افسوس! ہم میں سے اکثر کا حال عجیب ہو گیا ہے۔ جب ہم باہم ملتے ہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ نہایت تعظیم کے ساتھ پیش آتے ہیں، حال احوال پوچھتے ہیں اور خوب خاطرداری کرتے ہیں۔ ہم لوگ یوں تو ایک دوسرے کے ساتھ اظہارِ محبت و وفا کرتے ہیں لیکن ہمارے دل ایک دوسرے کے بغض و کینے کے بچھوؤں سے لبریز ہیں۔ اسی لیے تو جوں ہی جدا ہوتے ہیں ایک دوسرے کی غیبتیں شروع کر دیتے ہیں۔ والعیاذ بالله تعالی!
Sacred Traditions
Facebook | Instagram
Sacred Traditions
Facebook | Instagram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شوقیہ ماسک استعمال کرنا کسی مرض کا علاج نہیں ، خواہ مخواہ کا تکلف ہے ۔
محکمہ صحت کی ہدایات کے مطابق عمل کریں اور ماسک صرف اُنھی صورتوں میں استعمال کریں جن کی اجازت دی گئی ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2956658827947620&id=100008105947430
محکمہ صحت کی ہدایات کے مطابق عمل کریں اور ماسک صرف اُنھی صورتوں میں استعمال کریں جن کی اجازت دی گئی ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2956658827947620&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
محدث و فقیہ شیخ ابوالمواھب امام عبد الوہاب بن احمد شعرانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 973 ھjri) فرماتے ہیں کہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن کرتا ہے بے شک وہ اپنے دین پر طعن کرتا ہے ، لہٰذا ضروری ہے کہ یہ دروازہ بالکل بند کر دیا جائے بالخصوص سیدنا معاویہ اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہم کے بارے میں ۔ (الیواقیت والجواھر فی بیان عقائد الاکابر، المبحث الرابع والاربعون فی بیان وجوب الکف عن شجر بین الصحابہ، جلد2، صفحہ نمبر323،چشتی)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🌹🌹دُنیا بھر کے تَمام سُنّی صَحیحُ العقیدہ مسلمانوں کو¹⁰¹ایک سو ایک سالہ عرس رضوی خٗوب خٗوب مبارک ہو‼️سنّیو ! چلو بریلی شریف عرسِ حـضـور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ 🌹🌹 ➻═══════════➻ TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge…
#عرس_قادری_رضوی ۲۴۴۱ھ
۱۰۲ واں سالانہ عرس رضوی
#عرس_اعلی_حضرت 1442
25 صفر 1442 اکتوبر 2020
@islaamic_Knowledge
عرس کا پروگرام
جانشینِ تاج الشریعہ قائِدِ اہلِسُنّت
#مفتی_عسجد_رضا_خان_قادری
صَاحَبۡ قِـبۡلَـہۡ دَامَـتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہۡ
کے تمام آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ
فارم پر براہِ راست نشر کیا جائےگا
اِنۡ شَآءَ اللہۡ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ ﷻ
۱۰۲ واں سالانہ عرس رضوی
#عرس_اعلی_حضرت 1442
25 صفر 1442 اکتوبر 2020
@islaamic_Knowledge
عرس کا پروگرام
جانشینِ تاج الشریعہ قائِدِ اہلِسُنّت
#مفتی_عسجد_رضا_خان_قادری
صَاحَبۡ قِـبۡلَـہۡ دَامَـتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہۡ
کے تمام آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ
فارم پر براہِ راست نشر کیا جائےگا
اِنۡ شَآءَ اللہۡ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ ﷻ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
کیا الو منحوس اور مرکروہ پرندہ ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
کیا الو کے بیٹھنے سے کسی کی موت ہو جائے گی؟
کیا الو انسانوں کا برا چیتا ہے؟
کیا الو منحوس پرندہ ہے ؟
الو کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اس تحریر کو پڑھیں
ابو نعیم نے" حلیہ" میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہوئے تحریر فرمایا انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہاں حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا اے امیر المومنین کیا میں آپ کو نہایت عجیب قصہ نہ سناؤں جو میں نے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات کی کتاب میں پڑھا ہے
وہ قصبہ یہ
ایک بار حضرت سلیمان بن داؤد علیہم السلام کے پاس ایک الو (ھامہ) آیا اور آ کر کہا "السلام علیک یا نبی اللہ" آپ نے جواب دیا "وعلیکم السلام یا ھامہ"
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے پوچھا" اچھا مجھے بتا کہ تو دانے کیوں کر نہیں کھاتا "؟
الو نے جواب دیا کہ" حضرت آدم علیہ السلام کو اسی وجہ سے جنت سے نکالا گیا "
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا" اچھا تو پانی کیوں نہیں پیتا" ؟
الو نے کہا "پانی میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ڈوب کر ہلاک ہوئی تھی اس لئے میں پانی نہیں پیتا"
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"تو نے آبادی کو کیوں خیرباد کہ دیا؛ اور ویرانے میں رہنا تو نے کیوں پسند کیا "؟
الو نے کہا کہ"ویرانہ اللہ کی میراث ہے میں اللہ کی میراث میں رہتا ہوں " جیسا کہ قرآن مجید کی آیت ہے
وکم اہلکنا من قریۃ بطرت معیشتہا فتلک مساکنہم لم تسکن من بعدہم الا قلیلا وکنا نحن الوارثین "
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا "جب تو کسی ویرانے میں بیٹھتا ہے تو کیا بولتا ہے"؟
الو نے کہا "میں کہتا ہوں وہ لوگ کیا ہوئے جو اس جگہ مزے سے رہتے تھے"؟
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"جب تو آبادی سے گزرتا ہے تو کیا کہتا ہے"؟
الو نے کہا: اس وقت میں یہ کہتا ہوں"ہلاکت ہو بنی آدم پر ان کو نیند کیسے آجاتی ہے ؟ حالاں کہ مصائب کے طوفان ان کے سامنے ہیں"
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا" تو دن میں کیوں نہیں نکلتا"؟
الو نے کہا" انسانوں کے ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی وجہ سے میں دن میں نہیں نکلتا "
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اچھا تو مجھے بتا کہ تو برابر بولتا رہتا ہے اس میں تیرا کیا پیغام ہوتا ہے"؟
الو نے کہا میرا پیغام یہ ہوتا ہے "اے غافل لوگوں زاد راہ اور اپنے سفر آخرت کے لئے تیار ہو جاؤ- نور پیدا کرنے والی ذات پاک ہے"
اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا "پرندوں میں الو سے زیادہ انسانوں کا خیر خواہ اور ہمدرد کوئی نہیں اور جاہلوں کے دلوں میں الو سے زیادہ کوئی پرندہ برا نہیں
(ابو نعیم حلیہ راہ شریعت )
فقہی مسائل
فتاوی قاضی خان میں لکھا ہے کہ "اگر الو کے بولنے پر کسی نے کہا کہ کوئی شخص مر جائے گا" بعض فقہاء نے کہا اس جملے کا کہنے والا کفر کی حدود میں داخل ہو جائے گا"
لیکن دوسرے فقہا نے یہ تفصیل کی ہے کہ" اس نے بد فالی کی وجہ سے یہ جملہ کہا ہے تب تو وہ کافر ہوجائے گا ورنہ نہیں
حوالہ جات
فتاوی قاضی خان؛
حیات الحیوان جلد 2 صفحہ684
آداب شریعت
کتبہ
( مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
کیا الو کے بیٹھنے سے کسی کی موت ہو جائے گی؟
کیا الو انسانوں کا برا چیتا ہے؟
کیا الو منحوس پرندہ ہے ؟
الو کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اس تحریر کو پڑھیں
ابو نعیم نے" حلیہ" میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہوئے تحریر فرمایا انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہاں حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا اے امیر المومنین کیا میں آپ کو نہایت عجیب قصہ نہ سناؤں جو میں نے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات کی کتاب میں پڑھا ہے
وہ قصبہ یہ
ایک بار حضرت سلیمان بن داؤد علیہم السلام کے پاس ایک الو (ھامہ) آیا اور آ کر کہا "السلام علیک یا نبی اللہ" آپ نے جواب دیا "وعلیکم السلام یا ھامہ"
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے پوچھا" اچھا مجھے بتا کہ تو دانے کیوں کر نہیں کھاتا "؟
الو نے جواب دیا کہ" حضرت آدم علیہ السلام کو اسی وجہ سے جنت سے نکالا گیا "
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا" اچھا تو پانی کیوں نہیں پیتا" ؟
الو نے کہا "پانی میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ڈوب کر ہلاک ہوئی تھی اس لئے میں پانی نہیں پیتا"
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"تو نے آبادی کو کیوں خیرباد کہ دیا؛ اور ویرانے میں رہنا تو نے کیوں پسند کیا "؟
الو نے کہا کہ"ویرانہ اللہ کی میراث ہے میں اللہ کی میراث میں رہتا ہوں " جیسا کہ قرآن مجید کی آیت ہے
وکم اہلکنا من قریۃ بطرت معیشتہا فتلک مساکنہم لم تسکن من بعدہم الا قلیلا وکنا نحن الوارثین "
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا "جب تو کسی ویرانے میں بیٹھتا ہے تو کیا بولتا ہے"؟
الو نے کہا "میں کہتا ہوں وہ لوگ کیا ہوئے جو اس جگہ مزے سے رہتے تھے"؟
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"جب تو آبادی سے گزرتا ہے تو کیا کہتا ہے"؟
الو نے کہا: اس وقت میں یہ کہتا ہوں"ہلاکت ہو بنی آدم پر ان کو نیند کیسے آجاتی ہے ؟ حالاں کہ مصائب کے طوفان ان کے سامنے ہیں"
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا" تو دن میں کیوں نہیں نکلتا"؟
الو نے کہا" انسانوں کے ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی وجہ سے میں دن میں نہیں نکلتا "
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اچھا تو مجھے بتا کہ تو برابر بولتا رہتا ہے اس میں تیرا کیا پیغام ہوتا ہے"؟
الو نے کہا میرا پیغام یہ ہوتا ہے "اے غافل لوگوں زاد راہ اور اپنے سفر آخرت کے لئے تیار ہو جاؤ- نور پیدا کرنے والی ذات پاک ہے"
اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا "پرندوں میں الو سے زیادہ انسانوں کا خیر خواہ اور ہمدرد کوئی نہیں اور جاہلوں کے دلوں میں الو سے زیادہ کوئی پرندہ برا نہیں
(ابو نعیم حلیہ راہ شریعت )
فقہی مسائل
فتاوی قاضی خان میں لکھا ہے کہ "اگر الو کے بولنے پر کسی نے کہا کہ کوئی شخص مر جائے گا" بعض فقہاء نے کہا اس جملے کا کہنے والا کفر کی حدود میں داخل ہو جائے گا"
لیکن دوسرے فقہا نے یہ تفصیل کی ہے کہ" اس نے بد فالی کی وجہ سے یہ جملہ کہا ہے تب تو وہ کافر ہوجائے گا ورنہ نہیں
حوالہ جات
فتاوی قاضی خان؛
حیات الحیوان جلد 2 صفحہ684
آداب شریعت
کتبہ
( مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
سلام
رسول اعظم نبی رحمت درود تم پر سلام تم پر
شفیع مطلق شفیق امت درود تم پر سلام تم پر
تمہارے آنے سے میرے آقا جہاں میں تابندگی ہوئی ہے
مٹے ہیں واللہ کفر وظلمت درود تم پر سلام تم پر
حضور سجدے میں جاکے بولے محبتوں کے بھی راز کھولے
الہی میری دے بخش امت درود تم پر سلام تم پر
پلٹ کے سورج دکھادیا ہے حجرکو کلمہ پڑھا دیا ہے
خدانے تمکو یہ دی ہے قدرت درود تم پر سلام تم پر
بنایا جس نے ہے تم کو مالک ہے سارے جگ کا وہی تو خالق
اسی نے تم کو عطا کی جنت درود تم پر سلام تم پر
جہاں میں کتنے رسول آئے سبھی سے اعلیٰ حضورتم ہو
تمہارا سب پہ ہے دست شفقت درود تم پر سلام تم پر
جو کام کوئی نہ کر سکا ہے وہ تم نے کر کے دکھا دیا ہے
عطا کی رب نے تمہیں صدارت درود تم پر سلام تم پر
ہو سارے عالم میں سب سے برتر ہوا نہ کوئی تم سے بڑ کر
خدا نے خود ہی بیاں کی عظمت درود تم پر سلام تم پر
جو سارے بندوں میں سب سے بدتر ہے نام اس کا خبیب رضوی
کرو تم اس پر نگاہ رحمت درود تم پر سلام تم پر
از قلم خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت
رسول اعظم نبی رحمت درود تم پر سلام تم پر
شفیع مطلق شفیق امت درود تم پر سلام تم پر
تمہارے آنے سے میرے آقا جہاں میں تابندگی ہوئی ہے
مٹے ہیں واللہ کفر وظلمت درود تم پر سلام تم پر
حضور سجدے میں جاکے بولے محبتوں کے بھی راز کھولے
الہی میری دے بخش امت درود تم پر سلام تم پر
پلٹ کے سورج دکھادیا ہے حجرکو کلمہ پڑھا دیا ہے
خدانے تمکو یہ دی ہے قدرت درود تم پر سلام تم پر
بنایا جس نے ہے تم کو مالک ہے سارے جگ کا وہی تو خالق
اسی نے تم کو عطا کی جنت درود تم پر سلام تم پر
جہاں میں کتنے رسول آئے سبھی سے اعلیٰ حضورتم ہو
تمہارا سب پہ ہے دست شفقت درود تم پر سلام تم پر
جو کام کوئی نہ کر سکا ہے وہ تم نے کر کے دکھا دیا ہے
عطا کی رب نے تمہیں صدارت درود تم پر سلام تم پر
ہو سارے عالم میں سب سے برتر ہوا نہ کوئی تم سے بڑ کر
خدا نے خود ہی بیاں کی عظمت درود تم پر سلام تم پر
جو سارے بندوں میں سب سے بدتر ہے نام اس کا خبیب رضوی
کرو تم اس پر نگاہ رحمت درود تم پر سلام تم پر
از قلم خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
کیاازواج رسول اللہ ﷺکی تعداد 18 ہے؟
(1)ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا
(2) ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا
(3 ) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
(4 )ام المومنین حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا
(5) ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمررضی اللہ عنہا
(6 )ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا
(7 ) ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا
(8 ) ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا
(9) ام المومنین حضرت ام حبیبہ(رملہ) ابی سفیان رضی اللہ عنہا
(10) ام المومنین حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب رضی اللہ عنہا
(11)ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا
درج بالا گیارہ ازواج مطہرات کے بعد
اب ذیل میں بعض ان خواتین کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح یا پیغام نکاح دینے کا تزکرہ کتب سیر و احادیث میں ہے
(12) حضرت اسماء بنت النعمان بن شراحبیل الکندریہ الجونیہ رضی اللہ عنہا
(13) حضرت فاطمہ بنت ضحاک الکلابیہ رضی اللہ عنہا
(14) حضرت فاطمہ بنت شریح رضی اللہ عنہا
(15) حضرت ہند بنت یزید الکلابیہ رضی اللہ عنہا
(16) حضرتِ قتیلہ بنت قیس الکندیہ رضی اللہ عنہا
( 17) حضرت سنا بنت اسماءبن صلت السلمیہ رضی اللہ عنہا
(18) حضرت ام شریک الانصاریہ رضی اللہ عنہا
تنبہ نبیہ
تفصیل مندرجہ ذیل کتابوں میں دیکھیں
(1)بخاری کتاب الطلاق
( 2)مسلم
(3)تحقیق قصۃ المراۃ الجونیہ جلد 3 صفحہ 650
(4)اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد 6
(5)الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 4
(6)المستدرک للحاکم جلد4
(7)ذکر ازواج مطہرات
خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
(1)ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا
(2) ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا
(3 ) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
(4 )ام المومنین حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا
(5) ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمررضی اللہ عنہا
(6 )ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا
(7 ) ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا
(8 ) ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا
(9) ام المومنین حضرت ام حبیبہ(رملہ) ابی سفیان رضی اللہ عنہا
(10) ام المومنین حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب رضی اللہ عنہا
(11)ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا
درج بالا گیارہ ازواج مطہرات کے بعد
اب ذیل میں بعض ان خواتین کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح یا پیغام نکاح دینے کا تزکرہ کتب سیر و احادیث میں ہے
(12) حضرت اسماء بنت النعمان بن شراحبیل الکندریہ الجونیہ رضی اللہ عنہا
(13) حضرت فاطمہ بنت ضحاک الکلابیہ رضی اللہ عنہا
(14) حضرت فاطمہ بنت شریح رضی اللہ عنہا
(15) حضرت ہند بنت یزید الکلابیہ رضی اللہ عنہا
(16) حضرتِ قتیلہ بنت قیس الکندیہ رضی اللہ عنہا
( 17) حضرت سنا بنت اسماءبن صلت السلمیہ رضی اللہ عنہا
(18) حضرت ام شریک الانصاریہ رضی اللہ عنہا
تنبہ نبیہ
تفصیل مندرجہ ذیل کتابوں میں دیکھیں
(1)بخاری کتاب الطلاق
( 2)مسلم
(3)تحقیق قصۃ المراۃ الجونیہ جلد 3 صفحہ 650
(4)اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد 6
(5)الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 4
(6)المستدرک للحاکم جلد4
(7)ذکر ازواج مطہرات
خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
تعداد ازواج و اولاد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ
حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے مختلف اوقات میں نو شادیاں کیں
اور ان کے علاوہ آپ کی کئی باندیاں بھی تھیں
آپ کا پہلا نکاح جگر گوشہ رسول طیبہ؛طاہرہ؛ارضیہ؛مرضیہ؛عابدہ ؛زاہدہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہوا، اور ان سے تین صاحبزادے امام حسن، امام حسین اور امام محسن رضی اللہ تعالی عنھم پیدا ہوئے۔ حضرت محسن رضی اللہ عنہ کا بچپن میں ہی وصال ہوگیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی دو صاحبزادیاں زینب کبریٰ اور ام کلثوم کبریٰ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئیں۔ جب تک حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بقید حیات رہیں آپ کرم اللہ وجہہ الکریم نے کسی اور سے نکاح نہ کیا
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد مختلف اوقات میں آپ کے درج ذیل نکاح ہوئے
ام البنین بنت حرام عامریہ رضی اللہ عنہا: ان سے چار فرزند حضرت عباس، حضرت جعفر، حضرت عبداللہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے
لیلیٰ بنت مسعود تیمیہ رضی اللہ عنہا: ان سے دو بیٹے عبیداللہ اور ابوبکر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔
اسما بنت عمیس خثیمہ رضی اللہ عنہا: ان سے یحییٰ اور محمد اصغر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔
ام حبیبہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا:،ان سے حضرت عمر اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے
امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا: ان سے محمد اوسط رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے
خولہ بنت جعفر حنفیہ رضی اللہ عنہا: ان سے محمد اکبر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، جو محمد حنفیہ کے نام سے معروف ہیں
ام سعید بنت عروہ رضی اللہ عنہا: ان سے ام الحسین اور رملہ کبریٰ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئیں۔
محیاۃ بنت امراءالقیس: ان کے بطن سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جو بچپن ہی میں فوت ہو گئیں
۔
متعدد با ندیوں سے پیدا ہونے والی آپ کی اولاد کے نام درج ذیل ہیں
حضرت ام ہانی
حضرت میمونہ
حضرت زینب صغریٰ
حضرت رملہ صغریٰ
ام کلثوم صغریٰ
حضرت فاطمہ
حضرت ا مامہ
حضرت خدیجہ
حضرت ام الکبریٰ
حضرت ام سلمہ
حضرت ام جعفر
حضرت ام جمانہ
رضی اللہ عنہم اجمعین
حوالہ جات
الکامل في التاريخ جلد 2 صفحہ 262،
البدايه و النهايه، جلد 7: صفحہ 332
ابن قتيبه، المعارف،جلد 1: صفحہ 210،
کتبہ
العبد العاصی الی ربہ الہادی خبیب القادری سلمہ المنان عن شرورالزمان
مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
تعداد ازواج و اولاد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ
حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے مختلف اوقات میں نو شادیاں کیں
اور ان کے علاوہ آپ کی کئی باندیاں بھی تھیں
آپ کا پہلا نکاح جگر گوشہ رسول طیبہ؛طاہرہ؛ارضیہ؛مرضیہ؛عابدہ ؛زاہدہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہوا، اور ان سے تین صاحبزادے امام حسن، امام حسین اور امام محسن رضی اللہ تعالی عنھم پیدا ہوئے۔ حضرت محسن رضی اللہ عنہ کا بچپن میں ہی وصال ہوگیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی دو صاحبزادیاں زینب کبریٰ اور ام کلثوم کبریٰ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئیں۔ جب تک حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بقید حیات رہیں آپ کرم اللہ وجہہ الکریم نے کسی اور سے نکاح نہ کیا
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد مختلف اوقات میں آپ کے درج ذیل نکاح ہوئے
ام البنین بنت حرام عامریہ رضی اللہ عنہا: ان سے چار فرزند حضرت عباس، حضرت جعفر، حضرت عبداللہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے
لیلیٰ بنت مسعود تیمیہ رضی اللہ عنہا: ان سے دو بیٹے عبیداللہ اور ابوبکر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔
اسما بنت عمیس خثیمہ رضی اللہ عنہا: ان سے یحییٰ اور محمد اصغر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔
ام حبیبہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا:،ان سے حضرت عمر اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے
امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا: ان سے محمد اوسط رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے
خولہ بنت جعفر حنفیہ رضی اللہ عنہا: ان سے محمد اکبر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، جو محمد حنفیہ کے نام سے معروف ہیں
ام سعید بنت عروہ رضی اللہ عنہا: ان سے ام الحسین اور رملہ کبریٰ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئیں۔
محیاۃ بنت امراءالقیس: ان کے بطن سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جو بچپن ہی میں فوت ہو گئیں
۔
متعدد با ندیوں سے پیدا ہونے والی آپ کی اولاد کے نام درج ذیل ہیں
حضرت ام ہانی
حضرت میمونہ
حضرت زینب صغریٰ
حضرت رملہ صغریٰ
ام کلثوم صغریٰ
حضرت فاطمہ
حضرت ا مامہ
حضرت خدیجہ
حضرت ام الکبریٰ
حضرت ام سلمہ
حضرت ام جعفر
حضرت ام جمانہ
رضی اللہ عنہم اجمعین
حوالہ جات
الکامل في التاريخ جلد 2 صفحہ 262،
البدايه و النهايه، جلد 7: صفحہ 332
ابن قتيبه، المعارف،جلد 1: صفحہ 210،
کتبہ
العبد العاصی الی ربہ الہادی خبیب القادری سلمہ المنان عن شرورالزمان
مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
تعزیت نامہ
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
23 محرم الحرام 1442 ہجری مطابق 12 ستمبر 2020 عیسوی کو جیسے ہی یہ خبر ملی کہ خطیب یورپ وایشیا ؛ شیر ہندوستان؛حافظ احادیث کثیرہ؛ مناظر اہل سنت؛ آفت جان وہابیت؛عطائے حضور مفتی اعظم ہند ؛یادگار اکابر؛ ماہر علوم دینیہ حضرت علامہ مفتی حسین صدیقی المعروف بہ ابوالحقانی رحمۃ اللہ علیہ اس دار فانی سے کوچ کر کے دار بقا پہنچ گئے دل پر رنج و الم کے پہاڑ ٹوٹ گئے
کیوں کہ قاعدہ کلیہ ہے " موت العالم موت العالم "حضرت کے جانے سے جو جگہ خالی ہوئی ہے اس کی بھرپائی مشکل ہے
ویسے تو شب و روز کے ہنگاموں میں نہ جانے کتنوں کے بارے میں یہ خبر ملتی ہے کہ وہ ہم سے رخصت ہوگئے
بہت سوں کے چھوٹ جانے سے دل شدید رنج و غم محسوس کرتا ہے لیکن ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں
جن کی وفات کی خبر دلوں پر بجلی سی گرادے
جن کا آفتابِ زندگی مشرق میں غروب ہو تو مغرب والے اندھیرا محسوس کریں ان عظیم شخصیات میں نمایاں طور پر حضرت نور اللہ مرقدہ کی ذات ہے
حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت بے مثال اور خطابت لاجواب وسدا بہار تھی
ایک مرتبہ کی بات ہے ( فقیر کا طالب علمی کا زمانہ تھا)عرس اعلی حضرت کے موقع پر جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج میں تقریباً چار بجے کا وقت ہوتا حضرت نور اللہ مرقدہ نے دورانِ خطابت ایک جملہ ارشاد فرمایا تھا " اے وہابیوں اس رضا کے شیر کو علم غیب کے ثبوت میں جتنی احادیث کریمہ یاد ہیں
اتنی تم سب کو مختلف موضوعات پر بھی یاد نہ ہوں گی
اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حضرت کی جملہ اولادوں کو صبر جمیل واجر جزیل عطا فرمائے اور حضرت کے درجات کو بلند فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے
شریکِ غم (مفتی)
خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
23 محرم الحرام 1442 ہجری مطابق 12 ستمبر 2020 عیسوی کو جیسے ہی یہ خبر ملی کہ خطیب یورپ وایشیا ؛ شیر ہندوستان؛حافظ احادیث کثیرہ؛ مناظر اہل سنت؛ آفت جان وہابیت؛عطائے حضور مفتی اعظم ہند ؛یادگار اکابر؛ ماہر علوم دینیہ حضرت علامہ مفتی حسین صدیقی المعروف بہ ابوالحقانی رحمۃ اللہ علیہ اس دار فانی سے کوچ کر کے دار بقا پہنچ گئے دل پر رنج و الم کے پہاڑ ٹوٹ گئے
کیوں کہ قاعدہ کلیہ ہے " موت العالم موت العالم "حضرت کے جانے سے جو جگہ خالی ہوئی ہے اس کی بھرپائی مشکل ہے
ویسے تو شب و روز کے ہنگاموں میں نہ جانے کتنوں کے بارے میں یہ خبر ملتی ہے کہ وہ ہم سے رخصت ہوگئے
بہت سوں کے چھوٹ جانے سے دل شدید رنج و غم محسوس کرتا ہے لیکن ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں
جن کی وفات کی خبر دلوں پر بجلی سی گرادے
جن کا آفتابِ زندگی مشرق میں غروب ہو تو مغرب والے اندھیرا محسوس کریں ان عظیم شخصیات میں نمایاں طور پر حضرت نور اللہ مرقدہ کی ذات ہے
حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت بے مثال اور خطابت لاجواب وسدا بہار تھی
ایک مرتبہ کی بات ہے ( فقیر کا طالب علمی کا زمانہ تھا)عرس اعلی حضرت کے موقع پر جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج میں تقریباً چار بجے کا وقت ہوتا حضرت نور اللہ مرقدہ نے دورانِ خطابت ایک جملہ ارشاد فرمایا تھا " اے وہابیوں اس رضا کے شیر کو علم غیب کے ثبوت میں جتنی احادیث کریمہ یاد ہیں
اتنی تم سب کو مختلف موضوعات پر بھی یاد نہ ہوں گی
اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حضرت کی جملہ اولادوں کو صبر جمیل واجر جزیل عطا فرمائے اور حضرت کے درجات کو بلند فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے
شریکِ غم (مفتی)
خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا؟
از قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
اللہ جل مجدہ الکریم نے زمین وآسمان؛ شجر و حجر؛ برگ و ثمر ؛چرند و پرند؛ پانی وہوا اورجانور وغیرہ سب کو انسان کے لیے پیدا فرمایاہےاور انسان کو اپنی بندگی کے لیے وجود بخشا جیساکہ اللہ تعالی کاارشاد ہے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون" اور ہم نے انسان اور جنوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے"
اللہ تعالی نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور پھر حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا سے ان کو سکون و اطمینان عطا کر دیا چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے" لیسکن الیھا "(سورہ اعراف)" تاکہ وہ (مرد) اس (عورت) سے سکون حاصل کرے"دوسری مقام پر ارشاد فرمایا"لتسکنوا الیھا"( سورہ روم)" تاکہ ان کے ساتھ آرام سے رہو"اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا سے نسل انسانی کو خوب پھیلایا چنانچہ ارشاد خداوندی ہے" وبث منھما رجالا کثیرا ونساء "(سورہ نساء) اور ان( آدم و حوا)سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے ہیں" "سبق" جتنے بھی انسان دنیا میں ہیں سب کے باپ حضرت آدم علیہ السلام اور ماں حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہاہیں
آج اگر جائزہ لیا جائے تو اس دنیا میں انسان اپنے مقصد اصلی سے بھٹکر دوسرے راستوں پر چل گیاہے مثلاً ! کوئی جان بوجھ کر نماز کو ترک کردیتا ہے ؛کوئی نماز میں سستی وکاہلی کرتا نظر آتا ہے؛
کوئی آٹھ کی ؛کوئی تین سو ساٹھ کی ؛جب کہ کوئی صرف کھاٹ کی ہی پڑھتا ہے اور کوئی صرف تین وقتوں کی ہی پڑھتا ہے؛
کوئی نماز؛ روزہ؛ حج اور زکوٰۃ کو مکمل بھول سا گیا ہے اور کوئی کھبی کھبار نماز ادا کرتا ہے ؛اور کوئی نمازیوں کا ادب واحترام ہی نہیں کرتا
"حالان کہ حقیقت میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے صرف عبادت کر نے کے لئے ہی پیدا کیا ہے"
نما چھوڑنا بہت بڑھا گناہ ہے جو جہنم میں لے جانے کا سبب ہے چنانچہ حیث پاک میں ہے من ترک الصلوٰۃ متعمدا فقد کفر
"جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی وہ کفر کی حد تک پہنچ گیا"
حدیث پاک میں آیا ہے جو انسان نماز میں سستی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو پندرہ سزائیں دیتا ہے پانچ دنیا میں تین موت کے وقت تین قبر میں تین قبر سے نکلتے وقت
دنیا میں ملنے والی سزائیں یہ ہیں
(١)اسکی زندگی میں برکت نہیں ہوتی
(٢)اسکے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹادی جاتی ہے
(٣)اسے اللہ تعالی کسی عمل کا اجر نہیں دیتا
(٤)اسکی دعا آسمان کی طرف اٹھائی نہیں جاتی (قبول نہیں ہوتی)
(٥) اس کو نیک لوگوں کی دعا سے حصہ نہیں ملتا"
موت کے وقت پہچنے والی سزائیں یہ ہیں
(١) وہ ذلیل ہو کر مرتا ہے
(٢)بھوک کی حالت میں مرتا ہے
(٣) پیاسا مرتا ہے اگر چہ دنیا کے تمام سمندروں کا پانی اسے پلایا جائے اسکی پیاس نہیں بجھتی
قبر میں پہنچنے والی سزائیں یہ ہیں
(١) اسکی قبر تنگ ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں آپس میں مل جاتی ہیں
(٢) اس کی قبر میں آگ جلائی جاتی ہے وہ صبح وشام انگاروں پہ لوٹ پوٹ ہوتا ہے
(٣) اس کی قبر پر ایک اژدہا مقرر کیا جاتا ہے جسکا نام "شجاع اقرع"یا "الشجاع الاقرع"ہے اس کی آنکھیں آگ کی اور ناخن لوہے کے ہیں ہر ناخن ایک دن کی مسافت کے برابرلمبا ہے وہ میت کو ڈستا ہے اور کہتا ہے میں"شجاع اقرع" ہوں یا "الشجاع الاقرع" ہوں اس کی آواز سخت گرج والی آواز کی طرح ہوتی ہے اور کہتا ہے میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے میں تجھے اس بات پر ماروں کہ تو نے صبح کی نماز طلوع آفتاب تک نہ پڑھی تھی؛ اور
اس بات پر مارو کہ تو نے ظہر کی نماز عصر تک مؤخر کی؛ اور اس بات پر مارو کہ تو نے عصر کی نماز مغرب تک نہیں پڑھی ؛اور اس بات پر ماروں کہ تو نے مغرب کی نماز عشاء تک ادا نہ کی؛ اور تجھے اس بات پر ماروں کہ تو نے عشاء کی نماز کو صبح تک مؤخر کیا؛اور وہ جب بھی اسے کوئی ضرب مارتا ہے تو وہ زمین میں ستر گز تک گھس جاتا ہے پس وہ قیامت تک زمین میں عذاب آئے گا
اور وہ عذاب جو قبر سے نکلنے کے بعد قیامت میں ہوں گے وہ یہ ہیں
(١) حساب کی سختی
(٢) رب کی ناراضگی
(٣) جہنم میں داخلہ (بے نمازی کا انجام صفحہ١٠)
خردو نوش؛رہنے سہنے؛ بیٹھنے اٹھنے؛آنے جانے؛کاروبار کرنےاور سونے جاگنے غرض یہ کہ انسان کو اللہ تعالی نے مکمل آزادی ہے مگر اس آزادی کے ساتھ عبادت سے آزادی نہیں ہے ہر حال میں نماز ادا کرنی ہوگی
کیونکہ نماز فرض عین ہے اور فرض کی ادائیگی مثل قرض کے ہوتی ہے اور نماز کی تحقیر کرنا کفر ہے_
مگر آج کا انسان بالخصوص مسلمان ہر طرح کی برائیوں میں ملبوس ہے؛ جوئے کے اڈے پر مسلمان؛ شراب کی بھٹی پر مسلمان ؛کھیل کود کے میدان میں مسلمان؛ ناچ گانے کی محفلوں میں مسلمان؛ ہر طرح کی برائی میں مسلمان؛ فرائض کی ادائیگی نہ کرنے میں مسلمان؛ غرض ہر طرح کے فرض سے سستی کرنے میں مسلمان ملبوس ہے
نوٹ بعض مسلمان تمام شرعی احکام و افعال کے پابند بھی ہیں
آج مسلمان
از قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
اللہ جل مجدہ الکریم نے زمین وآسمان؛ شجر و حجر؛ برگ و ثمر ؛چرند و پرند؛ پانی وہوا اورجانور وغیرہ سب کو انسان کے لیے پیدا فرمایاہےاور انسان کو اپنی بندگی کے لیے وجود بخشا جیساکہ اللہ تعالی کاارشاد ہے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون" اور ہم نے انسان اور جنوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے"
اللہ تعالی نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور پھر حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا سے ان کو سکون و اطمینان عطا کر دیا چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے" لیسکن الیھا "(سورہ اعراف)" تاکہ وہ (مرد) اس (عورت) سے سکون حاصل کرے"دوسری مقام پر ارشاد فرمایا"لتسکنوا الیھا"( سورہ روم)" تاکہ ان کے ساتھ آرام سے رہو"اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا سے نسل انسانی کو خوب پھیلایا چنانچہ ارشاد خداوندی ہے" وبث منھما رجالا کثیرا ونساء "(سورہ نساء) اور ان( آدم و حوا)سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے ہیں" "سبق" جتنے بھی انسان دنیا میں ہیں سب کے باپ حضرت آدم علیہ السلام اور ماں حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہاہیں
آج اگر جائزہ لیا جائے تو اس دنیا میں انسان اپنے مقصد اصلی سے بھٹکر دوسرے راستوں پر چل گیاہے مثلاً ! کوئی جان بوجھ کر نماز کو ترک کردیتا ہے ؛کوئی نماز میں سستی وکاہلی کرتا نظر آتا ہے؛
کوئی آٹھ کی ؛کوئی تین سو ساٹھ کی ؛جب کہ کوئی صرف کھاٹ کی ہی پڑھتا ہے اور کوئی صرف تین وقتوں کی ہی پڑھتا ہے؛
کوئی نماز؛ روزہ؛ حج اور زکوٰۃ کو مکمل بھول سا گیا ہے اور کوئی کھبی کھبار نماز ادا کرتا ہے ؛اور کوئی نمازیوں کا ادب واحترام ہی نہیں کرتا
"حالان کہ حقیقت میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے صرف عبادت کر نے کے لئے ہی پیدا کیا ہے"
نما چھوڑنا بہت بڑھا گناہ ہے جو جہنم میں لے جانے کا سبب ہے چنانچہ حیث پاک میں ہے من ترک الصلوٰۃ متعمدا فقد کفر
"جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی وہ کفر کی حد تک پہنچ گیا"
حدیث پاک میں آیا ہے جو انسان نماز میں سستی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسکو پندرہ سزائیں دیتا ہے پانچ دنیا میں تین موت کے وقت تین قبر میں تین قبر سے نکلتے وقت
دنیا میں ملنے والی سزائیں یہ ہیں
(١)اسکی زندگی میں برکت نہیں ہوتی
(٢)اسکے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹادی جاتی ہے
(٣)اسے اللہ تعالی کسی عمل کا اجر نہیں دیتا
(٤)اسکی دعا آسمان کی طرف اٹھائی نہیں جاتی (قبول نہیں ہوتی)
(٥) اس کو نیک لوگوں کی دعا سے حصہ نہیں ملتا"
موت کے وقت پہچنے والی سزائیں یہ ہیں
(١) وہ ذلیل ہو کر مرتا ہے
(٢)بھوک کی حالت میں مرتا ہے
(٣) پیاسا مرتا ہے اگر چہ دنیا کے تمام سمندروں کا پانی اسے پلایا جائے اسکی پیاس نہیں بجھتی
قبر میں پہنچنے والی سزائیں یہ ہیں
(١) اسکی قبر تنگ ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں آپس میں مل جاتی ہیں
(٢) اس کی قبر میں آگ جلائی جاتی ہے وہ صبح وشام انگاروں پہ لوٹ پوٹ ہوتا ہے
(٣) اس کی قبر پر ایک اژدہا مقرر کیا جاتا ہے جسکا نام "شجاع اقرع"یا "الشجاع الاقرع"ہے اس کی آنکھیں آگ کی اور ناخن لوہے کے ہیں ہر ناخن ایک دن کی مسافت کے برابرلمبا ہے وہ میت کو ڈستا ہے اور کہتا ہے میں"شجاع اقرع" ہوں یا "الشجاع الاقرع" ہوں اس کی آواز سخت گرج والی آواز کی طرح ہوتی ہے اور کہتا ہے میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے میں تجھے اس بات پر ماروں کہ تو نے صبح کی نماز طلوع آفتاب تک نہ پڑھی تھی؛ اور
اس بات پر مارو کہ تو نے ظہر کی نماز عصر تک مؤخر کی؛ اور اس بات پر مارو کہ تو نے عصر کی نماز مغرب تک نہیں پڑھی ؛اور اس بات پر ماروں کہ تو نے مغرب کی نماز عشاء تک ادا نہ کی؛ اور تجھے اس بات پر ماروں کہ تو نے عشاء کی نماز کو صبح تک مؤخر کیا؛اور وہ جب بھی اسے کوئی ضرب مارتا ہے تو وہ زمین میں ستر گز تک گھس جاتا ہے پس وہ قیامت تک زمین میں عذاب آئے گا
اور وہ عذاب جو قبر سے نکلنے کے بعد قیامت میں ہوں گے وہ یہ ہیں
(١) حساب کی سختی
(٢) رب کی ناراضگی
(٣) جہنم میں داخلہ (بے نمازی کا انجام صفحہ١٠)
خردو نوش؛رہنے سہنے؛ بیٹھنے اٹھنے؛آنے جانے؛کاروبار کرنےاور سونے جاگنے غرض یہ کہ انسان کو اللہ تعالی نے مکمل آزادی ہے مگر اس آزادی کے ساتھ عبادت سے آزادی نہیں ہے ہر حال میں نماز ادا کرنی ہوگی
کیونکہ نماز فرض عین ہے اور فرض کی ادائیگی مثل قرض کے ہوتی ہے اور نماز کی تحقیر کرنا کفر ہے_
مگر آج کا انسان بالخصوص مسلمان ہر طرح کی برائیوں میں ملبوس ہے؛ جوئے کے اڈے پر مسلمان؛ شراب کی بھٹی پر مسلمان ؛کھیل کود کے میدان میں مسلمان؛ ناچ گانے کی محفلوں میں مسلمان؛ ہر طرح کی برائی میں مسلمان؛ فرائض کی ادائیگی نہ کرنے میں مسلمان؛ غرض ہر طرح کے فرض سے سستی کرنے میں مسلمان ملبوس ہے
نوٹ بعض مسلمان تمام شرعی احکام و افعال کے پابند بھی ہیں
آج مسلمان
Forwarded from Deleted Account
کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ وہ ﷲ جل جلالہ اور رسولﷺ کے فرامین کو پسِ پشت ڈالے ہوئے
ہے جب تک انسان اللہ اور رسول کی فرمانبرداری نہیں کرے گا اس کو ہر طرح کی رسوائی ہی ملتی رہے گی
"حالات کے سدھر نے کا طریقہ"
تمام برائیوں کو چھوڑ کر سچے دل سے توبہ کرے
قرآن و حدیث کا مطالعہ کریے ؛ احکام پر عمل کرے؛ ہر طرح کی برائی سے دور رہے ؛ علماء کا ادب و احترام کرے ؛سادات کرام کی خدمتیں کرے ؛ان کا احترام کرے؛ سنت رسول کے سانچے میں ڈھل جائے
انشاءاللہ دنیا بھی سدھر جائے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی
اللہ تعالی اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہدایت عطا فرمائے آمین
نہ مانو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانوں
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
از قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت
ہے جب تک انسان اللہ اور رسول کی فرمانبرداری نہیں کرے گا اس کو ہر طرح کی رسوائی ہی ملتی رہے گی
"حالات کے سدھر نے کا طریقہ"
تمام برائیوں کو چھوڑ کر سچے دل سے توبہ کرے
قرآن و حدیث کا مطالعہ کریے ؛ احکام پر عمل کرے؛ ہر طرح کی برائی سے دور رہے ؛ علماء کا ادب و احترام کرے ؛سادات کرام کی خدمتیں کرے ؛ان کا احترام کرے؛ سنت رسول کے سانچے میں ڈھل جائے
انشاءاللہ دنیا بھی سدھر جائے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی
اللہ تعالی اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہدایت عطا فرمائے آمین
نہ مانو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانوں
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
از قلم مفتی خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM