🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
آف انڈیا، ممبئی
11- انڈیا گیٹ، دہلی
12- سینٹ میری چرچ، چنئی

آج تک کسی شدت پسند نے بھی انگریزی عمارتوں اور ان کے ناموں پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ آکرانتا اور حملہ آور بتا کر یہ لوگ بھارت کے رہائشی مسلم بادشاہوں کو گالیاں دیتے اور بدیسی کہتے ہیں، مگر اپنے گورے آقا انگریزوں کا کبھی نام بھی نہیں لیتے، جو حقیقتاً آکرانتا اور حملہ آور تھے جنھوں نے تقریبا 200 سال تک بھارت کو لوٹا اور آخرکار دیش کی بےتحاشا دولت لُوٹ کر اپنے ملک چلے گئے. !!

ایک طرف *اکھنڈ بھارت* کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری جانب مغلوں کو غیر ملکی کہتے ہیں اس منافقت سے صاف ظاہر ہے کہ معاملہ مغلوں کا نہیں بلکہ مسلمانوں کا ہے۔ انہیں صرف ان عمارتوں سے پریشانی ہے جو انہیں مسلمانوں کی شان وشوکت یاد دلائے۔ ہر اس نام سے دقت ہے جس سے اسلامی پہچان ظاہر ہو اسی لیے ان کی نفرت مغلوں کی تعمیر کردہ عمارتوں اور شہروں پر دکھتی ہے لیکن انہیں یہ قدرتی اصول یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار کی بقا انصاف سے ہے اگر انصاف نہیں کیا گیا تو اقتدار بھی باقی نہیں رہے گا۔

29 محرم الحرام 1442ھ
18 ستمبر 2020 بروز جمعہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
باسمہ تعالیٰ وبحمدہ والصلوٰۃوالسلام علیٰ رسولہ الاعلیٰ وآلہ
اسلامی تہذیب وثقافت اور مسلم معاشرہ

مذہب اسلام نے انتہائی دلکش تہذیب ومعاشرت اور تمدن وثقافت دنیا کو عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام حضوراقدس سیدنا محمد مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اخلاق وکردار کا اعلیٰ نمونہ بنا کر کائنات انسانی میں مبعوث فرمایا اور ارشاد فرمایا:
(انک لعلی خلق عظیم) (سورہ قلم:آیت4)

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول کواعلیٰ اخلاق وکردار سے مزین فرمایاہے، اور آں حضرت علیہ الصلوٰۃوالسلام کو دین ومذہب کے ساتھ اخلاق حسنہ کی تعلیم کے لیے بھی مبعوث فرمایا گیا،تاکہ ساری دنیا میں ایک صالح ثقافتی معاشرہ جلوہ گر ہوسکے۔

حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:”بعثت لاتمم مکارم الاخلاق۔
اسلامی تہذیب وثقافت کا مفصل بیان فقہ کی کتابوں میں ”کتاب الحظروالاباحہ“میں مرقوم ہوتا ہے۔

صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃوالرضوان نے بہارشریعت کے سولہویں حصے میں اسلامی آداب واحکام اور اخلاق وثقافت کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمادیا ہے۔یہ حصہ ”اسلامی اخلاق وآداب“کے نام سے ہندو پاک میں کئی بارشائع ہوچکا ہے۔

اگراسلامی تہذیب واخلاق کو مضبوطی کے ساتھ اختیار کر لیا جائے تو ایک صالح معاشرہ پلک جھپکتے وجود میں آسکتا ہے۔
اب قوم مسلم اسلامی اخلاق عالیہ اور اسلامی تہذیب وثقافت سے کنارہ کش ہوتی جارہی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب خود علما وائمہ اسلامی تہذیب وثقافت سے دستبردار ہوتے جارہے ہیں تو پھر عوام کا کیا حال ہوگا۔

دراصل یہ ایک بڑی غلط فہمی اورایک تباہ کن فکری عیب ہے۔

مسلمان اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کا پڑھتے ہیں اور جب عمل کی بات آتی ہے تو علما وائمہ کی مثال پیش کرتے ہیں۔ہر مومن کو اللہ ورسول(عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرنا ہے۔اگر بالفرض کسی عالم یا کسی امام نے کسی حکم پر عمل نہیں کیا تو یہ اس کا عمل ہے۔اس بارے میں خوداسی سے سوال ہوگا،نہ کہ آپ سے سوال ہوگا۔
یہ شیطانی فریب ہے۔ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔شیطان مومن بندوں کو صحیح راہ سے بھٹکانے کے واسطے طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے۔ مرنے کے بعد ہرشخص سے اس کے ایمان وعمل کے بارے میں سوال ہوگا،نہ کہ دوسروں کے ایمان وعمل کاسوال ہوگا۔

ہرایک کواپنی آخرت کی فکر کرنی چاہئے۔دوسروں پر انگشت نمائی کرکے کوئی عذاب آخرت سے بچ نہیں سکتا،بلکہ خود اس کی غیبت اور چغل خوری کے گناہ میں مبتلا ہوگا اور یہ نقصان پر نقصان اور دوہری مصیبت ہے۔

اچھائیوں اورنیکیوں میں کسی کی پیروی کی جاتی ہے،نہ کہ برائیوں میں۔سماج اور معاشرے میں چور،جیب کترے، غنڈے اور مختلف برائیوں میں مبتلا لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔
اگر سماج کے لوگ ایسوں کی پیروی کرتے تو برے لوگو ں کی تعداد سماج میں زیادہ ہوتی،حالاں کہ ایسا نہیں۔

معاشرہ کے لوگ ایسے غلط لوگوں سے بھی بچتے ہیں اور ان کے غلط عادات واطوار سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
ہمارے رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام جہاں انسانوں کو دین خداوندی کی تعلیم فرمانے کے واسطے مبعوث ہوئے تھے،وہیں اعلیٰ اخلاق وکردار کی تعلیم دینے کے واسطے بھی دنیا میں جلوہ گرہوئے تھے۔حدیث شریف میں ہے۔
(عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:بعثت لاتمم مکارم الاخلاق)(المستدرک علی الصحیحین:کتاب آیات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جلددوم ص۰۷۶-مکتبہ شاملہ)

ترجمہ:آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں اخلاقی خوبیوں کی تکمیل کے واسطے مبعوث ہوا۔

قرون اولیٰ میں مسلمانوں نے جس آبادی، جس شہر اور جس ملک میں قدم رکھا، وہاں کے لوگ مومنین کے اعلیٰ اخلاق وکردار اور انسانیت نوازی دیکھ کر اپنے دین ومذہب کوچھوڑکر دامن اسلام سے وابستہ ہوگئے،اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اسلام دنیا میں تلوارکے زور سے نہیں پھیلا،بلکہ اخلاق کے سبب پھیلا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام ایک عالم گیرمذہب بن گیا۔

طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل، دہلی
مدیر:ماہنامہ پیغام شریعت (دہلی)
جاری کردہ:19:ستمبر 2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#اختلافات_کا_تدارک
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی

آج امت مسلمہ اختلافات وانتشار کے ایسے بحر عمیق میں غوطہ زن ہے کہ ساحل نجات تک کوئی کرشمہ ہی پہنچا سکتا ہے۔ معاملات ایسے سنجیدہ ہوئے کہ اختلافات کا بھنور علمائے اکابر کی شخصیات سے تجاوز ہوکر صحابہ کرام کی نفوس طیبات تک جا پہنچا۔
لیکن احبا نے ابھی بھی ہوش کے ناخن نہ لئے اور کبھی کبھی تو لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے سلسلہ یا ہمارے نظریہ کے خلاف کسی نے بات کہی ہےتو بس پڑ گئے اس کے پیچھے ہاتھ دھوکر؛ یہ بھی نہ سوچا کہ ہم اپنے مد مقابل کے بغض عناد میں ایسے غلطاں ہیں کہ ہمیں یہ بھی ہوش نہیں کہ اپنے مخالف کی تردید میں صحابہ کرام تک پر انگشت نمائی کر بیٹھے۔
ہم میدان محشر کے متعلق سنتے آئے ہیں کہ نفسی نفسی کا عالم ہوگا مگر یہاں بھی ایک محشر بپا ہے اور یہاں بھی نفسی نفسی کا عالم ہے مگر یہ نفس پرستی کا محشر ہے نفس پرستی میں ایسے مبتلا ہو گئے ہیں کہ ہمیں اپنے نفس کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ "ہم، ہمارا، ہم سب، ہماری قوم، ہمارے اسلاف" کی جگہ "میں، میرا، فقط میرا، میرا سلسلہ، میرا مرشد، میرا گروہ" جیسے الفاط نے لے لی۔
ارے میرے بھائی! یہ تکبر، یہ نفس پرستی کس کام کی؟ یاد رکھو! یہ ایوان نما خانقاہیں، یہ بادشاہوں کو بھی شرمندہ کردینے والی شان و شوکت اور مریدین کی شکل میں غلام, انعام جاودانی اور سرمایہ دائمی نہیں ہیں۔ کسی فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
چنانکہ دست بدست آمدست ملک بنا
بدستہائے دگر ہمچنیں بخواہد رفت

اپنے اپنے عالیشان محلات اور ایوان نما خانقاہوں کے در و دیوار کو صحابہ کرام اور اکابرین کی بےحرمتی کے کالے پانی سے چمکانے کی ناکام کوششیں کرنے والو یاد رکھو !
بزرگش نہ خوانند اہل خرد
کہ نام بزرگاں بزشتی برد

کسی کے بلند مرتبہ اور عظیم منصب سے حسد کرنے والو! کبھی یہ نہیں سوچا کہ انہیں وہ بلند مرتبہ اور عظیم منصب کس نے عطا فرمایا ہے؟ ارشاد ربانی دیکھو:
اَمۡ یَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ
یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔
اور جسے اللہ بڑھائے اسے کون گھٹا سکتا ہے؟ اسی لئیے تو میرا امام گویا ہے:

تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
جب بڑھائے تجھے اللہ تعالی تیرا

اے حاسدو! تمھارا ان نفوس طیبات پر کیچڑ اچھالنا سورج پر سیاہی پھینک کر اسے مندمل کرنے کی کوشش جیسا ہے کہ اس سے سورج کو تو کوئی فرق پڑنے والا نہیں البتہ تمھارے ہی منہ کالے ہونے کا یقین کامل ضرور ہے۔
ہاں! مگر تمھاری ان ریشہ دوانیوں سے عوام اہل سنت میں کافی اضطراب اور خلفشار پیدا ہوجاتا ہے، اور اگر یہی حال رہا تو کچھ وقت بعد یہی اختلافات عوام کو علماے کرام اور پیران عظام سے بیزار ضرور کر دینگے۔
#حسد_اور_بدظنی
ان سارے اختلافات اور انتشارات کی بنیاد بد ظنی اور حسد ہیں۔ ایک عالم کا لبادہ اوڑھنے والا جاہل دوسرے عالم کی مقبولیت کا حاسد اور اس سے بد ظن ہے۔ ایک جاہل اور ڈھونگی پیر دوسرے پیر کی مقبولیت کا حاسد اور اس سے بد ظن ہے۔ اور عوام اپنے ایسے جاہل اور نااہل پیشواؤں کی وجہ سے اپنے مسلمان بھائیوں سے بد ظنی اورحسد میں مبتلا ہیں؛ جبکہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: ایاکم والظن ترجمہ : بدگمانی سے بچو!
اور فرمان محسن کائنات ﷺ:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‌‌‌‌‌‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، ‌‌‌‌‌‏عَنِ الْأَعْرَجِ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‌‌‌‌‌‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‌‌‌‏ ""إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، ‌‌‌‌‌‏وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو، بدگمانی اکثر تحقیق کے بعد جھوٹی بات ثابت ہوتی ہے اور کسی کے عیوب ڈھونڈنے کے پیچھے نہ پڑو، کسی کا عیب خواہ مخواہ مت ٹٹولو اور کسی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ بڑھاؤ اور حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔.

اس حدیث پاک کا ایک ایک لفظ ایسا ہے جس پر عمل کر کے ہم تمام طرح کے اختلافات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتے ہیں ۔
#عیوب_کی_تشہر
ایک اور چیز ہے جو ہمارے مابین تفریق کو بڑھانے میں ایسا کام کرتی ہے جیسا آگ میں گھی، اور وہ ہے کسی کے عیوب کی تشہیر، ہمین اگر کسی کی کوئی بات معلوم ہوجائے تو ہم اسے ہر ممکن ذریعہ ابلاغ سے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہمارے پیارے آقا ﷺ کا ارشاد پاک ہے:
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‌‌‌‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،‌‌‌‏ عَنْ عُقَيْلٍ،‌‌‌‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ،‌‌‌‏ عَنْ أَبِيهِ،‌‌‌‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْ
هِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ،‌‌‌‏ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ،‌‌‌‏ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ،‌‌‌‏ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً،‌‌‌‏ فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ،‌‌‌‏ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا،‌‌‌‏ سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۱ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا“۔

اگر آپ کسی کے عیب کی پردہ پوشی کرتے ہیں تو دنیاوی فائدہ یہ ہے کہ وہ آپ سے بد ظن نہ ہوگا اور اخروی فائدہ یہ کہ اللہ روز قیامت آپکے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اور کیا چاہیئے؟
اگر ہم فقط ان دو احادیث کریمہ پر عمل پیرا ہوجائیں تو سمجھ لو کہ ہمارے مابین سے اختلاف ایسے ختم ہو جائے گا جیسے ترشی سے نشہ کافور ہو جاتا ہے.
اللہ رب العزت کی بارگاہ بے نیاز میں التجا ہے کہ وہ ہم سب سنیوں کو ایک اور نیک بنائے (آمین)
محمد شاہد علی مصباحی
نائب صدر: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن: روشن مستقبل دہلی
20 ستمبر 2018
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جس طرح بیٹے کے لیے والدین کی تعظیم ضروری ہوتی‌ ہے ، چاہے والدین پرلے درجے کے گناہ گار ہوں ۔
بیوی پر شوہر کا احترام لازم ہوتا ہے ، چاہے شوہر کیسا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو ۔

اسی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم‌ سب پر سید زادوں اور علماے اہل سنت کا ادب لازم ہے ، چاہے وہ‌ بے جا حال پر ہوں ۔

ساداتِ کرام کی نسبتِ رسالت مآب گناہوں کی وجہ سے ختم نہیں ہوتی‌ ، اور علماے عظام کی خطائیں اُنھیں صفت الٰہی ( علم ) سے محروم نہیں کرتیں ؛ جیسے والدین وغیرہ کے گناہ ان کی نسبت ختم نہیں کرتے ۔

اہلِ سنت ہمیشہ سے مودب رہے ہیں ، آپ اہل سنت ہیں تو فکری آوارہ گردی کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں ۔

✍️لقمان شاہد
17-9-2020 ء
سید زادوں کی تعظیم صرف غیرِ سید پر ہی لازم نہیں ، ایک سید پر بھی دوسرے سیدزادے کا احترام لازم ہے ۔
اللہ معاف فرمائے ، ہمارے زمانے کے سید زادے باہم گتھم گتھا ہیں ، اور اس حد تک کہ ایک دوسرے کا نسب مشکوک کرنے کے دَرپَے ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2955958818017621&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک بیٹی نے پوچھا :

"
اگر کائنات کی پاکیزہ ترین خواتین صحابیات رسول رضی اللہ عنھن گھوڑے دوڑا سکتی ہیں تو ہم‌ گاڑیاں کیوں نہیں چلا سکتیں ؟ "

میں نے کہا:

بیٹی ! آپ کو کس نے کہا کہ گاڑی نہ چلائیں ؟

آپ پردے کی رعایت کے ساتھ گاڑی چلائیں ، لیکن گاڑی چلانے سے پہلے جس طرح ڈرائیونگ سیکھی ہے اسی طرح اپنی حفاظت کرنا بھی سیکھیں ۔

صحابیات نے اگر گھوڑے دوڑائےہیں تو بہ وقتِ جہاد گھوڑوں پر بیٹھ کر کافروں کی گردنیں بھی ماری ہیں ۔

اگر آپ تقویٰ و طہارت کے ساتھ ، جرات و بہادری کی بھی حامل ہیں تو شرعی حدود میں رہتے ہوئے ، شوق سے ڈرائیونگ کیجیے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2957670117846491&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کوئی صاحبِ علم جو اہلیہ محترمہ‌ سے ڈرتا نہ ہو ، وہ اِن " ایمان افروز اور باطل سوز اقوال " کی تخریج کردے ، بڑی نوازش ہوگی ۔

مولانا Farhan Rafique Qadri صاحب سے تخریج کے لیے کہا تو انھوں خلاف توقع جواب دیا:

" اس کی تخریج کرتے کرتے عمر گزر جانی..... "

ہم نے انھیں معذور سمجھا ، کیوں کہ وہ " ایک " کی امید لگائے بیٹھے ہیں جو ہنوز بر نہیں آئی ، دوسری کا تو سوچنا بھی ان کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے ۔

1 ابن عباد کہتے ہیں :
میں کئی ایک ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو لوگوں کے حالات زندگی مرتب کرتے تھے ، تو جب کوئی شخص فوت ہو جاتا تو وہ یوں لکھتے:

فلاں شخص فوت ہو گیا ، اور اس کے " نیچے "فلاں فلاں تھی ، یعنی اس کی اتنی بیویاں تھیں ۔

لیکن جب کسی ایسے شخص کے حالات لکھتے ، جس کی ایک ہی بیوی ہوتی ، تو یوں لکھتے:

فلاں شخص فوت ہو گیا ، اور اس کے " اوپر " فلاں تھی ۔

( مطلب ایک ہی بیوی والا شوہر ، محترمہ مکرمہ بیگم صاحبہ کے نیچے لگا رہتا ہے اور دو ، تین چار ، بیویاں ہوں تو وہ شوہرِ نامدار کی تابع رہتی ہیں )

2 ابن سینا کا قول ہے:
جس کی ایک ہی بیوی ہو ، وہ جوانی میں بوڑھا ہو جاتا ہے ۔
اسے ہڈیوں ، کمر ، گردن اور جوڑوں کی درد شروع ہو جاتی ہے ۔
اس کی مایوسی بڑھ جاتی ہے ، محنت کم ہو جاتی ہے ، ہنسی اڑ جاتی ہے ؛ وہ بس شکوے ، شکایات ہی کرتا رہتا ہے ۔

3 قاضی ابو مسعود کہتے ہیں:
جس کی ایک بیوی ہو اس کے لیے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا جائز نہیں ۔

4 ابن خلدون کہتے ہیں:
میں نے پچھلی قوموں کی ہلاکت پر غور کیا تو معلوم ہوا ، وہ ایک ہی بیوی پر قناعت کرنے والے تھے ۔

5 ابن میسار کہتے ہیں:
اُس شخص کی عبادت اچھی نہیں ہو سکتی ، جس کی ایک ہی بیوی ہو ۔

6 عباسی خلیفہ مامون الرشید سے کہا گیا:
شہرِ بصرہ‌ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی ایک ہی بیوی ہوتی ہے ۔
مامون نے کہا:
وہ مرد نہیں ہیں ، مرد تو وہ ہیں جن کی " بیویاں " ہوں ؛ یہ لوگ فطرت اور سنت کے خلاف چل رہے ہیں ۔

7 ابن یونس سے کہا گیا:
یہود و نصاری نے ایک سے زائد بیویاں رکھنا کیوں چھوڑ دیا ؟
انھوں نے جواب دیا ، اس لیے کہ:
اللہ عزوجل ذِلت و مَسکنت ان کا مقدر بنانا چاہتا تھا ۔

8 حضرت معروف کرخی سے سوال ہوا:
آپ کی ان لوگوں کے بارے کیا رائے ہے جو اپنے آپ کو زاہد سمجھتے ہیں ، لیکن صرف ایک ہی بیوی رکھنے کے قائل ہیں؟

آپ نے جواب دیا:

یہ زاہد نہیں ، مجنوں ہیں ؛ یہ حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے زہد تک نہیں پہنچ سکے ۔
( کائنات کے ان بڑے زاہدوں نے تو ایک شادی پر اکتفا نہیں کیا ، ایک سے زائد نکاح کیے ہیں ؛ تو یہ کیسے زاہد ہیں جوصرف ایک کو ہی زہد سمجھے بیٹھے ہیں )

9 ابن فیاض سے ایسے لوگوں کے بارے سوال ہوا جن کی ایک ہی بیوی ہے ، تو انھوں نے کہا:
وہ ایسے مرد ہیں جو بس کھاتے پیتے اور سانس لیتے ہیں ۔

10 والیِ کرک ابن اسحاق نے پورے شہر میں مال تقسیم کیا لیکن ایک بیوی والوں کو کچھ نہ دیا ۔
جب اُن سے وجہ پوچھی گئی تو کہا:
سُفَہا یعنی ذہنی نابالغوں کو مال دینے سے منع کیا گیا ہے ۔

11 ابن عطا نے ایک بیوی رکھنے والوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
ہم ان کو بڑا کیسے سمجھ لیں جنھوں نے اپنے بڑوں یعنی صحابہ کرام کی سنت کو چھوڑ دیا ۔

12 حصری کہتے ہیں:
جب اللہ ﷻ نے شادی کا حکم دیا تو دو سے شروع کیا ، اور کہا:
دو دو ، تین تین ، اور چار چار سے شادیاں کرو ۔
اور ( وان خفتم فرما کر ) ایک کی اجازت ان کو دی جو خوف میں مبتلا ہوں ۔

13 تقی الدین مزنی سمرقند کے فقیہ بنے تو ان کو بتلایا گیایہاں کچھ لوگ ایک بیوی کے قائل ہیں ۔
تو انھوں نے کہا: کیا وہ مسلمان ہیں !!

پھر اہل شہر کو وعظ کیا تو اگلے چاند سے پہلے پہلے تین ہزار شادیاں ہوئیں ، اور شہر میں کوئی کنواری ، مطلقہ اور بیوہ نہ رہی ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2958022414477928&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دورانِ سفر ایک دُکان پر نظر پڑی جس پہ جلی حروف میں " ابوہریرہ " لکھا ہوا تھا ۔
مجھے بہت خوشی ہوئی ، میں نے گاڑی روک کر اُس دکان سے خریداری کی اور دکان دار سے کہا:

" اللہ آپ کو برکت دے ، آپ نے ایک جلیل القدر صحابی رسول کے نام پر اپنی دکان کانام رکھا ہے ۔ "

کیا ہی اچھا ہو کہ:
ہم‌ مسلمان ، اُن اصحابِ رسول کے ناموں سے بھی اپنی اولاد اور دیگر معزز چیزوں کو منسوب کریں ، جن کی رافضی اور زندیق لوگ تعظیم نہیں کرتے ۔ مثلاً:

ابوہریرہ ، ابوسفیان ، ابو بکرہ ، خالد ، مغیرہ ، معاویہ رضی اللہ عن جمیعھم ۔

✍️لقمان شاہد
20-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*قیادت، منافقت اور جمعیۃ علماء*
_مسلمان شرک نواز مولویوں کو پہچانیں_

مشرکینِ ہندوستان سرگرمِ عمل ہیں... ان کی اسلام مخالف سرگرمیاں انگریز کے دور میں بھی جاری تھیں... انگریز نے مملکت مسلمانوں سے چھینی... اس لئے انگریز نے مشرکین کا ساتھ دیا...مسلمان! دونوں کے مشترک دُشمن تھے... ملک کی آزادی کی تحریک ١٨٥٧ء میں علمائے حق نے شروع کی... مشرکین نے انگریز کا ساتھ دیا.. جس کا تذکرہ "الثورۃ الہندیۃ" میں قائد تحریکِ آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی نے برملا فرمایا...

*مشرکین کے سائے میں:* پھر آزادی کی جدوجہد آگے بڑھی... بعض مولویوں نے دینی غیرت کو مشرکین پر قربان کر دیا... حاملینِ شرک کو پیشوا بنا لیا...خود پیچھے پیچھے چل پڑے... اقبال نے مشاہدہ کی بنیاد پر نشان دہی کی تھی....

عجم ہنوز نداند رموز ديں، ورنہ
ز ديوبند حسين احمد! ايں چہ بوالعجبی ست
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبرز مقام محمد عربی ست

(تفہیم: عجمی لوگ ابھی تک دینِ اسلام کی حقیقت سے آگاہ نہ ہوئے... ورنہ یہ کیسے امکان کہ دیوبند کے حسین احمد مسلمانوں کو ایسی تلقین کرتے جو سراسر روحِ اسلام کے خلاف ہے...جو شخص مسلمان ہو کر یہ کہتا ہے کہ ملتِ اسلامیہ کی بنیاد وطن ہے... یا مسلمان غیرمسلموں کے ساتھ مل کر متحدہ قومیت بنا سکتے ہیں... یا مشرک اور مسلم باہم ایک قوم بن سکتے ہیں...وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے بلا شبہ بےخبر ہے...)

انھیں مولوی نما لیڈروں نے رسومِ شرکیہ میں شرکت کی... گاندھی کی قیادت قبول کی... ذبیحہ سے متعلق شرک کی خوشنودی چاہی... گنگا کو پوِتر مانا... شعائر اسلام سے منھ موڑا... اعلیٰ حضرت کی کتاب "المحجۃ المؤتمنۃ فی اٰیۃ الممتحنۃ" پڑھ جائیے... قائدینِ جمعیۃ علما کی شرک نوازی آشکار ہو جائے گی...

*تازہ محرکات:* جمعیۃ علماء مسلم اتحاد کی دوہائی دیتی ہے... مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے... پھر مشرکین سے ایسا اتحاد کرتی ہے... ایسا سودا کرتی ہے... جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا... اسی فکر کے حامل مولوی سلمان ندوی نے بابری مسجد سے متعلق مشرک کاز کی تائید کی... جو مسلم پرسنل لا بورڈ کا چہرہ ہے... پھر رواداری کے نام پر موحد! مولوی مندروں کی صفائی کرتے پائے گئے... پھر یک جہتی کے نام پر پنڈتوں کے چرنوں میں نظر آئے... ہاں یہ امور اسی عہد میں ہو رہے تھے... جب مسلمانوں کو ستایا جا رہا تھا... جب اسلامی قوانین کو نشانہ بنایا جا رہا تھا... اقتدار کی چھاؤں میں جینے والے مولوی مسلمانوں میں ریلیاں نکلوا رہے تھے... اور دوسری طرف مشرکین سے خفیہ ملاقاتیں بھی جاری تھیں... مسلمانوں کو مشرکین کا خوف دلا دلا کر اپنی تعداد میں ظاہراً اضافہ کیا جا رہا تھا... پھر اسی تعداد کو ان ملت فروش قائدین اقتدار کے قدموں میں گروی بھی رکھ رہے تھے!!... اسے منافقت نہیں تو کون سا نام دیا جائے!!

*ابن الوقت:* تین طلاق بل کے ذریعے مسلمانوں کے شرعی معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے...ذبیحہ پر پابندی... ماب لنچنگ... مسلمانوں کا ہجومی قتل... تعصب کی وارداتیں... کشمیری مسلمانوں پر قیدو بند... مدت سے کرفیو کا نفاذ... انسانی حقوق کی پامالی...عصبیت و دہشت کے سائے دراز ہیں... اِن حالات میں جمعیۃ علما کی قیادت کی آر ایس ایس سربراہ سے ملاقات... کس پہلو کا پتہ دیتی ہے!!... یہ ماضی کی ٹانڈوی تاریخ سے بخوبی اُجاگر ہے... پھر اس کے معاً بعد جمعیۃ کی دوسری قیادت بھی سرگرمِ عمل ہوئی...چچا میاں سے دو قدم بڑھ گئی... حاملینِ شرک سے بغل گیر ہوئی... سلطان ہندوستان اورنگ زیب علیہ الرحمۃ سے موروثی بغض کا اظہار کیا... شرک سے پرانی دوستی کا رشتہ نبھایا... شیواجی کو موحد مسلم بادشاہ پر ترجیح دے دی... اپنی ابن الوقتی کا کھلا مظاہرہ کیا... تہیں چاک ہو رہی ہیں... کفر سے شیر و شکر ہو کر یہ قائدین کون سا پیغام دے رہے ہیں... ہم لائک کرتے ہیں قائدین اہلسنّت کی استقامت کو... جن کا ہمیشہ ایک چہرہ رہا... شرک سے بیزار رہے... کبھی سودے بازی نہیں کی... اب وہ طبقہ جو جمعیۃ علما کے سائے میں جینے کا خواہش مند ہے... وہ اس کا ذاتی معاملہ ہے... لیکن قریب ایک صدی کے حقائق جن کی شرک نوازی پر واضح ہوں... ان سے اتحاد کی بات کس منھ سے کی جاتی ہے... انھیں دو رکعت کے اماموں نے کفر و شرک کو حوصلہ دیا... اب مشرکین کا زور بڑھا تو قوم کو خوف زدہ کیا جا رہا ہے...یاسیت کے کنویں میں ڈھکیلا جا رہا ہے... اسلامی تاریخ خوشنودیِ شرک کے لیے مسخ کی جا رہی ہے... مسلمان! چہرے پہچانیں... اپنا مستقبل مشرک نواز گروہ کے ہاتھ گروی رکھنے سے بچیں...منافقت کی تہیں چاک کر دیں... عزم و یقیں کے ہزاروں چراغ فصیلِ ایمان پر فروزاں کریں...
***
*تجزیہ:* غلام مصطفٰی رضوی
(نوری مشن مالیگاؤں)
gmrazvi92@gmail.com
١٩ ستمبر ٢٠١٩ء
اورنگ زیب سے بہتر حکمراں ...
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جب میں خان صاحب کا جملہ،"آپ لوگوں نے بالکل گھبرانا نہیں"سنتا ہوں تو مجھے کسی کتاب سے پڑھا ایک پرانا واقعہ یاد آ جاتا ہے۔

ایک مرتبہ کابل کے شاہی دربار میں نئے بادشاہ سے کسی نے درخواست کی کہ اسے ایسی توپ بنانے کی اجازت دی جائے جس کا گولہ سیدھا ہندوستان جا کر پورے دہلی شہر اور مضافات کو تباہ کردے۔

بادشاہ سلامت نے خوشی سے اجازت کے ساتھ خرچہ بھی دے دیا۔

اس بندے بڑی محنت سے توپ تیار کرلی تو بادشاہ سلامت سے درخواست کی کہ اب اسے دہلی پر داغنا چاہیے۔

بادشاہ اور وزراء سمیت بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ بلاسٹ ہوا تو وہ توپ خود ہی اڑ گئی۔ ہر طرف دھول مٹی اڑنے لگی۔ تباہی سے چیخیں سنائی دینے لگی۔

بادشاہ نے گھبراہٹ کے عالم میں توپچی سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا؟

توپچی نے فخریہ انداز میں سینہ تان کر کہا جہاں پناہ! آپ نے بالکل گھبرانا نہیں۔ جب یہاں پر اتنی تباہی ہوئی ہے تو دہلی کا کیا حال ہوا ہوگا۔

منقول
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2813627068916602&id=100008080090753
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM