🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
محدث و فقیہ شیخ ابوالمواھب امام عبد الوہاب بن احمد شعرانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 973 ھjri) فرماتے ہیں کہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن کرتا ہے بے شک وہ اپنے دین پر طعن کرتا ہے ، لہٰذا ضروری ہے کہ یہ دروازہ بالکل بند کر دیا جائے بالخصوص سیدنا معاویہ اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہم کے بارے میں ۔ (الیواقیت والجواھر فی بیان عقائد الاکابر، المبحث الرابع والاربعون فی بیان وجوب الکف عن شجر بین الصحابہ، جلد2، صفحہ نمبر323،چشتی)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🌹🌹دُنیا بھر کے تَمام سُنّی صَحیحُ العقیدہ مسلمانوں کو¹⁰¹ایک سو ایک سالہ عرس رضوی خٗوب خٗوب مبارک ہو‼️سنّیو ! چلو بریلی شریف عرسِ حـضـور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ 🌹🌹 ➻═══════════➻ TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge…
#عرس_قادری_رضوی ۲۴۴۱؁ھ
۱۰۲ واں سالانہ عرس رضوی
#عرس_اعلی_حضرت 1442
25 صفر 1442 اکتوبر 2020
@islaamic_Knowledge
عرس کا پروگرام
جانشینِ تاج الشریعہ قائِدِ اہلِ‌سُنّت
#مفتی_عسجد_رضا_خان_قادری
صَاحَبۡ قِـبۡلَـہۡ دَامَـتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہۡ
کے تمام آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ
فارم پر براہِ راست نشر کیا جائےگا
اِنۡ شَآءَ اللہۡ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ ﷻ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
کیا الو منحوس اور مرکروہ پرندہ ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم


کیا الو کے بیٹھنے سے کسی کی موت ہو جائے گی؟
کیا الو انسانوں کا برا چیتا ہے؟
کیا الو منحوس پرندہ ہے ؟

الو کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اس تحریر کو پڑھیں

ابو نعیم نے" حلیہ" میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہوئے تحریر فرمایا انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہاں حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا اے امیر المومنین کیا میں آپ کو نہایت عجیب قصہ نہ سناؤں جو میں نے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات کی کتاب میں پڑھا ہے
وہ قصبہ یہ
ایک بار حضرت سلیمان بن داؤد علیہم السلام کے پاس ایک الو (ھامہ) آیا اور آ کر کہا "السلام علیک یا نبی اللہ" آپ نے جواب دیا "وعلیکم السلام یا ھامہ"
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے پوچھا" اچھا مجھے بتا کہ تو دانے کیوں کر نہیں کھاتا "؟
الو نے جواب دیا کہ" حضرت آدم علیہ السلام کو اسی وجہ سے جنت سے نکالا گیا "
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا" اچھا تو پانی کیوں نہیں پیتا" ؟
الو نے کہا "پانی میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ڈوب کر ہلاک ہوئی تھی اس لئے میں پانی نہیں پیتا"
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"تو نے آبادی کو کیوں خیرباد کہ دیا؛ اور ویرانے میں رہنا تو نے کیوں پسند کیا "؟

الو نے کہا کہ"ویرانہ اللہ کی میراث ہے میں اللہ کی میراث میں رہتا ہوں " جیسا کہ قرآن مجید کی آیت ہے
وکم اہلکنا من قریۃ بطرت معیشتہا فتلک مساکنہم لم تسکن من بعدہم الا قلیلا وکنا نحن الوارثین "
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا "جب تو کسی ویرانے میں بیٹھتا ہے تو کیا بولتا ہے"؟

الو نے کہا "میں کہتا ہوں وہ لوگ کیا ہوئے جو اس جگہ مزے سے رہتے تھے"؟
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"جب تو آبادی سے گزرتا ہے تو کیا کہتا ہے"؟
الو نے کہا: اس وقت میں یہ کہتا ہوں"ہلاکت ہو بنی آدم پر ان کو نیند کیسے آجاتی ہے ؟ حالاں کہ مصائب کے طوفان ان کے سامنے ہیں"
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا" تو دن میں کیوں نہیں نکلتا"؟
الو نے کہا" انسانوں کے ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی وجہ سے میں دن میں نہیں نکلتا "

حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اچھا تو مجھے بتا کہ تو برابر بولتا رہتا ہے اس میں تیرا کیا پیغام ہوتا ہے"؟
الو نے کہا میرا پیغام یہ ہوتا ہے "اے غافل لوگوں زاد راہ اور اپنے سفر آخرت کے لئے تیار ہو جاؤ- نور پیدا کرنے والی ذات پاک ہے"

اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا "پرندوں میں الو سے زیادہ انسانوں کا خیر خواہ اور ہمدرد کوئی نہیں اور جاہلوں کے دلوں میں الو سے زیادہ کوئی پرندہ برا نہیں

(ابو نعیم حلیہ راہ شریعت )

فقہی مسائل
فتاوی قاضی خان میں لکھا ہے کہ "اگر الو کے بولنے پر کسی نے کہا کہ کوئی شخص مر جائے گا" بعض فقہاء نے کہا اس جملے کا کہنے والا کفر کی حدود میں داخل ہو جائے گا"
لیکن دوسرے فقہا نے یہ تفصیل کی ہے کہ" اس نے بد فالی کی وجہ سے یہ جملہ کہا ہے تب تو وہ کافر ہوجائے گا ورنہ نہیں

حوالہ جات

فتاوی قاضی خان؛

حیات الحیوان جلد 2 صفحہ684

آداب شریعت

کتبہ
( مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
سلام

رسول اعظم نبی رحمت درود تم پر سلام تم پر
شفیع مطلق شفیق امت درود تم پر سلام تم پر

تمہارے آنے سے میرے آقا جہاں میں تابندگی ہوئی ہے
مٹے ہیں واللہ کفر وظلمت درود تم پر سلام تم پر

حضور سجدے میں جاکے بولے محبتوں کے بھی راز کھولے
الہی میری دے بخش امت درود تم پر سلام تم پر

پلٹ کے سورج دکھادیا ہے حجرکو کلمہ پڑھا دیا ہے
خدانے تمکو یہ دی ہے قدرت درود تم پر سلام تم پر

بنایا جس نے ہے تم کو مالک ہے سارے جگ کا وہی تو خالق
اسی نے تم کو عطا کی جنت درود تم پر سلام تم پر

جہاں میں کتنے رسول آئے سبھی سے اعلیٰ حضورتم ہو
تمہارا سب پہ ہے دست شفقت درود تم پر سلام تم پر

جو کام کوئی نہ کر سکا ہے وہ تم نے کر کے دکھا دیا ہے
عطا کی رب نے تمہیں صدارت درود تم پر سلام تم پر

ہو سارے عالم میں سب سے برتر ہوا نہ کوئی تم سے بڑ کر
خدا نے خود ہی بیاں کی عظمت درود تم پر سلام تم پر

جو سارے بندوں میں سب سے بدتر ہے نام اس کا خبیب رضوی
کرو تم اس پر نگاہ رحمت درود تم پر سلام تم پر

از قلم خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
کیاازواج رسول اللہ ﷺکی تعداد 18 ہے؟

(1)ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا
(2) ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا
(3 ) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
(4 )ام المومنین حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا
(5) ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمررضی اللہ عنہا
(6 )ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا
(7 ) ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا
(8 ) ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا
(9) ام المومنین حضرت ام حبیبہ(رملہ) ابی سفیان رضی اللہ عنہا
(10) ام المومنین حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب رضی اللہ عنہا
(11)ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا
درج بالا گیارہ ازواج مطہرات کے بعد
اب ذیل میں بعض ان خواتین کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح یا پیغام نکاح دینے کا تزکرہ کتب سیر و احادیث میں ہے

(12) حضرت اسماء بنت النعمان بن شراحبیل الکندریہ الجونیہ رضی اللہ عنہا
(13) حضرت فاطمہ بنت ضحاک الکلابیہ رضی اللہ عنہا
(14) حضرت فاطمہ بنت شریح رضی اللہ عنہا
(15) حضرت ہند بنت یزید الکلابیہ رضی اللہ عنہا
(16) حضرتِ قتیلہ بنت قیس الکندیہ رضی اللہ عنہا
( 17) حضرت سنا بنت اسماءبن صلت السلمیہ رضی اللہ عنہا
(18) حضرت ام شریک الانصاریہ رضی اللہ عنہا

تنبہ نبیہ
تفصیل مندرجہ ذیل کتابوں میں دیکھیں
(1)بخاری کتاب الطلاق
( 2)مسلم
(3)تحقیق قصۃ المراۃ الجونیہ جلد 3 صفحہ 650
(4)اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد 6
(5)الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 4
(6)المستدرک للحاکم جلد4
(7)ذکر ازواج مطہرات

خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

تعداد ازواج و اولاد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ


حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے مختلف اوقات میں نو شادیاں کیں
اور ان کے علاوہ آپ کی کئی باندیاں بھی تھیں
آپ کا پہلا نکاح جگر گوشہ رسول طیبہ؛طاہرہ؛ارضیہ؛مرضیہ؛عابدہ ؛زاہدہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہوا، اور ان سے تین صاحبزادے امام حسن، امام حسین اور امام محسن رضی اللہ تعالی عنھم پیدا ہوئے۔ حضرت محسن رضی اللہ عنہ کا بچپن میں ہی وصال ہوگیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی دو صاحبزادیاں زینب کبریٰ اور ام کلثوم کبریٰ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئیں۔ جب تک حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بقید حیات رہیں آپ کرم اللہ وجہہ الکریم نے کسی اور سے نکاح نہ کیا

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد مختلف اوقات میں آپ کے درج ذیل نکاح ہوئے

ام البنین بنت حرام عامریہ رضی اللہ عنہا: ان سے چار فرزند حضرت عباس، حضرت جعفر، حضرت عبداللہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے

لیلیٰ بنت مسعود تیمیہ رضی اللہ عنہا: ان سے دو بیٹے عبیداللہ اور ابوبکر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔

اسما بنت عمیس خثیمہ رضی اللہ عنہا: ان سے یحییٰ اور محمد اصغر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔

ام حبیبہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا:،ان سے حضرت عمر اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے

امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا: ان سے محمد اوسط رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے

خولہ بنت جعفر حنفیہ رضی اللہ عنہا: ان سے محمد اکبر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، جو محمد حنفیہ کے نام سے معروف ہیں

ام سعید بنت عروہ رضی اللہ عنہا: ان سے ام الحسین اور رملہ کبریٰ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئیں۔

محیاۃ بنت امراءالقیس: ان کے بطن سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جو بچپن ہی میں فوت ہو گئیں

۔
متعدد با ندیوں سے پیدا ہونے والی آپ کی اولاد کے نام درج ذیل ہیں
حضرت ام ہانی
حضرت میمونہ
حضرت زینب صغریٰ
حضرت رملہ صغریٰ
ام کلثوم صغریٰ
حضرت فاطمہ
حضرت ا مامہ
حضرت خدیجہ
حضرت ام الکبریٰ
حضرت ام سلمہ
حضرت ام جعفر
حضرت ام جمانہ
رضی اللہ عنہم اجمعین

حوالہ جات
الکامل في التاريخ جلد 2 صفحہ 262،
البدايه و النهايه، جلد 7: صفحہ 332
ابن قتيبه، المعارف،جلد 1: صفحہ 210،

کتبہ
العبد العاصی الی ربہ الہادی خبیب القادری سلمہ المنان عن شرورالزمان
مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
تعزیت نامہ

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

23 محرم الحرام 1442 ہجری مطابق 12 ستمبر 2020 عیسوی کو جیسے ہی یہ خبر ملی کہ خطیب یورپ وایشیا ؛ شیر ہندوستان؛حافظ احادیث کثیرہ؛ مناظر اہل سنت؛ آفت جان وہابیت؛عطائے حضور مفتی اعظم ہند ؛یادگار اکابر؛ ماہر علوم دینیہ حضرت علامہ مفتی حسین صدیقی المعروف بہ ابوالحقانی رحمۃ اللہ علیہ اس دار فانی سے کوچ کر کے دار بقا پہنچ گئے دل پر رنج و الم کے پہاڑ ٹوٹ گئے
کیوں کہ قاعدہ کلیہ ہے " موت العالم موت العالم "حضرت کے جانے سے جو جگہ خالی ہوئی ہے اس کی بھرپائی مشکل ہے
ویسے تو شب و روز کے ہنگاموں میں نہ جانے کتنوں کے بارے میں یہ خبر ملتی ہے کہ وہ ہم سے رخصت ہوگئے
بہت سوں کے چھوٹ جانے سے دل شدید رنج و غم محسوس کرتا ہے لیکن ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں
جن کی وفات کی خبر دلوں پر بجلی سی گرادے
جن کا آفتابِ زندگی مشرق میں غروب ہو تو مغرب والے اندھیرا محسوس کریں ان عظیم شخصیات میں نمایاں طور پر حضرت نور اللہ مرقدہ کی ذات ہے
حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت بے مثال اور خطابت لاجواب وسدا بہار تھی
ایک مرتبہ کی بات ہے ( فقیر کا طالب علمی کا زمانہ تھا)عرس اعلی حضرت کے موقع پر جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج میں تقریباً چار بجے کا وقت ہوتا حضرت نور اللہ مرقدہ نے دورانِ خطابت ایک جملہ ارشاد فرمایا تھا " اے وہابیوں اس رضا کے شیر کو علم غیب کے ثبوت میں جتنی احادیث کریمہ یاد ہیں
اتنی تم سب کو مختلف موضوعات پر بھی یاد نہ ہوں گی
اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حضرت کی جملہ اولادوں کو صبر جمیل واجر جزیل عطا فرمائے اور حضرت کے درجات کو بلند فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے


شریکِ غم (مفتی)
خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا؟

از قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

اللہ جل مجدہ الکریم نے زمین وآسمان؛ شجر و حجر؛ برگ و ثمر ؛چرند و پرند؛ پانی وہوا اورجانور وغیرہ سب کو انسان کے لیے پیدا فرمایاہےاور انسان کو اپنی بندگی کے لیے وجود بخشا جیساکہ اللہ تعالی کاارشاد ہے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون" اور ہم نے انسان اور جنوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے"
اللہ تعالی نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور پھر حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا سے ان کو سکون و اطمینان عطا کر دیا چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے" لیسکن الیھا "(سورہ اعراف)" تاکہ وہ (مرد) اس (عورت) سے سکون حاصل کرے"دوسری مقام پر ارشاد فرمایا"لتسکنوا الیھا"( سورہ روم)" تاکہ ان کے ساتھ آرام سے رہو"اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا سے نسل انسانی کو خوب پھیلایا چنانچہ ارشاد خداوندی ہے" وبث منھما رجالا کثیرا ونساء "(سورہ نساء) اور ان( آدم و حوا)سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے ہیں" "سبق" جتنے بھی انسان دنیا میں ہیں سب کے باپ حضرت آدم علیہ السلام اور ماں حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہاہیں
آج اگر جائزہ لیا جائے تو اس دنیا میں انسان اپنے مقصد اصلی سے بھٹکر دوسرے راستوں پر چل گیاہے مثلاً ! کوئی جان بوجھ کر نماز کو ترک کردیتا ہے ؛کوئی نماز میں سستی وکاہلی کرتا نظر آتا ہے؛
کوئی آٹھ کی ؛کوئی تین سو ساٹھ کی ؛جب کہ کوئی صرف کھاٹ کی ہی پڑھتا ہے اور کوئی صرف تین وقتوں کی ہی پڑھتا ہے؛
کوئی نماز؛ روزہ؛ حج اور زکوٰۃ کو مکمل بھول سا گیا ہے اور کوئی کھبی کھبار نماز ادا کرتا ہے ؛اور کوئی نمازیوں کا ادب واحترام ہی نہیں کرتا
"حالان کہ حقیقت میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے صرف عبادت کر نے کے لئے ہی پیدا کیا ہے"
نما چھوڑنا بہت بڑھا گناہ ہے جو جہنم میں لے جانے کا سبب ہے چنانچہ حیث پاک میں ہے من ترک الصلوٰۃ متعمدا فقد کفر
"جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی وہ کفر کی حد تک پہنچ گیا"
حدیث پاک میں آیا ہے جو انسان نماز میں سستی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو پندرہ سزائیں دیتا ہے پانچ دنیا میں تین موت کے وقت تین قبر میں تین قبر سے نکلتے وقت
دنیا میں ملنے والی سزائیں یہ ہیں

(١)اسکی زندگی میں برکت نہیں ہوتی
(٢)اسکے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹادی جاتی ہے
(٣)اسے اللہ تعالی کسی عمل کا اجر نہیں دیتا
(٤)اسکی دعا آسمان کی طرف اٹھائی نہیں جاتی (قبول نہیں ہوتی)
(٥) اس کو نیک لوگوں کی دعا سے حصہ نہیں ملتا"

موت کے وقت پہچنے والی سزائیں یہ ہیں
(١) وہ ذلیل ہو کر مرتا ہے
(٢)بھوک کی حالت میں مرتا ہے
(٣) پیاسا مرتا ہے اگر چہ دنیا کے تمام سمندروں کا پانی اسے پلایا جائے اسکی پیاس نہیں بجھتی

قبر میں پہنچنے والی سزائیں یہ ہیں
(١) اسکی قبر تنگ ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں آپس میں مل جاتی ہیں
(٢) اس کی قبر میں آگ جلائی جاتی ہے وہ صبح وشام انگاروں پہ لوٹ پوٹ ہوتا ہے
(٣) اس کی قبر پر ایک اژدہا مقرر کیا جاتا ہے جسکا نام "شجاع اقرع"یا "الشجاع الاقرع"ہے اس کی آنکھیں آگ کی اور ناخن لوہے کے ہیں ہر ناخن ایک دن کی مسافت کے برابرلمبا ہے وہ میت کو ڈستا ہے اور کہتا ہے میں"شجاع اقرع" ہوں یا "الشجاع الاقرع" ہوں اس کی آواز سخت گرج والی آواز کی طرح ہوتی ہے اور کہتا ہے میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے میں تجھے اس بات پر ماروں کہ تو نے صبح کی نماز طلوع آفتاب تک نہ پڑھی تھی؛ اور
اس بات پر مارو کہ تو نے ظہر کی نماز عصر تک مؤخر کی؛ اور اس بات پر مارو کہ تو نے عصر کی نماز مغرب تک نہیں پڑھی ؛اور اس بات پر ماروں کہ تو نے مغرب کی نماز عشاء تک ادا نہ کی؛ اور تجھے اس بات پر ماروں کہ تو نے عشاء کی نماز کو صبح تک مؤخر کیا؛اور وہ جب بھی اسے کوئی ضرب مارتا ہے تو وہ زمین میں ستر گز تک گھس جاتا ہے پس وہ قیامت تک زمین میں عذاب آئے گا

اور وہ عذاب جو قبر سے نکلنے کے بعد قیامت میں ہوں گے وہ یہ ہیں
(١) حساب کی سختی
(٢) رب کی ناراضگی
(٣) جہنم میں داخلہ (بے نمازی کا انجام صفحہ١٠)
خردو نوش؛رہنے سہنے؛ بیٹھنے اٹھنے؛آنے جانے؛کاروبار کرنےاور سونے جاگنے غرض یہ کہ انسان کو اللہ تعالی نے مکمل آزادی ہے مگر اس آزادی کے ساتھ عبادت سے آزادی نہیں ہے ہر حال میں نماز ادا کرنی ہوگی
کیونکہ نماز فرض عین ہے اور فرض کی ادائیگی مثل قرض کے ہوتی ہے اور نماز کی تحقیر کرنا کفر ہے_
مگر آج کا انسان بالخصوص مسلمان ہر طرح کی برائیوں میں ملبوس ہے؛ جوئے کے اڈے پر مسلمان؛ شراب کی بھٹی پر مسلمان ؛کھیل کود کے میدان میں مسلمان؛ ناچ گانے کی محفلوں میں مسلمان؛ ہر طرح کی برائی میں مسلمان؛ فرائض کی ادائیگی نہ کرنے میں مسلمان؛ غرض ہر طرح کے فرض سے سستی کرنے میں مسلمان ملبوس ہے
نوٹ بعض مسلمان تمام شرعی احکام و افعال کے پابند بھی ہیں
آج مسلمان
Forwarded from Deleted Account
کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ وہ ﷲ جل جلالہ اور رسولﷺ کے فرامین کو پسِ پشت ڈالے ہوئے
ہے جب تک انسان اللہ اور رسول کی فرمانبرداری نہیں کرے گا اس کو ہر طرح کی رسوائی ہی ملتی رہے گی

"حالات کے سدھر نے کا طریقہ"
تمام برائیوں کو چھوڑ کر سچے دل سے توبہ کرے
قرآن و حدیث کا مطالعہ کریے ؛ احکام پر عمل کرے؛ ہر طرح کی برائی سے دور رہے ؛ علماء کا ادب و احترام کرے ؛سادات کرام کی خدمتیں کرے ؛ان کا احترام کرے؛ سنت رسول کے سانچے میں ڈھل جائے
انشاءاللہ دنیا بھی سدھر جائے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی
اللہ تعالی اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہدایت عطا فرمائے آمین

نہ مانو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانوں
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

از قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
تعلیم نسواں کی آج بہت ضرورت ہے

عورت کی معنی ہیں چھپانے کی چیز یعنی پردہ
عورت پردے کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے کیونکہ پردہ عورت کی زینت ہے
تاریخ گواہ ہے جب بھی عورت نے پردے کو اپنایا ہے تو پردے نے اس کی حفاظت کی ہے
آج بھی آپ جائزہ لیجئے پردے والی مستورات اور غیر پردے والی مستورات کے درمیان کتنا بڑا فرق نظر آتا ہے
مگر پردہ عورت صحیح معنیٰ میں اس وقت کرتی ہے جب وہ وہ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہوتی ہے
تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ مستورات کے مابین کئی طرح کے فرق ہیں
مثلا دونوں کے بات کرنے کا انداز جداگانہ ہوگا
دونوں کی خلوتیں جلوتیں جداگانا ہوں گی
اس لیے لڑکیوں کو تعلیم دینا بہت ضروری ہے
تعلیم نسواں کی ہمارے معاشرے کے لیے بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ جب لڑکی تعلیم سے آراستہ ہو گی تو وہ اپنے شوہر کی بھی اچھی طرح سے خدمت کر سکے گی اپنے والدین کی بھی اچھی طرح خدمت کر سکے گی اپنی ساس و سسر کی بھی کماحقہ خدمت کرسکے گی اور اپنی اولاد کی بھی اچھی طرح سے پرورش کرکے خدمت خلق خداکرنے کے طور طریقے سکھا دے گی اور اپنی زندگی بھی سنت کے مطابق گزار سکے گی
اور تعلیم یافتہ اور غیر بڑھی عورت کے درمیان بہت بڑا فرق ہے
کیونکہ اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے" کیا پڑھے لکھے اور بغیر پڑھے برابر ہیں؟"
اللہ کے فرمان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پڑھے لکھے اور بغیر پڑھے برابر نہیں ہیں
قرآن کا یہ فرمان مرد و زن دونوں کے لیے حدیث پاک میں ہے میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ "تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے" یہ حکم بھی عام ہے مرد و زن دونوں کے لیے یکساں ہے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ اور ارشاد فرماتے ہیں العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمہ" علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و زن پر فرض ہے"
اس حدیث پاک میں علم حاصل کرنے کو فرض بتایا گیا ہے اتنا علم حاصل کرنا کہ حرام و حلال جائز اور ناجائز کے مسائل سے آگاہی حاصل ہو سکے فرض عین ہے
بہر کیف آج کے ماحول کے مطابق عورت کو علم حاصل کرنا نہایت اہم ہے کیونکہ علم حاصل کرنے کیوں کہ علم حاصل کرنے سے شرعی مسائل سے آگاہی حاصل ہوتی ہے
لڑکے کو علم حاصل کیوں کرائیں؟
لڑکی علم حاصل کرے گی بڑی ہوگی اسکے بعد شادی ہوگی پہنچیے گی سسرال اللہ تعالی اس کو اولاد عطا فرمائے گا
پھر اپنی اولاد کی پرورش کرے گی تو جب وہ علم رکھتی ہوگی تو یہ سارے کام شریعت کے حدود میں رہ کر کرے گی

جب علم والے اور غیر علم والے برابر نہیں ہیں تو ان کے اعمال بھی برابر نہیں ہوں گے اور نہ اقوال برابر ہوں گے اورافعال بھی جداگانہ ہوں گے
آج کے دور میں لڑکی کو تعلیم دینا بہت ضروری ہوگیا ہے اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دینا ضروری ہوتا چلا جا رہا ہے
میں آپ کو دو بہنوں کی مثال دے کر کے سمجھانا چاہتا ہوں کہ
تعلیم نسواں کتنی ضروری ہے دو بہنیں ہیں دونوں کے ماں باپ ایک ہیں دونوں ایک ہی گھر میں رہتی ہیں لیکن ایک پڑھی لکھی ہے اور ایک غیر پڑھی ہے دونوں کے درمیان یہ طے ہوتا ہے کہ باری باندھ لیتے ہیں دو دن سارے گھر کا کام آپ کریں گی دو دن آپ کریں گی
گھر ایک ہے بہنیں دو سگی ہیں
پہلے بڑی بہن کی باری آئی( جو غیر پڑھی تھی)صبح اٹھی بغیر ہاتھ دھوئے آٹا گوندھنا شروع کر دیا اس کے بعد میں روٹیاں بنائیں بعدہ جھاڑو پوچھا برتن وغیرہ صاف کیۓ
اس طرح بڑی بہن کے دونوں دن مکمل ہو گئے
اب باری آتی ہے چھوٹی بہن کی جو پڑھی لکھی تھی صبح کو اٹھتی ہے وضو بنا کرنماز فجر ادا کرتی ہے بعد نماز فجر قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہے اس کے بعد مسائل فقیہ کا مطالعہ کرتی ہے بعدازاں آٹا گوند کر روٹیاں بناتی ہے جھاڑو پونچھا برتن کی صفائی کرتی ہے وقت ظہر کے آتے ہی نماز ظہر ادا کرتی ہے عصر کی نماز ادا کرتی ہے مغرب کی نماز ادا کرتے اور عشاء کی نماز ادا کرکے سوجاتی ہے کسی نے پوچھا کہ تو رات کو اتنی جلدی کیوں سو جاتی ہے تو اس لڑکی نے کہا میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رات کو جلدی سوؤ صبح جلدی اٹھو
(اس واقعہ کا فقیر چشم دید گواہ ہے)
میرے دینی اور اسلامی بھائیوں
اپنی اولادوں کو زیادہ سے زیادہ اسلامی تعلیم دو اپنی لڑکیوں کو حافظ قرآن بناؤ ؛عالم دین بناؤ؛ فاضل ومفتی بناؤ اور ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دو کیوں کہ دنیاوی تعلیم کی بھی بہت زیادہ ضرورت پیش
آرہی ہے جب آپ کی لڑکیاں حافظ قرآن بن جائیں گی عالم دین بن جائیں گی یا اپنے وقت کی مفتیہ جائیں گی تو آپ کو شرعی مسائل پوچھنے کے لیے کہیں دوسری جگہ جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی
خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
مضمون

حسین اور حسینیوں پر یزید خبیث کا ظلم و ستم

رشحات قلم (مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پہلے خلیفہ اور جانشین بنے ان کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ خلیفۂ دوم مقرر ہوئے ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے ان کے بعد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں نے چوتھا خلیفہ تسلیم کیا
اس دوران حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ اختلاف ہوا اور پھر معاملہ بہتر ہوگیا 19 رمضان المبارک 40 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ان کے بعد لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کرلیا ادھر حضرت امیر معاویہ طویل عرصے سے شام کے گورنر تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد انہوں نے بھی خلافت کا اعلان کیا کچھ عرصہ تو اختلاف رہا اور پھر 6 ماہ بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سے معزولی کا اعلان کر دیا حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا جس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بعد اپنے خاندان میں خلافت منتقل نہیں کریں گے بلکہ شوری کے ذریعے انتخاب ہوگا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ پچھلے بیس سال سے یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے شام کے گورنر تھے اور اب وہ عالم اسلام کے متفقہ خلیفہ بن گئے مسلمانوں کےدرمیان جاری رسہ کشی کا بھی خاتمہ ہوگیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عالم اسلام کی بہتری کے لیے کئی اہم تاریخی کارنامے انجام دیۓ ؛انہوں نے بحری بیڑا فوج تشکیل دی؛اسی طرح سمندری فوج تشکیل دینے والے وہ پہلے خلیفہ ہیں؛انہوں نے قسطنطنیہ پربھی حملہ کیا اسی جنگ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بھی شہید ہو گئے اور انہیں وہیں دفن کر دیا گیا آج بھی ان کی قبر انور استنبول (ترکی)میں موجود ہے؛اپریل 680 عیسوی میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوگیا
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد یزید خبیث تخت پر بیٹھ گیا اور اپنی بیعت کا اعلان کردیا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا اسی طرح حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی انکار کیا اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی انکار کیا اس لیے کہ یزید فاسق ؛فاجر؛زانی؛ شرابی ؛تارک نماز اور نااہل تھا
جیسے ہی یزید کو پتہ چلا کہ حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت سے انکار کر دیا ہے تو اس نے فورا عبیداللہ بن زیاد کے ذریعے زبردستی بیعت کرانے کا حکم جاری کردیا
ادھر کوفہ والوں نے حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے تقریبا 18 ہزار خطوط لکھے جن کا خلاصہ یہ تھا آپ نواسہ رسول ہیں آپ ہم میں تشریف لائیے ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ہم یزید کو اپنا خلیفہ ہرگز تسلیم نہیں کرتے
الغرض
حسین رضی اللہ تعالی عنہ 72 جانثاروں اور 19 اہل بیت کے ساتھ کوفہ روانہ ہوئے اس قافلے میں حضرت امام حسین کے تین صاحبزادے حضرت علی اوسط( زین العابدین) حضرت علی اکبر حضرت علی اصغر اور ایک صاحبزادی حضرت سکینہ رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے اور آپ کی دو بیویاں حضرت شہر بانو دوسری علی اصغر کی ماں رضی اللہ عنھن اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے چار نوجوان صاحبزادے حضرت قاسم حضرت عبداللہ حضرت عمر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنھم آپ کے ہمراہ تھے جو کربلا میں شہید ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے پانچ فرزند حضرت عباس بن علی حضرت عثمان بن علی حضرت عبداللہ بن علی حضرت محمد بن علی حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے سب نے شہادت پائی اور حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کے فرزندوں میں حضرت مسلم رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی شہادت پالی تھی تین اور فرزند تھے حضرت عبداللہ بن عقیل حضرت عبدالرحمن بن عقیل حضرت جعفر بن عقیل رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے سب نے شہادت پائی حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ کے دو پوتے حضرت محمد بن عبداللہ حضرت عون بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی تھے دونوں نے شہادت پائی صاحبزادگان اہل بیت میں سے کل 17 نے شھادت پائی
حضرت امام زین العابدین اور حضرت عمر بن حسن محمد بن عمر بن علی اور دوسرے کم عمر صاحبزادے قیدی بنائے گئے رضی اللہ عنھم
کربلا کی شہادت سے مدینہ کے لوگوں میں غصہ بھڑک اٹھا اور انہوں نے یزید خبیث کی بیعت کو توڑ دیا
یزید خبیث بہت غصہ میں ہوگیا اس نے مدینہ اور باشندگان مدینہ پر بیس ہزارفوج حملہ کرنے کے لئے بھیجی
اس فوج نے 1700 سو مہاجرین و انصار صحابہ و تابعین کو شہید کردیا رضی اللہ عنھم
700 سو حافظ قرآن کو شہید کردیا 97 سرداروں کو اور دس ہزار مرد وزن اور بچوں کو قتل کر دیا
اور ایک ہزار مدینے کی باعزت عورتوں کے ساتھ زنا بالجبر کرایا جس کے ن
1
Forwarded from Deleted Account
تیجے میں ایک ہزار عورتوں کے بطن سے ناجائز اولادیں پیدا ہوئیں
مسجد نبوی کے مقدس ستونوں سے گھوڑے باندھے کئی روز تک مسجد نبوی کتوں بلیوں اور گھوڑوں کی لید سے آلودہ رہی یزیدی فوج گھروں میں گھس گئی سارا مال و اسباب لوٹ لیا اور بے انتہا ظلم و جبر کیا: یزیدی فوج جب مدینہ منورہ پر ظلم سے فارغ ہوئی تو مکہ مکرمہ کی طرف گئی اور مکہ مکرمہ میں اس طرح ظلم کیا کہ خانہ کعبہ کے غلاف کو جلا دیا؛خانہ کعبہ کی چھت کو گرا دیا ؛مسجد حرام کے ستونوں کو شہید کردیا ؛بیت اللہ شریف کے دروازے کا پردہ نکال کر جلا دیا ؛حرم کے باہر سے حرم کے اندر گولے بارود برسائے ؛حجر اسود ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا؛ حرم کے دروازے توڑ کر فوج حرم میں داخل ہوئی اور عین حرم شریف میں خلیفہ وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا غرض یہ کہ سینکڑوں لوگوں کو حرم میں شہید کیا گیا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے وقت جو مینڈا جنت سے فدیہ کے طور پر آیا تھا اس کے سینگ کعبہ کی چھت میں رکھے تھے وہ بھی جلا دیئے شامی یزیدیوں نے منجنیق کے ذریعہ اس قدر پتھر برسائے کہ خانہ کعبہ کے احاطے میں پتھروں کے ڈھیر لگ گئے( تاریخ طبری وغیرہ)

ان 72 جانثاروں کے نام جو کربلا میں شہید ہوئے مندرجہ ذیل ہیں
*1 حضرت امام حسین*
*2 حضرت عباس بن علی*
*3 حضرت علی اکبر بن حسین*
*4 حضرت علی اصغر بن حسین*
*5 حضرت عبداللہ بن علی*
*6 حضرت جعفر بن علی*
*7 حضرت عثمان بن علی*
*8 حضرت ابوبکر بن علی*
*9 حضرت ابوبکر بن حسن بن علی*
*10 حضرت قاسم بن حسن بن علی*
*11 حضرت عبداللہ بن حسن*
*12 حضرت عون بن عبداللہ بن جعفر*
*13 حضرت محمد بن عبداللہ بن جعفر*
*14 حضرت عبداللہ بن مسلم بن عقیل*
*15 حضرت محمد بن مسلم*
*16 حضرت محمد بن سعید بن عقیل*
*17 حضرت عبدالرحمن بن عقیل*
*18 حضرت جعفر بن عقیل*
*19 حضرت حبیب ابن مظاہر اسدی*
*20حضرت أنس بن حارث اسدی*
*21 حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی*
*22 حضرت قیس بن عشر اسدی*
*23 حضرت ابو ثمامہ بن عبداللہ*
*24 حضرت بریر ہمدانی*
*25 حضرت ہنزلہ بن اسد*
*26 حضرت عابس شاکری*
*27 حضرت عبدالرحمن رہبی*
*28 حضرت سیف بن حارث*
*29 حضرت عامر بن عبداللہ ہمدانی*
*30 حضرت جندا بن حارث*
*31 حضرت شوذب بن عبداللہ*
*32 حضرت نافع بن حلال*
*33 حضرت حجاج بن مسروق مؤذن*
*34 حضرت عمر بن کرضہ*
*35 حضرت عبدالرحمن بن عبد رب*
*36 حضرت جندا بن کعب*
*37 حضرت عامر بن جندا*
*38 حضرت نعیم بن عجلان*
*39 حضرت سعد بن حارث*
*40 حضرت زہیر بن قین*
*41 حضرت سلمان بن مضارب*
*42 حضرت سعید بن عمر*
*43 حضرت عبداللہ بن بشیر*
*44 حضرت وھب کلبی*
*45 حضرت حرب بن عمر-شیخ الاسلام قیس*
*46 حضرت ظہیر بن عامر*
*47 حضرت بشیر بن عامر*
*48 حضرت عبداللہ ارواح غفاری*
*49 حضرت جون غلام ابوذر غفاری*
*50 حضرت عبداللہ بن امیر*
*51 حضرت عبداللہ بن یزید*
*52 حضرت سلیم بن امیر*
*53 حضرت قاسم بن حبیب*
*54 حضرت زید بن سلیم*
*55 حضرت نعمان بن عمر*
*56 حضرت یزید بن سبیت*
*57 حضرت عامر بن مسلم*
*58 حضرت سیف بن مالک*
*59 حضرت جابر بن حجاج*
*60 حضرت مسعود بن حجاج*
*61 حضرت عبدالرحمن بن مسعود*
*62 حضرت بیکر بن حئ*
*63 حضرت عمار بن حسن تائی*
*64حضرت زرغامہ بن مالک*
*65 حضرت کینانہ بن عتیق*
*66 حضرت عقبہ بن سولت*
*67 حضرت حر بن یزید تمیمی*
*68 حضرت عقبہ بن سولت*
*69 حضرت حبلہ بن علی شیبنی*
*70 حضرت کنب بن عمر.*
*71 حضرت عبداللہ بن یکتیر*
*72 حضرت اسلم غلام ای ترکی رضوان الله تعالى عليهـم اجمعين*