Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*قیادت، منافقت اور جمعیۃ علماء*
_مسلمان شرک نواز مولویوں کو پہچانیں_
مشرکینِ ہندوستان سرگرمِ عمل ہیں... ان کی اسلام مخالف سرگرمیاں انگریز کے دور میں بھی جاری تھیں... انگریز نے مملکت مسلمانوں سے چھینی... اس لئے انگریز نے مشرکین کا ساتھ دیا...مسلمان! دونوں کے مشترک دُشمن تھے... ملک کی آزادی کی تحریک ١٨٥٧ء میں علمائے حق نے شروع کی... مشرکین نے انگریز کا ساتھ دیا.. جس کا تذکرہ "الثورۃ الہندیۃ" میں قائد تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی نے برملا فرمایا...
*مشرکین کے سائے میں:* پھر آزادی کی جدوجہد آگے بڑھی... بعض مولویوں نے دینی غیرت کو مشرکین پر قربان کر دیا... حاملینِ شرک کو پیشوا بنا لیا...خود پیچھے پیچھے چل پڑے... اقبال نے مشاہدہ کی بنیاد پر نشان دہی کی تھی....
عجم ہنوز نداند رموز ديں، ورنہ
ز ديوبند حسين احمد! ايں چہ بوالعجبی ست
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبرز مقام محمد عربی ست
(تفہیم: عجمی لوگ ابھی تک دینِ اسلام کی حقیقت سے آگاہ نہ ہوئے... ورنہ یہ کیسے امکان کہ دیوبند کے حسین احمد مسلمانوں کو ایسی تلقین کرتے جو سراسر روحِ اسلام کے خلاف ہے...جو شخص مسلمان ہو کر یہ کہتا ہے کہ ملتِ اسلامیہ کی بنیاد وطن ہے... یا مسلمان غیرمسلموں کے ساتھ مل کر متحدہ قومیت بنا سکتے ہیں... یا مشرک اور مسلم باہم ایک قوم بن سکتے ہیں...وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بلا شبہ بےخبر ہے...)
انھیں مولوی نما لیڈروں نے رسومِ شرکیہ میں شرکت کی... گاندھی کی قیادت قبول کی... ذبیحہ سے متعلق شرک کی خوشنودی چاہی... گنگا کو پوِتر مانا... شعائر اسلام سے منھ موڑا... اعلیٰ حضرت کی کتاب "المحجۃ المؤتمنۃ فی اٰیۃ الممتحنۃ" پڑھ جائیے... قائدینِ جمعیۃ علما کی شرک نوازی آشکار ہو جائے گی...
*تازہ محرکات:* جمعیۃ علماء مسلم اتحاد کی دوہائی دیتی ہے... مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے... پھر مشرکین سے ایسا اتحاد کرتی ہے... ایسا سودا کرتی ہے... جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا... اسی فکر کے حامل مولوی سلمان ندوی نے بابری مسجد سے متعلق مشرک کاز کی تائید کی... جو مسلم پرسنل لا بورڈ کا چہرہ ہے... پھر رواداری کے نام پر موحد! مولوی مندروں کی صفائی کرتے پائے گئے... پھر یک جہتی کے نام پر پنڈتوں کے چرنوں میں نظر آئے... ہاں یہ امور اسی عہد میں ہو رہے تھے... جب مسلمانوں کو ستایا جا رہا تھا... جب اسلامی قوانین کو نشانہ بنایا جا رہا تھا... اقتدار کی چھاؤں میں جینے والے مولوی مسلمانوں میں ریلیاں نکلوا رہے تھے... اور دوسری طرف مشرکین سے خفیہ ملاقاتیں بھی جاری تھیں... مسلمانوں کو مشرکین کا خوف دلا دلا کر اپنی تعداد میں ظاہراً اضافہ کیا جا رہا تھا... پھر اسی تعداد کو ان ملت فروش قائدین اقتدار کے قدموں میں گروی بھی رکھ رہے تھے!!... اسے منافقت نہیں تو کون سا نام دیا جائے!!
*ابن الوقت:* تین طلاق بل کے ذریعے مسلمانوں کے شرعی معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے...ذبیحہ پر پابندی... ماب لنچنگ... مسلمانوں کا ہجومی قتل... تعصب کی وارداتیں... کشمیری مسلمانوں پر قیدو بند... مدت سے کرفیو کا نفاذ... انسانی حقوق کی پامالی...عصبیت و دہشت کے سائے دراز ہیں... اِن حالات میں جمعیۃ علما کی قیادت کی آر ایس ایس سربراہ سے ملاقات... کس پہلو کا پتہ دیتی ہے!!... یہ ماضی کی ٹانڈوی تاریخ سے بخوبی اُجاگر ہے... پھر اس کے معاً بعد جمعیۃ کی دوسری قیادت بھی سرگرمِ عمل ہوئی...چچا میاں سے دو قدم بڑھ گئی... حاملینِ شرک سے بغل گیر ہوئی... سلطان ہندوستان اورنگ زیب علیہ الرحمۃ سے موروثی بغض کا اظہار کیا... شرک سے پرانی دوستی کا رشتہ نبھایا... شیواجی کو موحد مسلم بادشاہ پر ترجیح دے دی... اپنی ابن الوقتی کا کھلا مظاہرہ کیا... تہیں چاک ہو رہی ہیں... کفر سے شیر و شکر ہو کر یہ قائدین کون سا پیغام دے رہے ہیں... ہم لائک کرتے ہیں قائدین اہلسنّت کی استقامت کو... جن کا ہمیشہ ایک چہرہ رہا... شرک سے بیزار رہے... کبھی سودے بازی نہیں کی... اب وہ طبقہ جو جمعیۃ علما کے سائے میں جینے کا خواہش مند ہے... وہ اس کا ذاتی معاملہ ہے... لیکن قریب ایک صدی کے حقائق جن کی شرک نوازی پر واضح ہوں... ان سے اتحاد کی بات کس منھ سے کی جاتی ہے... انھیں دو رکعت کے اماموں نے کفر و شرک کو حوصلہ دیا... اب مشرکین کا زور بڑھا تو قوم کو خوف زدہ کیا جا رہا ہے...یاسیت کے کنویں میں ڈھکیلا جا رہا ہے... اسلامی تاریخ خوشنودیِ شرک کے لیے مسخ کی جا رہی ہے... مسلمان! چہرے پہچانیں... اپنا مستقبل مشرک نواز گروہ کے ہاتھ گروی رکھنے سے بچیں...منافقت کی تہیں چاک کر دیں... عزم و یقیں کے ہزاروں چراغ فصیلِ ایمان پر فروزاں کریں...
***
*تجزیہ:* غلام مصطفٰی رضوی
(نوری مشن مالیگاؤں)
gmrazvi92@gmail.com
١٩ ستمبر ٢٠١٩ء
_مسلمان شرک نواز مولویوں کو پہچانیں_
مشرکینِ ہندوستان سرگرمِ عمل ہیں... ان کی اسلام مخالف سرگرمیاں انگریز کے دور میں بھی جاری تھیں... انگریز نے مملکت مسلمانوں سے چھینی... اس لئے انگریز نے مشرکین کا ساتھ دیا...مسلمان! دونوں کے مشترک دُشمن تھے... ملک کی آزادی کی تحریک ١٨٥٧ء میں علمائے حق نے شروع کی... مشرکین نے انگریز کا ساتھ دیا.. جس کا تذکرہ "الثورۃ الہندیۃ" میں قائد تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی نے برملا فرمایا...
*مشرکین کے سائے میں:* پھر آزادی کی جدوجہد آگے بڑھی... بعض مولویوں نے دینی غیرت کو مشرکین پر قربان کر دیا... حاملینِ شرک کو پیشوا بنا لیا...خود پیچھے پیچھے چل پڑے... اقبال نے مشاہدہ کی بنیاد پر نشان دہی کی تھی....
عجم ہنوز نداند رموز ديں، ورنہ
ز ديوبند حسين احمد! ايں چہ بوالعجبی ست
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبرز مقام محمد عربی ست
(تفہیم: عجمی لوگ ابھی تک دینِ اسلام کی حقیقت سے آگاہ نہ ہوئے... ورنہ یہ کیسے امکان کہ دیوبند کے حسین احمد مسلمانوں کو ایسی تلقین کرتے جو سراسر روحِ اسلام کے خلاف ہے...جو شخص مسلمان ہو کر یہ کہتا ہے کہ ملتِ اسلامیہ کی بنیاد وطن ہے... یا مسلمان غیرمسلموں کے ساتھ مل کر متحدہ قومیت بنا سکتے ہیں... یا مشرک اور مسلم باہم ایک قوم بن سکتے ہیں...وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بلا شبہ بےخبر ہے...)
انھیں مولوی نما لیڈروں نے رسومِ شرکیہ میں شرکت کی... گاندھی کی قیادت قبول کی... ذبیحہ سے متعلق شرک کی خوشنودی چاہی... گنگا کو پوِتر مانا... شعائر اسلام سے منھ موڑا... اعلیٰ حضرت کی کتاب "المحجۃ المؤتمنۃ فی اٰیۃ الممتحنۃ" پڑھ جائیے... قائدینِ جمعیۃ علما کی شرک نوازی آشکار ہو جائے گی...
*تازہ محرکات:* جمعیۃ علماء مسلم اتحاد کی دوہائی دیتی ہے... مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے... پھر مشرکین سے ایسا اتحاد کرتی ہے... ایسا سودا کرتی ہے... جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا... اسی فکر کے حامل مولوی سلمان ندوی نے بابری مسجد سے متعلق مشرک کاز کی تائید کی... جو مسلم پرسنل لا بورڈ کا چہرہ ہے... پھر رواداری کے نام پر موحد! مولوی مندروں کی صفائی کرتے پائے گئے... پھر یک جہتی کے نام پر پنڈتوں کے چرنوں میں نظر آئے... ہاں یہ امور اسی عہد میں ہو رہے تھے... جب مسلمانوں کو ستایا جا رہا تھا... جب اسلامی قوانین کو نشانہ بنایا جا رہا تھا... اقتدار کی چھاؤں میں جینے والے مولوی مسلمانوں میں ریلیاں نکلوا رہے تھے... اور دوسری طرف مشرکین سے خفیہ ملاقاتیں بھی جاری تھیں... مسلمانوں کو مشرکین کا خوف دلا دلا کر اپنی تعداد میں ظاہراً اضافہ کیا جا رہا تھا... پھر اسی تعداد کو ان ملت فروش قائدین اقتدار کے قدموں میں گروی بھی رکھ رہے تھے!!... اسے منافقت نہیں تو کون سا نام دیا جائے!!
*ابن الوقت:* تین طلاق بل کے ذریعے مسلمانوں کے شرعی معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے...ذبیحہ پر پابندی... ماب لنچنگ... مسلمانوں کا ہجومی قتل... تعصب کی وارداتیں... کشمیری مسلمانوں پر قیدو بند... مدت سے کرفیو کا نفاذ... انسانی حقوق کی پامالی...عصبیت و دہشت کے سائے دراز ہیں... اِن حالات میں جمعیۃ علما کی قیادت کی آر ایس ایس سربراہ سے ملاقات... کس پہلو کا پتہ دیتی ہے!!... یہ ماضی کی ٹانڈوی تاریخ سے بخوبی اُجاگر ہے... پھر اس کے معاً بعد جمعیۃ کی دوسری قیادت بھی سرگرمِ عمل ہوئی...چچا میاں سے دو قدم بڑھ گئی... حاملینِ شرک سے بغل گیر ہوئی... سلطان ہندوستان اورنگ زیب علیہ الرحمۃ سے موروثی بغض کا اظہار کیا... شرک سے پرانی دوستی کا رشتہ نبھایا... شیواجی کو موحد مسلم بادشاہ پر ترجیح دے دی... اپنی ابن الوقتی کا کھلا مظاہرہ کیا... تہیں چاک ہو رہی ہیں... کفر سے شیر و شکر ہو کر یہ قائدین کون سا پیغام دے رہے ہیں... ہم لائک کرتے ہیں قائدین اہلسنّت کی استقامت کو... جن کا ہمیشہ ایک چہرہ رہا... شرک سے بیزار رہے... کبھی سودے بازی نہیں کی... اب وہ طبقہ جو جمعیۃ علما کے سائے میں جینے کا خواہش مند ہے... وہ اس کا ذاتی معاملہ ہے... لیکن قریب ایک صدی کے حقائق جن کی شرک نوازی پر واضح ہوں... ان سے اتحاد کی بات کس منھ سے کی جاتی ہے... انھیں دو رکعت کے اماموں نے کفر و شرک کو حوصلہ دیا... اب مشرکین کا زور بڑھا تو قوم کو خوف زدہ کیا جا رہا ہے...یاسیت کے کنویں میں ڈھکیلا جا رہا ہے... اسلامی تاریخ خوشنودیِ شرک کے لیے مسخ کی جا رہی ہے... مسلمان! چہرے پہچانیں... اپنا مستقبل مشرک نواز گروہ کے ہاتھ گروی رکھنے سے بچیں...منافقت کی تہیں چاک کر دیں... عزم و یقیں کے ہزاروں چراغ فصیلِ ایمان پر فروزاں کریں...
***
*تجزیہ:* غلام مصطفٰی رضوی
(نوری مشن مالیگاؤں)
gmrazvi92@gmail.com
١٩ ستمبر ٢٠١٩ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب میں خان صاحب کا جملہ،"آپ لوگوں نے بالکل گھبرانا نہیں"سنتا ہوں تو مجھے کسی کتاب سے پڑھا ایک پرانا واقعہ یاد آ جاتا ہے۔
ایک مرتبہ کابل کے شاہی دربار میں نئے بادشاہ سے کسی نے درخواست کی کہ اسے ایسی توپ بنانے کی اجازت دی جائے جس کا گولہ سیدھا ہندوستان جا کر پورے دہلی شہر اور مضافات کو تباہ کردے۔
بادشاہ سلامت نے خوشی سے اجازت کے ساتھ خرچہ بھی دے دیا۔
اس بندے بڑی محنت سے توپ تیار کرلی تو بادشاہ سلامت سے درخواست کی کہ اب اسے دہلی پر داغنا چاہیے۔
بادشاہ اور وزراء سمیت بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ بلاسٹ ہوا تو وہ توپ خود ہی اڑ گئی۔ ہر طرف دھول مٹی اڑنے لگی۔ تباہی سے چیخیں سنائی دینے لگی۔
بادشاہ نے گھبراہٹ کے عالم میں توپچی سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا؟
توپچی نے فخریہ انداز میں سینہ تان کر کہا جہاں پناہ! آپ نے بالکل گھبرانا نہیں۔ جب یہاں پر اتنی تباہی ہوئی ہے تو دہلی کا کیا حال ہوا ہوگا۔
منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813627068916602&id=100008080090753
ایک مرتبہ کابل کے شاہی دربار میں نئے بادشاہ سے کسی نے درخواست کی کہ اسے ایسی توپ بنانے کی اجازت دی جائے جس کا گولہ سیدھا ہندوستان جا کر پورے دہلی شہر اور مضافات کو تباہ کردے۔
بادشاہ سلامت نے خوشی سے اجازت کے ساتھ خرچہ بھی دے دیا۔
اس بندے بڑی محنت سے توپ تیار کرلی تو بادشاہ سلامت سے درخواست کی کہ اب اسے دہلی پر داغنا چاہیے۔
بادشاہ اور وزراء سمیت بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ بلاسٹ ہوا تو وہ توپ خود ہی اڑ گئی۔ ہر طرف دھول مٹی اڑنے لگی۔ تباہی سے چیخیں سنائی دینے لگی۔
بادشاہ نے گھبراہٹ کے عالم میں توپچی سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا؟
توپچی نے فخریہ انداز میں سینہ تان کر کہا جہاں پناہ! آپ نے بالکل گھبرانا نہیں۔ جب یہاں پر اتنی تباہی ہوئی ہے تو دہلی کا کیا حال ہوا ہوگا۔
منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813627068916602&id=100008080090753
Facebook
Log in to Facebook | Facebook
Log in to Facebook to start sharing and connecting with your friends, family and people you know.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ابا آپ کل سر اٹھا کر جیوگے۔۔۔😭
خبر کے مطابق کل بہاولپور میں لقمان نامی شخص نے ایک بچی کی عزت لوٹ لی۔۔ بچی کے شور شرابے پر لوگ جمع ہوئے تو لقمان فرا ہوگیا۔۔
بچی کے والدین کو خبر ہوئی تو وہ انپڑھ ناخواندہ سسٹم سے بے بہرہ قریبی چوکی پر رپورٹ درج کرانے پہنچ گئے۔۔ چوکی والوں نے کہا کہ آپ کی رپورٹ تھانے میں درج ہوگی۔۔
وہ غم کے مارے پریشان حال بیٹی کو لے کر تھانے پہنچے جہاں طرح طرح کے سوالات کے بعد انہیں درخواست لکھنے کو کہا گیا۔۔ دو گھنٹے کی ذلالت کے بعد انکی درخواست لکھی گئی۔۔۔ درخواست لکھنے بعد تھانے والوں نے کہا آپ واپس اسی چوکی پر جائیں آپ کی درخواست وہیں جمع ہوگی۔۔
جب وہ دوبارہ چوکی پر گئے تو چوکی والوں نے کہا دو دن بعد آنا۔۔۔ دو دن بعد بڑے افسر آئینگے تو پھر آپ کو اور دوسری پارٹی کو بلا کر بات کرینگے۔۔
پولیس با اثر وڈیرے کے بیٹے کو بچانے کے لیئے بات کو صلح کی طرف لے جانے کے موڈ میں تھی۔۔۔
بچی باپ کو در در کی ٹھوکریں کھاتا دیکھتی رہی اور شاید دل ہی دل میں خود کو کوستی رہی کے میں بیٹی پیدا ہی کیوں ہوئی۔۔ رات کو سب مایوسی، بے بسی اور دکھ کی حالت میں گھر پہنچے۔۔۔
تو بیٹی نے واش روم میں جا کر جراثیم کش اسپرے پی کر خود کشی کرنے۔۔۔ اور خود کشی سے پہلے اس کے اپنے ابا کو کہے گئے آخری الفاظ تھے۔۔۔
"ابا آپ کل سر اٹھا کر جیوگے"😭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1867858590019471&id=100003860455712
خبر کے مطابق کل بہاولپور میں لقمان نامی شخص نے ایک بچی کی عزت لوٹ لی۔۔ بچی کے شور شرابے پر لوگ جمع ہوئے تو لقمان فرا ہوگیا۔۔
بچی کے والدین کو خبر ہوئی تو وہ انپڑھ ناخواندہ سسٹم سے بے بہرہ قریبی چوکی پر رپورٹ درج کرانے پہنچ گئے۔۔ چوکی والوں نے کہا کہ آپ کی رپورٹ تھانے میں درج ہوگی۔۔
وہ غم کے مارے پریشان حال بیٹی کو لے کر تھانے پہنچے جہاں طرح طرح کے سوالات کے بعد انہیں درخواست لکھنے کو کہا گیا۔۔ دو گھنٹے کی ذلالت کے بعد انکی درخواست لکھی گئی۔۔۔ درخواست لکھنے بعد تھانے والوں نے کہا آپ واپس اسی چوکی پر جائیں آپ کی درخواست وہیں جمع ہوگی۔۔
جب وہ دوبارہ چوکی پر گئے تو چوکی والوں نے کہا دو دن بعد آنا۔۔۔ دو دن بعد بڑے افسر آئینگے تو پھر آپ کو اور دوسری پارٹی کو بلا کر بات کرینگے۔۔
پولیس با اثر وڈیرے کے بیٹے کو بچانے کے لیئے بات کو صلح کی طرف لے جانے کے موڈ میں تھی۔۔۔
بچی باپ کو در در کی ٹھوکریں کھاتا دیکھتی رہی اور شاید دل ہی دل میں خود کو کوستی رہی کے میں بیٹی پیدا ہی کیوں ہوئی۔۔ رات کو سب مایوسی، بے بسی اور دکھ کی حالت میں گھر پہنچے۔۔۔
تو بیٹی نے واش روم میں جا کر جراثیم کش اسپرے پی کر خود کشی کرنے۔۔۔ اور خود کشی سے پہلے اس کے اپنے ابا کو کہے گئے آخری الفاظ تھے۔۔۔
"ابا آپ کل سر اٹھا کر جیوگے"😭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1867858590019471&id=100003860455712
Facebook
Mushtaq Ahmad Rao
ابا آپ کل سر اٹھا کر جیوگے۔۔۔😭 خبر کے مطابق کل بہاولپور میں لقمان نامی شخص نے ایک بچی کی عزت لوٹ لی۔۔ بچی کے شور شرابے پر لوگ جمع ہوئے تو لقمان فرا ہوگیا۔۔ بچی کے والدین کو خبر ہوئی تو وہ انپڑھ...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماہنامہ اعلٰی حضرت،بریلی شریف،بابت جولائی2017ءمیں شائع ہونے والاراقم کاایک مضمون،جس میں ذیشان مصباحی کی طرف سے سَیِدی اعلٰی حضرت کی کتاب"سُبْحَان السبوح"کے ایک اقتباس سے تکفیرِدیوبندیہ کے متعلق عوام کوگمراہ کرنے کی کوشش کاردکیاگیاہے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813232705622705&id=100008080090753
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813232705622705&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
تحریر:جناب شمشیرِرضا
پچھلے دنوں مکتبۃ المدینہ شعبہ عربی کتب باب المدینہ کراچی کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ نئی عربی کتب مکتبہ پر آ چکی ہیں ساتھ ہی ان کتب کی فہرست مع قیمت بھی ارسال کر دی گئی ۔ ہمارے جامعہ کے ایک ہونہار طالب علم عزیزم مدثر رضا قادری وہیں تخصص فی الفقہ میں زیر تعلیم ہیں ۔ان کے توسط سے کئی اہم کتب منگوائیں ۔ان کتب میں ایک رسالہ علامہ ابن جوزی کا تھا جس کا نام ہے۔‘‘الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید’’
یہ رسالہ ڈاکٹر ھیثم عبدالسلام محمد کی تحقیق کے ساتھ دارالکتب العلمیہ بیروت سے طبع ہوا۔ معلومات سے بھرپور اپنے موضوع پر ایک شاندار رسالہ ہے۔درحقیقت یہ رسالہ عبدالمغیث حنبلی کے رد میں ہےیا یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کتاب عبدالمغیث حنبلی کا جواب الجواب ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ ابن جوزی خطیب العصر تھے کسی تقریر کے دوران ان سے یزید پر لعنت کے تعلق سےسوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس معاملہ میں سکوت بہتر ہے، لوگوں نے کہا کہ یہ تو ہم بھی جانتے ہیں کہ سکوت بہتر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یزید پر لعنت جائز ہے یا نہیں؟ تو جواباً آپ نے فرمایا : جو شخص تین سال کے لیے حکمران بنایا جائے،پہلے سال نواسہ رسول امام حسین کو قتل کرے دوسرے سال اہل مدینہ کو خوفزدہ کرے ان کے مال و اسباب کو اپنے لشکر کے مباح کر دے اور تیسرے سال منجنیق کے ذریعے کعبۃ اللہ پر سنگ باری کرے اور اسے منہدم کر دے،تو ایسے شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ سب نے کہا ہم ایسے شخص پر لعنت کرتے ہیں ۔تو آپ نے فرمایا تو اس پر لعنت کرو۔پھر ابن جوزی نے بھی حاکم وقت اور علما کی موجودگی میں یزید پر لعنت کی۔ عبدالمغیث حنبلی نے اس تقریرکے رد میں فضائل یزید کے نام سے کتاب لکھ ڈالی ۔ابن جوزی کو جب اس پر اطلاع ہوئی تو جواباً آپ نے یہ کتاب ‘‘الرد علی المتعصب العنید’’ لکھی ۔
یاد رہے کہ عبدالمغیث حنبلی امام احمد بن حنبل کے مقلد ہونے کے ساتھ ساتھ کثیر صفات حمیدہ کے مالک تھے اور شکل و صورت میں بھی امام احمد بن حنبل کے مشابہ تھے غیر انہ کان قصیراً۔کمی تھی تو فقط یہ کہ علم و معرفت میں وہ وسعت نہ تھی جو ہونی چاہیے۔اسی لیے ابن جوزی انہیں کہیں قلیل العلم فی السیر سے خطاب کرتے ہیں تو کہیں اجہل الناس کے لقب سے نوازتے ہیں اور کہیں قلیل الفہم کہ کر پکارتے ہیں۔علامہ ذہبی نے بھی سیر اعلام النبلا میں اس بات کی تصدیق ان الفاظ میں کی ہے: ‘‘ لہ غلطات تدل علی قلۃ علمہ۔’’
ابن جوزی علیہ الرحمۃ نے اس کتاب کو چند فصول پر منقسم کیا ہے ۔ان فصول میں (یزید کے احوال، یزید کیسے حاکم بنا، اور یزید نے اپنے زمانہ حکومت میں جو ظلم و زیادتی اور بے باکیاں کی، جن کو ابو بکر بن ابی الدنیا ،محمد بن سعد اور ابو جعفر بن جریر وغیرہ ائمہ نے ذکر کیا۔) مختصراً ذکر کیا گیا ہے۔
آخری فصل میں عبدالمغیث حنبلی نے یزید کی حمایت و مدح سرائی پر جن دلائل بلکہ شبہات سے حجت پکڑی ہے ان کا خوبصورت آپریشن کیا گیا ہے۔
عبدالمغیث حنبلی نے پہلی دلیل یہ دی کہ جس آیت سے آپ لعنت یزید پر استدلال کر رہے ہیں وہ منافقین یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے.
علامہ نے اس کے تین جوابات ارشاد فرمائے.
پہلا جواب یہ دیا کہ نزول آیت سے متعلق قول مقاتل بن سلیمان کا ہے جن کے کذاب ہونے پر محدثین کا اجماع ہے.
دوسرا جواب یہ کہ اس آیت سے لعنت یزید کے جواز پر استدلال کرنے والے امام احمد بن حنبل ہیں. ایسے جلیل القدر امام پر کذاب راوی کو ترجیح کیسے دی اور آیت سے یہود کیسے مراد ہو گئے جبکہ ان کی کوئی حکومت تھی ہی نہیں.
تیسرا جواب یہ دیا کہ حکم، سبب سے اعم ہے. کسی قوم کے حق میں آیت کا نزول عموم حکم سے مانع نہیں.انتہی
اسی طرح علامہ نے دیگر دلائل کے بھی بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے.
ہاں آخر میں یزید کی مدح میں ایک قول نقل کیا گیا کہ یزید قرآن کی تلاوت کرتا تھا.
علامہ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا. (کیونکہ جواب بالکل واضح تھا)
تنبیہ:
کچھ مقامات پرعلامہ ابن جوزی نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ایسی گفتگو کی ہے جو ہضم نہیں ہو پاتی۔ہو سکتا ہے کہ یہ کلام ان کے اوہام میں سے ہو،
"اذ من المعلوم ان ابن الجوزی کثیر الاوھام."
انظر سیر اعلام النبلا۔
لہذا چاہیے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے پہلے شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق کچھ کتب و رسائل کا مطالعہ کر لیا جائے۔
شمشیرِرضا 31-07-2017
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813232575622718&id=100008080090753
پچھلے دنوں مکتبۃ المدینہ شعبہ عربی کتب باب المدینہ کراچی کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ نئی عربی کتب مکتبہ پر آ چکی ہیں ساتھ ہی ان کتب کی فہرست مع قیمت بھی ارسال کر دی گئی ۔ ہمارے جامعہ کے ایک ہونہار طالب علم عزیزم مدثر رضا قادری وہیں تخصص فی الفقہ میں زیر تعلیم ہیں ۔ان کے توسط سے کئی اہم کتب منگوائیں ۔ان کتب میں ایک رسالہ علامہ ابن جوزی کا تھا جس کا نام ہے۔‘‘الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید’’
یہ رسالہ ڈاکٹر ھیثم عبدالسلام محمد کی تحقیق کے ساتھ دارالکتب العلمیہ بیروت سے طبع ہوا۔ معلومات سے بھرپور اپنے موضوع پر ایک شاندار رسالہ ہے۔درحقیقت یہ رسالہ عبدالمغیث حنبلی کے رد میں ہےیا یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کتاب عبدالمغیث حنبلی کا جواب الجواب ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ ابن جوزی خطیب العصر تھے کسی تقریر کے دوران ان سے یزید پر لعنت کے تعلق سےسوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس معاملہ میں سکوت بہتر ہے، لوگوں نے کہا کہ یہ تو ہم بھی جانتے ہیں کہ سکوت بہتر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یزید پر لعنت جائز ہے یا نہیں؟ تو جواباً آپ نے فرمایا : جو شخص تین سال کے لیے حکمران بنایا جائے،پہلے سال نواسہ رسول امام حسین کو قتل کرے دوسرے سال اہل مدینہ کو خوفزدہ کرے ان کے مال و اسباب کو اپنے لشکر کے مباح کر دے اور تیسرے سال منجنیق کے ذریعے کعبۃ اللہ پر سنگ باری کرے اور اسے منہدم کر دے،تو ایسے شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ سب نے کہا ہم ایسے شخص پر لعنت کرتے ہیں ۔تو آپ نے فرمایا تو اس پر لعنت کرو۔پھر ابن جوزی نے بھی حاکم وقت اور علما کی موجودگی میں یزید پر لعنت کی۔ عبدالمغیث حنبلی نے اس تقریرکے رد میں فضائل یزید کے نام سے کتاب لکھ ڈالی ۔ابن جوزی کو جب اس پر اطلاع ہوئی تو جواباً آپ نے یہ کتاب ‘‘الرد علی المتعصب العنید’’ لکھی ۔
یاد رہے کہ عبدالمغیث حنبلی امام احمد بن حنبل کے مقلد ہونے کے ساتھ ساتھ کثیر صفات حمیدہ کے مالک تھے اور شکل و صورت میں بھی امام احمد بن حنبل کے مشابہ تھے غیر انہ کان قصیراً۔کمی تھی تو فقط یہ کہ علم و معرفت میں وہ وسعت نہ تھی جو ہونی چاہیے۔اسی لیے ابن جوزی انہیں کہیں قلیل العلم فی السیر سے خطاب کرتے ہیں تو کہیں اجہل الناس کے لقب سے نوازتے ہیں اور کہیں قلیل الفہم کہ کر پکارتے ہیں۔علامہ ذہبی نے بھی سیر اعلام النبلا میں اس بات کی تصدیق ان الفاظ میں کی ہے: ‘‘ لہ غلطات تدل علی قلۃ علمہ۔’’
ابن جوزی علیہ الرحمۃ نے اس کتاب کو چند فصول پر منقسم کیا ہے ۔ان فصول میں (یزید کے احوال، یزید کیسے حاکم بنا، اور یزید نے اپنے زمانہ حکومت میں جو ظلم و زیادتی اور بے باکیاں کی، جن کو ابو بکر بن ابی الدنیا ،محمد بن سعد اور ابو جعفر بن جریر وغیرہ ائمہ نے ذکر کیا۔) مختصراً ذکر کیا گیا ہے۔
آخری فصل میں عبدالمغیث حنبلی نے یزید کی حمایت و مدح سرائی پر جن دلائل بلکہ شبہات سے حجت پکڑی ہے ان کا خوبصورت آپریشن کیا گیا ہے۔
عبدالمغیث حنبلی نے پہلی دلیل یہ دی کہ جس آیت سے آپ لعنت یزید پر استدلال کر رہے ہیں وہ منافقین یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے.
علامہ نے اس کے تین جوابات ارشاد فرمائے.
پہلا جواب یہ دیا کہ نزول آیت سے متعلق قول مقاتل بن سلیمان کا ہے جن کے کذاب ہونے پر محدثین کا اجماع ہے.
دوسرا جواب یہ کہ اس آیت سے لعنت یزید کے جواز پر استدلال کرنے والے امام احمد بن حنبل ہیں. ایسے جلیل القدر امام پر کذاب راوی کو ترجیح کیسے دی اور آیت سے یہود کیسے مراد ہو گئے جبکہ ان کی کوئی حکومت تھی ہی نہیں.
تیسرا جواب یہ دیا کہ حکم، سبب سے اعم ہے. کسی قوم کے حق میں آیت کا نزول عموم حکم سے مانع نہیں.انتہی
اسی طرح علامہ نے دیگر دلائل کے بھی بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے.
ہاں آخر میں یزید کی مدح میں ایک قول نقل کیا گیا کہ یزید قرآن کی تلاوت کرتا تھا.
علامہ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا. (کیونکہ جواب بالکل واضح تھا)
تنبیہ:
کچھ مقامات پرعلامہ ابن جوزی نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ایسی گفتگو کی ہے جو ہضم نہیں ہو پاتی۔ہو سکتا ہے کہ یہ کلام ان کے اوہام میں سے ہو،
"اذ من المعلوم ان ابن الجوزی کثیر الاوھام."
انظر سیر اعلام النبلا۔
لہذا چاہیے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے پہلے شان امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق کچھ کتب و رسائل کا مطالعہ کر لیا جائے۔
شمشیرِرضا 31-07-2017
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813232575622718&id=100008080090753
❤2