Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
"علماے فرنگی محل"ایک قاری کی نظر میں(قسط:3)
1913ء/ ۱۳۳۱ھ میں مچھلی بازار کان پور کی مسجد کا سانحہ رونما ہوا۔یہ مسجد مچھلی بازار مسٹن روڈ کان پور میں واقع تھی۔آگرہ و اودھ کی سڑکوں کی توسیع کے لیے حکومت نے 2.5 لاکھ روپے گرانٹ کی منظوری دی اور کام شروع ہو گیا۔
اس توسیع کی زد میں مسجد کا مشرقی حصہ اور مندر آتا تھا اگر طے شدہ پلاننگ کے تحت توسیع کی جاتی تو مندر منہدم کرنا پڑتا۔لیکن ہندوؤں کے دباؤ کی وجہ سے حکام نے مندر کی بجاۓ مسجد کان پور کے وضو خانہ کو منہدم کرنے کا ارادہ کر لیا۔جب یہ بات مذکورہ مسجد کے ٹرسٹیوں کو معلوم ہوئی تو ان لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر جمیس مسٹن کو شاہد حسین بیرسٹر کے ذریعے اپیل دائر کی کہ زمین کا یہ حصہ مسجد کا ہے۔جسے مذہبی نقطہ نظر سے کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔فقہِ اسلامی کا قاعدہ ہے کہ
"وقف بالعوض یا بلا عوض قابلِ انتقال نہیں "
احکام بالا جو کہ فرنگی تھے۔انہوں نے مسلم اقوام کے مذہبی جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے مسجد مذکورہ کا سڑک کی جانب والا حصہ منہدم کر ڈالا جس کی وجہ سے مسلمانوں میں غصہ۔بے چینی اور اضطراب پیدا ہو گیا۔ مسلمانوں نے اعلٰی حکام کے حکم کی پروا نہ کرتے ہوئے مذکورہ منہدم شدہ حصے کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ٹھانی۔نتیجے میں فرنگیوں کی طرف سے گولی چلائی گئی اور کافی تعداد میں مسلمان شہید ہو گئے۔
یہاں تک جو بات بیان کی گئی ہے اس کو ہر تاریخ لکھنے والے نے بالکل اسی طرح بیان کیا ہے۔لیکن اصل ڈنڈی اس سے آگے ماری گئی ہے اور نام دیا گیا ہے "تحقیقات نادرہ' تخلیقات تازہ" کا۔
احبابِ ذِی قدر!اس دوران اس سانحہ کے اثرات کو کم یا ختم کرنے کے لیے مولانا عبد الباری فرنگی محلی۔آزاد سبحانی۔مہاراجہ محمودآباد۔وغیرہ میدانِ عمل میں آتے ہیں۔ سیاسی پلیٹ فارم پر پُرجوش تقاریر ہوتی ہیں۔پھر حکومتِ فرہنگ اور مُسلم زعما کے درمیان مصالحت کی کوشش شروع ہوتی ہے۔مصالحت کے نکات طے کئے جاتے ہیں۔پھر مصالحت ہو جاتی ہے۔اور مسلم اقوام بڑی خون ریزی سے بچ جاتی ہے۔
اس مصالحت کے نکات کو لکھ کر فرنگی محل سے امام احمد رضا قادری سےشرعی طور پر راۓ لی جاتی ہے۔تو نتیجے میں "ابانہ المتواری فی مصالحتہ عبد الباری" وجود میں آتی ہے۔
اس رسالہ کے تفصیلی جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ کان پور مسجد کے سانحہ کے دوران جتنے اخبارات نے جو رپورٹس پبلش کی تھیں وہ سب کی سب اعلٰی حضرت کی نظر میں تھیں۔جس کی وجہ سے مصالحت کے نکات پر اعلٰی حضرت نے کئی جہتوں سے مضبوط اور ناقابلِ تردید دلائل سے گرفت فرمائی۔اس موضوع پر دیگر لکھاریوں کی تحریرات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اعلٰی حضرت کے علاوہ مولوی مقتدیٰ احمد خان شیر وانی نے بھی"ابلیس کا خطبہ صدارت "نامی رسالہ لکھ کر مصالحتی نکات کے اندر پاۓ جانے والےی شرعی قباحتوں کو واضح کیا تھا۔
لیکن خوشتر نورانی کی متنی اصولوں پر تحقیق کو کیا نام دیا جائے گا کہ اس "شاطر" اور "خائن تاریخ گر"نے مولاناعبد الباری فرنگی محلی کے تمام کارہائے نمایاں تو گنوا دیے۔لیکن نہ تو مصالحت کے نکات متنی اصولوں پر مشتمل اپنی تحقیقِ نادرہ میں درج کئے اور نا ہی یہ لکھنا گوارا کیا کہ اس موضوع پر مولوی مقتدیٰ احمد خان شیروانی کا رسالہ بھی موجود ہے۔البتہ بڑی چابک دستی سے امام احمد رضا کے رسالہ کا ذکر حاشیہ میں کر دیا ہے۔جس سے یہ تاثر لازمی طور پر ہراس قاری کے ذہن میں جاگزیں ہو گا جو وسیع اور تمام اطراف و جوانب پر اطلاع نہیں رکھتا کہ مصالحت کے تو اعلٰی حضرت ھی خلاف تھے۔
جب ہم نے اس موضوع پر دیگر دستیاب مواد پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ مصالحت کے نام پر شرع محمدی کے اُصولوں پر مکمل سمجھوتہ کیا گیا۔مذکورہ مسجد کا وضو خانے والا حصہ منہدم ہو کر رہا۔بس اتنا کیا گیا کہ نیچے سڑک بنا کر اُوپر چھت ڈال دی گئی تھی جو کہ وقف کے اصولوں کی 100% خلاف ورزی تھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شریعت محمدی کی اس طرح خلاف ورزی کرنے والے افراد کی ہاں میں ہاں ملانی تھی تو پھر لگاتار یہ پروپیگنڈا مہم کیوں چلائی جا رہی ہے کہ مصالحت کی گئی ۔مصالحت کی گئی۔
مولانا عبد الباری فرنگی محلی نے مسلمانوں کو مزید خون خرابہ کرنے سے بچایا۔خود بیچ بچاؤ کیلئے آگے بڑھے۔یہ کریڈٹ تو ان کو جاتا ہے لیکن اس کریڈٹ کے عوض اسلامی فقہی اصولوں کی قربانی دی گئی۔جب سب کچھ قربان کر کے بھی سمجھو تا ہی کرنا تھاتو تاریخ نگار مسلسل اور تواتر سے یہ جھوٹ کیوں پھیلانے پر مصر ہیں کہ" بغیر کسی کی پروا کیے عین اسلامی قوانین کے تحت نکات پر مصالحت کروائی گئی"
یہ تاریخ نگاروں کا وہ جھوٹ ہےجس کا پردہ چاک کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
جو تھا نا خوب وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
قسط اول کالنک:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2795525817393394&id=100008080090753
قسط دوم کالنک:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2799495580329751&id=100008080090753
1913ء/ ۱۳۳۱ھ میں مچھلی بازار کان پور کی مسجد کا سانحہ رونما ہوا۔یہ مسجد مچھلی بازار مسٹن روڈ کان پور میں واقع تھی۔آگرہ و اودھ کی سڑکوں کی توسیع کے لیے حکومت نے 2.5 لاکھ روپے گرانٹ کی منظوری دی اور کام شروع ہو گیا۔
اس توسیع کی زد میں مسجد کا مشرقی حصہ اور مندر آتا تھا اگر طے شدہ پلاننگ کے تحت توسیع کی جاتی تو مندر منہدم کرنا پڑتا۔لیکن ہندوؤں کے دباؤ کی وجہ سے حکام نے مندر کی بجاۓ مسجد کان پور کے وضو خانہ کو منہدم کرنے کا ارادہ کر لیا۔جب یہ بات مذکورہ مسجد کے ٹرسٹیوں کو معلوم ہوئی تو ان لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر جمیس مسٹن کو شاہد حسین بیرسٹر کے ذریعے اپیل دائر کی کہ زمین کا یہ حصہ مسجد کا ہے۔جسے مذہبی نقطہ نظر سے کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔فقہِ اسلامی کا قاعدہ ہے کہ
"وقف بالعوض یا بلا عوض قابلِ انتقال نہیں "
احکام بالا جو کہ فرنگی تھے۔انہوں نے مسلم اقوام کے مذہبی جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے مسجد مذکورہ کا سڑک کی جانب والا حصہ منہدم کر ڈالا جس کی وجہ سے مسلمانوں میں غصہ۔بے چینی اور اضطراب پیدا ہو گیا۔ مسلمانوں نے اعلٰی حکام کے حکم کی پروا نہ کرتے ہوئے مذکورہ منہدم شدہ حصے کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ٹھانی۔نتیجے میں فرنگیوں کی طرف سے گولی چلائی گئی اور کافی تعداد میں مسلمان شہید ہو گئے۔
یہاں تک جو بات بیان کی گئی ہے اس کو ہر تاریخ لکھنے والے نے بالکل اسی طرح بیان کیا ہے۔لیکن اصل ڈنڈی اس سے آگے ماری گئی ہے اور نام دیا گیا ہے "تحقیقات نادرہ' تخلیقات تازہ" کا۔
احبابِ ذِی قدر!اس دوران اس سانحہ کے اثرات کو کم یا ختم کرنے کے لیے مولانا عبد الباری فرنگی محلی۔آزاد سبحانی۔مہاراجہ محمودآباد۔وغیرہ میدانِ عمل میں آتے ہیں۔ سیاسی پلیٹ فارم پر پُرجوش تقاریر ہوتی ہیں۔پھر حکومتِ فرہنگ اور مُسلم زعما کے درمیان مصالحت کی کوشش شروع ہوتی ہے۔مصالحت کے نکات طے کئے جاتے ہیں۔پھر مصالحت ہو جاتی ہے۔اور مسلم اقوام بڑی خون ریزی سے بچ جاتی ہے۔
اس مصالحت کے نکات کو لکھ کر فرنگی محل سے امام احمد رضا قادری سےشرعی طور پر راۓ لی جاتی ہے۔تو نتیجے میں "ابانہ المتواری فی مصالحتہ عبد الباری" وجود میں آتی ہے۔
اس رسالہ کے تفصیلی جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ کان پور مسجد کے سانحہ کے دوران جتنے اخبارات نے جو رپورٹس پبلش کی تھیں وہ سب کی سب اعلٰی حضرت کی نظر میں تھیں۔جس کی وجہ سے مصالحت کے نکات پر اعلٰی حضرت نے کئی جہتوں سے مضبوط اور ناقابلِ تردید دلائل سے گرفت فرمائی۔اس موضوع پر دیگر لکھاریوں کی تحریرات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اعلٰی حضرت کے علاوہ مولوی مقتدیٰ احمد خان شیر وانی نے بھی"ابلیس کا خطبہ صدارت "نامی رسالہ لکھ کر مصالحتی نکات کے اندر پاۓ جانے والےی شرعی قباحتوں کو واضح کیا تھا۔
لیکن خوشتر نورانی کی متنی اصولوں پر تحقیق کو کیا نام دیا جائے گا کہ اس "شاطر" اور "خائن تاریخ گر"نے مولاناعبد الباری فرنگی محلی کے تمام کارہائے نمایاں تو گنوا دیے۔لیکن نہ تو مصالحت کے نکات متنی اصولوں پر مشتمل اپنی تحقیقِ نادرہ میں درج کئے اور نا ہی یہ لکھنا گوارا کیا کہ اس موضوع پر مولوی مقتدیٰ احمد خان شیروانی کا رسالہ بھی موجود ہے۔البتہ بڑی چابک دستی سے امام احمد رضا کے رسالہ کا ذکر حاشیہ میں کر دیا ہے۔جس سے یہ تاثر لازمی طور پر ہراس قاری کے ذہن میں جاگزیں ہو گا جو وسیع اور تمام اطراف و جوانب پر اطلاع نہیں رکھتا کہ مصالحت کے تو اعلٰی حضرت ھی خلاف تھے۔
جب ہم نے اس موضوع پر دیگر دستیاب مواد پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ مصالحت کے نام پر شرع محمدی کے اُصولوں پر مکمل سمجھوتہ کیا گیا۔مذکورہ مسجد کا وضو خانے والا حصہ منہدم ہو کر رہا۔بس اتنا کیا گیا کہ نیچے سڑک بنا کر اُوپر چھت ڈال دی گئی تھی جو کہ وقف کے اصولوں کی 100% خلاف ورزی تھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شریعت محمدی کی اس طرح خلاف ورزی کرنے والے افراد کی ہاں میں ہاں ملانی تھی تو پھر لگاتار یہ پروپیگنڈا مہم کیوں چلائی جا رہی ہے کہ مصالحت کی گئی ۔مصالحت کی گئی۔
مولانا عبد الباری فرنگی محلی نے مسلمانوں کو مزید خون خرابہ کرنے سے بچایا۔خود بیچ بچاؤ کیلئے آگے بڑھے۔یہ کریڈٹ تو ان کو جاتا ہے لیکن اس کریڈٹ کے عوض اسلامی فقہی اصولوں کی قربانی دی گئی۔جب سب کچھ قربان کر کے بھی سمجھو تا ہی کرنا تھاتو تاریخ نگار مسلسل اور تواتر سے یہ جھوٹ کیوں پھیلانے پر مصر ہیں کہ" بغیر کسی کی پروا کیے عین اسلامی قوانین کے تحت نکات پر مصالحت کروائی گئی"
یہ تاریخ نگاروں کا وہ جھوٹ ہےجس کا پردہ چاک کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
جو تھا نا خوب وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
قسط اول کالنک:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2795525817393394&id=100008080090753
قسط دوم کالنک:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2799495580329751&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.