Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟ (پارٹ 2) نظامِ عالَم میں عورت کی ضروت: الحمد للہ اللہ تعالٰی نے ساری کائنات کی تخلیق کی اور اس میں اپنی قدرتوں کی بے شمار خوبصورت کاریگری کا اظہار کیا۔ اللہ تعالٰی کی خوبصورت قدرتوں پر جب ہم غور کریں تو انسان کی عقل وفہم اسی…
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟
(پارٹ 3)
عورت، اسلام سے پہلے
اسلام سے پہلے عورتوں کا حال بہت خراب تھا۔ دنیا میں عورتوں کی کوئی عزت و وقعت ہی نہیں تھی۔ مردوں کی نظر میں اس سے زیادہ عورتوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی کہ وہ مردوں کی نفسانی خواہش پوری کرنے کا ایک "کھلونا" تھیں۔
عورتیں دن رات مردوں کی قسم قسم کی خدمت کرتی تھیں اور طرح طرح کے کاموں سے یہاں تک کہ دوسروں کی محنت مزدوری کرکے جو کچھ کماتی تھیں وہ بھی مردوں کو دے دیا کرتی تھیں مگر ظالم مرد پھر بھی ان عورتوں کی کوئی قدر نہیں کرتے تھے بلکہ جانوروں کی طرح ان کو مارتے، پیٹتے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر عورتوں کے کان ناک وغیرہ اعضا کاٹ لیا کرتے تھے اور کبھی قتل بھی کر ڈالتے تھے!
عرب کے لوگ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے اور باپ کے مرنے کے بعد اس کے لڑکے جس طرح باپ کی جائیداد اور سامان کے مالک ہو جایا کرتے تھے اسی طرح اپنے باپ کی بیویوں کے مالک بن جایا کرتے تھے اور ان عورتوں کو زبردستی لونڈیاں بنا کر رکھ لیا کرتے تھے۔ عورتوں کو ان کے ماں باپ بھائی بہن یا شوہر کی میراث میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا تھا، نہ عورتیں کسی چیز کی مالک ہوا کرتی تھیں۔
عرب کے بعض قبیلوں میں یہ ظالمانہ دستور تھا کہ بیوہ ہو جانے کے بعد عورتوں کو گھر سے باہر نکال کر ایک چھوٹے سے تنگ و تاریک جھونپڑے میں ایک سال تک قید میں رکھا جاتا تھا۔ وہ جھونپڑے سے باہر نہیں نکل سکتی تھیں، نہ غسل کرتی تھیں، نہ کپڑے بدل سکتی تھیں، کھانا پانی اور اپنی ساری ضرورتیں اسی جھونپڑے میں پوری کرتی تھیں۔ بہت سی عورتیں تو گھٹ گھٹ کر مر جاتی تھیں اور جو زندہ بچ جاتی تھیں تو ایک سال کے بعد ان کے آنچل میں اونٹ کی مینگنیاں ڈال دی جاتی تھیں اور ان کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ کسی جانور کے بدن سے اپنے بدن کو رگڑیں پھر سارے شہر کا اسی گندے لباس میں چکر لگائیں اور ادھر ادھر اونٹ کی مینگنیاں پھینکتی ہوئی چلتی رہیں یہ اس بات کا اعلان ہوتا تھا کہ ان عورتوں کی عدت ختم ہوگئی ہے۔
اسی طرح کی دوسری بھی طرح طرح کی خراب اور تکلیف دہ رسمیں تھیں جو غریب عورتوں کے لیے مصیبتوں اور بلاؤں کا پہاڑ بنی ہوئی تھیں اور بے چاری مصیبت کی ماری عورتیں گھٹ گھٹ کر اور رو رو کر اپنی زندگی کے دن گزارتی تھیں۔
ہندوستان میں تو بیوہ عورتوں کے ساتھ ایسے ایسے دردناک ظالمانہ سلوک کیے جاتے تھے کہ جن کو سوچ سوچ کر کلیجہ منھ کو آجاتا ہے۔ ہندو دھرم میں ہر عورت کے لیے فرض تھا کہ وہ زندگی بھر قسم قسم کی خدمتیں کرکے "پتی پوجا" (شوہر کی پوجا) کرتی رہے اور شوہر کی موت کے بعد اس کی "چتا" کی آگ کے شعلوں پر زندہ لیٹ کر "ستی" ہو جائے یعنی شوہر کی لاش کے ساتھ زندہ عورت بھی جل کر راکھ ہو جائے غرض پوری دنیا میں بے رحم اور ظالم مرد عورتوں پر ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے کہ ان ظلموں کی داستان سن کر ایک دردمند انسان کے سینے میں رنج وغم سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ان مظلوم اور بیکس عورتوں کی مجبوری و لاچاری کا یہ عالم تھا کہ سماج میں نہ عورتوں کے کوئی حقوق تھے نہ ان کی مظلومیت پر دادوفریاد کے لیے کسی قانون کا کوئی سہارا تھا۔ ہزاروں برس تک یہ ظلم و ستم کی ماری دکھیاری عورتیں اپنی اس بے کسی اور لاچاری پر روتی بلبلاتی اور آنسوبہاتی رہیں مگر دنیا میں کوئی بھی ان عورتوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والا اور ان کی مظلومیت کے آنسوؤں کوپونچھنے والا دور دور تک نظر نہیں آتا تھا، نہ دنیا میں کوئی بھی ان کے دکھ درد کی فریاد سننے والا تھا نہ کسی کے دل میں ان عورتوں کے لیے بال برابر بھی رحم و کرم کا کوئی جذبہ تھا۔
عورتوں کے اس حال زار پر انسانیت رنج و غم سے بے چین اور بے قرار تھی مگر اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ رحمت خداوندی کا انتظار کرے کہ ارحم الراحمین غیب سے کوئی ایسا سامان پیدا فرمادے کہ اچانک ساری دنیا میں ایک انوکھا انقلاب نمودار ہوجائے اور لاچار عورتوں کا سارا دکھ درد دور ہو کر ان کا بیڑاپار ہو جائے چنانچہ رحمت کا آفتاب جب طلوع ہو گیا تو ساری دنیا نے اچانک یہ محسوس کیا کہ ؎
جہاں تاریک تھا 'ظلمت کدہ تھا' سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھرگھرمیں اجالا تھا
(ماخوذ از جنتی زیور، علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمہ)
جاری...
عبد مصطفی آفیشل
(پارٹ 3)
عورت، اسلام سے پہلے
اسلام سے پہلے عورتوں کا حال بہت خراب تھا۔ دنیا میں عورتوں کی کوئی عزت و وقعت ہی نہیں تھی۔ مردوں کی نظر میں اس سے زیادہ عورتوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی کہ وہ مردوں کی نفسانی خواہش پوری کرنے کا ایک "کھلونا" تھیں۔
عورتیں دن رات مردوں کی قسم قسم کی خدمت کرتی تھیں اور طرح طرح کے کاموں سے یہاں تک کہ دوسروں کی محنت مزدوری کرکے جو کچھ کماتی تھیں وہ بھی مردوں کو دے دیا کرتی تھیں مگر ظالم مرد پھر بھی ان عورتوں کی کوئی قدر نہیں کرتے تھے بلکہ جانوروں کی طرح ان کو مارتے، پیٹتے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر عورتوں کے کان ناک وغیرہ اعضا کاٹ لیا کرتے تھے اور کبھی قتل بھی کر ڈالتے تھے!
عرب کے لوگ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے اور باپ کے مرنے کے بعد اس کے لڑکے جس طرح باپ کی جائیداد اور سامان کے مالک ہو جایا کرتے تھے اسی طرح اپنے باپ کی بیویوں کے مالک بن جایا کرتے تھے اور ان عورتوں کو زبردستی لونڈیاں بنا کر رکھ لیا کرتے تھے۔ عورتوں کو ان کے ماں باپ بھائی بہن یا شوہر کی میراث میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا تھا، نہ عورتیں کسی چیز کی مالک ہوا کرتی تھیں۔
عرب کے بعض قبیلوں میں یہ ظالمانہ دستور تھا کہ بیوہ ہو جانے کے بعد عورتوں کو گھر سے باہر نکال کر ایک چھوٹے سے تنگ و تاریک جھونپڑے میں ایک سال تک قید میں رکھا جاتا تھا۔ وہ جھونپڑے سے باہر نہیں نکل سکتی تھیں، نہ غسل کرتی تھیں، نہ کپڑے بدل سکتی تھیں، کھانا پانی اور اپنی ساری ضرورتیں اسی جھونپڑے میں پوری کرتی تھیں۔ بہت سی عورتیں تو گھٹ گھٹ کر مر جاتی تھیں اور جو زندہ بچ جاتی تھیں تو ایک سال کے بعد ان کے آنچل میں اونٹ کی مینگنیاں ڈال دی جاتی تھیں اور ان کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ کسی جانور کے بدن سے اپنے بدن کو رگڑیں پھر سارے شہر کا اسی گندے لباس میں چکر لگائیں اور ادھر ادھر اونٹ کی مینگنیاں پھینکتی ہوئی چلتی رہیں یہ اس بات کا اعلان ہوتا تھا کہ ان عورتوں کی عدت ختم ہوگئی ہے۔
اسی طرح کی دوسری بھی طرح طرح کی خراب اور تکلیف دہ رسمیں تھیں جو غریب عورتوں کے لیے مصیبتوں اور بلاؤں کا پہاڑ بنی ہوئی تھیں اور بے چاری مصیبت کی ماری عورتیں گھٹ گھٹ کر اور رو رو کر اپنی زندگی کے دن گزارتی تھیں۔
ہندوستان میں تو بیوہ عورتوں کے ساتھ ایسے ایسے دردناک ظالمانہ سلوک کیے جاتے تھے کہ جن کو سوچ سوچ کر کلیجہ منھ کو آجاتا ہے۔ ہندو دھرم میں ہر عورت کے لیے فرض تھا کہ وہ زندگی بھر قسم قسم کی خدمتیں کرکے "پتی پوجا" (شوہر کی پوجا) کرتی رہے اور شوہر کی موت کے بعد اس کی "چتا" کی آگ کے شعلوں پر زندہ لیٹ کر "ستی" ہو جائے یعنی شوہر کی لاش کے ساتھ زندہ عورت بھی جل کر راکھ ہو جائے غرض پوری دنیا میں بے رحم اور ظالم مرد عورتوں پر ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے کہ ان ظلموں کی داستان سن کر ایک دردمند انسان کے سینے میں رنج وغم سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ان مظلوم اور بیکس عورتوں کی مجبوری و لاچاری کا یہ عالم تھا کہ سماج میں نہ عورتوں کے کوئی حقوق تھے نہ ان کی مظلومیت پر دادوفریاد کے لیے کسی قانون کا کوئی سہارا تھا۔ ہزاروں برس تک یہ ظلم و ستم کی ماری دکھیاری عورتیں اپنی اس بے کسی اور لاچاری پر روتی بلبلاتی اور آنسوبہاتی رہیں مگر دنیا میں کوئی بھی ان عورتوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والا اور ان کی مظلومیت کے آنسوؤں کوپونچھنے والا دور دور تک نظر نہیں آتا تھا، نہ دنیا میں کوئی بھی ان کے دکھ درد کی فریاد سننے والا تھا نہ کسی کے دل میں ان عورتوں کے لیے بال برابر بھی رحم و کرم کا کوئی جذبہ تھا۔
عورتوں کے اس حال زار پر انسانیت رنج و غم سے بے چین اور بے قرار تھی مگر اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ رحمت خداوندی کا انتظار کرے کہ ارحم الراحمین غیب سے کوئی ایسا سامان پیدا فرمادے کہ اچانک ساری دنیا میں ایک انوکھا انقلاب نمودار ہوجائے اور لاچار عورتوں کا سارا دکھ درد دور ہو کر ان کا بیڑاپار ہو جائے چنانچہ رحمت کا آفتاب جب طلوع ہو گیا تو ساری دنیا نے اچانک یہ محسوس کیا کہ ؎
جہاں تاریک تھا 'ظلمت کدہ تھا' سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھرگھرمیں اجالا تھا
(ماخوذ از جنتی زیور، علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمہ)
جاری...
عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
حاصل مطالعہ (حصہ2) مطالعہ سے علم بڑھتا ہے، یاد رہے کہ علم سیکھنے سے آتا ہے، اس کے حصول کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ: بے شک علم سیکھنے سے آتا ہے۔ اور سیکھنے کا بہترین ذریعہ مطالعہ ہے۔ (کنزالعمال، ج10، ص104 حدیث 29252) مفتی احمد یار خان…
حاصلِ مطالعہ (پارٹ 3)
مطالعہ سے عقل و شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ باشعور انسان ہمیشہ کامیابیاں اور عزتیں سمیٹتا ہے اور بے شعور کے حصے میں اکثر ناکامی و ذلت آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ کہاں کیا کرنا ہے۔
یعنی عاقل انسان سوچ سمجھ کر قول و فعل ادا کرتا ہے اور بے شعور کو سوچنے کی نوبت ہی نہیں آتی لہٰذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ و تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہیں مطالعہ بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔
دینی و دنیاوی ترقی:
مطالعہ انسان کی دینی اور دنیاوی دونوں ترقیوں کا سبب بنتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر مقاصد متعین کرکے مطالعہ کیا جائے تو وہ دین اور دنیا دونوں کی ترقی سے ہمکنار کرتا ہے مگر شرط یہی ہے کہ ہر دو لحاظ سے مطالعہ کی سمت درست ہو جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
مطالعہ ذوق میں بالیدگی، طبیعت میں نشاط، نگاہوں میں تیزی اور ذہن و دماغ کو تازگی عطا کرتا ہے جس طرح ایک اچھا دوست ہمیں پرلطف باتوں، دلچسپ نکات اور حیرت و استعجاب میں ڈالنے والے حقائق بتا کر تروتازہ کر دیتا ہے نیز جس سے ذوق طبیعت اور ذہن و دماغ میں ایک نئی روح اور نیا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح کتاب بھی ایک اچھے رفیق وساتھی جیسا کردار ادا کرتی ہے۔
مطالعہ انسان کو مختلف قوموں کے حالات اور ان کی تہذیب و ثقافت وغیرہ سے آگہی بخشتا ہے اسی آگاہی کے تناظر میں انسان اپنی اور دیگر تہذیبوں کا تقابل کرتا ہے اور وجہ ترجیح تلاش کرتا ہے اب یا تو اپنی تہذیب پر مزید پختہ ہو جاتا ہے یا پھر اسے خیر آباد کہہ کر دوسری تہذیب کو اختیار کر لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ تحریر و تبلیغ کے ذریعے جب اسلامی خوبیوں اور اسلامی تہذیب سے لوگ روشناس ہوئے تو اپنی اپنی تہذیبوں کو ترک کرکے جوق در جوق اسلام کے دامن امن سے وابستہ ہوگئے۔
مطالعہ کے بعض فوائد آگے "مطالعہ کے مقاصد" کے ضمن میں بھی آرہے ہیں۔
جاری ہے.......
عبد مصطفیٰ
مطالعہ سے عقل و شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ باشعور انسان ہمیشہ کامیابیاں اور عزتیں سمیٹتا ہے اور بے شعور کے حصے میں اکثر ناکامی و ذلت آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ کہاں کیا کرنا ہے۔
یعنی عاقل انسان سوچ سمجھ کر قول و فعل ادا کرتا ہے اور بے شعور کو سوچنے کی نوبت ہی نہیں آتی لہٰذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ و تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہیں مطالعہ بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔
دینی و دنیاوی ترقی:
مطالعہ انسان کی دینی اور دنیاوی دونوں ترقیوں کا سبب بنتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر مقاصد متعین کرکے مطالعہ کیا جائے تو وہ دین اور دنیا دونوں کی ترقی سے ہمکنار کرتا ہے مگر شرط یہی ہے کہ ہر دو لحاظ سے مطالعہ کی سمت درست ہو جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
مطالعہ ذوق میں بالیدگی، طبیعت میں نشاط، نگاہوں میں تیزی اور ذہن و دماغ کو تازگی عطا کرتا ہے جس طرح ایک اچھا دوست ہمیں پرلطف باتوں، دلچسپ نکات اور حیرت و استعجاب میں ڈالنے والے حقائق بتا کر تروتازہ کر دیتا ہے نیز جس سے ذوق طبیعت اور ذہن و دماغ میں ایک نئی روح اور نیا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح کتاب بھی ایک اچھے رفیق وساتھی جیسا کردار ادا کرتی ہے۔
مطالعہ انسان کو مختلف قوموں کے حالات اور ان کی تہذیب و ثقافت وغیرہ سے آگہی بخشتا ہے اسی آگاہی کے تناظر میں انسان اپنی اور دیگر تہذیبوں کا تقابل کرتا ہے اور وجہ ترجیح تلاش کرتا ہے اب یا تو اپنی تہذیب پر مزید پختہ ہو جاتا ہے یا پھر اسے خیر آباد کہہ کر دوسری تہذیب کو اختیار کر لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ تحریر و تبلیغ کے ذریعے جب اسلامی خوبیوں اور اسلامی تہذیب سے لوگ روشناس ہوئے تو اپنی اپنی تہذیبوں کو ترک کرکے جوق در جوق اسلام کے دامن امن سے وابستہ ہوگئے۔
مطالعہ کے بعض فوائد آگے "مطالعہ کے مقاصد" کے ضمن میں بھی آرہے ہیں۔
جاری ہے.......
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM