🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
کوئی صاحبِ علم جو اہلیہ محترمہ‌ سے ڈرتا نہ ہو ، وہ اِن " ایمان افروز اور باطل سوز اقوال " کی تخریج کردے ، بڑی نوازش ہوگی ۔

مولانا Farhan Rafique Qadri صاحب سے تخریج کے لیے کہا تو انھوں خلاف توقع جواب دیا:

" اس کی تخریج کرتے کرتے عمر گزر جانی..... "

ہم نے انھیں معذور سمجھا ، کیوں کہ وہ " ایک " کی امید لگائے بیٹھے ہیں جو ہنوز بر نہیں آئی ، دوسری کا تو سوچنا بھی ان کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے ۔

1 ابن عباد کہتے ہیں :
میں کئی ایک ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو لوگوں کے حالات زندگی مرتب کرتے تھے ، تو جب کوئی شخص فوت ہو جاتا تو وہ یوں لکھتے:

فلاں شخص فوت ہو گیا ، اور اس کے " نیچے "فلاں فلاں تھی ، یعنی اس کی اتنی بیویاں تھیں ۔

لیکن جب کسی ایسے شخص کے حالات لکھتے ، جس کی ایک ہی بیوی ہوتی ، تو یوں لکھتے:

فلاں شخص فوت ہو گیا ، اور اس کے " اوپر " فلاں تھی ۔

( مطلب ایک ہی بیوی والا شوہر ، محترمہ مکرمہ بیگم صاحبہ کے نیچے لگا رہتا ہے اور دو ، تین چار ، بیویاں ہوں تو وہ شوہرِ نامدار کی تابع رہتی ہیں )

2 ابن سینا کا قول ہے:
جس کی ایک ہی بیوی ہو ، وہ جوانی میں بوڑھا ہو جاتا ہے ۔
اسے ہڈیوں ، کمر ، گردن اور جوڑوں کی درد شروع ہو جاتی ہے ۔
اس کی مایوسی بڑھ جاتی ہے ، محنت کم ہو جاتی ہے ، ہنسی اڑ جاتی ہے ؛ وہ بس شکوے ، شکایات ہی کرتا رہتا ہے ۔

3 قاضی ابو مسعود کہتے ہیں:
جس کی ایک بیوی ہو اس کے لیے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا جائز نہیں ۔

4 ابن خلدون کہتے ہیں:
میں نے پچھلی قوموں کی ہلاکت پر غور کیا تو معلوم ہوا ، وہ ایک ہی بیوی پر قناعت کرنے والے تھے ۔

5 ابن میسار کہتے ہیں:
اُس شخص کی عبادت اچھی نہیں ہو سکتی ، جس کی ایک ہی بیوی ہو ۔

6 عباسی خلیفہ مامون الرشید سے کہا گیا:
شہرِ بصرہ‌ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی ایک ہی بیوی ہوتی ہے ۔
مامون نے کہا:
وہ مرد نہیں ہیں ، مرد تو وہ ہیں جن کی " بیویاں " ہوں ؛ یہ لوگ فطرت اور سنت کے خلاف چل رہے ہیں ۔

7 ابن یونس سے کہا گیا:
یہود و نصاری نے ایک سے زائد بیویاں رکھنا کیوں چھوڑ دیا ؟
انھوں نے جواب دیا ، اس لیے کہ:
اللہ عزوجل ذِلت و مَسکنت ان کا مقدر بنانا چاہتا تھا ۔

8 حضرت معروف کرخی سے سوال ہوا:
آپ کی ان لوگوں کے بارے کیا رائے ہے جو اپنے آپ کو زاہد سمجھتے ہیں ، لیکن صرف ایک ہی بیوی رکھنے کے قائل ہیں؟

آپ نے جواب دیا:

یہ زاہد نہیں ، مجنوں ہیں ؛ یہ حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے زہد تک نہیں پہنچ سکے ۔
( کائنات کے ان بڑے زاہدوں نے تو ایک شادی پر اکتفا نہیں کیا ، ایک سے زائد نکاح کیے ہیں ؛ تو یہ کیسے زاہد ہیں جوصرف ایک کو ہی زہد سمجھے بیٹھے ہیں )

9 ابن فیاض سے ایسے لوگوں کے بارے سوال ہوا جن کی ایک ہی بیوی ہے ، تو انھوں نے کہا:
وہ ایسے مرد ہیں جو بس کھاتے پیتے اور سانس لیتے ہیں ۔

10 والیِ کرک ابن اسحاق نے پورے شہر میں مال تقسیم کیا لیکن ایک بیوی والوں کو کچھ نہ دیا ۔
جب اُن سے وجہ پوچھی گئی تو کہا:
سُفَہا یعنی ذہنی نابالغوں کو مال دینے سے منع کیا گیا ہے ۔

11 ابن عطا نے ایک بیوی رکھنے والوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
ہم ان کو بڑا کیسے سمجھ لیں جنھوں نے اپنے بڑوں یعنی صحابہ کرام کی سنت کو چھوڑ دیا ۔

12 حصری کہتے ہیں:
جب اللہ ﷻ نے شادی کا حکم دیا تو دو سے شروع کیا ، اور کہا:
دو دو ، تین تین ، اور چار چار سے شادیاں کرو ۔
اور ( وان خفتم فرما کر ) ایک کی اجازت ان کو دی جو خوف میں مبتلا ہوں ۔

13 تقی الدین مزنی سمرقند کے فقیہ بنے تو ان کو بتلایا گیایہاں کچھ لوگ ایک بیوی کے قائل ہیں ۔
تو انھوں نے کہا: کیا وہ مسلمان ہیں !!

پھر اہل شہر کو وعظ کیا تو اگلے چاند سے پہلے پہلے تین ہزار شادیاں ہوئیں ، اور شہر میں کوئی کنواری ، مطلقہ اور بیوہ نہ رہی ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2958022414477928&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دورانِ سفر ایک دُکان پر نظر پڑی جس پہ جلی حروف میں " ابوہریرہ " لکھا ہوا تھا ۔
مجھے بہت خوشی ہوئی ، میں نے گاڑی روک کر اُس دکان سے خریداری کی اور دکان دار سے کہا:

" اللہ آپ کو برکت دے ، آپ نے ایک جلیل القدر صحابی رسول کے نام پر اپنی دکان کانام رکھا ہے ۔ "

کیا ہی اچھا ہو کہ:
ہم‌ مسلمان ، اُن اصحابِ رسول کے ناموں سے بھی اپنی اولاد اور دیگر معزز چیزوں کو منسوب کریں ، جن کی رافضی اور زندیق لوگ تعظیم نہیں کرتے ۔ مثلاً:

ابوہریرہ ، ابوسفیان ، ابو بکرہ ، خالد ، مغیرہ ، معاویہ رضی اللہ عن جمیعھم ۔

✍️لقمان شاہد
20-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*قیادت، منافقت اور جمعیۃ علماء*
_مسلمان شرک نواز مولویوں کو پہچانیں_

مشرکینِ ہندوستان سرگرمِ عمل ہیں... ان کی اسلام مخالف سرگرمیاں انگریز کے دور میں بھی جاری تھیں... انگریز نے مملکت مسلمانوں سے چھینی... اس لئے انگریز نے مشرکین کا ساتھ دیا...مسلمان! دونوں کے مشترک دُشمن تھے... ملک کی آزادی کی تحریک ١٨٥٧ء میں علمائے حق نے شروع کی... مشرکین نے انگریز کا ساتھ دیا.. جس کا تذکرہ "الثورۃ الہندیۃ" میں قائد تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی نے برملا فرمایا...

*مشرکین کے سائے میں:* پھر آزادی کی جدوجہد آگے بڑھی... بعض مولویوں نے دینی غیرت کو مشرکین پر قربان کر دیا... حاملینِ شرک کو پیشوا بنا لیا...خود پیچھے پیچھے چل پڑے... اقبال نے مشاہدہ کی بنیاد پر نشان دہی کی تھی....

عجم ہنوز نداند رموز ديں، ورنہ
ز ديوبند حسين احمد! ايں چہ بوالعجبی ست
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبرز مقام محمد عربی ست

(تفہیم: عجمی لوگ ابھی تک دینِ اسلام کی حقیقت سے آگاہ نہ ہوئے... ورنہ یہ کیسے امکان کہ دیوبند کے حسین احمد مسلمانوں کو ایسی تلقین کرتے جو سراسر روحِ اسلام کے خلاف ہے...جو شخص مسلمان ہو کر یہ کہتا ہے کہ ملتِ اسلامیہ کی بنیاد وطن ہے... یا مسلمان غیرمسلموں کے ساتھ مل کر متحدہ قومیت بنا سکتے ہیں... یا مشرک اور مسلم باہم ایک قوم بن سکتے ہیں...وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بلا شبہ بےخبر ہے...)

انھیں مولوی نما لیڈروں نے رسومِ شرکیہ میں شرکت کی... گاندھی کی قیادت قبول کی... ذبیحہ سے متعلق شرک کی خوشنودی چاہی... گنگا کو پوِتر مانا... شعائر اسلام سے منھ موڑا... اعلیٰ حضرت کی کتاب "المحجۃ المؤتمنۃ فی اٰیۃ الممتحنۃ" پڑھ جائیے... قائدینِ جمعیۃ علما کی شرک نوازی آشکار ہو جائے گی...

*تازہ محرکات:* جمعیۃ علماء مسلم اتحاد کی دوہائی دیتی ہے... مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے... پھر مشرکین سے ایسا اتحاد کرتی ہے... ایسا سودا کرتی ہے... جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا... اسی فکر کے حامل مولوی سلمان ندوی نے بابری مسجد سے متعلق مشرک کاز کی تائید کی... جو مسلم پرسنل لا بورڈ کا چہرہ ہے... پھر رواداری کے نام پر موحد! مولوی مندروں کی صفائی کرتے پائے گئے... پھر یک جہتی کے نام پر پنڈتوں کے چرنوں میں نظر آئے... ہاں یہ امور اسی عہد میں ہو رہے تھے... جب مسلمانوں کو ستایا جا رہا تھا... جب اسلامی قوانین کو نشانہ بنایا جا رہا تھا... اقتدار کی چھاؤں میں جینے والے مولوی مسلمانوں میں ریلیاں نکلوا رہے تھے... اور دوسری طرف مشرکین سے خفیہ ملاقاتیں بھی جاری تھیں... مسلمانوں کو مشرکین کا خوف دلا دلا کر اپنی تعداد میں ظاہراً اضافہ کیا جا رہا تھا... پھر اسی تعداد کو ان ملت فروش قائدین اقتدار کے قدموں میں گروی بھی رکھ رہے تھے!!... اسے منافقت نہیں تو کون سا نام دیا جائے!!

*ابن الوقت:* تین طلاق بل کے ذریعے مسلمانوں کے شرعی معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے...ذبیحہ پر پابندی... ماب لنچنگ... مسلمانوں کا ہجومی قتل... تعصب کی وارداتیں... کشمیری مسلمانوں پر قیدو بند... مدت سے کرفیو کا نفاذ... انسانی حقوق کی پامالی...عصبیت و دہشت کے سائے دراز ہیں... اِن حالات میں جمعیۃ علما کی قیادت کی آر ایس ایس سربراہ سے ملاقات... کس پہلو کا پتہ دیتی ہے!!... یہ ماضی کی ٹانڈوی تاریخ سے بخوبی اُجاگر ہے... پھر اس کے معاً بعد جمعیۃ کی دوسری قیادت بھی سرگرمِ عمل ہوئی...چچا میاں سے دو قدم بڑھ گئی... حاملینِ شرک سے بغل گیر ہوئی... سلطان ہندوستان اورنگ زیب علیہ الرحمۃ سے موروثی بغض کا اظہار کیا... شرک سے پرانی دوستی کا رشتہ نبھایا... شیواجی کو موحد مسلم بادشاہ پر ترجیح دے دی... اپنی ابن الوقتی کا کھلا مظاہرہ کیا... تہیں چاک ہو رہی ہیں... کفر سے شیر و شکر ہو کر یہ قائدین کون سا پیغام دے رہے ہیں... ہم لائک کرتے ہیں قائدین اہلسنّت کی استقامت کو... جن کا ہمیشہ ایک چہرہ رہا... شرک سے بیزار رہے... کبھی سودے بازی نہیں کی... اب وہ طبقہ جو جمعیۃ علما کے سائے میں جینے کا خواہش مند ہے... وہ اس کا ذاتی معاملہ ہے... لیکن قریب ایک صدی کے حقائق جن کی شرک نوازی پر واضح ہوں... ان سے اتحاد کی بات کس منھ سے کی جاتی ہے... انھیں دو رکعت کے اماموں نے کفر و شرک کو حوصلہ دیا... اب مشرکین کا زور بڑھا تو قوم کو خوف زدہ کیا جا رہا ہے...یاسیت کے کنویں میں ڈھکیلا جا رہا ہے... اسلامی تاریخ خوشنودیِ شرک کے لیے مسخ کی جا رہی ہے... مسلمان! چہرے پہچانیں... اپنا مستقبل مشرک نواز گروہ کے ہاتھ گروی رکھنے سے بچیں...منافقت کی تہیں چاک کر دیں... عزم و یقیں کے ہزاروں چراغ فصیلِ ایمان پر فروزاں کریں...
***
*تجزیہ:* غلام مصطفٰی رضوی
(نوری مشن مالیگاؤں)
gmrazvi92@gmail.com
١٩ ستمبر ٢٠١٩ء
اورنگ زیب سے بہتر حکمراں ...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب میں خان صاحب کا جملہ،"آپ لوگوں نے بالکل گھبرانا نہیں"سنتا ہوں تو مجھے کسی کتاب سے پڑھا ایک پرانا واقعہ یاد آ جاتا ہے۔

ایک مرتبہ کابل کے شاہی دربار میں نئے بادشاہ سے کسی نے درخواست کی کہ اسے ایسی توپ بنانے کی اجازت دی جائے جس کا گولہ سیدھا ہندوستان جا کر پورے دہلی شہر اور مضافات کو تباہ کردے۔

بادشاہ سلامت نے خوشی سے اجازت کے ساتھ خرچہ بھی دے دیا۔

اس بندے بڑی محنت سے توپ تیار کرلی تو بادشاہ سلامت سے درخواست کی کہ اب اسے دہلی پر داغنا چاہیے۔

بادشاہ اور وزراء سمیت بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ بلاسٹ ہوا تو وہ توپ خود ہی اڑ گئی۔ ہر طرف دھول مٹی اڑنے لگی۔ تباہی سے چیخیں سنائی دینے لگی۔

بادشاہ نے گھبراہٹ کے عالم میں توپچی سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا؟

توپچی نے فخریہ انداز میں سینہ تان کر کہا جہاں پناہ! آپ نے بالکل گھبرانا نہیں۔ جب یہاں پر اتنی تباہی ہوئی ہے تو دہلی کا کیا حال ہوا ہوگا۔

منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813627068916602&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ابا آپ کل سر اٹھا کر جیوگے۔۔۔😭

خبر کے مطابق کل بہاولپور میں لقمان نامی شخص نے ایک بچی کی عزت لوٹ لی۔۔ بچی کے شور شرابے پر لوگ جمع ہوئے تو لقمان فرا ہوگیا۔۔
بچی کے والدین کو خبر ہوئی تو وہ انپڑھ ناخواندہ سسٹم سے بے بہرہ قریبی چوکی پر رپورٹ درج کرانے پہنچ گئے۔۔ چوکی والوں نے کہا کہ آپ کی رپورٹ تھانے میں درج ہوگی۔۔

وہ غم کے مارے پریشان حال بیٹی کو لے کر تھانے پہنچے جہاں طرح طرح کے سوالات کے بعد انہیں درخواست لکھنے کو کہا گیا۔۔ دو گھنٹے کی ذلالت کے بعد انکی درخواست لکھی گئی۔۔۔ درخواست لکھنے بعد تھانے والوں نے کہا آپ واپس اسی چوکی پر جائیں آپ کی درخواست وہیں جمع ہوگی۔۔
جب وہ دوبارہ چوکی پر گئے تو چوکی والوں نے کہا دو دن بعد آنا۔۔۔ دو دن بعد بڑے افسر آئینگے تو پھر آپ کو اور دوسری پارٹی کو بلا کر بات کرینگے۔۔
پولیس با اثر وڈیرے کے بیٹے کو بچانے کے لیئے بات کو صلح کی طرف لے جانے کے موڈ میں تھی۔۔۔

بچی باپ کو در در کی ٹھوکریں کھاتا دیکھتی رہی اور شاید دل ہی دل میں خود کو کوستی رہی کے میں بیٹی پیدا ہی کیوں ہوئی۔۔ رات کو سب مایوسی، بے بسی اور دکھ کی حالت میں گھر پہنچے۔۔۔

تو بیٹی نے واش روم میں جا کر جراثیم کش اسپرے پی کر خود کشی کرنے۔۔۔ اور خود کشی سے پہلے اس کے اپنے ابا کو کہے گئے آخری الفاظ تھے۔۔۔

"ابا آپ کل سر اٹھا کر جیوگے"😭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1867858590019471&id=100003860455712
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ماہنامہ اعلٰی حضرت،بریلی شریف،بابت جولائی2017ءمیں شائع ہونے والاراقم کاایک مضمون،جس میں ذیشان مصباحی کی طرف سے سَیِدی اعلٰی حضرت کی کتاب"سُبْحَان السبوح"کے ایک اقتباس سے تکفیرِدیوبندیہ کے متعلق عوام کوگمراہ کرنے کی کوشش کاردکیاگیاہے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813232705622705&id=100008080090753