Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماھنامہ "معارف رضا"،کراچی بابت ماہ ستمبر 2014ءمیں راقم کاشائع ھونے والا مضمون٬جس میں سیدی اعلی حضرت امام اھل سنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمة اللہ علیہ پر دیوبندی جضرات کی طرف سے کیے جانے اعتراض کا دندان شکن جواب دیا گیا ھے _
میثم عباس قادری رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2817664525179523&id=100008080090753
میثم عباس قادری رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2817664525179523&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماہنامہ اعلی حضرت بریلی شریف اکتوبر 2015ء میں شائع ہونے والا راقم کا مضمون جو ایک غیر مقلد وہابی کے جواب میں لکھا گیا اس میں ثابت کیا گیا ہے کہ وہابیہ کے مزعومہ امام مجدد مفسرنواب صدیق حسن قنوجی ثم بھوپالی کی زوجہ ملکہ بھوپال موصوف کی موجودگی میں انگریزوں سے ہاتھ ملاتی,اُن کو اپنے ہاتھ سے پان بنا کر دیتی,ان کو ہار پہناتی کرتی,اور ایک انگریز کے پاس مہینہ رہ کر اپنی بات منوا کر آئی.اسی کی دولت استعمال کر کے نواب صدیق حسن نے اپنی کتب شائع کروا کر وہابیت کی ترویج کی گویا دیگر حربوں کے ساتھ ساتھ العروج بالفروج کے مکروہ فارمولے کو بھی وہابیت کی اشاعت کے لیے استعمال کیا گیا.
میثم عباس قادری رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2817664335179542&id=100008080090753
میثم عباس قادری رضوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2817664335179542&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اعلٰی حضرت کے والدامام المتکلمین حضرت مولانانقی علی خان رحمۃُ اللّٰہ علیہ پردیوبندی اعتراض کاجواب,یہ مقالہ ماہنامہ اعلٰی حضرت بریلی شریف بابت ماہِ اکتوبر2019ءکے شمارہ میں شامل ہے.
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2817664251846217&id=100008080090753
میثم قادری
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2817664251846217&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Daleel.Pk
کتاب خرید کر مصنف سے تعاون کریں -
آج مجھے ایک ایسی عادت کو ڈسکس کرنا ہے جو بہت سے علم دوست کہلانے والے ساتھیوں میں پائی جاتی ہے اور وہ میری نظر میں اچھی عادت نہیں ہے۔ اکثر طلبۃ العلم بلکہ علماء کا بھی رویہ یہ بن چکا ہے کہ انہیں کوئی کتاب خریدنی نہ پڑے اور ہر مصنف انہیں اپنی کتاب ہدیہ اور گفٹ کرے جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے۔
میں پہلے بھی ایک پوسٹ میں عرض کر چکا ہوں کہ اس وقت اردو بازار کے پبلشرز کی صورت حال یہ ہے کہ کوئی آپ کی کتاب پبلش کرنے کو تیار نہیں ہے، چاہے آپ کتنے اچھے ہی لکھاری کیوں نہ ہوں، اور تو اور عطاء الحق قاسمی صاحب نے اپنے ایک کالم میں شکایت کی ہے کہ اب تو وہ دور ہے کہ ہماری کتابیں چھاپنے کے لیے بھی پبلشر پیسے مانگتے ہیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں؛ ایک وجہ تو یہ ہے کہ پہلے مصنفین کی تعداد کم تھی لہذا پبلشرز کو چھاپنے کے لیے کچھ چاہیے تھا اور اب لکھنے والے اتنے ہو گئے ہیں، ما شاءاللّٰہ سے،اور دوسرا یہ کہ پبلشرز نے بھی اتنی کتابیں چھاپ لی ہیں کہ اب ان کے پاس مزید پر انویسٹمنٹ کی گنجائش نہیں ہے۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پبلشرز عموما اس کی کتاب چھاپتے ہیں کہ جس کا بڑا نام ہو اور دوسرا وہ کتاب ایسی ہو کہ بازار میں نکلنے والی ہو یعنی عوامی موضوع ہو۔لہٰذا تحقیقی اور تخلیقی نوعیت کے کام کو کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔ ایسے میں مصنف کو اپنا شہ پارہ، ظاہری بات ہے دوسروں کے نزدیک وہ ردّی ہو گا لیکن اس بے چارے کے نزدیک تو وہ شہ پارہ اور ماسٹر پیس ہی ہو گا، پبلش کروانا ہے اور عوام کے سامنے لانا ہے تو اسے انویسٹمنٹ بھی خود ہی سے کرنی ہو گی۔اور ایک طرف وہ بے چارہ تحقیق اور تخلیق کرے اور پھر اس کو پیسے لگا کر پبلش کروائے اور اب مفت میں تقسیم بھی کرے تو یہ اس کے ساتھ بہت ظلم ہے اور علم کی ناقدری بھی۔
نوجوان اور نئے لکھاریوں کی تصانیف اور تالیفات کی پبلشنگ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حوصلہ افزائی نہیں ہو پاتی لہٰذا آپ کو تحقیق اور تالیف کے نام پر کچھ نئی چیز دیکھنے کو بھی نہیں ملتی۔ اب کچھ عرصے سے اردو بازار میں تحقیق وتصنیف کا غالب رجحان یہی بن چکا ہے کہ گناہ کبیرہ پر کتاب نکال دیں،اس کے بعد عنوان تبدیل کریں اور محرمات اور حرام امور کے نام سے کتاب چھاپ دیں، پھر کبھی جنتی مرد چھاپ دیں اور کبھی جہنمی عورت، کبھی دس تراجم قرآن کو سامنے رکھ کر ایک نیا ترجمہ قرآن چھاپ دیں۔ کبھی حدیث کی کتاب کی ایک تخریج اور تحقیق چھاپ دیں، کبھی دوسری۔ بس ایک ہی موضوع کو عنوان اور ٹائیٹل پیج بدل بدل کر رگڑا لگاتے رہیں۔ بس یہی تحقیق اور تخلیق ہے جو بد قسمتی سے علم وتحقیق کے نام سے باقی رہ گئی ہے۔
ایسے میں اگر کوئی مصنف اس تقلیدی رجحان سے ہٹ کر کچھ تحقیقی پیش کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے محنت کر کے کوئی چیز سامنے لاتا ہے تو اب عوام کے اوپر ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی اس طرح کریں کہ اس کی کتاب خرید کر پڑھیں۔۔۔۔۔۔۔
اگرکوئِی ہمت کر کے اپنے ذاتی خرچہ پر کوئی تصنیف سامنے لاتا بھی ہے تو آپ اس کو خریدنے کے بجائے مفت حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں گے تو آپ انہیں یہ میسج پہنچائیں گے کہ بھئی، یہ کتاب کو شائع کر لی، اسے تومفت تقسیم کر دو، اب اگلی کی غلطی نہ کرنا۔ ایک کتاب کی قیمت اگر دو سو ہے، یعنی آپ کو دو سو میں پڑتی تو مصنف کو وہ دو لاکھ میں پڑتی ہے، آپ کتاب نہیں خریدںیں گے تو وہ دو لاکھ کا مقروض ہو جائے گا۔
اور ویسے بھی ایک مصنف کی کتاب جب شائع ہوتی ہے تو وہ پچاس ساٹھ نسخے یا ستر اسی نسخے ضرور مفت میں لوگوں کو دیتا ہے، اور اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جنہیں فری میں نسخہ ملا ہے تو مصنف کا اچھے سے شکریہ تو ادا کر دیں، میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ستر اسی فیصد علماء اور پروفیسر جن کو آپ فری میں کتاب بھجوائیں، شکریہ تو دور کی بات اتنی اطلاع بھی نہیں دیتے کہ کتاب موصول ہو چکی ہے جبکہ ان کے پاس آپ کا موبائل، ای میل اور پوسٹل ایڈریس سب پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ہمیں اپنے رویوں کو ریوائز کرنے کی ضرورت ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2816001275345848&id=100008080090753
کتاب خرید کر مصنف سے تعاون کریں -
آج مجھے ایک ایسی عادت کو ڈسکس کرنا ہے جو بہت سے علم دوست کہلانے والے ساتھیوں میں پائی جاتی ہے اور وہ میری نظر میں اچھی عادت نہیں ہے۔ اکثر طلبۃ العلم بلکہ علماء کا بھی رویہ یہ بن چکا ہے کہ انہیں کوئی کتاب خریدنی نہ پڑے اور ہر مصنف انہیں اپنی کتاب ہدیہ اور گفٹ کرے جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے۔
میں پہلے بھی ایک پوسٹ میں عرض کر چکا ہوں کہ اس وقت اردو بازار کے پبلشرز کی صورت حال یہ ہے کہ کوئی آپ کی کتاب پبلش کرنے کو تیار نہیں ہے، چاہے آپ کتنے اچھے ہی لکھاری کیوں نہ ہوں، اور تو اور عطاء الحق قاسمی صاحب نے اپنے ایک کالم میں شکایت کی ہے کہ اب تو وہ دور ہے کہ ہماری کتابیں چھاپنے کے لیے بھی پبلشر پیسے مانگتے ہیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں؛ ایک وجہ تو یہ ہے کہ پہلے مصنفین کی تعداد کم تھی لہذا پبلشرز کو چھاپنے کے لیے کچھ چاہیے تھا اور اب لکھنے والے اتنے ہو گئے ہیں، ما شاءاللّٰہ سے،اور دوسرا یہ کہ پبلشرز نے بھی اتنی کتابیں چھاپ لی ہیں کہ اب ان کے پاس مزید پر انویسٹمنٹ کی گنجائش نہیں ہے۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پبلشرز عموما اس کی کتاب چھاپتے ہیں کہ جس کا بڑا نام ہو اور دوسرا وہ کتاب ایسی ہو کہ بازار میں نکلنے والی ہو یعنی عوامی موضوع ہو۔لہٰذا تحقیقی اور تخلیقی نوعیت کے کام کو کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔ ایسے میں مصنف کو اپنا شہ پارہ، ظاہری بات ہے دوسروں کے نزدیک وہ ردّی ہو گا لیکن اس بے چارے کے نزدیک تو وہ شہ پارہ اور ماسٹر پیس ہی ہو گا، پبلش کروانا ہے اور عوام کے سامنے لانا ہے تو اسے انویسٹمنٹ بھی خود ہی سے کرنی ہو گی۔اور ایک طرف وہ بے چارہ تحقیق اور تخلیق کرے اور پھر اس کو پیسے لگا کر پبلش کروائے اور اب مفت میں تقسیم بھی کرے تو یہ اس کے ساتھ بہت ظلم ہے اور علم کی ناقدری بھی۔
نوجوان اور نئے لکھاریوں کی تصانیف اور تالیفات کی پبلشنگ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حوصلہ افزائی نہیں ہو پاتی لہٰذا آپ کو تحقیق اور تالیف کے نام پر کچھ نئی چیز دیکھنے کو بھی نہیں ملتی۔ اب کچھ عرصے سے اردو بازار میں تحقیق وتصنیف کا غالب رجحان یہی بن چکا ہے کہ گناہ کبیرہ پر کتاب نکال دیں،اس کے بعد عنوان تبدیل کریں اور محرمات اور حرام امور کے نام سے کتاب چھاپ دیں، پھر کبھی جنتی مرد چھاپ دیں اور کبھی جہنمی عورت، کبھی دس تراجم قرآن کو سامنے رکھ کر ایک نیا ترجمہ قرآن چھاپ دیں۔ کبھی حدیث کی کتاب کی ایک تخریج اور تحقیق چھاپ دیں، کبھی دوسری۔ بس ایک ہی موضوع کو عنوان اور ٹائیٹل پیج بدل بدل کر رگڑا لگاتے رہیں۔ بس یہی تحقیق اور تخلیق ہے جو بد قسمتی سے علم وتحقیق کے نام سے باقی رہ گئی ہے۔
ایسے میں اگر کوئی مصنف اس تقلیدی رجحان سے ہٹ کر کچھ تحقیقی پیش کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے محنت کر کے کوئی چیز سامنے لاتا ہے تو اب عوام کے اوپر ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی اس طرح کریں کہ اس کی کتاب خرید کر پڑھیں۔۔۔۔۔۔۔
اگرکوئِی ہمت کر کے اپنے ذاتی خرچہ پر کوئی تصنیف سامنے لاتا بھی ہے تو آپ اس کو خریدنے کے بجائے مفت حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں گے تو آپ انہیں یہ میسج پہنچائیں گے کہ بھئی، یہ کتاب کو شائع کر لی، اسے تومفت تقسیم کر دو، اب اگلی کی غلطی نہ کرنا۔ ایک کتاب کی قیمت اگر دو سو ہے، یعنی آپ کو دو سو میں پڑتی تو مصنف کو وہ دو لاکھ میں پڑتی ہے، آپ کتاب نہیں خریدںیں گے تو وہ دو لاکھ کا مقروض ہو جائے گا۔
اور ویسے بھی ایک مصنف کی کتاب جب شائع ہوتی ہے تو وہ پچاس ساٹھ نسخے یا ستر اسی نسخے ضرور مفت میں لوگوں کو دیتا ہے، اور اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جنہیں فری میں نسخہ ملا ہے تو مصنف کا اچھے سے شکریہ تو ادا کر دیں، میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ستر اسی فیصد علماء اور پروفیسر جن کو آپ فری میں کتاب بھجوائیں، شکریہ تو دور کی بات اتنی اطلاع بھی نہیں دیتے کہ کتاب موصول ہو چکی ہے جبکہ ان کے پاس آپ کا موبائل، ای میل اور پوسٹل ایڈریس سب پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ہمیں اپنے رویوں کو ریوائز کرنے کی ضرورت ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2816001275345848&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM