🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Deleted Account
تعلیم نسواں کی آج بہت ضرورت ہے

عورت کی معنی ہیں چھپانے کی چیز یعنی پردہ
عورت پردے کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے کیونکہ پردہ عورت کی زینت ہے
تاریخ گواہ ہے جب بھی عورت نے پردے کو اپنایا ہے تو پردے نے اس کی حفاظت کی ہے
آج بھی آپ جائزہ لیجئے پردے والی مستورات اور غیر پردے والی مستورات کے درمیان کتنا بڑا فرق نظر آتا ہے
مگر پردہ عورت صحیح معنیٰ میں اس وقت کرتی ہے جب وہ وہ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہوتی ہے
تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ مستورات کے مابین کئی طرح کے فرق ہیں
مثلا دونوں کے بات کرنے کا انداز جداگانہ ہوگا
دونوں کی خلوتیں جلوتیں جداگانا ہوں گی
اس لیے لڑکیوں کو تعلیم دینا بہت ضروری ہے
تعلیم نسواں کی ہمارے معاشرے کے لیے بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ جب لڑکی تعلیم سے آراستہ ہو گی تو وہ اپنے شوہر کی بھی اچھی طرح سے خدمت کر سکے گی اپنے والدین کی بھی اچھی طرح خدمت کر سکے گی اپنی ساس و سسر کی بھی کماحقہ خدمت کرسکے گی اور اپنی اولاد کی بھی اچھی طرح سے پرورش کرکے خدمت خلق خداکرنے کے طور طریقے سکھا دے گی اور اپنی زندگی بھی سنت کے مطابق گزار سکے گی
اور تعلیم یافتہ اور غیر بڑھی عورت کے درمیان بہت بڑا فرق ہے
کیونکہ اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے" کیا پڑھے لکھے اور بغیر پڑھے برابر ہیں؟"
اللہ کے فرمان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پڑھے لکھے اور بغیر پڑھے برابر نہیں ہیں
قرآن کا یہ فرمان مرد و زن دونوں کے لیے حدیث پاک میں ہے میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ "تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے" یہ حکم بھی عام ہے مرد و زن دونوں کے لیے یکساں ہے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ اور ارشاد فرماتے ہیں العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمہ" علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و زن پر فرض ہے"
اس حدیث پاک میں علم حاصل کرنے کو فرض بتایا گیا ہے اتنا علم حاصل کرنا کہ حرام و حلال جائز اور ناجائز کے مسائل سے آگاہی حاصل ہو سکے فرض عین ہے
بہر کیف آج کے ماحول کے مطابق عورت کو علم حاصل کرنا نہایت اہم ہے کیونکہ علم حاصل کرنے کیوں کہ علم حاصل کرنے سے شرعی مسائل سے آگاہی حاصل ہوتی ہے
لڑکے کو علم حاصل کیوں کرائیں؟
لڑکی علم حاصل کرے گی بڑی ہوگی اسکے بعد شادی ہوگی پہنچیے گی سسرال اللہ تعالی اس کو اولاد عطا فرمائے گا
پھر اپنی اولاد کی پرورش کرے گی تو جب وہ علم رکھتی ہوگی تو یہ سارے کام شریعت کے حدود میں رہ کر کرے گی

جب علم والے اور غیر علم والے برابر نہیں ہیں تو ان کے اعمال بھی برابر نہیں ہوں گے اور نہ اقوال برابر ہوں گے اورافعال بھی جداگانہ ہوں گے
آج کے دور میں لڑکی کو تعلیم دینا بہت ضروری ہوگیا ہے اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دینا ضروری ہوتا چلا جا رہا ہے
میں آپ کو دو بہنوں کی مثال دے کر کے سمجھانا چاہتا ہوں کہ
تعلیم نسواں کتنی ضروری ہے دو بہنیں ہیں دونوں کے ماں باپ ایک ہیں دونوں ایک ہی گھر میں رہتی ہیں لیکن ایک پڑھی لکھی ہے اور ایک غیر پڑھی ہے دونوں کے درمیان یہ طے ہوتا ہے کہ باری باندھ لیتے ہیں دو دن سارے گھر کا کام آپ کریں گی دو دن آپ کریں گی
گھر ایک ہے بہنیں دو سگی ہیں
پہلے بڑی بہن کی باری آئی( جو غیر پڑھی تھی)صبح اٹھی بغیر ہاتھ دھوئے آٹا گوندھنا شروع کر دیا اس کے بعد میں روٹیاں بنائیں بعدہ جھاڑو پوچھا برتن وغیرہ صاف کیۓ
اس طرح بڑی بہن کے دونوں دن مکمل ہو گئے
اب باری آتی ہے چھوٹی بہن کی جو پڑھی لکھی تھی صبح کو اٹھتی ہے وضو بنا کرنماز فجر ادا کرتی ہے بعد نماز فجر قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہے اس کے بعد مسائل فقیہ کا مطالعہ کرتی ہے بعدازاں آٹا گوند کر روٹیاں بناتی ہے جھاڑو پونچھا برتن کی صفائی کرتی ہے وقت ظہر کے آتے ہی نماز ظہر ادا کرتی ہے عصر کی نماز ادا کرتی ہے مغرب کی نماز ادا کرتے اور عشاء کی نماز ادا کرکے سوجاتی ہے کسی نے پوچھا کہ تو رات کو اتنی جلدی کیوں سو جاتی ہے تو اس لڑکی نے کہا میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رات کو جلدی سوؤ صبح جلدی اٹھو
(اس واقعہ کا فقیر چشم دید گواہ ہے)
میرے دینی اور اسلامی بھائیوں
اپنی اولادوں کو زیادہ سے زیادہ اسلامی تعلیم دو اپنی لڑکیوں کو حافظ قرآن بناؤ ؛عالم دین بناؤ؛ فاضل ومفتی بناؤ اور ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دو کیوں کہ دنیاوی تعلیم کی بھی بہت زیادہ ضرورت پیش
آرہی ہے جب آپ کی لڑکیاں حافظ قرآن بن جائیں گی عالم دین بن جائیں گی یا اپنے وقت کی مفتیہ جائیں گی تو آپ کو شرعی مسائل پوچھنے کے لیے کہیں دوسری جگہ جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی
خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
مضمون

حسین اور حسینیوں پر یزید خبیث کا ظلم و ستم

رشحات قلم (مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پہلے خلیفہ اور جانشین بنے ان کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ خلیفۂ دوم مقرر ہوئے ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے ان کے بعد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں نے چوتھا خلیفہ تسلیم کیا
اس دوران حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ اختلاف ہوا اور پھر معاملہ بہتر ہوگیا 19 رمضان المبارک 40 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ان کے بعد لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کرلیا ادھر حضرت امیر معاویہ طویل عرصے سے شام کے گورنر تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد انہوں نے بھی خلافت کا اعلان کیا کچھ عرصہ تو اختلاف رہا اور پھر 6 ماہ بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سے معزولی کا اعلان کر دیا حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا جس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بعد اپنے خاندان میں خلافت منتقل نہیں کریں گے بلکہ شوری کے ذریعے انتخاب ہوگا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ پچھلے بیس سال سے یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے شام کے گورنر تھے اور اب وہ عالم اسلام کے متفقہ خلیفہ بن گئے مسلمانوں کےدرمیان جاری رسہ کشی کا بھی خاتمہ ہوگیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عالم اسلام کی بہتری کے لیے کئی اہم تاریخی کارنامے انجام دیۓ ؛انہوں نے بحری بیڑا فوج تشکیل دی؛اسی طرح سمندری فوج تشکیل دینے والے وہ پہلے خلیفہ ہیں؛انہوں نے قسطنطنیہ پربھی حملہ کیا اسی جنگ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بھی شہید ہو گئے اور انہیں وہیں دفن کر دیا گیا آج بھی ان کی قبر انور استنبول (ترکی)میں موجود ہے؛اپریل 680 عیسوی میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوگیا
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد یزید خبیث تخت پر بیٹھ گیا اور اپنی بیعت کا اعلان کردیا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا اسی طرح حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی انکار کیا اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی انکار کیا اس لیے کہ یزید فاسق ؛فاجر؛زانی؛ شرابی ؛تارک نماز اور نااہل تھا
جیسے ہی یزید کو پتہ چلا کہ حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت سے انکار کر دیا ہے تو اس نے فورا عبیداللہ بن زیاد کے ذریعے زبردستی بیعت کرانے کا حکم جاری کردیا
ادھر کوفہ والوں نے حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے تقریبا 18 ہزار خطوط لکھے جن کا خلاصہ یہ تھا آپ نواسہ رسول ہیں آپ ہم میں تشریف لائیے ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ہم یزید کو اپنا خلیفہ ہرگز تسلیم نہیں کرتے
الغرض
حسین رضی اللہ تعالی عنہ 72 جانثاروں اور 19 اہل بیت کے ساتھ کوفہ روانہ ہوئے اس قافلے میں حضرت امام حسین کے تین صاحبزادے حضرت علی اوسط( زین العابدین) حضرت علی اکبر حضرت علی اصغر اور ایک صاحبزادی حضرت سکینہ رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے اور آپ کی دو بیویاں حضرت شہر بانو دوسری علی اصغر کی ماں رضی اللہ عنھن اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے چار نوجوان صاحبزادے حضرت قاسم حضرت عبداللہ حضرت عمر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنھم آپ کے ہمراہ تھے جو کربلا میں شہید ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے پانچ فرزند حضرت عباس بن علی حضرت عثمان بن علی حضرت عبداللہ بن علی حضرت محمد بن علی حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے سب نے شہادت پائی اور حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کے فرزندوں میں حضرت مسلم رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی شہادت پالی تھی تین اور فرزند تھے حضرت عبداللہ بن عقیل حضرت عبدالرحمن بن عقیل حضرت جعفر بن عقیل رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے سب نے شہادت پائی حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ کے دو پوتے حضرت محمد بن عبداللہ حضرت عون بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی تھے دونوں نے شہادت پائی صاحبزادگان اہل بیت میں سے کل 17 نے شھادت پائی
حضرت امام زین العابدین اور حضرت عمر بن حسن محمد بن عمر بن علی اور دوسرے کم عمر صاحبزادے قیدی بنائے گئے رضی اللہ عنھم
کربلا کی شہادت سے مدینہ کے لوگوں میں غصہ بھڑک اٹھا اور انہوں نے یزید خبیث کی بیعت کو توڑ دیا
یزید خبیث بہت غصہ میں ہوگیا اس نے مدینہ اور باشندگان مدینہ پر بیس ہزارفوج حملہ کرنے کے لئے بھیجی
اس فوج نے 1700 سو مہاجرین و انصار صحابہ و تابعین کو شہید کردیا رضی اللہ عنھم
700 سو حافظ قرآن کو شہید کردیا 97 سرداروں کو اور دس ہزار مرد وزن اور بچوں کو قتل کر دیا
اور ایک ہزار مدینے کی باعزت عورتوں کے ساتھ زنا بالجبر کرایا جس کے ن
1
Forwarded from Deleted Account
تیجے میں ایک ہزار عورتوں کے بطن سے ناجائز اولادیں پیدا ہوئیں
مسجد نبوی کے مقدس ستونوں سے گھوڑے باندھے کئی روز تک مسجد نبوی کتوں بلیوں اور گھوڑوں کی لید سے آلودہ رہی یزیدی فوج گھروں میں گھس گئی سارا مال و اسباب لوٹ لیا اور بے انتہا ظلم و جبر کیا: یزیدی فوج جب مدینہ منورہ پر ظلم سے فارغ ہوئی تو مکہ مکرمہ کی طرف گئی اور مکہ مکرمہ میں اس طرح ظلم کیا کہ خانہ کعبہ کے غلاف کو جلا دیا؛خانہ کعبہ کی چھت کو گرا دیا ؛مسجد حرام کے ستونوں کو شہید کردیا ؛بیت اللہ شریف کے دروازے کا پردہ نکال کر جلا دیا ؛حرم کے باہر سے حرم کے اندر گولے بارود برسائے ؛حجر اسود ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا؛ حرم کے دروازے توڑ کر فوج حرم میں داخل ہوئی اور عین حرم شریف میں خلیفہ وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا غرض یہ کہ سینکڑوں لوگوں کو حرم میں شہید کیا گیا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے وقت جو مینڈا جنت سے فدیہ کے طور پر آیا تھا اس کے سینگ کعبہ کی چھت میں رکھے تھے وہ بھی جلا دیئے شامی یزیدیوں نے منجنیق کے ذریعہ اس قدر پتھر برسائے کہ خانہ کعبہ کے احاطے میں پتھروں کے ڈھیر لگ گئے( تاریخ طبری وغیرہ)

ان 72 جانثاروں کے نام جو کربلا میں شہید ہوئے مندرجہ ذیل ہیں
*1 حضرت امام حسین*
*2 حضرت عباس بن علی*
*3 حضرت علی اکبر بن حسین*
*4 حضرت علی اصغر بن حسین*
*5 حضرت عبداللہ بن علی*
*6 حضرت جعفر بن علی*
*7 حضرت عثمان بن علی*
*8 حضرت ابوبکر بن علی*
*9 حضرت ابوبکر بن حسن بن علی*
*10 حضرت قاسم بن حسن بن علی*
*11 حضرت عبداللہ بن حسن*
*12 حضرت عون بن عبداللہ بن جعفر*
*13 حضرت محمد بن عبداللہ بن جعفر*
*14 حضرت عبداللہ بن مسلم بن عقیل*
*15 حضرت محمد بن مسلم*
*16 حضرت محمد بن سعید بن عقیل*
*17 حضرت عبدالرحمن بن عقیل*
*18 حضرت جعفر بن عقیل*
*19 حضرت حبیب ابن مظاہر اسدی*
*20حضرت أنس بن حارث اسدی*
*21 حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی*
*22 حضرت قیس بن عشر اسدی*
*23 حضرت ابو ثمامہ بن عبداللہ*
*24 حضرت بریر ہمدانی*
*25 حضرت ہنزلہ بن اسد*
*26 حضرت عابس شاکری*
*27 حضرت عبدالرحمن رہبی*
*28 حضرت سیف بن حارث*
*29 حضرت عامر بن عبداللہ ہمدانی*
*30 حضرت جندا بن حارث*
*31 حضرت شوذب بن عبداللہ*
*32 حضرت نافع بن حلال*
*33 حضرت حجاج بن مسروق مؤذن*
*34 حضرت عمر بن کرضہ*
*35 حضرت عبدالرحمن بن عبد رب*
*36 حضرت جندا بن کعب*
*37 حضرت عامر بن جندا*
*38 حضرت نعیم بن عجلان*
*39 حضرت سعد بن حارث*
*40 حضرت زہیر بن قین*
*41 حضرت سلمان بن مضارب*
*42 حضرت سعید بن عمر*
*43 حضرت عبداللہ بن بشیر*
*44 حضرت وھب کلبی*
*45 حضرت حرب بن عمر-شیخ الاسلام قیس*
*46 حضرت ظہیر بن عامر*
*47 حضرت بشیر بن عامر*
*48 حضرت عبداللہ ارواح غفاری*
*49 حضرت جون غلام ابوذر غفاری*
*50 حضرت عبداللہ بن امیر*
*51 حضرت عبداللہ بن یزید*
*52 حضرت سلیم بن امیر*
*53 حضرت قاسم بن حبیب*
*54 حضرت زید بن سلیم*
*55 حضرت نعمان بن عمر*
*56 حضرت یزید بن سبیت*
*57 حضرت عامر بن مسلم*
*58 حضرت سیف بن مالک*
*59 حضرت جابر بن حجاج*
*60 حضرت مسعود بن حجاج*
*61 حضرت عبدالرحمن بن مسعود*
*62 حضرت بیکر بن حئ*
*63 حضرت عمار بن حسن تائی*
*64حضرت زرغامہ بن مالک*
*65 حضرت کینانہ بن عتیق*
*66 حضرت عقبہ بن سولت*
*67 حضرت حر بن یزید تمیمی*
*68 حضرت عقبہ بن سولت*
*69 حضرت حبلہ بن علی شیبنی*
*70 حضرت کنب بن عمر.*
*71 حضرت عبداللہ بن یکتیر*
*72 حضرت اسلم غلام ای ترکی رضوان الله تعالى عليهـم اجمعين*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
بیوہ اور طلاق شدہ عورت کے نکاح کو معیوب سمجھنا

رشحات قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

ہمارے معاشرے میں اتنی برائیاں پھیلی ہوئی ہیں جن کا احاطہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے
آج ہم صرف ایک برائی کے متعلق بات کرتے ہیں اور وہ برائی ہے بیوہ یا طلاق شدہ عورت کے نکاح کو معیوب سمجھنا
اولاً قرآن مجید و احادیث کریمہ کی روشنی میں نکاح کی فضیلت بیان کرتے ہیں
اللہ تعالی کا ارشاد ہے
"خداتعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے آرام پکڑو اور تم میں دوستی اور نرمی رکھ دی"(سورہ روم)
دوسرا ارشاد ہے
"تمہاری عورتیں تمہاری اولاد پیدا کرنے کے لیے بمنزلہ کھیتی کے ہیں"
تیسرا ارشاد ہے"
"بیوی کی قربت سے اولاد کا قصد کرو جس کو اللہ تعالی نے تمہارے لیے مقرر فرمایا ہے"
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"ایسی عورت سے نکاح کرو جو زیادہ بچے جننے والی اور زیادہ محبت کرنے والی ہو کیونکہ قیامت کے دن میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا "
مزید فرمایا "تم میں سے جو نکاح کرنے کی وسعت رکھتا ہو پھر نکاح نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں"
مزید فرمایا"جب بندہ نکاح کر لیتا ہے تو آدھا ایمان مکمل کر لیتا ہے اب اس کو چاہیے بقیہ نصف دین میں اللہ تعالی سے ڈرتار ہے"
آج بہت سے مردو زن ایسے بھی ہیں جومال ودولت ہونے کے باوجود شادی نہیں کرتے حالاں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"محتاج ہے محتاج ہے وہ مردہ جس کی بیوی نہ ہو لوگوں نے عرض کیا اگرچہ وہ بہت مال والا ہو تب بھی وہ محتاج ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ بہت مال والا ہو
پھر فرمایا محتاج ہے محتاج ہے وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو لوگوں نے عرض کیا اگرچہ وہ مالدار ہو تب بھی وہ بہت محتاج ہے آپ نے فرمایا ہاں اگر چہ وہ مال والی ہو" (اللہ اکبر)
نکاح بہت بڑی اللہ تعالی کی نعمت ہے نکاح بمنزل لباس ہے تو بے نکاح رہنا عریانی ہے نکاح سے انسان کی نظر نیچی اور خواہشات کم ہو جاتی ہیں
آج معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بہت سے لوگ صاحب استطاعت ہونے کے باوجود نکاح نہیں کرتے اس میں مرد ہی نہیں بلکہ مستورات رات بھی شامل ہیں؛ بیوہ اور طلاق شدہ عورت کے نکاح کرنےکو تو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے حالاں کہ پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں صرف ایک بیوی کنواری تھیں باقی سب بیوہ یا طلاق شدہ عورتیں تھیں جو ہماری مائیں ہیں
سیرت رسول سے پتہ چلتا ہے کہ بیوہ اور طلاق شدہ عورت سے نکاح کرنا سنت ہے بعض لوگ لاعلمی کے سبب بیوہ اور طلاق شدہ عورت کے نکاح ثانی کو معیوب سمجھتے ہیں ایسا زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا
زمانہ جاہلیت کی ایک مثال پیش کرتا ہوں
"اگر کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو اس کے ساتھ ہی اس عورت کو جلا دیا جاتا تھا یا ایک کمرے میں چھ ماہ کے لیے قید کر دیا جاتا تھا اور اس کی ضروریات زندگی کو وہیں پیش کیا جاتا تھا یا تو وہ گھٹ گھٹ کے مر جاتی تھی اور اگر زندہ بچ تھی تو اس کامنہ کالا کرکے گدھے پر بٹھا کر شہر میں گھمایا جاتا تھا اور یہ ثابت کیا جاتا تھا یہ وہ منحوس عورت ہے جس کی نحوست کی وجہ سے اس کا شوہر مرگیا " آج بھی بہت سے لوگ اس رسم پر عمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں
اگر غور وفکر تدبر و دانائی سے کام لیا جائے تو بہ نسبت پہلے نکاح کے( جب کہ وہ کنواری تھی) دوسرا نکاح اس بیوہ کا اہم ہے کیوں کہ پہلے وہ خالی الذہن تھی صالح زوجیت کا یا تو علم ہی نہ تھا یا تھا علم الیقین( یعنی صرف علم تھا) تھا اور اب اس کو عین الیقین( یعنی مشاہدہ) ہو گیا ہے اس حالت میں وسواس حسرات کا ہجوم زیادہ ہوتا ہے جس سے کبھی صحت کبھی آبرو کبھی دین کبھی سب برباد ہوجاتے ہیں
خلاصہ کلام
امت مسلمہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش ہے کہ اپنے تمام کاموں کے ساتھ ساتھ بیوہ اور طلاق شدہ عورتوں کے نکاح پر غوروفکر کریں امت محمدیہ کی کثرت کو دھیان میں رکھیں" تعدد زوجات" اور "کثرت اولاد" کا سبب بنیں

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
مضمون
آج گھروں میں بیٹھیں کنواری لڑکیوں کا ذمہ دار کون؟

آئیے آج ہم اور آپ ایک بات پر غور کرتے ہیں کہ آج لڑکیوں کا رشتہ ایک بہت بڑا المیہ کیوں بنا ہوا ہے؟ایک باپ اپنی بیٹی کے رشتہ کے لئے ایک بھائی اپنی بہن کے رشتہ کے لئے ہمہ وقت پریشان نظر آتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
کیا جہیز اس کی وجہ ہے ؟کیا مال و زر اس کی وجہ ہے؟نہیں بلکہ بہت سی لڑکیوں نےتو گھروں میں کام کاج کر کے پورے جہیز کا سامان تیار کر لیا ہے پھر وجہ کیا ہے؟
وجہ ہے سنت پر عمل نہ کرنا اور یہ ایسی سنت ہے جو انبیائے سابقین بالخصوص حضور رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
آپ کو معلوم ہے وہ کیا ہے؟
"تعدد زوجات" یعنی ایک مرد کے نکاح میں کئی کئی عورتیں ہونا
لیکن آج اس سنت کو چھوڑ دیا جاتا ہے
جس کی وجہ سے آج بھی گھروں میں بہت سی لڑکیاں" 40 "40"+" 30 "30"سال اور بعض تو اس انتظار میں اپنی پوری زندگی گزار دیتی ہیں کہ کوئی مناسب رشتہ آئے
کاش مسلمانوں تم نے سنت پر عمل کیا ہوتا؟تو آج یہ بیٹیاں جو گھروں میں بیٹھی ہیں وہ کسی گھر کی بیوی یا بچے کی ماں بنی ہوئی نظر آتیں؛زوجیت کے جوڑے میں نظر آتیں ؛تعداد انسانی کے اضافے کا سبب بنتیں؟ حدیث پاک میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ"تم زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے شادی کرو پوچھا گیا کیوں؟تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن دوسری امتوں کے مقابلہ میں : میں اپنی امت کے زیادہ ہونے پر فخر کروں گا
پتہ چلا "تعداد زوجات" اور "کثرت اولاد"میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی ہے
آج ہوتا کیا ہےاگر ایک انسان دوسری شادی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ہی خاندان کے لوگ اس کو روک دیتے ہیں یاوہ زوجہ جو اس کے نکاح میں ہے دوسری شادی کرنے سے روک دیتی ہے
اور وجہ ہوتی ہے صرف لاعلمی
ابتدائے اسلام میں جنگوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہوجاتے تھے تو ان کی بیوہ عورتوں کو دوسرے صحابہ کرام اپنے نکاح میں لاتے صرف اس غرض سے کہ ان کی ضروریات زندگی گزر بسر ہو سکیں
ایسا ہی ہمارے حضور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی گیارہ شادیاں کرکے امت کو اشارہ دیا کہ اگر کوئی مطلقہ عورت یا بیوہ عورت یا کنواری جو شادی کے لائق ہے اس کو اپنے نکاح میں لائیں اس کی ضروریات زندگی کا خیال رکھیں
سبق"مگر ایک وقت میں چار عورتوں پر اضافہ نہ کریں" اور نہ ایک وقت میں دو سگی بہنیں ایک نکاح میں جمع کریں" کیونکہ یہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے قرآن پاک میں اللہ نے فرمایا ہے کہ "اگر عورتیں تمہیں اچھی لگیں تو تم شادی کرو ایک سے دو سے تین سے چار سے "ایک وقت میں

نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے "نساءکم حرث لکم" یہ عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تم ان سے فائدہ اٹھاؤ
تنبیہ جب قرآن شریف میں اللہ کا فرمان ہے تو آپ کون ہوتے ہیں دوسری یاتیسری یا چوتھی شادی کرنے سے روکنے والے یا اس کو معیوب سمجھنے والے
خلاصہ کلام
ہر انسان جوصاحب صحت و دولت ہے اس کو چاہیے کہ "تعدد زوجات"کو اپنے نکاح میں لائے تاکہ امت مسلمہ کی وہ بیٹیاں جوطویل عمر سے گھروں میں بیٹھی ہیں ان کو سہارا مل جائے سنت پر بھی عمل ہو جائے اور بیٹیوں کو بھی جینے کا سنہرا موقع مل جائے
ماں ؛بہنوں اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس بات پر زیادہ سے زیادہ غور و فکر کریں اور آپس میں اس موضوع پر خوب بحث کریں خود بھی عمل کریں دوسروں کو بھی ترغیب دلاتے رہیں
شاید کے اتر جائے تیرے دل میں میری بات

از قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل نمبر 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
چارلوگوں نے معاشرہ برباد کر دیا

چار اشخاص کی وجہ سے معاشرے میں ہر طرح کی برائی پھیلی ہے
پیدائش پر غلط رسومات ؛چھٹی کے وقت غلط رسومات؛منگنی ؛بیاہ؛ شادی کی تباہ کن رسومات؛ جوتا چرائی کی بے ہودہ رسومات؛گاڑی میں دلہن کو بہنوئی کے بٹھانے کی نازیبا رسومات؛دولہن کی گاڑی روکنے کی رسومات؛ سلامی کے وقت کی بے ہودہ حرکات؛ چوتھی چالے کی من گھڑت رسومات؛ محرم کے مہینے میں دلہن کو مائیکے بھیجنے کی رسومات؛بچہ کی پیدائش مائیکےمیں کرانے کی رسومات؛رت جگہ؛ منڈا؛
جہیز کی لعنتی رسومات ؛گود بھرائی کی مہلک رسومات؛
موت پر غلط رسومات تیجے؛دسوایں ؛بیسوایں؛اور چالیسویں میں دعوت کر کے کھانا کھلانے کی رسومات وغیرہ
ان ہی کے ذریعہ پھیلیں ہیں اور پھیل رہی ہیں
اور آگے نظر دوڑائیں"دولھا ؛دلھن سے بیہودہ مذاق؛
دیور بھابھی کی مذاق؛ سالی بہنوئی کی مذاق؛
غرض یہ کہ دنیابھر میں جتنی بھی رسومات اور خرافاتوں نے جنم لیا اور لے رہی ہیں ان سب کے ذمہ دار یہ ہی چار اشخاص ہیں"حالانکہ حدیث پاک میں ان تمام برائیوں کا سدباب کرنے کی تاکید آئی ہے اور
دیور؛بھابھی؛سالی؛بہنوئی کے متعلق سخت وعید فرمائی ہے ان چاروں کی لاپرواہی نے پورے معاشرے کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیا ہے اگر یہ چاروں اپنی اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتے تو حالات یہاں تک نہ پہونچتے جہاں تک آج پہنچ چکے ہیں ان چاروں کو اپنے اوپر غوروفکر کرنا چاہیے اور عزم مصمم کرنا چاہیے معاشرے کی تباہی کا سبب ہم نہیں بنیں گے
ان چاروں کے متعلق یہ سمجھ لیجیے کہ یہ معاشرے کے چار پیر ہیں اور معاشرے کی درستگی کے لیے
چاروں پیروں کا درست رہنا نہایت ضروری ہے ایک پیر میں بھی اگر خرابی آتی ہے تو سمجھ لیجئے گا کہ معاشرے کے اندر خرابی آنا شروع ہو گئی ہے

الغرض معاشرے کی سالمیت کے لئے اور خوشگوار زندگی گزارنے کے لیےان چاروں پیروں کا صحیح و سالم رہنا نہایت ہی اہم ہے آپ جانتے ہیں وہ چار لوگ جو معاشرے کے چار پیر کہے گئے کون ہیں؟
"باپ ؛بیٹا ؛بھائی؛ اور شوہر"
باپ کو چاہیے کہ اولاد پر نظر شفقت کے ساتھ ساتھ نظر جلال بھی رکھے؛اسی طرح بھائی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہنوں پر نگرانی اور تجسس رکھے؛بیٹے کی ذمہ داری ہے کہ ماں کی خوب خدمت کرے اس کو کسی طرح کی کوئی پریشانی اور ضرورت محسوس ہونے سے نہ دے ؛اسی طرح شوہر کی ذمہ داری ہے
کہ وہ اپنی بیوی کے تمام طرح کے حقوق کو ادا کرے
یہ چاروں مذکر اپنے رشتے کی مستورات کی حفاظت و نگرانی کریں گے تو معاشرے میں کیسی بھی خرابی نہیں ہو پائے گی
لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالی کے فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور اقوال سلف صالحین کو اچھے سے سمجھیں اور ان پر عمل کریں
خلاصہ کلام
قال اللہ قال رسول اللہ واقوال صلحاء کو پڑھیں اوران پر عمل کریں اور تمام خرافات ؛رسومات اور برائیوں سے بچیں
اللہ تعالی ہدایت عطا فرمانے والا ہے

از قلم (مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائیل 7247863786
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
صفر المظفر کے 45 مضامین.pdf
9.4 MB
Mahe Safar 45 Mazamin
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہرفن مولا تھے اعلیٰ حضرت

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

جب الوہیت پر حملہ کیا گیا تو اللہ تعالی نے مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کو پیدا فرمایا اور
جب رسول اللہﷺ کے اختیارات کا انکار کیا گیا؛جب اطاعت رسول کو شرک قرار دیا گیا؛ جب رسول ﷺ کو اپنے بڑے بھائی کی طرح کہا گیا؛جب علم غیب رسولﷺ کو پاگلوں بچوں اور چوپایوں کے علم کے برابر کہا گیا؛
جب محبت رسولﷺ کا انکار کیا گیا؛ جب میلاد مصطفیﷺ منانے کو بدعت اور غیروں کا شعار کہا اور لکھا گیا؛جب اولیاء اللہ کی محبت کو شرک سے تعبیر کیا گیا ؛ جب ہر طرف سے محبت رسولﷺ؛ اطاعت رسولﷺ؛ اور غلامی رسولﷺ کا انکار کیا گیا
تو اللہ تعالی نے بریلی شریف کی سرزمین پر اپنے ایسے بندے کو پیدا فرمایا جس نے نیابت رسول ﷺ کا حق ادا کر دیا اور غداران رسول ﷺ کا قلع قمع کر دیا :اس محبوب بندے کو آج دنیا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے
ترجمہ قرآن کے نام پر جب ایمان والوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا گیا
تو امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمہ کنزالایمان اس قوم دیا اور کہاں وقت کا مجدد ایمان والوں کے ایمان کو لٹنے نہیں دیے گا
جب تقویت الایمان لکھ کر خبط الایمان کی دلیل پیش کی گئی تو امام احمد رضا نے قوم کو تمہید الایمان عطا فرمائی

جب تحذیرالناس لکھ کر قوم مسلم کے معیار کا ستیاناس کیا گیا؛تو امام احمد رضا نے قوم مسلم کے معیار کو بچایا

جب فتاویٰ کی بنیاد پر اس قوم کے معیار کو ٹھوکر ماری گئی
تو امام احمد رضا قدس سرہ نے فتویٰ رضویہ دے کر اس قوم کے معیار کو بچایا
جب علم غیب رسولﷺ کا انکار کیا گیا
تو الدولت المکیہ بالمادۃ الغیبیہ جیسی شاہکار کتاب اس قوم کو عطا کی
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے وہ نمایاں کام انجام دیئے جن کو قیامت تک یاد رکھا جائے گا

اعلحضرت قدس سرہ کی ذات محتاج تعارف نہیں ہے
آج ساری دنیا کا جائزہ لو تو پتہ چلے گا کہ اعلی حضرت قدس سرہ کی شان میں اتنی کتابیں لکھی جاچکی ہیں جن کا شمار کرنا آسان کام نہیں ہے

تم چودھویں صدی کے مجدد ہو ایسے اعظم
لہرا دیےجنہوں نے وہ سنیت کے پرچم
اہل عرب نےمانا اہل عجم نے مانا احمد رضا یہ تم کو اتنا بڑا مکرم

ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں
اعلی حضرت نے تیرہ سال دس ماہ چار دن کی عمر میں پہلا فتوی حرمت رضاعت (یعنی دودھ کے رشتے کی حرمت )پر تحریر فرمایا _ آپ کے والد بزرگوار رئیس المتکلمین حضرت مفتی نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی فقاہت دیکھ کر آپ کو مفتی کے منصب پر فائز کیا
آپ کے ابتدائی دس سال کے فتاویٰ جمع نہ ہو سکے
دس سال کے بعد کے جو فتاویٰ جمع ہوئے وہ "العطایاالنبویہ فی الفتاوی الرضویہ" کے نام سے 30 جلدوں پر مشتمل ہیں
یہ تییس جلدیں تقریبا 22 ہزار صفحات پر مشتمل ہیں
اور ان میں چھ ہزار آٹھ سو سینتالیس سوالات کے جوابات اور دو سو چھ رسائل اور اس کے علاوہ ہزار ہا مسائل ضمنا زیر بحث بیان فرمائے ہیں

کس طرح اتنے علم کے دریا بہا دیے
علمائے حق کی عقل تو حیران ہے آج بھی
اعلی حضرت سرکار قدس سرہ نے بہت سی کتب تصنیف فرمائیں
جن میں سے تقریبا بارہ سو دستیاب ہو سکیں
آپ جتنے عظیم مصنف تھے اس سے بڑھ کر کے عاشق رسولﷺ بھی تھے
آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت کرتے تھے اس کا اندازہ آپ مندرجہ ذیل نمونوں سے لگا سکتے ہیں
آپ چوتھی مرتبہ جب حج کے لئے تشریف لے گئے روضہ رسول ﷺ کے سامنے وہ مشہور و معروف نعت لکھی جس کے اشعار یہ ہیں
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
جو تیرے در سے یار پھرتے ہیں
در بدر یوں خوار پھرتے ہیں
اور مقطع میں آپ نے اس طریقے سے غلامی پیش کی ہے

کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں
یہ مقطع پڑنا تھا حضور رسول الراحت ﷺ روضہ انور سے تشریف لائے اور اپنے عاشق کو اپنے غلام کو عالم بیداری میں دیدار سے مشرف فرمایا
اعلیٰحضرت تمام علوم و فنون میں مہارت رکھتے تھے
آپ عالم ہی نہیں؛ مفتی ہی نہیں؛ متقی ہی نہیں؛مدرس ہی نہیں؛ محقق ہی نہیں؛ مفسر ہی نہیں؛محدث ہی نہیں؛مدقق ہی نہیں ؛شارح ہی نہیں ؛ مترجم ہی نہیں؛شاعر ہی نہیں؛ مقررہی نہیں؛مدرس اورمصنف ہی نہیں بلکہ ان سب کے استاد؛ سردار اور رہنما بھی تھے_
مگر کسی نام سے کسی لقب سے آپ کو یاد نہیں کیا جاتا ہے اگر کیا جاتا ہے توامام عشق و محبت سے نام و لقب آپ کو یاد کیا جاتا ہے-
اعلحضرت قدس سرہ خود فرماتے تھے
اگر کوئی میرے دل کے دو ٹکڑے کرے تو ایک ٹکڑے پر لاالہ الااللہ اور دوسر پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا پائے گا_
اعلی حضرت قدس سرہ الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کی جیتی جاگتی تصویر تھے

ایسی کی ہے اپنے آقا کی مدحت السلام
آج دنیا کہہ رہی ہے اعلی حضرت السلام


غوث الاغواث ؛قطب الاقطاب؛سلطان الاولیاء ؛شہنشاہ بغداد؛ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے
آپ کتنی محبت فرماتے تھے
اس کا اندازہ آپ اس مثال سے لگا سکتے ہیں
جب آپ کو پتہ چلا کہ بغداد اس طرف ہے تو آپ نے اس طرف پوری زندگی پیر نہیں
پھیلا ئے
ہندل الولی؛ عطاء رسول؛ خواجہ خواجگان ؛شہنشاہ ہندوستان حضرت
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کتنی محبت فرماتے تھے
اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ اعلی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اجمیر کو اجمیر شریف کہاں کرو

اعلی حضرت قدس سرہ کی پوری زندگی محبت رسولﷺ محبت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین؛ محبت اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم؛ محبت اولیاء اللہ علیہم الرضوان اور عقیدت سادات کرام و خدمت خلق خدا اور
تبلیغ دین و اشاعت دین مبین
صرف ہوئی
جس طرح آپ نے خدمت دین اور خدمت خلق خدا کی ہے
اسکا ہی نتیجہ ہے کہ 2020 عیسوی ہوگئی اور آپ کا 102 واں عرس مبارک ہونے جارہا ہے اس کرونا وائرس کی مہاماری کے باوجود غلامان اعلیٰ حضرت کا امنڈتا ہوا سیلاب بریلی شریف کی طرف رواں دواں ہے

ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں

کتبہ
فقیر نوری گدائے رضوی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟ (پارٹ 2) نظامِ عالَم میں عورت کی ضروت: الحمد للہ اللہ تعالٰی نے ساری کائنات کی تخلیق کی اور اس میں اپنی قدرتوں کی بے شمار خوبصورت کاریگری کا اظہار کیا۔ اللہ تعالٰی کی خوبصورت قدرتوں پر جب ہم غور کریں تو انسان کی عقل وفہم اسی…
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟
(پارٹ 3)

عورت، اسلام سے پہلے

اسلام سے پہلے عورتوں کا حال بہت خراب تھا۔ دنیا میں عورتوں کی کوئی عزت و وقعت ہی نہیں تھی۔ مردوں کی نظر میں اس سے زیادہ عورتوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی کہ وہ مردوں کی نفسانی خواہش پوری کرنے کا ایک "کھلونا" تھیں۔

عورتیں دن رات مردوں کی قسم قسم کی خدمت کرتی تھیں اور طرح طرح کے کاموں سے یہاں تک کہ دوسروں کی محنت مزدوری کرکے جو کچھ کماتی تھیں وہ بھی مردوں کو دے دیا کرتی تھیں مگر ظالم مرد پھر بھی ان عورتوں کی کوئی قدر نہیں کرتے تھے بلکہ جانوروں کی طرح ان کو مارتے، پیٹتے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر عورتوں کے کان ناک وغیرہ اعضا کاٹ لیا کرتے تھے اور کبھی قتل بھی کر ڈالتے تھے!

عرب کے لوگ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے اور باپ کے مرنے کے بعد اس کے لڑکے جس طرح باپ کی جائیداد اور سامان کے مالک ہو جایا کرتے تھے اسی طرح اپنے باپ کی بیویوں کے مالک بن جایا کرتے تھے اور ان عورتوں کو زبردستی لونڈیاں بنا کر رکھ لیا کرتے تھے۔ عورتوں کو ان کے ماں باپ بھائی بہن یا شوہر کی میراث میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا تھا، نہ عورتیں کسی چیز کی مالک ہوا کرتی تھیں۔
عرب کے بعض قبیلوں میں یہ ظالمانہ دستور تھا کہ بیوہ ہو جانے کے بعد عورتوں کو گھر سے باہر نکال کر ایک چھوٹے سے تنگ و تاریک جھونپڑے میں ایک سال تک قید میں رکھا جاتا تھا۔ وہ جھونپڑے سے باہر نہیں نکل سکتی تھیں، نہ غسل کرتی تھیں، نہ کپڑے بدل سکتی تھیں، کھانا پانی اور اپنی ساری ضرورتیں اسی جھونپڑے میں پوری کرتی تھیں۔ بہت سی عورتیں تو گھٹ گھٹ کر مر جاتی تھیں اور جو زندہ بچ جاتی تھیں تو ایک سال کے بعد ان کے آنچل میں اونٹ کی مینگنیاں ڈال دی جاتی تھیں اور ان کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ کسی جانور کے بدن سے اپنے بدن کو رگڑیں پھر سارے شہر کا اسی گندے لباس میں چکر لگائیں اور ادھر ادھر اونٹ کی مینگنیاں پھینکتی ہوئی چلتی رہیں یہ اس بات کا اعلان ہوتا تھا کہ ان عورتوں کی عدت ختم ہوگئی ہے۔

اسی طرح کی دوسری بھی طرح طرح کی خراب اور تکلیف دہ رسمیں تھیں جو غریب عورتوں کے لیے مصیبتوں اور بلاؤں کا پہاڑ بنی ہوئی تھیں اور بے چاری مصیبت کی ماری عورتیں گھٹ گھٹ کر اور رو رو کر اپنی زندگی کے دن گزارتی تھیں۔

ہندوستان میں تو بیوہ عورتوں کے ساتھ ایسے ایسے دردناک ظالمانہ سلوک کیے جاتے تھے کہ جن کو سوچ سوچ کر کلیجہ منھ کو آجاتا ہے۔ ہندو دھرم میں ہر عورت کے لیے فرض تھا کہ وہ زندگی بھر قسم قسم کی خدمتیں کرکے "پتی پوجا" (شوہر کی پوجا) کرتی رہے اور شوہر کی موت کے بعد اس کی "چتا" کی آگ کے شعلوں پر زندہ لیٹ کر "ستی" ہو جائے یعنی شوہر کی لاش کے ساتھ زندہ عورت بھی جل کر راکھ ہو جائے غرض پوری دنیا میں بے رحم اور ظالم مرد عورتوں پر ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے کہ ان ظلموں کی داستان سن کر ایک دردمند انسان کے سینے میں رنج وغم سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ان مظلوم اور بیکس عورتوں کی مجبوری و لاچاری کا یہ عالم تھا کہ سماج میں نہ عورتوں کے کوئی حقوق تھے نہ ان کی مظلومیت پر دادوفریاد کے لیے کسی قانون کا کوئی سہارا تھا۔ ہزاروں برس تک یہ ظلم و ستم کی ماری دکھیاری عورتیں اپنی اس بے کسی اور لاچاری پر روتی بلبلاتی اور آنسوبہاتی رہیں مگر دنیا میں کوئی بھی ان عورتوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والا اور ان کی مظلومیت کے آنسوؤں کوپونچھنے والا دور دور تک نظر نہیں آتا تھا، نہ دنیا میں کوئی بھی ان کے دکھ درد کی فریاد سننے والا تھا نہ کسی کے دل میں ان عورتوں کے لیے بال برابر بھی رحم و کرم کا کوئی جذبہ تھا۔

عورتوں کے اس حال زار پر انسانیت رنج و غم سے بے چین اور بے قرار تھی مگر اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ رحمت خداوندی کا انتظار کرے کہ ارحم الراحمین غیب سے کوئی ایسا سامان پیدا فرمادے کہ اچانک ساری دنیا میں ایک انوکھا انقلاب نمودار ہوجائے اور لاچار عورتوں کا سارا دکھ درد دور ہو کر ان کا بیڑاپار ہو جائے چنانچہ رحمت کا آفتاب جب طلوع ہو گیا تو ساری دنیا نے اچانک یہ محسوس کیا کہ ؎

جہاں تاریک تھا 'ظلمت کدہ تھا' سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھرگھرمیں اجالا تھا

(ماخوذ از جنتی زیور، علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمہ)

جاری...

عبد مصطفی آفیشل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
حاصل مطالعہ (حصہ2) مطالعہ سے علم بڑھتا ہے، یاد رہے کہ علم سیکھنے سے آتا ہے، اس کے حصول کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ: بے شک علم سیکھنے سے آتا ہے۔ اور سیکھنے کا بہترین ذریعہ مطالعہ ہے۔ (کنزالعمال، ج10، ص104 حدیث 29252) مفتی احمد یار خان…
حاصلِ مطالعہ (پارٹ 3)

مطالعہ سے عقل و شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ باشعور انسان ہمیشہ کامیابیاں اور عزتیں سمیٹتا ہے اور بے شعور کے حصے میں اکثر ناکامی و ذلت آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ کہاں کیا کرنا ہے۔
یعنی عاقل انسان سوچ سمجھ کر قول و فعل ادا کرتا ہے اور بے شعور کو سوچنے کی نوبت ہی نہیں آتی لہٰذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ و تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہیں مطالعہ بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔

دینی و دنیاوی ترقی:
مطالعہ انسان کی دینی اور دنیاوی دونوں ترقیوں کا سبب بنتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر مقاصد متعین کرکے مطالعہ کیا جائے تو وہ دین اور دنیا دونوں کی ترقی سے ہمکنار کرتا ہے مگر شرط یہی ہے کہ ہر دو لحاظ سے مطالعہ کی سمت درست ہو جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

مطالعہ ذوق میں بالیدگی، طبیعت میں نشاط، نگاہوں میں تیزی اور ذہن و دماغ کو تازگی عطا کرتا ہے جس طرح ایک اچھا دوست ہمیں پرلطف باتوں، دلچسپ نکات اور حیرت و استعجاب میں ڈالنے والے حقائق بتا کر تروتازہ کر دیتا ہے نیز جس سے ذوق طبیعت اور ذہن و دماغ میں ایک نئی روح اور نیا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح کتاب بھی ایک اچھے رفیق وساتھی جیسا کردار ادا کرتی ہے۔

مطالعہ انسان کو مختلف قوموں کے حالات اور ان کی تہذیب و ثقافت وغیرہ سے آگہی بخشتا ہے اسی آگاہی کے تناظر میں انسان اپنی اور دیگر تہذیبوں کا تقابل کرتا ہے اور وجہ ترجیح تلاش کرتا ہے اب یا تو اپنی تہذیب پر مزید پختہ ہو جاتا ہے یا پھر اسے خیر آباد کہہ کر دوسری تہذیب کو اختیار کر لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ تحریر و تبلیغ کے ذریعے جب اسلامی خوبیوں اور اسلامی تہذیب سے لوگ روشناس ہوئے تو اپنی اپنی تہذیبوں کو ترک کرکے جوق در جوق اسلام کے دامن امن سے وابستہ ہوگئے۔

مطالعہ کے بعض فوائد آگے "مطالعہ کے مقاصد" کے ضمن میں بھی آرہے ہیں۔

جاری ہے.......

عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM