🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
کیاازواج رسول اللہ ﷺکی تعداد 18 ہے؟

(1)ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا
(2) ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا
(3 ) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
(4 )ام المومنین حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا
(5) ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمررضی اللہ عنہا
(6 )ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا
(7 ) ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا
(8 ) ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا
(9) ام المومنین حضرت ام حبیبہ(رملہ) ابی سفیان رضی اللہ عنہا
(10) ام المومنین حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب رضی اللہ عنہا
(11)ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا
درج بالا گیارہ ازواج مطہرات کے بعد
اب ذیل میں بعض ان خواتین کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح یا پیغام نکاح دینے کا تزکرہ کتب سیر و احادیث میں ہے

(12) حضرت اسماء بنت النعمان بن شراحبیل الکندریہ الجونیہ رضی اللہ عنہا
(13) حضرت فاطمہ بنت ضحاک الکلابیہ رضی اللہ عنہا
(14) حضرت فاطمہ بنت شریح رضی اللہ عنہا
(15) حضرت ہند بنت یزید الکلابیہ رضی اللہ عنہا
(16) حضرتِ قتیلہ بنت قیس الکندیہ رضی اللہ عنہا
( 17) حضرت سنا بنت اسماءبن صلت السلمیہ رضی اللہ عنہا
(18) حضرت ام شریک الانصاریہ رضی اللہ عنہا

تنبہ نبیہ
تفصیل مندرجہ ذیل کتابوں میں دیکھیں
(1)بخاری کتاب الطلاق
( 2)مسلم
(3)تحقیق قصۃ المراۃ الجونیہ جلد 3 صفحہ 650
(4)اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد 6
(5)الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 4
(6)المستدرک للحاکم جلد4
(7)ذکر ازواج مطہرات

خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

تعداد ازواج و اولاد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ


حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے مختلف اوقات میں نو شادیاں کیں
اور ان کے علاوہ آپ کی کئی باندیاں بھی تھیں
آپ کا پہلا نکاح جگر گوشہ رسول طیبہ؛طاہرہ؛ارضیہ؛مرضیہ؛عابدہ ؛زاہدہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہوا، اور ان سے تین صاحبزادے امام حسن، امام حسین اور امام محسن رضی اللہ تعالی عنھم پیدا ہوئے۔ حضرت محسن رضی اللہ عنہ کا بچپن میں ہی وصال ہوگیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی دو صاحبزادیاں زینب کبریٰ اور ام کلثوم کبریٰ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئیں۔ جب تک حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بقید حیات رہیں آپ کرم اللہ وجہہ الکریم نے کسی اور سے نکاح نہ کیا

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد مختلف اوقات میں آپ کے درج ذیل نکاح ہوئے

ام البنین بنت حرام عامریہ رضی اللہ عنہا: ان سے چار فرزند حضرت عباس، حضرت جعفر، حضرت عبداللہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے

لیلیٰ بنت مسعود تیمیہ رضی اللہ عنہا: ان سے دو بیٹے عبیداللہ اور ابوبکر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔

اسما بنت عمیس خثیمہ رضی اللہ عنہا: ان سے یحییٰ اور محمد اصغر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔

ام حبیبہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا:،ان سے حضرت عمر اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے

امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا: ان سے محمد اوسط رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے

خولہ بنت جعفر حنفیہ رضی اللہ عنہا: ان سے محمد اکبر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، جو محمد حنفیہ کے نام سے معروف ہیں

ام سعید بنت عروہ رضی اللہ عنہا: ان سے ام الحسین اور رملہ کبریٰ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئیں۔

محیاۃ بنت امراءالقیس: ان کے بطن سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جو بچپن ہی میں فوت ہو گئیں

۔
متعدد با ندیوں سے پیدا ہونے والی آپ کی اولاد کے نام درج ذیل ہیں
حضرت ام ہانی
حضرت میمونہ
حضرت زینب صغریٰ
حضرت رملہ صغریٰ
ام کلثوم صغریٰ
حضرت فاطمہ
حضرت ا مامہ
حضرت خدیجہ
حضرت ام الکبریٰ
حضرت ام سلمہ
حضرت ام جعفر
حضرت ام جمانہ
رضی اللہ عنہم اجمعین

حوالہ جات
الکامل في التاريخ جلد 2 صفحہ 262،
البدايه و النهايه، جلد 7: صفحہ 332
ابن قتيبه، المعارف،جلد 1: صفحہ 210،

کتبہ
العبد العاصی الی ربہ الہادی خبیب القادری سلمہ المنان عن شرورالزمان
مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
تعزیت نامہ

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

23 محرم الحرام 1442 ہجری مطابق 12 ستمبر 2020 عیسوی کو جیسے ہی یہ خبر ملی کہ خطیب یورپ وایشیا ؛ شیر ہندوستان؛حافظ احادیث کثیرہ؛ مناظر اہل سنت؛ آفت جان وہابیت؛عطائے حضور مفتی اعظم ہند ؛یادگار اکابر؛ ماہر علوم دینیہ حضرت علامہ مفتی حسین صدیقی المعروف بہ ابوالحقانی رحمۃ اللہ علیہ اس دار فانی سے کوچ کر کے دار بقا پہنچ گئے دل پر رنج و الم کے پہاڑ ٹوٹ گئے
کیوں کہ قاعدہ کلیہ ہے " موت العالم موت العالم "حضرت کے جانے سے جو جگہ خالی ہوئی ہے اس کی بھرپائی مشکل ہے
ویسے تو شب و روز کے ہنگاموں میں نہ جانے کتنوں کے بارے میں یہ خبر ملتی ہے کہ وہ ہم سے رخصت ہوگئے
بہت سوں کے چھوٹ جانے سے دل شدید رنج و غم محسوس کرتا ہے لیکن ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں
جن کی وفات کی خبر دلوں پر بجلی سی گرادے
جن کا آفتابِ زندگی مشرق میں غروب ہو تو مغرب والے اندھیرا محسوس کریں ان عظیم شخصیات میں نمایاں طور پر حضرت نور اللہ مرقدہ کی ذات ہے
حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت بے مثال اور خطابت لاجواب وسدا بہار تھی
ایک مرتبہ کی بات ہے ( فقیر کا طالب علمی کا زمانہ تھا)عرس اعلی حضرت کے موقع پر جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج میں تقریباً چار بجے کا وقت ہوتا حضرت نور اللہ مرقدہ نے دورانِ خطابت ایک جملہ ارشاد فرمایا تھا " اے وہابیوں اس رضا کے شیر کو علم غیب کے ثبوت میں جتنی احادیث کریمہ یاد ہیں
اتنی تم سب کو مختلف موضوعات پر بھی یاد نہ ہوں گی
اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حضرت کی جملہ اولادوں کو صبر جمیل واجر جزیل عطا فرمائے اور حضرت کے درجات کو بلند فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے


شریکِ غم (مفتی)
خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا؟

از قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

اللہ جل مجدہ الکریم نے زمین وآسمان؛ شجر و حجر؛ برگ و ثمر ؛چرند و پرند؛ پانی وہوا اورجانور وغیرہ سب کو انسان کے لیے پیدا فرمایاہےاور انسان کو اپنی بندگی کے لیے وجود بخشا جیساکہ اللہ تعالی کاارشاد ہے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون" اور ہم نے انسان اور جنوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے"
اللہ تعالی نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور پھر حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا سے ان کو سکون و اطمینان عطا کر دیا چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے" لیسکن الیھا "(سورہ اعراف)" تاکہ وہ (مرد) اس (عورت) سے سکون حاصل کرے"دوسری مقام پر ارشاد فرمایا"لتسکنوا الیھا"( سورہ روم)" تاکہ ان کے ساتھ آرام سے رہو"اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا سے نسل انسانی کو خوب پھیلایا چنانچہ ارشاد خداوندی ہے" وبث منھما رجالا کثیرا ونساء "(سورہ نساء) اور ان( آدم و حوا)سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے ہیں" "سبق" جتنے بھی انسان دنیا میں ہیں سب کے باپ حضرت آدم علیہ السلام اور ماں حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہاہیں
آج اگر جائزہ لیا جائے تو اس دنیا میں انسان اپنے مقصد اصلی سے بھٹکر دوسرے راستوں پر چل گیاہے مثلاً ! کوئی جان بوجھ کر نماز کو ترک کردیتا ہے ؛کوئی نماز میں سستی وکاہلی کرتا نظر آتا ہے؛
کوئی آٹھ کی ؛کوئی تین سو ساٹھ کی ؛جب کہ کوئی صرف کھاٹ کی ہی پڑھتا ہے اور کوئی صرف تین وقتوں کی ہی پڑھتا ہے؛
کوئی نماز؛ روزہ؛ حج اور زکوٰۃ کو مکمل بھول سا گیا ہے اور کوئی کھبی کھبار نماز ادا کرتا ہے ؛اور کوئی نمازیوں کا ادب واحترام ہی نہیں کرتا
"حالان کہ حقیقت میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے صرف عبادت کر نے کے لئے ہی پیدا کیا ہے"
نما چھوڑنا بہت بڑھا گناہ ہے جو جہنم میں لے جانے کا سبب ہے چنانچہ حیث پاک میں ہے من ترک الصلوٰۃ متعمدا فقد کفر
"جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی وہ کفر کی حد تک پہنچ گیا"
حدیث پاک میں آیا ہے جو انسان نماز میں سستی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو پندرہ سزائیں دیتا ہے پانچ دنیا میں تین موت کے وقت تین قبر میں تین قبر سے نکلتے وقت
دنیا میں ملنے والی سزائیں یہ ہیں

(١)اسکی زندگی میں برکت نہیں ہوتی
(٢)اسکے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹادی جاتی ہے
(٣)اسے اللہ تعالی کسی عمل کا اجر نہیں دیتا
(٤)اسکی دعا آسمان کی طرف اٹھائی نہیں جاتی (قبول نہیں ہوتی)
(٥) اس کو نیک لوگوں کی دعا سے حصہ نہیں ملتا"

موت کے وقت پہچنے والی سزائیں یہ ہیں
(١) وہ ذلیل ہو کر مرتا ہے
(٢)بھوک کی حالت میں مرتا ہے
(٣) پیاسا مرتا ہے اگر چہ دنیا کے تمام سمندروں کا پانی اسے پلایا جائے اسکی پیاس نہیں بجھتی

قبر میں پہنچنے والی سزائیں یہ ہیں
(١) اسکی قبر تنگ ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں آپس میں مل جاتی ہیں
(٢) اس کی قبر میں آگ جلائی جاتی ہے وہ صبح وشام انگاروں پہ لوٹ پوٹ ہوتا ہے
(٣) اس کی قبر پر ایک اژدہا مقرر کیا جاتا ہے جسکا نام "شجاع اقرع"یا "الشجاع الاقرع"ہے اس کی آنکھیں آگ کی اور ناخن لوہے کے ہیں ہر ناخن ایک دن کی مسافت کے برابرلمبا ہے وہ میت کو ڈستا ہے اور کہتا ہے میں"شجاع اقرع" ہوں یا "الشجاع الاقرع" ہوں اس کی آواز سخت گرج والی آواز کی طرح ہوتی ہے اور کہتا ہے میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے میں تجھے اس بات پر ماروں کہ تو نے صبح کی نماز طلوع آفتاب تک نہ پڑھی تھی؛ اور
اس بات پر مارو کہ تو نے ظہر کی نماز عصر تک مؤخر کی؛ اور اس بات پر مارو کہ تو نے عصر کی نماز مغرب تک نہیں پڑھی ؛اور اس بات پر ماروں کہ تو نے مغرب کی نماز عشاء تک ادا نہ کی؛ اور تجھے اس بات پر ماروں کہ تو نے عشاء کی نماز کو صبح تک مؤخر کیا؛اور وہ جب بھی اسے کوئی ضرب مارتا ہے تو وہ زمین میں ستر گز تک گھس جاتا ہے پس وہ قیامت تک زمین میں عذاب آئے گا

اور وہ عذاب جو قبر سے نکلنے کے بعد قیامت میں ہوں گے وہ یہ ہیں
(١) حساب کی سختی
(٢) رب کی ناراضگی
(٣) جہنم میں داخلہ (بے نمازی کا انجام صفحہ١٠)
خردو نوش؛رہنے سہنے؛ بیٹھنے اٹھنے؛آنے جانے؛کاروبار کرنےاور سونے جاگنے غرض یہ کہ انسان کو اللہ تعالی نے مکمل آزادی ہے مگر اس آزادی کے ساتھ عبادت سے آزادی نہیں ہے ہر حال میں نماز ادا کرنی ہوگی
کیونکہ نماز فرض عین ہے اور فرض کی ادائیگی مثل قرض کے ہوتی ہے اور نماز کی تحقیر کرنا کفر ہے_
مگر آج کا انسان بالخصوص مسلمان ہر طرح کی برائیوں میں ملبوس ہے؛ جوئے کے اڈے پر مسلمان؛ شراب کی بھٹی پر مسلمان ؛کھیل کود کے میدان میں مسلمان؛ ناچ گانے کی محفلوں میں مسلمان؛ ہر طرح کی برائی میں مسلمان؛ فرائض کی ادائیگی نہ کرنے میں مسلمان؛ غرض ہر طرح کے فرض سے سستی کرنے میں مسلمان ملبوس ہے
نوٹ بعض مسلمان تمام شرعی احکام و افعال کے پابند بھی ہیں
آج مسلمان
Forwarded from Deleted Account
کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ وہ ﷲ جل جلالہ اور رسولﷺ کے فرامین کو پسِ پشت ڈالے ہوئے
ہے جب تک انسان اللہ اور رسول کی فرمانبرداری نہیں کرے گا اس کو ہر طرح کی رسوائی ہی ملتی رہے گی

"حالات کے سدھر نے کا طریقہ"
تمام برائیوں کو چھوڑ کر سچے دل سے توبہ کرے
قرآن و حدیث کا مطالعہ کریے ؛ احکام پر عمل کرے؛ ہر طرح کی برائی سے دور رہے ؛ علماء کا ادب و احترام کرے ؛سادات کرام کی خدمتیں کرے ؛ان کا احترام کرے؛ سنت رسول کے سانچے میں ڈھل جائے
انشاءاللہ دنیا بھی سدھر جائے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی
اللہ تعالی اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہدایت عطا فرمائے آمین

نہ مانو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانوں
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

از قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
تعلیم نسواں کی آج بہت ضرورت ہے

عورت کی معنی ہیں چھپانے کی چیز یعنی پردہ
عورت پردے کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے کیونکہ پردہ عورت کی زینت ہے
تاریخ گواہ ہے جب بھی عورت نے پردے کو اپنایا ہے تو پردے نے اس کی حفاظت کی ہے
آج بھی آپ جائزہ لیجئے پردے والی مستورات اور غیر پردے والی مستورات کے درمیان کتنا بڑا فرق نظر آتا ہے
مگر پردہ عورت صحیح معنیٰ میں اس وقت کرتی ہے جب وہ وہ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہوتی ہے
تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ مستورات کے مابین کئی طرح کے فرق ہیں
مثلا دونوں کے بات کرنے کا انداز جداگانہ ہوگا
دونوں کی خلوتیں جلوتیں جداگانا ہوں گی
اس لیے لڑکیوں کو تعلیم دینا بہت ضروری ہے
تعلیم نسواں کی ہمارے معاشرے کے لیے بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ جب لڑکی تعلیم سے آراستہ ہو گی تو وہ اپنے شوہر کی بھی اچھی طرح سے خدمت کر سکے گی اپنے والدین کی بھی اچھی طرح خدمت کر سکے گی اپنی ساس و سسر کی بھی کماحقہ خدمت کرسکے گی اور اپنی اولاد کی بھی اچھی طرح سے پرورش کرکے خدمت خلق خداکرنے کے طور طریقے سکھا دے گی اور اپنی زندگی بھی سنت کے مطابق گزار سکے گی
اور تعلیم یافتہ اور غیر بڑھی عورت کے درمیان بہت بڑا فرق ہے
کیونکہ اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے" کیا پڑھے لکھے اور بغیر پڑھے برابر ہیں؟"
اللہ کے فرمان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پڑھے لکھے اور بغیر پڑھے برابر نہیں ہیں
قرآن کا یہ فرمان مرد و زن دونوں کے لیے حدیث پاک میں ہے میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ "تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے" یہ حکم بھی عام ہے مرد و زن دونوں کے لیے یکساں ہے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ اور ارشاد فرماتے ہیں العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمہ" علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و زن پر فرض ہے"
اس حدیث پاک میں علم حاصل کرنے کو فرض بتایا گیا ہے اتنا علم حاصل کرنا کہ حرام و حلال جائز اور ناجائز کے مسائل سے آگاہی حاصل ہو سکے فرض عین ہے
بہر کیف آج کے ماحول کے مطابق عورت کو علم حاصل کرنا نہایت اہم ہے کیونکہ علم حاصل کرنے کیوں کہ علم حاصل کرنے سے شرعی مسائل سے آگاہی حاصل ہوتی ہے
لڑکے کو علم حاصل کیوں کرائیں؟
لڑکی علم حاصل کرے گی بڑی ہوگی اسکے بعد شادی ہوگی پہنچیے گی سسرال اللہ تعالی اس کو اولاد عطا فرمائے گا
پھر اپنی اولاد کی پرورش کرے گی تو جب وہ علم رکھتی ہوگی تو یہ سارے کام شریعت کے حدود میں رہ کر کرے گی

جب علم والے اور غیر علم والے برابر نہیں ہیں تو ان کے اعمال بھی برابر نہیں ہوں گے اور نہ اقوال برابر ہوں گے اورافعال بھی جداگانہ ہوں گے
آج کے دور میں لڑکی کو تعلیم دینا بہت ضروری ہوگیا ہے اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دینا ضروری ہوتا چلا جا رہا ہے
میں آپ کو دو بہنوں کی مثال دے کر کے سمجھانا چاہتا ہوں کہ
تعلیم نسواں کتنی ضروری ہے دو بہنیں ہیں دونوں کے ماں باپ ایک ہیں دونوں ایک ہی گھر میں رہتی ہیں لیکن ایک پڑھی لکھی ہے اور ایک غیر پڑھی ہے دونوں کے درمیان یہ طے ہوتا ہے کہ باری باندھ لیتے ہیں دو دن سارے گھر کا کام آپ کریں گی دو دن آپ کریں گی
گھر ایک ہے بہنیں دو سگی ہیں
پہلے بڑی بہن کی باری آئی( جو غیر پڑھی تھی)صبح اٹھی بغیر ہاتھ دھوئے آٹا گوندھنا شروع کر دیا اس کے بعد میں روٹیاں بنائیں بعدہ جھاڑو پوچھا برتن وغیرہ صاف کیۓ
اس طرح بڑی بہن کے دونوں دن مکمل ہو گئے
اب باری آتی ہے چھوٹی بہن کی جو پڑھی لکھی تھی صبح کو اٹھتی ہے وضو بنا کرنماز فجر ادا کرتی ہے بعد نماز فجر قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہے اس کے بعد مسائل فقیہ کا مطالعہ کرتی ہے بعدازاں آٹا گوند کر روٹیاں بناتی ہے جھاڑو پونچھا برتن کی صفائی کرتی ہے وقت ظہر کے آتے ہی نماز ظہر ادا کرتی ہے عصر کی نماز ادا کرتی ہے مغرب کی نماز ادا کرتے اور عشاء کی نماز ادا کرکے سوجاتی ہے کسی نے پوچھا کہ تو رات کو اتنی جلدی کیوں سو جاتی ہے تو اس لڑکی نے کہا میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رات کو جلدی سوؤ صبح جلدی اٹھو
(اس واقعہ کا فقیر چشم دید گواہ ہے)
میرے دینی اور اسلامی بھائیوں
اپنی اولادوں کو زیادہ سے زیادہ اسلامی تعلیم دو اپنی لڑکیوں کو حافظ قرآن بناؤ ؛عالم دین بناؤ؛ فاضل ومفتی بناؤ اور ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دو کیوں کہ دنیاوی تعلیم کی بھی بہت زیادہ ضرورت پیش
آرہی ہے جب آپ کی لڑکیاں حافظ قرآن بن جائیں گی عالم دین بن جائیں گی یا اپنے وقت کی مفتیہ جائیں گی تو آپ کو شرعی مسائل پوچھنے کے لیے کہیں دوسری جگہ جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی
خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
مضمون

حسین اور حسینیوں پر یزید خبیث کا ظلم و ستم

رشحات قلم (مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پہلے خلیفہ اور جانشین بنے ان کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ خلیفۂ دوم مقرر ہوئے ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے ان کے بعد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں نے چوتھا خلیفہ تسلیم کیا
اس دوران حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ اختلاف ہوا اور پھر معاملہ بہتر ہوگیا 19 رمضان المبارک 40 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ان کے بعد لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کرلیا ادھر حضرت امیر معاویہ طویل عرصے سے شام کے گورنر تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد انہوں نے بھی خلافت کا اعلان کیا کچھ عرصہ تو اختلاف رہا اور پھر 6 ماہ بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سے معزولی کا اعلان کر دیا حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا جس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بعد اپنے خاندان میں خلافت منتقل نہیں کریں گے بلکہ شوری کے ذریعے انتخاب ہوگا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ پچھلے بیس سال سے یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے شام کے گورنر تھے اور اب وہ عالم اسلام کے متفقہ خلیفہ بن گئے مسلمانوں کےدرمیان جاری رسہ کشی کا بھی خاتمہ ہوگیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عالم اسلام کی بہتری کے لیے کئی اہم تاریخی کارنامے انجام دیۓ ؛انہوں نے بحری بیڑا فوج تشکیل دی؛اسی طرح سمندری فوج تشکیل دینے والے وہ پہلے خلیفہ ہیں؛انہوں نے قسطنطنیہ پربھی حملہ کیا اسی جنگ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بھی شہید ہو گئے اور انہیں وہیں دفن کر دیا گیا آج بھی ان کی قبر انور استنبول (ترکی)میں موجود ہے؛اپریل 680 عیسوی میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوگیا
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد یزید خبیث تخت پر بیٹھ گیا اور اپنی بیعت کا اعلان کردیا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا اسی طرح حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی انکار کیا اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی انکار کیا اس لیے کہ یزید فاسق ؛فاجر؛زانی؛ شرابی ؛تارک نماز اور نااہل تھا
جیسے ہی یزید کو پتہ چلا کہ حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت سے انکار کر دیا ہے تو اس نے فورا عبیداللہ بن زیاد کے ذریعے زبردستی بیعت کرانے کا حکم جاری کردیا
ادھر کوفہ والوں نے حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے تقریبا 18 ہزار خطوط لکھے جن کا خلاصہ یہ تھا آپ نواسہ رسول ہیں آپ ہم میں تشریف لائیے ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ہم یزید کو اپنا خلیفہ ہرگز تسلیم نہیں کرتے
الغرض
حسین رضی اللہ تعالی عنہ 72 جانثاروں اور 19 اہل بیت کے ساتھ کوفہ روانہ ہوئے اس قافلے میں حضرت امام حسین کے تین صاحبزادے حضرت علی اوسط( زین العابدین) حضرت علی اکبر حضرت علی اصغر اور ایک صاحبزادی حضرت سکینہ رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے اور آپ کی دو بیویاں حضرت شہر بانو دوسری علی اصغر کی ماں رضی اللہ عنھن اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے چار نوجوان صاحبزادے حضرت قاسم حضرت عبداللہ حضرت عمر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنھم آپ کے ہمراہ تھے جو کربلا میں شہید ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے پانچ فرزند حضرت عباس بن علی حضرت عثمان بن علی حضرت عبداللہ بن علی حضرت محمد بن علی حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے سب نے شہادت پائی اور حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کے فرزندوں میں حضرت مسلم رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی شہادت پالی تھی تین اور فرزند تھے حضرت عبداللہ بن عقیل حضرت عبدالرحمن بن عقیل حضرت جعفر بن عقیل رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے سب نے شہادت پائی حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ کے دو پوتے حضرت محمد بن عبداللہ حضرت عون بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی تھے دونوں نے شہادت پائی صاحبزادگان اہل بیت میں سے کل 17 نے شھادت پائی
حضرت امام زین العابدین اور حضرت عمر بن حسن محمد بن عمر بن علی اور دوسرے کم عمر صاحبزادے قیدی بنائے گئے رضی اللہ عنھم
کربلا کی شہادت سے مدینہ کے لوگوں میں غصہ بھڑک اٹھا اور انہوں نے یزید خبیث کی بیعت کو توڑ دیا
یزید خبیث بہت غصہ میں ہوگیا اس نے مدینہ اور باشندگان مدینہ پر بیس ہزارفوج حملہ کرنے کے لئے بھیجی
اس فوج نے 1700 سو مہاجرین و انصار صحابہ و تابعین کو شہید کردیا رضی اللہ عنھم
700 سو حافظ قرآن کو شہید کردیا 97 سرداروں کو اور دس ہزار مرد وزن اور بچوں کو قتل کر دیا
اور ایک ہزار مدینے کی باعزت عورتوں کے ساتھ زنا بالجبر کرایا جس کے ن
1
Forwarded from Deleted Account
تیجے میں ایک ہزار عورتوں کے بطن سے ناجائز اولادیں پیدا ہوئیں
مسجد نبوی کے مقدس ستونوں سے گھوڑے باندھے کئی روز تک مسجد نبوی کتوں بلیوں اور گھوڑوں کی لید سے آلودہ رہی یزیدی فوج گھروں میں گھس گئی سارا مال و اسباب لوٹ لیا اور بے انتہا ظلم و جبر کیا: یزیدی فوج جب مدینہ منورہ پر ظلم سے فارغ ہوئی تو مکہ مکرمہ کی طرف گئی اور مکہ مکرمہ میں اس طرح ظلم کیا کہ خانہ کعبہ کے غلاف کو جلا دیا؛خانہ کعبہ کی چھت کو گرا دیا ؛مسجد حرام کے ستونوں کو شہید کردیا ؛بیت اللہ شریف کے دروازے کا پردہ نکال کر جلا دیا ؛حرم کے باہر سے حرم کے اندر گولے بارود برسائے ؛حجر اسود ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا؛ حرم کے دروازے توڑ کر فوج حرم میں داخل ہوئی اور عین حرم شریف میں خلیفہ وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا غرض یہ کہ سینکڑوں لوگوں کو حرم میں شہید کیا گیا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے وقت جو مینڈا جنت سے فدیہ کے طور پر آیا تھا اس کے سینگ کعبہ کی چھت میں رکھے تھے وہ بھی جلا دیئے شامی یزیدیوں نے منجنیق کے ذریعہ اس قدر پتھر برسائے کہ خانہ کعبہ کے احاطے میں پتھروں کے ڈھیر لگ گئے( تاریخ طبری وغیرہ)

ان 72 جانثاروں کے نام جو کربلا میں شہید ہوئے مندرجہ ذیل ہیں
*1 حضرت امام حسین*
*2 حضرت عباس بن علی*
*3 حضرت علی اکبر بن حسین*
*4 حضرت علی اصغر بن حسین*
*5 حضرت عبداللہ بن علی*
*6 حضرت جعفر بن علی*
*7 حضرت عثمان بن علی*
*8 حضرت ابوبکر بن علی*
*9 حضرت ابوبکر بن حسن بن علی*
*10 حضرت قاسم بن حسن بن علی*
*11 حضرت عبداللہ بن حسن*
*12 حضرت عون بن عبداللہ بن جعفر*
*13 حضرت محمد بن عبداللہ بن جعفر*
*14 حضرت عبداللہ بن مسلم بن عقیل*
*15 حضرت محمد بن مسلم*
*16 حضرت محمد بن سعید بن عقیل*
*17 حضرت عبدالرحمن بن عقیل*
*18 حضرت جعفر بن عقیل*
*19 حضرت حبیب ابن مظاہر اسدی*
*20حضرت أنس بن حارث اسدی*
*21 حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی*
*22 حضرت قیس بن عشر اسدی*
*23 حضرت ابو ثمامہ بن عبداللہ*
*24 حضرت بریر ہمدانی*
*25 حضرت ہنزلہ بن اسد*
*26 حضرت عابس شاکری*
*27 حضرت عبدالرحمن رہبی*
*28 حضرت سیف بن حارث*
*29 حضرت عامر بن عبداللہ ہمدانی*
*30 حضرت جندا بن حارث*
*31 حضرت شوذب بن عبداللہ*
*32 حضرت نافع بن حلال*
*33 حضرت حجاج بن مسروق مؤذن*
*34 حضرت عمر بن کرضہ*
*35 حضرت عبدالرحمن بن عبد رب*
*36 حضرت جندا بن کعب*
*37 حضرت عامر بن جندا*
*38 حضرت نعیم بن عجلان*
*39 حضرت سعد بن حارث*
*40 حضرت زہیر بن قین*
*41 حضرت سلمان بن مضارب*
*42 حضرت سعید بن عمر*
*43 حضرت عبداللہ بن بشیر*
*44 حضرت وھب کلبی*
*45 حضرت حرب بن عمر-شیخ الاسلام قیس*
*46 حضرت ظہیر بن عامر*
*47 حضرت بشیر بن عامر*
*48 حضرت عبداللہ ارواح غفاری*
*49 حضرت جون غلام ابوذر غفاری*
*50 حضرت عبداللہ بن امیر*
*51 حضرت عبداللہ بن یزید*
*52 حضرت سلیم بن امیر*
*53 حضرت قاسم بن حبیب*
*54 حضرت زید بن سلیم*
*55 حضرت نعمان بن عمر*
*56 حضرت یزید بن سبیت*
*57 حضرت عامر بن مسلم*
*58 حضرت سیف بن مالک*
*59 حضرت جابر بن حجاج*
*60 حضرت مسعود بن حجاج*
*61 حضرت عبدالرحمن بن مسعود*
*62 حضرت بیکر بن حئ*
*63 حضرت عمار بن حسن تائی*
*64حضرت زرغامہ بن مالک*
*65 حضرت کینانہ بن عتیق*
*66 حضرت عقبہ بن سولت*
*67 حضرت حر بن یزید تمیمی*
*68 حضرت عقبہ بن سولت*
*69 حضرت حبلہ بن علی شیبنی*
*70 حضرت کنب بن عمر.*
*71 حضرت عبداللہ بن یکتیر*
*72 حضرت اسلم غلام ای ترکی رضوان الله تعالى عليهـم اجمعين*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
بیوہ اور طلاق شدہ عورت کے نکاح کو معیوب سمجھنا

رشحات قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

ہمارے معاشرے میں اتنی برائیاں پھیلی ہوئی ہیں جن کا احاطہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے
آج ہم صرف ایک برائی کے متعلق بات کرتے ہیں اور وہ برائی ہے بیوہ یا طلاق شدہ عورت کے نکاح کو معیوب سمجھنا
اولاً قرآن مجید و احادیث کریمہ کی روشنی میں نکاح کی فضیلت بیان کرتے ہیں
اللہ تعالی کا ارشاد ہے
"خداتعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے آرام پکڑو اور تم میں دوستی اور نرمی رکھ دی"(سورہ روم)
دوسرا ارشاد ہے
"تمہاری عورتیں تمہاری اولاد پیدا کرنے کے لیے بمنزلہ کھیتی کے ہیں"
تیسرا ارشاد ہے"
"بیوی کی قربت سے اولاد کا قصد کرو جس کو اللہ تعالی نے تمہارے لیے مقرر فرمایا ہے"
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"ایسی عورت سے نکاح کرو جو زیادہ بچے جننے والی اور زیادہ محبت کرنے والی ہو کیونکہ قیامت کے دن میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا "
مزید فرمایا "تم میں سے جو نکاح کرنے کی وسعت رکھتا ہو پھر نکاح نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں"
مزید فرمایا"جب بندہ نکاح کر لیتا ہے تو آدھا ایمان مکمل کر لیتا ہے اب اس کو چاہیے بقیہ نصف دین میں اللہ تعالی سے ڈرتار ہے"
آج بہت سے مردو زن ایسے بھی ہیں جومال ودولت ہونے کے باوجود شادی نہیں کرتے حالاں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"محتاج ہے محتاج ہے وہ مردہ جس کی بیوی نہ ہو لوگوں نے عرض کیا اگرچہ وہ بہت مال والا ہو تب بھی وہ محتاج ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ بہت مال والا ہو
پھر فرمایا محتاج ہے محتاج ہے وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو لوگوں نے عرض کیا اگرچہ وہ مالدار ہو تب بھی وہ بہت محتاج ہے آپ نے فرمایا ہاں اگر چہ وہ مال والی ہو" (اللہ اکبر)
نکاح بہت بڑی اللہ تعالی کی نعمت ہے نکاح بمنزل لباس ہے تو بے نکاح رہنا عریانی ہے نکاح سے انسان کی نظر نیچی اور خواہشات کم ہو جاتی ہیں
آج معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بہت سے لوگ صاحب استطاعت ہونے کے باوجود نکاح نہیں کرتے اس میں مرد ہی نہیں بلکہ مستورات رات بھی شامل ہیں؛ بیوہ اور طلاق شدہ عورت کے نکاح کرنےکو تو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے حالاں کہ پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں صرف ایک بیوی کنواری تھیں باقی سب بیوہ یا طلاق شدہ عورتیں تھیں جو ہماری مائیں ہیں
سیرت رسول سے پتہ چلتا ہے کہ بیوہ اور طلاق شدہ عورت سے نکاح کرنا سنت ہے بعض لوگ لاعلمی کے سبب بیوہ اور طلاق شدہ عورت کے نکاح ثانی کو معیوب سمجھتے ہیں ایسا زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا
زمانہ جاہلیت کی ایک مثال پیش کرتا ہوں
"اگر کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو اس کے ساتھ ہی اس عورت کو جلا دیا جاتا تھا یا ایک کمرے میں چھ ماہ کے لیے قید کر دیا جاتا تھا اور اس کی ضروریات زندگی کو وہیں پیش کیا جاتا تھا یا تو وہ گھٹ گھٹ کے مر جاتی تھی اور اگر زندہ بچ تھی تو اس کامنہ کالا کرکے گدھے پر بٹھا کر شہر میں گھمایا جاتا تھا اور یہ ثابت کیا جاتا تھا یہ وہ منحوس عورت ہے جس کی نحوست کی وجہ سے اس کا شوہر مرگیا " آج بھی بہت سے لوگ اس رسم پر عمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں
اگر غور وفکر تدبر و دانائی سے کام لیا جائے تو بہ نسبت پہلے نکاح کے( جب کہ وہ کنواری تھی) دوسرا نکاح اس بیوہ کا اہم ہے کیوں کہ پہلے وہ خالی الذہن تھی صالح زوجیت کا یا تو علم ہی نہ تھا یا تھا علم الیقین( یعنی صرف علم تھا) تھا اور اب اس کو عین الیقین( یعنی مشاہدہ) ہو گیا ہے اس حالت میں وسواس حسرات کا ہجوم زیادہ ہوتا ہے جس سے کبھی صحت کبھی آبرو کبھی دین کبھی سب برباد ہوجاتے ہیں
خلاصہ کلام
امت مسلمہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش ہے کہ اپنے تمام کاموں کے ساتھ ساتھ بیوہ اور طلاق شدہ عورتوں کے نکاح پر غوروفکر کریں امت محمدیہ کی کثرت کو دھیان میں رکھیں" تعدد زوجات" اور "کثرت اولاد" کا سبب بنیں

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
مضمون
آج گھروں میں بیٹھیں کنواری لڑکیوں کا ذمہ دار کون؟

آئیے آج ہم اور آپ ایک بات پر غور کرتے ہیں کہ آج لڑکیوں کا رشتہ ایک بہت بڑا المیہ کیوں بنا ہوا ہے؟ایک باپ اپنی بیٹی کے رشتہ کے لئے ایک بھائی اپنی بہن کے رشتہ کے لئے ہمہ وقت پریشان نظر آتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
کیا جہیز اس کی وجہ ہے ؟کیا مال و زر اس کی وجہ ہے؟نہیں بلکہ بہت سی لڑکیوں نےتو گھروں میں کام کاج کر کے پورے جہیز کا سامان تیار کر لیا ہے پھر وجہ کیا ہے؟
وجہ ہے سنت پر عمل نہ کرنا اور یہ ایسی سنت ہے جو انبیائے سابقین بالخصوص حضور رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
آپ کو معلوم ہے وہ کیا ہے؟
"تعدد زوجات" یعنی ایک مرد کے نکاح میں کئی کئی عورتیں ہونا
لیکن آج اس سنت کو چھوڑ دیا جاتا ہے
جس کی وجہ سے آج بھی گھروں میں بہت سی لڑکیاں" 40 "40"+" 30 "30"سال اور بعض تو اس انتظار میں اپنی پوری زندگی گزار دیتی ہیں کہ کوئی مناسب رشتہ آئے
کاش مسلمانوں تم نے سنت پر عمل کیا ہوتا؟تو آج یہ بیٹیاں جو گھروں میں بیٹھی ہیں وہ کسی گھر کی بیوی یا بچے کی ماں بنی ہوئی نظر آتیں؛زوجیت کے جوڑے میں نظر آتیں ؛تعداد انسانی کے اضافے کا سبب بنتیں؟ حدیث پاک میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ"تم زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے شادی کرو پوچھا گیا کیوں؟تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن دوسری امتوں کے مقابلہ میں : میں اپنی امت کے زیادہ ہونے پر فخر کروں گا
پتہ چلا "تعداد زوجات" اور "کثرت اولاد"میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی ہے
آج ہوتا کیا ہےاگر ایک انسان دوسری شادی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ہی خاندان کے لوگ اس کو روک دیتے ہیں یاوہ زوجہ جو اس کے نکاح میں ہے دوسری شادی کرنے سے روک دیتی ہے
اور وجہ ہوتی ہے صرف لاعلمی
ابتدائے اسلام میں جنگوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہوجاتے تھے تو ان کی بیوہ عورتوں کو دوسرے صحابہ کرام اپنے نکاح میں لاتے صرف اس غرض سے کہ ان کی ضروریات زندگی گزر بسر ہو سکیں
ایسا ہی ہمارے حضور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی گیارہ شادیاں کرکے امت کو اشارہ دیا کہ اگر کوئی مطلقہ عورت یا بیوہ عورت یا کنواری جو شادی کے لائق ہے اس کو اپنے نکاح میں لائیں اس کی ضروریات زندگی کا خیال رکھیں
سبق"مگر ایک وقت میں چار عورتوں پر اضافہ نہ کریں" اور نہ ایک وقت میں دو سگی بہنیں ایک نکاح میں جمع کریں" کیونکہ یہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے قرآن پاک میں اللہ نے فرمایا ہے کہ "اگر عورتیں تمہیں اچھی لگیں تو تم شادی کرو ایک سے دو سے تین سے چار سے "ایک وقت میں

نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے "نساءکم حرث لکم" یہ عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تم ان سے فائدہ اٹھاؤ
تنبیہ جب قرآن شریف میں اللہ کا فرمان ہے تو آپ کون ہوتے ہیں دوسری یاتیسری یا چوتھی شادی کرنے سے روکنے والے یا اس کو معیوب سمجھنے والے
خلاصہ کلام
ہر انسان جوصاحب صحت و دولت ہے اس کو چاہیے کہ "تعدد زوجات"کو اپنے نکاح میں لائے تاکہ امت مسلمہ کی وہ بیٹیاں جوطویل عمر سے گھروں میں بیٹھی ہیں ان کو سہارا مل جائے سنت پر بھی عمل ہو جائے اور بیٹیوں کو بھی جینے کا سنہرا موقع مل جائے
ماں ؛بہنوں اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس بات پر زیادہ سے زیادہ غور و فکر کریں اور آپس میں اس موضوع پر خوب بحث کریں خود بھی عمل کریں دوسروں کو بھی ترغیب دلاتے رہیں
شاید کے اتر جائے تیرے دل میں میری بات

از قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل نمبر 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
چارلوگوں نے معاشرہ برباد کر دیا

چار اشخاص کی وجہ سے معاشرے میں ہر طرح کی برائی پھیلی ہے
پیدائش پر غلط رسومات ؛چھٹی کے وقت غلط رسومات؛منگنی ؛بیاہ؛ شادی کی تباہ کن رسومات؛ جوتا چرائی کی بے ہودہ رسومات؛گاڑی میں دلہن کو بہنوئی کے بٹھانے کی نازیبا رسومات؛دولہن کی گاڑی روکنے کی رسومات؛ سلامی کے وقت کی بے ہودہ حرکات؛ چوتھی چالے کی من گھڑت رسومات؛ محرم کے مہینے میں دلہن کو مائیکے بھیجنے کی رسومات؛بچہ کی پیدائش مائیکےمیں کرانے کی رسومات؛رت جگہ؛ منڈا؛
جہیز کی لعنتی رسومات ؛گود بھرائی کی مہلک رسومات؛
موت پر غلط رسومات تیجے؛دسوایں ؛بیسوایں؛اور چالیسویں میں دعوت کر کے کھانا کھلانے کی رسومات وغیرہ
ان ہی کے ذریعہ پھیلیں ہیں اور پھیل رہی ہیں
اور آگے نظر دوڑائیں"دولھا ؛دلھن سے بیہودہ مذاق؛
دیور بھابھی کی مذاق؛ سالی بہنوئی کی مذاق؛
غرض یہ کہ دنیابھر میں جتنی بھی رسومات اور خرافاتوں نے جنم لیا اور لے رہی ہیں ان سب کے ذمہ دار یہ ہی چار اشخاص ہیں"حالانکہ حدیث پاک میں ان تمام برائیوں کا سدباب کرنے کی تاکید آئی ہے اور
دیور؛بھابھی؛سالی؛بہنوئی کے متعلق سخت وعید فرمائی ہے ان چاروں کی لاپرواہی نے پورے معاشرے کو تباہی کے دھانے پر کھڑا کر دیا ہے اگر یہ چاروں اپنی اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتے تو حالات یہاں تک نہ پہونچتے جہاں تک آج پہنچ چکے ہیں ان چاروں کو اپنے اوپر غوروفکر کرنا چاہیے اور عزم مصمم کرنا چاہیے معاشرے کی تباہی کا سبب ہم نہیں بنیں گے
ان چاروں کے متعلق یہ سمجھ لیجیے کہ یہ معاشرے کے چار پیر ہیں اور معاشرے کی درستگی کے لیے
چاروں پیروں کا درست رہنا نہایت ضروری ہے ایک پیر میں بھی اگر خرابی آتی ہے تو سمجھ لیجئے گا کہ معاشرے کے اندر خرابی آنا شروع ہو گئی ہے

الغرض معاشرے کی سالمیت کے لئے اور خوشگوار زندگی گزارنے کے لیےان چاروں پیروں کا صحیح و سالم رہنا نہایت ہی اہم ہے آپ جانتے ہیں وہ چار لوگ جو معاشرے کے چار پیر کہے گئے کون ہیں؟
"باپ ؛بیٹا ؛بھائی؛ اور شوہر"
باپ کو چاہیے کہ اولاد پر نظر شفقت کے ساتھ ساتھ نظر جلال بھی رکھے؛اسی طرح بھائی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہنوں پر نگرانی اور تجسس رکھے؛بیٹے کی ذمہ داری ہے کہ ماں کی خوب خدمت کرے اس کو کسی طرح کی کوئی پریشانی اور ضرورت محسوس ہونے سے نہ دے ؛اسی طرح شوہر کی ذمہ داری ہے
کہ وہ اپنی بیوی کے تمام طرح کے حقوق کو ادا کرے
یہ چاروں مذکر اپنے رشتے کی مستورات کی حفاظت و نگرانی کریں گے تو معاشرے میں کیسی بھی خرابی نہیں ہو پائے گی
لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالی کے فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور اقوال سلف صالحین کو اچھے سے سمجھیں اور ان پر عمل کریں
خلاصہ کلام
قال اللہ قال رسول اللہ واقوال صلحاء کو پڑھیں اوران پر عمل کریں اور تمام خرافات ؛رسومات اور برائیوں سے بچیں
اللہ تعالی ہدایت عطا فرمانے والا ہے

از قلم (مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائیل 7247863786
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM