Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تحریر:جناب شمشیرِرضا
پچھلے دنوں مکتبۃ المدینہ شعبہ عربی کتب باب المدینہ کراچی کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ نئی عربی کتب مکتبہ پر آ چکی ہیں ساتھ ہی ان کتب کی فہرست مع قیمت بھی ارسال کر دی گئی ۔ ہمارے جامعہ کے ایک ہونہار طالب علم عزیزم مدثر رضا قادری وہیں تخصص فی الفقہ میں زیر تعلیم ہیں ۔ان کے توسط سے کئی اہم کتب منگوائیں ۔ان کتب میں ایک رسالہ علامہ ابن جوزی کا تھا جس کا نام ہے۔‘‘الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید’’
یہ رسالہ ڈاکٹر ھیثم عبدالسلام محمد کی تحقیق کے ساتھ دارالکتب العلمیہ بیروت سے طبع ہوا۔ معلومات سے بھرپور اپنے موضوع پر ایک شاندار رسالہ ہے۔درحقیقت یہ رسالہ عبدالمغیث حنبلی کے رد میں ہےیا یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کتاب عبدالمغیث حنبلی کا جواب الجواب ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ ابن جوزی خطیب العصر تھے کسی تقریر کے دوران ان سے یزید پر لعنت کے تعلق سےسوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس معاملہ میں سکوت بہتر ہے، لوگوں نے کہا کہ یہ تو ہم بھی جانتے ہیں کہ سکوت بہتر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یزید پر لعنت جائز ہے یا نہیں؟ تو جواباً آپ نے فرمایا : جو شخص تین سال کے لیے حکمران بنایا جائے،پہلے سال نواسہ رسول امام حسین کو قتل کرے دوسرے سال اہل مدینہ کو خوفزدہ کرے ان کے مال و اسباب کو اپنے لشکر کے مباح کر دے اور تیسرے سال منجنیق کے ذریعے کعبۃ اللہ پر سنگ باری کرے اور اسے منہدم کر دے،تو ایسے شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ سب نے کہا ہم ایسے شخص پر لعنت کرتے ہیں ۔تو آپ نے فرمایا تو اس پر لعنت کرو۔پھر ابن جوزی نے بھی حاکم وقت اور علما کی موجودگی میں یزید پر لعنت کی۔ عبدالمغیث حنبلی نے اس تقریرکے رد میں فضائل یزید کے نام سے کتاب لکھ ڈالی ۔ابن جوزی کو جب اس پر اطلاع ہوئی تو جواباً آپ نے یہ کتاب ‘‘الرد علی المتعصب العنید’’ لکھی ۔
یاد رہے کہ عبدالمغیث حنبلی امام احمد بن حنبل کے مقلد ہونے کے ساتھ ساتھ کثیر صفات حمیدہ کے مالک تھے اور شکل و صورت میں بھی امام احمد بن حنبل کے مشابہ تھے غیر انہ کان قصیراً۔کمی تھی تو فقط یہ کہ علم و معرفت میں وہ وسعت نہ تھی جو ہونی چاہیے۔اسی لیے ابن جوزی انہیں کہیں قلیل العلم فی السیر سے خطاب کرتے ہیں تو کہیں اجہل الناس کے لقب سے نوازتے ہیں اور کہیں قلیل الفہم کہ کر پکارتے ہیں۔علامہ ذہبی نے بھی سیر اعلام النبلا میں اس بات کی تصدیق ان الفاظ میں کی ہے: ‘‘ لہ غلطات تدل علی قلۃ علمہ۔’’
ابن جوزی علیہ الرحمۃ نے اس کتاب کو چند فصول پر منقسم کیا ہے ۔ان فصول میں (یزید کے احوال، یزید کیسے حاکم بنا، اور یزید نے اپنے زمانہ حکومت میں جو ظلم و زیادتی اور بے باکیاں کی، جن کو ابو بکر بن ابی الدنیا ،محمد بن سعد اور ابو جعفر بن جریر وغیرہ ائمہ نے ذکر کیا۔) مختصراً ذکر کیا گیا ہے۔
آخری فصل میں عبدالمغیث حنبلی نے یزید کی حمایت و مدح سرائی پر جن دلائل بلکہ شبہات سے حجت پکڑی ہے ان کا خوبصورت آپریشن کیا گیا ہے۔
عبدالمغیث حنبلی نے پہلی دلیل یہ دی کہ جس آیت سے آپ لعنت یزید پر استدلال کر رہے ہیں وہ منافقین یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے.
علامہ نے اس کے تین جوابات ارشاد فرمائے.
پہلا جواب یہ دیا کہ نزول آیت سے متعلق قول مقاتل بن سلیمان کا ہے جن کے کذاب ہونے پر محدثین کا اجماع ہے.
دوسرا جواب یہ کہ اس آیت سے لعنت یزید کے جواز پر استدلال کرنے والے امام احمد بن حنبل ہیں. ایسے جلیل القدر امام پر کذاب راوی کو ترجیح کیسے دی اور آیت سے یہود کیسے مراد ہو گئے جبکہ ان کی کوئی حکومت تھی ہی نہیں.
تیسرا جواب یہ دیا کہ حکم، سبب سے اعم ہے. کسی قوم کے حق میں آیت کا نزول عموم حکم سے مانع نہیں.انتہی
اسی طرح علامہ نے دیگر دلائل کے بھی بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے.
ہاں آخر میں یزید کی مدح میں ایک قول نقل کیا گیا کہ یزید قرآن کی تلاوت کرتا تھا.
علامہ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا. (کیونکہ جواب بالکل واضح تھا)
تنبیہ:
کچھ مقامات پرعلامہ ابن جوزی نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ایسی گفتگو کی ہے جو ہضم نہیں ہو پاتی۔ہو سکتا ہے کہ یہ کلام ان کے اوہام میں سے ہو،
"اذ من المعلوم ان ابن الجوزی کثیر الاوھام."
انظر سیر اعلام النبلا۔
لہذا چاہیے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے پہلے شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق کچھ کتب و رسائل کا مطالعہ کر لیا جائے۔
شمشیرِرضا 31-07-2017
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813232575622718&id=100008080090753
پچھلے دنوں مکتبۃ المدینہ شعبہ عربی کتب باب المدینہ کراچی کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ نئی عربی کتب مکتبہ پر آ چکی ہیں ساتھ ہی ان کتب کی فہرست مع قیمت بھی ارسال کر دی گئی ۔ ہمارے جامعہ کے ایک ہونہار طالب علم عزیزم مدثر رضا قادری وہیں تخصص فی الفقہ میں زیر تعلیم ہیں ۔ان کے توسط سے کئی اہم کتب منگوائیں ۔ان کتب میں ایک رسالہ علامہ ابن جوزی کا تھا جس کا نام ہے۔‘‘الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید’’
یہ رسالہ ڈاکٹر ھیثم عبدالسلام محمد کی تحقیق کے ساتھ دارالکتب العلمیہ بیروت سے طبع ہوا۔ معلومات سے بھرپور اپنے موضوع پر ایک شاندار رسالہ ہے۔درحقیقت یہ رسالہ عبدالمغیث حنبلی کے رد میں ہےیا یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کتاب عبدالمغیث حنبلی کا جواب الجواب ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ ابن جوزی خطیب العصر تھے کسی تقریر کے دوران ان سے یزید پر لعنت کے تعلق سےسوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس معاملہ میں سکوت بہتر ہے، لوگوں نے کہا کہ یہ تو ہم بھی جانتے ہیں کہ سکوت بہتر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یزید پر لعنت جائز ہے یا نہیں؟ تو جواباً آپ نے فرمایا : جو شخص تین سال کے لیے حکمران بنایا جائے،پہلے سال نواسہ رسول امام حسین کو قتل کرے دوسرے سال اہل مدینہ کو خوفزدہ کرے ان کے مال و اسباب کو اپنے لشکر کے مباح کر دے اور تیسرے سال منجنیق کے ذریعے کعبۃ اللہ پر سنگ باری کرے اور اسے منہدم کر دے،تو ایسے شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ سب نے کہا ہم ایسے شخص پر لعنت کرتے ہیں ۔تو آپ نے فرمایا تو اس پر لعنت کرو۔پھر ابن جوزی نے بھی حاکم وقت اور علما کی موجودگی میں یزید پر لعنت کی۔ عبدالمغیث حنبلی نے اس تقریرکے رد میں فضائل یزید کے نام سے کتاب لکھ ڈالی ۔ابن جوزی کو جب اس پر اطلاع ہوئی تو جواباً آپ نے یہ کتاب ‘‘الرد علی المتعصب العنید’’ لکھی ۔
یاد رہے کہ عبدالمغیث حنبلی امام احمد بن حنبل کے مقلد ہونے کے ساتھ ساتھ کثیر صفات حمیدہ کے مالک تھے اور شکل و صورت میں بھی امام احمد بن حنبل کے مشابہ تھے غیر انہ کان قصیراً۔کمی تھی تو فقط یہ کہ علم و معرفت میں وہ وسعت نہ تھی جو ہونی چاہیے۔اسی لیے ابن جوزی انہیں کہیں قلیل العلم فی السیر سے خطاب کرتے ہیں تو کہیں اجہل الناس کے لقب سے نوازتے ہیں اور کہیں قلیل الفہم کہ کر پکارتے ہیں۔علامہ ذہبی نے بھی سیر اعلام النبلا میں اس بات کی تصدیق ان الفاظ میں کی ہے: ‘‘ لہ غلطات تدل علی قلۃ علمہ۔’’
ابن جوزی علیہ الرحمۃ نے اس کتاب کو چند فصول پر منقسم کیا ہے ۔ان فصول میں (یزید کے احوال، یزید کیسے حاکم بنا، اور یزید نے اپنے زمانہ حکومت میں جو ظلم و زیادتی اور بے باکیاں کی، جن کو ابو بکر بن ابی الدنیا ،محمد بن سعد اور ابو جعفر بن جریر وغیرہ ائمہ نے ذکر کیا۔) مختصراً ذکر کیا گیا ہے۔
آخری فصل میں عبدالمغیث حنبلی نے یزید کی حمایت و مدح سرائی پر جن دلائل بلکہ شبہات سے حجت پکڑی ہے ان کا خوبصورت آپریشن کیا گیا ہے۔
عبدالمغیث حنبلی نے پہلی دلیل یہ دی کہ جس آیت سے آپ لعنت یزید پر استدلال کر رہے ہیں وہ منافقین یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے.
علامہ نے اس کے تین جوابات ارشاد فرمائے.
پہلا جواب یہ دیا کہ نزول آیت سے متعلق قول مقاتل بن سلیمان کا ہے جن کے کذاب ہونے پر محدثین کا اجماع ہے.
دوسرا جواب یہ کہ اس آیت سے لعنت یزید کے جواز پر استدلال کرنے والے امام احمد بن حنبل ہیں. ایسے جلیل القدر امام پر کذاب راوی کو ترجیح کیسے دی اور آیت سے یہود کیسے مراد ہو گئے جبکہ ان کی کوئی حکومت تھی ہی نہیں.
تیسرا جواب یہ دیا کہ حکم، سبب سے اعم ہے. کسی قوم کے حق میں آیت کا نزول عموم حکم سے مانع نہیں.انتہی
اسی طرح علامہ نے دیگر دلائل کے بھی بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے.
ہاں آخر میں یزید کی مدح میں ایک قول نقل کیا گیا کہ یزید قرآن کی تلاوت کرتا تھا.
علامہ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا. (کیونکہ جواب بالکل واضح تھا)
تنبیہ:
کچھ مقامات پرعلامہ ابن جوزی نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ایسی گفتگو کی ہے جو ہضم نہیں ہو پاتی۔ہو سکتا ہے کہ یہ کلام ان کے اوہام میں سے ہو،
"اذ من المعلوم ان ابن الجوزی کثیر الاوھام."
انظر سیر اعلام النبلا۔
لہذا چاہیے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے پہلے شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق کچھ کتب و رسائل کا مطالعہ کر لیا جائے۔
شمشیرِرضا 31-07-2017
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813232575622718&id=100008080090753
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قومی اسمبلی کے حلقہ120کے ضمنی انتخاب میں ساجدخان دیوبندی کےاہل سنت وجماعت پرکیے گئے اعتراض کاجواب:
تحریر : میثم عباس قادری رضوی
مولوی ساجدخان دیوبندی نے اپنی فیس بک آئی ڈی سے (17ستمبر2017ءکو لاہورکےقومی اسمبلی کے حلقہ 120میں ہونے والےضمنی انتخاب کے الیکشن میں اہل سنت وجماعت بریلوی کوملنے والے ووٹوں کےمتعلق استفسارپر مبنی)ایک پوسٹ کی ہے،پوسٹ کے کمنٹس میں کسی دیوبندی نے اس کوجواب دیاکہ تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیدوارکو7000ووٹ ملے ہیں تواس نے جواب میں لکھا:"اسکا مطلب ہے پورے لاہور میں صرف 7000 عاشق ہیں معاذاللہ"۔اس ہرزہ سرائی کے علاوہ اس کے نام سے بنے فیس بک پیج سے بھی اس ضمنی انتخاب کے رزلٹ کے متعلق اہل سنت پربکواس کی گئی ہے۔حالانکہ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے مقابل دیگرآزادخیال سیکولرجماعتوں کوبہت زیادہ ووٹ ملتے ہیں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جاناچاہتا۔ذیل میں ساجد دیوبندی کی آئی ڈی اوراس کے فیس بک پیج سے کی جانے والی خباثت کامختصرجواب پیش کرتاہوں۔
پہلی بات:
"ساجددیوبندی کوڈو"کادجل یہ ہے کہ اس نے اپنے کمنٹ میں ایک حلقے کی بجائےپورے لاہورکاذکرکیا۔حلانکہ یہ انتخاب پورےلاہورکے قومی اسمبلی کے13حلقوں کانہیں بلکہ صرف ایک حلقے کاتھا۔لیکن اس نے یہ تاثر دینے کے لیے کہ "پورے لاہورمیں اہل سنت بریلوی کو7000ووٹ ملاہے"یہ حرکت کی ہے۔
دوسری بات:
مولوی ساجدخان دیوبندی کے پیشوامولوی سمیع الحق دیوبندی نے اس انتخاب میں غیرمقلدوہابی جماعت کے امیدوارشیخ یعقوب کی حمایت کااعلان کیاتھا۔دیوبندیوں کے امام مولوی رشیدگنگوہی کے فتوی کے مطابق غیرمقلدوہابی دیوبندیوں کے ہم عقیدہ ہیں ملاحظہ ہوفتاوی رشیدیہ۔اور غیرمقلدوہابی مولوی ثناءاللہ امرتسری کے مطابق دیوبندی اور غیرمقلدوہابی ہم مخرج ہیں۔ملاحظہ ہوفتاوی ثنائیہ۔یوں ان ہم مخرج وہم عقیدہ وہابی دیوبندی جماعتوں کے گٹھ جوڑ کے باوجودان کاامیدوارشیخ یعقوب ساڑھے 5828 ووٹ لے سکا۔جوکہ اہل سنت وجماعت بریلوی کے امیدوارکوملنے والے ووٹوں سےکم ہیں۔(دنیااخبارکی خبرکے مطابق تحریک لبیک کے امیدوارکو7130ووٹ ملے ہیں)۔لہٰذاساجدخان دیوبندی کے تبصرہ کی طرزپرہم پوچھتے ہیں کہ کیااس پورے حلقہ میں صرف5822کے قریب وہابی دیوبندی ہیں؟۔
تیسری بات:
حلقہ 120کے رزلٹ پرشورکے والے دیوبندی بتائیں کہ مولوی فضل الرحمان ڈیزل کی جمعیت علماءاسلام کے جن امیدواروں کوالیکشن میں دوسری جماعتوں کے مقابلہ میں شکست ہوتی ہے تو کیااس شکست سےیہ سمجھاجائے کہ وہاں دیوبندی اس جماعت کے مقابلے میں تھوڑے ہیں؟
چوتھی بات:
پورے پاکستان میں ہونے والے الیکشن میں اگرمذہبی جماعتوں کے ووٹ کاسیکولر،آزادخیال جماعتوں PmlN,PppاورPtiکوملنے والے ووٹوں سے تقابل کیاجائےتوتناسب انتہائی کم ہوتاہے۔کیاساجدخان دیوبندی وہاں بھی کہے گاکہ"اسکا مطلب ہے پورے پاکستان میں صرف چندلاکھ ہی مسلمان ہیں؟"۔معاذاللہ
پانچویں بات:
ساجدخان دیوبندی کوآئینہ دکھانے کے لیے ایک حوالہ پیش کیاجاتاہے،جس میں مولوی ثناءاللہ شجاع آبادی دیوبندی نے مولوی فضل الرحمان دیوبندی اوردیگردیوبندی مُلّاؤں کے بارے میں لکھاہے:
"سب(دیوبندی)مولاناحضرات،پیپلزپارٹی کے امیدواروں سے عبرتناک شکست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے"
(علامہ ضیاءالرحمان فاروقی شہیدرح،حیات وخدمات صفحہ119مطبوعہ مکتبۃ البخاری،صابری پارک،گلستان کالونی،لیاری ٹاؤن،کراچی)ساجدخان دیوبندی اپنے قائدمولوی فضل الرحمان دیوبندی کی جماعت کی اس عبرتناک شکست پربھی اسی طرح کاتبصرہ کردوتاکہ لوگوں کومعلوم ہوجائے کہ تمہاری زبان کے شرسے نہ ہم اہل سنت وجماعت محفوظ ہیں اورنہ تمہارے اپنے دیوبندی۔
پانچویں بات:
رہی تعدادکی بات تواس کے جواب میں مختصرااتناہی کہتاہوں کہ متعدد دیوبندی کتب میں لکھاہے کہ تحریک ختم نبوت میں مولوی محمدعلی جالندھری دیوبندی مولاناابوالحسنات قادری کے پاس آیااورکہاکہ اس تحریک میں ہماراساتھ دیں کیونکہ آپ تعدادمیں زیادہ ہیں ہم دیوبندی تھوڑےہیں اگرآپ نے شرکت نہ کی تواس تحریک کوناکامی ہوگی"۔اس کے متعلق تفصیلی حوالہ جات راقم کے سلسلہ وارمضمون بنام"مولوی الیاس گھمن دیوبندی کے دجل وفریب کاجائزہ"میں ملاحظہ کریں یہ مضمون قسط وارمجلہ کلمہء حق پاکستان میں شائع ہواتھا۔
الیکشن کے حوالے سےاعتراض کےجواب کی پہلی قسط پیش ہے،جس سےاعلٰی حضرت کوکالاحضرت کہنے والے "ساجدکوڈو"کوکافی افاقہ ہوگا۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2017871895158794&id=100008080090753
تحریر : میثم عباس قادری رضوی
مولوی ساجدخان دیوبندی نے اپنی فیس بک آئی ڈی سے (17ستمبر2017ءکو لاہورکےقومی اسمبلی کے حلقہ 120میں ہونے والےضمنی انتخاب کے الیکشن میں اہل سنت وجماعت بریلوی کوملنے والے ووٹوں کےمتعلق استفسارپر مبنی)ایک پوسٹ کی ہے،پوسٹ کے کمنٹس میں کسی دیوبندی نے اس کوجواب دیاکہ تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیدوارکو7000ووٹ ملے ہیں تواس نے جواب میں لکھا:"اسکا مطلب ہے پورے لاہور میں صرف 7000 عاشق ہیں معاذاللہ"۔اس ہرزہ سرائی کے علاوہ اس کے نام سے بنے فیس بک پیج سے بھی اس ضمنی انتخاب کے رزلٹ کے متعلق اہل سنت پربکواس کی گئی ہے۔حالانکہ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے مقابل دیگرآزادخیال سیکولرجماعتوں کوبہت زیادہ ووٹ ملتے ہیں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جاناچاہتا۔ذیل میں ساجد دیوبندی کی آئی ڈی اوراس کے فیس بک پیج سے کی جانے والی خباثت کامختصرجواب پیش کرتاہوں۔
پہلی بات:
"ساجددیوبندی کوڈو"کادجل یہ ہے کہ اس نے اپنے کمنٹ میں ایک حلقے کی بجائےپورے لاہورکاذکرکیا۔حلانکہ یہ انتخاب پورےلاہورکے قومی اسمبلی کے13حلقوں کانہیں بلکہ صرف ایک حلقے کاتھا۔لیکن اس نے یہ تاثر دینے کے لیے کہ "پورے لاہورمیں اہل سنت بریلوی کو7000ووٹ ملاہے"یہ حرکت کی ہے۔
دوسری بات:
مولوی ساجدخان دیوبندی کے پیشوامولوی سمیع الحق دیوبندی نے اس انتخاب میں غیرمقلدوہابی جماعت کے امیدوارشیخ یعقوب کی حمایت کااعلان کیاتھا۔دیوبندیوں کے امام مولوی رشیدگنگوہی کے فتوی کے مطابق غیرمقلدوہابی دیوبندیوں کے ہم عقیدہ ہیں ملاحظہ ہوفتاوی رشیدیہ۔اور غیرمقلدوہابی مولوی ثناءاللہ امرتسری کے مطابق دیوبندی اور غیرمقلدوہابی ہم مخرج ہیں۔ملاحظہ ہوفتاوی ثنائیہ۔یوں ان ہم مخرج وہم عقیدہ وہابی دیوبندی جماعتوں کے گٹھ جوڑ کے باوجودان کاامیدوارشیخ یعقوب ساڑھے 5828 ووٹ لے سکا۔جوکہ اہل سنت وجماعت بریلوی کے امیدوارکوملنے والے ووٹوں سےکم ہیں۔(دنیااخبارکی خبرکے مطابق تحریک لبیک کے امیدوارکو7130ووٹ ملے ہیں)۔لہٰذاساجدخان دیوبندی کے تبصرہ کی طرزپرہم پوچھتے ہیں کہ کیااس پورے حلقہ میں صرف5822کے قریب وہابی دیوبندی ہیں؟۔
تیسری بات:
حلقہ 120کے رزلٹ پرشورکے والے دیوبندی بتائیں کہ مولوی فضل الرحمان ڈیزل کی جمعیت علماءاسلام کے جن امیدواروں کوالیکشن میں دوسری جماعتوں کے مقابلہ میں شکست ہوتی ہے تو کیااس شکست سےیہ سمجھاجائے کہ وہاں دیوبندی اس جماعت کے مقابلے میں تھوڑے ہیں؟
چوتھی بات:
پورے پاکستان میں ہونے والے الیکشن میں اگرمذہبی جماعتوں کے ووٹ کاسیکولر،آزادخیال جماعتوں PmlN,PppاورPtiکوملنے والے ووٹوں سے تقابل کیاجائےتوتناسب انتہائی کم ہوتاہے۔کیاساجدخان دیوبندی وہاں بھی کہے گاکہ"اسکا مطلب ہے پورے پاکستان میں صرف چندلاکھ ہی مسلمان ہیں؟"۔معاذاللہ
پانچویں بات:
ساجدخان دیوبندی کوآئینہ دکھانے کے لیے ایک حوالہ پیش کیاجاتاہے،جس میں مولوی ثناءاللہ شجاع آبادی دیوبندی نے مولوی فضل الرحمان دیوبندی اوردیگردیوبندی مُلّاؤں کے بارے میں لکھاہے:
"سب(دیوبندی)مولاناحضرات،پیپلزپارٹی کے امیدواروں سے عبرتناک شکست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے"
(علامہ ضیاءالرحمان فاروقی شہیدرح،حیات وخدمات صفحہ119مطبوعہ مکتبۃ البخاری،صابری پارک،گلستان کالونی،لیاری ٹاؤن،کراچی)ساجدخان دیوبندی اپنے قائدمولوی فضل الرحمان دیوبندی کی جماعت کی اس عبرتناک شکست پربھی اسی طرح کاتبصرہ کردوتاکہ لوگوں کومعلوم ہوجائے کہ تمہاری زبان کے شرسے نہ ہم اہل سنت وجماعت محفوظ ہیں اورنہ تمہارے اپنے دیوبندی۔
پانچویں بات:
رہی تعدادکی بات تواس کے جواب میں مختصرااتناہی کہتاہوں کہ متعدد دیوبندی کتب میں لکھاہے کہ تحریک ختم نبوت میں مولوی محمدعلی جالندھری دیوبندی مولاناابوالحسنات قادری کے پاس آیااورکہاکہ اس تحریک میں ہماراساتھ دیں کیونکہ آپ تعدادمیں زیادہ ہیں ہم دیوبندی تھوڑےہیں اگرآپ نے شرکت نہ کی تواس تحریک کوناکامی ہوگی"۔اس کے متعلق تفصیلی حوالہ جات راقم کے سلسلہ وارمضمون بنام"مولوی الیاس گھمن دیوبندی کے دجل وفریب کاجائزہ"میں ملاحظہ کریں یہ مضمون قسط وارمجلہ کلمہء حق پاکستان میں شائع ہواتھا۔
الیکشن کے حوالے سےاعتراض کےجواب کی پہلی قسط پیش ہے،جس سےاعلٰی حضرت کوکالاحضرت کہنے والے "ساجدکوڈو"کوکافی افاقہ ہوگا۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2017871895158794&id=100008080090753
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرتِ ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (پارٹ 8) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ کُلًّا ہَدَیۡنَا ۚ وَ نُوۡحًا ہَدَیۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡسُفَ وَ مُوۡسٰی…
حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے پرتحقیق (پارٹ 9)
اللہ تعالٰی انبیا علیھم السلام کو پسندیدہ اور مرغوب اور دلکش شخص بنا کر دنیا میں بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کی طرف رغبت کریں اور ان سے مانوس ہو اور جو اللہ کا پیغام سنائیں لوگ اسے قبول کریں اور جو شخص سات سال تک کوڑے کچرے میں پڑھا رہے گا تو لوگ اس کی طرف رغبت کر کے اس سے متاثر ہو کر اس کا پیغام سنیں گے یا اس سے متنفر ہوں گے۔
یہ روایت انبیاے اکرام کی عظمت اور ان کے منصب کے بالکل خلاف ہے اور اللہ تعالی انبیا کوجس حکمت کے لیے دنیا میں بھیجتا ہے، اس حکمت کے منافی ہے۔
علامہ عینی پر لازم تھا کے اس روایت کو اپنی شرح میں نقل نہ کرتے اور اگر کر دیا تھا تو اس کا رد کرتے۔
حضرت ایوب علیہ السلام پر کوئی سخت بیماری مسلط کی گئی تھی پر وہ بیماری ایسی نہیں تھی کہ جس سے لوگ گھن کھائیں، حدیث صحیح مرفوع میں اس قسم کی کسی چیز کا ذکر نہیں ہے صرف ان کے مال مویشی اور اولاد کے مر جانے کا اور بیماری پر صبر کرنے کا ذکر ہے۔
علما اور واعظین کو چاہیے کہ وہ حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف ایسے احوال کو منصوب نہ کریں جس سے لوگوں کو گھن آئے اور درج ذیل آیت کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے:
'' اور یہ ہمارے پسندیدہ نیک لوگ ہیں''
( ص:48)
جاری....
عبد مصطفی آفیشیل
اللہ تعالٰی انبیا علیھم السلام کو پسندیدہ اور مرغوب اور دلکش شخص بنا کر دنیا میں بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کی طرف رغبت کریں اور ان سے مانوس ہو اور جو اللہ کا پیغام سنائیں لوگ اسے قبول کریں اور جو شخص سات سال تک کوڑے کچرے میں پڑھا رہے گا تو لوگ اس کی طرف رغبت کر کے اس سے متاثر ہو کر اس کا پیغام سنیں گے یا اس سے متنفر ہوں گے۔
یہ روایت انبیاے اکرام کی عظمت اور ان کے منصب کے بالکل خلاف ہے اور اللہ تعالی انبیا کوجس حکمت کے لیے دنیا میں بھیجتا ہے، اس حکمت کے منافی ہے۔
علامہ عینی پر لازم تھا کے اس روایت کو اپنی شرح میں نقل نہ کرتے اور اگر کر دیا تھا تو اس کا رد کرتے۔
حضرت ایوب علیہ السلام پر کوئی سخت بیماری مسلط کی گئی تھی پر وہ بیماری ایسی نہیں تھی کہ جس سے لوگ گھن کھائیں، حدیث صحیح مرفوع میں اس قسم کی کسی چیز کا ذکر نہیں ہے صرف ان کے مال مویشی اور اولاد کے مر جانے کا اور بیماری پر صبر کرنے کا ذکر ہے۔
علما اور واعظین کو چاہیے کہ وہ حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف ایسے احوال کو منصوب نہ کریں جس سے لوگوں کو گھن آئے اور درج ذیل آیت کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے:
'' اور یہ ہمارے پسندیدہ نیک لوگ ہیں''
( ص:48)
جاری....
عبد مصطفی آفیشیل
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟
( پارٹ 1)
عورت : ایک خوب صورت تخلیق
بے شک اللہ تعالی ہر چیز کا خالق ہے اور اس کی پیدا کی ہوئی ہر چیز میں کوئی نہ کوئی حکمت ہے، چاہے وہ ہمیں نظر آئے یا نہ آئے۔ بعض اوقات کسی ایک بات میں بے شمار حکمتیں ہوتی ہیں پر ہم سمجھ نہیں پاتے۔
عورت بھی اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی خوب صورت تخلیق ہے کہ جو اپنی مثال آپ ہے، چوں کہ عورت کی تخلیق ایک مرد کی پسلی سے ہے اس لیے اس کی تخلیق کا اہم مقصد آرام و سکون اور چین و اطمینان ہے۔
قرآن: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھارے جنس میں سے جوڑا پیدا کیا تاکہ تمھیں سکون میسر ہو۔
ویسے عورت تیڑھی پسلی سے بنائی گئی ہے جو کہ عورت کا ایک خاص حسن بھی ہے کہ یہی چیز عورت کو نرم و نازک پرکشش اور جاذب بناتی ہے۔
عورت جو کہ مرد کی پسلی سے ہے یعنی مرد کا اپنا حصہ ہے اور اسی وجہ سے مرد کو عورت کی طرف ایک خاص میلان اور اس کی طرف جھکاؤ ہے اور اصل میں یہ اپنی ہی طرف ہے۔
عورت کی تخلیق کا دوسرا اہم مقصد انسانی نسل کی بقا اور اس کو پروان چڑھانا ہے تاکہ یہ نسل پوری دنیا میں چھا جائے اور پوری دنیا میں اللہ کی کبریائی بیان کرے۔
قرآن: پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت دنیا میں پھیلائے۔
اللہ تعالی نے عورتوں کو ایسی کئی خاص ذمہ داریاں دی ہیں کہ وہ انھی کے لیے ہیں یعنی کوئی اور ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔
عورت ان تمام تر عنایتوں کے باوجود عورت ہی ہے جس میں شرم و حیا، عقل و شعور، حسن و اخلاق، عادات و اطوار کی صفات بھی موجود ہیں۔
اگر عورت اپنی ان صلاحیتوں کو اللہ کی رضا حاصل کرنے اوراسلامی نظام میں ڈھال لے تو پوری کائنات کا حسن عورت میں نظر آئے۔
کائنات کا ہر ایک کردار جدا اور ہر ایک کی ذمہ داری الگ ہے۔ ایک کی کمی کو دوسرا پورا نہیں کر سکتا کیوں کہ وہ "دوسرا" ہی ہوگا نہ کہ عین وہی لہذا عورتوں کے بارے میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ ایک ایسی تخلیق ہے کہ جو خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ یہ تخلیق اتنی اہمیت کی حامل ہے کہ اگر ان کو الگ کر کے، ان کی جگہ کسی اور کو لایا جائے تاکہ ان کی کمی پوری ہو سکے تو ہزار کوششیں بھی ناکام ثابت ہوں گی۔
جاری...
دختر ملت
جناب غزل صاحبہ
( پارٹ 1)
عورت : ایک خوب صورت تخلیق
بے شک اللہ تعالی ہر چیز کا خالق ہے اور اس کی پیدا کی ہوئی ہر چیز میں کوئی نہ کوئی حکمت ہے، چاہے وہ ہمیں نظر آئے یا نہ آئے۔ بعض اوقات کسی ایک بات میں بے شمار حکمتیں ہوتی ہیں پر ہم سمجھ نہیں پاتے۔
عورت بھی اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی خوب صورت تخلیق ہے کہ جو اپنی مثال آپ ہے، چوں کہ عورت کی تخلیق ایک مرد کی پسلی سے ہے اس لیے اس کی تخلیق کا اہم مقصد آرام و سکون اور چین و اطمینان ہے۔
قرآن: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھارے جنس میں سے جوڑا پیدا کیا تاکہ تمھیں سکون میسر ہو۔
ویسے عورت تیڑھی پسلی سے بنائی گئی ہے جو کہ عورت کا ایک خاص حسن بھی ہے کہ یہی چیز عورت کو نرم و نازک پرکشش اور جاذب بناتی ہے۔
عورت جو کہ مرد کی پسلی سے ہے یعنی مرد کا اپنا حصہ ہے اور اسی وجہ سے مرد کو عورت کی طرف ایک خاص میلان اور اس کی طرف جھکاؤ ہے اور اصل میں یہ اپنی ہی طرف ہے۔
عورت کی تخلیق کا دوسرا اہم مقصد انسانی نسل کی بقا اور اس کو پروان چڑھانا ہے تاکہ یہ نسل پوری دنیا میں چھا جائے اور پوری دنیا میں اللہ کی کبریائی بیان کرے۔
قرآن: پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت دنیا میں پھیلائے۔
اللہ تعالی نے عورتوں کو ایسی کئی خاص ذمہ داریاں دی ہیں کہ وہ انھی کے لیے ہیں یعنی کوئی اور ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔
عورت ان تمام تر عنایتوں کے باوجود عورت ہی ہے جس میں شرم و حیا، عقل و شعور، حسن و اخلاق، عادات و اطوار کی صفات بھی موجود ہیں۔
اگر عورت اپنی ان صلاحیتوں کو اللہ کی رضا حاصل کرنے اوراسلامی نظام میں ڈھال لے تو پوری کائنات کا حسن عورت میں نظر آئے۔
کائنات کا ہر ایک کردار جدا اور ہر ایک کی ذمہ داری الگ ہے۔ ایک کی کمی کو دوسرا پورا نہیں کر سکتا کیوں کہ وہ "دوسرا" ہی ہوگا نہ کہ عین وہی لہذا عورتوں کے بارے میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ ایک ایسی تخلیق ہے کہ جو خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ یہ تخلیق اتنی اہمیت کی حامل ہے کہ اگر ان کو الگ کر کے، ان کی جگہ کسی اور کو لایا جائے تاکہ ان کی کمی پوری ہو سکے تو ہزار کوششیں بھی ناکام ثابت ہوں گی۔
جاری...
دختر ملت
جناب غزل صاحبہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
عورتیں دین کا کام کیسے کریں؟
(پارٹ 2)
نظامِ عالَم میں عورت کی ضروت:
الحمد للہ
اللہ تعالٰی نے ساری کائنات کی تخلیق کی اور اس میں اپنی قدرتوں کی بے شمار خوبصورت کاریگری کا اظہار کیا۔ اللہ تعالٰی کی خوبصورت قدرتوں پر جب ہم غور کریں تو انسان کی عقل وفہم اسی میں کھو کر رہ جائے کہ اللہ کی کن کن قدرتوں کو دیکھیں اور غور کریں؟
اللہ کی سب سے نایاب تخلیق و کاریگری انسان ہے۔ اللہ نے انسان پیدا فرماکر اس کا مرتبہ بلند کیا اور اللہ نے اشرف المخلوقات کا تاج انسان کے سر پہ سجایا ہے۔
اللہ تعالٰی نے اس انسان سے ہی عورت کا وجودکیا اور اس عورت کو نظام عالم کو آگے بڑھانےکا ذریعہ بھی بنایا ہے۔
نظام عالم میں مرد وعورت کو ایک دوسرے کی ضرورت قرار دیا۔
اللہ تعالٰی نے نظام عالم کو عورت کے بغیر نامکمل اور بہتر نظام کی تشکیل کے لیے عورت کو اشد ضروری قرار دیا ہے اور یہ بالکل واضح ہے۔
القرآن: اللہ تعالٰی نے تمھارے لیے تمھاری جنس سے بیویاں پیدا کردیں تاکہ تم کو ان سے تسکین حاصل ہو اور اس نے تمھارے درمیان محبت و شفقت پیدا کردی
القرآن: عورتیں تمھارے لیے کیتھیاں ہیں، تم اپنی کیھتی میں کہیں سے بھی جاؤ
عورت نظامِ عالم میں آبادی کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بھی بنائی گئی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ مردوں کے ساتھ ساتھ خاص شریک بھی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔
خاص کر نظامِ اسلام میں عورت کا مقام ومرتبہ الگ ہی ہے کہ اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں ملنا ناممکن ہے۔
عورت ماں بھی، بیٹی بھی، بہن بھی اور بیوی بھی گویا زندگی کے ہر موڑ پر اسلام نے عورت کو ایک الگ مقدس مقام و کردار عطا کیا ہے۔
اسی مقدس کردار کے لیے اللہ تعالٰی نے ماں کے قدموں تلے جنت دی ہے،
بیوی کو گھر کی زینت دل کا سکون، بیٹی رحمت، بہن عزت اور ماں بن کر بچے کی تربیت میں ضرورت،
بیٹی بن کر ماں باپ کی ضرورت، بہن بن کر بھائیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور بیوی بن کر انس و رغبت کےلیے شوہر کی ضرورت ہے۔ اگر ہم تصور کریں ایک ایسے نظام کی جس میں عورت کا وجود نہ ہو تو وہ نظام قابل تصور نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو نظام عالم کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
الغرض عورت اس نظام عالم کے لیے ایک نایاب تحفہ ہے۔ عورت کے بغیر اس نظام عالم کی تشکیل نا مکمل اور ادھوری ہے۔
اللہ کی عطا کردا نعمتوں میں سے ایک بے حد ضروری نعمت ہے عورت،
عورت کے بغیر نظام عالم کی زندگی نامکمل ہے، زندگی کا ہررنگ ایک بااخلاق عورت کے بنا بے رنگ اور پھیکا ہے۔
قدرت نے عورت میں کچھ فطری کشش کو پوشیدہ رکھا ہے، جو نا ممکن معلوم ہونے والے کو ممکن بنا سکتی ہے۔
اس عالم کے نظام کے لیے عورت کی ضرورت بالکل واضح ہے کہ کوئی انکار نہیں کر سکتا پر اس سے بھی آگے بڑھ کر دیکھیں تو عورت اگر دینی تعلیمات کے زیورات سے مزین اور علم و اخلاق اس کا ملبوس ہو تو وہ نظام عالم میں تبدیلی لانے کے لیے حصہ بن سکتی ہے۔
کنیزِ اختر
(رکن عبد مصطفی آفیشل)
(پارٹ 2)
نظامِ عالَم میں عورت کی ضروت:
الحمد للہ
اللہ تعالٰی نے ساری کائنات کی تخلیق کی اور اس میں اپنی قدرتوں کی بے شمار خوبصورت کاریگری کا اظہار کیا۔ اللہ تعالٰی کی خوبصورت قدرتوں پر جب ہم غور کریں تو انسان کی عقل وفہم اسی میں کھو کر رہ جائے کہ اللہ کی کن کن قدرتوں کو دیکھیں اور غور کریں؟
اللہ کی سب سے نایاب تخلیق و کاریگری انسان ہے۔ اللہ نے انسان پیدا فرماکر اس کا مرتبہ بلند کیا اور اللہ نے اشرف المخلوقات کا تاج انسان کے سر پہ سجایا ہے۔
اللہ تعالٰی نے اس انسان سے ہی عورت کا وجودکیا اور اس عورت کو نظام عالم کو آگے بڑھانےکا ذریعہ بھی بنایا ہے۔
نظام عالم میں مرد وعورت کو ایک دوسرے کی ضرورت قرار دیا۔
اللہ تعالٰی نے نظام عالم کو عورت کے بغیر نامکمل اور بہتر نظام کی تشکیل کے لیے عورت کو اشد ضروری قرار دیا ہے اور یہ بالکل واضح ہے۔
القرآن: اللہ تعالٰی نے تمھارے لیے تمھاری جنس سے بیویاں پیدا کردیں تاکہ تم کو ان سے تسکین حاصل ہو اور اس نے تمھارے درمیان محبت و شفقت پیدا کردی
القرآن: عورتیں تمھارے لیے کیتھیاں ہیں، تم اپنی کیھتی میں کہیں سے بھی جاؤ
عورت نظامِ عالم میں آبادی کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بھی بنائی گئی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ مردوں کے ساتھ ساتھ خاص شریک بھی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔
خاص کر نظامِ اسلام میں عورت کا مقام ومرتبہ الگ ہی ہے کہ اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں ملنا ناممکن ہے۔
عورت ماں بھی، بیٹی بھی، بہن بھی اور بیوی بھی گویا زندگی کے ہر موڑ پر اسلام نے عورت کو ایک الگ مقدس مقام و کردار عطا کیا ہے۔
اسی مقدس کردار کے لیے اللہ تعالٰی نے ماں کے قدموں تلے جنت دی ہے،
بیوی کو گھر کی زینت دل کا سکون، بیٹی رحمت، بہن عزت اور ماں بن کر بچے کی تربیت میں ضرورت،
بیٹی بن کر ماں باپ کی ضرورت، بہن بن کر بھائیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور بیوی بن کر انس و رغبت کےلیے شوہر کی ضرورت ہے۔ اگر ہم تصور کریں ایک ایسے نظام کی جس میں عورت کا وجود نہ ہو تو وہ نظام قابل تصور نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو نظام عالم کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
الغرض عورت اس نظام عالم کے لیے ایک نایاب تحفہ ہے۔ عورت کے بغیر اس نظام عالم کی تشکیل نا مکمل اور ادھوری ہے۔
اللہ کی عطا کردا نعمتوں میں سے ایک بے حد ضروری نعمت ہے عورت،
عورت کے بغیر نظام عالم کی زندگی نامکمل ہے، زندگی کا ہررنگ ایک بااخلاق عورت کے بنا بے رنگ اور پھیکا ہے۔
قدرت نے عورت میں کچھ فطری کشش کو پوشیدہ رکھا ہے، جو نا ممکن معلوم ہونے والے کو ممکن بنا سکتی ہے۔
اس عالم کے نظام کے لیے عورت کی ضرورت بالکل واضح ہے کہ کوئی انکار نہیں کر سکتا پر اس سے بھی آگے بڑھ کر دیکھیں تو عورت اگر دینی تعلیمات کے زیورات سے مزین اور علم و اخلاق اس کا ملبوس ہو تو وہ نظام عالم میں تبدیلی لانے کے لیے حصہ بن سکتی ہے۔
کنیزِ اختر
(رکن عبد مصطفی آفیشل)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
افسوس! ہم میں سے اکثر کا حال عجیب ہو گیا ہے۔ جب ہم باہم ملتے ہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ نہایت تعظیم کے ساتھ پیش آتے ہیں، حال احوال پوچھتے ہیں اور خوب خاطرداری کرتے ہیں۔ ہم لوگ یوں تو ایک دوسرے کے ساتھ اظہارِ محبت و وفا کرتے ہیں لیکن ہمارے دل ایک دوسرے کے بغض و کینے کے بچھوؤں سے لبریز ہیں۔ اسی لیے تو جوں ہی جدا ہوتے ہیں ایک دوسرے کی غیبتیں شروع کر دیتے ہیں۔ والعیاذ بالله تعالی!
Sacred Traditions
Facebook | Instagram
Sacred Traditions
Facebook | Instagram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شوقیہ ماسک استعمال کرنا کسی مرض کا علاج نہیں ، خواہ مخواہ کا تکلف ہے ۔
محکمہ صحت کی ہدایات کے مطابق عمل کریں اور ماسک صرف اُنھی صورتوں میں استعمال کریں جن کی اجازت دی گئی ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2956658827947620&id=100008105947430
محکمہ صحت کی ہدایات کے مطابق عمل کریں اور ماسک صرف اُنھی صورتوں میں استعمال کریں جن کی اجازت دی گئی ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2956658827947620&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
محدث و فقیہ شیخ ابوالمواھب امام عبد الوہاب بن احمد شعرانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 973 ھjri) فرماتے ہیں کہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن کرتا ہے بے شک وہ اپنے دین پر طعن کرتا ہے ، لہٰذا ضروری ہے کہ یہ دروازہ بالکل بند کر دیا جائے بالخصوص سیدنا معاویہ اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہم کے بارے میں ۔ (الیواقیت والجواھر فی بیان عقائد الاکابر، المبحث الرابع والاربعون فی بیان وجوب الکف عن شجر بین الصحابہ، جلد2، صفحہ نمبر323،چشتی)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🌹🌹دُنیا بھر کے تَمام سُنّی صَحیحُ العقیدہ مسلمانوں کو¹⁰¹ایک سو ایک سالہ عرس رضوی خٗوب خٗوب مبارک ہو‼️سنّیو ! چلو بریلی شریف عرسِ حـضـور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ 🌹🌹 ➻═══════════➻ TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge…
#عرس_قادری_رضوی ۲۴۴۱ھ
۱۰۲ واں سالانہ عرس رضوی
#عرس_اعلی_حضرت 1442
25 صفر 1442 اکتوبر 2020
@islaamic_Knowledge
عرس کا پروگرام
جانشینِ تاج الشریعہ قائِدِ اہلِسُنّت
#مفتی_عسجد_رضا_خان_قادری
صَاحَبۡ قِـبۡلَـہۡ دَامَـتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہۡ
کے تمام آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ
فارم پر براہِ راست نشر کیا جائےگا
اِنۡ شَآءَ اللہۡ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ ﷻ
۱۰۲ واں سالانہ عرس رضوی
#عرس_اعلی_حضرت 1442
25 صفر 1442 اکتوبر 2020
@islaamic_Knowledge
عرس کا پروگرام
جانشینِ تاج الشریعہ قائِدِ اہلِسُنّت
#مفتی_عسجد_رضا_خان_قادری
صَاحَبۡ قِـبۡلَـہۡ دَامَـتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہۡ
کے تمام آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ
فارم پر براہِ راست نشر کیا جائےگا
اِنۡ شَآءَ اللہۡ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ ﷻ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Deleted Account
کیا الو منحوس اور مرکروہ پرندہ ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
کیا الو کے بیٹھنے سے کسی کی موت ہو جائے گی؟
کیا الو انسانوں کا برا چیتا ہے؟
کیا الو منحوس پرندہ ہے ؟
الو کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اس تحریر کو پڑھیں
ابو نعیم نے" حلیہ" میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہوئے تحریر فرمایا انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہاں حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا اے امیر المومنین کیا میں آپ کو نہایت عجیب قصہ نہ سناؤں جو میں نے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات کی کتاب میں پڑھا ہے
وہ قصبہ یہ
ایک بار حضرت سلیمان بن داؤد علیہم السلام کے پاس ایک الو (ھامہ) آیا اور آ کر کہا "السلام علیک یا نبی اللہ" آپ نے جواب دیا "وعلیکم السلام یا ھامہ"
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے پوچھا" اچھا مجھے بتا کہ تو دانے کیوں کر نہیں کھاتا "؟
الو نے جواب دیا کہ" حضرت آدم علیہ السلام کو اسی وجہ سے جنت سے نکالا گیا "
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا" اچھا تو پانی کیوں نہیں پیتا" ؟
الو نے کہا "پانی میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ڈوب کر ہلاک ہوئی تھی اس لئے میں پانی نہیں پیتا"
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"تو نے آبادی کو کیوں خیرباد کہ دیا؛ اور ویرانے میں رہنا تو نے کیوں پسند کیا "؟
الو نے کہا کہ"ویرانہ اللہ کی میراث ہے میں اللہ کی میراث میں رہتا ہوں " جیسا کہ قرآن مجید کی آیت ہے
وکم اہلکنا من قریۃ بطرت معیشتہا فتلک مساکنہم لم تسکن من بعدہم الا قلیلا وکنا نحن الوارثین "
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا "جب تو کسی ویرانے میں بیٹھتا ہے تو کیا بولتا ہے"؟
الو نے کہا "میں کہتا ہوں وہ لوگ کیا ہوئے جو اس جگہ مزے سے رہتے تھے"؟
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"جب تو آبادی سے گزرتا ہے تو کیا کہتا ہے"؟
الو نے کہا: اس وقت میں یہ کہتا ہوں"ہلاکت ہو بنی آدم پر ان کو نیند کیسے آجاتی ہے ؟ حالاں کہ مصائب کے طوفان ان کے سامنے ہیں"
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا" تو دن میں کیوں نہیں نکلتا"؟
الو نے کہا" انسانوں کے ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی وجہ سے میں دن میں نہیں نکلتا "
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اچھا تو مجھے بتا کہ تو برابر بولتا رہتا ہے اس میں تیرا کیا پیغام ہوتا ہے"؟
الو نے کہا میرا پیغام یہ ہوتا ہے "اے غافل لوگوں زاد راہ اور اپنے سفر آخرت کے لئے تیار ہو جاؤ- نور پیدا کرنے والی ذات پاک ہے"
اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا "پرندوں میں الو سے زیادہ انسانوں کا خیر خواہ اور ہمدرد کوئی نہیں اور جاہلوں کے دلوں میں الو سے زیادہ کوئی پرندہ برا نہیں
(ابو نعیم حلیہ راہ شریعت )
فقہی مسائل
فتاوی قاضی خان میں لکھا ہے کہ "اگر الو کے بولنے پر کسی نے کہا کہ کوئی شخص مر جائے گا" بعض فقہاء نے کہا اس جملے کا کہنے والا کفر کی حدود میں داخل ہو جائے گا"
لیکن دوسرے فقہا نے یہ تفصیل کی ہے کہ" اس نے بد فالی کی وجہ سے یہ جملہ کہا ہے تب تو وہ کافر ہوجائے گا ورنہ نہیں
حوالہ جات
فتاوی قاضی خان؛
حیات الحیوان جلد 2 صفحہ684
آداب شریعت
کتبہ
( مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
کیا الو کے بیٹھنے سے کسی کی موت ہو جائے گی؟
کیا الو انسانوں کا برا چیتا ہے؟
کیا الو منحوس پرندہ ہے ؟
الو کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اس تحریر کو پڑھیں
ابو نعیم نے" حلیہ" میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہوئے تحریر فرمایا انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہاں حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا اے امیر المومنین کیا میں آپ کو نہایت عجیب قصہ نہ سناؤں جو میں نے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات کی کتاب میں پڑھا ہے
وہ قصبہ یہ
ایک بار حضرت سلیمان بن داؤد علیہم السلام کے پاس ایک الو (ھامہ) آیا اور آ کر کہا "السلام علیک یا نبی اللہ" آپ نے جواب دیا "وعلیکم السلام یا ھامہ"
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے پوچھا" اچھا مجھے بتا کہ تو دانے کیوں کر نہیں کھاتا "؟
الو نے جواب دیا کہ" حضرت آدم علیہ السلام کو اسی وجہ سے جنت سے نکالا گیا "
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا" اچھا تو پانی کیوں نہیں پیتا" ؟
الو نے کہا "پانی میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ڈوب کر ہلاک ہوئی تھی اس لئے میں پانی نہیں پیتا"
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"تو نے آبادی کو کیوں خیرباد کہ دیا؛ اور ویرانے میں رہنا تو نے کیوں پسند کیا "؟
الو نے کہا کہ"ویرانہ اللہ کی میراث ہے میں اللہ کی میراث میں رہتا ہوں " جیسا کہ قرآن مجید کی آیت ہے
وکم اہلکنا من قریۃ بطرت معیشتہا فتلک مساکنہم لم تسکن من بعدہم الا قلیلا وکنا نحن الوارثین "
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا "جب تو کسی ویرانے میں بیٹھتا ہے تو کیا بولتا ہے"؟
الو نے کہا "میں کہتا ہوں وہ لوگ کیا ہوئے جو اس جگہ مزے سے رہتے تھے"؟
حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوچھا"جب تو آبادی سے گزرتا ہے تو کیا کہتا ہے"؟
الو نے کہا: اس وقت میں یہ کہتا ہوں"ہلاکت ہو بنی آدم پر ان کو نیند کیسے آجاتی ہے ؟ حالاں کہ مصائب کے طوفان ان کے سامنے ہیں"
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا" تو دن میں کیوں نہیں نکلتا"؟
الو نے کہا" انسانوں کے ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی وجہ سے میں دن میں نہیں نکلتا "
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اچھا تو مجھے بتا کہ تو برابر بولتا رہتا ہے اس میں تیرا کیا پیغام ہوتا ہے"؟
الو نے کہا میرا پیغام یہ ہوتا ہے "اے غافل لوگوں زاد راہ اور اپنے سفر آخرت کے لئے تیار ہو جاؤ- نور پیدا کرنے والی ذات پاک ہے"
اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا "پرندوں میں الو سے زیادہ انسانوں کا خیر خواہ اور ہمدرد کوئی نہیں اور جاہلوں کے دلوں میں الو سے زیادہ کوئی پرندہ برا نہیں
(ابو نعیم حلیہ راہ شریعت )
فقہی مسائل
فتاوی قاضی خان میں لکھا ہے کہ "اگر الو کے بولنے پر کسی نے کہا کہ کوئی شخص مر جائے گا" بعض فقہاء نے کہا اس جملے کا کہنے والا کفر کی حدود میں داخل ہو جائے گا"
لیکن دوسرے فقہا نے یہ تفصیل کی ہے کہ" اس نے بد فالی کی وجہ سے یہ جملہ کہا ہے تب تو وہ کافر ہوجائے گا ورنہ نہیں
حوالہ جات
فتاوی قاضی خان؛
حیات الحیوان جلد 2 صفحہ684
آداب شریعت
کتبہ
( مفتی) خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM