بخشش‘‘، 1999ء۔
(۸۰)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’ردِّ فلسفہ قدیمہ‘‘، 2000ء۔
(۸۱)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’بلا سود بینکاری‘‘، 2000ء۔
(۸۲)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’کنز الایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی‘‘،2000ء۔
(۸۳)۔پروفیسرڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’(TheLight )انگریزی ترجمہ رسالہ ’’اجالا‘‘، 2000ء۔
(۸۴)۔انگریزیترجمہ: بشیر حسین ناظم، ’’Salam-e-Raza‘‘،2001ء۔
(۸۵)۔علامہ عبد الحکیم شرف قادری، ’’تکریمہ ثلاثہ من علماء مصر الازھر(عربی)‘‘، 2001ء۔
(۸۶)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’تذکرہ مولانا سید وزارت رسول قادری‘‘، 2001ء۔
(۸۷)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’امام احمد رضا اور تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت‘‘، 2001ء۔
(۸۸)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’تاریخ نعت گوئی میں امام احمدرضا کا مقام‘‘، 2001ء۔
(۸۹)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد،سید وجاہت رسول قادری، ’’دارالعلوم منظر اسلام‘‘، 2001ء۔
(۹۰)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’Imam AhmadRaza Barailvy‘‘2002ء۔
(۹۱)۔رانامحمد دلشاد،’’Concept of aTeacher‘‘،2002ء۔
(۹۲)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’اصلاحِ معاشرہ‘‘، 2002ء۔
(۹۳)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’شبِ برأت کی شخصیات‘‘، 2002ء۔
(۹۴)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’معلم کائنات‘‘، 2002ء۔
(۹۵)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’امن و اخوت کے عظیم داعی‘‘، 2002ء۔
(۹۶)۔ڈاکٹر جلال الدین نوری، ’’تحریک ترکِ تقلید اور فتاویٰ رضویہ‘‘، 2002ء۔
(۹۷)۔پروفیسرانوار احمد زئی، ’’آفتاب آمد دلیل آفتاب‘‘، 2002ء۔
(۹۸)۔سیدوجاہت رسول قادری،’’خانوادۂ نبوت کا اسوۂ حسنہ‘‘، 2003ء۔
(۹۹)۔ سید وجاہت رسول قادری،’’اسلام میں عدل و احسان کا تصور‘‘،2003ء۔
(۱۰۰)۔سید وجاہت رسول قادری،’’امام احمد رضا اور انٹرنیشنل جامعات‘‘، 2003ء۔
(۱۰۱)۔حافظ خواجہ سلطان محمود،غلام حمید الدین سیالوی،’’محاسن کنزالایمان(عربی)‘‘، 2003ء۔
(۱۰۲)۔قاضی السید عتیق الرحمن شاہ بخاری، ’’النثر الفنی(عربی)‘‘، 2003ء۔
(۱۰۳)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، (تعریب: مولانا انوار احمد بغدادی)’’صلاۃ الصفا فی مولودالمصطفیٰ (عربی)‘‘،2003ء۔
(۱۰۴)۔علامہ یٰسین اختر مصباحی، ’’اسلام امن و سلامتی کا پیامبر‘‘، 2003ء۔
(۱۰۵)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’ملفوظات شمس بریلوی‘‘، 2003ء۔
(۱۰۶)۔علامہ محمد ابراہیم خوشتر صدیقی، ’’زادِ راہِ بخشش‘‘، 2003ء۔
(۱۰۷)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’فضائل رمضان‘‘، 2003ء۔
(۱۰۸)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد،(مرتبہ: عبد الستار طاہر نقشبندی)،’’آئینہ رضویات۔ جلد چہارم‘‘، 2004ء۔
(۱۰۹)۔ڈاکٹرمحمد مالک، ’’امام احمد رضا اور علمِ صوتیات‘‘، 2004ء۔
(۱۱۰)۔علامہ عبد الستار ہمدانی برکاتی نوری، ’’فنِ شاعری اورحسان الھند‘‘، 2004ء۔
(۱۱۱)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،تقدیم و ترتیب: مولانا مفتی قاضی شہید عالم رضوی،’’کشف العلۃعن سمت القبلۃ‘‘، 2005ء۔
(۱۱۲)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ترتیب جدید وتخریج: مولانا محمد حنیف خاں رضوی، ’’نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان و معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین‘‘، 2005ء۔
(۱۱۳)۔ڈاکٹر محمد حسن قادری، ’’مولانا نقی علی خاں۔ حیات وعلمی کارنامے (پی.ایچ.ڈی مقالہ)، 2005ء۔
(۱۴)۔عبدالستار طاہر نقشبندی، ’’مکتوبات مسعودی‘‘، 2005ء۔
(۱۱۵)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، مترجم: مولانا محمد ہاشم سومرو،’’امام احمدرضا ء سند جا عالم( سندھی)‘‘، 2005ء۔
(۱۱۶)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’تذکرہ اراکین ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا‘‘، 2005ء۔
(۱۱۷)۔ پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’۲۵؍ سالہ تاریخی و کارکردگی ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا‘‘، 2005ء۔
(۱۱۸)۔پروفیسرڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’خلفائے محدث بریلوی‘‘، 2005ء۔
(۱۱۹)۔ڈاکٹرعبد النعیم عزیزی، ’’اردو نعت گوئی اور فاضل بریلوی‘‘، 2005ء۔
(۱۲۰)۔ڈاکٹرغلام غوث قادری، ’’امام احمد رضا کی انشاء پردازی‘‘، 2005ء۔
(۱۲۱)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’القادیانیۃ‘‘، 2005ء۔
(۱۲۲)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’محمد ﷺ خاتم النبیین‘‘، 2005ء۔
(۱۲۳)۔پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’مختصر تعارف، مطبوعات و کارکردگی‘‘، 2005ء۔
(۱۲۴)۔مولانامشتاق احمد شاہ الازہری، ’’الامام احمد رضا خاں وأثرہ فی الفقہ الحنفی (عربی)‘‘،2005ء۔
(۱۲۵)۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’الشیخ احمد رضا خاں البریلوی (عربی)‘‘، 2005ء۔
(۱۲۶)۔ڈاکٹرمحمود حسین بریلوی، ’’مولانا احمد رضا خاں کی عربی زبان و ادب کی خدمات‘‘، 2005ء۔
(۱۲۷)۔ڈاکٹرمحمد امام الدین جوہر شفیع آبادی، ’’حضرت رضا بریلوی بحیثیت شاعر نعت‘‘، 2005ء۔
(۱۲۸)۔الطاف حسین سعیدی، ’’حسام الحرمین کے سو (۱۰۰)سال‘‘،2005ء۔
(۱۲۹)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،’’A FairSuccess refuting Motion of Earth‘‘، 2005ء۔
(۱۳۰)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،’’Hussam-ul-Harmain‘‘، 2005ء۔
(۱۳۱)۔ڈاکٹرمحمد مالک، ’’Sceintific Work ofImam Ahamad Raza‘‘، 2005ء۔
(۱۳۲)۔محمد بہاء الدین شاہ، ’’امام احمد رضا بریلوی اورعلمائے مکہ مکرمہ‘‘، 20
(۸۰)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’ردِّ فلسفہ قدیمہ‘‘، 2000ء۔
(۸۱)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’بلا سود بینکاری‘‘، 2000ء۔
(۸۲)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’کنز الایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی‘‘،2000ء۔
(۸۳)۔پروفیسرڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’(TheLight )انگریزی ترجمہ رسالہ ’’اجالا‘‘، 2000ء۔
(۸۴)۔انگریزیترجمہ: بشیر حسین ناظم، ’’Salam-e-Raza‘‘،2001ء۔
(۸۵)۔علامہ عبد الحکیم شرف قادری، ’’تکریمہ ثلاثہ من علماء مصر الازھر(عربی)‘‘، 2001ء۔
(۸۶)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’تذکرہ مولانا سید وزارت رسول قادری‘‘، 2001ء۔
(۸۷)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’امام احمد رضا اور تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت‘‘، 2001ء۔
(۸۸)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’تاریخ نعت گوئی میں امام احمدرضا کا مقام‘‘، 2001ء۔
(۸۹)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد،سید وجاہت رسول قادری، ’’دارالعلوم منظر اسلام‘‘، 2001ء۔
(۹۰)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’Imam AhmadRaza Barailvy‘‘2002ء۔
(۹۱)۔رانامحمد دلشاد،’’Concept of aTeacher‘‘،2002ء۔
(۹۲)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’اصلاحِ معاشرہ‘‘، 2002ء۔
(۹۳)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’شبِ برأت کی شخصیات‘‘، 2002ء۔
(۹۴)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’معلم کائنات‘‘، 2002ء۔
(۹۵)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’امن و اخوت کے عظیم داعی‘‘، 2002ء۔
(۹۶)۔ڈاکٹر جلال الدین نوری، ’’تحریک ترکِ تقلید اور فتاویٰ رضویہ‘‘، 2002ء۔
(۹۷)۔پروفیسرانوار احمد زئی، ’’آفتاب آمد دلیل آفتاب‘‘، 2002ء۔
(۹۸)۔سیدوجاہت رسول قادری،’’خانوادۂ نبوت کا اسوۂ حسنہ‘‘، 2003ء۔
(۹۹)۔ سید وجاہت رسول قادری،’’اسلام میں عدل و احسان کا تصور‘‘،2003ء۔
(۱۰۰)۔سید وجاہت رسول قادری،’’امام احمد رضا اور انٹرنیشنل جامعات‘‘، 2003ء۔
(۱۰۱)۔حافظ خواجہ سلطان محمود،غلام حمید الدین سیالوی،’’محاسن کنزالایمان(عربی)‘‘، 2003ء۔
(۱۰۲)۔قاضی السید عتیق الرحمن شاہ بخاری، ’’النثر الفنی(عربی)‘‘، 2003ء۔
(۱۰۳)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، (تعریب: مولانا انوار احمد بغدادی)’’صلاۃ الصفا فی مولودالمصطفیٰ (عربی)‘‘،2003ء۔
(۱۰۴)۔علامہ یٰسین اختر مصباحی، ’’اسلام امن و سلامتی کا پیامبر‘‘، 2003ء۔
(۱۰۵)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’ملفوظات شمس بریلوی‘‘، 2003ء۔
(۱۰۶)۔علامہ محمد ابراہیم خوشتر صدیقی، ’’زادِ راہِ بخشش‘‘، 2003ء۔
(۱۰۷)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’فضائل رمضان‘‘، 2003ء۔
(۱۰۸)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد،(مرتبہ: عبد الستار طاہر نقشبندی)،’’آئینہ رضویات۔ جلد چہارم‘‘، 2004ء۔
(۱۰۹)۔ڈاکٹرمحمد مالک، ’’امام احمد رضا اور علمِ صوتیات‘‘، 2004ء۔
(۱۱۰)۔علامہ عبد الستار ہمدانی برکاتی نوری، ’’فنِ شاعری اورحسان الھند‘‘، 2004ء۔
(۱۱۱)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،تقدیم و ترتیب: مولانا مفتی قاضی شہید عالم رضوی،’’کشف العلۃعن سمت القبلۃ‘‘، 2005ء۔
(۱۱۲)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ترتیب جدید وتخریج: مولانا محمد حنیف خاں رضوی، ’’نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان و معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین‘‘، 2005ء۔
(۱۱۳)۔ڈاکٹر محمد حسن قادری، ’’مولانا نقی علی خاں۔ حیات وعلمی کارنامے (پی.ایچ.ڈی مقالہ)، 2005ء۔
(۱۴)۔عبدالستار طاہر نقشبندی، ’’مکتوبات مسعودی‘‘، 2005ء۔
(۱۱۵)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، مترجم: مولانا محمد ہاشم سومرو،’’امام احمدرضا ء سند جا عالم( سندھی)‘‘، 2005ء۔
(۱۱۶)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’تذکرہ اراکین ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا‘‘، 2005ء۔
(۱۱۷)۔ پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’۲۵؍ سالہ تاریخی و کارکردگی ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا‘‘، 2005ء۔
(۱۱۸)۔پروفیسرڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’خلفائے محدث بریلوی‘‘، 2005ء۔
(۱۱۹)۔ڈاکٹرعبد النعیم عزیزی، ’’اردو نعت گوئی اور فاضل بریلوی‘‘، 2005ء۔
(۱۲۰)۔ڈاکٹرغلام غوث قادری، ’’امام احمد رضا کی انشاء پردازی‘‘، 2005ء۔
(۱۲۱)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’القادیانیۃ‘‘، 2005ء۔
(۱۲۲)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’محمد ﷺ خاتم النبیین‘‘، 2005ء۔
(۱۲۳)۔پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’مختصر تعارف، مطبوعات و کارکردگی‘‘، 2005ء۔
(۱۲۴)۔مولانامشتاق احمد شاہ الازہری، ’’الامام احمد رضا خاں وأثرہ فی الفقہ الحنفی (عربی)‘‘،2005ء۔
(۱۲۵)۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’الشیخ احمد رضا خاں البریلوی (عربی)‘‘، 2005ء۔
(۱۲۶)۔ڈاکٹرمحمود حسین بریلوی، ’’مولانا احمد رضا خاں کی عربی زبان و ادب کی خدمات‘‘، 2005ء۔
(۱۲۷)۔ڈاکٹرمحمد امام الدین جوہر شفیع آبادی، ’’حضرت رضا بریلوی بحیثیت شاعر نعت‘‘، 2005ء۔
(۱۲۸)۔الطاف حسین سعیدی، ’’حسام الحرمین کے سو (۱۰۰)سال‘‘،2005ء۔
(۱۲۹)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،’’A FairSuccess refuting Motion of Earth‘‘، 2005ء۔
(۱۳۰)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،’’Hussam-ul-Harmain‘‘، 2005ء۔
(۱۳۱)۔ڈاکٹرمحمد مالک، ’’Sceintific Work ofImam Ahamad Raza‘‘، 2005ء۔
(۱۳۲)۔محمد بہاء الدین شاہ، ’’امام احمد رضا بریلوی اورعلمائے مکہ مکرمہ‘‘، 20
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عالمِ اجل مولانانثاراحمدمصباحی مدظلہ العالی کی وال سے(سیٹنگ کی تبدیلی کے ساتھ):
متکلم عصر،شیخ سعید فودة حفظہ اللّٰہ،"العقیدة الطحاویة" کی اپنی مفصل شرح "الشرح الکبیر"میں امام اہل سنت اعلی حضرت کے حوالے سے"خاتم النبیین"کا مفہوم بیان کرتے ہوۓ لکھتے ھیں:
"وقد توجه سؤال للعلامة أحمد رضا خان البريلوي بهذا الخصوص، فقال:
إن خاتم النبيين وسيد المرسلين صلى الله عليه وسلم خاتمٌ لجميع الأنبياء والمرسلين، بمعنى:آخرُهم بعثاً، بحيث لا يقبل أيَّ تأويل وتخصيص، وإنّ هذه لعقيدةٌ مما عُلم من الدين بالضرورة، فإن جاحدَها والشاكَّ فيها مهما كان الشك ضعيفاً كافرٌ مرتدٌّ ملعون، وإن هذه الأمة المرحومة قاطبةً سلفاً وخلفاً ما زالت تفهم هذا المعنى بأن سيدنا المصطفى صلى الله عليه وسلم آخرٌ لجميع الآنبياء بلا تخصيص، ومن المستحيل أن يكون نبيٌّ في عهده أو بعد عهده إلى أن تقوم الساعة"
(شرح الكبير على عقيدة الطحاوية، ص ٥٠٩)
(ترجمہ از فاضلِ اجل حضرت مولانانثاراحمدمصباحی مدظلہ العالی)
ترجمہ:
"علامہ احمد رضا خاں بریلوی کے پاس اس (ختمِ نبوت) کے بارے میں سوال آیا تو آپ نے (جواب) میں فرمایا :
بے شک خاتم النبیین اور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیا و مرسلین کے خاتم ہیں. اور خاتم ہونے کا معنی ہے کہ آپ بعثت میں سب سے آخری ہیں. اس طرح کہ اس میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں ہو سکتی. اور یہ عقیدہ ضروریاتِ دین میں سے ہے. اس کا منکِر اور اس میں شک کرنے والا کافر و مرتد و ملعون ہے, اگرچہ شک کتنا ہی ضعیف کیوں نہ ہو. اور یہ پوری امتِ مرحومہ سلَف سے لے کر خلف تک اس معنے سے یہی سمجھتی رہی ہے کہ ہمارے آقا مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بلا تخصیص تمام نبیوں میں سب سے آخری ہیں. اور یہ محال ہے کہ آپ کے زمانے میں یا آپ کے زمانے کے بعد قیامت تک کوئی اور نبی ہو سکے."
(الشرح الکبیر علی العقیدۃ الطحاویہ, ص 509)
متکلم عصر،شیخ سعید فودة حفظہ اللّٰہ،"العقیدة الطحاویة" کی اپنی مفصل شرح "الشرح الکبیر"میں امام اہل سنت اعلی حضرت کے حوالے سے"خاتم النبیین"کا مفہوم بیان کرتے ہوۓ لکھتے ھیں:
"وقد توجه سؤال للعلامة أحمد رضا خان البريلوي بهذا الخصوص، فقال:
إن خاتم النبيين وسيد المرسلين صلى الله عليه وسلم خاتمٌ لجميع الأنبياء والمرسلين، بمعنى:آخرُهم بعثاً، بحيث لا يقبل أيَّ تأويل وتخصيص، وإنّ هذه لعقيدةٌ مما عُلم من الدين بالضرورة، فإن جاحدَها والشاكَّ فيها مهما كان الشك ضعيفاً كافرٌ مرتدٌّ ملعون، وإن هذه الأمة المرحومة قاطبةً سلفاً وخلفاً ما زالت تفهم هذا المعنى بأن سيدنا المصطفى صلى الله عليه وسلم آخرٌ لجميع الآنبياء بلا تخصيص، ومن المستحيل أن يكون نبيٌّ في عهده أو بعد عهده إلى أن تقوم الساعة"
(شرح الكبير على عقيدة الطحاوية، ص ٥٠٩)
(ترجمہ از فاضلِ اجل حضرت مولانانثاراحمدمصباحی مدظلہ العالی)
ترجمہ:
"علامہ احمد رضا خاں بریلوی کے پاس اس (ختمِ نبوت) کے بارے میں سوال آیا تو آپ نے (جواب) میں فرمایا :
بے شک خاتم النبیین اور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیا و مرسلین کے خاتم ہیں. اور خاتم ہونے کا معنی ہے کہ آپ بعثت میں سب سے آخری ہیں. اس طرح کہ اس میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں ہو سکتی. اور یہ عقیدہ ضروریاتِ دین میں سے ہے. اس کا منکِر اور اس میں شک کرنے والا کافر و مرتد و ملعون ہے, اگرچہ شک کتنا ہی ضعیف کیوں نہ ہو. اور یہ پوری امتِ مرحومہ سلَف سے لے کر خلف تک اس معنے سے یہی سمجھتی رہی ہے کہ ہمارے آقا مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بلا تخصیص تمام نبیوں میں سب سے آخری ہیں. اور یہ محال ہے کہ آپ کے زمانے میں یا آپ کے زمانے کے بعد قیامت تک کوئی اور نبی ہو سکے."
(الشرح الکبیر علی العقیدۃ الطحاویہ, ص 509)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رافضیت و ناصبیت
رافضیت اہلبیت کی محبت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ بُغضِ صحابہ کا نام ہے.
اسی طرح ناصبیت محبتِ صحابہء کرام کا نام نہیں بلکہ بُغضِ اہلِ بیتِ اطہار کا نام ہے
بعض افراد امام شافعی بننے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے اندر کی خباثت اور رافضیت کا ملبہ اٹھا کہ ان پر پھینکتے ہوئے اس فرمان کی آڑ میں چھپتے ہیں کہ آپ نے اپنے دیوان میں فرمایا
ان كان رفضا حب ال محمد : فليشهد الثقلان اني رافضي
اگر رفض اہلبیت کی محبت کا نام ہے تو جن و انس گواہ ہو جائیں کہ میں رافضی ہوں
آئے روز کوئی نہ کوئی پیر صاحب یا سید صاحب یہ بات اپنی طرف سے لکھ خود کو بڑا تیس مار خان سمجھتا ہے کہ میں نے بہت بڑا کام کیا ہے
تو پہلی بات کہ یہ قدرے مشکل ہے کہ آپ ثابت کر سکیں کہ شعر امام شافعی کے ہیں اور بالفرض اگر یہ امام شافعی کے ہی منسوب کیے جائیں تو آپکے اسی دیوان میں یہ اشعار بھی موجود ہیں
إذا نحنُ فضلنا علياً فإنَّنا روافضُ بالتفصيلِ عندَ ذوي الفضلِ
وفَضْلُ أَبي بَكْرٍ إذَا مَا ذَكَرْتُهُ رُمِيتُ بنصْب عِنْدَ ذِكريَ للفَضْلِ
فَلاَ زِلْتُ ذَا رَفْضٍ وَنَصْبٍ كِلاَهُمَا بحبَّيهِما حَتَّى أُوسَّدَ فِي الرَّمْلِ
اگر ہم علی پاک کی فضیلت بیان کرتے ہیں تو لوگ ہمیں رافضی کہتے ہیں
اگر ہم صدیق اکبر کا ذکر کرتے ہیں تو لوگ ہمیں ناصبی کہتے ہیں
میں رافضیت اور ناصبیت کو موت تک گلے لگا کر رکھوں گا
یعنی میں لوگوں کی بکواس سے اپنا عقیدہ نہیں چھوڑ سکتا
تا دمِ آخر صدیق اکبر اور حیدرکرار کی محبت میں رہوں گا
ثابت ہوا کہ امام شافعی نہ رافضی عقائد رکھتے نہ وہ رافضی تھے
جس طرح اہلبیت اطہار کی محبت پر ان رافضی ہونے کا بہتان لگا یونہی ان پر صحابہ اکرام کی محبت کیوجہ سے خارجی ہونے کا الزام بھی لگا
اب اُن سادات اور پیروں سے گزارش ہے کہ یہ نعرہ بھی لگایا کریں کہ
اگر صحابہ اکرام کی محبت ناصبیت ہے تو ہاں ہم ناصبی ہیں
مگر ایرانی مال کی ایسی لت لگی ہے کہ اب تو ان سنی نما شیعہ خطیبوں اور پیروں کے سامنے صحابہ اکرام کا نام آتے ہی انکے چہرے کا رنگ اڑ جاتا ہے اور ڈھکے چھپے وار کر کے زبانوں کو دراز کرتے ہیں اور تنقیص و توہین کے رستے کھولتے ہیں اور اہلبیت اطہار کے نام پر بلیک میل کرکے عقائد اہلسنت پر حملے کرتے ہیں
یونہی ایک ٹولہ ایسا ہے جو سعودی ریال حلال کرنے کے چکر میں ہے جنکے وجود کی رگ رگ میں ناصبیت سرائیت کر چکی ہے جن کے سامنے سیدنا مولا علی پاک کا نام لیا جائے تو انکو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ انکی ماں ہی مر گئی ہے
انکے رنگ ذکر حسین سے زرد پڑ جاتے ہیں
اور ٹھیکہ لیا ہوا عظمت صحابہ اکرام کا
افضل البشر بعداز انبیاء ابوبکر صدیق سمیت ایک لاکھ سے زائد صحابہ عظمت اہلبیت بیان کرتے رہے
الحمد للہ ہم اہلبیت اطہار سے محبت و مؤدت رکھتے ہیں
اہلبیت اطہار ہمارا ایمان ہیں
انکا ذکر ہم عبادت سمجھ کر کرتے ہیں
شیخ مجدد الف ثانی احمد سرہند فاروقی فرماتے ہیں کہ
محبت اہلبت علامت اہلسنت ہے
اور ہم صحابہ اکرام کے نوکر ہیں
انکی عظمت کا پرچم اللہ اور اللہ کے رسول نے بلند فرمایا
الحمد للہ ہم اہلسنت ہیں ۔ نہ ہم رافضی ہیں نہ ہم ناصبی
اور نہ ہمیں یہ دونوں قبول ہیں
اہلبیت اطہار سے محبت ہے تو صرف مصطفی کی محبت کی وجہ سے
صحابہ اکرام سے محبت تو صرف نسبت مصطفی کی وجہ سے
دونوں میرے آقا کے پیارے ہیں
ایک ناؤ ہیں تو دوسرے نجم
اعلیحضرت فرماتے ہیں
اہلسنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
مجنون الحسین سید عقیل بن اسد ✍🏼
14/09/019
رافضیت اہلبیت کی محبت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ بُغضِ صحابہ کا نام ہے.
اسی طرح ناصبیت محبتِ صحابہء کرام کا نام نہیں بلکہ بُغضِ اہلِ بیتِ اطہار کا نام ہے
بعض افراد امام شافعی بننے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے اندر کی خباثت اور رافضیت کا ملبہ اٹھا کہ ان پر پھینکتے ہوئے اس فرمان کی آڑ میں چھپتے ہیں کہ آپ نے اپنے دیوان میں فرمایا
ان كان رفضا حب ال محمد : فليشهد الثقلان اني رافضي
اگر رفض اہلبیت کی محبت کا نام ہے تو جن و انس گواہ ہو جائیں کہ میں رافضی ہوں
آئے روز کوئی نہ کوئی پیر صاحب یا سید صاحب یہ بات اپنی طرف سے لکھ خود کو بڑا تیس مار خان سمجھتا ہے کہ میں نے بہت بڑا کام کیا ہے
تو پہلی بات کہ یہ قدرے مشکل ہے کہ آپ ثابت کر سکیں کہ شعر امام شافعی کے ہیں اور بالفرض اگر یہ امام شافعی کے ہی منسوب کیے جائیں تو آپکے اسی دیوان میں یہ اشعار بھی موجود ہیں
إذا نحنُ فضلنا علياً فإنَّنا روافضُ بالتفصيلِ عندَ ذوي الفضلِ
وفَضْلُ أَبي بَكْرٍ إذَا مَا ذَكَرْتُهُ رُمِيتُ بنصْب عِنْدَ ذِكريَ للفَضْلِ
فَلاَ زِلْتُ ذَا رَفْضٍ وَنَصْبٍ كِلاَهُمَا بحبَّيهِما حَتَّى أُوسَّدَ فِي الرَّمْلِ
اگر ہم علی پاک کی فضیلت بیان کرتے ہیں تو لوگ ہمیں رافضی کہتے ہیں
اگر ہم صدیق اکبر کا ذکر کرتے ہیں تو لوگ ہمیں ناصبی کہتے ہیں
میں رافضیت اور ناصبیت کو موت تک گلے لگا کر رکھوں گا
یعنی میں لوگوں کی بکواس سے اپنا عقیدہ نہیں چھوڑ سکتا
تا دمِ آخر صدیق اکبر اور حیدرکرار کی محبت میں رہوں گا
ثابت ہوا کہ امام شافعی نہ رافضی عقائد رکھتے نہ وہ رافضی تھے
جس طرح اہلبیت اطہار کی محبت پر ان رافضی ہونے کا بہتان لگا یونہی ان پر صحابہ اکرام کی محبت کیوجہ سے خارجی ہونے کا الزام بھی لگا
اب اُن سادات اور پیروں سے گزارش ہے کہ یہ نعرہ بھی لگایا کریں کہ
اگر صحابہ اکرام کی محبت ناصبیت ہے تو ہاں ہم ناصبی ہیں
مگر ایرانی مال کی ایسی لت لگی ہے کہ اب تو ان سنی نما شیعہ خطیبوں اور پیروں کے سامنے صحابہ اکرام کا نام آتے ہی انکے چہرے کا رنگ اڑ جاتا ہے اور ڈھکے چھپے وار کر کے زبانوں کو دراز کرتے ہیں اور تنقیص و توہین کے رستے کھولتے ہیں اور اہلبیت اطہار کے نام پر بلیک میل کرکے عقائد اہلسنت پر حملے کرتے ہیں
یونہی ایک ٹولہ ایسا ہے جو سعودی ریال حلال کرنے کے چکر میں ہے جنکے وجود کی رگ رگ میں ناصبیت سرائیت کر چکی ہے جن کے سامنے سیدنا مولا علی پاک کا نام لیا جائے تو انکو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ انکی ماں ہی مر گئی ہے
انکے رنگ ذکر حسین سے زرد پڑ جاتے ہیں
اور ٹھیکہ لیا ہوا عظمت صحابہ اکرام کا
افضل البشر بعداز انبیاء ابوبکر صدیق سمیت ایک لاکھ سے زائد صحابہ عظمت اہلبیت بیان کرتے رہے
الحمد للہ ہم اہلبیت اطہار سے محبت و مؤدت رکھتے ہیں
اہلبیت اطہار ہمارا ایمان ہیں
انکا ذکر ہم عبادت سمجھ کر کرتے ہیں
شیخ مجدد الف ثانی احمد سرہند فاروقی فرماتے ہیں کہ
محبت اہلبت علامت اہلسنت ہے
اور ہم صحابہ اکرام کے نوکر ہیں
انکی عظمت کا پرچم اللہ اور اللہ کے رسول نے بلند فرمایا
الحمد للہ ہم اہلسنت ہیں ۔ نہ ہم رافضی ہیں نہ ہم ناصبی
اور نہ ہمیں یہ دونوں قبول ہیں
اہلبیت اطہار سے محبت ہے تو صرف مصطفی کی محبت کی وجہ سے
صحابہ اکرام سے محبت تو صرف نسبت مصطفی کی وجہ سے
دونوں میرے آقا کے پیارے ہیں
ایک ناؤ ہیں تو دوسرے نجم
اعلیحضرت فرماتے ہیں
اہلسنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
مجنون الحسین سید عقیل بن اسد ✍🏼
14/09/019
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قبلہ استاد گرامی رحمہاللہ نے تجوید پڑھانی شروع کی تو ہمیں فرمایا:
" سارے قرآن میں صرف 29 حروف استعمال ہوئے ہیں ، جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
تم روزانہ ایک حرف کا بھی تلفظ درست کر لو تو 29 دنوں میں تمھارا سارے قرآن کا تلفظ ٹھیک ہوجائے گا ۔ "
ہم دنیا جہان کی کسی بھی چیز کا نام لے لیں ، اس میں وہی حروف آئیں گے جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
گویا سارے جہان کی چیزیں انھی حروف میں مَحصُور ( گِھری ہُوئی ) ہیں ۔
کسی شاعر نے اِسی نسبت کے پیشِ نظر ایک تخیل پیش کیا ہے کہ:
سیدنا ابو بکر صدیق کا نامِ پاک " الف " سے شروع ہوتا ہے ، اور سیدنا علی کریم کا نامِ پاک " ی " پر ختم ہوتا ہے ۔
جس طرح الف حروف تہجی میں پہلا حرف ہے ، اسی طرح ابوبکر صدیق چاروں خلفا میں پہلے ہیں ؛ اور جس طرح ی آخری حرف ہے ، اسی طرح علی پاک آخری خلیفہ ہیں ۔
اب ابوبکر کے الف ، اور علی کی ی میں " جہانِ ایمان " گِھرا ہوا ہے ، مسلمان اس سے نکل سکتا ہی نہیں ؛
جیسے کوئی بھی لفظ الف تا ی سے نہیں نکل سکتا ۔
اب قطعہ ملاحظہ کریں ؏
اَبوبکر یَک سُو ، علی ایک جانِب
کہ مَحصور ہے جن میں ساری خُدائی
یہ تَشبِیہ ہے واقعی تو جگہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔
" الف " اور " یے " نے یہ ترتیب پائی
وہ اَول خلیفہ کے " اول " میں آیا
یہ آخِر خلیفہ کے " آخِر" میں آئی
✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
" سارے قرآن میں صرف 29 حروف استعمال ہوئے ہیں ، جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
تم روزانہ ایک حرف کا بھی تلفظ درست کر لو تو 29 دنوں میں تمھارا سارے قرآن کا تلفظ ٹھیک ہوجائے گا ۔ "
ہم دنیا جہان کی کسی بھی چیز کا نام لے لیں ، اس میں وہی حروف آئیں گے جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
گویا سارے جہان کی چیزیں انھی حروف میں مَحصُور ( گِھری ہُوئی ) ہیں ۔
کسی شاعر نے اِسی نسبت کے پیشِ نظر ایک تخیل پیش کیا ہے کہ:
سیدنا ابو بکر صدیق کا نامِ پاک " الف " سے شروع ہوتا ہے ، اور سیدنا علی کریم کا نامِ پاک " ی " پر ختم ہوتا ہے ۔
جس طرح الف حروف تہجی میں پہلا حرف ہے ، اسی طرح ابوبکر صدیق چاروں خلفا میں پہلے ہیں ؛ اور جس طرح ی آخری حرف ہے ، اسی طرح علی پاک آخری خلیفہ ہیں ۔
اب ابوبکر کے الف ، اور علی کی ی میں " جہانِ ایمان " گِھرا ہوا ہے ، مسلمان اس سے نکل سکتا ہی نہیں ؛
جیسے کوئی بھی لفظ الف تا ی سے نہیں نکل سکتا ۔
اب قطعہ ملاحظہ کریں ؏
اَبوبکر یَک سُو ، علی ایک جانِب
کہ مَحصور ہے جن میں ساری خُدائی
یہ تَشبِیہ ہے واقعی تو جگہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔
" الف " اور " یے " نے یہ ترتیب پائی
وہ اَول خلیفہ کے " اول " میں آیا
یہ آخِر خلیفہ کے " آخِر" میں آئی
✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کل ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی ، بہت پریشان تھا ۔
سبب پوچھا تو کہنے لگا:
" مجھے ایک ضرورت پیش آگئی ، میں نے اپنے اُن دوستوں سے مدد مانگی جن سے مجھے ناں کی امید ہی نہیں تھی ، لیکن کسی نے میری مدد نہیں کی ۔
میں ایم فل کرکے دوبئی گیا تھا ، وہاں ملازمت نہیں مل رہی تھی تو میں نے تین روزے رکھے ، ہر افطاری کے بعد صدقہ دیا اور تین دن میں قرآن پاک مکمل کرکے دعا کی تو الاتحاد بینک میں آٹھ ہزار درہم پر جاب ملی گئی ۔
اُس وقت میں نے اپنے اِن دوستوں کے ساتھ بہت تعاون کیا ، لیکن آج یہ میرے کام نہیں آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی اچھی نوکری بھی میں نے ایک دوست کی وجہ سے ہی چھوڑی تھی ، جو کہ حقیقتاً میرا دوست نہیں نکلا ۔ "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹 جس طرح ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ، اِسی طرح ہر دوست کہلانے والا دوست نہیں ہوتا ۔
اچھے تعلقات سب سے رکھیں ، لیکن ہر کسی کو دوست نہ سمجھ لیا کریں ۔
🌹 ساری دنیا آپ کی دوست ہو ، یہ ضروری نہیں ؛ آپ کا دوست ایسا ہونا چاہیے جو آپ کے حق میں دنیا جہان سے اچھا ہو ۔
🌹 دوست مشکل وقت میں ساتھ نہیں چھوڑتے ، ساتھ نبھاتے ہیں ۔
مشکل میں ہی مخلص دوستوں کی پہچان ہوتی ہے ، آسانی میں تو سارا جہان ہی دوستی کا دعویدار ہوتا ہے ۔
🌹 میں قربان ! جب بے سر و سامانی کے عالم میں ، رحمت عالم ﷺ کا مُسلّح دشمن سے سامنے ہوگیا تھا تو آپ کے اصحاب نے عرض کی تھی :
نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ ۔
حضور ( اِس بے سرو سامانی کے عالم میں بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ) ہم آپ کے دائیں بائیں ، اور آگے پیچھے سے دشمنوں کو مار بھگائیں گے ۔
( صحیح بخاری ، ر 3952 )
وفا کی یہ بہترین مثال ہمیں دیگر چیزیں سکھانے کے ساتھ ، دوستی کے آداب بھی سکھاتی ہے ۔
رب تعالیٰ ہمیں مخلص دوست بننے کی توفیق بخشے اور مخلص دوست ہی ہمیں نصیب کرے !
✍️لقمان شاہد
16-9-2020 ء
سبب پوچھا تو کہنے لگا:
" مجھے ایک ضرورت پیش آگئی ، میں نے اپنے اُن دوستوں سے مدد مانگی جن سے مجھے ناں کی امید ہی نہیں تھی ، لیکن کسی نے میری مدد نہیں کی ۔
میں ایم فل کرکے دوبئی گیا تھا ، وہاں ملازمت نہیں مل رہی تھی تو میں نے تین روزے رکھے ، ہر افطاری کے بعد صدقہ دیا اور تین دن میں قرآن پاک مکمل کرکے دعا کی تو الاتحاد بینک میں آٹھ ہزار درہم پر جاب ملی گئی ۔
اُس وقت میں نے اپنے اِن دوستوں کے ساتھ بہت تعاون کیا ، لیکن آج یہ میرے کام نہیں آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی اچھی نوکری بھی میں نے ایک دوست کی وجہ سے ہی چھوڑی تھی ، جو کہ حقیقتاً میرا دوست نہیں نکلا ۔ "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🌹 جس طرح ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ، اِسی طرح ہر دوست کہلانے والا دوست نہیں ہوتا ۔
اچھے تعلقات سب سے رکھیں ، لیکن ہر کسی کو دوست نہ سمجھ لیا کریں ۔
🌹 ساری دنیا آپ کی دوست ہو ، یہ ضروری نہیں ؛ آپ کا دوست ایسا ہونا چاہیے جو آپ کے حق میں دنیا جہان سے اچھا ہو ۔
🌹 دوست مشکل وقت میں ساتھ نہیں چھوڑتے ، ساتھ نبھاتے ہیں ۔
مشکل میں ہی مخلص دوستوں کی پہچان ہوتی ہے ، آسانی میں تو سارا جہان ہی دوستی کا دعویدار ہوتا ہے ۔
🌹 میں قربان ! جب بے سر و سامانی کے عالم میں ، رحمت عالم ﷺ کا مُسلّح دشمن سے سامنے ہوگیا تھا تو آپ کے اصحاب نے عرض کی تھی :
نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ ۔
حضور ( اِس بے سرو سامانی کے عالم میں بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ) ہم آپ کے دائیں بائیں ، اور آگے پیچھے سے دشمنوں کو مار بھگائیں گے ۔
( صحیح بخاری ، ر 3952 )
وفا کی یہ بہترین مثال ہمیں دیگر چیزیں سکھانے کے ساتھ ، دوستی کے آداب بھی سکھاتی ہے ۔
رب تعالیٰ ہمیں مخلص دوست بننے کی توفیق بخشے اور مخلص دوست ہی ہمیں نصیب کرے !
✍️لقمان شاہد
16-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#اتحاد_بین_الحق_والباطل
باطل فرقوں سے اتحاد ایسا ہی ناممکن ہے جیسے: "پاک پانی" اور "شراب" میں اتحاد ناممکن ہے.
کیوں کہ جیسے ہی "شراب" کا ایک قطرہ "پاک پانی" سے مس ہوگا اسے نجس کردے گا، اسی طرح یہ اتحاد بھی صرف سنیوں کو ہی نقصان پہنچائے گا۔ کیوں کہ فرق تو پاک شے کو پڑتا ہے ناپاک کے مل جانے سے ناپاک کو فرق نہیں پڑتا۔
انہیں کیا فرق پڑے گا جو پہلے ہی سے بے راہ ہیں، فرق تو ان کو پڑے گا جو راہ پر تھے اور غلط رفیق سفر چن کر اپنے اہل قافلہ ہو ہلاکت میں ڈالیں۔
آج کل جو خود راہ پر نہیں ہیں وہ ہادی بننے کی کوشش کررہے ہیں۔
اور جب بے راہ ہادی ہوگا تو قافلہ وہیں پہنچے گا جہاں ابلیس کی منزل ہے۔
اللہ ایسے بے راہ سالار قافلہ سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھے۔
محمد شاہد علی مصباحی
باطل فرقوں سے اتحاد ایسا ہی ناممکن ہے جیسے: "پاک پانی" اور "شراب" میں اتحاد ناممکن ہے.
کیوں کہ جیسے ہی "شراب" کا ایک قطرہ "پاک پانی" سے مس ہوگا اسے نجس کردے گا، اسی طرح یہ اتحاد بھی صرف سنیوں کو ہی نقصان پہنچائے گا۔ کیوں کہ فرق تو پاک شے کو پڑتا ہے ناپاک کے مل جانے سے ناپاک کو فرق نہیں پڑتا۔
انہیں کیا فرق پڑے گا جو پہلے ہی سے بے راہ ہیں، فرق تو ان کو پڑے گا جو راہ پر تھے اور غلط رفیق سفر چن کر اپنے اہل قافلہ ہو ہلاکت میں ڈالیں۔
آج کل جو خود راہ پر نہیں ہیں وہ ہادی بننے کی کوشش کررہے ہیں۔
اور جب بے راہ ہادی ہوگا تو قافلہ وہیں پہنچے گا جہاں ابلیس کی منزل ہے۔
اللہ ایسے بے راہ سالار قافلہ سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھے۔
محمد شاہد علی مصباحی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیاومسلما
#ڈیجیٹل_لائبریری_اور_ڈیجیٹل_ایڈیشن
پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا نے دھوم مچایا۔اب دنیا بھر میں ڈیجیٹل میڈیا کی حکمرانی ہے۔ دس سال اور گزرنے دیں،الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی قبولیت کا دائرہ حددرجہ محدود ہوجائے گا۔
پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی طرح تحریری مواد کی اشاعت بھی دوقسم کی ہوتی ہے۔ پرنٹ ایڈیشن اور ڈیجیٹل ایڈیشن۔اب ڈیجیٹل میڈیا کی طرح ڈیجیٹل ایڈیشن کو ترجیح دی جارہی ہے۔بہت سے نیوز پیپر اور میگزین جو پہلے پرنٹ ہوتے تھے،اب اس کا صرف ڈیجیٹل ایڈیشن دستیاب ہے۔پرنٹ ایڈیشن موقوف کیاجا چکا ہے۔
یہ خبر بھی گشت کررہی ہے کہ دنیا بھر میں کرنسی بھی ڈیجیٹل ہوجائے گی،اور پرنٹیڈکرنسی یعنی کاغذات کے نوٹ کو معطل کر دیا جائے گا۔
علو م مشرقیہ کے فضلائے گر امی ڈیجیٹل میڈیا کے عہد میں بھی پرنٹ میڈیا کو ترجیح دیتے ہیں اور ڈیجیٹل میڈیا سے استفادہ اور اس کے ذریعہ افادہ کی کوششوں میں بہت پیچھے ہیں،حالاں کہ وہ ڈیجیٹل میڈیا کو ذریعہ بناکراپنی تحریر وتقریر کے ذریعہ امت مسلمہ کو فائدہ پہنچا سکتے تھے،مگر ان کی تحریر سے دنیا اس وقت آشنا ہوگی،جب وہ پرنٹ ہوگی اور ان کی تقریر سے اسی وقت استفادہ ہوسکے گا،جب جلسے کااسٹیج سجے گا۔
حق تو یہ ہے کہ نہ سب کی کتابیں چھپ پاتی ہیں اورنہ سب کوجلسوں میں مدعو کیا جاتا ہے۔ کتابیں اسی کی چھپیں گی،جس کا ربط وتعلق ارباب ثروت سے ہو،کیوں کہ کتابوں کی طباعت میں کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔جلسوں میں اسی کو مدعو کیا جائے گا جس کو سامعین پسند کرتے ہوں۔
سامعین کا ذوق اور ان کی پسند بھی ناقابل فہم ہے۔
عہد حاضر میں قارئین بھی مطبوعہ کتب ورسائل خریدنا نہیں چاہتے۔ ہرایک کے پاس موبائل ہے۔ضرورت کی کتابیں،رسائل ودیگر مواد وہ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل لائبریری سے حاصل کرلیتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ کوئی محقق بھی اس قدر کتابیں خرید نہیں سکتا، جتنی کتابوں کی اسے ضرورت پڑتی ہے۔ پہلے محققین کو بھی لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے تھے،جس میں اخراجات بھی کثیر اور وقت کی بھی ضرورت ہوتی تھی۔
ڈیجیٹل لائبریری اورڈیجیٹل میڈیا پر آپ کوکتابیں بھی آسانی کے ساتھ دستیاب ہوجائیں گی اور مطلوبہ عبارت بھی آسانی کے ساتھ تلاش کرسکتے ہیں۔اس میں آپ کا وقت بھی کم صرف ہوتا ہے۔
بہت سے علما ئے کرام محنت ومشقت کے ساتھ علمی وتحقیقی کتب ورسائل تحریر فرماتے ہیں،پھر ارباب ثروت کی کرم فرمائی کے منتظر رہتے ہیں۔ایک کتاب کی طباعت کے لیے انہیں برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کبھی وہ کتاب مسودہ کی شکل میں ہی رہ جاتی ہے اور مصنف کی وفات کے بعدبہت سی کتابیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔
اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی متعددکتب ورسائل مفقود ہیں۔اسی طرح متقدمین کی بھی بے شمار کتابوں کے صرف نام موجود ہیں۔
عہد حاضر میں ارباب علم ودانش کے لیے ڈیجیٹل لائبریری اور ڈیجیٹل میڈیا ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ اپنی کتب ورسائل،مضامین ومقالہ جات ڈیجیٹل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے اس کومحفوظ کرسکتے ہیں اور ساری دنیا کو اپنی تحریروں سے استفادہ کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔
اگر وہ دینی ومذہبی تحریر ہے کہ جس کی تبلیغ واشاعت پر ثواب ہے تو آپ کو ثواب بھی ملے گا۔اگر آپ نے کچھ رقم فرما کر اپنی الماری میں محفوظ کردیا ہے اور لوگ اس سے استفادہ نہیں کرپارہے ہیں توتحریر وتصنیف کا ثواب ہو گا،لیکن تبلیغ واشاعت کا ثواب نہیں مل سکے گا۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ اپنی تحریروں کوقابل استفادہ بنائیں اور ثواب کمائیں۔
آپ ڈیجیٹل ایڈیشن کو بہت اسانی کے ساتھ ساری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔مطبوعہ کتابیں ساری دنیا تک نہیں پہنچا سکتے،بلکہ اپنی ریاست بھر میں پہنچانا بھی مشکل ہوتاہے۔
آپ اپنی شخصیت کو افادہ بخش بنائیں اور قوم کو استفادہ کا موقع مہیا کریں۔
اب کرنسی بھی ڈیجیٹل ہونے والی ہے اور ہمارے فضلائے مدارس اپنی کتابوں کی طباعت کے لیے غیر وں کے رحم وکرم کے سراپامنتظر بیٹھے ہیں۔
ڈیجیٹل ایڈیشن سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ غلطیوں کی اصلاح آسان ہے۔ مطبوعہ کتابوں میں تصحیح کے لیے طبع مابعد کا انتظار کرنا پڑتا تھا،یا قارئین کومطلع کرنا ہوتا تھا،تاکہ وہ تصحیح کرلیں۔
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:14:ستمبر 2020
#ڈیجیٹل_لائبریری_اور_ڈیجیٹل_ایڈیشن
پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا نے دھوم مچایا۔اب دنیا بھر میں ڈیجیٹل میڈیا کی حکمرانی ہے۔ دس سال اور گزرنے دیں،الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی قبولیت کا دائرہ حددرجہ محدود ہوجائے گا۔
پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی طرح تحریری مواد کی اشاعت بھی دوقسم کی ہوتی ہے۔ پرنٹ ایڈیشن اور ڈیجیٹل ایڈیشن۔اب ڈیجیٹل میڈیا کی طرح ڈیجیٹل ایڈیشن کو ترجیح دی جارہی ہے۔بہت سے نیوز پیپر اور میگزین جو پہلے پرنٹ ہوتے تھے،اب اس کا صرف ڈیجیٹل ایڈیشن دستیاب ہے۔پرنٹ ایڈیشن موقوف کیاجا چکا ہے۔
یہ خبر بھی گشت کررہی ہے کہ دنیا بھر میں کرنسی بھی ڈیجیٹل ہوجائے گی،اور پرنٹیڈکرنسی یعنی کاغذات کے نوٹ کو معطل کر دیا جائے گا۔
علو م مشرقیہ کے فضلائے گر امی ڈیجیٹل میڈیا کے عہد میں بھی پرنٹ میڈیا کو ترجیح دیتے ہیں اور ڈیجیٹل میڈیا سے استفادہ اور اس کے ذریعہ افادہ کی کوششوں میں بہت پیچھے ہیں،حالاں کہ وہ ڈیجیٹل میڈیا کو ذریعہ بناکراپنی تحریر وتقریر کے ذریعہ امت مسلمہ کو فائدہ پہنچا سکتے تھے،مگر ان کی تحریر سے دنیا اس وقت آشنا ہوگی،جب وہ پرنٹ ہوگی اور ان کی تقریر سے اسی وقت استفادہ ہوسکے گا،جب جلسے کااسٹیج سجے گا۔
حق تو یہ ہے کہ نہ سب کی کتابیں چھپ پاتی ہیں اورنہ سب کوجلسوں میں مدعو کیا جاتا ہے۔ کتابیں اسی کی چھپیں گی،جس کا ربط وتعلق ارباب ثروت سے ہو،کیوں کہ کتابوں کی طباعت میں کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔جلسوں میں اسی کو مدعو کیا جائے گا جس کو سامعین پسند کرتے ہوں۔
سامعین کا ذوق اور ان کی پسند بھی ناقابل فہم ہے۔
عہد حاضر میں قارئین بھی مطبوعہ کتب ورسائل خریدنا نہیں چاہتے۔ ہرایک کے پاس موبائل ہے۔ضرورت کی کتابیں،رسائل ودیگر مواد وہ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل لائبریری سے حاصل کرلیتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ کوئی محقق بھی اس قدر کتابیں خرید نہیں سکتا، جتنی کتابوں کی اسے ضرورت پڑتی ہے۔ پہلے محققین کو بھی لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے تھے،جس میں اخراجات بھی کثیر اور وقت کی بھی ضرورت ہوتی تھی۔
ڈیجیٹل لائبریری اورڈیجیٹل میڈیا پر آپ کوکتابیں بھی آسانی کے ساتھ دستیاب ہوجائیں گی اور مطلوبہ عبارت بھی آسانی کے ساتھ تلاش کرسکتے ہیں۔اس میں آپ کا وقت بھی کم صرف ہوتا ہے۔
بہت سے علما ئے کرام محنت ومشقت کے ساتھ علمی وتحقیقی کتب ورسائل تحریر فرماتے ہیں،پھر ارباب ثروت کی کرم فرمائی کے منتظر رہتے ہیں۔ایک کتاب کی طباعت کے لیے انہیں برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کبھی وہ کتاب مسودہ کی شکل میں ہی رہ جاتی ہے اور مصنف کی وفات کے بعدبہت سی کتابیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔
اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی متعددکتب ورسائل مفقود ہیں۔اسی طرح متقدمین کی بھی بے شمار کتابوں کے صرف نام موجود ہیں۔
عہد حاضر میں ارباب علم ودانش کے لیے ڈیجیٹل لائبریری اور ڈیجیٹل میڈیا ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ اپنی کتب ورسائل،مضامین ومقالہ جات ڈیجیٹل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے اس کومحفوظ کرسکتے ہیں اور ساری دنیا کو اپنی تحریروں سے استفادہ کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔
اگر وہ دینی ومذہبی تحریر ہے کہ جس کی تبلیغ واشاعت پر ثواب ہے تو آپ کو ثواب بھی ملے گا۔اگر آپ نے کچھ رقم فرما کر اپنی الماری میں محفوظ کردیا ہے اور لوگ اس سے استفادہ نہیں کرپارہے ہیں توتحریر وتصنیف کا ثواب ہو گا،لیکن تبلیغ واشاعت کا ثواب نہیں مل سکے گا۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ اپنی تحریروں کوقابل استفادہ بنائیں اور ثواب کمائیں۔
آپ ڈیجیٹل ایڈیشن کو بہت اسانی کے ساتھ ساری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔مطبوعہ کتابیں ساری دنیا تک نہیں پہنچا سکتے،بلکہ اپنی ریاست بھر میں پہنچانا بھی مشکل ہوتاہے۔
آپ اپنی شخصیت کو افادہ بخش بنائیں اور قوم کو استفادہ کا موقع مہیا کریں۔
اب کرنسی بھی ڈیجیٹل ہونے والی ہے اور ہمارے فضلائے مدارس اپنی کتابوں کی طباعت کے لیے غیر وں کے رحم وکرم کے سراپامنتظر بیٹھے ہیں۔
ڈیجیٹل ایڈیشن سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ غلطیوں کی اصلاح آسان ہے۔ مطبوعہ کتابوں میں تصحیح کے لیے طبع مابعد کا انتظار کرنا پڑتا تھا،یا قارئین کومطلع کرنا ہوتا تھا،تاکہ وہ تصحیح کرلیں۔
طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی
جاری کردہ:14:ستمبر 2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 238:*
بعض ڈرائیور حضرات راستے میں مخصوص پٹرول پمپ پر بریک لگاتے ہیں اور وہاں پر جو کینٹین ہوتی ہے وہ اس گاڑی کے ڈرائیور کو کھانا وغیرہ فری میں دیتی ہے اور وہ اس نیت سے روکتے ہیں کہ ہوٹل والوں کو گاہک مل جاتے ہیں اور ان کو فری کھانا مل جاتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
صورتِ مسئولہ (پوچھی گئی صورت) میں ڈرائیور حضرات کو کینٹین والے یا ہوٹل والے گاہک فراہم کرنے کے بدلے جو فری (مفت) میں کھانا وغیرہ کھلاتے ہیں اور اس کا خرچہ ڈرائیوروں کی فراہم کی گئی سواریوں سے کئی گنا زیادہ رقم لے کر پورا کرتے ہیں تو یہ (فری کھانا وغیرہ کھانا، کھلانا) رشوت اور ناجائز و حرام ہے اس لیے کہ کینٹین والے یا ہوٹل والے اپنا کام نکلوانے کے لئے ڈرائیور حضرات کو فری میں کھانا وغیرہ اس وجہ سے دیتے ہیں کہ وہ ان کی کینٹین یا ہوٹل پر اپنی گاڑی کی سواریاں لے کر آئیں اور یہ واضح طور پر رشوت میں آتا ہے اور رشوت کا حکم یہ ہے کہ اس کا دینا بھی حرام اور لینا بھی حرام ہوتا ہے۔
مزید ڈرائیور حضرات کا فری کھانا کھانے کی چکر میں اپنی سواریوں کو کینٹین یا ہوٹل والوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا کہ وہ ان سے منہ مانگی رقم وصول کریں، تو یہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے ،اس لیے ڈرائیور حضرات کو چاہیے کہ مسلمانوں سے خیرخواہی کرتے ہوئے اپنی گاڑیاں ایسے ہوٹلوں کے سامنے کھڑی کریں جہاں سواریوں کے لئے سہولت اور فائدہ زیادہ ہو۔
چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں :
*"لعن رسول اللہ الراشی و المرتشی"*
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
*(سنن ترمذی، کتاب الاحکام، باب ماجاء فی الراشی و المرتشی فی الحکم، صفحہ 344، رقم الحدیث : 1337 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)*
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ﺍﻟﺮﺷﻮﺓ ﺑﺎﻟﻜﺴﺮ ﻣﺎ ﻳﻌﻄﻴﻪ ﺍﻟﺸﺨﺺ ﺍﻟﺤﺎﻛﻢ ﻭ ﻏﻴﺮﻩ ﻟﻴﺤﻜﻢ ﻟﻪ ﺃﻭ ﻳﺤﻤﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﻳﺮﻳﺪ"*
رشوت یہ ہے کہ جسے کوئی شخص، حاکم وغیرہ کو اس لیے دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کر دے یا اسے وہ ذمہ داری دیدے جسے یہ چاہتا ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب القضاء، مطلب فی الکلام علی الرشوة و الھدیہ، جلد 5، صفحہ 362، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
اس تعریف سے یہ واضح ہوگیا کہ رشوت عام ہے خواہ مال ہو یا کوئی اور منفعت ہو۔
علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ان الرشوۃ مایعطیہ بشرط ان یعینہ"*
یعنی بے شک رشوت وہ چیز ہے جو اس شرط پر دی جائے کہ رشوت لینے والا اس کی مدد کرے گا۔
*(بحر الرائق جلد 6 صفحہ 441 دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)*
علامہ علی بن محمد سید شریف جرجانی *"رشوت"* کی تعریف کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
*"الرشوۃ : مایعطی لا بطال حق وإحقاق باطل"*
رشوت اس مال کو کہتے ہیں جو کسی کے حق کو باطل کرنے کے لیے یا کسی باطل کو حاصل کرنے کے لیے دیا جائے۔
*(معجم التعریفات صفحہ 96 دارالفضیلۃ)*
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"بیع تو اس میں اور خریداروں میں ہوگی، یہ ریل والوں کو روپیہ صرف اس بات کا دیتا ہے کہ میں ہی بیچوں، دوسرا نہ بیچنے پائے، یہ شرعاً خالص رشوت ہے۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 19 صفحہ 559 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
12/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*
بعض ڈرائیور حضرات راستے میں مخصوص پٹرول پمپ پر بریک لگاتے ہیں اور وہاں پر جو کینٹین ہوتی ہے وہ اس گاڑی کے ڈرائیور کو کھانا وغیرہ فری میں دیتی ہے اور وہ اس نیت سے روکتے ہیں کہ ہوٹل والوں کو گاہک مل جاتے ہیں اور ان کو فری کھانا مل جاتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
صورتِ مسئولہ (پوچھی گئی صورت) میں ڈرائیور حضرات کو کینٹین والے یا ہوٹل والے گاہک فراہم کرنے کے بدلے جو فری (مفت) میں کھانا وغیرہ کھلاتے ہیں اور اس کا خرچہ ڈرائیوروں کی فراہم کی گئی سواریوں سے کئی گنا زیادہ رقم لے کر پورا کرتے ہیں تو یہ (فری کھانا وغیرہ کھانا، کھلانا) رشوت اور ناجائز و حرام ہے اس لیے کہ کینٹین والے یا ہوٹل والے اپنا کام نکلوانے کے لئے ڈرائیور حضرات کو فری میں کھانا وغیرہ اس وجہ سے دیتے ہیں کہ وہ ان کی کینٹین یا ہوٹل پر اپنی گاڑی کی سواریاں لے کر آئیں اور یہ واضح طور پر رشوت میں آتا ہے اور رشوت کا حکم یہ ہے کہ اس کا دینا بھی حرام اور لینا بھی حرام ہوتا ہے۔
مزید ڈرائیور حضرات کا فری کھانا کھانے کی چکر میں اپنی سواریوں کو کینٹین یا ہوٹل والوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا کہ وہ ان سے منہ مانگی رقم وصول کریں، تو یہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے ،اس لیے ڈرائیور حضرات کو چاہیے کہ مسلمانوں سے خیرخواہی کرتے ہوئے اپنی گاڑیاں ایسے ہوٹلوں کے سامنے کھڑی کریں جہاں سواریوں کے لئے سہولت اور فائدہ زیادہ ہو۔
چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں :
*"لعن رسول اللہ الراشی و المرتشی"*
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
*(سنن ترمذی، کتاب الاحکام، باب ماجاء فی الراشی و المرتشی فی الحکم، صفحہ 344، رقم الحدیث : 1337 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)*
عمدۃ المحققین علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ﺍﻟﺮﺷﻮﺓ ﺑﺎﻟﻜﺴﺮ ﻣﺎ ﻳﻌﻄﻴﻪ ﺍﻟﺸﺨﺺ ﺍﻟﺤﺎﻛﻢ ﻭ ﻏﻴﺮﻩ ﻟﻴﺤﻜﻢ ﻟﻪ ﺃﻭ ﻳﺤﻤﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﻳﺮﻳﺪ"*
رشوت یہ ہے کہ جسے کوئی شخص، حاکم وغیرہ کو اس لیے دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کر دے یا اسے وہ ذمہ داری دیدے جسے یہ چاہتا ہے۔
*(ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب القضاء، مطلب فی الکلام علی الرشوة و الھدیہ، جلد 5، صفحہ 362، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
اس تعریف سے یہ واضح ہوگیا کہ رشوت عام ہے خواہ مال ہو یا کوئی اور منفعت ہو۔
علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ان الرشوۃ مایعطیہ بشرط ان یعینہ"*
یعنی بے شک رشوت وہ چیز ہے جو اس شرط پر دی جائے کہ رشوت لینے والا اس کی مدد کرے گا۔
*(بحر الرائق جلد 6 صفحہ 441 دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)*
علامہ علی بن محمد سید شریف جرجانی *"رشوت"* کی تعریف کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
*"الرشوۃ : مایعطی لا بطال حق وإحقاق باطل"*
رشوت اس مال کو کہتے ہیں جو کسی کے حق کو باطل کرنے کے لیے یا کسی باطل کو حاصل کرنے کے لیے دیا جائے۔
*(معجم التعریفات صفحہ 96 دارالفضیلۃ)*
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"بیع تو اس میں اور خریداروں میں ہوگی، یہ ریل والوں کو روپیہ صرف اس بات کا دیتا ہے کہ میں ہی بیچوں، دوسرا نہ بیچنے پائے، یہ شرعاً خالص رشوت ہے۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 19 صفحہ 559 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
12/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 236:*
کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شھادت ظہر کی نماز کا سجدہ کرنے کی حالت میں ہوئی ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے شھادت سے پہلے اپنے اصحاب کو نمازِ ظہر پڑھائی، نماز کے بعد سخت لڑائی شروع ہوگئی، جس میں آپ کے اصحاب شہید ہو گئے پھر آخر میں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس سے پتہ چلا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت نمازِ ظہر کے دوران نہیں ہوئی، اب رہ گئی یہ بات کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت سجدے کی حالت میں ہوئی یا نہیں؟
تو کافی کتب میں شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کے سجدہ کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا اور بعض نے سجدہ شکر کا ذکر کیا ہے کہ شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے سجدہ شکر کیا اور اسی دوران ایک بدبخت فاسق نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کردیا۔
چنانچہ چنانچہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں :
*"ثم صلی الحسین باصحابہ الظھر صلاۃ الخوف ثم اقتتلوا بعدھا قتالا شدیدا۔۔۔۔۔۔۔ فتقدم زرعۃ بن شریک التمیمی فضربہ بالسیف علی عاتقہ ثم طعنہ سنان بن انس بن عمرو النخعی بالرمح ثم نزل فاحتز راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نمازِ ظہر نمازِ خوف کی طرح پڑھائی پھر نماز ادا کرنے کے بعد سخت لڑائی ہوئی۔۔۔
(امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی شہید ہونے کے بعد) پھر زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر تلوار کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک کندھے پر وار کیا پھر سنان بن انس بن عمرو نخعی نے آپ رضی اللہ عنہ پر نیزے سے وار کیا پھر شمر اترا اور آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک سر کو (مبارک بدن سے) جدا کر دیا اور (جدا کر کے) مبارک سر خولی کے حوالے کر دیا۔
*(البدایہ النھایہ، صفۃ مقتل حسین، جلد 8 صفحہ 260، 265 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
امام عبدالملک بن حسین بن عبدالملک شافعی عاصمی مکی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ثم حضر وقت الصلاة ۔۔۔۔۔۔ ثم صلی الحسین الظھر صلاۃ الخوف، ثم اشتد القتال بعد الصلاة ۔۔۔۔۔۔۔*
*و اشتد عطش الحسین، فجاء لیشرب من الفرات، فرمی حصین بن تمیم یسھم فی فمہ فجعل یتلقی الدم و یدعو ثم اقبل شمر بن ذی الجوشن فی عشرۃ من رجالتہ، فحالوا بین الحسین و بین اھلہ، فقال : امنعوا اھلی و رحلی من طغامکم، فقال : ذلک لک، ثم حمل علیھم و حملوا علیہ و احاطوا بہ من یمینہ و شمالہ۔*
*وخرجت زینت تنادی فلقیت عمر بن سعد، فقالت : یا عمر، یقتل ابو عبداللہ، و انت تنظر؟! فبکی و زوی عنھا وجھہ، ثم نادی شمر : ماذا تنظرون بالرجل؟! فحملوا علیہ، و ضرب زرعۃ بن شریک التمیمی کتفہ الایسر و علی عاتقہ فاوھنہ، ثم طعنہ سنان بن قیس النخعی بالرمح، و قال لخولی بن یزید الاصبحی : جز راسہ، فارعد، فنزل الیہ سنان فاخذ راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی پھر نماز کا وقت ہوگیا۔۔۔ پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے نمازِ ظہر، نمازِ خوف کی طرح پڑھی، پھر نماز کے بعد لڑائی سخت ہوگئی۔۔۔
اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیاس سخت ہو گئی، پس آپ رضی اللہ عنہ فرات پر پانی پینے کے لئے آئے تو حصین بن تمیم نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ اقدس میں تیر مارا، پس خون نکل کر بہنے لگا پھر شمر ذی الجوشن اپنے لشکر کے دس افراد کو لے کر آگے بڑھا، پس امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل کے درمیان حائل ہو گئے تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
تم میرے اہل اور میری قیام گاہ سے اپنی کمینگی کو باز رکھو،
تو شمر بولا :
یہ آپ کے لئے ہے،
پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے دائیں اور بائیں سے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا۔
اور حضرت زینب رضی اللہ عنھا ندا کرتے ہوئے نکلیں پس عمر بن سعد سے ملاقات ہوئی تو فرمایا :
اے عمر! ابو عبداللہ (یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ) لڑائی کر رہے ہیں اور تو دیکھ رہا ہے ؟
پس وہ رویا اور آپ رضی اللہ عنھا سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر شمر نے ندا کی :
تم (اس) مرد کو کیا دیکھ رہے ہو؟
پس انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کے بائیں کندھے پر اور آپ کی گردن پر تلوار ماری تو اس نے آپ کو کمزور کر دیا پھر سنان بن قیس نخعی نے آپ کو نیزہ مارا اور خولی بن یزید اصبحی سے کہا :
ان کا سر جدا کر دیجیے۔
پس اس پر لرزا طاری ہوگیا۔
تو سنان نے سواری سے اتر کر آپ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کر دیا اور اسے خولی کے حوالے کر دیا۔
*(سمط النجوم العوالی فی انباء الاوائل و التوالی، جلد 3 صفحہ 179، 180 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
برادرِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مولانا حسن رضا خان برکاتی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"جب شمر خبیث نے کام نکلتا نہ دیکھا، لشکر کو للکارا :
’’تمہاری مائیں تم کو پیٹیں کیا انتظار کر رہے ہو حسین کو قتل کرو۔‘‘
اب چار طرف سے ظلمت کے ابر اور تاریکی کے بادل فاطمہ (رضی اللہ
کیا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شھادت ظہر کی نماز کا سجدہ کرنے کی حالت میں ہوئی ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے شھادت سے پہلے اپنے اصحاب کو نمازِ ظہر پڑھائی، نماز کے بعد سخت لڑائی شروع ہوگئی، جس میں آپ کے اصحاب شہید ہو گئے پھر آخر میں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس سے پتہ چلا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت نمازِ ظہر کے دوران نہیں ہوئی، اب رہ گئی یہ بات کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شھادت سجدے کی حالت میں ہوئی یا نہیں؟
تو کافی کتب میں شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کے سجدہ کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا اور بعض نے سجدہ شکر کا ذکر کیا ہے کہ شھادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے سجدہ شکر کیا اور اسی دوران ایک بدبخت فاسق نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کردیا۔
چنانچہ چنانچہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں :
*"ثم صلی الحسین باصحابہ الظھر صلاۃ الخوف ثم اقتتلوا بعدھا قتالا شدیدا۔۔۔۔۔۔۔ فتقدم زرعۃ بن شریک التمیمی فضربہ بالسیف علی عاتقہ ثم طعنہ سنان بن انس بن عمرو النخعی بالرمح ثم نزل فاحتز راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نمازِ ظہر نمازِ خوف کی طرح پڑھائی پھر نماز ادا کرنے کے بعد سخت لڑائی ہوئی۔۔۔
(امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی شہید ہونے کے بعد) پھر زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر تلوار کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک کندھے پر وار کیا پھر سنان بن انس بن عمرو نخعی نے آپ رضی اللہ عنہ پر نیزے سے وار کیا پھر شمر اترا اور آپ رضی اللہ عنہ کے مبارک سر کو (مبارک بدن سے) جدا کر دیا اور (جدا کر کے) مبارک سر خولی کے حوالے کر دیا۔
*(البدایہ النھایہ، صفۃ مقتل حسین، جلد 8 صفحہ 260، 265 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
امام عبدالملک بن حسین بن عبدالملک شافعی عاصمی مکی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*"ثم حضر وقت الصلاة ۔۔۔۔۔۔ ثم صلی الحسین الظھر صلاۃ الخوف، ثم اشتد القتال بعد الصلاة ۔۔۔۔۔۔۔*
*و اشتد عطش الحسین، فجاء لیشرب من الفرات، فرمی حصین بن تمیم یسھم فی فمہ فجعل یتلقی الدم و یدعو ثم اقبل شمر بن ذی الجوشن فی عشرۃ من رجالتہ، فحالوا بین الحسین و بین اھلہ، فقال : امنعوا اھلی و رحلی من طغامکم، فقال : ذلک لک، ثم حمل علیھم و حملوا علیہ و احاطوا بہ من یمینہ و شمالہ۔*
*وخرجت زینت تنادی فلقیت عمر بن سعد، فقالت : یا عمر، یقتل ابو عبداللہ، و انت تنظر؟! فبکی و زوی عنھا وجھہ، ثم نادی شمر : ماذا تنظرون بالرجل؟! فحملوا علیہ، و ضرب زرعۃ بن شریک التمیمی کتفہ الایسر و علی عاتقہ فاوھنہ، ثم طعنہ سنان بن قیس النخعی بالرمح، و قال لخولی بن یزید الاصبحی : جز راسہ، فارعد، فنزل الیہ سنان فاخذ راسہ و دفعہ الی خولی"*
یعنی پھر نماز کا وقت ہوگیا۔۔۔ پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے نمازِ ظہر، نمازِ خوف کی طرح پڑھی، پھر نماز کے بعد لڑائی سخت ہوگئی۔۔۔
اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیاس سخت ہو گئی، پس آپ رضی اللہ عنہ فرات پر پانی پینے کے لئے آئے تو حصین بن تمیم نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ اقدس میں تیر مارا، پس خون نکل کر بہنے لگا پھر شمر ذی الجوشن اپنے لشکر کے دس افراد کو لے کر آگے بڑھا، پس امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل کے درمیان حائل ہو گئے تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
تم میرے اہل اور میری قیام گاہ سے اپنی کمینگی کو باز رکھو،
تو شمر بولا :
یہ آپ کے لئے ہے،
پھر امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے دائیں اور بائیں سے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا۔
اور حضرت زینب رضی اللہ عنھا ندا کرتے ہوئے نکلیں پس عمر بن سعد سے ملاقات ہوئی تو فرمایا :
اے عمر! ابو عبداللہ (یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ) لڑائی کر رہے ہیں اور تو دیکھ رہا ہے ؟
پس وہ رویا اور آپ رضی اللہ عنھا سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر شمر نے ندا کی :
تم (اس) مرد کو کیا دیکھ رہے ہو؟
پس انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کے بائیں کندھے پر اور آپ کی گردن پر تلوار ماری تو اس نے آپ کو کمزور کر دیا پھر سنان بن قیس نخعی نے آپ کو نیزہ مارا اور خولی بن یزید اصبحی سے کہا :
ان کا سر جدا کر دیجیے۔
پس اس پر لرزا طاری ہوگیا۔
تو سنان نے سواری سے اتر کر آپ کا سرِ مبارک، تنِ اقدس سے جدا کر دیا اور اسے خولی کے حوالے کر دیا۔
*(سمط النجوم العوالی فی انباء الاوائل و التوالی، جلد 3 صفحہ 179، 180 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
برادرِ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مولانا حسن رضا خان برکاتی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"جب شمر خبیث نے کام نکلتا نہ دیکھا، لشکر کو للکارا :
’’تمہاری مائیں تم کو پیٹیں کیا انتظار کر رہے ہو حسین کو قتل کرو۔‘‘
اب چار طرف سے ظلمت کے ابر اور تاریکی کے بادل فاطمہ (رضی اللہ
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
تعالٰی عنہا) کے چاند پر چھا گئے۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے بائیں شانہ مبارک پر تلوار ماری، امام تھک گئے ہیں۔۔۔۔زخموں سے چور ہیں۔۔۔۔ 33 زخم نیزے کے 34 گھاؤ تلواروں کے لگے ہیں۔۔۔۔ تیروں کا شمار نہیں۔۔۔۔ اٹھنا چاہتے ہیں اور گر پڑتے ہیں۔۔۔۔ اسی حالت میں سنان بن انس نخعی شقی ناری جہنمی نے نیزہ مارا کہ وہ عرش کا تارا زمین پر ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔ سنان مردود نے خولی بن یزید سے کہا : سر کاٹ لے۔
اس کا ہاتھ کانپا۔ سنان ولد الشیطان بولا :
’’تیرا ہاتھ بیکار ہو‘‘
اور خود گھوڑے سے اتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے جگر پارے، تین دن کے پیاسے کو ذبح کیا اور سر مبارک جدا کر لیا۔"
*(آئینہ قیامت صفحہ 69، 70 ناشر جمیعت اشاعت اھلسنت پاکستان)*
صدرالافاضل علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"تیر اندازوں کی جماعتیں ہر طرف سے گھر آئیں اور امامِ تشنہ کام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گردابِ بلا میں گھیر کر تیر برسانے شروع کر دئیے، گھوڑا اِس قدر زخمی ہوگیا کہ اس میں کام کرنے کی قوت نہ رہی ناچار حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک جگہ ٹھہرنا پڑا، ہر طرف سے تیر ا ٓرہے ہیں اور امام مظلو م کا تنِ ناز پرور نشانہ بنا ہوا ہے، نورانی جسم زخموں سے چکنا چور اور لہولہان ہو رہا ہے، بے شرم کوفیوں نے سنگدلی سے محترم مہمان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ ایک تیر پیشانی اقدس پر لگا یہ پیشانی مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بوسہ گاہ تھی، یہ سیمائے نور حبیب خدا عزوجل و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آرزو مندانِ جمال کا قرارِ دل ہے۔ بے ادبانِ کوفہ نے اس پیشانیٔ مُصَفّا اور اس جبینِ پُر ضِیا کو تیر سے گھائل کیا، حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چکر آگیا اور گھوڑے سے نیچے آئے، اب نامردانِ سیاہ باطن نے نیزوں پر رکھ لیا، نورانی پیکر خون میں نہا گیا اور آپ شہید ہوکر زمین پر گر پڑے۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ ۔
ظالمانِ بدکیش نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مصیبتوں کا اسی پر خاتمہ نہیں ہوگیا۔ دشمنانِ ایمان نے سرِ مبارک کو تنِ اقدس سے جدا کرنا چاہا اور نضر ابن خرشہ اس ناپاک ارادہ سے آگے بڑھا مگر امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہیبت سے اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار چھوٹ پڑی۔ خولی ابن یزید پلید نے یا شبل ابن یزید نے بڑھ کر آپ کے سرِ اقدس کو تنِ مبارک سے جدا کیا۔"
*(سوانح کربلا صفحہ 169، 170 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"ہر طرف سے تیر آرہے ہیں اور امام مظلوم کا جسم اقدس تیروں کا نشانہ بنا ہوا ہے، تن نازنین زخموں سے چور اور لہولہان ہو رہا ہے۔ بے وفا کرفیوں نے جگر پارہ رسول، فرزندِ بتول کو مہمان بلا کر، ان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ یہاں تک کہ زہر میں بجھا ہوا ایک تیر آپ کی اس مقدس پیشانی پر لگا جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہزاروں بار چوما تھا۔ تیر لگتے ہی چہرہ انور پر خون کا دھارا بہ نکلا۔ آپ غش کھا کر گھوڑے کی زین سے فرشِ زمین پر آگئے۔ اب ظالموں نے نیزوں سے حملہ کیا، شیطان صفت سنان نے ایک ایسا نیزہ مارا جو تنِ اقدس کے پار ہوگیا۔ تیر اور نیزہ و شمشیر کے بہتر زخم کھانے کے بعد آپ سجدے میں گرے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے واصلِ بحق ہوگئے۔ 56 سال، 5 ماہ، 5 دن کی عمر میں جمعہ کے دن محرم کی دسویں تاریخ 61ھ مطابق 680ء کو امام عالی مقام نے اس دارِفانی سے رحلت فرمائی۔"
*(خطباتِ محرم صفحہ 360 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
*نوٹ :*
کچھ دنوں سے چند جاہل لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیخِ طریقت امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ کے متعلق طوفانِ بدتمیزی برپا کر رکھا ہے کہ انہوں نے جو یہ بیان دیا ہے کہ بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ نمازِ (ظہر) کی حالت میں نہیں تھے، یہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی گستاخی ہے حالانکہ نہ یہ گستاخی ہے اور نہ یہ خلافِ واقع ہے لیکن کہتے ہیں کہ اعتراض کرنے والا اندھے کی طرح ہوتا ہے اور یہ بات ان جاہل لوگوں پر کامل طور پر سچی آتی ہے کہ ان عقل کے اندھوں کو اپنے گھر کی بھی خبر نہیں کیونکہ اگر کچھ عقل و شعور رکھتے تو اپنے گھر کی بھی خبر رکھتے، اب ہم ان کے گھر کی گواہی دکھاتے ہیں کہ جس میں بوقتِ شھادت نہ تو امامِ حیسن رضی اللہ عنہ کی نماز کا ذکر ہے اور نہ سجدے کا، لہذا ایسے لوگوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ حسد کی آگ میں جل کر خاکستر ہونے کے بجائے اسے پڑھیں۔
چنانچہ ڈاکٹر طاہر القادری منہاجی لکھتا ہے :
"شمر لعین کے اکسانے پر یزیدی لشکر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر آپ کے بائیں کندھے پر تلوار ماری جس سے آپ لڑ کھڑا گئے اس پر سب حملہ آور پیچھے ہٹ گئے پھر سنان بن ابی
اس کا ہاتھ کانپا۔ سنان ولد الشیطان بولا :
’’تیرا ہاتھ بیکار ہو‘‘
اور خود گھوڑے سے اتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے جگر پارے، تین دن کے پیاسے کو ذبح کیا اور سر مبارک جدا کر لیا۔"
*(آئینہ قیامت صفحہ 69، 70 ناشر جمیعت اشاعت اھلسنت پاکستان)*
صدرالافاضل علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"تیر اندازوں کی جماعتیں ہر طرف سے گھر آئیں اور امامِ تشنہ کام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو گردابِ بلا میں گھیر کر تیر برسانے شروع کر دئیے، گھوڑا اِس قدر زخمی ہوگیا کہ اس میں کام کرنے کی قوت نہ رہی ناچار حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک جگہ ٹھہرنا پڑا، ہر طرف سے تیر ا ٓرہے ہیں اور امام مظلو م کا تنِ ناز پرور نشانہ بنا ہوا ہے، نورانی جسم زخموں سے چکنا چور اور لہولہان ہو رہا ہے، بے شرم کوفیوں نے سنگدلی سے محترم مہمان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ ایک تیر پیشانی اقدس پر لگا یہ پیشانی مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بوسہ گاہ تھی، یہ سیمائے نور حبیب خدا عزوجل و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آرزو مندانِ جمال کا قرارِ دل ہے۔ بے ادبانِ کوفہ نے اس پیشانیٔ مُصَفّا اور اس جبینِ پُر ضِیا کو تیر سے گھائل کیا، حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چکر آگیا اور گھوڑے سے نیچے آئے، اب نامردانِ سیاہ باطن نے نیزوں پر رکھ لیا، نورانی پیکر خون میں نہا گیا اور آپ شہید ہوکر زمین پر گر پڑے۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ ۔
ظالمانِ بدکیش نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور حضرت امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مصیبتوں کا اسی پر خاتمہ نہیں ہوگیا۔ دشمنانِ ایمان نے سرِ مبارک کو تنِ اقدس سے جدا کرنا چاہا اور نضر ابن خرشہ اس ناپاک ارادہ سے آگے بڑھا مگر امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہیبت سے اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار چھوٹ پڑی۔ خولی ابن یزید پلید نے یا شبل ابن یزید نے بڑھ کر آپ کے سرِ اقدس کو تنِ مبارک سے جدا کیا۔"
*(سوانح کربلا صفحہ 169، 170 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"ہر طرف سے تیر آرہے ہیں اور امام مظلوم کا جسم اقدس تیروں کا نشانہ بنا ہوا ہے، تن نازنین زخموں سے چور اور لہولہان ہو رہا ہے۔ بے وفا کرفیوں نے جگر پارہ رسول، فرزندِ بتول کو مہمان بلا کر، ان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ یہاں تک کہ زہر میں بجھا ہوا ایک تیر آپ کی اس مقدس پیشانی پر لگا جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہزاروں بار چوما تھا۔ تیر لگتے ہی چہرہ انور پر خون کا دھارا بہ نکلا۔ آپ غش کھا کر گھوڑے کی زین سے فرشِ زمین پر آگئے۔ اب ظالموں نے نیزوں سے حملہ کیا، شیطان صفت سنان نے ایک ایسا نیزہ مارا جو تنِ اقدس کے پار ہوگیا۔ تیر اور نیزہ و شمشیر کے بہتر زخم کھانے کے بعد آپ سجدے میں گرے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے واصلِ بحق ہوگئے۔ 56 سال، 5 ماہ، 5 دن کی عمر میں جمعہ کے دن محرم کی دسویں تاریخ 61ھ مطابق 680ء کو امام عالی مقام نے اس دارِفانی سے رحلت فرمائی۔"
*(خطباتِ محرم صفحہ 360 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
*نوٹ :*
کچھ دنوں سے چند جاہل لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیخِ طریقت امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ کے متعلق طوفانِ بدتمیزی برپا کر رکھا ہے کہ انہوں نے جو یہ بیان دیا ہے کہ بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ نمازِ (ظہر) کی حالت میں نہیں تھے، یہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی گستاخی ہے حالانکہ نہ یہ گستاخی ہے اور نہ یہ خلافِ واقع ہے لیکن کہتے ہیں کہ اعتراض کرنے والا اندھے کی طرح ہوتا ہے اور یہ بات ان جاہل لوگوں پر کامل طور پر سچی آتی ہے کہ ان عقل کے اندھوں کو اپنے گھر کی بھی خبر نہیں کیونکہ اگر کچھ عقل و شعور رکھتے تو اپنے گھر کی بھی خبر رکھتے، اب ہم ان کے گھر کی گواہی دکھاتے ہیں کہ جس میں بوقتِ شھادت نہ تو امامِ حیسن رضی اللہ عنہ کی نماز کا ذکر ہے اور نہ سجدے کا، لہذا ایسے لوگوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ حسد کی آگ میں جل کر خاکستر ہونے کے بجائے اسے پڑھیں۔
چنانچہ ڈاکٹر طاہر القادری منہاجی لکھتا ہے :
"شمر لعین کے اکسانے پر یزیدی لشکر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر آپ کے بائیں کندھے پر تلوار ماری جس سے آپ لڑ کھڑا گئے اس پر سب حملہ آور پیچھے ہٹ گئے پھر سنان بن ابی
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
عمرو بن انس نخعی نے آگے بڑھ کر آپ کو نیزہ مارا جس سے آپ گھائل ہو کر گر پڑے سنان نے سواری سے اتر کر آپ کو ذبح کر دیا اور سر تن سے جدا کر کے خولی بن یزید کے حوالے کردیا۔"
*(شہادت امام حسین، فلسفہ و تعلیمات، صفحہ 176 منہاج القرآن پبلی کیشنز)*
مشہور شیعہ محقق، طالب جوہری بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سجدہ کی نفی کرتے ہوئے لکھتا ہے :
"ہلال بن نافع کہتا ہے کہ لشکر کے لوگوں نے جب امام حسین علیہ السلام کا کلام سنا تو اس طرح غضب میں آگئے جیسے اللہ نے رحم انکے دل میں ڈالا ہی نہ ہو۔ ابھی حسین باتیں کر ہی رہے تھے کہ ان کا سر کاٹ لیا گیا۔"
*(حدیثِ کربلا صفحہ 501)*
شیعہ مذہب کا محقق و مجتہد محمد حسین نجفی بھی بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نہ سجدے کا ذکر کرتا ہے اور نہ نماز کا، چنانچہ وہ لکھتا ہے :
"آخر کار شمر لعین نے للکار کر کہا ۔ کیا انتظار ہے؟ ان کا جام جلد تمام کرو۔ خولی ابن یزید اصبحی لعین آگے بڑھا مگر وہ لرزہ براندام ہوکر واپس چلا گیا۔۔۔ اس کے بعد یہ (شمر) ملعون خود آگے بڑھا۔۔۔۔ بہرحال اس شقی ازلی نے کند تلوار کی بارہ ضربات سے خامس آل عبا نواسہ رسول خدا جناب سیدالشھداء علیہ آلاف التحیۃ و الثناء کا پس گردن سے سر اقدس تن اطہر سے جدا کردیا۔"
*(سعادت الدارین فی مقتل الحسین صفحہ 476 اسلامک بک سنٹر اسلام آباد)*
اس شیعہ محقق حیسن نجفی نے اس بات پر کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عین شہادت کے وقت نماز اور سجدہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے، بارہ (12) کتابوں کے حوالے پیش کیے جو کہ درج ذیل ہیں :
1- مقتل عوالم صفحہ 100،
2- مقتل خوارزمی جلد 2 صفحہ 72،
3- مقتل مقرم صفحہ 333،
4- بحار الانوار،
5- قمقام ذخار،
6- ارشاد شیخ مفید،
7- امالی شیخ صدوق،
8- مقتل ابن نماز،
9- تاریخ طبری،
10- تاریخ کامل،
11- ناسخ التواریخ
12- نفس المہموم وغیرھا۔
اللہ پاک ہم سب سنی مسلمانوں کو صحابہ کرام اور اہلِ بیت رضی اللہ عنھم اجمعين کی سچی محبت عطاء فرمائے اور ان جاہل لوگوں کی فتنہ گری سے محفوظ فرمائے۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
09/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*
*(شہادت امام حسین، فلسفہ و تعلیمات، صفحہ 176 منہاج القرآن پبلی کیشنز)*
مشہور شیعہ محقق، طالب جوہری بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سجدہ کی نفی کرتے ہوئے لکھتا ہے :
"ہلال بن نافع کہتا ہے کہ لشکر کے لوگوں نے جب امام حسین علیہ السلام کا کلام سنا تو اس طرح غضب میں آگئے جیسے اللہ نے رحم انکے دل میں ڈالا ہی نہ ہو۔ ابھی حسین باتیں کر ہی رہے تھے کہ ان کا سر کاٹ لیا گیا۔"
*(حدیثِ کربلا صفحہ 501)*
شیعہ مذہب کا محقق و مجتہد محمد حسین نجفی بھی بوقتِ شھادت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نہ سجدے کا ذکر کرتا ہے اور نہ نماز کا، چنانچہ وہ لکھتا ہے :
"آخر کار شمر لعین نے للکار کر کہا ۔ کیا انتظار ہے؟ ان کا جام جلد تمام کرو۔ خولی ابن یزید اصبحی لعین آگے بڑھا مگر وہ لرزہ براندام ہوکر واپس چلا گیا۔۔۔ اس کے بعد یہ (شمر) ملعون خود آگے بڑھا۔۔۔۔ بہرحال اس شقی ازلی نے کند تلوار کی بارہ ضربات سے خامس آل عبا نواسہ رسول خدا جناب سیدالشھداء علیہ آلاف التحیۃ و الثناء کا پس گردن سے سر اقدس تن اطہر سے جدا کردیا۔"
*(سعادت الدارین فی مقتل الحسین صفحہ 476 اسلامک بک سنٹر اسلام آباد)*
اس شیعہ محقق حیسن نجفی نے اس بات پر کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عین شہادت کے وقت نماز اور سجدہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے، بارہ (12) کتابوں کے حوالے پیش کیے جو کہ درج ذیل ہیں :
1- مقتل عوالم صفحہ 100،
2- مقتل خوارزمی جلد 2 صفحہ 72،
3- مقتل مقرم صفحہ 333،
4- بحار الانوار،
5- قمقام ذخار،
6- ارشاد شیخ مفید،
7- امالی شیخ صدوق،
8- مقتل ابن نماز،
9- تاریخ طبری،
10- تاریخ کامل،
11- ناسخ التواریخ
12- نفس المہموم وغیرھا۔
اللہ پاک ہم سب سنی مسلمانوں کو صحابہ کرام اور اہلِ بیت رضی اللہ عنھم اجمعين کی سچی محبت عطاء فرمائے اور ان جاہل لوگوں کی فتنہ گری سے محفوظ فرمائے۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
09/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*