Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی ۔ آخری پارٹ
آج ہی اس بات کو مان لیجیے کہ پیار میں سوائے تکلیف، جدائی اور درد کے کچھ حاصل نہیں ہوتا.....
پیار مت کیجیے،
وہ کہتے ہیں نہ کہ آگ لگا لیجیے پر دل نہ لگائیے۔
اگر پل پل جلنے اور خود کو ہلاکت کے لیے پیش کرنے کا شوق ہو تو الگ بات ہے۔
یہ کہانیاں اکثر ادھوری رہ جاتی ہیں۔
یہ اصل زندگی ہے، فلمیں یا ڈرامہ نہیں کہ آخر تک سب اچھا ہو جائے۔
ہیپی اینڈنگ (Happy Ending) ان معاملات میں نہ کے برابر ہوتی ہیں اور فقط جدائی ہی ہاتھ آتی ہے۔
آپ زمانے کے عاشقوں کی کہانیاں پڑھ لیجیے، معلوم ہوگا کہ اس پیار نے انھیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔
رات بلکہ راتیں آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتی ہیں،
انسان اپنی صلاحیتوں کو کھو دیتا ہے بلکہ خود کو بھول جاتا ہے اور جو خود سے غافل ہو جائے پھر اس سے خیر کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔
دل و دماغ بس ایک محبوب کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں اور زمانے میں جو کچھ ہے، یاد نہیں رہتا۔
ایک دوسرے کا ساتھ پانے کے لیے کیا کیا نہیں کرتے پر ہوتا یہ ہے کہ اکثر کو ساتھ نصیب نہیں ہوتا اور اگر ہو جائے تو اس کے بعد پھر جدائی گلے آ لگتی ہے۔
یہ پیار ایک ایسی بلا ہے جس سے پناہ مانگنی چاہیے اور اگر کسی سے ہو جائے تو اب قدم پھونک پھونک کر آگے رکھنے کے بجائے الٹے پاؤں لوٹ آئیں تو سلامتی کی طرف آئیں گے ورنہ آگے بڑھنے پر انجام کیا ہوگا کچھ پتا نہیں۔
اللہ تعالی ہمیں اپنی محبت عطا کرے، اپنے پیارے نبی کا عشق عطا فرمائے کہ جن کی یاد میں گزرا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کہلا سکتا۔
رب کریم ہمیں اس بیماری سے بچائے جس کے بیمار دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوتے ہیں۔
عبد مصطفی
آج ہی اس بات کو مان لیجیے کہ پیار میں سوائے تکلیف، جدائی اور درد کے کچھ حاصل نہیں ہوتا.....
پیار مت کیجیے،
وہ کہتے ہیں نہ کہ آگ لگا لیجیے پر دل نہ لگائیے۔
اگر پل پل جلنے اور خود کو ہلاکت کے لیے پیش کرنے کا شوق ہو تو الگ بات ہے۔
یہ کہانیاں اکثر ادھوری رہ جاتی ہیں۔
یہ اصل زندگی ہے، فلمیں یا ڈرامہ نہیں کہ آخر تک سب اچھا ہو جائے۔
ہیپی اینڈنگ (Happy Ending) ان معاملات میں نہ کے برابر ہوتی ہیں اور فقط جدائی ہی ہاتھ آتی ہے۔
آپ زمانے کے عاشقوں کی کہانیاں پڑھ لیجیے، معلوم ہوگا کہ اس پیار نے انھیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔
رات بلکہ راتیں آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتی ہیں،
انسان اپنی صلاحیتوں کو کھو دیتا ہے بلکہ خود کو بھول جاتا ہے اور جو خود سے غافل ہو جائے پھر اس سے خیر کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔
دل و دماغ بس ایک محبوب کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں اور زمانے میں جو کچھ ہے، یاد نہیں رہتا۔
ایک دوسرے کا ساتھ پانے کے لیے کیا کیا نہیں کرتے پر ہوتا یہ ہے کہ اکثر کو ساتھ نصیب نہیں ہوتا اور اگر ہو جائے تو اس کے بعد پھر جدائی گلے آ لگتی ہے۔
یہ پیار ایک ایسی بلا ہے جس سے پناہ مانگنی چاہیے اور اگر کسی سے ہو جائے تو اب قدم پھونک پھونک کر آگے رکھنے کے بجائے الٹے پاؤں لوٹ آئیں تو سلامتی کی طرف آئیں گے ورنہ آگے بڑھنے پر انجام کیا ہوگا کچھ پتا نہیں۔
اللہ تعالی ہمیں اپنی محبت عطا کرے، اپنے پیارے نبی کا عشق عطا فرمائے کہ جن کی یاد میں گزرا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کہلا سکتا۔
رب کریم ہمیں اس بیماری سے بچائے جس کے بیمار دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوتے ہیں۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#انعامی_تقریری_مقابلہ
طالبان علوم دینیہ میں وعظ و نصیحت کا درست معنی و مفہوم اور معیاری خطابت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے *"تحریک علمائے بندیل کھنڈ"* کی جانب سے 8 ربیع النور شریف کو طلبۂ علوم دینیہ کے مابین ایک معیاری *"انعامی تقریری مقابلہ"* کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس میں *پورے بندیل کھنڈ سے طلبہ حصہ لے سکتے ہیں۔*
#شرائط_مقابلہ:
*1* واٹس اپ پر رجسٹریشن کرانا ہوگا جس کی آخری تاریخ *10* صفر المظفر ہوگی۔
*2* رجسٹریشن کے لیے اپنا نام، ولدیت، عمر، تعلیم اور اس ادارہ کا نام جہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
*3* رجسٹریشن کے بعد پہلی فرصت میں تحریک کے منتخب کردہ عناوین میں سے اپنا عنوان منتخب کرلیں۔
*4* پہلا آن لائن ٹیسٹ *25* صفر المظفر کو ہوگا اس کے بعد *01* ربیع الاوّل شریف کو دوسرا آن لائن ٹیسٹ ہوگا۔
*5* تقریری مواد لکھ کر لانا لازم ہوگا۔ اور مواد میں حوالوں کا التزام ضروری ہوگا۔
*6* تقریر مہذب انداز میں عالمانہ جاہ و جلال کے ساتھ کرنی ہوگی، چلّانے یا مائک ہلانے والے ڈسکوالیفائی کردیے جائیں گے۔
*7* جو لوگ دونوں آن لائن ٹیسٹ پاس کرلیں گے، وہی مقابلہ میں شرکت کے لیے مدعو کیے جائیں گے۔
*8* مقابلے میں شرکت کرنے والوں کو سرٹیفکیٹ، شیلڈ اور انعام سے نوازا جائے گا۔
*9* مقابلے میں شرکت کرنے والے سبھی طلبہ کے زادِ سفر کا انتظام تحریک کے ذمہ ہوگا۔
*10* تین ججوں کا پینل مشارکین کی تقریری لیاقت کا فیصلہ کرے گا۔
تحریک کے ذریعے منتخب کردہ عناوین:
(1) علم کی اہمیت و افادیت
(2) رافضیوں کے گمراہ کن عقائد
(3) عظمتِ صحابہ
(4) جلسہ اور جلوس میں کیا صحیح، کیا غلط
(5) بڑھتی بے دینی کے اسباب و تدارک۔
(6) بھارتی سیاست اور مسلمان
(7) فسادات سے بچنے، جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کیسے کریں؟
(8) بندیل کھنڈ میں علمی قحط کیوں؟ اور اس کا تدارک کیسے ہو؟
(9) بندیل کھنڈ کے مدارس اور تعلیمی معیار کیسے بہتر ہو؟
(10) بندیل کھنڈ میں مسلمانوں کی ترقی کیسے ممکن ہے؟
(11) فروغ اسلام میں بندیل کھنڈ کے مدارس کا رول.
(12) جلوس عید میلاد النبی میں کیا کریں، کیا نہ کریں۔
(13) بندیل کھنڈ میں مسلم ڈاکٹروں کی کمی کو کیسے دور کیا جائے؟
(14) مدارس کے طلبہ میڈیکل سائنس میں کیسے اپنا مقام بنا سکتے ہیں؟
(15) علمائے بندیل کھنڈ کا اتحاد و اتفاق ضروری کیوں؟
(16) تحریک علمائے بندیل کھنڈ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور مقاصد کیا ہیں؟
(17) طلباء مدارس عصری تعلیم سے کیسے جڑیں۔
(18) طلبائے مدارس یونیورسٹی کیسے پہنچیں؟
(19) سیاست اور اسلام؛ ضرورت و اہمیت.
(20) مستحبات میں ہونے والا پیسہ ضروری بنیادی کاموں میں صرف کریں۔
(21) کورونا کے بعد فضول خرچی پر کیسے قابو پایا جائے؟
خواہش مند طلبہ مذکورہ عناوین میں سے کسی ایک کو منتخب کرکے جلد از جلد رجسٹریشن کرائیں۔
#رابطہ:
تحریک علمائے بندیل کھنڈ
واٹس اپ اور کال نمبر: 7703091212
محمد زاہد علی مرکزی
چیئر مین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
طالبان علوم دینیہ میں وعظ و نصیحت کا درست معنی و مفہوم اور معیاری خطابت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے *"تحریک علمائے بندیل کھنڈ"* کی جانب سے 8 ربیع النور شریف کو طلبۂ علوم دینیہ کے مابین ایک معیاری *"انعامی تقریری مقابلہ"* کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس میں *پورے بندیل کھنڈ سے طلبہ حصہ لے سکتے ہیں۔*
#شرائط_مقابلہ:
*1* واٹس اپ پر رجسٹریشن کرانا ہوگا جس کی آخری تاریخ *10* صفر المظفر ہوگی۔
*2* رجسٹریشن کے لیے اپنا نام، ولدیت، عمر، تعلیم اور اس ادارہ کا نام جہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
*3* رجسٹریشن کے بعد پہلی فرصت میں تحریک کے منتخب کردہ عناوین میں سے اپنا عنوان منتخب کرلیں۔
*4* پہلا آن لائن ٹیسٹ *25* صفر المظفر کو ہوگا اس کے بعد *01* ربیع الاوّل شریف کو دوسرا آن لائن ٹیسٹ ہوگا۔
*5* تقریری مواد لکھ کر لانا لازم ہوگا۔ اور مواد میں حوالوں کا التزام ضروری ہوگا۔
*6* تقریر مہذب انداز میں عالمانہ جاہ و جلال کے ساتھ کرنی ہوگی، چلّانے یا مائک ہلانے والے ڈسکوالیفائی کردیے جائیں گے۔
*7* جو لوگ دونوں آن لائن ٹیسٹ پاس کرلیں گے، وہی مقابلہ میں شرکت کے لیے مدعو کیے جائیں گے۔
*8* مقابلے میں شرکت کرنے والوں کو سرٹیفکیٹ، شیلڈ اور انعام سے نوازا جائے گا۔
*9* مقابلے میں شرکت کرنے والے سبھی طلبہ کے زادِ سفر کا انتظام تحریک کے ذمہ ہوگا۔
*10* تین ججوں کا پینل مشارکین کی تقریری لیاقت کا فیصلہ کرے گا۔
تحریک کے ذریعے منتخب کردہ عناوین:
(1) علم کی اہمیت و افادیت
(2) رافضیوں کے گمراہ کن عقائد
(3) عظمتِ صحابہ
(4) جلسہ اور جلوس میں کیا صحیح، کیا غلط
(5) بڑھتی بے دینی کے اسباب و تدارک۔
(6) بھارتی سیاست اور مسلمان
(7) فسادات سے بچنے، جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کیسے کریں؟
(8) بندیل کھنڈ میں علمی قحط کیوں؟ اور اس کا تدارک کیسے ہو؟
(9) بندیل کھنڈ کے مدارس اور تعلیمی معیار کیسے بہتر ہو؟
(10) بندیل کھنڈ میں مسلمانوں کی ترقی کیسے ممکن ہے؟
(11) فروغ اسلام میں بندیل کھنڈ کے مدارس کا رول.
(12) جلوس عید میلاد النبی میں کیا کریں، کیا نہ کریں۔
(13) بندیل کھنڈ میں مسلم ڈاکٹروں کی کمی کو کیسے دور کیا جائے؟
(14) مدارس کے طلبہ میڈیکل سائنس میں کیسے اپنا مقام بنا سکتے ہیں؟
(15) علمائے بندیل کھنڈ کا اتحاد و اتفاق ضروری کیوں؟
(16) تحریک علمائے بندیل کھنڈ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور مقاصد کیا ہیں؟
(17) طلباء مدارس عصری تعلیم سے کیسے جڑیں۔
(18) طلبائے مدارس یونیورسٹی کیسے پہنچیں؟
(19) سیاست اور اسلام؛ ضرورت و اہمیت.
(20) مستحبات میں ہونے والا پیسہ ضروری بنیادی کاموں میں صرف کریں۔
(21) کورونا کے بعد فضول خرچی پر کیسے قابو پایا جائے؟
خواہش مند طلبہ مذکورہ عناوین میں سے کسی ایک کو منتخب کرکے جلد از جلد رجسٹریشن کرائیں۔
#رابطہ:
تحریک علمائے بندیل کھنڈ
واٹس اپ اور کال نمبر: 7703091212
محمد زاہد علی مرکزی
چیئر مین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#دقت_مغلوں_سے_نہیں_مسلمانوں_سے_ہے!!
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
اتر پردیش حکومت نے آگرہ میں زیر تعمیر *"مغل میوزیم*" کا نام بدل کر شواجی میوزیم کردیا ہے۔ تبدیلی نام کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے صوبے کے مُکھیا یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ "مغل ہمارے ہیرو نہیں ہوسکتے اور اتر پردیش میں ہم غلامی کی کسی یادگار کو رہنے نہیں دیں گے"۔
یوپی میں تبدیلی نام کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے، حکومت سازی کے بعد سے ہی مغلوں اور اسلامی ناموں کو بدلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے پہلے یوگی حکومت نے اِلٰہ آباد کو پریاگ راج، فیض آباد کو اجودھیا، مغل سرائے جنکشن کو پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن، کردیا۔شہروں کے ناموں سے جی نہیں بھرا تو مُحَلّوں کے نام بدلنے پر اتر آئے،اس کڑی میں گورکھ پور کے علی نگر کو آریہ نگر، اردو بازار کو ہندی بازار، ہمایوں نگر کو ہنومان نگر، مینا بازار کو مایا بازار، کردیا اور اب تازہ تازہ مغل میوزیم کا نام بدل ڈالا۔
تبدیلی نام کی یہ مہم اصل میں نفسیاتی طور پر اسلام دشمنی کا اظہاریہ ہے۔ برطانوی راج میں مسلم بادشاہوں کی کردار کشی کی منظم سازش شروع ہوئی تھی۔ انگریز چلے گئے مگر نفرت کم نہیں ہوئی۔ اسی نفرت کا اثر ہے کہ ہمارے ملک میں ایک ایسا بڑا طبقہ تیار ہوچکا ہے جو مسلم بادشاہوں کے دور کو غلامی سے تعبیر کرتا ہے۔مسلم بادشاہوں بالخصوص مغلوں کو باہری حملہ آور قرار دیتے ہیں۔یہ بات تاریخی طور پر درست ہے کہ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیرالدین محمد بابر(م:1530ء) باہر سے آئے، لیکن مزیدار بات یہ ہے کہ بابر نے ہندوستان کے کسی ہندو راجہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ ایک مسلم بادشاہ سلطان ابراہیم شاہ لودھی
(م:1526ء) سے لڑنے کے لیے ہندوستان کا رخ کیا تھا۔ اس سے بھی مزیدار بات یہ ہے کہ بابر کو ہندوستان پر حملہ کی دعوت دینے والا ایک ہندو راجہ رانا سانگا(م:1527ء) تھا۔ اسی کی دعوت پر بابر کے قدم ہندوستان میں پڑے، اپنی جنگی مہارت کی بدولت ہندوستان کا بڑا حصہ فتح کیا اور مغل سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ ان کی آنے والی نسلیں ہندوستان میں ہی پیدا ہوئیں جنہوں نے ہمت وبہادری کی بدولت ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ملک کو ایک نظام کا حصہ بنایا۔ خوب صورت عمارتیں تعمیر کرائیں، بڑے بڑے راستے، تعلیمی و قانونی ادارے، سرائے، مسافر خانے، تجارتی منڈیاں اور زراعت کا بہترین نظام وضع کرکے ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنایا۔ امریکی محقق Cris Mathew "ٹائم میگزین" میں لکھتے ہیں:
"مغلوں کے عہد میں بھارت کی جی ڈی پی دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی %25 فیصد تھی۔(آج آزادی کے 70 سال بعد بھارت کا جی ڈی پی مائنس میں پہنچ چکا ہے)
جیفری ولیمسن اور ڈیوڈ کلنگ اسمتھ اپنی کتاب India's Di-industrialization in 18the and 19the century میں لکھتے ہیں:
"مغل بھارت، تعمیرات اور پیداوار میں دنیا کا لیڈر تھا...اس وقت بھارت میں فی کس آمدنی آج کے برطانیہ اور فرانس کے برابر تھی۔ اسی اقتصادی مضبوطی نے یورپین لوگوں کو بھارت آنے پر مجبور کیا۔"
عہد مغل میں بھارت کی خوش حالی کا یہ عالم تھا کہ جب انگریز پہلی مرتبہ ہندوستان آئے تو انہوں نے رات کو دلّی کی سڑکوں پر بڑے بڑے چراغ جلتے دیکھے تو حیرت سے دانتوں تلے انگلیاں دبالیں کیوں کہ اس وقت تک برطانیہ میں شام ہوتے ہی سناٹا چھا جاتا تھا کیوں کہ نہ لندن کی سڑکیں اس لائق تھیں کہ رات کو ٹہلا جائے نہ چراغوں کو روشن کرنے کا منصوبہ تھا اور نہ ہی پیسہ!
لیکن عہد مغل میں دہلی کی سڑکیں رات میں بھی دن کا نظارہ پیش کرتی تھیں۔
*مغلوں سے نفرت تو انگریزوں سے پیار کیوں؟*
بابر کے علاوہ سارے مغل بادشاہ اسی ملک میں پیدا ہوئے، اور اسی مٹی میں دفن ہوئے۔مغلوں نے سب کچھ بھارت کے لیے کیا، اسے اپنا گھر بنایا لیکن انگریزوں کے لئے بھارت صرف ایک منڈی تھا جی بھر کر لوٹا اور سب کچھ لوٹ لاٹ کر اپنے وطن واپس بھاگ گئے۔بھارت کا کوہِ نور ہِیرا آج بھی انگریزی لوٹ پاٹ کا سب سے بڑا ثبوت ہے جو آج تک انگلینڈ میں موجود ہے۔
لیکن شدت پسندوں کا ٹولہ مغل حکومت کو دور غلامی کہتا ہے لیکن انگریزوں سے پیار کرتا ہے۔حالانکہ مغلوں کی طرح انگریز بھی بدیسی تھے، مغلوں نے اپنی ہمت وبہادری کی بنیاد پر انصاف پسند سلطنت قائم کی جبکہ انگریزوں نے مکاری وفریب سے ملک پر قبضہ کیا، مغلوں نے جو کیا یہاں کے لیے کیا جبکہ انگریز یہاں کی دولت لوٹ کر انگلینڈ لے گئے۔ لیکن شدت پسند، مغلیہ نشانیوں کو غلامی کی یادگار کہہ کر ان کا نام بدلنے اور انہیں ختم کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن انگریزوں کی قائم کردہ عمارتوں، شہروں اور مارکیٹ کے ناموں سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے، انگریزی نام بدستور برقرار ہیں، ایک مختصر فہرست یہ رہی:
1- کنگ جارج میڈیکل کالج، لکھنؤ
2- رائٹرس بلڈنگ، کلکتہ
3- راشٹر پتی بھون، دہلی
4- کناٹ پیلس، دہلی
5- سینٹ پال کیتھ ڈریل چرچ، کلکتہ
6- فورٹ ولیم، کلکتہ
7- وکٹوریہ میموریل، کلکتہ
8- کونسل ہاؤس، لکھنؤ
9- مے یو میموریل ہال، الہ آباد
10- گیٹ وے
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
اتر پردیش حکومت نے آگرہ میں زیر تعمیر *"مغل میوزیم*" کا نام بدل کر شواجی میوزیم کردیا ہے۔ تبدیلی نام کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے صوبے کے مُکھیا یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ "مغل ہمارے ہیرو نہیں ہوسکتے اور اتر پردیش میں ہم غلامی کی کسی یادگار کو رہنے نہیں دیں گے"۔
یوپی میں تبدیلی نام کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے، حکومت سازی کے بعد سے ہی مغلوں اور اسلامی ناموں کو بدلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے پہلے یوگی حکومت نے اِلٰہ آباد کو پریاگ راج، فیض آباد کو اجودھیا، مغل سرائے جنکشن کو پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن، کردیا۔شہروں کے ناموں سے جی نہیں بھرا تو مُحَلّوں کے نام بدلنے پر اتر آئے،اس کڑی میں گورکھ پور کے علی نگر کو آریہ نگر، اردو بازار کو ہندی بازار، ہمایوں نگر کو ہنومان نگر، مینا بازار کو مایا بازار، کردیا اور اب تازہ تازہ مغل میوزیم کا نام بدل ڈالا۔
تبدیلی نام کی یہ مہم اصل میں نفسیاتی طور پر اسلام دشمنی کا اظہاریہ ہے۔ برطانوی راج میں مسلم بادشاہوں کی کردار کشی کی منظم سازش شروع ہوئی تھی۔ انگریز چلے گئے مگر نفرت کم نہیں ہوئی۔ اسی نفرت کا اثر ہے کہ ہمارے ملک میں ایک ایسا بڑا طبقہ تیار ہوچکا ہے جو مسلم بادشاہوں کے دور کو غلامی سے تعبیر کرتا ہے۔مسلم بادشاہوں بالخصوص مغلوں کو باہری حملہ آور قرار دیتے ہیں۔یہ بات تاریخی طور پر درست ہے کہ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیرالدین محمد بابر(م:1530ء) باہر سے آئے، لیکن مزیدار بات یہ ہے کہ بابر نے ہندوستان کے کسی ہندو راجہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ ایک مسلم بادشاہ سلطان ابراہیم شاہ لودھی
(م:1526ء) سے لڑنے کے لیے ہندوستان کا رخ کیا تھا۔ اس سے بھی مزیدار بات یہ ہے کہ بابر کو ہندوستان پر حملہ کی دعوت دینے والا ایک ہندو راجہ رانا سانگا(م:1527ء) تھا۔ اسی کی دعوت پر بابر کے قدم ہندوستان میں پڑے، اپنی جنگی مہارت کی بدولت ہندوستان کا بڑا حصہ فتح کیا اور مغل سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ ان کی آنے والی نسلیں ہندوستان میں ہی پیدا ہوئیں جنہوں نے ہمت وبہادری کی بدولت ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ملک کو ایک نظام کا حصہ بنایا۔ خوب صورت عمارتیں تعمیر کرائیں، بڑے بڑے راستے، تعلیمی و قانونی ادارے، سرائے، مسافر خانے، تجارتی منڈیاں اور زراعت کا بہترین نظام وضع کرکے ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنایا۔ امریکی محقق Cris Mathew "ٹائم میگزین" میں لکھتے ہیں:
"مغلوں کے عہد میں بھارت کی جی ڈی پی دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی %25 فیصد تھی۔(آج آزادی کے 70 سال بعد بھارت کا جی ڈی پی مائنس میں پہنچ چکا ہے)
جیفری ولیمسن اور ڈیوڈ کلنگ اسمتھ اپنی کتاب India's Di-industrialization in 18the and 19the century میں لکھتے ہیں:
"مغل بھارت، تعمیرات اور پیداوار میں دنیا کا لیڈر تھا...اس وقت بھارت میں فی کس آمدنی آج کے برطانیہ اور فرانس کے برابر تھی۔ اسی اقتصادی مضبوطی نے یورپین لوگوں کو بھارت آنے پر مجبور کیا۔"
عہد مغل میں بھارت کی خوش حالی کا یہ عالم تھا کہ جب انگریز پہلی مرتبہ ہندوستان آئے تو انہوں نے رات کو دلّی کی سڑکوں پر بڑے بڑے چراغ جلتے دیکھے تو حیرت سے دانتوں تلے انگلیاں دبالیں کیوں کہ اس وقت تک برطانیہ میں شام ہوتے ہی سناٹا چھا جاتا تھا کیوں کہ نہ لندن کی سڑکیں اس لائق تھیں کہ رات کو ٹہلا جائے نہ چراغوں کو روشن کرنے کا منصوبہ تھا اور نہ ہی پیسہ!
لیکن عہد مغل میں دہلی کی سڑکیں رات میں بھی دن کا نظارہ پیش کرتی تھیں۔
*مغلوں سے نفرت تو انگریزوں سے پیار کیوں؟*
بابر کے علاوہ سارے مغل بادشاہ اسی ملک میں پیدا ہوئے، اور اسی مٹی میں دفن ہوئے۔مغلوں نے سب کچھ بھارت کے لیے کیا، اسے اپنا گھر بنایا لیکن انگریزوں کے لئے بھارت صرف ایک منڈی تھا جی بھر کر لوٹا اور سب کچھ لوٹ لاٹ کر اپنے وطن واپس بھاگ گئے۔بھارت کا کوہِ نور ہِیرا آج بھی انگریزی لوٹ پاٹ کا سب سے بڑا ثبوت ہے جو آج تک انگلینڈ میں موجود ہے۔
لیکن شدت پسندوں کا ٹولہ مغل حکومت کو دور غلامی کہتا ہے لیکن انگریزوں سے پیار کرتا ہے۔حالانکہ مغلوں کی طرح انگریز بھی بدیسی تھے، مغلوں نے اپنی ہمت وبہادری کی بنیاد پر انصاف پسند سلطنت قائم کی جبکہ انگریزوں نے مکاری وفریب سے ملک پر قبضہ کیا، مغلوں نے جو کیا یہاں کے لیے کیا جبکہ انگریز یہاں کی دولت لوٹ کر انگلینڈ لے گئے۔ لیکن شدت پسند، مغلیہ نشانیوں کو غلامی کی یادگار کہہ کر ان کا نام بدلنے اور انہیں ختم کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن انگریزوں کی قائم کردہ عمارتوں، شہروں اور مارکیٹ کے ناموں سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے، انگریزی نام بدستور برقرار ہیں، ایک مختصر فہرست یہ رہی:
1- کنگ جارج میڈیکل کالج، لکھنؤ
2- رائٹرس بلڈنگ، کلکتہ
3- راشٹر پتی بھون، دہلی
4- کناٹ پیلس، دہلی
5- سینٹ پال کیتھ ڈریل چرچ، کلکتہ
6- فورٹ ولیم، کلکتہ
7- وکٹوریہ میموریل، کلکتہ
8- کونسل ہاؤس، لکھنؤ
9- مے یو میموریل ہال، الہ آباد
10- گیٹ وے
آف انڈیا، ممبئی
11- انڈیا گیٹ، دہلی
12- سینٹ میری چرچ، چنئی
آج تک کسی شدت پسند نے بھی انگریزی عمارتوں اور ان کے ناموں پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ آکرانتا اور حملہ آور بتا کر یہ لوگ بھارت کے رہائشی مسلم بادشاہوں کو گالیاں دیتے اور بدیسی کہتے ہیں، مگر اپنے گورے آقا انگریزوں کا کبھی نام بھی نہیں لیتے، جو حقیقتاً آکرانتا اور حملہ آور تھے جنھوں نے تقریبا 200 سال تک بھارت کو لوٹا اور آخرکار دیش کی بےتحاشا دولت لُوٹ کر اپنے ملک چلے گئے. !!
ایک طرف *اکھنڈ بھارت* کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری جانب مغلوں کو غیر ملکی کہتے ہیں اس منافقت سے صاف ظاہر ہے کہ معاملہ مغلوں کا نہیں بلکہ مسلمانوں کا ہے۔ انہیں صرف ان عمارتوں سے پریشانی ہے جو انہیں مسلمانوں کی شان وشوکت یاد دلائے۔ ہر اس نام سے دقت ہے جس سے اسلامی پہچان ظاہر ہو اسی لیے ان کی نفرت مغلوں کی تعمیر کردہ عمارتوں اور شہروں پر دکھتی ہے لیکن انہیں یہ قدرتی اصول یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار کی بقا انصاف سے ہے اگر انصاف نہیں کیا گیا تو اقتدار بھی باقی نہیں رہے گا۔
29 محرم الحرام 1442ھ
18 ستمبر 2020 بروز جمعہ
11- انڈیا گیٹ، دہلی
12- سینٹ میری چرچ، چنئی
آج تک کسی شدت پسند نے بھی انگریزی عمارتوں اور ان کے ناموں پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ آکرانتا اور حملہ آور بتا کر یہ لوگ بھارت کے رہائشی مسلم بادشاہوں کو گالیاں دیتے اور بدیسی کہتے ہیں، مگر اپنے گورے آقا انگریزوں کا کبھی نام بھی نہیں لیتے، جو حقیقتاً آکرانتا اور حملہ آور تھے جنھوں نے تقریبا 200 سال تک بھارت کو لوٹا اور آخرکار دیش کی بےتحاشا دولت لُوٹ کر اپنے ملک چلے گئے. !!
ایک طرف *اکھنڈ بھارت* کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری جانب مغلوں کو غیر ملکی کہتے ہیں اس منافقت سے صاف ظاہر ہے کہ معاملہ مغلوں کا نہیں بلکہ مسلمانوں کا ہے۔ انہیں صرف ان عمارتوں سے پریشانی ہے جو انہیں مسلمانوں کی شان وشوکت یاد دلائے۔ ہر اس نام سے دقت ہے جس سے اسلامی پہچان ظاہر ہو اسی لیے ان کی نفرت مغلوں کی تعمیر کردہ عمارتوں اور شہروں پر دکھتی ہے لیکن انہیں یہ قدرتی اصول یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار کی بقا انصاف سے ہے اگر انصاف نہیں کیا گیا تو اقتدار بھی باقی نہیں رہے گا۔
29 محرم الحرام 1442ھ
18 ستمبر 2020 بروز جمعہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
باسمہ تعالیٰ وبحمدہ والصلوٰۃوالسلام علیٰ رسولہ الاعلیٰ وآلہ
اسلامی تہذیب وثقافت اور مسلم معاشرہ
مذہب اسلام نے انتہائی دلکش تہذیب ومعاشرت اور تمدن وثقافت دنیا کو عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام حضوراقدس سیدنا محمد مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اخلاق وکردار کا اعلیٰ نمونہ بنا کر کائنات انسانی میں مبعوث فرمایا اور ارشاد فرمایا:
(انک لعلی خلق عظیم) (سورہ قلم:آیت4)
اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول کواعلیٰ اخلاق وکردار سے مزین فرمایاہے، اور آں حضرت علیہ الصلوٰۃوالسلام کو دین ومذہب کے ساتھ اخلاق حسنہ کی تعلیم کے لیے بھی مبعوث فرمایا گیا،تاکہ ساری دنیا میں ایک صالح ثقافتی معاشرہ جلوہ گر ہوسکے۔
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:”بعثت لاتمم مکارم الاخلاق۔
اسلامی تہذیب وثقافت کا مفصل بیان فقہ کی کتابوں میں ”کتاب الحظروالاباحہ“میں مرقوم ہوتا ہے۔
صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃوالرضوان نے بہارشریعت کے سولہویں حصے میں اسلامی آداب واحکام اور اخلاق وثقافت کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمادیا ہے۔یہ حصہ ”اسلامی اخلاق وآداب“کے نام سے ہندو پاک میں کئی بارشائع ہوچکا ہے۔
اگراسلامی تہذیب واخلاق کو مضبوطی کے ساتھ اختیار کر لیا جائے تو ایک صالح معاشرہ پلک جھپکتے وجود میں آسکتا ہے۔
اب قوم مسلم اسلامی اخلاق عالیہ اور اسلامی تہذیب وثقافت سے کنارہ کش ہوتی جارہی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب خود علما وائمہ اسلامی تہذیب وثقافت سے دستبردار ہوتے جارہے ہیں تو پھر عوام کا کیا حال ہوگا۔
دراصل یہ ایک بڑی غلط فہمی اورایک تباہ کن فکری عیب ہے۔
مسلمان اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کا پڑھتے ہیں اور جب عمل کی بات آتی ہے تو علما وائمہ کی مثال پیش کرتے ہیں۔ہر مومن کو اللہ ورسول(عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرنا ہے۔اگر بالفرض کسی عالم یا کسی امام نے کسی حکم پر عمل نہیں کیا تو یہ اس کا عمل ہے۔اس بارے میں خوداسی سے سوال ہوگا،نہ کہ آپ سے سوال ہوگا۔
یہ شیطانی فریب ہے۔ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔شیطان مومن بندوں کو صحیح راہ سے بھٹکانے کے واسطے طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے۔ مرنے کے بعد ہرشخص سے اس کے ایمان وعمل کے بارے میں سوال ہوگا،نہ کہ دوسروں کے ایمان وعمل کاسوال ہوگا۔
ہرایک کواپنی آخرت کی فکر کرنی چاہئے۔دوسروں پر انگشت نمائی کرکے کوئی عذاب آخرت سے بچ نہیں سکتا،بلکہ خود اس کی غیبت اور چغل خوری کے گناہ میں مبتلا ہوگا اور یہ نقصان پر نقصان اور دوہری مصیبت ہے۔
اچھائیوں اورنیکیوں میں کسی کی پیروی کی جاتی ہے،نہ کہ برائیوں میں۔سماج اور معاشرے میں چور،جیب کترے، غنڈے اور مختلف برائیوں میں مبتلا لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔
اگر سماج کے لوگ ایسوں کی پیروی کرتے تو برے لوگو ں کی تعداد سماج میں زیادہ ہوتی،حالاں کہ ایسا نہیں۔
معاشرہ کے لوگ ایسے غلط لوگوں سے بھی بچتے ہیں اور ان کے غلط عادات واطوار سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
ہمارے رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام جہاں انسانوں کو دین خداوندی کی تعلیم فرمانے کے واسطے مبعوث ہوئے تھے،وہیں اعلیٰ اخلاق وکردار کی تعلیم دینے کے واسطے بھی دنیا میں جلوہ گرہوئے تھے۔حدیث شریف میں ہے۔
(عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:بعثت لاتمم مکارم الاخلاق)(المستدرک علی الصحیحین:کتاب آیات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جلددوم ص۰۷۶-مکتبہ شاملہ)
ترجمہ:آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں اخلاقی خوبیوں کی تکمیل کے واسطے مبعوث ہوا۔
قرون اولیٰ میں مسلمانوں نے جس آبادی، جس شہر اور جس ملک میں قدم رکھا، وہاں کے لوگ مومنین کے اعلیٰ اخلاق وکردار اور انسانیت نوازی دیکھ کر اپنے دین ومذہب کوچھوڑکر دامن اسلام سے وابستہ ہوگئے،اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اسلام دنیا میں تلوارکے زور سے نہیں پھیلا،بلکہ اخلاق کے سبب پھیلا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام ایک عالم گیرمذہب بن گیا۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل، دہلی
مدیر:ماہنامہ پیغام شریعت (دہلی)
جاری کردہ:19:ستمبر 2020
اسلامی تہذیب وثقافت اور مسلم معاشرہ
مذہب اسلام نے انتہائی دلکش تہذیب ومعاشرت اور تمدن وثقافت دنیا کو عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام حضوراقدس سیدنا محمد مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اخلاق وکردار کا اعلیٰ نمونہ بنا کر کائنات انسانی میں مبعوث فرمایا اور ارشاد فرمایا:
(انک لعلی خلق عظیم) (سورہ قلم:آیت4)
اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول کواعلیٰ اخلاق وکردار سے مزین فرمایاہے، اور آں حضرت علیہ الصلوٰۃوالسلام کو دین ومذہب کے ساتھ اخلاق حسنہ کی تعلیم کے لیے بھی مبعوث فرمایا گیا،تاکہ ساری دنیا میں ایک صالح ثقافتی معاشرہ جلوہ گر ہوسکے۔
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:”بعثت لاتمم مکارم الاخلاق۔
اسلامی تہذیب وثقافت کا مفصل بیان فقہ کی کتابوں میں ”کتاب الحظروالاباحہ“میں مرقوم ہوتا ہے۔
صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃوالرضوان نے بہارشریعت کے سولہویں حصے میں اسلامی آداب واحکام اور اخلاق وثقافت کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمادیا ہے۔یہ حصہ ”اسلامی اخلاق وآداب“کے نام سے ہندو پاک میں کئی بارشائع ہوچکا ہے۔
اگراسلامی تہذیب واخلاق کو مضبوطی کے ساتھ اختیار کر لیا جائے تو ایک صالح معاشرہ پلک جھپکتے وجود میں آسکتا ہے۔
اب قوم مسلم اسلامی اخلاق عالیہ اور اسلامی تہذیب وثقافت سے کنارہ کش ہوتی جارہی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب خود علما وائمہ اسلامی تہذیب وثقافت سے دستبردار ہوتے جارہے ہیں تو پھر عوام کا کیا حال ہوگا۔
دراصل یہ ایک بڑی غلط فہمی اورایک تباہ کن فکری عیب ہے۔
مسلمان اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)کا پڑھتے ہیں اور جب عمل کی بات آتی ہے تو علما وائمہ کی مثال پیش کرتے ہیں۔ہر مومن کو اللہ ورسول(عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرنا ہے۔اگر بالفرض کسی عالم یا کسی امام نے کسی حکم پر عمل نہیں کیا تو یہ اس کا عمل ہے۔اس بارے میں خوداسی سے سوال ہوگا،نہ کہ آپ سے سوال ہوگا۔
یہ شیطانی فریب ہے۔ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔شیطان مومن بندوں کو صحیح راہ سے بھٹکانے کے واسطے طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے۔ مرنے کے بعد ہرشخص سے اس کے ایمان وعمل کے بارے میں سوال ہوگا،نہ کہ دوسروں کے ایمان وعمل کاسوال ہوگا۔
ہرایک کواپنی آخرت کی فکر کرنی چاہئے۔دوسروں پر انگشت نمائی کرکے کوئی عذاب آخرت سے بچ نہیں سکتا،بلکہ خود اس کی غیبت اور چغل خوری کے گناہ میں مبتلا ہوگا اور یہ نقصان پر نقصان اور دوہری مصیبت ہے۔
اچھائیوں اورنیکیوں میں کسی کی پیروی کی جاتی ہے،نہ کہ برائیوں میں۔سماج اور معاشرے میں چور،جیب کترے، غنڈے اور مختلف برائیوں میں مبتلا لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔
اگر سماج کے لوگ ایسوں کی پیروی کرتے تو برے لوگو ں کی تعداد سماج میں زیادہ ہوتی،حالاں کہ ایسا نہیں۔
معاشرہ کے لوگ ایسے غلط لوگوں سے بھی بچتے ہیں اور ان کے غلط عادات واطوار سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
ہمارے رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام جہاں انسانوں کو دین خداوندی کی تعلیم فرمانے کے واسطے مبعوث ہوئے تھے،وہیں اعلیٰ اخلاق وکردار کی تعلیم دینے کے واسطے بھی دنیا میں جلوہ گرہوئے تھے۔حدیث شریف میں ہے۔
(عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:بعثت لاتمم مکارم الاخلاق)(المستدرک علی الصحیحین:کتاب آیات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جلددوم ص۰۷۶-مکتبہ شاملہ)
ترجمہ:آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں اخلاقی خوبیوں کی تکمیل کے واسطے مبعوث ہوا۔
قرون اولیٰ میں مسلمانوں نے جس آبادی، جس شہر اور جس ملک میں قدم رکھا، وہاں کے لوگ مومنین کے اعلیٰ اخلاق وکردار اور انسانیت نوازی دیکھ کر اپنے دین ومذہب کوچھوڑکر دامن اسلام سے وابستہ ہوگئے،اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اسلام دنیا میں تلوارکے زور سے نہیں پھیلا،بلکہ اخلاق کے سبب پھیلا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام ایک عالم گیرمذہب بن گیا۔
طارق انور مصباحی
رکن: روشن مستقبل، دہلی
مدیر:ماہنامہ پیغام شریعت (دہلی)
جاری کردہ:19:ستمبر 2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#اختلافات_کا_تدارک
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
آج امت مسلمہ اختلافات وانتشار کے ایسے بحر عمیق میں غوطہ زن ہے کہ ساحل نجات تک کوئی کرشمہ ہی پہنچا سکتا ہے۔ معاملات ایسے سنجیدہ ہوئے کہ اختلافات کا بھنور علمائے اکابر کی شخصیات سے تجاوز ہوکر صحابہ کرام کی نفوس طیبات تک جا پہنچا۔
لیکن احبا نے ابھی بھی ہوش کے ناخن نہ لئے اور کبھی کبھی تو لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے سلسلہ یا ہمارے نظریہ کے خلاف کسی نے بات کہی ہےتو بس پڑ گئے اس کے پیچھے ہاتھ دھوکر؛ یہ بھی نہ سوچا کہ ہم اپنے مد مقابل کے بغض عناد میں ایسے غلطاں ہیں کہ ہمیں یہ بھی ہوش نہیں کہ اپنے مخالف کی تردید میں صحابہ کرام تک پر انگشت نمائی کر بیٹھے۔
ہم میدان محشر کے متعلق سنتے آئے ہیں کہ نفسی نفسی کا عالم ہوگا مگر یہاں بھی ایک محشر بپا ہے اور یہاں بھی نفسی نفسی کا عالم ہے مگر یہ نفس پرستی کا محشر ہے نفس پرستی میں ایسے مبتلا ہو گئے ہیں کہ ہمیں اپنے نفس کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ "ہم، ہمارا، ہم سب، ہماری قوم، ہمارے اسلاف" کی جگہ "میں، میرا، فقط میرا، میرا سلسلہ، میرا مرشد، میرا گروہ" جیسے الفاط نے لے لی۔
ارے میرے بھائی! یہ تکبر، یہ نفس پرستی کس کام کی؟ یاد رکھو! یہ ایوان نما خانقاہیں، یہ بادشاہوں کو بھی شرمندہ کردینے والی شان و شوکت اور مریدین کی شکل میں غلام, انعام جاودانی اور سرمایہ دائمی نہیں ہیں۔ کسی فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
چنانکہ دست بدست آمدست ملک بنا
بدستہائے دگر ہمچنیں بخواہد رفت
اپنے اپنے عالیشان محلات اور ایوان نما خانقاہوں کے در و دیوار کو صحابہ کرام اور اکابرین کی بےحرمتی کے کالے پانی سے چمکانے کی ناکام کوششیں کرنے والو یاد رکھو !
بزرگش نہ خوانند اہل خرد
کہ نام بزرگاں بزشتی برد
کسی کے بلند مرتبہ اور عظیم منصب سے حسد کرنے والو! کبھی یہ نہیں سوچا کہ انہیں وہ بلند مرتبہ اور عظیم منصب کس نے عطا فرمایا ہے؟ ارشاد ربانی دیکھو:
اَمۡ یَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ
یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔
اور جسے اللہ بڑھائے اسے کون گھٹا سکتا ہے؟ اسی لئیے تو میرا امام گویا ہے:
تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
جب بڑھائے تجھے اللہ تعالی تیرا
اے حاسدو! تمھارا ان نفوس طیبات پر کیچڑ اچھالنا سورج پر سیاہی پھینک کر اسے مندمل کرنے کی کوشش جیسا ہے کہ اس سے سورج کو تو کوئی فرق پڑنے والا نہیں البتہ تمھارے ہی منہ کالے ہونے کا یقین کامل ضرور ہے۔
ہاں! مگر تمھاری ان ریشہ دوانیوں سے عوام اہل سنت میں کافی اضطراب اور خلفشار پیدا ہوجاتا ہے، اور اگر یہی حال رہا تو کچھ وقت بعد یہی اختلافات عوام کو علماے کرام اور پیران عظام سے بیزار ضرور کر دینگے۔
#حسد_اور_بدظنی
ان سارے اختلافات اور انتشارات کی بنیاد بد ظنی اور حسد ہیں۔ ایک عالم کا لبادہ اوڑھنے والا جاہل دوسرے عالم کی مقبولیت کا حاسد اور اس سے بد ظن ہے۔ ایک جاہل اور ڈھونگی پیر دوسرے پیر کی مقبولیت کا حاسد اور اس سے بد ظن ہے۔ اور عوام اپنے ایسے جاہل اور نااہل پیشواؤں کی وجہ سے اپنے مسلمان بھائیوں سے بد ظنی اورحسد میں مبتلا ہیں؛ جبکہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: ایاکم والظن ترجمہ : بدگمانی سے بچو!
اور فرمان محسن کائنات ﷺ:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ""إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو، بدگمانی اکثر تحقیق کے بعد جھوٹی بات ثابت ہوتی ہے اور کسی کے عیوب ڈھونڈنے کے پیچھے نہ پڑو، کسی کا عیب خواہ مخواہ مت ٹٹولو اور کسی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ بڑھاؤ اور حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔.
اس حدیث پاک کا ایک ایک لفظ ایسا ہے جس پر عمل کر کے ہم تمام طرح کے اختلافات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتے ہیں ۔
#عیوب_کی_تشہر
ایک اور چیز ہے جو ہمارے مابین تفریق کو بڑھانے میں ایسا کام کرتی ہے جیسا آگ میں گھی، اور وہ ہے کسی کے عیوب کی تشہیر، ہمین اگر کسی کی کوئی بات معلوم ہوجائے تو ہم اسے ہر ممکن ذریعہ ابلاغ سے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہمارے پیارے آقا ﷺ کا ارشاد پاک ہے:
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْ
محمد شاہد علی مصباحی
رکن: روشن مستقبل دہلی
آج امت مسلمہ اختلافات وانتشار کے ایسے بحر عمیق میں غوطہ زن ہے کہ ساحل نجات تک کوئی کرشمہ ہی پہنچا سکتا ہے۔ معاملات ایسے سنجیدہ ہوئے کہ اختلافات کا بھنور علمائے اکابر کی شخصیات سے تجاوز ہوکر صحابہ کرام کی نفوس طیبات تک جا پہنچا۔
لیکن احبا نے ابھی بھی ہوش کے ناخن نہ لئے اور کبھی کبھی تو لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے سلسلہ یا ہمارے نظریہ کے خلاف کسی نے بات کہی ہےتو بس پڑ گئے اس کے پیچھے ہاتھ دھوکر؛ یہ بھی نہ سوچا کہ ہم اپنے مد مقابل کے بغض عناد میں ایسے غلطاں ہیں کہ ہمیں یہ بھی ہوش نہیں کہ اپنے مخالف کی تردید میں صحابہ کرام تک پر انگشت نمائی کر بیٹھے۔
ہم میدان محشر کے متعلق سنتے آئے ہیں کہ نفسی نفسی کا عالم ہوگا مگر یہاں بھی ایک محشر بپا ہے اور یہاں بھی نفسی نفسی کا عالم ہے مگر یہ نفس پرستی کا محشر ہے نفس پرستی میں ایسے مبتلا ہو گئے ہیں کہ ہمیں اپنے نفس کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ "ہم، ہمارا، ہم سب، ہماری قوم، ہمارے اسلاف" کی جگہ "میں، میرا، فقط میرا، میرا سلسلہ، میرا مرشد، میرا گروہ" جیسے الفاط نے لے لی۔
ارے میرے بھائی! یہ تکبر، یہ نفس پرستی کس کام کی؟ یاد رکھو! یہ ایوان نما خانقاہیں، یہ بادشاہوں کو بھی شرمندہ کردینے والی شان و شوکت اور مریدین کی شکل میں غلام, انعام جاودانی اور سرمایہ دائمی نہیں ہیں۔ کسی فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
چنانکہ دست بدست آمدست ملک بنا
بدستہائے دگر ہمچنیں بخواہد رفت
اپنے اپنے عالیشان محلات اور ایوان نما خانقاہوں کے در و دیوار کو صحابہ کرام اور اکابرین کی بےحرمتی کے کالے پانی سے چمکانے کی ناکام کوششیں کرنے والو یاد رکھو !
بزرگش نہ خوانند اہل خرد
کہ نام بزرگاں بزشتی برد
کسی کے بلند مرتبہ اور عظیم منصب سے حسد کرنے والو! کبھی یہ نہیں سوچا کہ انہیں وہ بلند مرتبہ اور عظیم منصب کس نے عطا فرمایا ہے؟ ارشاد ربانی دیکھو:
اَمۡ یَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ
یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔
اور جسے اللہ بڑھائے اسے کون گھٹا سکتا ہے؟ اسی لئیے تو میرا امام گویا ہے:
تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
جب بڑھائے تجھے اللہ تعالی تیرا
اے حاسدو! تمھارا ان نفوس طیبات پر کیچڑ اچھالنا سورج پر سیاہی پھینک کر اسے مندمل کرنے کی کوشش جیسا ہے کہ اس سے سورج کو تو کوئی فرق پڑنے والا نہیں البتہ تمھارے ہی منہ کالے ہونے کا یقین کامل ضرور ہے۔
ہاں! مگر تمھاری ان ریشہ دوانیوں سے عوام اہل سنت میں کافی اضطراب اور خلفشار پیدا ہوجاتا ہے، اور اگر یہی حال رہا تو کچھ وقت بعد یہی اختلافات عوام کو علماے کرام اور پیران عظام سے بیزار ضرور کر دینگے۔
#حسد_اور_بدظنی
ان سارے اختلافات اور انتشارات کی بنیاد بد ظنی اور حسد ہیں۔ ایک عالم کا لبادہ اوڑھنے والا جاہل دوسرے عالم کی مقبولیت کا حاسد اور اس سے بد ظن ہے۔ ایک جاہل اور ڈھونگی پیر دوسرے پیر کی مقبولیت کا حاسد اور اس سے بد ظن ہے۔ اور عوام اپنے ایسے جاہل اور نااہل پیشواؤں کی وجہ سے اپنے مسلمان بھائیوں سے بد ظنی اورحسد میں مبتلا ہیں؛ جبکہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: ایاکم والظن ترجمہ : بدگمانی سے بچو!
اور فرمان محسن کائنات ﷺ:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ""إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو، بدگمانی اکثر تحقیق کے بعد جھوٹی بات ثابت ہوتی ہے اور کسی کے عیوب ڈھونڈنے کے پیچھے نہ پڑو، کسی کا عیب خواہ مخواہ مت ٹٹولو اور کسی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ بڑھاؤ اور حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔.
اس حدیث پاک کا ایک ایک لفظ ایسا ہے جس پر عمل کر کے ہم تمام طرح کے اختلافات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتے ہیں ۔
#عیوب_کی_تشہر
ایک اور چیز ہے جو ہمارے مابین تفریق کو بڑھانے میں ایسا کام کرتی ہے جیسا آگ میں گھی، اور وہ ہے کسی کے عیوب کی تشہیر، ہمین اگر کسی کی کوئی بات معلوم ہوجائے تو ہم اسے ہر ممکن ذریعہ ابلاغ سے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ہمارے پیارے آقا ﷺ کا ارشاد پاک ہے:
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْ
هِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً، فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۱ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا“۔
اگر آپ کسی کے عیب کی پردہ پوشی کرتے ہیں تو دنیاوی فائدہ یہ ہے کہ وہ آپ سے بد ظن نہ ہوگا اور اخروی فائدہ یہ کہ اللہ روز قیامت آپکے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اور کیا چاہیئے؟
اگر ہم فقط ان دو احادیث کریمہ پر عمل پیرا ہوجائیں تو سمجھ لو کہ ہمارے مابین سے اختلاف ایسے ختم ہو جائے گا جیسے ترشی سے نشہ کافور ہو جاتا ہے.
اللہ رب العزت کی بارگاہ بے نیاز میں التجا ہے کہ وہ ہم سب سنیوں کو ایک اور نیک بنائے (آمین)
محمد شاہد علی مصباحی
نائب صدر: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن: روشن مستقبل دہلی
20 ستمبر 2018
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۱ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا“۔
اگر آپ کسی کے عیب کی پردہ پوشی کرتے ہیں تو دنیاوی فائدہ یہ ہے کہ وہ آپ سے بد ظن نہ ہوگا اور اخروی فائدہ یہ کہ اللہ روز قیامت آپکے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اور کیا چاہیئے؟
اگر ہم فقط ان دو احادیث کریمہ پر عمل پیرا ہوجائیں تو سمجھ لو کہ ہمارے مابین سے اختلاف ایسے ختم ہو جائے گا جیسے ترشی سے نشہ کافور ہو جاتا ہے.
اللہ رب العزت کی بارگاہ بے نیاز میں التجا ہے کہ وہ ہم سب سنیوں کو ایک اور نیک بنائے (آمین)
محمد شاہد علی مصباحی
نائب صدر: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن: روشن مستقبل دہلی
20 ستمبر 2018
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جس طرح بیٹے کے لیے والدین کی تعظیم ضروری ہوتی ہے ، چاہے والدین پرلے درجے کے گناہ گار ہوں ۔
بیوی پر شوہر کا احترام لازم ہوتا ہے ، چاہے شوہر کیسا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو ۔
اسی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم سب پر سید زادوں اور علماے اہل سنت کا ادب لازم ہے ، چاہے وہ بے جا حال پر ہوں ۔
ساداتِ کرام کی نسبتِ رسالت مآب گناہوں کی وجہ سے ختم نہیں ہوتی ، اور علماے عظام کی خطائیں اُنھیں صفت الٰہی ( علم ) سے محروم نہیں کرتیں ؛ جیسے والدین وغیرہ کے گناہ ان کی نسبت ختم نہیں کرتے ۔
اہلِ سنت ہمیشہ سے مودب رہے ہیں ، آپ اہل سنت ہیں تو فکری آوارہ گردی کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں ۔
✍️لقمان شاہد
17-9-2020 ء
بیوی پر شوہر کا احترام لازم ہوتا ہے ، چاہے شوہر کیسا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو ۔
اسی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم سب پر سید زادوں اور علماے اہل سنت کا ادب لازم ہے ، چاہے وہ بے جا حال پر ہوں ۔
ساداتِ کرام کی نسبتِ رسالت مآب گناہوں کی وجہ سے ختم نہیں ہوتی ، اور علماے عظام کی خطائیں اُنھیں صفت الٰہی ( علم ) سے محروم نہیں کرتیں ؛ جیسے والدین وغیرہ کے گناہ ان کی نسبت ختم نہیں کرتے ۔
اہلِ سنت ہمیشہ سے مودب رہے ہیں ، آپ اہل سنت ہیں تو فکری آوارہ گردی کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں ۔
✍️لقمان شاہد
17-9-2020 ء
سید زادوں کی تعظیم صرف غیرِ سید پر ہی لازم نہیں ، ایک سید پر بھی دوسرے سیدزادے کا احترام لازم ہے ۔
اللہ معاف فرمائے ، ہمارے زمانے کے سید زادے باہم گتھم گتھا ہیں ، اور اس حد تک کہ ایک دوسرے کا نسب مشکوک کرنے کے دَرپَے ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2955958818017621&id=100008105947430
اللہ معاف فرمائے ، ہمارے زمانے کے سید زادے باہم گتھم گتھا ہیں ، اور اس حد تک کہ ایک دوسرے کا نسب مشکوک کرنے کے دَرپَے ہیں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2955958818017621&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک بیٹی نے پوچھا :
"
اگر کائنات کی پاکیزہ ترین خواتین صحابیات رسول رضی اللہ عنھن گھوڑے دوڑا سکتی ہیں تو ہم گاڑیاں کیوں نہیں چلا سکتیں ؟ "
میں نے کہا:
بیٹی ! آپ کو کس نے کہا کہ گاڑی نہ چلائیں ؟
آپ پردے کی رعایت کے ساتھ گاڑی چلائیں ، لیکن گاڑی چلانے سے پہلے جس طرح ڈرائیونگ سیکھی ہے اسی طرح اپنی حفاظت کرنا بھی سیکھیں ۔
صحابیات نے اگر گھوڑے دوڑائےہیں تو بہ وقتِ جہاد گھوڑوں پر بیٹھ کر کافروں کی گردنیں بھی ماری ہیں ۔
اگر آپ تقویٰ و طہارت کے ساتھ ، جرات و بہادری کی بھی حامل ہیں تو شرعی حدود میں رہتے ہوئے ، شوق سے ڈرائیونگ کیجیے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2957670117846491&id=100008105947430
"
اگر کائنات کی پاکیزہ ترین خواتین صحابیات رسول رضی اللہ عنھن گھوڑے دوڑا سکتی ہیں تو ہم گاڑیاں کیوں نہیں چلا سکتیں ؟ "
میں نے کہا:
بیٹی ! آپ کو کس نے کہا کہ گاڑی نہ چلائیں ؟
آپ پردے کی رعایت کے ساتھ گاڑی چلائیں ، لیکن گاڑی چلانے سے پہلے جس طرح ڈرائیونگ سیکھی ہے اسی طرح اپنی حفاظت کرنا بھی سیکھیں ۔
صحابیات نے اگر گھوڑے دوڑائےہیں تو بہ وقتِ جہاد گھوڑوں پر بیٹھ کر کافروں کی گردنیں بھی ماری ہیں ۔
اگر آپ تقویٰ و طہارت کے ساتھ ، جرات و بہادری کی بھی حامل ہیں تو شرعی حدود میں رہتے ہوئے ، شوق سے ڈرائیونگ کیجیے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2957670117846491&id=100008105947430
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کوئی صاحبِ علم جو اہلیہ محترمہ سے ڈرتا نہ ہو ، وہ اِن " ایمان افروز اور باطل سوز اقوال " کی تخریج کردے ، بڑی نوازش ہوگی ۔
مولانا Farhan Rafique Qadri صاحب سے تخریج کے لیے کہا تو انھوں خلاف توقع جواب دیا:
" اس کی تخریج کرتے کرتے عمر گزر جانی..... "
ہم نے انھیں معذور سمجھا ، کیوں کہ وہ " ایک " کی امید لگائے بیٹھے ہیں جو ہنوز بر نہیں آئی ، دوسری کا تو سوچنا بھی ان کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے ۔
1 ابن عباد کہتے ہیں :
میں کئی ایک ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو لوگوں کے حالات زندگی مرتب کرتے تھے ، تو جب کوئی شخص فوت ہو جاتا تو وہ یوں لکھتے:
فلاں شخص فوت ہو گیا ، اور اس کے " نیچے "فلاں فلاں تھی ، یعنی اس کی اتنی بیویاں تھیں ۔
لیکن جب کسی ایسے شخص کے حالات لکھتے ، جس کی ایک ہی بیوی ہوتی ، تو یوں لکھتے:
فلاں شخص فوت ہو گیا ، اور اس کے " اوپر " فلاں تھی ۔
( مطلب ایک ہی بیوی والا شوہر ، محترمہ مکرمہ بیگم صاحبہ کے نیچے لگا رہتا ہے اور دو ، تین چار ، بیویاں ہوں تو وہ شوہرِ نامدار کی تابع رہتی ہیں )
2 ابن سینا کا قول ہے:
جس کی ایک ہی بیوی ہو ، وہ جوانی میں بوڑھا ہو جاتا ہے ۔
اسے ہڈیوں ، کمر ، گردن اور جوڑوں کی درد شروع ہو جاتی ہے ۔
اس کی مایوسی بڑھ جاتی ہے ، محنت کم ہو جاتی ہے ، ہنسی اڑ جاتی ہے ؛ وہ بس شکوے ، شکایات ہی کرتا رہتا ہے ۔
3 قاضی ابو مسعود کہتے ہیں:
جس کی ایک بیوی ہو اس کے لیے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا جائز نہیں ۔
4 ابن خلدون کہتے ہیں:
میں نے پچھلی قوموں کی ہلاکت پر غور کیا تو معلوم ہوا ، وہ ایک ہی بیوی پر قناعت کرنے والے تھے ۔
5 ابن میسار کہتے ہیں:
اُس شخص کی عبادت اچھی نہیں ہو سکتی ، جس کی ایک ہی بیوی ہو ۔
6 عباسی خلیفہ مامون الرشید سے کہا گیا:
شہرِ بصرہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی ایک ہی بیوی ہوتی ہے ۔
مامون نے کہا:
وہ مرد نہیں ہیں ، مرد تو وہ ہیں جن کی " بیویاں " ہوں ؛ یہ لوگ فطرت اور سنت کے خلاف چل رہے ہیں ۔
7 ابن یونس سے کہا گیا:
یہود و نصاری نے ایک سے زائد بیویاں رکھنا کیوں چھوڑ دیا ؟
انھوں نے جواب دیا ، اس لیے کہ:
اللہ عزوجل ذِلت و مَسکنت ان کا مقدر بنانا چاہتا تھا ۔
8 حضرت معروف کرخی سے سوال ہوا:
آپ کی ان لوگوں کے بارے کیا رائے ہے جو اپنے آپ کو زاہد سمجھتے ہیں ، لیکن صرف ایک ہی بیوی رکھنے کے قائل ہیں؟
آپ نے جواب دیا:
یہ زاہد نہیں ، مجنوں ہیں ؛ یہ حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے زہد تک نہیں پہنچ سکے ۔
( کائنات کے ان بڑے زاہدوں نے تو ایک شادی پر اکتفا نہیں کیا ، ایک سے زائد نکاح کیے ہیں ؛ تو یہ کیسے زاہد ہیں جوصرف ایک کو ہی زہد سمجھے بیٹھے ہیں )
9 ابن فیاض سے ایسے لوگوں کے بارے سوال ہوا جن کی ایک ہی بیوی ہے ، تو انھوں نے کہا:
وہ ایسے مرد ہیں جو بس کھاتے پیتے اور سانس لیتے ہیں ۔
10 والیِ کرک ابن اسحاق نے پورے شہر میں مال تقسیم کیا لیکن ایک بیوی والوں کو کچھ نہ دیا ۔
جب اُن سے وجہ پوچھی گئی تو کہا:
سُفَہا یعنی ذہنی نابالغوں کو مال دینے سے منع کیا گیا ہے ۔
11 ابن عطا نے ایک بیوی رکھنے والوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
ہم ان کو بڑا کیسے سمجھ لیں جنھوں نے اپنے بڑوں یعنی صحابہ کرام کی سنت کو چھوڑ دیا ۔
12 حصری کہتے ہیں:
جب اللہ ﷻ نے شادی کا حکم دیا تو دو سے شروع کیا ، اور کہا:
دو دو ، تین تین ، اور چار چار سے شادیاں کرو ۔
اور ( وان خفتم فرما کر ) ایک کی اجازت ان کو دی جو خوف میں مبتلا ہوں ۔
13 تقی الدین مزنی سمرقند کے فقیہ بنے تو ان کو بتلایا گیایہاں کچھ لوگ ایک بیوی کے قائل ہیں ۔
تو انھوں نے کہا: کیا وہ مسلمان ہیں !!
پھر اہل شہر کو وعظ کیا تو اگلے چاند سے پہلے پہلے تین ہزار شادیاں ہوئیں ، اور شہر میں کوئی کنواری ، مطلقہ اور بیوہ نہ رہی ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2958022414477928&id=100008105947430
مولانا Farhan Rafique Qadri صاحب سے تخریج کے لیے کہا تو انھوں خلاف توقع جواب دیا:
" اس کی تخریج کرتے کرتے عمر گزر جانی..... "
ہم نے انھیں معذور سمجھا ، کیوں کہ وہ " ایک " کی امید لگائے بیٹھے ہیں جو ہنوز بر نہیں آئی ، دوسری کا تو سوچنا بھی ان کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے ۔
1 ابن عباد کہتے ہیں :
میں کئی ایک ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو لوگوں کے حالات زندگی مرتب کرتے تھے ، تو جب کوئی شخص فوت ہو جاتا تو وہ یوں لکھتے:
فلاں شخص فوت ہو گیا ، اور اس کے " نیچے "فلاں فلاں تھی ، یعنی اس کی اتنی بیویاں تھیں ۔
لیکن جب کسی ایسے شخص کے حالات لکھتے ، جس کی ایک ہی بیوی ہوتی ، تو یوں لکھتے:
فلاں شخص فوت ہو گیا ، اور اس کے " اوپر " فلاں تھی ۔
( مطلب ایک ہی بیوی والا شوہر ، محترمہ مکرمہ بیگم صاحبہ کے نیچے لگا رہتا ہے اور دو ، تین چار ، بیویاں ہوں تو وہ شوہرِ نامدار کی تابع رہتی ہیں )
2 ابن سینا کا قول ہے:
جس کی ایک ہی بیوی ہو ، وہ جوانی میں بوڑھا ہو جاتا ہے ۔
اسے ہڈیوں ، کمر ، گردن اور جوڑوں کی درد شروع ہو جاتی ہے ۔
اس کی مایوسی بڑھ جاتی ہے ، محنت کم ہو جاتی ہے ، ہنسی اڑ جاتی ہے ؛ وہ بس شکوے ، شکایات ہی کرتا رہتا ہے ۔
3 قاضی ابو مسعود کہتے ہیں:
جس کی ایک بیوی ہو اس کے لیے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا جائز نہیں ۔
4 ابن خلدون کہتے ہیں:
میں نے پچھلی قوموں کی ہلاکت پر غور کیا تو معلوم ہوا ، وہ ایک ہی بیوی پر قناعت کرنے والے تھے ۔
5 ابن میسار کہتے ہیں:
اُس شخص کی عبادت اچھی نہیں ہو سکتی ، جس کی ایک ہی بیوی ہو ۔
6 عباسی خلیفہ مامون الرشید سے کہا گیا:
شہرِ بصرہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی ایک ہی بیوی ہوتی ہے ۔
مامون نے کہا:
وہ مرد نہیں ہیں ، مرد تو وہ ہیں جن کی " بیویاں " ہوں ؛ یہ لوگ فطرت اور سنت کے خلاف چل رہے ہیں ۔
7 ابن یونس سے کہا گیا:
یہود و نصاری نے ایک سے زائد بیویاں رکھنا کیوں چھوڑ دیا ؟
انھوں نے جواب دیا ، اس لیے کہ:
اللہ عزوجل ذِلت و مَسکنت ان کا مقدر بنانا چاہتا تھا ۔
8 حضرت معروف کرخی سے سوال ہوا:
آپ کی ان لوگوں کے بارے کیا رائے ہے جو اپنے آپ کو زاہد سمجھتے ہیں ، لیکن صرف ایک ہی بیوی رکھنے کے قائل ہیں؟
آپ نے جواب دیا:
یہ زاہد نہیں ، مجنوں ہیں ؛ یہ حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے زہد تک نہیں پہنچ سکے ۔
( کائنات کے ان بڑے زاہدوں نے تو ایک شادی پر اکتفا نہیں کیا ، ایک سے زائد نکاح کیے ہیں ؛ تو یہ کیسے زاہد ہیں جوصرف ایک کو ہی زہد سمجھے بیٹھے ہیں )
9 ابن فیاض سے ایسے لوگوں کے بارے سوال ہوا جن کی ایک ہی بیوی ہے ، تو انھوں نے کہا:
وہ ایسے مرد ہیں جو بس کھاتے پیتے اور سانس لیتے ہیں ۔
10 والیِ کرک ابن اسحاق نے پورے شہر میں مال تقسیم کیا لیکن ایک بیوی والوں کو کچھ نہ دیا ۔
جب اُن سے وجہ پوچھی گئی تو کہا:
سُفَہا یعنی ذہنی نابالغوں کو مال دینے سے منع کیا گیا ہے ۔
11 ابن عطا نے ایک بیوی رکھنے والوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
ہم ان کو بڑا کیسے سمجھ لیں جنھوں نے اپنے بڑوں یعنی صحابہ کرام کی سنت کو چھوڑ دیا ۔
12 حصری کہتے ہیں:
جب اللہ ﷻ نے شادی کا حکم دیا تو دو سے شروع کیا ، اور کہا:
دو دو ، تین تین ، اور چار چار سے شادیاں کرو ۔
اور ( وان خفتم فرما کر ) ایک کی اجازت ان کو دی جو خوف میں مبتلا ہوں ۔
13 تقی الدین مزنی سمرقند کے فقیہ بنے تو ان کو بتلایا گیایہاں کچھ لوگ ایک بیوی کے قائل ہیں ۔
تو انھوں نے کہا: کیا وہ مسلمان ہیں !!
پھر اہل شہر کو وعظ کیا تو اگلے چاند سے پہلے پہلے تین ہزار شادیاں ہوئیں ، اور شہر میں کوئی کنواری ، مطلقہ اور بیوہ نہ رہی ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2958022414477928&id=100008105947430