا اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کے لیے، کیوں کہ اگر دین کو اپنے گلے کا طوق بنائیں گے تو دین جن باتوں سے روکتا ہے ان سے باز رہنا پڑے گا اور جن باتوں کا حکم دیتا ہے ان کی تعمیل کرنی ہوگی؛ مگر الحاد ان تمام چیزوں سے بے نیاز ہے۔ جو آپ کا دل کرے آپ کرتے جائیں کوئی بندش نہیں، کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہیں۔
اگر دین کو مانیں گے تو دین کے احکام کو بھی ماننا پڑے گا جو کہ من مانی کی راہ میں سب سے بڑا
و نہ ہماری نسلوں میں ملحد ہوتے، نہ بد عقیدہ، نہ ہی بے نمازی آزاد خیال۔ بلکہ ہمارے بچے دنیاوی اعلی تعلیم کے ساتھ دینی اعلی تعلیم عملی اور اخلاقی قدروں کے ساتھ سیکھتے۔

#ایمان_سب_سے_بڑی_دولت_ہے:
میں اپنی قوم کے مفکرین، اہل وسائل اور ذی وقار شخصیات سے فریاد کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اپنی آنے والی نسلوں کو گمراہی، بد عملی اور الحاد و لادینیت جیسی بلاؤں سے محفوظ رکھنا چاہتے تو ایسے تعلیمی ادارے قائم کرو جن میں مرد و زن کی مخلوط تعلیم تو نہ ہو مگر دینی اور دنیاوی تعلیم کا بہترین سنگم ضرور ہو۔ تاکہ وہ بچہ جسے ہم ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل بنانا چاہتے ہیں وہ دینی اور مذہبی اقدار سے غافل نہ ہو بلکہ وہ دنیوی تعلیم کے ساتھ اعلی دینی تعلیم کے ساتھ ان پر عمل پیرا بھی ہو۔
پیارے بھائیو! ایمان سب سے بڑی دولت ہے اگر دنیاوی تعلیم دلانے کے چکر میں آپ نے اپنے بچے کو دین سے دور کردیا اور وہ بچہ غیر مسلموں کے اسکولوں اور کالجوں پڑھ کر سورج کو پوجنے لگا، تعلیم کی دیوی کی پرستش کرنے لگا یا عیسائیوں کے اسکولوں میں پڑھ کر دین بیزار ہوگیا تو اللہ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟؟؟

محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
نائب صدر: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
14 ستمبر 2020
روڑا ہیں جیسے:
کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ
ترجمہ: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
(سورة آل عمران: 110)
یا جیسے:
اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَ الۡاِحۡسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ یَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۹۰﴾
ترجمہ: بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف، نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا۔ اور منع فرماتابے حیائی، برُی بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو.
(سورة النحل: 90)
یا
وَ لَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ؕ وَ سَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾
ترجمہ: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے ، اور بہت ہی بری راہ.
(سورة بنی اسراءیل: 32)
اور ان احکام کو ماننے کے لیے دین کی سمجھ اور دین سے محبت ضروری ہے جو ان سیکولر اسکول، کالج یا یونیورسٹی کے پڑھے لوگوں میں نہیں ہوتی اسی لیے وہ الحاد کی طرف چلے جاتے ہیں۔

یہ ساری لادینیت جو بڑھتی جارہی ہے اس کے ذمہ دار عیسائیوں اور یہودیوں کے یا ان کی فکر پر کام کرنے والے اعلی تعلیمی ادارے ہیں جن میں اعلی تعلیم کے نام پر مذہب بیزاری کا سبق دیا جاتا ہے؛ اور مساوات کے نام پر مخلوط تعلیم کی آڑ میں نفس پرستی اور گناہوں کی کھلی چھوٹ دے کر دل کالے کیے جاتے ہیں۔
جیسا کہ لارڈ میکالے کا بیان ہے کہ:
"ان تعلیمی اداروں میں مسلمان عیسائی نہ بھی بنیں گے تو کم ازکم مسلمان بھی نہ رہیں گے
یعنی سیکولر لادین، نیچری اور ملحد بن جائیں گے".
اہل فراست اس چیز کو بیت پہلے ہی سمجھ گئے تھے اسی لیے تو اقبال اس مفہوم کی ترجمانی یوں کرتے ہیں:
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا "الحاد" بھی ساتھ

الحاد سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟
خاص کر ملک ہند میں آزادی کے بعد علما نے تعلیمی میدان کافی حد تک اپنا کام کیا اور ہر شہر ہر گاؤں میں مدارس کا قیام کیا تاکہ دینی تعلیم سے مسلمان بہراور ہوتے رہیں۔
مگر دنیاوی تعلیم یافتہ طبقہ نے اس کے مقابل اسکول اور کالیجیز قائم نہیں کیے، اگر وہ بھی اسی طرح یہ سلسلہ جاری رکھتے تو شاید الحاد اس تیزی کے ساتھ نہ پھیلتا۔
اور ایک بڑی لغزش دونوں طبقوں سے یہ ہوئی کہ ان دونوں تعلیموں کو ساتھ لانے کی اتنی کوشش نہیں کی جتنی ضروری تھی۔ اگر مدرسہ میں جانے والا دنیاوی تعلیم سے بھی آشنا ہوتا یا اسکول جانے والا ضروری دینی تعلیم سے بھی واقفیت رکھتا تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔
دونوں طبقوں کے مابین وقت کے ساتھ دوری بڑھتی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ایک دوسرے کو قبول کرنا ہی نہیں چاہتے۔

"البرکات" کا ایک یادگار واقعہ:
دوسال قبل حضرت سید امان میاں صاحب قبلہ کی دعوت پر تقریباً پندرہ روز "البرکات" میں قیام رہا، اس دوران کافی کچھ یادگار لمحے آئے مگر ایک ایسا لمحہ بھی آیا کہ جس کو میں بھول ہی نہیں سکتا.
رمضان کا مہینہ تھا اور البرکات پبلک اسکول کے امتحانات چل رہے تھے شاید، جب ہم سحری کے وقت ڈائننگ ہال میں جاتے تو تعجب ہوتا کہ "البرکات پبلک اسکول" میں پڑھنے والے چھوٹے چھوٹے بچے بھی روزہ رکھنے کے لیے سحری کھانے آتے اور ہر نماز میں پہلے سے موجود رہتے۔ غالباً دسواں روزہ تھا (اور ایسی شدید گرمی کے روزے تھے جن میں بڑے بڑے بھی روزہ نہ رکھنے کا بہانہ تلاش کرتے ہیں.) فجر کی اذان ہو چکی تھی اور میں جماعت کے انتظار میں مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا تھا، اسی دوران ایک چھوٹا سا بچہ (جس کی عمر میرے اندازے کے مطابق دس یا گیارہ سال رہی ہوگی.) میرے قریب آکر بیٹھا اور سلام کیا جواب کے بعد اس نے ایک مسئلہ دریافت کیا (جس کو سنتے ہی میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل ائے۔) کہ "آج میں سحری میں نہیں پہنچ سکا تو کیا بغیر سحری کا روزہ ہوسکتا ہے؟"
میں نے اس کو نیچے سے اوپر تک دیکھا اور کہا: "بیٹا بہت گرمی ہوتی ہے اور ابھی تم پر روزہ فرض بھی نہیں لہذا اگر سحری نہیں کی تو آج روزہ مت رکھو"۔ اس نے کہا: "میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں اگر ہوجائے تو رکھوں گا". میں نے کہا: "روزہ تو ہوجائے گا". اس کے چہرے پر خوشی کے آثار صاف دیکھے جاسکتے تھے۔
عصر کی نماز میں اس بچے کو دیکھا تو اس کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا، میں اس کے قریب گیا اور پوچھا: "بھوک لگ رہی ہے کیا؟" تو بڑا معصومانہ جواب تھا "بھوک تو نہیں لگی بس تھوڑی پیاس لگی ہے". میں نے کہا :صبر کرو! اب تھوڑا وقت بچا ہے اللہ بڑا اجر دیگا"۔ اور اس بچے کے لیے دل سے دعائیں نکلیں کہ یا اللہ!!! اس بچے کو کامیابیوں کی منزلیں طے کرادے۔

#قابل_توجہ_امر:
کاش البرکات پبلک اسکول جیسے ہزاروں اسکول ہمارے پاس ہوتے ت
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 244:*
کیا ہئیر ٹرانسپلانٹ کرانا (یعنی اپنے سر کے پیچھے کے بال سر کے اگلے حصے پر لگوانا) جائز ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
اس طرح ہیئر ٹرانسپلانٹ کرانا کہ اپنے سر کے اگلے حصے پر سر کے پچھلے حصے کے بال یا کسی دوسرے انسان یا خنزیر کے بال لگوا رہا ہے تو یہ ناجائز و حرام ہے، البتہ اگر کوئی آرٹیفشل (یعنی نقلی) بال لگوائے یا خنزیر کے علاوہ کسی اور جانور کے بال لگوائے تو پھر جائز ہے، کتے کے بال لگوانا اگرچہ جائز ہیں لیکن اس کے بارے ميں علمائے کرام کا شدید اختلاف ہے، اس لیے کتے کے بالوں کو نہ لگوانا بہتر ہے۔
چنانچہ علامہ زین الدین بن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"وَ شَعْرِ الْإِنْسَانِ وَالِانْتِفَاعِ بِهِ لَمْ يَجُزْ بَيْعُهُ وَالِانْتِفَاعُ بِهِ لِأَنَّ الْآدَمِيَّ مُكَرَّمٌ غَيْرُ مُبْتَذَلٍ فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ أَجْزَائِهِ مُهَانًا مُبْتَذَلًا، وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَ الْمُسْتَوْصِلَةَ» وَإِنَّمَا يُرَخَّصُ فِيمَا يُتَّخَذُ مِنْ الْوَبَرِ فَيَزِيدُ فِي قُرُونِ النِّسَاءِ وَ ذَوَائِبِهِنَّ"*
یعنی انسان کے بالوں کی خرید و فروخت اور اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے کیونکہ آدمی محترم ہے اس کے کسی جزء کو استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
"اللہ پاک ایسی عورت پر لعنت بھیجتا ہے جو اپنے بالوں میں (انسان یا خنزیر کے) بال ملاتی ہے یا ملواتی ہے۔"
ہاں عورت کا اپنے مینڈھیوں میں جانوروں کے بالوں کو  استعمال کرنے میں رخصت ہے۔"
*(البحر الرائق كتاب البيوع باب بیع الفاسد جلد 6 صفحہ 88 مطبوعہ دار الكتاب الاسلامی بیروت)*
2-علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف ابن ھمام رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"(لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ) وَھٰذَا اللَّعْنُ لِلْاِنْتِفَاعِ بِمَا لاَیَحِلُّ الْاِنْتِفَاعُ بِہٖ، اَلاَ تَرَی اَنَّہٗ رَخَّصَ فِیْ اِتِّخَاذِ الْقَرَامِیْلِ وَھُوَمَایُتَّخَذُ مِنَ الْوَبَرِ لِیَزِیْدَ فِی قُرُوْنِ النِّسَاءِ لِلتَّکْثِیْرِ ، فَظَھَرَ اَنَّ اللَّعْنَ لَیْسَ لِلتَّکْثِیْرِ مَعَ عَدَمِ الْکَثْرَةِ وَاِلاَّ لَمَنَعَ الْقَرَامِیْلُ وَلاَشَکَّ اَنَّ الزِّیْنَةَ حَلاَلࣨ،*
*قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ : قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَالَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ، فَلَو ْلاَلُزُوْمُ الْاِھَانَةِ بِالْاِسْتِعْمَالِ لَحَلَّ وَصْلُھَا بِشُعُوْرِ النِّسَاءِ اَیْضاً"*
یعنی (لعن اللہ الواصلة والمستوصلة) یہ لعنت اس انتفاع کیلیے ہے جس کے ساتھ انتفاع حلال نہیں، کیا تو نہیں دیکھتا کہ شرع نے موباف (جانوروں کے بالوں) کو ملانے میں رخصت دی ہے اور یہ اونٹ اور خرگوش وغیرہ کے بالوں سے بنایا جاتا ہے، تاکہ وہ عورتوں کی مینڈھیوں میں بالوں کو زیادہ کرنے کیلیے زیادتی کرے پس ظاہر ہوگیا کہ لعنت کم بالوں کے ساتھ بالوں کو زیادہ کرنے کیلیے نہیں ورنہ موباف (جانوروں کے بال) بھی ضرور منع ہوتے، اور کوئی شک نہیں کہ زینت حلال ہے،
اللہ تعالی نے فرمایا :
"تم فرماؤ کس نےحرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کیلیے نکالی."
پس اگر (انسانوں کے بالوں کو) استعمال کرنے کے ساتھ اہانت لازم نہ آتی تو بالوں کو عورتوں کے بالوں کے ساتھ ملانا بھی ضرور حلال ہوتاـ
*(فتح القدیر، البیع الفاسد، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"وَاِنَّمَا الرُّخْصَةُ فِی شَعْرِ غَیْرِ بَنِیْ اٰدَمَ تَتَّخِذُہٗ الْمَرْاَةُ لِتَزِیْدَ فِیْ قُرُوْنِھَا"*
یعنی بنی آدم (انسانوں) کے بالوں کے علاوہ میں ہی رخصت ہے جن کو عورت ملاتی ہے تاکہ عورت اپنی مینڈھیوں (گیسیوں) میں اضافہ کرسکےـ
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، فصل فی النظر و اللمس، جلد 9، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"انسان کے بال کی بیع درست نہیں اور انہیں کام میں لانا بھی جائز نہیں، مثلاً ان کی چوٹیاں بنا کر عورتیں استعمال کریں حرام ہے، حدیث میں اس پر لعنت فرمائی۔"
*(بہارِ شریعت جلد 2 صفحہ 700 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
فتاوی یورپ میں ہے :
زنده یا مرده انسانوں کے بالوں سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا ممنوع و ناجائز ہے اور اس کا کھانا پینا احتراماً و اکراماً حرام ہے، اسی طرح اس کی خرید و فروخت اور اس کا کاروبار ناجائز ہے۔
البحرالرائق میں ہے :
*"شعر الانسان و الانتفاع بہ ای لم یجز بیعہ و الانتفاع بہ لان الآدمی مکرم"*
انسانی بال سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا (خواہ وہ کھانے پینے سے متعلق ہو یا خریدو فروخت سے) جائز نہیں ہے کیونکہ انسان اپنے تمام اعضاء انسانی کے ساتھ لائقِ تعظیم ہے۔
*(فتاوی یورپ صفحہ 466 م
طبوعہ شبیر برادرز لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
22/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح،
*مفتی و حکیم محمد عارف محمود خان معطر قادری،مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی۔*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دار الإفتاء اہل سنت دعوت اسلامی کا ایک فتویٰ آپ کو پیش کرتا ہوں جو ماہنامہ فیضان مدینہ میں بھی شائع ہوا ہے:

داڑھ بھروانے کی صورت میں وُضو و غسل کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی شخص نے اگر اپنی داڑھ بھروائی ہو تو کیا اس کا وُضو و غسل ہو جائے گا؟ جبکہ داڑھ بھروائی ہو تو اس کو نکالا نہیں جاسکتا۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

داڑھ بھروانا شرعی طور پر جائز ہے اور اگر کسی نے داڑھ بھروائی ہو تو اس کا وُضو و غسل بِلاکراہت ہو جائے گا اور اس کے نیچے پانی نہ پہنچانے کو وُضو میں ترکِ سنّت اور غسل میں ترکِ فرض قرار نہ دیا جائے گا کیونکہ ایسی حالت میں اس کے نیچے پانی بہانا ناممکن ہوتا ہے اور جس جگہ تک پانی پہنچانا مُتَعَذِّر ہو یا مَشَقَّت و حرج کا باعث ہو وہاں تک پانی پہنچانے کا شریعت نے مُکَلَّف نہیں کیا۔

اس کی نَظِیر ہلتا ہوا دانت ہے کہ اگر تار سے باندھا ہو یا کسی مسالے وغیرہ سے جمایا ہو یا دانتوں میں چونا یا مِسِّی کی ریخیں جم گئی ہوں تو شرعی طور پر اس کے نیچے پانی بہانا ضَروری نہیں یونہی مصنوعی دانت لگوانے کی صورت میں اگر دانت کو اُتارنا حرج و مَشَقَّت کا باعث ہو تو اُتار کر نیچے پانی بہانے کی حاجت نہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مُجِیْب مُصَدِّق

محمد ساجد عطاری محمدہاشم خان العطاری المدنی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM