🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*سمناں سے ہند تک:*
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کی جلوہ باریاں
(بموقع عرس مخدوم پاک)

غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

اسلامی تاریخ کے اَوراق ایسے اَن گِنَت واقعات وشخصیات کے ذکر سے جگمگا رہے ہیں جن سے اشاعتِ دین کے کارواں کو تقویت ملی۔ ایسی لازوال شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخِ اسلامی کے ماتھے کاجھوٗمر ہیں جن کی مساعیِ جمیلہ سے دلوں کی تاریک دنیا میں تاریخی انقلاب آیا۔ دل و دماغ روشن ہوئے اور فکر کی کھیتی ہری بھری ہو گئی۔ ایسی ہی نادرِ زمن ہستیوں میں سمناں کے تاج دار وارثِ مملکتِ خداداد حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ ہیں۔ آپ سمناں کے تاج ور تھے ہی ساتھ ہی صحیح النسب سادات یعنی خاندانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم و چراغ تھے۔والد ماجد کانام محمدابراہیم تھاجو باوصف تاج دار بڑے نیک وتہجد گزار تھے۔ دن کے مجاہد وشب کے عابد تھے۔ والدہ ماجدہ خدیجہ بیگم (بنت خواجہ احمد یسوح) ’’صائم الدہر‘‘ اور ’’قائم اللیل‘‘ تھیں۔شاہانہ طرزِ زندگی، آسائشوں کے انبار، شوکت و عزت سبھی کچھ ہونے کے باوجود عظیم والدین کی تربیت نے دُنیا میں رہ کر دُنیاداری سے دور رکھا۔ یہی مومن کی شانِ بے نیازی ہوتی ہے کہ اسے تخت وتاج، مال ومنال، شوکت و قوت ومادیت متاثر نہیں کر سکتے۔ مخدوم پاک کے یہاں سب کچھ تھا لیکن وہ تو مردِحق آگاہ تھے؛ اسی لیے جس کے پیچھے سبھی بھاگتے ہیں وہ ان سب کو پاکر بھی متاثر نہ ہوئے اور روحانی عظمتوں کی منازلِ شوق بہ ذوق طے کرتے رہے۔

باضابطہ علومِ دینیہ حاصل کیے۔ عمر کی ساتویں منزل میں ہی قرآن مقدس مع قرأت سبعہ حفظ کر لیا۔ سمناں ونواح کے دینی مراکز سے علمی تشنگی بجھائی۔ معقولات ومنقولات میں مہارتِ تامہ پیدا کی۔ حرفاً حرفاً اور سبقاً سبقاً علم دین سیکھا اور کمال حاصل کیا۔والد ماجد کے وصال کے بعد تاج ور ہوئے لیکن انھیں توروحانی تاج دار بننا تھا،ایک شب خواب دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں، کہتے ہیں کہ ’’سلطنتِ الٰہی چاہتے ہو تو بادشاہت کو خیر باد کہہ کر رختِ سفر جانبِ ہند باندھ لو۔‘‘ والدہ کو حال سُنایا، اجازتِ سیاحتِ ہند ملی۔ یوں سلطنت کو ٹھکرادیا۔ راہِ خدا میں سیاحت کو گلے لگایا۔ یہاں سے روحانی مدارج میں مسلسل ترقی کا مرحلۂ عرفان طے ہونا شروع ہوا۔

سیادت و سلطنت کا یہ امیں جب رُخصت ہونے کو آیا توسمناں سے بارہ ہزار سپاہی الوداع کو ساتھ ہولیے، جنھیں تین منزلوں پرہی رُخصت فرمادیا۔اسباب ساتھ تھے جنھیں آگے جاکر فقرا میں تقسیم فرمادیا۔ سمرقند گئے پھراوچ میں قیام پذیر ہوئے۔ جہاں حضرت سید جلال الدین بخاری جہاں گشت کی خدمت میں حاضر ہوئے، دیکھتے ہی آپ نے مخدوم پاک سے فرمایا:

’’عرصے کے بعد دماغ کو طالبِ صادق کی خوش بو نصیب ہوئی، مدت کے بعد چمنِ سیادت سے نسیمِ خراماں ہوئی۔ مبارک ہو! بے حد جسور فرزندآیا ہے جلدی کیجیے۔ میرے بھائی ’’علاؤالدین‘ ‘آپ کے منتظر ہیں، راہ میں توقف نہ کیجیے۔‘‘

اخذِ فیض کے بعد آپ منزل بہ منزل ہوتے ہوئے دہلی آئے، پھر عازمِ بہار ہوئے، جہاں حضرت مخدوم شرف الدین یحیٰ منیری رحمۃاللہ علیہ کاجنازہ پڑھایا،پھر بنگال کی راہ لی۔ اس زمانے میں پنڈوہ بنگال میں حضرت ’’علاؤالدین‘‘ عبدالحق لاہوری کے علم و عرفان کا بڑا چرچا تھا، جن کی فیض رساں بارگاہ سے علاقۂ بنگال اسلامی تعلیمات سے جگمگا رہاتھا، اور آپ کی ایک نگاہِ کیمیا اثر سے ہزاروں دل نورِایمان سے روشن ہواُٹھے تھے،آپ عرصہ سے منتظر تھے، انتظار کس کا تھا یہ اس وقت کھلا جب مخدوم پاک آپ کی بارگاہ میں پہنچے اور روحانی امانتوں کے امین ہوئے۔شیخ نے نگاہ ڈالی اور مقاماتِ معرفت کے اس عظیم منصب پر پہنچا دیا جہاں نگاہوں سے پردے اُٹھ جاتے ہیں اور نظارۂ انوار وعرفان نگاہوں کا محور ٹھہرتا ہے۔بیعت کی سعادت حاصل کی،۱۲؍سال خدمتِ مرشد میں رہے،خرقۂ خلافت اور جہانگیر کا لقب پایا، مرشد نے خود روحانی تربیت کی۔ علامہ مشتاق احمد نظامی لکھتے ہیں:

ایک دن آپ(مخدوم پاک) کمر باندھ رہے تھے۔ مرشد نے پوچھا: ’’کیا کررہے ہو؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’خدمتِ خلق کے لیے کمر کس رہا ہوں۔‘‘ مرشد نے فرمایا:’’اگر می بندی محکم بہ بند کہ ہیچ درمیاں نداری۔‘‘(اگر کمر کس رہے ہو تو مضبوطی سے کسو تاکہ پھر کوئی چیز درمیان میں نہ رہے) آپ نے فرمایا:’’آرزوئے نفس از میاں بیروں کشیدم تازندہ۔‘‘(جب تک زندہ ہوں نفس کی آرزوؤں کو دور ہی رکھوں گا)

مرشد کی اجازت سے سیاحت کے اگلے دور کا آغاز کیا۔ دلوں کی صفائی اور ستھرائی فرماتے رہے۔ جون پور گئے، محمد آباد گہنہ گئے، نواحِ اودھ میں بھی دین کی اشاعت کی۔ وہ دور ایسا تھا کہ سحر وجادو کے ذریعے شرک و کفر کو رواج دیا جارہا تھا، ایسے عالم میں زمانی ضرورت کے تحت آپ نے کرامتوں کا اظہار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے، کچھوچھہ مقدسہ میں آپ نے سکونت اختیار کی۔پھر سیاحت ک
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ا دوسرا دور شروع ہوا۔ سیاحت کے ذریعے اسلام کی اشاعت کرنے والوں نے نئی تاریخ رقم کی ہے اور عزم و حوصلہ دیا ہے، اس سفر میں حرمین، دمشق، نجف اشرف، کربلا، سمنان، ماوراء النہر، ترکستان، قندھار، غزنی، کابل، ملتان، اجودھن،دہلی، اجمیر، دکن،گجرات ہوتے ہوئے کچھوچھہ مقدسہ آئے۔ اس سیاحت میں اکابر اولیائے کرام سے فیض لیا، طالبین راہِ طریقت و معرفت کو فیض دیا،کفر کی وادیوں میں بھٹکنے والے کتنے ہی افراد کو حق آشنا کیا۔

دورانِ سکونت کچھوچھہ مقدسہ کتنے ہی اصحابِ اقتدارکی اصلاح کی اور انھیں توبہ کی طرف مائل کیا۔ آپ سچے عاشق رسول تھے، جس کا اندازہ لطائف اشرفی کے مطالعہ سے ہوتا ہے، آپ کے ان ملفوظات سے شریعتِ مطہرہ پر استقامت کا جلوہ بھی سامنے آتا ہے، آج افسوس کی بات ہے کہ ولیوں سے نسبت کا دعویٰ کرنے والے بعض حلقے شریعت سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں اور بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کے بے ادب و گستاخ بھی، انھیں مخدوم پاک کی حیاتِ مبارکہ سے درس لینا چاہیے کہ آپ کا کوئی لمحہ جادۂ شریعت سے بال برابر منحرف نہ ہوا۔ آپ کے یہاں شریعت پر استقامت کے بعد ہی طریقت کی منزل کا پتا ملتا ہے، اسی درس کو گزری صدیوں میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، علامہ فضل حق خیرآبادی، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی،شیخ المشائخ اشرفی میاں کچھوچھوی، مفتی اعظم ہند نوری نے دیا،انھیں کے مشن کو اپنانا مخدوم پاک سے محبت و نسبت کا تقاضا ہے اور اسی کی اس عہدِ قحط الرجال میں ہمیں ضرورت ہے۔ بقول اعلیٰ حضرت ؎

ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہِ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے
٭٭٭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4327466493995310&id=555248701217127
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
بعد وصال امام حسن کی تمنا امام حسن کو زہر کس نے دیا ماہ محرم میں تاریخی نکاح امام حسین کی شہادت کا بدلہ قاتلین امام حسین کا انجام خولی بن یزید کو قتل کے بعد ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل قاتل حسین جل کر کوئلہ بن گیا اہل بیت پر…
شمر قتل کے بعد کتوں کے حوالے
شمر قتل کے بعد کتوں کے حوالے
علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے
ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے
ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے
امام حسین کا سر مبارک لٹکانے
عبد اللہ بن مسلم کے ہاتھ سے

عبد اللہ بن مسلم کے قاتل کو
قتل حسین پر راضی ہونے والے
ابن زیاد بد نہاد کا عبرتناک انجام
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜
#ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 11 (عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے) (اب محل سے رخصت ہونے کی باری آئی...) وہاں سے جانے کا وقت آیا تو بادشاہ کی ماں نے کافی سامان اور سونا دیا۔ اس لڑکی، جو اب میری بیوی تھی، نے کہا کہ…
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 12
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)

اس کہانی میں ایک لڑکے نے محض ایک لڑکی کے لیے کتنی مصیبتوں کا سامنا کیا اور کتنے پاپڑ بیلے اور ایسا نہیں ہے کہ لڑکی کا تعلق محل سے تھا اس لیے ایسا ہوا، نہیں نہیں بلکہ عاشقوں کی ہر کہانی میں آپ کو ایسی مصیبتوں اور پریشانیوں کا ذکر ملے گا چاہے اس کا تعلق کسی بھی قوم یا قبیلے سے ہو۔

ایسا ہونے کی وجہ بالکل واضح ہے کہ پیار کرتے وقت لوگ آگے پیچھے کا کچھ نہیں سوچتے اور پھر پیار ہو جانے کے بعد تو اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں تو کیا امید کہ کچھ دیکھ یا سن سکیں۔ اس کہانی میں اگرچہ آخر میں نکاح ہو گیا پر کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ نکاح سے پہلے خود کو کہاں کہاں پیش کرنا پڑا؟
آپ اگر پیار میں کسی کو حاصل کرنے کو کامیابی کا نام دیتے ہیں تو ذرا غور کریں کہ آپ نے اپنی زندگی کا کتنا وقت اس میں لگایا اور کیا یہ زندگی اسی کام کے لیے دی گئی تھی؟

ایک ایسا کل جسے آپ نے دیکھا نہیں اور ایک ایسی دنیا جہاں ایک سانس کا بھی بھروسہ نہیں وہاں آپ سب کچھ چھوڑ کر محض ایک لڑکی کے عشق میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیں، یہ کیسی سمجھداری ہے؟
یہ پیار محبت سوائے تکلیف اور پریشانیوں کے کچھ نہیں، اکثر لوگ اس میں خود کو برباد کر لیتے ہیں۔

سالوں عبادت کرنے والے اس عشق بازی میں کفر اپنانے سے نہیں کتراتے!
تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ اس پیار محبت کے چکر میں لوگوں نے مال و دولت بلکہ اپنی جان کو بھی اہمیت نہ دی اور خود کو ہلاک کر بیٹھے۔
اس بلا سے جتنی دور رہیں اتنا فائدہ ہوگا۔ اس کی آرزو نہ کریں کیونکہ اس راہ میں بس تکلیفیں ہیں اور حاصل اگر غور کریں تو کچھ نہیں۔

جاری...

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی ۔ آخری پارٹ

آج ہی اس بات کو مان لیجیے کہ پیار میں سوائے تکلیف، جدائی اور درد کے کچھ حاصل نہیں ہوتا.....
پیار مت کیجیے،
وہ کہتے ہیں نہ کہ آگ لگا لیجیے پر دل نہ لگائیے۔
اگر پل پل جلنے اور خود کو ہلاکت کے لیے پیش کرنے کا شوق ہو تو الگ بات ہے۔

یہ کہانیاں اکثر ادھوری رہ جاتی ہیں۔
یہ اصل زندگی ہے، فلمیں یا ڈرامہ نہیں کہ آخر تک سب اچھا ہو جائے۔
ہیپی اینڈنگ (Happy Ending) ان معاملات میں نہ کے برابر ہوتی ہیں اور فقط جدائی ہی ہاتھ آتی ہے۔
آپ زمانے کے عاشقوں کی کہانیاں پڑھ لیجیے، معلوم ہوگا کہ اس پیار نے انھیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔

رات بلکہ راتیں آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتی ہیں،
انسان اپنی صلاحیتوں کو کھو دیتا ہے بلکہ خود کو بھول جاتا ہے اور جو خود سے غافل ہو جائے پھر اس سے خیر کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔
دل و دماغ بس ایک محبوب کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں اور زمانے میں جو کچھ ہے، یاد نہیں رہتا۔

ایک دوسرے کا ساتھ پانے کے لیے کیا کیا نہیں کرتے پر ہوتا یہ ہے کہ اکثر کو ساتھ نصیب نہیں ہوتا اور اگر ہو جائے تو اس کے بعد پھر جدائی گلے آ لگتی ہے۔
یہ پیار ایک ایسی بلا ہے جس سے پناہ مانگنی چاہیے اور اگر کسی سے ہو جائے تو اب قدم پھونک پھونک کر آگے رکھنے کے بجائے الٹے پاؤں لوٹ آئیں تو سلامتی کی طرف آئیں گے ورنہ آگے بڑھنے پر انجام کیا ہوگا کچھ پتا نہیں۔

اللہ تعالی ہمیں اپنی محبت عطا کرے، اپنے پیارے نبی کا عشق عطا فرمائے کہ جن کی یاد میں گزرا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کہلا سکتا۔
رب کریم ہمیں اس بیماری سے بچائے جس کے بیمار دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوتے ہیں۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک عاشق کی کہانی مکمل
تھری اِن وَن اردو ہندی رومن
एक आ़शिक़ की कहानी 📖
मुकम्मल उर्दू हिंदी रोमन उर्दू
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM