🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
بیوہ اور طلاق شدہ عورت کے نکاح کو معیوب سمجھنا

رشحات قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

ہمارے معاشرے میں اتنی برائیاں پھیلی ہوئی ہیں جن کا احاطہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے
آج ہم صرف ایک برائی کے متعلق بات کرتے ہیں اور وہ برائی ہے بیوہ یا طلاق شدہ عورت کے نکاح کو معیوب سمجھنا
اولاً قرآن مجید و احادیث کریمہ کی روشنی میں نکاح کی فضیلت بیان کرتے ہیں
اللہ تعالی کا ارشاد ہے
"خداتعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے آرام پکڑو اور تم میں دوستی اور نرمی رکھ دی"(سورہ روم)
دوسرا ارشاد ہے
"تمہاری عورتیں تمہاری اولاد پیدا کرنے کے لیے بمنزلہ کھیتی کے ہیں"
تیسرا ارشاد ہے"
"بیوی کی قربت سے اولاد کا قصد کرو جس کو اللہ تعالی نے تمہارے لیے مقرر فرمایا ہے"
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"ایسی عورت سے نکاح کرو جو زیادہ بچے جننے والی اور زیادہ محبت کرنے والی ہو کیونکہ قیامت کے دن میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا "
مزید فرمایا "تم میں سے جو نکاح کرنے کی وسعت رکھتا ہو پھر نکاح نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں"
مزید فرمایا"جب بندہ نکاح کر لیتا ہے تو آدھا ایمان مکمل کر لیتا ہے اب اس کو چاہیے بقیہ نصف دین میں اللہ تعالی سے ڈرتار ہے"
آج بہت سے مردو زن ایسے بھی ہیں جومال ودولت ہونے کے باوجود شادی نہیں کرتے حالاں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"محتاج ہے محتاج ہے وہ مردہ جس کی بیوی نہ ہو لوگوں نے عرض کیا اگرچہ وہ بہت مال والا ہو تب بھی وہ محتاج ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ بہت مال والا ہو
پھر فرمایا محتاج ہے محتاج ہے وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو لوگوں نے عرض کیا اگرچہ وہ مالدار ہو تب بھی وہ بہت محتاج ہے آپ نے فرمایا ہاں اگر چہ وہ مال والی ہو" (اللہ اکبر)
نکاح بہت بڑی اللہ تعالی کی نعمت ہے نکاح بمنزل لباس ہے تو بے نکاح رہنا عریانی ہے نکاح سے انسان کی نظر نیچی اور خواہشات کم ہو جاتی ہیں
آج معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بہت سے لوگ صاحب استطاعت ہونے کے باوجود نکاح نہیں کرتے اس میں مرد ہی نہیں بلکہ مستورات رات بھی شامل ہیں؛ بیوہ اور طلاق شدہ عورت کے نکاح کرنےکو تو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے حالاں کہ پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں صرف ایک بیوی کنواری تھیں باقی سب بیوہ یا طلاق شدہ عورتیں تھیں جو ہماری مائیں ہیں
سیرت رسول سے پتہ چلتا ہے کہ بیوہ اور طلاق شدہ عورت سے نکاح کرنا سنت ہے بعض لوگ لاعلمی کے سبب بیوہ اور طلاق شدہ عورت کے نکاح ثانی کو معیوب سمجھتے ہیں ایسا زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا
زمانہ جاہلیت کی ایک مثال پیش کرتا ہوں
"اگر کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو اس کے ساتھ ہی اس عورت کو جلا دیا جاتا تھا یا ایک کمرے میں چھ ماہ کے لیے قید کر دیا جاتا تھا اور اس کی ضروریات زندگی کو وہیں پیش کیا جاتا تھا یا تو وہ گھٹ گھٹ کے مر جاتی تھی اور اگر زندہ بچ تھی تو اس کامنہ کالا کرکے گدھے پر بٹھا کر شہر میں گھمایا جاتا تھا اور یہ ثابت کیا جاتا تھا یہ وہ منحوس عورت ہے جس کی نحوست کی وجہ سے اس کا شوہر مرگیا " آج بھی بہت سے لوگ اس رسم پر عمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں
اگر غور وفکر تدبر و دانائی سے کام لیا جائے تو بہ نسبت پہلے نکاح کے( جب کہ وہ کنواری تھی) دوسرا نکاح اس بیوہ کا اہم ہے کیوں کہ پہلے وہ خالی الذہن تھی صالح زوجیت کا یا تو علم ہی نہ تھا یا تھا علم الیقین( یعنی صرف علم تھا) تھا اور اب اس کو عین الیقین( یعنی مشاہدہ) ہو گیا ہے اس حالت میں وسواس حسرات کا ہجوم زیادہ ہوتا ہے جس سے کبھی صحت کبھی آبرو کبھی دین کبھی سب برباد ہوجاتے ہیں
خلاصہ کلام
امت مسلمہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش ہے کہ اپنے تمام کاموں کے ساتھ ساتھ بیوہ اور طلاق شدہ عورتوں کے نکاح پر غوروفکر کریں امت محمدیہ کی کثرت کو دھیان میں رکھیں" تعدد زوجات" اور "کثرت اولاد" کا سبب بنیں

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
مضمون
آج گھروں میں بیٹھیں کنواری لڑکیوں کا ذمہ دار کون؟

آئیے آج ہم اور آپ ایک بات پر غور کرتے ہیں کہ آج لڑکیوں کا رشتہ ایک بہت بڑا المیہ کیوں بنا ہوا ہے؟ایک باپ اپنی بیٹی کے رشتہ کے لئے ایک بھائی اپنی بہن کے رشتہ کے لئے ہمہ وقت پریشان نظر آتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
کیا جہیز اس کی وجہ ہے ؟کیا مال و زر اس کی وجہ ہے؟نہیں بلکہ بہت سی لڑکیوں نےتو گھروں میں کام کاج کر کے پورے جہیز کا سامان تیار کر لیا ہے پھر وجہ کیا ہے؟
وجہ ہے سنت پر عمل نہ کرنا اور یہ ایسی سنت ہے جو انبیائے سابقین بالخصوص حضور رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
آپ کو معلوم ہے وہ کیا ہے؟
"تعدد زوجات" یعنی ایک مرد کے نکاح میں کئی کئی عورتیں ہونا
لیکن آج اس سنت کو چھوڑ دیا جاتا ہے
جس کی وجہ سے آج بھی گھروں میں بہت سی لڑکیاں" 40 "40"+" 30 "30"سال اور بعض تو اس انتظار میں اپنی پوری زندگی گزار دیتی ہیں کہ کوئی مناسب رشتہ آئے
کاش مسلمانوں تم نے سنت پر عمل کیا ہوتا؟تو آج یہ بیٹیاں جو گھروں میں بیٹھی ہیں وہ کسی گھر کی بیوی یا بچے کی ماں بنی ہوئی نظر آتیں؛زوجیت کے جوڑے میں نظر آتیں ؛تعداد انسانی کے اضافے کا سبب بنتیں؟ حدیث پاک میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ"تم زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے شادی کرو پوچھا گیا کیوں؟تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن دوسری امتوں کے مقابلہ میں : میں اپنی امت کے زیادہ ہونے پر فخر کروں گا
پتہ چلا "تعداد زوجات" اور "کثرت اولاد"میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی ہے
آج ہوتا کیا ہےاگر ایک انسان دوسری شادی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ہی خاندان کے لوگ اس کو روک دیتے ہیں یاوہ زوجہ جو اس کے نکاح میں ہے دوسری شادی کرنے سے روک دیتی ہے
اور وجہ ہوتی ہے صرف لاعلمی
ابتدائے اسلام میں جنگوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہوجاتے تھے تو ان کی بیوہ عورتوں کو دوسرے صحابہ کرام اپنے نکاح میں لاتے صرف اس غرض سے کہ ان کی ضروریات زندگی گزر بسر ہو سکیں
ایسا ہی ہمارے حضور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی گیارہ شادیاں کرکے امت کو اشارہ دیا کہ اگر کوئی مطلقہ عورت یا بیوہ عورت یا کنواری جو شادی کے لائق ہے اس کو اپنے نکاح میں لائیں اس کی ضروریات زندگی کا خیال رکھیں
سبق"مگر ایک وقت میں چار عورتوں پر اضافہ نہ کریں" اور نہ ایک وقت میں دو سگی بہنیں ایک نکاح میں جمع کریں" کیونکہ یہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے قرآن پاک میں اللہ نے فرمایا ہے کہ "اگر عورتیں تمہیں اچھی لگیں تو تم شادی کرو ایک سے دو سے تین سے چار سے "ایک وقت میں

نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے "نساءکم حرث لکم" یہ عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تم ان سے فائدہ اٹھاؤ
تنبیہ جب قرآن شریف میں اللہ کا فرمان ہے تو آپ کون ہوتے ہیں دوسری یاتیسری یا چوتھی شادی کرنے سے روکنے والے یا اس کو معیوب سمجھنے والے
خلاصہ کلام
ہر انسان جوصاحب صحت و دولت ہے اس کو چاہیے کہ "تعدد زوجات"کو اپنے نکاح میں لائے تاکہ امت مسلمہ کی وہ بیٹیاں جوطویل عمر سے گھروں میں بیٹھی ہیں ان کو سہارا مل جائے سنت پر بھی عمل ہو جائے اور بیٹیوں کو بھی جینے کا سنہرا موقع مل جائے
ماں ؛بہنوں اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس بات پر زیادہ سے زیادہ غور و فکر کریں اور آپس میں اس موضوع پر خوب بحث کریں خود بھی عمل کریں دوسروں کو بھی ترغیب دلاتے رہیں
شاید کے اتر جائے تیرے دل میں میری بات

از قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل نمبر 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
چارلوگوں نے معاشرہ برباد کر دیا

چار اشخاص کی وجہ سے معاشرے میں ہر طرح کی برائی پھیلی ہے
پیدائش پر غلط رسومات ؛چھٹی کے وقت غلط رسومات؛منگنی ؛بیاہ؛ شادی کی تباہ کن رسومات؛ جوتا چرائی کی بے ہودہ رسومات؛گاڑی میں دلہن کو بہنوئی کے بٹھانے کی نازیبا رسومات؛دولہن کی گاڑی روکنے کی رسومات؛ سلامی کے وقت کی بے ہودہ حرکات؛ چوتھی چالے کی من گھڑت رسومات؛ محرم کے مہینے میں دلہن کو مائیکے بھیجنے کی رسومات؛بچہ کی پیدائش مائیکےمیں کرانے کی رسومات؛رت جگہ؛ منڈا؛
جہیز کی لعنتی رسومات ؛گود بھرائی کی مہلک رسومات؛
موت پر غلط رسومات تیجے؛دسوایں ؛بیسوایں؛اور چالیسویں میں دعوت کر کے کھانا کھلانے کی رسومات وغیرہ
ان ہی کے ذریعہ پھیلیں ہیں اور پھیل رہی ہیں
اور آگے نظر دوڑائیں"دولھا ؛دلھن سے بیہودہ مذاق؛
دیور بھابھی کی مذاق؛ سالی بہنوئی کی مذاق؛
غرض یہ کہ دنیابھر میں جتنی بھی رسومات اور خرافاتوں نے جنم لیا اور لے رہی ہیں ان سب کے ذمہ دار یہ ہی چار اشخاص ہیں"حالانکہ حدیث پاک میں ان تمام برائیوں کا سدباب کرنے کی تاکید آئی ہے اور
دیور؛بھابھی؛سالی؛بہنوئی کے متعلق سخت وعید فرمائی ہے ان چاروں کی لاپرواہی نے پورے معاشرے کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیا ہے اگر یہ چاروں اپنی اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتے تو حالات یہاں تک نہ پہونچتے جہاں تک آج پہنچ چکے ہیں ان چاروں کو اپنے اوپر غوروفکر کرنا چاہیے اور عزم مصمم کرنا چاہیے معاشرے کی تباہی کا سبب ہم نہیں بنیں گے
ان چاروں کے متعلق یہ سمجھ لیجیے کہ یہ معاشرے کے چار پیر ہیں اور معاشرے کی درستگی کے لیے
چاروں پیروں کا درست رہنا نہایت ضروری ہے ایک پیر میں بھی اگر خرابی آتی ہے تو سمجھ لیجئے گا کہ معاشرے کے اندر خرابی آنا شروع ہو گئی ہے

الغرض معاشرے کی سالمیت کے لئے اور خوشگوار زندگی گزارنے کے لیےان چاروں پیروں کا صحیح و سالم رہنا نہایت ہی اہم ہے آپ جانتے ہیں وہ چار لوگ جو معاشرے کے چار پیر کہے گئے کون ہیں؟
"باپ ؛بیٹا ؛بھائی؛ اور شوہر"
باپ کو چاہیے کہ اولاد پر نظر شفقت کے ساتھ ساتھ نظر جلال بھی رکھے؛اسی طرح بھائی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہنوں پر نگرانی اور تجسس رکھے؛بیٹے کی ذمہ داری ہے کہ ماں کی خوب خدمت کرے اس کو کسی طرح کی کوئی پریشانی اور ضرورت محسوس ہونے سے نہ دے ؛اسی طرح شوہر کی ذمہ داری ہے
کہ وہ اپنی بیوی کے تمام طرح کے حقوق کو ادا کرے
یہ چاروں مذکر اپنے رشتے کی مستورات کی حفاظت و نگرانی کریں گے تو معاشرے میں کیسی بھی خرابی نہیں ہو پائے گی
لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالی کے فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور اقوال سلف صالحین کو اچھے سے سمجھیں اور ان پر عمل کریں
خلاصہ کلام
قال اللہ قال رسول اللہ واقوال صلحاء کو پڑھیں اوران پر عمل کریں اور تمام خرافات ؛رسومات اور برائیوں سے بچیں
اللہ تعالی ہدایت عطا فرمانے والا ہے

از قلم (مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائیل 7247863786
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
صفر المظفر کے 45 مضامین.pdf
9.4 MB
Mahe Safar 45 Mazamin
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہرفن مولا تھے اعلیٰ حضرت

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

جب الوہیت پر حملہ کیا گیا تو اللہ تعالی نے مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کو پیدا فرمایا اور
جب رسول اللہﷺ کے اختیارات کا انکار کیا گیا؛جب اطاعت رسول کو شرک قرار دیا گیا؛ جب رسول ﷺ کو اپنے بڑے بھائی کی طرح کہا گیا؛جب علم غیب رسولﷺ کو پاگلوں بچوں اور چوپایوں کے علم کے برابر کہا گیا؛
جب محبت رسولﷺ کا انکار کیا گیا؛ جب میلاد مصطفیﷺ منانے کو بدعت اور غیروں کا شعار کہا اور لکھا گیا؛جب اولیاء اللہ کی محبت کو شرک سے تعبیر کیا گیا ؛ جب ہر طرف سے محبت رسولﷺ؛ اطاعت رسولﷺ؛ اور غلامی رسولﷺ کا انکار کیا گیا
تو اللہ تعالی نے بریلی شریف کی سرزمین پر اپنے ایسے بندے کو پیدا فرمایا جس نے نیابت رسول ﷺ کا حق ادا کر دیا اور غداران رسول ﷺ کا قلع قمع کر دیا :اس محبوب بندے کو آج دنیا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے
ترجمہ قرآن کے نام پر جب ایمان والوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا گیا
تو امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمہ کنزالایمان اس قوم دیا اور کہاں وقت کا مجدد ایمان والوں کے ایمان کو لٹنے نہیں دیے گا
جب تقویت الایمان لکھ کر خبط الایمان کی دلیل پیش کی گئی تو امام احمد رضا نے قوم کو تمہید الایمان عطا فرمائی

جب تحذیرالناس لکھ کر قوم مسلم کے معیار کا ستیاناس کیا گیا؛تو امام احمد رضا نے قوم مسلم کے معیار کو بچایا

جب فتاویٰ کی بنیاد پر اس قوم کے معیار کو ٹھوکر ماری گئی
تو امام احمد رضا قدس سرہ نے فتویٰ رضویہ دے کر اس قوم کے معیار کو بچایا
جب علم غیب رسولﷺ کا انکار کیا گیا
تو الدولت المکیہ بالمادۃ الغیبیہ جیسی شاہکار کتاب اس قوم کو عطا کی
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے وہ نمایاں کام انجام دیئے جن کو قیامت تک یاد رکھا جائے گا

اعلحضرت قدس سرہ کی ذات محتاج تعارف نہیں ہے
آج ساری دنیا کا جائزہ لو تو پتہ چلے گا کہ اعلی حضرت قدس سرہ کی شان میں اتنی کتابیں لکھی جاچکی ہیں جن کا شمار کرنا آسان کام نہیں ہے

تم چودھویں صدی کے مجدد ہو ایسے اعظم
لہرا دیےجنہوں نے وہ سنیت کے پرچم
اہل عرب نےمانا اہل عجم نے مانا احمد رضا یہ تم کو اتنا بڑا مکرم

ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں
اعلی حضرت نے تیرہ سال دس ماہ چار دن کی عمر میں پہلا فتوی حرمت رضاعت (یعنی دودھ کے رشتے کی حرمت )پر تحریر فرمایا _ آپ کے والد بزرگوار رئیس المتکلمین حضرت مفتی نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی فقاہت دیکھ کر آپ کو مفتی کے منصب پر فائز کیا
آپ کے ابتدائی دس سال کے فتاویٰ جمع نہ ہو سکے
دس سال کے بعد کے جو فتاویٰ جمع ہوئے وہ "العطایاالنبویہ فی الفتاوی الرضویہ" کے نام سے 30 جلدوں پر مشتمل ہیں
یہ تییس جلدیں تقریبا 22 ہزار صفحات پر مشتمل ہیں
اور ان میں چھ ہزار آٹھ سو سینتالیس سوالات کے جوابات اور دو سو چھ رسائل اور اس کے علاوہ ہزار ہا مسائل ضمنا زیر بحث بیان فرمائے ہیں

کس طرح اتنے علم کے دریا بہا دیے
علمائے حق کی عقل تو حیران ہے آج بھی
اعلی حضرت سرکار قدس سرہ نے بہت سی کتب تصنیف فرمائیں
جن میں سے تقریبا بارہ سو دستیاب ہو سکیں
آپ جتنے عظیم مصنف تھے اس سے بڑھ کر کے عاشق رسولﷺ بھی تھے
آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت کرتے تھے اس کا اندازہ آپ مندرجہ ذیل نمونوں سے لگا سکتے ہیں
آپ چوتھی مرتبہ جب حج کے لئے تشریف لے گئے روضہ رسول ﷺ کے سامنے وہ مشہور و معروف نعت لکھی جس کے اشعار یہ ہیں
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
جو تیرے در سے یار پھرتے ہیں
در بدر یوں خوار پھرتے ہیں
اور مقطع میں آپ نے اس طریقے سے غلامی پیش کی ہے

کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں
یہ مقطع پڑنا تھا حضور رسول الراحت ﷺ روضہ انور سے تشریف لائے اور اپنے عاشق کو اپنے غلام کو عالم بیداری میں دیدار سے مشرف فرمایا
اعلیٰحضرت تمام علوم و فنون میں مہارت رکھتے تھے
آپ عالم ہی نہیں؛ مفتی ہی نہیں؛ متقی ہی نہیں؛مدرس ہی نہیں؛ محقق ہی نہیں؛ مفسر ہی نہیں؛محدث ہی نہیں؛مدقق ہی نہیں ؛شارح ہی نہیں ؛ مترجم ہی نہیں؛شاعر ہی نہیں؛ مقررہی نہیں؛مدرس اورمصنف ہی نہیں بلکہ ان سب کے استاد؛ سردار اور رہنما بھی تھے_
مگر کسی نام سے کسی لقب سے آپ کو یاد نہیں کیا جاتا ہے اگر کیا جاتا ہے توامام عشق و محبت سے نام و لقب آپ کو یاد کیا جاتا ہے-
اعلحضرت قدس سرہ خود فرماتے تھے
اگر کوئی میرے دل کے دو ٹکڑے کرے تو ایک ٹکڑے پر لاالہ الااللہ اور دوسر پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا پائے گا_
اعلی حضرت قدس سرہ الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کی جیتی جاگتی تصویر تھے

ایسی کی ہے اپنے آقا کی مدحت السلام
آج دنیا کہہ رہی ہے اعلی حضرت السلام


غوث الاغواث ؛قطب الاقطاب؛سلطان الاولیاء ؛شہنشاہ بغداد؛ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے
آپ کتنی محبت فرماتے تھے
اس کا اندازہ آپ اس مثال سے لگا سکتے ہیں
جب آپ کو پتہ چلا کہ بغداد اس طرف ہے تو آپ نے اس طرف پوری زندگی پیر نہیں
پھیلا ئے
ہندل الولی؛ عطاء رسول؛ خواجہ خواجگان ؛شہنشاہ ہندوستان حضرت
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کتنی محبت فرماتے تھے
اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ اعلی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اجمیر کو اجمیر شریف کہاں کرو

اعلی حضرت قدس سرہ کی پوری زندگی محبت رسولﷺ محبت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین؛ محبت اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم؛ محبت اولیاء اللہ علیہم الرضوان اور عقیدت سادات کرام و خدمت خلق خدا اور
تبلیغ دین و اشاعت دین مبین
صرف ہوئی
جس طرح آپ نے خدمت دین اور خدمت خلق خدا کی ہے
اسکا ہی نتیجہ ہے کہ 2020 عیسوی ہوگئی اور آپ کا 102 واں عرس مبارک ہونے جارہا ہے اس کرونا وائرس کی مہاماری کے باوجود غلامان اعلیٰ حضرت کا امنڈتا ہوا سیلاب بریلی شریف کی طرف رواں دواں ہے

ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں

کتبہ
فقیر نوری گدائے رضوی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟ (پارٹ 2) نظامِ عالَم میں عورت کی ضروت: الحمد للہ اللہ تعالٰی نے ساری کائنات کی تخلیق کی اور اس میں اپنی قدرتوں کی بے شمار خوبصورت کاریگری کا اظہار کیا۔ اللہ تعالٰی کی خوبصورت قدرتوں پر جب ہم غور کریں تو انسان کی عقل وفہم اسی…
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟
(پارٹ 3)

عورت، اسلام سے پہلے

اسلام سے پہلے عورتوں کا حال بہت خراب تھا۔ دنیا میں عورتوں کی کوئی عزت و وقعت ہی نہیں تھی۔ مردوں کی نظر میں اس سے زیادہ عورتوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی کہ وہ مردوں کی نفسانی خواہش پوری کرنے کا ایک "کھلونا" تھیں۔

عورتیں دن رات مردوں کی قسم قسم کی خدمت کرتی تھیں اور طرح طرح کے کاموں سے یہاں تک کہ دوسروں کی محنت مزدوری کرکے جو کچھ کماتی تھیں وہ بھی مردوں کو دے دیا کرتی تھیں مگر ظالم مرد پھر بھی ان عورتوں کی کوئی قدر نہیں کرتے تھے بلکہ جانوروں کی طرح ان کو مارتے، پیٹتے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر عورتوں کے کان ناک وغیرہ اعضا کاٹ لیا کرتے تھے اور کبھی قتل بھی کر ڈالتے تھے!

عرب کے لوگ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے اور باپ کے مرنے کے بعد اس کے لڑکے جس طرح باپ کی جائیداد اور سامان کے مالک ہو جایا کرتے تھے اسی طرح اپنے باپ کی بیویوں کے مالک بن جایا کرتے تھے اور ان عورتوں کو زبردستی لونڈیاں بنا کر رکھ لیا کرتے تھے۔ عورتوں کو ان کے ماں باپ بھائی بہن یا شوہر کی میراث میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا تھا، نہ عورتیں کسی چیز کی مالک ہوا کرتی تھیں۔
عرب کے بعض قبیلوں میں یہ ظالمانہ دستور تھا کہ بیوہ ہو جانے کے بعد عورتوں کو گھر سے باہر نکال کر ایک چھوٹے سے تنگ و تاریک جھونپڑے میں ایک سال تک قید میں رکھا جاتا تھا۔ وہ جھونپڑے سے باہر نہیں نکل سکتی تھیں، نہ غسل کرتی تھیں، نہ کپڑے بدل سکتی تھیں، کھانا پانی اور اپنی ساری ضرورتیں اسی جھونپڑے میں پوری کرتی تھیں۔ بہت سی عورتیں تو گھٹ گھٹ کر مر جاتی تھیں اور جو زندہ بچ جاتی تھیں تو ایک سال کے بعد ان کے آنچل میں اونٹ کی مینگنیاں ڈال دی جاتی تھیں اور ان کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ کسی جانور کے بدن سے اپنے بدن کو رگڑیں پھر سارے شہر کا اسی گندے لباس میں چکر لگائیں اور ادھر ادھر اونٹ کی مینگنیاں پھینکتی ہوئی چلتی رہیں یہ اس بات کا اعلان ہوتا تھا کہ ان عورتوں کی عدت ختم ہوگئی ہے۔

اسی طرح کی دوسری بھی طرح طرح کی خراب اور تکلیف دہ رسمیں تھیں جو غریب عورتوں کے لیے مصیبتوں اور بلاؤں کا پہاڑ بنی ہوئی تھیں اور بے چاری مصیبت کی ماری عورتیں گھٹ گھٹ کر اور رو رو کر اپنی زندگی کے دن گزارتی تھیں۔

ہندوستان میں تو بیوہ عورتوں کے ساتھ ایسے ایسے دردناک ظالمانہ سلوک کیے جاتے تھے کہ جن کو سوچ سوچ کر کلیجہ منھ کو آجاتا ہے۔ ہندو دھرم میں ہر عورت کے لیے فرض تھا کہ وہ زندگی بھر قسم قسم کی خدمتیں کرکے "پتی پوجا" (شوہر کی پوجا) کرتی رہے اور شوہر کی موت کے بعد اس کی "چتا" کی آگ کے شعلوں پر زندہ لیٹ کر "ستی" ہو جائے یعنی شوہر کی لاش کے ساتھ زندہ عورت بھی جل کر راکھ ہو جائے غرض پوری دنیا میں بے رحم اور ظالم مرد عورتوں پر ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے کہ ان ظلموں کی داستان سن کر ایک دردمند انسان کے سینے میں رنج وغم سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ان مظلوم اور بیکس عورتوں کی مجبوری و لاچاری کا یہ عالم تھا کہ سماج میں نہ عورتوں کے کوئی حقوق تھے نہ ان کی مظلومیت پر دادوفریاد کے لیے کسی قانون کا کوئی سہارا تھا۔ ہزاروں برس تک یہ ظلم و ستم کی ماری دکھیاری عورتیں اپنی اس بے کسی اور لاچاری پر روتی بلبلاتی اور آنسوبہاتی رہیں مگر دنیا میں کوئی بھی ان عورتوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والا اور ان کی مظلومیت کے آنسوؤں کوپونچھنے والا دور دور تک نظر نہیں آتا تھا، نہ دنیا میں کوئی بھی ان کے دکھ درد کی فریاد سننے والا تھا نہ کسی کے دل میں ان عورتوں کے لیے بال برابر بھی رحم و کرم کا کوئی جذبہ تھا۔

عورتوں کے اس حال زار پر انسانیت رنج و غم سے بے چین اور بے قرار تھی مگر اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ رحمت خداوندی کا انتظار کرے کہ ارحم الراحمین غیب سے کوئی ایسا سامان پیدا فرمادے کہ اچانک ساری دنیا میں ایک انوکھا انقلاب نمودار ہوجائے اور لاچار عورتوں کا سارا دکھ درد دور ہو کر ان کا بیڑاپار ہو جائے چنانچہ رحمت کا آفتاب جب طلوع ہو گیا تو ساری دنیا نے اچانک یہ محسوس کیا کہ ؎

جہاں تاریک تھا 'ظلمت کدہ تھا' سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھرگھرمیں اجالا تھا

(ماخوذ از جنتی زیور، علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمہ)

جاری...

عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
حاصل مطالعہ (حصہ2) مطالعہ سے علم بڑھتا ہے، یاد رہے کہ علم سیکھنے سے آتا ہے، اس کے حصول کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ: بے شک علم سیکھنے سے آتا ہے۔ اور سیکھنے کا بہترین ذریعہ مطالعہ ہے۔ (کنزالعمال، ج10، ص104 حدیث 29252) مفتی احمد یار خان…
حاصلِ مطالعہ (پارٹ 3)

مطالعہ سے عقل و شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ باشعور انسان ہمیشہ کامیابیاں اور عزتیں سمیٹتا ہے اور بے شعور کے حصے میں اکثر ناکامی و ذلت آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ کہاں کیا کرنا ہے۔
یعنی عاقل انسان سوچ سمجھ کر قول و فعل ادا کرتا ہے اور بے شعور کو سوچنے کی نوبت ہی نہیں آتی لہٰذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ و تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہیں مطالعہ بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔

دینی و دنیاوی ترقی:
مطالعہ انسان کی دینی اور دنیاوی دونوں ترقیوں کا سبب بنتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر مقاصد متعین کرکے مطالعہ کیا جائے تو وہ دین اور دنیا دونوں کی ترقی سے ہمکنار کرتا ہے مگر شرط یہی ہے کہ ہر دو لحاظ سے مطالعہ کی سمت درست ہو جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

مطالعہ ذوق میں بالیدگی، طبیعت میں نشاط، نگاہوں میں تیزی اور ذہن و دماغ کو تازگی عطا کرتا ہے جس طرح ایک اچھا دوست ہمیں پرلطف باتوں، دلچسپ نکات اور حیرت و استعجاب میں ڈالنے والے حقائق بتا کر تروتازہ کر دیتا ہے نیز جس سے ذوق طبیعت اور ذہن و دماغ میں ایک نئی روح اور نیا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح کتاب بھی ایک اچھے رفیق وساتھی جیسا کردار ادا کرتی ہے۔

مطالعہ انسان کو مختلف قوموں کے حالات اور ان کی تہذیب و ثقافت وغیرہ سے آگہی بخشتا ہے اسی آگاہی کے تناظر میں انسان اپنی اور دیگر تہذیبوں کا تقابل کرتا ہے اور وجہ ترجیح تلاش کرتا ہے اب یا تو اپنی تہذیب پر مزید پختہ ہو جاتا ہے یا پھر اسے خیر آباد کہہ کر دوسری تہذیب کو اختیار کر لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ تحریر و تبلیغ کے ذریعے جب اسلامی خوبیوں اور اسلامی تہذیب سے لوگ روشناس ہوئے تو اپنی اپنی تہذیبوں کو ترک کرکے جوق در جوق اسلام کے دامن امن سے وابستہ ہوگئے۔

مطالعہ کے بعض فوائد آگے "مطالعہ کے مقاصد" کے ضمن میں بھی آرہے ہیں۔

جاری ہے.......

عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM