Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ا دوسرا دور شروع ہوا۔ سیاحت کے ذریعے اسلام کی اشاعت کرنے والوں نے نئی تاریخ رقم کی ہے اور عزم و حوصلہ دیا ہے، اس سفر میں حرمین، دمشق، نجف اشرف، کربلا، سمنان، ماوراء النہر، ترکستان، قندھار، غزنی، کابل، ملتان، اجودھن،دہلی، اجمیر، دکن،گجرات ہوتے ہوئے کچھوچھہ مقدسہ آئے۔ اس سیاحت میں اکابر اولیائے کرام سے فیض لیا، طالبین راہِ طریقت و معرفت کو فیض دیا،کفر کی وادیوں میں بھٹکنے والے کتنے ہی افراد کو حق آشنا کیا۔
دورانِ سکونت کچھوچھہ مقدسہ کتنے ہی اصحابِ اقتدارکی اصلاح کی اور انھیں توبہ کی طرف مائل کیا۔ آپ سچے عاشق رسول تھے، جس کا اندازہ لطائف اشرفی کے مطالعہ سے ہوتا ہے، آپ کے ان ملفوظات سے شریعتِ مطہرہ پر استقامت کا جلوہ بھی سامنے آتا ہے، آج افسوس کی بات ہے کہ ولیوں سے نسبت کا دعویٰ کرنے والے بعض حلقے شریعت سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں اور بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کے بے ادب و گستاخ بھی، انھیں مخدوم پاک کی حیاتِ مبارکہ سے درس لینا چاہیے کہ آپ کا کوئی لمحہ جادۂ شریعت سے بال برابر منحرف نہ ہوا۔ آپ کے یہاں شریعت پر استقامت کے بعد ہی طریقت کی منزل کا پتا ملتا ہے، اسی درس کو گزری صدیوں میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، علامہ فضل حق خیرآبادی، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی،شیخ المشائخ اشرفی میاں کچھوچھوی، مفتی اعظم ہند نوری نے دیا،انھیں کے مشن کو اپنانا مخدوم پاک سے محبت و نسبت کا تقاضا ہے اور اسی کی اس عہدِ قحط الرجال میں ہمیں ضرورت ہے۔ بقول اعلیٰ حضرت ؎
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہِ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے
٭٭٭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4327466493995310&id=555248701217127
دورانِ سکونت کچھوچھہ مقدسہ کتنے ہی اصحابِ اقتدارکی اصلاح کی اور انھیں توبہ کی طرف مائل کیا۔ آپ سچے عاشق رسول تھے، جس کا اندازہ لطائف اشرفی کے مطالعہ سے ہوتا ہے، آپ کے ان ملفوظات سے شریعتِ مطہرہ پر استقامت کا جلوہ بھی سامنے آتا ہے، آج افسوس کی بات ہے کہ ولیوں سے نسبت کا دعویٰ کرنے والے بعض حلقے شریعت سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں اور بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کے بے ادب و گستاخ بھی، انھیں مخدوم پاک کی حیاتِ مبارکہ سے درس لینا چاہیے کہ آپ کا کوئی لمحہ جادۂ شریعت سے بال برابر منحرف نہ ہوا۔ آپ کے یہاں شریعت پر استقامت کے بعد ہی طریقت کی منزل کا پتا ملتا ہے، اسی درس کو گزری صدیوں میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، علامہ فضل حق خیرآبادی، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی،شیخ المشائخ اشرفی میاں کچھوچھوی، مفتی اعظم ہند نوری نے دیا،انھیں کے مشن کو اپنانا مخدوم پاک سے محبت و نسبت کا تقاضا ہے اور اسی کی اس عہدِ قحط الرجال میں ہمیں ضرورت ہے۔ بقول اعلیٰ حضرت ؎
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہِ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے
٭٭٭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4327466493995310&id=555248701217127
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
بعد وصال امام حسن کی تمنا امام حسن کو زہر کس نے دیا ماہ محرم میں تاریخی نکاح امام حسین کی شہادت کا بدلہ قاتلین امام حسین کا انجام خولی بن یزید کو قتل کے بعد ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل قاتل حسین جل کر کوئلہ بن گیا اہل بیت پر…
شمر قتل کے بعد کتوں کے حوالے
شمر قتل کے بعد کتوں کے حوالے
علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے
ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے
ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے
امام حسین کا سر مبارک لٹکانے
عبد اللہ بن مسلم کے ہاتھ سے
عبد اللہ بن مسلم کے قاتل کو
قتل حسین پر راضی ہونے والے
ابن زیاد بد نہاد کا عبرتناک انجام
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜 ⁹
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
شمر قتل کے بعد کتوں کے حوالے
علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے
ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے
ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے
امام حسین کا سر مبارک لٹکانے
عبد اللہ بن مسلم کے ہاتھ سے
عبد اللہ بن مسلم کے قاتل کو
قتل حسین پر راضی ہونے والے
ابن زیاد بد نہاد کا عبرتناک انجام
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜 ⁹
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 11 (عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے) (اب محل سے رخصت ہونے کی باری آئی...) وہاں سے جانے کا وقت آیا تو بادشاہ کی ماں نے کافی سامان اور سونا دیا۔ اس لڑکی، جو اب میری بیوی تھی، نے کہا کہ…
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 12
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
اس کہانی میں ایک لڑکے نے محض ایک لڑکی کے لیے کتنی مصیبتوں کا سامنا کیا اور کتنے پاپڑ بیلے اور ایسا نہیں ہے کہ لڑکی کا تعلق محل سے تھا اس لیے ایسا ہوا، نہیں نہیں بلکہ عاشقوں کی ہر کہانی میں آپ کو ایسی مصیبتوں اور پریشانیوں کا ذکر ملے گا چاہے اس کا تعلق کسی بھی قوم یا قبیلے سے ہو۔
ایسا ہونے کی وجہ بالکل واضح ہے کہ پیار کرتے وقت لوگ آگے پیچھے کا کچھ نہیں سوچتے اور پھر پیار ہو جانے کے بعد تو اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں تو کیا امید کہ کچھ دیکھ یا سن سکیں۔ اس کہانی میں اگرچہ آخر میں نکاح ہو گیا پر کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ نکاح سے پہلے خود کو کہاں کہاں پیش کرنا پڑا؟
آپ اگر پیار میں کسی کو حاصل کرنے کو کامیابی کا نام دیتے ہیں تو ذرا غور کریں کہ آپ نے اپنی زندگی کا کتنا وقت اس میں لگایا اور کیا یہ زندگی اسی کام کے لیے دی گئی تھی؟
ایک ایسا کل جسے آپ نے دیکھا نہیں اور ایک ایسی دنیا جہاں ایک سانس کا بھی بھروسہ نہیں وہاں آپ سب کچھ چھوڑ کر محض ایک لڑکی کے عشق میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیں، یہ کیسی سمجھداری ہے؟
یہ پیار محبت سوائے تکلیف اور پریشانیوں کے کچھ نہیں، اکثر لوگ اس میں خود کو برباد کر لیتے ہیں۔
سالوں عبادت کرنے والے اس عشق بازی میں کفر اپنانے سے نہیں کتراتے!
تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ اس پیار محبت کے چکر میں لوگوں نے مال و دولت بلکہ اپنی جان کو بھی اہمیت نہ دی اور خود کو ہلاک کر بیٹھے۔
اس بلا سے جتنی دور رہیں اتنا فائدہ ہوگا۔ اس کی آرزو نہ کریں کیونکہ اس راہ میں بس تکلیفیں ہیں اور حاصل اگر غور کریں تو کچھ نہیں۔
جاری...
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
اس کہانی میں ایک لڑکے نے محض ایک لڑکی کے لیے کتنی مصیبتوں کا سامنا کیا اور کتنے پاپڑ بیلے اور ایسا نہیں ہے کہ لڑکی کا تعلق محل سے تھا اس لیے ایسا ہوا، نہیں نہیں بلکہ عاشقوں کی ہر کہانی میں آپ کو ایسی مصیبتوں اور پریشانیوں کا ذکر ملے گا چاہے اس کا تعلق کسی بھی قوم یا قبیلے سے ہو۔
ایسا ہونے کی وجہ بالکل واضح ہے کہ پیار کرتے وقت لوگ آگے پیچھے کا کچھ نہیں سوچتے اور پھر پیار ہو جانے کے بعد تو اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں تو کیا امید کہ کچھ دیکھ یا سن سکیں۔ اس کہانی میں اگرچہ آخر میں نکاح ہو گیا پر کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ نکاح سے پہلے خود کو کہاں کہاں پیش کرنا پڑا؟
آپ اگر پیار میں کسی کو حاصل کرنے کو کامیابی کا نام دیتے ہیں تو ذرا غور کریں کہ آپ نے اپنی زندگی کا کتنا وقت اس میں لگایا اور کیا یہ زندگی اسی کام کے لیے دی گئی تھی؟
ایک ایسا کل جسے آپ نے دیکھا نہیں اور ایک ایسی دنیا جہاں ایک سانس کا بھی بھروسہ نہیں وہاں آپ سب کچھ چھوڑ کر محض ایک لڑکی کے عشق میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیں، یہ کیسی سمجھداری ہے؟
یہ پیار محبت سوائے تکلیف اور پریشانیوں کے کچھ نہیں، اکثر لوگ اس میں خود کو برباد کر لیتے ہیں۔
سالوں عبادت کرنے والے اس عشق بازی میں کفر اپنانے سے نہیں کتراتے!
تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ اس پیار محبت کے چکر میں لوگوں نے مال و دولت بلکہ اپنی جان کو بھی اہمیت نہ دی اور خود کو ہلاک کر بیٹھے۔
اس بلا سے جتنی دور رہیں اتنا فائدہ ہوگا۔ اس کی آرزو نہ کریں کیونکہ اس راہ میں بس تکلیفیں ہیں اور حاصل اگر غور کریں تو کچھ نہیں۔
جاری...
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی ۔ آخری پارٹ
آج ہی اس بات کو مان لیجیے کہ پیار میں سوائے تکلیف، جدائی اور درد کے کچھ حاصل نہیں ہوتا.....
پیار مت کیجیے،
وہ کہتے ہیں نہ کہ آگ لگا لیجیے پر دل نہ لگائیے۔
اگر پل پل جلنے اور خود کو ہلاکت کے لیے پیش کرنے کا شوق ہو تو الگ بات ہے۔
یہ کہانیاں اکثر ادھوری رہ جاتی ہیں۔
یہ اصل زندگی ہے، فلمیں یا ڈرامہ نہیں کہ آخر تک سب اچھا ہو جائے۔
ہیپی اینڈنگ (Happy Ending) ان معاملات میں نہ کے برابر ہوتی ہیں اور فقط جدائی ہی ہاتھ آتی ہے۔
آپ زمانے کے عاشقوں کی کہانیاں پڑھ لیجیے، معلوم ہوگا کہ اس پیار نے انھیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔
رات بلکہ راتیں آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتی ہیں،
انسان اپنی صلاحیتوں کو کھو دیتا ہے بلکہ خود کو بھول جاتا ہے اور جو خود سے غافل ہو جائے پھر اس سے خیر کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔
دل و دماغ بس ایک محبوب کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں اور زمانے میں جو کچھ ہے، یاد نہیں رہتا۔
ایک دوسرے کا ساتھ پانے کے لیے کیا کیا نہیں کرتے پر ہوتا یہ ہے کہ اکثر کو ساتھ نصیب نہیں ہوتا اور اگر ہو جائے تو اس کے بعد پھر جدائی گلے آ لگتی ہے۔
یہ پیار ایک ایسی بلا ہے جس سے پناہ مانگنی چاہیے اور اگر کسی سے ہو جائے تو اب قدم پھونک پھونک کر آگے رکھنے کے بجائے الٹے پاؤں لوٹ آئیں تو سلامتی کی طرف آئیں گے ورنہ آگے بڑھنے پر انجام کیا ہوگا کچھ پتا نہیں۔
اللہ تعالی ہمیں اپنی محبت عطا کرے، اپنے پیارے نبی کا عشق عطا فرمائے کہ جن کی یاد میں گزرا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کہلا سکتا۔
رب کریم ہمیں اس بیماری سے بچائے جس کے بیمار دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوتے ہیں۔
عبد مصطفی
آج ہی اس بات کو مان لیجیے کہ پیار میں سوائے تکلیف، جدائی اور درد کے کچھ حاصل نہیں ہوتا.....
پیار مت کیجیے،
وہ کہتے ہیں نہ کہ آگ لگا لیجیے پر دل نہ لگائیے۔
اگر پل پل جلنے اور خود کو ہلاکت کے لیے پیش کرنے کا شوق ہو تو الگ بات ہے۔
یہ کہانیاں اکثر ادھوری رہ جاتی ہیں۔
یہ اصل زندگی ہے، فلمیں یا ڈرامہ نہیں کہ آخر تک سب اچھا ہو جائے۔
ہیپی اینڈنگ (Happy Ending) ان معاملات میں نہ کے برابر ہوتی ہیں اور فقط جدائی ہی ہاتھ آتی ہے۔
آپ زمانے کے عاشقوں کی کہانیاں پڑھ لیجیے، معلوم ہوگا کہ اس پیار نے انھیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔
رات بلکہ راتیں آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتی ہیں،
انسان اپنی صلاحیتوں کو کھو دیتا ہے بلکہ خود کو بھول جاتا ہے اور جو خود سے غافل ہو جائے پھر اس سے خیر کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔
دل و دماغ بس ایک محبوب کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں اور زمانے میں جو کچھ ہے، یاد نہیں رہتا۔
ایک دوسرے کا ساتھ پانے کے لیے کیا کیا نہیں کرتے پر ہوتا یہ ہے کہ اکثر کو ساتھ نصیب نہیں ہوتا اور اگر ہو جائے تو اس کے بعد پھر جدائی گلے آ لگتی ہے۔
یہ پیار ایک ایسی بلا ہے جس سے پناہ مانگنی چاہیے اور اگر کسی سے ہو جائے تو اب قدم پھونک پھونک کر آگے رکھنے کے بجائے الٹے پاؤں لوٹ آئیں تو سلامتی کی طرف آئیں گے ورنہ آگے بڑھنے پر انجام کیا ہوگا کچھ پتا نہیں۔
اللہ تعالی ہمیں اپنی محبت عطا کرے، اپنے پیارے نبی کا عشق عطا فرمائے کہ جن کی یاد میں گزرا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کہلا سکتا۔
رب کریم ہمیں اس بیماری سے بچائے جس کے بیمار دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوتے ہیں۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#انعامی_تقریری_مقابلہ
طالبان علوم دینیہ میں وعظ و نصیحت کا درست معنی و مفہوم اور معیاری خطابت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے *"تحریک علمائے بندیل کھنڈ"* کی جانب سے 8 ربیع النور شریف کو طلبۂ علوم دینیہ کے مابین ایک معیاری *"انعامی تقریری مقابلہ"* کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس میں *پورے بندیل کھنڈ سے طلبہ حصہ لے سکتے ہیں۔*
#شرائط_مقابلہ:
*1* واٹس اپ پر رجسٹریشن کرانا ہوگا جس کی آخری تاریخ *10* صفر المظفر ہوگی۔
*2* رجسٹریشن کے لیے اپنا نام، ولدیت، عمر، تعلیم اور اس ادارہ کا نام جہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
*3* رجسٹریشن کے بعد پہلی فرصت میں تحریک کے منتخب کردہ عناوین میں سے اپنا عنوان منتخب کرلیں۔
*4* پہلا آن لائن ٹیسٹ *25* صفر المظفر کو ہوگا اس کے بعد *01* ربیع الاوّل شریف کو دوسرا آن لائن ٹیسٹ ہوگا۔
*5* تقریری مواد لکھ کر لانا لازم ہوگا۔ اور مواد میں حوالوں کا التزام ضروری ہوگا۔
*6* تقریر مہذب انداز میں عالمانہ جاہ و جلال کے ساتھ کرنی ہوگی، چلّانے یا مائک ہلانے والے ڈسکوالیفائی کردیے جائیں گے۔
*7* جو لوگ دونوں آن لائن ٹیسٹ پاس کرلیں گے، وہی مقابلہ میں شرکت کے لیے مدعو کیے جائیں گے۔
*8* مقابلے میں شرکت کرنے والوں کو سرٹیفکیٹ، شیلڈ اور انعام سے نوازا جائے گا۔
*9* مقابلے میں شرکت کرنے والے سبھی طلبہ کے زادِ سفر کا انتظام تحریک کے ذمہ ہوگا۔
*10* تین ججوں کا پینل مشارکین کی تقریری لیاقت کا فیصلہ کرے گا۔
تحریک کے ذریعے منتخب کردہ عناوین:
(1) علم کی اہمیت و افادیت
(2) رافضیوں کے گمراہ کن عقائد
(3) عظمتِ صحابہ
(4) جلسہ اور جلوس میں کیا صحیح، کیا غلط
(5) بڑھتی بے دینی کے اسباب و تدارک۔
(6) بھارتی سیاست اور مسلمان
(7) فسادات سے بچنے، جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کیسے کریں؟
(8) بندیل کھنڈ میں علمی قحط کیوں؟ اور اس کا تدارک کیسے ہو؟
(9) بندیل کھنڈ کے مدارس اور تعلیمی معیار کیسے بہتر ہو؟
(10) بندیل کھنڈ میں مسلمانوں کی ترقی کیسے ممکن ہے؟
(11) فروغ اسلام میں بندیل کھنڈ کے مدارس کا رول.
(12) جلوس عید میلاد النبی میں کیا کریں، کیا نہ کریں۔
(13) بندیل کھنڈ میں مسلم ڈاکٹروں کی کمی کو کیسے دور کیا جائے؟
(14) مدارس کے طلبہ میڈیکل سائنس میں کیسے اپنا مقام بنا سکتے ہیں؟
(15) علمائے بندیل کھنڈ کا اتحاد و اتفاق ضروری کیوں؟
(16) تحریک علمائے بندیل کھنڈ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور مقاصد کیا ہیں؟
(17) طلباء مدارس عصری تعلیم سے کیسے جڑیں۔
(18) طلبائے مدارس یونیورسٹی کیسے پہنچیں؟
(19) سیاست اور اسلام؛ ضرورت و اہمیت.
(20) مستحبات میں ہونے والا پیسہ ضروری بنیادی کاموں میں صرف کریں۔
(21) کورونا کے بعد فضول خرچی پر کیسے قابو پایا جائے؟
خواہش مند طلبہ مذکورہ عناوین میں سے کسی ایک کو منتخب کرکے جلد از جلد رجسٹریشن کرائیں۔
#رابطہ:
تحریک علمائے بندیل کھنڈ
واٹس اپ اور کال نمبر: 7703091212
محمد زاہد علی مرکزی
چیئر مین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
طالبان علوم دینیہ میں وعظ و نصیحت کا درست معنی و مفہوم اور معیاری خطابت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے *"تحریک علمائے بندیل کھنڈ"* کی جانب سے 8 ربیع النور شریف کو طلبۂ علوم دینیہ کے مابین ایک معیاری *"انعامی تقریری مقابلہ"* کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس میں *پورے بندیل کھنڈ سے طلبہ حصہ لے سکتے ہیں۔*
#شرائط_مقابلہ:
*1* واٹس اپ پر رجسٹریشن کرانا ہوگا جس کی آخری تاریخ *10* صفر المظفر ہوگی۔
*2* رجسٹریشن کے لیے اپنا نام، ولدیت، عمر، تعلیم اور اس ادارہ کا نام جہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
*3* رجسٹریشن کے بعد پہلی فرصت میں تحریک کے منتخب کردہ عناوین میں سے اپنا عنوان منتخب کرلیں۔
*4* پہلا آن لائن ٹیسٹ *25* صفر المظفر کو ہوگا اس کے بعد *01* ربیع الاوّل شریف کو دوسرا آن لائن ٹیسٹ ہوگا۔
*5* تقریری مواد لکھ کر لانا لازم ہوگا۔ اور مواد میں حوالوں کا التزام ضروری ہوگا۔
*6* تقریر مہذب انداز میں عالمانہ جاہ و جلال کے ساتھ کرنی ہوگی، چلّانے یا مائک ہلانے والے ڈسکوالیفائی کردیے جائیں گے۔
*7* جو لوگ دونوں آن لائن ٹیسٹ پاس کرلیں گے، وہی مقابلہ میں شرکت کے لیے مدعو کیے جائیں گے۔
*8* مقابلے میں شرکت کرنے والوں کو سرٹیفکیٹ، شیلڈ اور انعام سے نوازا جائے گا۔
*9* مقابلے میں شرکت کرنے والے سبھی طلبہ کے زادِ سفر کا انتظام تحریک کے ذمہ ہوگا۔
*10* تین ججوں کا پینل مشارکین کی تقریری لیاقت کا فیصلہ کرے گا۔
تحریک کے ذریعے منتخب کردہ عناوین:
(1) علم کی اہمیت و افادیت
(2) رافضیوں کے گمراہ کن عقائد
(3) عظمتِ صحابہ
(4) جلسہ اور جلوس میں کیا صحیح، کیا غلط
(5) بڑھتی بے دینی کے اسباب و تدارک۔
(6) بھارتی سیاست اور مسلمان
(7) فسادات سے بچنے، جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کیسے کریں؟
(8) بندیل کھنڈ میں علمی قحط کیوں؟ اور اس کا تدارک کیسے ہو؟
(9) بندیل کھنڈ کے مدارس اور تعلیمی معیار کیسے بہتر ہو؟
(10) بندیل کھنڈ میں مسلمانوں کی ترقی کیسے ممکن ہے؟
(11) فروغ اسلام میں بندیل کھنڈ کے مدارس کا رول.
(12) جلوس عید میلاد النبی میں کیا کریں، کیا نہ کریں۔
(13) بندیل کھنڈ میں مسلم ڈاکٹروں کی کمی کو کیسے دور کیا جائے؟
(14) مدارس کے طلبہ میڈیکل سائنس میں کیسے اپنا مقام بنا سکتے ہیں؟
(15) علمائے بندیل کھنڈ کا اتحاد و اتفاق ضروری کیوں؟
(16) تحریک علمائے بندیل کھنڈ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور مقاصد کیا ہیں؟
(17) طلباء مدارس عصری تعلیم سے کیسے جڑیں۔
(18) طلبائے مدارس یونیورسٹی کیسے پہنچیں؟
(19) سیاست اور اسلام؛ ضرورت و اہمیت.
(20) مستحبات میں ہونے والا پیسہ ضروری بنیادی کاموں میں صرف کریں۔
(21) کورونا کے بعد فضول خرچی پر کیسے قابو پایا جائے؟
خواہش مند طلبہ مذکورہ عناوین میں سے کسی ایک کو منتخب کرکے جلد از جلد رجسٹریشن کرائیں۔
#رابطہ:
تحریک علمائے بندیل کھنڈ
واٹس اپ اور کال نمبر: 7703091212
محمد زاہد علی مرکزی
چیئر مین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ