🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب میں خان صاحب کا جملہ،"آپ لوگوں نے بالکل گھبرانا نہیں"سنتا ہوں تو مجھے کسی کتاب سے پڑھا ایک پرانا واقعہ یاد آ جاتا ہے۔

ایک مرتبہ کابل کے شاہی دربار میں نئے بادشاہ سے کسی نے درخواست کی کہ اسے ایسی توپ بنانے کی اجازت دی جائے جس کا گولہ سیدھا ہندوستان جا کر پورے دہلی شہر اور مضافات کو تباہ کردے۔

بادشاہ سلامت نے خوشی سے اجازت کے ساتھ خرچہ بھی دے دیا۔

اس بندے بڑی محنت سے توپ تیار کرلی تو بادشاہ سلامت سے درخواست کی کہ اب اسے دہلی پر داغنا چاہیے۔

بادشاہ اور وزراء سمیت بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ بلاسٹ ہوا تو وہ توپ خود ہی اڑ گئی۔ ہر طرف دھول مٹی اڑنے لگی۔ تباہی سے چیخیں سنائی دینے لگی۔

بادشاہ نے گھبراہٹ کے عالم میں توپچی سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا؟

توپچی نے فخریہ انداز میں سینہ تان کر کہا جہاں پناہ! آپ نے بالکل گھبرانا نہیں۔ جب یہاں پر اتنی تباہی ہوئی ہے تو دہلی کا کیا حال ہوا ہوگا۔

منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813627068916602&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ابا آپ کل سر اٹھا کر جیوگے۔۔۔😭

خبر کے مطابق کل بہاولپور میں لقمان نامی شخص نے ایک بچی کی عزت لوٹ لی۔۔ بچی کے شور شرابے پر لوگ جمع ہوئے تو لقمان فرا ہوگیا۔۔
بچی کے والدین کو خبر ہوئی تو وہ انپڑھ ناخواندہ سسٹم سے بے بہرہ قریبی چوکی پر رپورٹ درج کرانے پہنچ گئے۔۔ چوکی والوں نے کہا کہ آپ کی رپورٹ تھانے میں درج ہوگی۔۔

وہ غم کے مارے پریشان حال بیٹی کو لے کر تھانے پہنچے جہاں طرح طرح کے سوالات کے بعد انہیں درخواست لکھنے کو کہا گیا۔۔ دو گھنٹے کی ذلالت کے بعد انکی درخواست لکھی گئی۔۔۔ درخواست لکھنے بعد تھانے والوں نے کہا آپ واپس اسی چوکی پر جائیں آپ کی درخواست وہیں جمع ہوگی۔۔
جب وہ دوبارہ چوکی پر گئے تو چوکی والوں نے کہا دو دن بعد آنا۔۔۔ دو دن بعد بڑے افسر آئینگے تو پھر آپ کو اور دوسری پارٹی کو بلا کر بات کرینگے۔۔
پولیس با اثر وڈیرے کے بیٹے کو بچانے کے لیئے بات کو صلح کی طرف لے جانے کے موڈ میں تھی۔۔۔

بچی باپ کو در در کی ٹھوکریں کھاتا دیکھتی رہی اور شاید دل ہی دل میں خود کو کوستی رہی کے میں بیٹی پیدا ہی کیوں ہوئی۔۔ رات کو سب مایوسی، بے بسی اور دکھ کی حالت میں گھر پہنچے۔۔۔

تو بیٹی نے واش روم میں جا کر جراثیم کش اسپرے پی کر خود کشی کرنے۔۔۔ اور خود کشی سے پہلے اس کے اپنے ابا کو کہے گئے آخری الفاظ تھے۔۔۔

"ابا آپ کل سر اٹھا کر جیوگے"😭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1867858590019471&id=100003860455712
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماہنامہ اعلٰی حضرت،بریلی شریف،بابت جولائی2017ءمیں شائع ہونے والاراقم کاایک مضمون،جس میں ذیشان مصباحی کی طرف سے سَیِدی اعلٰی حضرت کی کتاب"سُبْحَان السبوح"کے ایک اقتباس سے تکفیرِدیوبندیہ کے متعلق عوام کوگمراہ کرنے کی کوشش کاردکیاگیاہے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813232705622705&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تحریر:جناب شمشیرِرضا
پچھلے دنوں مکتبۃ المدینہ شعبہ عربی کتب باب المدینہ کراچی کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ نئی عربی کتب مکتبہ پر آ چکی ہیں ساتھ ہی ان کتب کی فہرست مع قیمت بھی ارسال کر دی گئی ۔ ہمارے جامعہ کے ایک ہونہار طالب علم عزیزم مدثر رضا قادری وہیں تخصص فی الفقہ میں زیر تعلیم ہیں ۔ان کے توسط سے کئی اہم کتب منگوائیں ۔ان کتب میں ایک رسالہ علامہ ابن جوزی کا تھا جس کا نام ہے۔‘‘الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید’’

یہ رسالہ ڈاکٹر ھیثم عبدالسلام محمد کی تحقیق کے ساتھ دارالکتب العلمیہ بیروت سے طبع ہوا۔ معلومات سے بھرپور اپنے موضوع پر ایک شاندار رسالہ ہے۔درحقیقت یہ رسالہ عبدالمغیث حنبلی کے رد میں ہےیا یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کتاب عبدالمغیث حنبلی کا جواب الجواب ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ ابن جوزی خطیب العصر تھے کسی تقریر کے دوران ان سے یزید پر لعنت کے تعلق سےسوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس معاملہ میں سکوت بہتر ہے، لوگوں نے کہا کہ یہ تو ہم بھی جانتے ہیں کہ سکوت بہتر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یزید پر لعنت جائز ہے یا نہیں؟ تو جواباً آپ نے فرمایا : جو شخص تین سال کے لیے حکمران بنایا جائے،پہلے سال نواسہ رسول امام حسین کو قتل کرے دوسرے سال اہل مدینہ کو خوفزدہ کرے ان کے مال و اسباب کو اپنے لشکر کے مباح کر دے اور تیسرے سال منجنیق کے ذریعے کعبۃ اللہ پر سنگ باری کرے اور اسے منہدم کر دے،تو ایسے شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ سب نے کہا ہم ایسے شخص پر لعنت کرتے ہیں ۔تو آپ نے فرمایا تو اس پر لعنت کرو۔پھر ابن جوزی نے بھی حاکم وقت اور علما کی موجودگی میں یزید پر لعنت کی۔ عبدالمغیث حنبلی نے اس تقریرکے رد میں فضائل یزید کے نام سے کتاب لکھ ڈالی ۔ابن جوزی کو جب اس پر اطلاع ہوئی تو جواباً آپ نے یہ کتاب ‘‘الرد علی المتعصب العنید’’ لکھی ۔

یاد رہے کہ عبدالمغیث حنبلی امام احمد بن حنبل کے مقلد ہونے کے ساتھ ساتھ کثیر صفات حمیدہ کے مالک تھے اور شکل و صورت میں بھی امام احمد بن حنبل کے مشابہ تھے غیر انہ کان قصیراً۔کمی تھی تو فقط یہ کہ علم و معرفت میں وہ وسعت نہ تھی جو ہونی چاہیے۔اسی لیے ابن جوزی انہیں کہیں قلیل العلم فی السیر سے خطاب کرتے ہیں تو کہیں اجہل الناس کے لقب سے نوازتے ہیں اور کہیں قلیل الفہم کہ کر پکارتے ہیں۔علامہ ذہبی نے بھی سیر اعلام النبلا میں اس بات کی تصدیق ان الفاظ میں کی ہے: ‘‘ لہ غلطات تدل علی قلۃ علمہ۔’’
ابن جوزی علیہ الرحمۃ نے اس کتاب کو چند فصول پر منقسم کیا ہے ۔ان فصول میں (یزید کے احوال، یزید کیسے حاکم بنا، اور یزید نے اپنے زمانہ حکومت میں جو ظلم و زیادتی اور بے باکیاں کی، جن کو ابو بکر بن ابی الدنیا ،محمد بن سعد اور ابو جعفر بن جریر وغیرہ ائمہ نے ذکر کیا۔) مختصراً ذکر کیا گیا ہے۔
آخری فصل میں عبدالمغیث حنبلی نے یزید کی حمایت و مدح سرائی پر جن دلائل بلکہ شبہات سے حجت پکڑی ہے ان کا خوبصورت آپریشن کیا گیا ہے۔
عبدالمغیث حنبلی نے پہلی دلیل یہ دی کہ جس آیت سے آپ لعنت یزید پر استدلال کر رہے ہیں وہ منافقین یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے.

علامہ نے اس کے تین جوابات ارشاد فرمائے.
پہلا جواب یہ دیا کہ نزول آیت سے متعلق قول مقاتل بن سلیمان کا ہے جن کے کذاب ہونے پر محدثین کا اجماع ہے.

دوسرا جواب یہ کہ اس آیت سے لعنت یزید کے جواز پر استدلال کرنے والے امام احمد بن حنبل ہیں. ایسے جلیل القدر امام پر کذاب راوی کو ترجیح کیسے دی اور آیت سے یہود کیسے مراد ہو گئے جبکہ ان کی کوئی حکومت تھی ہی نہیں.

تیسرا جواب یہ دیا کہ حکم، سبب سے اعم ہے. کسی قوم کے حق میں آیت کا نزول عموم حکم سے مانع نہیں.انتہی

اسی طرح علامہ نے دیگر دلائل کے بھی بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے.

ہاں آخر میں یزید کی مدح میں ایک قول نقل کیا گیا کہ یزید قرآن کی تلاوت کرتا تھا.
علامہ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا. (کیونکہ جواب بالکل واضح تھا)

تنبیہ:
کچھ مقامات پرعلامہ ابن جوزی نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ایسی گفتگو کی ہے جو ہضم نہیں ہو پاتی۔ہو سکتا ہے کہ یہ کلام ان کے اوہام میں سے ہو،
"اذ من المعلوم ان ابن الجوزی کثیر الاوھام."
انظر سیر اعلام النبلا۔

لہذا چاہیے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے پہلے شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق کچھ کتب و رسائل کا مطالعہ کر لیا جائے۔

شمشیرِرضا 31-07-2017

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813232575622718&id=100008080090753
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قومی اسمبلی کے حلقہ120کے ضمنی انتخاب میں ساجدخان دیوبندی کےاہل سنت وجماعت پرکیے گئے اعتراض کاجواب:

تحریر : میثم عباس قادری رضوی

مولوی ساجدخان دیوبندی نے اپنی فیس بک آئی ڈی سے (17ستمبر2017ءکو لاہورکےقومی اسمبلی کے حلقہ 120میں ہونے والےضمنی انتخاب کے الیکشن میں اہل سنت وجماعت بریلوی کوملنے والے ووٹوں کےمتعلق استفسارپر مبنی)ایک پوسٹ کی ہے،پوسٹ کے کمنٹس میں کسی دیوبندی نے اس کوجواب دیاکہ تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیدوارکو7000ووٹ ملے ہیں تواس نے جواب میں لکھا:"اسکا مطلب ہے پورے لاہور میں صرف 7000 عاشق ہیں معاذاللہ"۔اس ہرزہ سرائی کے علاوہ اس کے نام سے بنے فیس بک پیج سے بھی اس ضمنی انتخاب کے رزلٹ کے متعلق اہل سنت پربکواس کی گئی ہے۔حالانکہ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے مقابل دیگرآزادخیال سیکولرجماعتوں کوبہت زیادہ ووٹ ملتے ہیں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جاناچاہتا۔ذیل میں ساجد دیوبندی کی آئی ڈی اوراس کے فیس بک پیج سے کی جانے والی خباثت کامختصرجواب پیش کرتاہوں۔
پہلی بات:
"ساجددیوبندی کوڈو"کادجل یہ ہے کہ اس نے اپنے کمنٹ میں ایک حلقے کی بجائےپورے لاہورکاذکرکیا۔حلانکہ یہ انتخاب پورےلاہورکے قومی اسمبلی کے13حلقوں کانہیں بلکہ صرف ایک حلقے کاتھا۔لیکن اس نے یہ تاثر دینے کے لیے کہ "پورے لاہورمیں اہل سنت بریلوی کو7000ووٹ ملاہے"یہ حرکت کی ہے۔
دوسری بات:
مولوی ساجدخان دیوبندی کے پیشوامولوی سمیع الحق دیوبندی نے اس انتخاب میں غیرمقلدوہابی جماعت کے امیدوارشیخ یعقوب کی حمایت کااعلان کیاتھا۔دیوبندیوں کے امام مولوی رشیدگنگوہی کے فتوی کے مطابق غیرمقلدوہابی دیوبندیوں کے ہم عقیدہ ہیں ملاحظہ ہوفتاوی رشیدیہ۔اور غیرمقلدوہابی مولوی ثناءاللہ امرتسری کے مطابق دیوبندی اور غیرمقلدوہابی ہم مخرج ہیں۔ملاحظہ ہوفتاوی ثنائیہ۔یوں ان ہم مخرج وہم عقیدہ وہابی دیوبندی جماعتوں کے گٹھ جوڑ کے باوجودان کاامیدوارشیخ یعقوب ساڑھے 5828 ووٹ لے سکا۔جوکہ اہل سنت وجماعت بریلوی کے امیدوارکوملنے والے ووٹوں سےکم ہیں۔(دنیااخبارکی خبرکے مطابق تحریک لبیک کے امیدوارکو7130ووٹ ملے ہیں)۔لہٰذاساجدخان دیوبندی کے تبصرہ کی طرزپرہم پوچھتے ہیں کہ کیااس پورے حلقہ میں صرف5822کے قریب وہابی دیوبندی ہیں؟۔
تیسری بات:
حلقہ 120کے رزلٹ پرشورکے والے دیوبندی بتائیں کہ مولوی فضل الرحمان ڈیزل کی جمعیت علماءاسلام کے جن امیدواروں کوالیکشن میں دوسری جماعتوں کے مقابلہ میں شکست ہوتی ہے تو کیااس شکست سےیہ سمجھاجائے کہ وہاں دیوبندی اس جماعت کے مقابلے میں تھوڑے ہیں؟
چوتھی بات:
پورے پاکستان میں ہونے والے الیکشن میں اگرمذہبی جماعتوں کے ووٹ کاسیکولر،آزادخیال جماعتوں PmlN,PppاورPtiکوملنے والے ووٹوں سے تقابل کیاجائےتوتناسب انتہائی کم ہوتاہے۔کیاساجدخان دیوبندی وہاں بھی کہے گاکہ"اسکا مطلب ہے پورے پاکستان میں صرف چندلاکھ ہی مسلمان ہیں؟"۔معاذاللہ
پانچویں بات:
ساجدخان دیوبندی کوآئینہ دکھانے کے لیے ایک حوالہ پیش کیاجاتاہے،جس میں مولوی ثناءاللہ شجاع آبادی دیوبندی نے مولوی فضل الرحمان دیوبندی اوردیگردیوبندی مُلّاؤں کے بارے میں لکھاہے:
"سب(دیوبندی)مولاناحضرات،پیپلزپارٹی کے امیدواروں سے عبرتناک شکست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے"
(علامہ ضیاءالرحمان فاروقی شہیدرح،حیات وخدمات صفحہ119مطبوعہ مکتبۃ البخاری،صابری پارک،گلستان کالونی،لیاری ٹاؤن،کراچی)ساجدخان دیوبندی اپنے قائدمولوی فضل الرحمان دیوبندی کی جماعت کی اس عبرتناک شکست پربھی اسی طرح کاتبصرہ کردوتاکہ لوگوں کومعلوم ہوجائے کہ تمہاری زبان کے شرسے نہ ہم اہل سنت وجماعت محفوظ ہیں اورنہ تمہارے اپنے دیوبندی۔
پانچویں بات:
رہی تعدادکی بات تواس کے جواب میں مختصرااتناہی کہتاہوں کہ متعدد دیوبندی کتب میں لکھاہے کہ تحریک ختم نبوت میں مولوی محمدعلی جالندھری دیوبندی مولاناابوالحسنات قادری کے پاس آیااورکہاکہ اس تحریک میں ہماراساتھ دیں کیونکہ آپ تعدادمیں زیادہ ہیں ہم دیوبندی تھوڑےہیں اگرآپ نے شرکت نہ کی تواس تحریک کوناکامی ہوگی"۔اس کے متعلق تفصیلی حوالہ جات راقم کے سلسلہ وارمضمون بنام"مولوی الیاس گھمن دیوبندی کے دجل وفریب کاجائزہ"میں ملاحظہ کریں یہ مضمون قسط وارمجلہ کلمہء حق پاکستان میں شائع ہواتھا۔
الیکشن کے حوالے سےاعتراض کےجواب کی پہلی قسط پیش ہے،جس سےاعلٰی حضرت کوکالاحضرت کہنے والے "ساجدکوڈو"کوکافی افاقہ ہوگا۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2017871895158794&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM