Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 238:*
بعض ڈرائیور حضرات راستے میں مخصوص پٹرول پمپ پر بریک لگاتے ہیں اور وہاں پر جو کینٹین ہوتی ہے وہ اس گاڑی کے ڈرائیور کو کھانا وغیرہ فری میں دیتی ہے اور وہ اس نیت سے روکتے ہیں کہ ہوٹل والوں کو گاہک مل جاتے ہیں اور ان کو فری کھانا مل جاتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
صورتِ مسئولہ (پوچھی گئی صورت) میں ڈرائیور حضرات کو کینٹین والے یا ہوٹل والے گاہک فراہم کرنے کے بدلے جو فری (مفت) میں کھانا وغیرہ کھلاتے ہیں اور اس کا خرچہ ڈرائیوروں کی فراہم کی گئی سواریوں سے کئی گنا زیادہ رقم لے کر پورا کرتے ہیں تو یہ (فری کھانا وغیرہ کھانا، کھلانا) رشوت اور ناجائز و حرام ہے اس لیے کہ کینٹین والے یا ہوٹل والے اپنا کام نکلوانے کے لئے ڈرائیور حضرات کو فری میں کھانا وغیرہ اس وجہ سے دیتے ہیں کہ وہ ان کی کینٹین یا ہوٹل پر اپنی گاڑی کی سواریاں لے کر آئیں اور یہ واضح طور پر رشوت میں آتا ہے اور رشوت کا حکم یہ ہے کہ اس کا دینا بھی حرام اور لینا بھی حرام ہوتا ہے۔
مزید ڈرائیور حضرات کا فری کھانا کھانے کی چکر میں اپنی سواریوں کو کینٹین یا ہوٹل والوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا کہ وہ ان سے منہ مانگی رقم وصول کریں، تو یہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے ،اس لیے ڈرائیور حضرات کو چاہیے کہ مسلمانوں سے خیرخواہی کرتے ہوئے اپنی گاڑیاں ایسے ہوٹلوں کے سامنے کھڑی کریں جہاں سواریوں کے لئے سہولت اور فائدہ زیادہ ہو۔
چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں :
*"لعن رسول اللہ الراشی و المرتشی"*
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
*(سنن ترمذی، کتاب الاحکام، باب ماجاء فی الراشی و المرتشی فی الحکم، صفحہ 344، رقم الحدیث : 1337 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)*
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ﺍﻟﺮﺷﻮﺓ ﺑﺎﻟﻜﺴﺮ ﻣﺎ ﻳﻌﻄﻴﻪ ﺍﻟﺸﺨﺺ ﺍﻟﺤﺎﻛﻢ ﻭ ﻏﻴﺮﻩ ﻟﻴﺤﻜﻢ ﻟﻪ ﺃﻭ ﻳﺤﻤﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﻳﺮﻳﺪ"*
رشوت یہ ہے کہ جسے کوئی شخص، حاکم وغیرہ کو اس لیے دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کر دے یا اسے وہ ذمہ داری دیدے جسے یہ چاہتا ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب القضاء، مطلب فی الکلام علی الرشوة و الھدیہ، جلد 5، صفحہ 362، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
اس تعریف سے یہ واضح ہوگیا کہ رشوت عام ہے خواہ مال ہو یا کوئی اور منفعت ہو۔
علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ان الرشوۃ مایعطیہ بشرط ان یعینہ"*
یعنی بے شک رشوت وہ چیز ہے جو اس شرط پر دی جائے کہ رشوت لینے والا اس کی مدد کرے گا۔
*(بحر الرائق جلد 6 صفحہ 441 دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)*
علامہ علی بن محمد سید شریف جرجانی *"رشوت"* کی تعریف کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
*"الرشوۃ : مایعطی لا بطال حق وإحقاق باطل"*
رشوت اس مال کو کہتے ہیں جو کسی کے حق کو باطل کرنے کے لیے یا کسی باطل کو حاصل کرنے کے لیے دیا جائے۔
*(معجم التعریفات صفحہ 96 دارالفضیلۃ)*
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"بیع تو اس میں اور خریداروں میں ہوگی، یہ ریل والوں کو روپیہ صرف اس بات کا دیتا ہے کہ میں ہی بیچوں، دوسرا نہ بیچنے پائے، یہ شرعاً خالص رشوت ہے۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 19 صفحہ 559 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
12/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*
بعض ڈرائیور حضرات راستے میں مخصوص پٹرول پمپ پر بریک لگاتے ہیں اور وہاں پر جو کینٹین ہوتی ہے وہ اس گاڑی کے ڈرائیور کو کھانا وغیرہ فری میں دیتی ہے اور وہ اس نیت سے روکتے ہیں کہ ہوٹل والوں کو گاہک مل جاتے ہیں اور ان کو فری کھانا مل جاتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
صورتِ مسئولہ (پوچھی گئی صورت) میں ڈرائیور حضرات کو کینٹین والے یا ہوٹل والے گاہک فراہم کرنے کے بدلے جو فری (مفت) میں کھانا وغیرہ کھلاتے ہیں اور اس کا خرچہ ڈرائیوروں کی فراہم کی گئی سواریوں سے کئی گنا زیادہ رقم لے کر پورا کرتے ہیں تو یہ (فری کھانا وغیرہ کھانا، کھلانا) رشوت اور ناجائز و حرام ہے اس لیے کہ کینٹین والے یا ہوٹل والے اپنا کام نکلوانے کے لئے ڈرائیور حضرات کو فری میں کھانا وغیرہ اس وجہ سے دیتے ہیں کہ وہ ان کی کینٹین یا ہوٹل پر اپنی گاڑی کی سواریاں لے کر آئیں اور یہ واضح طور پر رشوت میں آتا ہے اور رشوت کا حکم یہ ہے کہ اس کا دینا بھی حرام اور لینا بھی حرام ہوتا ہے۔
مزید ڈرائیور حضرات کا فری کھانا کھانے کی چکر میں اپنی سواریوں کو کینٹین یا ہوٹل والوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا کہ وہ ان سے منہ مانگی رقم وصول کریں، تو یہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے ،اس لیے ڈرائیور حضرات کو چاہیے کہ مسلمانوں سے خیرخواہی کرتے ہوئے اپنی گاڑیاں ایسے ہوٹلوں کے سامنے کھڑی کریں جہاں سواریوں کے لئے سہولت اور فائدہ زیادہ ہو۔
چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں :
*"لعن رسول اللہ الراشی و المرتشی"*
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
*(سنن ترمذی، کتاب الاحکام، باب ماجاء فی الراشی و المرتشی فی الحکم، صفحہ 344، رقم الحدیث : 1337 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)*
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ﺍﻟﺮﺷﻮﺓ ﺑﺎﻟﻜﺴﺮ ﻣﺎ ﻳﻌﻄﻴﻪ ﺍﻟﺸﺨﺺ ﺍﻟﺤﺎﻛﻢ ﻭ ﻏﻴﺮﻩ ﻟﻴﺤﻜﻢ ﻟﻪ ﺃﻭ ﻳﺤﻤﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﻳﺮﻳﺪ"*
رشوت یہ ہے کہ جسے کوئی شخص، حاکم وغیرہ کو اس لیے دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کر دے یا اسے وہ ذمہ داری دیدے جسے یہ چاہتا ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب القضاء، مطلب فی الکلام علی الرشوة و الھدیہ، جلد 5، صفحہ 362، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
اس تعریف سے یہ واضح ہوگیا کہ رشوت عام ہے خواہ مال ہو یا کوئی اور منفعت ہو۔
علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ان الرشوۃ مایعطیہ بشرط ان یعینہ"*
یعنی بے شک رشوت وہ چیز ہے جو اس شرط پر دی جائے کہ رشوت لینے والا اس کی مدد کرے گا۔
*(بحر الرائق جلد 6 صفحہ 441 دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)*
علامہ علی بن محمد سید شریف جرجانی *"رشوت"* کی تعریف کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
*"الرشوۃ : مایعطی لا بطال حق وإحقاق باطل"*
رشوت اس مال کو کہتے ہیں جو کسی کے حق کو باطل کرنے کے لیے یا کسی باطل کو حاصل کرنے کے لیے دیا جائے۔
*(معجم التعریفات صفحہ 96 دارالفضیلۃ)*
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"بیع تو اس میں اور خریداروں میں ہوگی، یہ ریل والوں کو روپیہ صرف اس بات کا دیتا ہے کہ میں ہی بیچوں، دوسرا نہ بیچنے پائے، یہ شرعاً خالص رشوت ہے۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 19 صفحہ 559 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
12/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 236:*
کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شھادت ظہر کی نماز کا سجدہ کرنے کی حالت میں ہوئی ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے شھادت سے پہلے اپنے اصحاب کو نمازِ ظہر پڑھائی، نماز کے بعد سخت لڑائی شروع ہوگئی، جس میں آپ کے اصحاب شہید ہو گئے پھر آخر میں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس سے پتہ چلا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت نمازِ ظہر کے دوران نہیں ہوئی، اب رہ گئی یہ بات کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت سجدے کی حالت میں ہوئی یا نہیں؟
تو کافی کتب میں شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کے سجدہ کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا اور بعض نے سجدہ شکر کا ذکر کیا ہے کہ شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے سجدہ شکر کیا اور اسی دوران ایک بدبخت فاسق نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کردیا۔
چنانچہ چنانچہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں :
*"ثم صلی الحسین باصحابہ الظھر صلاۃ الخوف ثم اقتتلوا بعدھا قتالا شدیدا۔۔۔۔۔۔۔ فتقدم زرعۃ بن شریک التمیمی فضربہ بالسیف علی عاتقہ ثم طعنہ سنان بن انس بن عمرو النخعی بالرمح ثم نزل فاحتز راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نمازِ ظہر نمازِ خوف کی طرح پڑھائی پھر نماز ادا کرنے کے بعد سخت لڑائی ہوئی۔۔۔
(امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی شہید ہونے کے بعد) پھر زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر تلوار کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک کندھے پر وار کیا پھر سنان بن انس بن عمرو نخعی نے آپ رضی اللہ عنہ پر نیزے سے وار کیا پھر شمر اترا اور آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک سر کو (مبارک بدن سے) جدا کر دیا اور (جدا کر کے) مبارک سر خولی کے حوالے کر دیا۔
*(البدایہ النھایہ، صفۃ مقتل حسین، جلد 8 صفحہ 260، 265 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
امام عبدالملک بن حسین بن عبدالملک شافعی عاصمی مکی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ثم حضر وقت الصلاة ۔۔۔۔۔۔ ثم صلی الحسین الظھر صلاۃ الخوف، ثم اشتد القتال بعد الصلاة ۔۔۔۔۔۔۔*
*و اشتد عطش الحسین، فجاء لیشرب من الفرات، فرمی حصین بن تمیم یسھم فی فمہ فجعل یتلقی الدم و یدعو ثم اقبل شمر بن ذی الجوشن فی عشرۃ من رجالتہ، فحالوا بین الحسین و بین اھلہ، فقال : امنعوا اھلی و رحلی من طغامکم، فقال : ذلک لک، ثم حمل علیھم و حملوا علیہ و احاطوا بہ من یمینہ و شمالہ۔*
*وخرجت زینت تنادی فلقیت عمر بن سعد، فقالت : یا عمر، یقتل ابو عبداللہ، و انت تنظر؟! فبکی و زوی عنھا وجھہ، ثم نادی شمر : ماذا تنظرون بالرجل؟! فحملوا علیہ، و ضرب زرعۃ بن شریک التمیمی کتفہ الایسر و علی عاتقہ فاوھنہ، ثم طعنہ سنان بن قیس النخعی بالرمح، و قال لخولی بن یزید الاصبحی : جز راسہ، فارعد، فنزل الیہ سنان فاخذ راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی پھر نماز کا وقت ہوگیا۔۔۔ پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے نمازِ ظہر، نمازِ خوف کی طرح پڑھی، پھر نماز کے بعد لڑائی سخت ہوگئی۔۔۔
اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیاس سخت ہو گئی، پس آپ رضی اللہ عنہ فرات پر پانی پینے کے لئے آئے تو حصین بن تمیم نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ اقدس میں تیر مارا، پس خون نکل کر بہنے لگا پھر شمر ذی الجوشن اپنے لشکر کے دس افراد کو لے کر آگے بڑھا، پس امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل کے درمیان حائل ہو گئے تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
تم میرے اہل اور میری قیام گاہ سے اپنی کمینگی کو باز رکھو،
تو شمر بولا :
یہ آپ کے لئے ہے،
پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے دائیں اور بائیں سے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا۔
اور حضرت زینب رضی اللہ عنھا ندا کرتے ہوئے نکلیں پس عمر بن سعد سے ملاقات ہوئی تو فرمایا :
اے عمر! ابو عبداللہ (یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ) لڑائی کر رہے ہیں اور تو دیکھ رہا ہے ؟
پس وہ رویا اور آپ رضی اللہ عنھا سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر شمر نے ندا کی :
تم (اس) مرد کو کیا دیکھ رہے ہو؟
پس انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کے بائیں کندھے پر اور آپ کی گردن پر تلوار ماری تو اس نے آپ کو کمزور کر دیا پھر سنان بن قیس نخعی نے آپ کو نیزہ مارا اور خولی بن یزید اصبحی سے کہا :
ان کا سر جدا کر دیجیے۔
پس اس پر لرزا طاری ہوگیا۔
تو سنان نے سواری سے اتر کر آپ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کر دیا اور اسے خولی کے حوالے کر دیا۔
*(سمط النجوم العوالی فی انباء الاوائل و التوالی، جلد 3 صفحہ 179، 180 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
برادرِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مولانا حسن رضا خان برکاتی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"جب شمر خبیث نے کام نکلتا نہ دیکھا، لشکر کو للکارا :
’’تمہاری مائیں تم کو پیٹیں کیا انتظار کر رہے ہو حسین کو قتل کرو۔‘‘
اب چار طرف سے ظلمت کے ابر اور تاریکی کے بادل فاطمہ (رضی اللہ
کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شھادت ظہر کی نماز کا سجدہ کرنے کی حالت میں ہوئی ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے شھادت سے پہلے اپنے اصحاب کو نمازِ ظہر پڑھائی، نماز کے بعد سخت لڑائی شروع ہوگئی، جس میں آپ کے اصحاب شہید ہو گئے پھر آخر میں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس سے پتہ چلا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت نمازِ ظہر کے دوران نہیں ہوئی، اب رہ گئی یہ بات کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت سجدے کی حالت میں ہوئی یا نہیں؟
تو کافی کتب میں شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کے سجدہ کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا اور بعض نے سجدہ شکر کا ذکر کیا ہے کہ شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے سجدہ شکر کیا اور اسی دوران ایک بدبخت فاسق نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کردیا۔
چنانچہ چنانچہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں :
*"ثم صلی الحسین باصحابہ الظھر صلاۃ الخوف ثم اقتتلوا بعدھا قتالا شدیدا۔۔۔۔۔۔۔ فتقدم زرعۃ بن شریک التمیمی فضربہ بالسیف علی عاتقہ ثم طعنہ سنان بن انس بن عمرو النخعی بالرمح ثم نزل فاحتز راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نمازِ ظہر نمازِ خوف کی طرح پڑھائی پھر نماز ادا کرنے کے بعد سخت لڑائی ہوئی۔۔۔
(امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی شہید ہونے کے بعد) پھر زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر تلوار کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک کندھے پر وار کیا پھر سنان بن انس بن عمرو نخعی نے آپ رضی اللہ عنہ پر نیزے سے وار کیا پھر شمر اترا اور آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک سر کو (مبارک بدن سے) جدا کر دیا اور (جدا کر کے) مبارک سر خولی کے حوالے کر دیا۔
*(البدایہ النھایہ، صفۃ مقتل حسین، جلد 8 صفحہ 260، 265 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
امام عبدالملک بن حسین بن عبدالملک شافعی عاصمی مکی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ثم حضر وقت الصلاة ۔۔۔۔۔۔ ثم صلی الحسین الظھر صلاۃ الخوف، ثم اشتد القتال بعد الصلاة ۔۔۔۔۔۔۔*
*و اشتد عطش الحسین، فجاء لیشرب من الفرات، فرمی حصین بن تمیم یسھم فی فمہ فجعل یتلقی الدم و یدعو ثم اقبل شمر بن ذی الجوشن فی عشرۃ من رجالتہ، فحالوا بین الحسین و بین اھلہ، فقال : امنعوا اھلی و رحلی من طغامکم، فقال : ذلک لک، ثم حمل علیھم و حملوا علیہ و احاطوا بہ من یمینہ و شمالہ۔*
*وخرجت زینت تنادی فلقیت عمر بن سعد، فقالت : یا عمر، یقتل ابو عبداللہ، و انت تنظر؟! فبکی و زوی عنھا وجھہ، ثم نادی شمر : ماذا تنظرون بالرجل؟! فحملوا علیہ، و ضرب زرعۃ بن شریک التمیمی کتفہ الایسر و علی عاتقہ فاوھنہ، ثم طعنہ سنان بن قیس النخعی بالرمح، و قال لخولی بن یزید الاصبحی : جز راسہ، فارعد، فنزل الیہ سنان فاخذ راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی پھر نماز کا وقت ہوگیا۔۔۔ پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے نمازِ ظہر، نمازِ خوف کی طرح پڑھی، پھر نماز کے بعد لڑائی سخت ہوگئی۔۔۔
اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیاس سخت ہو گئی، پس آپ رضی اللہ عنہ فرات پر پانی پینے کے لئے آئے تو حصین بن تمیم نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ اقدس میں تیر مارا، پس خون نکل کر بہنے لگا پھر شمر ذی الجوشن اپنے لشکر کے دس افراد کو لے کر آگے بڑھا، پس امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل کے درمیان حائل ہو گئے تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
تم میرے اہل اور میری قیام گاہ سے اپنی کمینگی کو باز رکھو،
تو شمر بولا :
یہ آپ کے لئے ہے،
پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے دائیں اور بائیں سے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا۔
اور حضرت زینب رضی اللہ عنھا ندا کرتے ہوئے نکلیں پس عمر بن سعد سے ملاقات ہوئی تو فرمایا :
اے عمر! ابو عبداللہ (یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ) لڑائی کر رہے ہیں اور تو دیکھ رہا ہے ؟
پس وہ رویا اور آپ رضی اللہ عنھا سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر شمر نے ندا کی :
تم (اس) مرد کو کیا دیکھ رہے ہو؟
پس انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کے بائیں کندھے پر اور آپ کی گردن پر تلوار ماری تو اس نے آپ کو کمزور کر دیا پھر سنان بن قیس نخعی نے آپ کو نیزہ مارا اور خولی بن یزید اصبحی سے کہا :
ان کا سر جدا کر دیجیے۔
پس اس پر لرزا طاری ہوگیا۔
تو سنان نے سواری سے اتر کر آپ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کر دیا اور اسے خولی کے حوالے کر دیا۔
*(سمط النجوم العوالی فی انباء الاوائل و التوالی، جلد 3 صفحہ 179، 180 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
برادرِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مولانا حسن رضا خان برکاتی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"جب شمر خبیث نے کام نکلتا نہ دیکھا، لشکر کو للکارا :
’’تمہاری مائیں تم کو پیٹیں کیا انتظار کر رہے ہو حسین کو قتل کرو۔‘‘
اب چار طرف سے ظلمت کے ابر اور تاریکی کے بادل فاطمہ (رضی اللہ
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
تعالٰی عنہا) کے چاند پر چھا گئے۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے بائیں شانہ مبارک پر تلوار ماری، امام تھک گئے ہیں۔۔۔۔زخموں سے چور ہیں۔۔۔۔ 33 زخم نیزے کے 34 گھاؤ تلواروں کے لگے ہیں۔۔۔۔ تیروں کا شمار نہیں۔۔۔۔ اٹھنا چاہتے ہیں اور گر پڑتے ہیں۔۔۔۔ اسی حالت میں سنان بن انس نخعی شقی ناری جہنمی نے نیزہ مارا کہ وہ عرش کا تارا زمین پر ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔ سنان مردود نے خولی بن یزید سے کہا : سر کاٹ لے۔
اس کا ہاتھ کانپا۔ سنان ولد الشیطان بولا :
’’تیرا ہاتھ بیکار ہو‘‘
اور خود گھوڑے سے اتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے جگر پارے، تین دن کے پیاسے کو ذبح کیا اور سر مبارک جدا کر لیا۔"
*(آئینہ قیامت صفحہ 69، 70 ناشر جمیعت اشاعت اھلسنت پاکستان)*
صدرالافاضل علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"تیر اندازوں کی جماعتیں ہر طرف سے گھر آئیں اور امامِ تشنہ کام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گردابِ بلا میں گھیر کر تیر برسانے شروع کر دئیے، گھوڑا اِس قدر زخمی ہوگیا کہ اس میں کام کرنے کی قوت نہ رہی ناچار حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک جگہ ٹھہرنا پڑا، ہر طرف سے تیر ا ٓرہے ہیں اور امام مظلو م کا تنِ ناز پرور نشانہ بنا ہوا ہے، نورانی جسم زخموں سے چکنا چور اور لہولہان ہو رہا ہے، بے شرم کوفیوں نے سنگدلی سے محترم مہمان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ ایک تیر پیشانی اقدس پر لگا یہ پیشانی مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بوسہ گاہ تھی، یہ سیمائے نور حبیب خدا عزوجل و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آرزو مندانِ جمال کا قرارِ دل ہے۔ بے ادبانِ کوفہ نے اس پیشانیٔ مُصَفّا اور اس جبینِ پُر ضِیا کو تیر سے گھائل کیا، حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چکر آگیا اور گھوڑے سے نیچے آئے، اب نامردانِ سیاہ باطن نے نیزوں پر رکھ لیا، نورانی پیکر خون میں نہا گیا اور آپ شہید ہوکر زمین پر گر پڑے۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ ۔
ظالمانِ بدکیش نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مصیبتوں کا اسی پر خاتمہ نہیں ہوگیا۔ دشمنانِ ایمان نے سرِ مبارک کو تنِ اقدس سے جدا کرنا چاہا اور نضر ابن خرشہ اس ناپاک ارادہ سے آگے بڑھا مگر امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہیبت سے اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار چھوٹ پڑی۔ خولی ابن یزید پلید نے یا شبل ابن یزید نے بڑھ کر آپ کے سرِ اقدس کو تنِ مبارک سے جدا کیا۔"
*(سوانح کربلا صفحہ 169، 170 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"ہر طرف سے تیر آرہے ہیں اور امام مظلوم کا جسم اقدس تیروں کا نشانہ بنا ہوا ہے، تن نازنین زخموں سے چور اور لہولہان ہو رہا ہے۔ بے وفا کرفیوں نے جگر پارہ رسول، فرزندِ بتول کو مہمان بلا کر، ان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ یہاں تک کہ زہر میں بجھا ہوا ایک تیر آپ کی اس مقدس پیشانی پر لگا جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہزاروں بار چوما تھا۔ تیر لگتے ہی چہرہ انور پر خون کا دھارا بہ نکلا۔ آپ غش کھا کر گھوڑے کی زین سے فرشِ زمین پر آگئے۔ اب ظالموں نے نیزوں سے حملہ کیا، شیطان صفت سنان نے ایک ایسا نیزہ مارا جو تنِ اقدس کے پار ہوگیا۔ تیر اور نیزہ و شمشیر کے بہتر زخم کھانے کے بعد آپ سجدے میں گرے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے واصلِ بحق ہوگئے۔ 56 سال، 5 ماہ، 5 دن کی عمر میں جمعہ کے دن محرم کی دسویں تاریخ 61ھ مطابق 680ء کو امام عالی مقام نے اس دارِفانی سے رحلت فرمائی۔"
*(خطباتِ محرم صفحہ 360 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
*نوٹ :*
کچھ دنوں سے چند جاہل لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیخِ طریقت امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ کے متعلق طوفانِ بدتمیزی برپا کر رکھا ہے کہ انہوں نے جو یہ بیان دیا ہے کہ بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ نمازِ (ظہر) کی حالت میں نہیں تھے، یہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی گستاخی ہے حالانکہ نہ یہ گستاخی ہے اور نہ یہ خلافِ واقع ہے لیکن کہتے ہیں کہ اعتراض کرنے والا اندھے کی طرح ہوتا ہے اور یہ بات ان جاہل لوگوں پر کامل طور پر سچی آتی ہے کہ ان عقل کے اندھوں کو اپنے گھر کی بھی خبر نہیں کیونکہ اگر کچھ عقل و شعور رکھتے تو اپنے گھر کی بھی خبر رکھتے، اب ہم ان کے گھر کی گواہی دکھاتے ہیں کہ جس میں بوقتِ شھادت نہ تو امامِ حیسن رضی اللہ عنہ کی نماز کا ذکر ہے اور نہ سجدے کا، لہذا ایسے لوگوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ حسد کی آگ میں جل کر خاکستر ہونے کے بجائے اسے پڑھیں۔
چنانچہ ڈاکٹر طاہر القادری منہاجی لکھتا ہے :
"شمر لعین کے اکسانے پر یزیدی لشکر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر آپ کے بائیں کندھے پر تلوار ماری جس سے آپ لڑ کھڑا گئے اس پر سب حملہ آور پیچھے ہٹ گئے پھر سنان بن ابی
اس کا ہاتھ کانپا۔ سنان ولد الشیطان بولا :
’’تیرا ہاتھ بیکار ہو‘‘
اور خود گھوڑے سے اتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے جگر پارے، تین دن کے پیاسے کو ذبح کیا اور سر مبارک جدا کر لیا۔"
*(آئینہ قیامت صفحہ 69، 70 ناشر جمیعت اشاعت اھلسنت پاکستان)*
صدرالافاضل علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"تیر اندازوں کی جماعتیں ہر طرف سے گھر آئیں اور امامِ تشنہ کام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گردابِ بلا میں گھیر کر تیر برسانے شروع کر دئیے، گھوڑا اِس قدر زخمی ہوگیا کہ اس میں کام کرنے کی قوت نہ رہی ناچار حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک جگہ ٹھہرنا پڑا، ہر طرف سے تیر ا ٓرہے ہیں اور امام مظلو م کا تنِ ناز پرور نشانہ بنا ہوا ہے، نورانی جسم زخموں سے چکنا چور اور لہولہان ہو رہا ہے، بے شرم کوفیوں نے سنگدلی سے محترم مہمان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ ایک تیر پیشانی اقدس پر لگا یہ پیشانی مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بوسہ گاہ تھی، یہ سیمائے نور حبیب خدا عزوجل و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آرزو مندانِ جمال کا قرارِ دل ہے۔ بے ادبانِ کوفہ نے اس پیشانیٔ مُصَفّا اور اس جبینِ پُر ضِیا کو تیر سے گھائل کیا، حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چکر آگیا اور گھوڑے سے نیچے آئے، اب نامردانِ سیاہ باطن نے نیزوں پر رکھ لیا، نورانی پیکر خون میں نہا گیا اور آپ شہید ہوکر زمین پر گر پڑے۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ ۔
ظالمانِ بدکیش نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مصیبتوں کا اسی پر خاتمہ نہیں ہوگیا۔ دشمنانِ ایمان نے سرِ مبارک کو تنِ اقدس سے جدا کرنا چاہا اور نضر ابن خرشہ اس ناپاک ارادہ سے آگے بڑھا مگر امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہیبت سے اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار چھوٹ پڑی۔ خولی ابن یزید پلید نے یا شبل ابن یزید نے بڑھ کر آپ کے سرِ اقدس کو تنِ مبارک سے جدا کیا۔"
*(سوانح کربلا صفحہ 169، 170 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"ہر طرف سے تیر آرہے ہیں اور امام مظلوم کا جسم اقدس تیروں کا نشانہ بنا ہوا ہے، تن نازنین زخموں سے چور اور لہولہان ہو رہا ہے۔ بے وفا کرفیوں نے جگر پارہ رسول، فرزندِ بتول کو مہمان بلا کر، ان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ یہاں تک کہ زہر میں بجھا ہوا ایک تیر آپ کی اس مقدس پیشانی پر لگا جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہزاروں بار چوما تھا۔ تیر لگتے ہی چہرہ انور پر خون کا دھارا بہ نکلا۔ آپ غش کھا کر گھوڑے کی زین سے فرشِ زمین پر آگئے۔ اب ظالموں نے نیزوں سے حملہ کیا، شیطان صفت سنان نے ایک ایسا نیزہ مارا جو تنِ اقدس کے پار ہوگیا۔ تیر اور نیزہ و شمشیر کے بہتر زخم کھانے کے بعد آپ سجدے میں گرے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے واصلِ بحق ہوگئے۔ 56 سال، 5 ماہ، 5 دن کی عمر میں جمعہ کے دن محرم کی دسویں تاریخ 61ھ مطابق 680ء کو امام عالی مقام نے اس دارِفانی سے رحلت فرمائی۔"
*(خطباتِ محرم صفحہ 360 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
*نوٹ :*
کچھ دنوں سے چند جاہل لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیخِ طریقت امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ کے متعلق طوفانِ بدتمیزی برپا کر رکھا ہے کہ انہوں نے جو یہ بیان دیا ہے کہ بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ نمازِ (ظہر) کی حالت میں نہیں تھے، یہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی گستاخی ہے حالانکہ نہ یہ گستاخی ہے اور نہ یہ خلافِ واقع ہے لیکن کہتے ہیں کہ اعتراض کرنے والا اندھے کی طرح ہوتا ہے اور یہ بات ان جاہل لوگوں پر کامل طور پر سچی آتی ہے کہ ان عقل کے اندھوں کو اپنے گھر کی بھی خبر نہیں کیونکہ اگر کچھ عقل و شعور رکھتے تو اپنے گھر کی بھی خبر رکھتے، اب ہم ان کے گھر کی گواہی دکھاتے ہیں کہ جس میں بوقتِ شھادت نہ تو امامِ حیسن رضی اللہ عنہ کی نماز کا ذکر ہے اور نہ سجدے کا، لہذا ایسے لوگوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ حسد کی آگ میں جل کر خاکستر ہونے کے بجائے اسے پڑھیں۔
چنانچہ ڈاکٹر طاہر القادری منہاجی لکھتا ہے :
"شمر لعین کے اکسانے پر یزیدی لشکر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر آپ کے بائیں کندھے پر تلوار ماری جس سے آپ لڑ کھڑا گئے اس پر سب حملہ آور پیچھے ہٹ گئے پھر سنان بن ابی
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
عمرو بن انس نخعی نے آگے بڑھ کر آپ کو نیزہ مارا جس سے آپ گھائل ہو کر گر پڑے سنان نے سواری سے اتر کر آپ کو ذبح کر دیا اور سر تن سے جدا کر کے خولی بن یزید کے حوالے کردیا۔"
*(شہادت امام حسین، فلسفہ و تعلیمات، صفحہ 176 منہاج القرآن پبلی کیشنز)*
مشہور شیعہ محقق، طالب جوہری بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سجدہ کی نفی کرتے ہوئے لکھتا ہے :
"ہلال بن نافع کہتا ہے کہ لشکر کے لوگوں نے جب امام حسین علیہ السلام کا کلام سنا تو اس طرح غضب میں آگئے جیسے اللہ نے رحم انکے دل میں ڈالا ہی نہ ہو۔ ابھی حسین باتیں کر ہی رہے تھے کہ ان کا سر کاٹ لیا گیا۔"
*(حدیثِ کربلا صفحہ 501)*
شیعہ مذہب کا محقق و مجتہد محمد حسین نجفی بھی بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نہ سجدے کا ذکر کرتا ہے اور نہ نماز کا، چنانچہ وہ لکھتا ہے :
"آخر کار شمر لعین نے للکار کر کہا ۔ کیا انتظار ہے؟ ان کا جام جلد تمام کرو۔ خولی ابن یزید اصبحی لعین آگے بڑھا مگر وہ لرزہ براندام ہوکر واپس چلا گیا۔۔۔ اس کے بعد یہ (شمر) ملعون خود آگے بڑھا۔۔۔۔ بہرحال اس شقی ازلی نے کند تلوار کی بارہ ضربات سے خامس آل عبا نواسہ رسول خدا جناب سیدالشھداء علیہ آلاف التحیۃ و الثناء کا پس گردن سے سر اقدس تن اطہر سے جدا کردیا۔"
*(سعادت الدارین فی مقتل الحسین صفحہ 476 اسلامک بک سنٹر اسلام آباد)*
اس شیعہ محقق حیسن نجفی نے اس بات پر کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عین شہادت کے وقت نماز اور سجدہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے، بارہ (12) کتابوں کے حوالے پیش کیے جو کہ درج ذیل ہیں :
1- مقتل عوالم صفحہ 100،
2- مقتل خوارزمی جلد 2 صفحہ 72،
3- مقتل مقرم صفحہ 333،
4- بحار الانوار،
5- قمقام ذخار،
6- ارشاد شیخ مفید،
7- امالی شیخ صدوق،
8- مقتل ابن نماز،
9- تاریخ طبری،
10- تاریخ کامل،
11- ناسخ التواریخ
12- نفس المہموم وغیرھا۔
اللہ پاک ہم سب سنی مسلمانوں کو صحابہ کرام اور اہلِ بیت رضی اللہ عنھم اجمعين کی سچی محبت عطاء فرمائے اور ان جاہل لوگوں کی فتنہ گری سے محفوظ فرمائے۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
09/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*
*(شہادت امام حسین، فلسفہ و تعلیمات، صفحہ 176 منہاج القرآن پبلی کیشنز)*
مشہور شیعہ محقق، طالب جوہری بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سجدہ کی نفی کرتے ہوئے لکھتا ہے :
"ہلال بن نافع کہتا ہے کہ لشکر کے لوگوں نے جب امام حسین علیہ السلام کا کلام سنا تو اس طرح غضب میں آگئے جیسے اللہ نے رحم انکے دل میں ڈالا ہی نہ ہو۔ ابھی حسین باتیں کر ہی رہے تھے کہ ان کا سر کاٹ لیا گیا۔"
*(حدیثِ کربلا صفحہ 501)*
شیعہ مذہب کا محقق و مجتہد محمد حسین نجفی بھی بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نہ سجدے کا ذکر کرتا ہے اور نہ نماز کا، چنانچہ وہ لکھتا ہے :
"آخر کار شمر لعین نے للکار کر کہا ۔ کیا انتظار ہے؟ ان کا جام جلد تمام کرو۔ خولی ابن یزید اصبحی لعین آگے بڑھا مگر وہ لرزہ براندام ہوکر واپس چلا گیا۔۔۔ اس کے بعد یہ (شمر) ملعون خود آگے بڑھا۔۔۔۔ بہرحال اس شقی ازلی نے کند تلوار کی بارہ ضربات سے خامس آل عبا نواسہ رسول خدا جناب سیدالشھداء علیہ آلاف التحیۃ و الثناء کا پس گردن سے سر اقدس تن اطہر سے جدا کردیا۔"
*(سعادت الدارین فی مقتل الحسین صفحہ 476 اسلامک بک سنٹر اسلام آباد)*
اس شیعہ محقق حیسن نجفی نے اس بات پر کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عین شہادت کے وقت نماز اور سجدہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے، بارہ (12) کتابوں کے حوالے پیش کیے جو کہ درج ذیل ہیں :
1- مقتل عوالم صفحہ 100،
2- مقتل خوارزمی جلد 2 صفحہ 72،
3- مقتل مقرم صفحہ 333،
4- بحار الانوار،
5- قمقام ذخار،
6- ارشاد شیخ مفید،
7- امالی شیخ صدوق،
8- مقتل ابن نماز،
9- تاریخ طبری،
10- تاریخ کامل،
11- ناسخ التواریخ
12- نفس المہموم وغیرھا۔
اللہ پاک ہم سب سنی مسلمانوں کو صحابہ کرام اور اہلِ بیت رضی اللہ عنھم اجمعين کی سچی محبت عطاء فرمائے اور ان جاہل لوگوں کی فتنہ گری سے محفوظ فرمائے۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
09/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*سمناں سے ہند تک:*
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کی جلوہ باریاں
(بموقع عرس مخدوم پاک)
غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اسلامی تاریخ کے اَوراق ایسے اَن گِنَت واقعات وشخصیات کے ذکر سے جگمگا رہے ہیں جن سے اشاعتِ دین کے کارواں کو تقویت ملی۔ ایسی لازوال شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخِ اسلامی کے ماتھے کاجھوٗمر ہیں جن کی مساعیِ جمیلہ سے دلوں کی تاریک دنیا میں تاریخی انقلاب آیا۔ دل و دماغ روشن ہوئے اور فکر کی کھیتی ہری بھری ہو گئی۔ ایسی ہی نادرِ زمن ہستیوں میں سمناں کے تاج دار وارثِ مملکتِ خداداد حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ ہیں۔ آپ سمناں کے تاج ور تھے ہی ساتھ ہی صحیح النسب سادات یعنی خاندانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم و چراغ تھے۔والد ماجد کانام محمدابراہیم تھاجو باوصف تاج دار بڑے نیک وتہجد گزار تھے۔ دن کے مجاہد وشب کے عابد تھے۔ والدہ ماجدہ خدیجہ بیگم (بنت خواجہ احمد یسوح) ’’صائم الدہر‘‘ اور ’’قائم اللیل‘‘ تھیں۔شاہانہ طرزِ زندگی، آسائشوں کے انبار، شوکت و عزت سبھی کچھ ہونے کے باوجود عظیم والدین کی تربیت نے دُنیا میں رہ کر دُنیاداری سے دور رکھا۔ یہی مومن کی شانِ بے نیازی ہوتی ہے کہ اسے تخت وتاج، مال ومنال، شوکت و قوت ومادیت متاثر نہیں کر سکتے۔ مخدوم پاک کے یہاں سب کچھ تھا لیکن وہ تو مردِحق آگاہ تھے؛ اسی لیے جس کے پیچھے سبھی بھاگتے ہیں وہ ان سب کو پاکر بھی متاثر نہ ہوئے اور روحانی عظمتوں کی منازلِ شوق بہ ذوق طے کرتے رہے۔
باضابطہ علومِ دینیہ حاصل کیے۔ عمر کی ساتویں منزل میں ہی قرآن مقدس مع قرأت سبعہ حفظ کر لیا۔ سمناں ونواح کے دینی مراکز سے علمی تشنگی بجھائی۔ معقولات ومنقولات میں مہارتِ تامہ پیدا کی۔ حرفاً حرفاً اور سبقاً سبقاً علم دین سیکھا اور کمال حاصل کیا۔والد ماجد کے وصال کے بعد تاج ور ہوئے لیکن انھیں توروحانی تاج دار بننا تھا،ایک شب خواب دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں، کہتے ہیں کہ ’’سلطنتِ الٰہی چاہتے ہو تو بادشاہت کو خیر باد کہہ کر رختِ سفر جانبِ ہند باندھ لو۔‘‘ والدہ کو حال سُنایا، اجازتِ سیاحتِ ہند ملی۔ یوں سلطنت کو ٹھکرادیا۔ راہِ خدا میں سیاحت کو گلے لگایا۔ یہاں سے روحانی مدارج میں مسلسل ترقی کا مرحلۂ عرفان طے ہونا شروع ہوا۔
سیادت و سلطنت کا یہ امیں جب رُخصت ہونے کو آیا توسمناں سے بارہ ہزار سپاہی الوداع کو ساتھ ہولیے، جنھیں تین منزلوں پرہی رُخصت فرمادیا۔اسباب ساتھ تھے جنھیں آگے جاکر فقرا میں تقسیم فرمادیا۔ سمرقند گئے پھراوچ میں قیام پذیر ہوئے۔ جہاں حضرت سید جلال الدین بخاری جہاں گشت کی خدمت میں حاضر ہوئے، دیکھتے ہی آپ نے مخدوم پاک سے فرمایا:
’’عرصے کے بعد دماغ کو طالبِ صادق کی خوش بو نصیب ہوئی، مدت کے بعد چمنِ سیادت سے نسیمِ خراماں ہوئی۔ مبارک ہو! بے حد جسور فرزندآیا ہے جلدی کیجیے۔ میرے بھائی ’’علاؤالدین‘ ‘آپ کے منتظر ہیں، راہ میں توقف نہ کیجیے۔‘‘
اخذِ فیض کے بعد آپ منزل بہ منزل ہوتے ہوئے دہلی آئے، پھر عازمِ بہار ہوئے، جہاں حضرت مخدوم شرف الدین یحیٰ منیری رحمۃاللہ علیہ کاجنازہ پڑھایا،پھر بنگال کی راہ لی۔ اس زمانے میں پنڈوہ بنگال میں حضرت ’’علاؤالدین‘‘ عبدالحق لاہوری کے علم و عرفان کا بڑا چرچا تھا، جن کی فیض رساں بارگاہ سے علاقۂ بنگال اسلامی تعلیمات سے جگمگا رہاتھا، اور آپ کی ایک نگاہِ کیمیا اثر سے ہزاروں دل نورِایمان سے روشن ہواُٹھے تھے،آپ عرصہ سے منتظر تھے، انتظار کس کا تھا یہ اس وقت کھلا جب مخدوم پاک آپ کی بارگاہ میں پہنچے اور روحانی امانتوں کے امین ہوئے۔شیخ نے نگاہ ڈالی اور مقاماتِ معرفت کے اس عظیم منصب پر پہنچا دیا جہاں نگاہوں سے پردے اُٹھ جاتے ہیں اور نظارۂ انوار وعرفان نگاہوں کا محور ٹھہرتا ہے۔بیعت کی سعادت حاصل کی،۱۲؍سال خدمتِ مرشد میں رہے،خرقۂ خلافت اور جہانگیر کا لقب پایا، مرشد نے خود روحانی تربیت کی۔ علامہ مشتاق احمد نظامی لکھتے ہیں:
ایک دن آپ(مخدوم پاک) کمر باندھ رہے تھے۔ مرشد نے پوچھا: ’’کیا کررہے ہو؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’خدمتِ خلق کے لیے کمر کس رہا ہوں۔‘‘ مرشد نے فرمایا:’’اگر می بندی محکم بہ بند کہ ہیچ درمیاں نداری۔‘‘(اگر کمر کس رہے ہو تو مضبوطی سے کسو تاکہ پھر کوئی چیز درمیان میں نہ رہے) آپ نے فرمایا:’’آرزوئے نفس از میاں بیروں کشیدم تازندہ۔‘‘(جب تک زندہ ہوں نفس کی آرزوؤں کو دور ہی رکھوں گا)
مرشد کی اجازت سے سیاحت کے اگلے دور کا آغاز کیا۔ دلوں کی صفائی اور ستھرائی فرماتے رہے۔ جون پور گئے، محمد آباد گہنہ گئے، نواحِ اودھ میں بھی دین کی اشاعت کی۔ وہ دور ایسا تھا کہ سحر وجادو کے ذریعے شرک و کفر کو رواج دیا جارہا تھا، ایسے عالم میں زمانی ضرورت کے تحت آپ نے کرامتوں کا اظہار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے، کچھوچھہ مقدسہ میں آپ نے سکونت اختیار کی۔پھر سیاحت ک
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کی جلوہ باریاں
(بموقع عرس مخدوم پاک)
غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
اسلامی تاریخ کے اَوراق ایسے اَن گِنَت واقعات وشخصیات کے ذکر سے جگمگا رہے ہیں جن سے اشاعتِ دین کے کارواں کو تقویت ملی۔ ایسی لازوال شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخِ اسلامی کے ماتھے کاجھوٗمر ہیں جن کی مساعیِ جمیلہ سے دلوں کی تاریک دنیا میں تاریخی انقلاب آیا۔ دل و دماغ روشن ہوئے اور فکر کی کھیتی ہری بھری ہو گئی۔ ایسی ہی نادرِ زمن ہستیوں میں سمناں کے تاج دار وارثِ مملکتِ خداداد حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ ہیں۔ آپ سمناں کے تاج ور تھے ہی ساتھ ہی صحیح النسب سادات یعنی خاندانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم و چراغ تھے۔والد ماجد کانام محمدابراہیم تھاجو باوصف تاج دار بڑے نیک وتہجد گزار تھے۔ دن کے مجاہد وشب کے عابد تھے۔ والدہ ماجدہ خدیجہ بیگم (بنت خواجہ احمد یسوح) ’’صائم الدہر‘‘ اور ’’قائم اللیل‘‘ تھیں۔شاہانہ طرزِ زندگی، آسائشوں کے انبار، شوکت و عزت سبھی کچھ ہونے کے باوجود عظیم والدین کی تربیت نے دُنیا میں رہ کر دُنیاداری سے دور رکھا۔ یہی مومن کی شانِ بے نیازی ہوتی ہے کہ اسے تخت وتاج، مال ومنال، شوکت و قوت ومادیت متاثر نہیں کر سکتے۔ مخدوم پاک کے یہاں سب کچھ تھا لیکن وہ تو مردِحق آگاہ تھے؛ اسی لیے جس کے پیچھے سبھی بھاگتے ہیں وہ ان سب کو پاکر بھی متاثر نہ ہوئے اور روحانی عظمتوں کی منازلِ شوق بہ ذوق طے کرتے رہے۔
باضابطہ علومِ دینیہ حاصل کیے۔ عمر کی ساتویں منزل میں ہی قرآن مقدس مع قرأت سبعہ حفظ کر لیا۔ سمناں ونواح کے دینی مراکز سے علمی تشنگی بجھائی۔ معقولات ومنقولات میں مہارتِ تامہ پیدا کی۔ حرفاً حرفاً اور سبقاً سبقاً علم دین سیکھا اور کمال حاصل کیا۔والد ماجد کے وصال کے بعد تاج ور ہوئے لیکن انھیں توروحانی تاج دار بننا تھا،ایک شب خواب دیکھا کہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں، کہتے ہیں کہ ’’سلطنتِ الٰہی چاہتے ہو تو بادشاہت کو خیر باد کہہ کر رختِ سفر جانبِ ہند باندھ لو۔‘‘ والدہ کو حال سُنایا، اجازتِ سیاحتِ ہند ملی۔ یوں سلطنت کو ٹھکرادیا۔ راہِ خدا میں سیاحت کو گلے لگایا۔ یہاں سے روحانی مدارج میں مسلسل ترقی کا مرحلۂ عرفان طے ہونا شروع ہوا۔
سیادت و سلطنت کا یہ امیں جب رُخصت ہونے کو آیا توسمناں سے بارہ ہزار سپاہی الوداع کو ساتھ ہولیے، جنھیں تین منزلوں پرہی رُخصت فرمادیا۔اسباب ساتھ تھے جنھیں آگے جاکر فقرا میں تقسیم فرمادیا۔ سمرقند گئے پھراوچ میں قیام پذیر ہوئے۔ جہاں حضرت سید جلال الدین بخاری جہاں گشت کی خدمت میں حاضر ہوئے، دیکھتے ہی آپ نے مخدوم پاک سے فرمایا:
’’عرصے کے بعد دماغ کو طالبِ صادق کی خوش بو نصیب ہوئی، مدت کے بعد چمنِ سیادت سے نسیمِ خراماں ہوئی۔ مبارک ہو! بے حد جسور فرزندآیا ہے جلدی کیجیے۔ میرے بھائی ’’علاؤالدین‘ ‘آپ کے منتظر ہیں، راہ میں توقف نہ کیجیے۔‘‘
اخذِ فیض کے بعد آپ منزل بہ منزل ہوتے ہوئے دہلی آئے، پھر عازمِ بہار ہوئے، جہاں حضرت مخدوم شرف الدین یحیٰ منیری رحمۃاللہ علیہ کاجنازہ پڑھایا،پھر بنگال کی راہ لی۔ اس زمانے میں پنڈوہ بنگال میں حضرت ’’علاؤالدین‘‘ عبدالحق لاہوری کے علم و عرفان کا بڑا چرچا تھا، جن کی فیض رساں بارگاہ سے علاقۂ بنگال اسلامی تعلیمات سے جگمگا رہاتھا، اور آپ کی ایک نگاہِ کیمیا اثر سے ہزاروں دل نورِایمان سے روشن ہواُٹھے تھے،آپ عرصہ سے منتظر تھے، انتظار کس کا تھا یہ اس وقت کھلا جب مخدوم پاک آپ کی بارگاہ میں پہنچے اور روحانی امانتوں کے امین ہوئے۔شیخ نے نگاہ ڈالی اور مقاماتِ معرفت کے اس عظیم منصب پر پہنچا دیا جہاں نگاہوں سے پردے اُٹھ جاتے ہیں اور نظارۂ انوار وعرفان نگاہوں کا محور ٹھہرتا ہے۔بیعت کی سعادت حاصل کی،۱۲؍سال خدمتِ مرشد میں رہے،خرقۂ خلافت اور جہانگیر کا لقب پایا، مرشد نے خود روحانی تربیت کی۔ علامہ مشتاق احمد نظامی لکھتے ہیں:
ایک دن آپ(مخدوم پاک) کمر باندھ رہے تھے۔ مرشد نے پوچھا: ’’کیا کررہے ہو؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’خدمتِ خلق کے لیے کمر کس رہا ہوں۔‘‘ مرشد نے فرمایا:’’اگر می بندی محکم بہ بند کہ ہیچ درمیاں نداری۔‘‘(اگر کمر کس رہے ہو تو مضبوطی سے کسو تاکہ پھر کوئی چیز درمیان میں نہ رہے) آپ نے فرمایا:’’آرزوئے نفس از میاں بیروں کشیدم تازندہ۔‘‘(جب تک زندہ ہوں نفس کی آرزوؤں کو دور ہی رکھوں گا)
مرشد کی اجازت سے سیاحت کے اگلے دور کا آغاز کیا۔ دلوں کی صفائی اور ستھرائی فرماتے رہے۔ جون پور گئے، محمد آباد گہنہ گئے، نواحِ اودھ میں بھی دین کی اشاعت کی۔ وہ دور ایسا تھا کہ سحر وجادو کے ذریعے شرک و کفر کو رواج دیا جارہا تھا، ایسے عالم میں زمانی ضرورت کے تحت آپ نے کرامتوں کا اظہار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے، کچھوچھہ مقدسہ میں آپ نے سکونت اختیار کی۔پھر سیاحت ک
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
ا دوسرا دور شروع ہوا۔ سیاحت کے ذریعے اسلام کی اشاعت کرنے والوں نے نئی تاریخ رقم کی ہے اور عزم و حوصلہ دیا ہے، اس سفر میں حرمین، دمشق، نجف اشرف، کربلا، سمنان، ماوراء النہر، ترکستان، قندھار، غزنی، کابل، ملتان، اجودھن،دہلی، اجمیر، دکن،گجرات ہوتے ہوئے کچھوچھہ مقدسہ آئے۔ اس سیاحت میں اکابر اولیائے کرام سے فیض لیا، طالبین راہِ طریقت و معرفت کو فیض دیا،کفر کی وادیوں میں بھٹکنے والے کتنے ہی افراد کو حق آشنا کیا۔
دورانِ سکونت کچھوچھہ مقدسہ کتنے ہی اصحابِ اقتدارکی اصلاح کی اور انھیں توبہ کی طرف مائل کیا۔ آپ سچے عاشق رسول تھے، جس کا اندازہ لطائف اشرفی کے مطالعہ سے ہوتا ہے، آپ کے ان ملفوظات سے شریعتِ مطہرہ پر استقامت کا جلوہ بھی سامنے آتا ہے، آج افسوس کی بات ہے کہ ولیوں سے نسبت کا دعویٰ کرنے والے بعض حلقے شریعت سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں اور بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کے بے ادب و گستاخ بھی، انھیں مخدوم پاک کی حیاتِ مبارکہ سے درس لینا چاہیے کہ آپ کا کوئی لمحہ جادۂ شریعت سے بال برابر منحرف نہ ہوا۔ آپ کے یہاں شریعت پر استقامت کے بعد ہی طریقت کی منزل کا پتا ملتا ہے، اسی درس کو گزری صدیوں میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، علامہ فضل حق خیرآبادی، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی،شیخ المشائخ اشرفی میاں کچھوچھوی، مفتی اعظم ہند نوری نے دیا،انھیں کے مشن کو اپنانا مخدوم پاک سے محبت و نسبت کا تقاضا ہے اور اسی کی اس عہدِ قحط الرجال میں ہمیں ضرورت ہے۔ بقول اعلیٰ حضرت ؎
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہِ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے
٭٭٭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4327466493995310&id=555248701217127
دورانِ سکونت کچھوچھہ مقدسہ کتنے ہی اصحابِ اقتدارکی اصلاح کی اور انھیں توبہ کی طرف مائل کیا۔ آپ سچے عاشق رسول تھے، جس کا اندازہ لطائف اشرفی کے مطالعہ سے ہوتا ہے، آپ کے ان ملفوظات سے شریعتِ مطہرہ پر استقامت کا جلوہ بھی سامنے آتا ہے، آج افسوس کی بات ہے کہ ولیوں سے نسبت کا دعویٰ کرنے والے بعض حلقے شریعت سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں اور بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کے بے ادب و گستاخ بھی، انھیں مخدوم پاک کی حیاتِ مبارکہ سے درس لینا چاہیے کہ آپ کا کوئی لمحہ جادۂ شریعت سے بال برابر منحرف نہ ہوا۔ آپ کے یہاں شریعت پر استقامت کے بعد ہی طریقت کی منزل کا پتا ملتا ہے، اسی درس کو گزری صدیوں میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، علامہ فضل حق خیرآبادی، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی،شیخ المشائخ اشرفی میاں کچھوچھوی، مفتی اعظم ہند نوری نے دیا،انھیں کے مشن کو اپنانا مخدوم پاک سے محبت و نسبت کا تقاضا ہے اور اسی کی اس عہدِ قحط الرجال میں ہمیں ضرورت ہے۔ بقول اعلیٰ حضرت ؎
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہِ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے
٭٭٭
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4327466493995310&id=555248701217127
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
بعد وصال امام حسن کی تمنا امام حسن کو زہر کس نے دیا ماہ محرم میں تاریخی نکاح امام حسین کی شہادت کا بدلہ قاتلین امام حسین کا انجام خولی بن یزید کو قتل کے بعد ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل قاتل حسین جل کر کوئلہ بن گیا اہل بیت پر…
شمر قتل کے بعد کتوں کے حوالے
شمر قتل کے بعد کتوں کے حوالے
علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے
ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے
ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے
امام حسین کا سر مبارک لٹکانے
عبد اللہ بن مسلم کے ہاتھ سے
عبد اللہ بن مسلم کے قاتل کو
قتل حسین پر راضی ہونے والے
ابن زیاد بد نہاد کا عبرتناک انجام
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜 ⁹
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
شمر قتل کے بعد کتوں کے حوالے
علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے
ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے
ہاتھ پاؤں کاٹ کر تڑپنے کے لئے
امام حسین کا سر مبارک لٹکانے
عبد اللہ بن مسلم کے ہاتھ سے
عبد اللہ بن مسلم کے قاتل کو
قتل حسین پر راضی ہونے والے
ابن زیاد بد نہاد کا عبرتناک انجام
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜 ⁹
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM