🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
فتنہ تفضیلیت اورشیعیت کے خلاف اہل سنت میں بیداری پیداہوئی ہے.لیکن میرامشاہدہ ہے کہ صلح کلیوں کے خلاف اب ویسی بیداری نہیں ہے جیسی ماضی میں تھی.لاہورکے تین صلح کلی ناشراہل سنت کے نظریات میں نقب زنی کررہے ہیں.لیکن اہل سنت یاتوبے خبرہیں یامصلحت کالبادہ اوڑھے ہوئے ہیں.اکثرایساہوتاہے کہ اگرکسی کوان کی شنیع حرکات سے خبردارکیاجائے تووہ ان کوبرابھلاکہہ دیتے ہیں.لیکن ان کے سامنے ان کوغلط کہنے کی ہمت نہیں کرتے.
https://www.facebook.com/100008080090753/posts/2809250852687557/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضاؒکی علمی و ادبی خدمات پر ایک نظر:
مستقیم الفکر
ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضاؒ کا ایک ادارے کی حیثیت سے پاکستان میں منفرد اعزاز یہ ہے کہ اس ادارے کی توسط سے اب تک 30 سے زیادہ Ph.D کی اسناد اور 20 سے زیادہ M.Phil کی اسناد امام احمدرضا کے مختلف علمی پہلوؤں پر تحقیق کرنے والوں کو پاکستان کی اور غیرملکی جامعات سے تفویض ہوچکی ہیں۔ تمام محقیقین کو ادارے کی جانب سے ہر قسم کا لٹریچر مفت فراہم کیا جاتا رہا اور ادارے کے محقیقین نے Ph.D اور M.Phil کے طالب علموں کو Synopsis سمیت ہرطرح سے ان کی مدد فراہم کی۔ جب کوئی طالبعلم Ph.D یا M.Phil کی سند حاصل کرلیتا ہے تو اس کو ادارہ کی جانب سے امام احمدرضا ریسرچ گولڈمیڈل یا امام احمدرضا ریسرچ سلور میڈل معہ اسناد پیش کیا جاتا ہے
http://imamahmadraza.net/wfproducts.aspx?md=17

http://imamahmadraza.net/wfproducts.aspx?md=4

اب ملاحظہ کریں Ph.D اور M.Phil کرنے والوں کی فہرست معہ عنوانات:

(۱)۔ حسن رضا خاں اعظمی ’’فقیہ اسلام‘‘ پٹنہ یونیورسٹی انڈیا،1979ء۔

(۲)۔ محمد امام الدین جوھر ’’رضا بریلوی بحیثیت شاعر نعت‘‘بہار یونیورسٹی، انڈیا، 1986ء۔

(۳)۔ اُشا سانیال’’اہلِ سنّت مومنٹ ان بریٹش انڈیا‘‘ کو لمبیا یونیورسٹی امریکہ، 1990ء۔

(۴)۔جمیل الدین راٹھوی ’’امام احمدرضا اور نعت گوئی‘‘ پریسنگھ یونیورسٹی ، انڈیا، 1992ء۔

(۵)۔ مجید اللہ قادری ’’کنزالایمان اور دیگر اردو تراجم‘‘کراچی یونیورسٹی، کراچی 1993ء۔

(۶)۔ حافظ عبدالباری صدیقی ’’رضا بریلوی کے افکار و کارنامے(سندھی) سندھ یونیورسٹی، 1993ء۔

(۷)۔ طیب علی رضا انصاری، ’’امام احمدرضا حیات و کارنامے‘‘بنارس یونیورسٹی، 1993ء۔

(۸)۔ عبدالنعیم عزیزی، ’’اردو نعت گوئی اور فاضل بریلوی‘‘روہیل کھنڈ یونیورسٹی، 1994ء۔

(۹)۔ سراج احمد بستوی ،’’امام احمدرضاکی نعتیہ شاعری‘‘ کانپور یونیورسٹی، 1995ء۔

(۱۰)۔ محمد انور خاں، ’’مولانا احمدرضاکی فقہی خدمات‘‘ سندھ یونیورسٹی، 1998ء۔

(۱۱)۔ امجد رضا امجد، ’’امام احمدرضا کی فکری تنقیدیں‘‘، ویر کنور یونیورسٹی، 1998ء۔

(۱۲)۔ غلام مصطفیٰ نجم القادری، ’’امام احمدرضا کا تصورعشق‘‘ میسور یونیورسٹی، 2002ء۔

(۱۳)۔ رضا الرحمٰن عاکق، ’’نثری ارتقا میں احمدرضا کا حصّہ’’روہیل کھنڈ یونیورسٹی، 2003ء۔

(۱۴)۔ غلام غوث قادری، ’’امام احمدرضا کی انشاء پردازی‘‘رانچی یونیورسٹی، بہار، 2003ء۔

(۱۵)۔ تنظیم الفردوس، ’’نعتیہ شاعری میں احمد رضا کی انفرادیت‘‘ جامعہ کراچی، 2004ء۔

(۱۶)۔ سید شاہد علی نورانی، ’’الشیخ احمد رضا شاعراًعربیاً (عربی)، پنجاب یونیورسٹی، 2004ء۔

(۱۷)۔ غلام جابر شمس مصباحی، ’’امام احمدرضا کے مکتوبات‘‘ بہاریونیورسٹی، 2004ء۔

(۱۸)۔ ریاض احمد ،’’امام احمدرضا کی ادبی ، لسانی خدمات‘‘،2005ء۔

(۱۹)۔ محمد اسحاق مدنی، ’’سیاسی تحریکات میں فتاویٰ رضویہ کا حصّہ‘‘ جامعہ کراچی، 2006ء۔

(۲۰)۔ منظور احمد سعیدی، ’’امام احمدرضا کی خدمت حدیث کاجائزہ‘‘ جامعہ کراچی، 2006ء۔

(۲۱)۔ محمد اشفاق جلالی، ’’الزلال انقی من بحرسبقت الاتقی‘‘(عربی) پنجاب یونیورسٹی، 2006ء۔

(۲۲)۔ اے پی عبدالحکیم، ’’امام احمدرضاکی محدثانہ حیثیت‘‘، بہار یونیورسٹی، 2006ء۔

(۲۳)۔ آدم رضا، ’’امام احمدرضا کی شاعری میں عشق رسولﷺ)،شیواجی یونیورسٹی، انڈیا، 2008ء۔

(۲۴)۔ نور الدین محمد نوری، ’’امام احمدرضا ادبی خدمات‘‘،بھاگلپوری یونیورسٹی، انڈیا، 2008ء۔

(۲۵)۔ حامدہ بی بی، ’’اردو نثر نگاری اور امام احمدرضا‘‘ روہیل کھنڈ یونیورسٹی،2009ء۔

(۲۶)۔ عبدالعلیم رضوی، ’’امام احمدرضا بہ حیثیت مفسرقرآن‘‘، بہار یونیورسٹی، 2010ء۔

(۲۷)۔ شبنم خاتون، ’’مولانا کی عربی ادب میں خدمات‘‘، بنارس یونیورسٹی، 2011ء۔

(۲۸)۔ ظفر اقبال جلال، ’’استاد القرآن والسنہ فی شعر الشیخاحمد رضا‘‘(عربی)، اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد، 2011ء۔

(۲۹)۔ صادق اسلام، ’’امام احمدرضا کی تحریک اسباب و اثرات‘‘ دہلی یونیورسٹی، 2011ء۔

(۳۰)۔ محمد مہربان باروی، ’’تحقیق و تعریب و داسۃ جزءمخال فتاویٰ الرضویہ‘‘ (عربی) ام درمان یونیورسٹی سوڈان، 2012ء۔

ان 30Ph.D کے مقالات میں 4 عربی زبان میں ایک انگریزی میں اور بقیہ اردو زبان میں لکھے گئے ہیں اور ان 30 جامعات میں سے ایک امریکہ، ایک سوڈان، 19 انڈیا اور بقیہ کا تعلق پاکستان سے ہے جب کہ پاکستان کی جامعات میں ایک کا تعلق اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد، دو کا تعلق پنجاب یونیورسٹی، دو کا تعلق سندھ یونیورسٹی اور بقیہ 4 کا تعلق کراچی یونیورسٹی سے ہے۔

اسی طرح 20 کے قریبM.Phil کے مقالات پاکستان اورکئی بیرون ملک کی جامعات میں امام احمدرضا کے افکار کے حوالے سے لکھے جاچکے ہیں ملاحظہ کیجئے اس کی تفصیل:

(۱)۔ آر۔ بی ۔ مظہری بنت مفتی مظہر اللہ دہلوی، ’’امام احمدرضا کی ادبی خدمات‘‘، سندھ یونیورسٹی، 1981ء۔

(۲)۔ غوث محی الدین، ’’الشیخ احمد رضا خاں حیاتہ واعمالہ‘‘(عربی)
عثمانیہ یونیورسٹی، 1990ء۔

(۳)۔ محمود حسین بریلوی، ’’احمدرضا کی عربی زبان و ادب میں خدمات‘‘، علی گڑھ یونیورسٹی، 1990ء۔

(۴)۔ محمد اکرم، ’’الامام احمد رضا خاں الحنفی وخدماتہ العلمیۃ والا بیۃ (عربی) اسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور، 1995ء۔

(۵)۔ مشتاق احمد شاہ، ’’الامام احمدرضا واثرہ فی الفقہ‘‘(عربی)، جامعہ الازھرقاہرہ ، 1997ء۔

(۶)۔ ممتاز احمد سدیدی، ’’الشیخ احمدرضا الھندی شاعراًعربیاً‘‘(عربی)، جامعہ الازہر قاہرہ، 1999ء۔

(۷)۔ سید عتیق الرحمٰن شاہ، ’’النثر الغنی عبدالشیخ احمدرضا‘‘(عربی)، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد، 2003ء۔

(۸)۔ ظفر اقبال جلال، ’’اثرالشقافۃ العربیۃ فی المدائح النبویہ (عربی)، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، 2003ء۔

(۹)۔ سید جلال الدین، ’’الشیخ احمدرضا وجھودہ فی مجال العقیدہ الاسلامیۃ‘‘ (عربی)، قاہرہ یونیورسٹی، 2006ء۔

(۱۰)۔ مصطفیٰ علی مصباحی، ’’ماھبۃ الشیخ احمدرضا فی الارب العربی‘‘ (عربی)، مدراس یونیورسٹی، 2006ء۔

(۱۱)۔ محمد عرفان محی الدین، ’’دراسۃ عن الحواشی العلامۃاحمدرضا‘‘ (عربی)، عثمانیہ یونیورسٹی، 2009ء۔

(۱۲)۔ محمد علی رضوی،’’TheQuranic Hermeneoties of Imam Raza ‘‘(انگریزی)، یونیورسٹی آف لیڈیز 2010ء۔

(۱۳)۔اقرار علی قریشی، ’’تیمم کے فقہی مسائل دورجدید کے تناظرمیں‘‘، وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی، 2010ء۔

(۱۴)۔ عبدالقوی، ’’علم الحدیث اور فتاویٰ رضویہ‘‘، یونیورسٹی آف فیصل آباد، 2011ء۔

(۱۵)۔ سید محمد سرفراز، ’’امام احمدرضا کے افکار کا تحقیقی جائزہ‘‘ یونیورسٹی آف فیصل آباد، 2011ء۔

(۱۶)۔صبا نور، ’’امام احمدرضا کےمعاشی نظریات‘‘، یونیورسٹی آف فیصل آباد، 2011ء۔

قارئین کرام! ان مقالات میں 9 مقالات عربی زبان میں لکھے گئے ہیں اور تمام کے تمام یاتو الازھر یونیورسٹی قاہرہ میں لکھے گئے ہیں یا انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں پیش کئے گئےہیں۔ M.A، M.Ed، میں لکھے گئے مقالات کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور الحمد للہ ہر سال بیسوں مقالات پاکستان کی مختلف جامعات میں لکھےجاتے ہیں ادارہ ان کو قلمی مواد مہیا کرتا ہے اس کے علاوہ M.Phil اور Ph.D کے زیر تکمیل مقالات کی تعداد بھی 20 سے زیادہ ہے ہم نے یہ عزم کیا ہے کہ امام احمدرضا کے صد سالہ یوم وصال کے موقعہ پر 1440ھ/ 2018ء تک Ph.D اور M.Phil کے مقالات کی تعداد 100 تک پہنچادیں الحمدللہ اس میں ہم کامیاب ہوگئے ہیں۔

اب ملاحظہ کریں ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضا سے شائع ہونے والی کتب(بالترتیب سن اشاعت) کی فہرست جو معارفِ رضا کےعلاوہ ہیں:

(۱)۔امام احمدرضا محدث بریلوی، ’’ لوگارثم حاشیہ‘‘، 1980ء۔

(۲)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’ دائرہ معارف رضا‘‘، 1982ء۔

(۳)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد،’’ امام احمد رضا اور عالمِ اسلام‘‘،۔

(۴)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’گناہ بے گناہی‘‘1983ء ۔

(۵)۔حضرت علامہ شمس بریلوی، ’’امام احمد رضا کی حاشیہ نگاری‘‘(جلداول) 1984ء۔

(۶)۔سید ریاست علی قادری، ’’اماماحمد رضا کے نثری شہہ پارے‘‘،1984ء۔

(۷)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’اجالا‘‘،1984ء۔

(۸)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’نور و نار‘‘، 1984ء۔

(۹)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’مجموعہ رسائل (مسئلہ نوروسایہ)‘‘، 1985ء۔

(۱۰)۔ امام احمد رضامحدث بریلوی، ’’جد الممتار علی رد المحتار حاشیہ (جلد اول)‘‘، 1985ء۔

(۱۱)۔آر۔بی مظہری، ’’ جہانِ مسعود‘‘، 1985ء۔

(۱۲)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد،’’سوجھرو(سندھی ترجمہ رسالہ ’’اجالا‘‘)، 1986ء۔

(۱۳)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد،’’رہبر و رہنما‘‘، 1986ء۔

(۱۴)۔سیدریاست علی قادری، ’’ لمعات شمس بریلوی‘‘، 1986ء۔

(۱۵)۔حضرت علامہ شمس بریلوی،’’امام احمد رضا کی حاشیہ نگاری(جلددوم)‘‘، 1986ء۔

(۱۶)۔منظورحسین جیلانی،’’اغراض و مقاصد‘‘،1986ء۔

(۱۷)۔ڈاکٹر جلال الدین نوری، ’’الخطوط الریئسیہ لاقتصاد الاسلامی‘‘، 1987ء۔

(۱۸)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،(انگریزی ترجمہ۔۔۔)’’ Tamheed -e- Iman‘‘، 1987ء۔

(۱۹)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’معین مبین بہر دور شمس وسکونِ زمین‘‘، 1987ء۔

(۲۰)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، (انگریزی ترجمہ: پروفیسر محمد عبد القادر)’’Economic Guide Line for Muslims‘‘،1988ء۔

(۲۱)۔مجیداللہ قادری، ’’فتاویٰ رضویہ کا موضوعاتی جائزہ‘‘، 1988ء۔

(۲۲)۔سیدوجاہت رسول قادری، پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری،’’یادگارِ سلف(تذکرہ مفتی تقدسعلی خاں)،1988ء۔

(۲۳)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،(انگریزی ترجمہ: نگار عرفانی)’’The Revolving Sun and the Static Earth‘‘،1989ء۔

(۲۴)۔پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’قرآن، سائنس اور امام احمد رضا‘‘، 1989ء۔

(۲۵)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد،مرتب: ڈاکٹر مجید اللہ قادری،وجاہت رسول قادری،’’آئینہ رضویات‘‘(جلد اول)،1989ء۔

(۲۶)۔مفتی محمد مکرم احمد دہلوی، ’’ فتاویٰ رضویہ اور فتاویٰ رشیدیہ‘‘، 1990ء۔

(۲۷)۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعوداحمد، ’’ A Baseless Blame‘‘، 1990ء۔

(۲۸)۔پروفیسر ڈاکٹر محمد
👍1
06ء۔

(۱۳۳)۔علامہ ساحل شہسرامی، ’’ملک العلماء‘‘، 2006ء۔

(۱۳۴)۔محمداسلم رضا، ’’حیاۃ الامام احمد رضا (عربی)‘‘2006ء۔

(۱۳۵)۔امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ، مترجم: مولانا خورشیداحمد سعیدی، ’’ Embryology(انگریزی ترجم)، الصمصام علی مشکک فی آیۃ علوم الارحام، 2006ء۔

(۱۳۶)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’تعارف ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل‘‘، 2007ء۔

(۱۳۷)۔پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’اردو تراجم قرآن کاتقابلی مطالعہ‘‘، 2007ء۔

(۱۳۸)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’جدید طریقۂ نعت خوانی۔ تعلیماتِ رضا کی روشنی میں‘‘،2007ء۔

(۱۳۹)۔پروفیسرمجیب احمد، ’’اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اور علمائے کوٹلی، لوہاراں‘‘، 2007ء۔

(۱۴۰)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’Quran,Science and Imam Ahmad Raza‘‘، 2007ء۔

(۱۴۱)۔ڈاکٹرغلام غوث قادری، ’’امام احمد رضا کی انشاء پردازی کی خصوصیات (پی.ایچ.ڈی مقالہ)‘‘،2007ء۔

(۱۴۲)۔ڈاکٹرحافظ عبد الباری صدیقی، ’’حضرت امام احمد رضا خان بریلوی جا حالات، افکار ء اصلاحی کارناما [سندھی] (پی.ایچ.ڈی مقالہ)‘‘، 2007ء۔

(۱۴۳)۔مولانا سید صابر حسین شاہ بخاری، ’’اشاریۂ سالنامہ معارفِ رضا‘‘، 2008ء۔

(۱۴۴)۔صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری، ’’لال قلعہ سے لال مسجدتک‘‘، 2008ء۔

(۱۴۵)۔صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری، پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، پروفیسر دلاور خاں، سلیم اللہ جندران، علامہ خورشید احمد سعیدی، ’’رضویات۔ نئےتحقیقی تناظر میں‘‘، 2008ء۔

(۱۴۶)۔ سلیم اللہ جندران، ’’تعلیمی افکارِ رضا پرتحقیق‘‘، 2009ء۔
مسعوداحمد،(انگریزی ترجمہ: نگار معرفانی) ’’ Neglected Genius of the East‘‘،1991ء۔

(۲۹)۔مولانا کوثر نیازی، ’’Imam Ahmad Raza.A Verstile Personality‘‘، 1991ء۔

(۳۰)۔پروفیسرڈاکٹر محمد مسعوداحمد، (انگریزی ترجمہ: نگار معرفانی)،’’ The Saviour‘‘1991ء۔

(۳۱)۔پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’فقیہِ اسلام بحیثیت عظیم شاعر‘‘، 1991ء۔

(۳۲)۔مولاناکوثر نیازی، ’’امام احمد رضا خاں۔ ایک ہمہ جہت شخصیت‘‘، 1991ء۔

(۳۳)۔مرتب و مدون: مولانا محمد صدیق ہزاروی، ’’حرمت سجدۂ تعظیمی‘‘ (افاداترضا)،1991ء۔

(۳۴)۔مرتب و مدون: مولانا محمد صدیق ہزاروی،’’سنت و بدعت‘‘، 1991ء۔

(۳۵)۔ڈاکٹرسید جمال الدین،ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم،’’مقالات امام احمد رضا اور ابو الکلام کےافکار‘‘، 1991ء۔

(۳۶)۔سیداسماعیل رضا ذبیح ترمذی،’’ جہان شمس بریلوی ‘‘،1992ء۔

(۳۷)۔ڈاکٹرمجید اللہ قادری،وجاہت رسول قادری، ’’صاحبِ فیضِ رضا(تذکرہ سید ریاست علی)‘‘،1992ء۔

(۳۸)۔ڈاکٹرمجید اللہ قادری،محمد صادق قصوری، ’’ تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت ‘‘،1992ء۔

(۳۹)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد،مرتب: عبد الستار طاہر نقشبندی صاحب، ’’آئینہ رضویات۔ جلد دوم‘‘،1993ء۔

(۴۰)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’ محدث بریلوی‘‘، 1993ء۔

(۴۱)۔ڈاکٹرمحمدمسعود احمد،(تعریب: شیخ الحدیث علامہ نصر اللہ خاں صاحب افغانی)،’’ فقیہ العصر(عربی)‘‘، 1993ء۔

(۴۲)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’ عشق ہی عشق‘‘، 1993ء۔

(۴۳)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’ شریعت و طریقت ‘‘، 1994ء۔

(۴۴)۔پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خاں، ’’اعلیٰ حضرت کی نعتیہ شاعری‘‘، 1994ء۔

(۴۵)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’ ارمغانِ رضا (فارسی)‘‘، 1994ء۔

(۴۶)۔علامہ عبد الحکیم شرف قادری، ’’تقدیس الوہیت اور امام احمد رضا‘‘، 1994ء۔

(۴۷)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،(انگریزی ترجمہ:معظم علی)،’’FundamentalFaith of Islam‘‘، 1994ء۔

(۴۸)۔پروفیسرڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’TheReformer of the Muslims World‘‘، 1995ء۔

(۴۹)۔پروفیسرڈاکٹر محمد مسعود احمد،(تعریب: مولانا ڈاکٹر ممتاز احمد سدیدی الازہری)، ’’دورالشیخ احمد رضا(عربی)‘‘1995ء۔

(۵۰)۔السید محمد بن علوی المالکی الحسینی، المولود النبی ﷺ (عربی)، 1995ء۔

(۵۱)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’امام احمد رضا اور علمائے سندھ‘‘، 1995ء۔

(۵۲)۔ امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’البدور فی اوج المجذور‘‘،1996ء۔

(۵۳)۔امام احمدرضا محدث بریلوی، ’’رویت الہلال‘‘، 1996ء۔

(۵۴)۔امام احمدرضا محدث بریلوی، ’’البرھان القویم علی العرض والتقویم‘‘، 1996ء۔

(۵۵)۔امام احمدرضا محدث بریلوی، ’’حاشیہ جامع الافکار‘‘، 1996ء۔

(۵۶)۔امام احمدرضا محدث بریلوی، ’’تاجِ توقیت‘‘، 1996ء۔

(۵۷)۔امام احمدرضا محدث بریلوی، ’’الجلی الحسن فی حرمۃ ولد اخی اللبن‘‘، 1996ء۔

(۵۸)۔شارح: علامہ فیض احمد اویسی، ’’شرح حدائقِ بخشش (جلد دوم)،1996ء۔

(۵۹)۔محمداکبر اعوان،’’شاہ احمد رضا خاں بڑیچ افغانی‘‘، 1996ء۔

(۶۰)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’امام احمد رضا اور علمائے ریاست بہاولپور‘‘، 1996ء۔

(۶۱)۔ڈاکٹرحازم محمد المحفوظ، ’’ بساتین الغفران(الدیوان العربی)‘‘، 1997ء۔

(۶۲)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،’’ الوظیفۃ الکریمۃ(عربی)‘‘، 1997ء۔

(۶۳)۔اقبال احمد اختر القادری، ’’زبان گالھائیی ثیی‘‘، 1997ء۔

(۶۴)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد،(مرتبہ: عبد الستار طاہر نقشبندی)، ’’آئینہ رضویات ۔ جلد سوم‘‘،1997ء۔

(۶۵)۔پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’علامہ شمس بریلوی (تذکرہ)‘‘،1998ء۔

(۶۶)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’صلوٰۃ و سلام‘‘، 1998ء۔

(۶۷)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’معلمِ کائنات‘‘، 1998ء۔

(۶۸)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’ مولود النبی ﷺ(فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)، 1998ء۔

(۶۹)۔امام احمد رضا خاں محدث بریلوی، ’’الکشف شافیہ حکم فونو جرافیا(عربی)‘‘، 1999ء۔

(۷۰)۔علامہ عبد الحکیم شرف قادری، ’’الامام احمد رضا علی میزان الاتقان (عربی)،1999ء۔

(۷۱)۔ڈاکٹر سید محمد بن علامی المالکی، ’’زبدۃ الاتقان فی علوم القران (اردو)‘‘، 1999ء۔

(۷۲)۔ڈاکٹرغلام یحییٰ مصباحی، ’’مولانا احمد رضا خاں کی علمی و ادبی خدمات‘‘، 1999ء۔

(۷۳)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’حیات مولانا احمد رضا خاں بریلوی(جدید ایڈیشن)‘‘، 1999ء۔

(۷۴)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’کنز الایمان اور معروف تراجم قرآن( Ph.Dمقالہ)‘‘، 1999ء۔

(۷۵)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’امام احمد رضا اور علمائے لاہور (بتعاون پروگریسو بک،لاہور)‘‘، 1999ء۔

(۷۶)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’امام احمد رضا اور علمائے ڈیرہ غازی خاں‘‘، (بتعاون رضااسلامک سینٹر، ڈیرہ غازی خاں)، 1999ء۔

(۷۷)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’امام احمد رضا اور علمائے بلوچستان‘‘، (بتعاون بزم عاشقانِ مصطفی)، 1999ء۔

(۷۸)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری،مولانا محمد مسرور احمد’’مجدد الفِ ثانی، امام احمد رضا‘‘،1999ء۔

(۷۹)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’حدائقِ
بخشش‘‘، 1999ء۔

(۸۰)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’ردِّ فلسفہ قدیمہ‘‘، 2000ء۔

(۸۱)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’بلا سود بینکاری‘‘، 2000ء۔

(۸۲)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’کنز الایمان کی عرب دنیا میں پذیرائی‘‘،2000ء۔

(۸۳)۔پروفیسرڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’(TheLight )انگریزی ترجمہ رسالہ ’’اجالا‘‘، 2000ء۔

(۸۴)۔انگریزیترجمہ: بشیر حسین ناظم، ’’Salam-e-Raza‘‘،2001ء۔

(۸۵)۔علامہ عبد الحکیم شرف قادری، ’’تکریمہ ثلاثہ من علماء مصر الازھر(عربی)‘‘، 2001ء۔

(۸۶)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’تذکرہ مولانا سید وزارت رسول قادری‘‘، 2001ء۔

(۸۷)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’امام احمد رضا اور تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت‘‘، 2001ء۔

(۸۸)۔سید وجاہت رسول قادری، ’’تاریخ نعت گوئی میں امام احمدرضا کا مقام‘‘، 2001ء۔

(۸۹)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد،سید وجاہت رسول قادری، ’’دارالعلوم منظر اسلام‘‘، 2001ء۔

(۹۰)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’Imam AhmadRaza Barailvy‘‘2002ء۔

(۹۱)۔رانامحمد دلشاد،’’Concept of aTeacher‘‘،2002ء۔

(۹۲)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’اصلاحِ معاشرہ‘‘، 2002ء۔

(۹۳)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’شبِ برأت کی شخصیات‘‘، 2002ء۔

(۹۴)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’معلم کائنات‘‘، 2002ء۔

(۹۵)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’امن و اخوت کے عظیم داعی‘‘، 2002ء۔

(۹۶)۔ڈاکٹر جلال الدین نوری، ’’تحریک ترکِ تقلید اور فتاویٰ رضویہ‘‘، 2002ء۔

(۹۷)۔پروفیسرانوار احمد زئی، ’’آفتاب آمد دلیل آفتاب‘‘، 2002ء۔

(۹۸)۔سیدوجاہت رسول قادری،’’خانوادۂ نبوت کا اسوۂ حسنہ‘‘، 2003ء۔

(۹۹)۔ سید وجاہت رسول قادری،’’اسلام میں عدل و احسان کا تصور‘‘،2003ء۔

(۱۰۰)۔سید وجاہت رسول قادری،’’امام احمد رضا اور انٹرنیشنل جامعات‘‘، 2003ء۔

(۱۰۱)۔حافظ خواجہ سلطان محمود،غلام حمید الدین سیالوی،’’محاسن کنزالایمان(عربی)‘‘، 2003ء۔

(۱۰۲)۔قاضی السید عتیق الرحمن شاہ بخاری، ’’النثر الفنی(عربی)‘‘، 2003ء۔

(۱۰۳)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، (تعریب: مولانا انوار احمد بغدادی)’’صلاۃ الصفا فی مولودالمصطفیٰ (عربی)‘‘،2003ء۔

(۱۰۴)۔علامہ یٰسین اختر مصباحی، ’’اسلام امن و سلامتی کا پیامبر‘‘، 2003ء۔

(۱۰۵)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’ملفوظات شمس بریلوی‘‘، 2003ء۔

(۱۰۶)۔علامہ محمد ابراہیم خوشتر صدیقی، ’’زادِ راہِ بخشش‘‘، 2003ء۔

(۱۰۷)۔سیدوجاہت رسول قادری، ’’فضائل رمضان‘‘، 2003ء۔

(۱۰۸)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد،(مرتبہ: عبد الستار طاہر نقشبندی)،’’آئینہ رضویات۔ جلد چہارم‘‘، 2004ء۔

(۱۰۹)۔ڈاکٹرمحمد مالک، ’’امام احمد رضا اور علمِ صوتیات‘‘، 2004ء۔

(۱۱۰)۔علامہ عبد الستار ہمدانی برکاتی نوری، ’’فنِ شاعری اورحسان الھند‘‘، 2004ء۔

(۱۱۱)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،تقدیم و ترتیب: مولانا مفتی قاضی شہید عالم رضوی،’’کشف العلۃعن سمت القبلۃ‘‘، 2005ء۔

(۱۱۲)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ترتیب جدید وتخریج: مولانا محمد حنیف خاں رضوی، ’’نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان و معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین‘‘، 2005ء۔

(۱۱۳)۔ڈاکٹر محمد حسن قادری، ’’مولانا نقی علی خاں۔ حیات وعلمی کارنامے (پی.ایچ.ڈی مقالہ)، 2005ء۔

(۱۴)۔عبدالستار طاہر نقشبندی، ’’مکتوبات مسعودی‘‘، 2005ء۔

(۱۱۵)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، مترجم: مولانا محمد ہاشم سومرو،’’امام احمدرضا ء سند جا عالم( سندھی)‘‘، 2005ء۔

(۱۱۶)۔پروفیسرڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’تذکرہ اراکین ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا‘‘، 2005ء۔

(۱۱۷)۔ پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’۲۵؍ سالہ تاریخی و کارکردگی ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا‘‘، 2005ء۔

(۱۱۸)۔پروفیسرڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’خلفائے محدث بریلوی‘‘، 2005ء۔

(۱۱۹)۔ڈاکٹرعبد النعیم عزیزی، ’’اردو نعت گوئی اور فاضل بریلوی‘‘، 2005ء۔

(۱۲۰)۔ڈاکٹرغلام غوث قادری، ’’امام احمد رضا کی انشاء پردازی‘‘، 2005ء۔

(۱۲۱)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’القادیانیۃ‘‘، 2005ء۔

(۱۲۲)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’محمد ﷺ خاتم النبیین‘‘، 2005ء۔

(۱۲۳)۔پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’مختصر تعارف، مطبوعات و کارکردگی‘‘، 2005ء۔

(۱۲۴)۔مولانامشتاق احمد شاہ الازہری، ’’الامام احمد رضا خاں وأثرہ فی الفقہ الحنفی (عربی)‘‘،2005ء۔

(۱۲۵)۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’الشیخ احمد رضا خاں البریلوی (عربی)‘‘، 2005ء۔

(۱۲۶)۔ڈاکٹرمحمود حسین بریلوی، ’’مولانا احمد رضا خاں کی عربی زبان و ادب کی خدمات‘‘، 2005ء۔

(۱۲۷)۔ڈاکٹرمحمد امام الدین جوہر شفیع آبادی، ’’حضرت رضا بریلوی بحیثیت شاعر نعت‘‘، 2005ء۔

(۱۲۸)۔الطاف حسین سعیدی، ’’حسام الحرمین کے سو (۱۰۰)سال‘‘،2005ء۔

(۱۲۹)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،’’A FairSuccess refuting Motion of Earth‘‘، 2005ء۔

(۱۳۰)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،’’Hussam-ul-Harmain‘‘، 2005ء۔

(۱۳۱)۔ڈاکٹرمحمد مالک، ’’Sceintific Work ofImam Ahamad Raza‘‘، 2005ء۔

(۱۳۲)۔محمد بہاء الدین شاہ، ’’امام احمد رضا بریلوی اورعلمائے مکہ مکرمہ‘‘، 20
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عالمِ اجل مولانانثاراحمدمصباحی مدظلہ العالی کی وال سے(سیٹنگ کی تبدیلی کے ساتھ):

متکلم عصر،شیخ سعید فودة حفظہ اللّٰہ،"العقیدة الطحاویة" کی اپنی مفصل شرح "الشرح الکبیر"میں امام اہل سنت اعلی حضرت کے حوالے سے"خاتم النبیین"کا مفہوم بیان کرتے ہوۓ لکھتے ھیں:

"وقد توجه سؤال للعلامة أحمد رضا خان البريلوي بهذا الخصوص، فقال:
إن خاتم النبيين وسيد المرسلين صلى الله عليه وسلم خاتمٌ لجميع الأنبياء والمرسلين، بمعنى:آخرُهم بعثاً، بحيث لا يقبل أيَّ تأويل وتخصيص، وإنّ هذه لعقيدةٌ مما عُلم من الدين بالضرورة، فإن جاحدَها والشاكَّ فيها مهما كان الشك ضعيفاً كافرٌ مرتدٌّ ملعون، وإن هذه الأمة المرحومة قاطبةً سلفاً وخلفاً ما زالت تفهم هذا المعنى بأن سيدنا المصطفى صلى الله عليه وسلم آخرٌ لجميع الآنبياء بلا تخصيص، ومن المستحيل أن يكون نبيٌّ في عهده أو بعد عهده إلى أن تقوم الساعة"
(شرح الكبير على عقيدة الطحاوية، ص ٥٠٩)
(ترجمہ از فاضلِ اجل حضرت مولانانثاراحمدمصباحی مدظلہ العالی)
ترجمہ:
"علامہ احمد رضا خاں بریلوی کے پاس اس (ختمِ نبوت) کے بارے میں سوال آیا تو آپ نے (جواب) میں فرمایا :
بے شک خاتم النبیین اور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیا و مرسلین کے خاتم ہیں. اور خاتم ہونے کا معنی ہے کہ آپ بعثت میں سب سے آخری ہیں. اس طرح کہ اس میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں ہو سکتی. اور یہ عقیدہ ضروریاتِ دین میں سے ہے. اس کا منکِر اور اس میں شک کرنے والا کافر و مرتد و ملعون ہے, اگرچہ شک کتنا ہی ضعیف کیوں نہ ہو. اور یہ پوری امتِ مرحومہ سلَف سے لے کر خلف تک اس معنے سے یہی سمجھتی رہی ہے کہ ہمارے آقا مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بلا تخصیص تمام نبیوں میں سب سے آخری ہیں. اور یہ محال ہے کہ آپ کے زمانے میں یا آپ کے زمانے کے بعد قیامت تک کوئی اور نبی ہو سکے."

(الشرح الکبیر علی العقیدۃ الطحاویہ, ص 509)
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
رافضیت و ناصبیت

رافضیت اہلبیت کی محبت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ بُغضِ صحابہ کا نام ہے.
اسی طرح ناصبیت محبتِ صحابہء کرام کا نام نہیں بلکہ بُغضِ اہلِ بیتِ اطہار کا نام ہے
بعض افراد امام شافعی بننے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے اندر کی خباثت اور رافضیت کا ملبہ اٹھا کہ ان پر پھینکتے ہوئے اس فرمان کی آڑ میں چھپتے ہیں کہ آپ نے اپنے دیوان میں فرمایا

ان كان رفضا حب ال محمد : فليشهد الثقلان اني رافضي

اگر رفض اہلبیت کی محبت کا نام ہے تو جن و انس گواہ ہو جائیں کہ میں رافضی ہوں

آئے روز کوئی نہ کوئی پیر صاحب یا سید صاحب یہ بات اپنی طرف سے لکھ خود کو بڑا تیس مار خان سمجھتا ہے کہ میں نے بہت بڑا کام کیا ہے
تو پہلی بات کہ یہ قدرے مشکل ہے کہ آپ ثابت کر سکیں کہ شعر امام شافعی کے ہیں اور بالفرض اگر یہ امام شافعی کے ہی منسوب کیے جائیں تو آپکے اسی دیوان میں یہ اشعار بھی موجود ہیں

إذا نحنُ فضلنا علياً فإنَّنا روافضُ بالتفصيلِ عندَ ذوي الفضلِ
وفَضْلُ أَبي بَكْرٍ إذَا مَا ذَكَرْتُهُ رُمِيتُ بنصْب عِنْدَ ذِكريَ للفَضْلِ
فَلاَ زِلْتُ ذَا رَفْضٍ وَنَصْبٍ كِلاَهُمَا بحبَّيهِما حَتَّى أُوسَّدَ فِي الرَّمْلِ

اگر ہم علی پاک کی فضیلت بیان کرتے ہیں تو لوگ ہمیں رافضی کہتے ہیں
اگر ہم صدیق اکبر کا ذکر کرتے ہیں تو لوگ ہمیں ناصبی کہتے ہیں
میں رافضیت اور ناصبیت کو موت تک گلے لگا کر رکھوں گا

یعنی میں لوگوں کی بکواس سے اپنا عقیدہ نہیں چھوڑ سکتا
تا دمِ آخر صدیق اکبر اور حیدرکرار کی محبت میں رہوں گا

ثابت ہوا کہ امام شافعی نہ رافضی عقائد رکھتے نہ وہ رافضی تھے
جس طرح اہلبیت اطہار کی محبت پر ان رافضی ہونے کا بہتان لگا یونہی ان پر صحابہ اکرام کی محبت کیوجہ سے خارجی ہونے کا الزام بھی لگا
اب اُن سادات اور پیروں سے گزارش ہے کہ یہ نعرہ بھی لگایا کریں کہ
اگر صحابہ اکرام کی محبت ناصبیت ہے تو ہاں ہم ناصبی ہیں

مگر ایرانی مال کی ایسی لت لگی ہے کہ اب تو ان سنی نما شیعہ خطیبوں اور پیروں کے سامنے صحابہ اکرام کا نام آتے ہی انکے چہرے کا رنگ اڑ جاتا ہے اور ڈھکے چھپے وار کر کے زبانوں کو دراز کرتے ہیں اور تنقیص و توہین کے رستے کھولتے ہیں اور اہلبیت اطہار کے نام پر بلیک میل کرکے عقائد اہلسنت پر حملے کرتے ہیں

یونہی ایک ٹولہ ایسا ہے جو سعودی ریال حلال کرنے کے چکر میں ہے جنکے وجود کی رگ رگ میں ناصبیت سرائیت کر چکی ہے جن کے سامنے سیدنا مولا علی پاک کا نام لیا جائے تو انکو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ انکی ماں ہی مر گئی ہے
انکے رنگ ذکر حسین سے زرد پڑ جاتے ہیں
اور ٹھیکہ لیا ہوا عظمت صحابہ اکرام کا
افضل البشر بعداز انبیاء ابوبکر صدیق سمیت ایک لاکھ سے زائد صحابہ عظمت اہلبیت بیان کرتے رہے

الحمد للہ ہم اہلبیت اطہار سے محبت و مؤدت رکھتے ہیں
اہلبیت اطہار ہمارا ایمان ہیں
انکا ذکر ہم عبادت سمجھ کر کرتے ہیں
شیخ مجدد الف ثانی احمد سرہند فاروقی فرماتے ہیں کہ
محبت اہلبت علامت اہلسنت ہے
اور ہم صحابہ اکرام کے نوکر ہیں
انکی عظمت کا پرچم اللہ اور اللہ کے رسول نے بلند فرمایا

الحمد للہ ہم اہلسنت ہیں ۔ نہ ہم رافضی ہیں نہ ہم ناصبی
اور نہ ہمیں یہ دونوں قبول ہیں

اہلبیت اطہار سے محبت ہے تو صرف مصطفی کی محبت کی وجہ سے
صحابہ اکرام سے محبت تو صرف نسبت مصطفی کی وجہ سے
دونوں میرے آقا کے پیارے ہیں
ایک ناؤ ہیں تو دوسرے نجم

اعلیحضرت فرماتے ہیں
اہلسنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

مجنون الحسین سید عقیل بن اسد ✍🏼
14/09/019
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قبلہ استاد گرامی رحمہ‌اللہ نے تجوید پڑھانی شروع کی تو ہمیں فرمایا:

" سارے قرآن میں صرف 29 حروف استعمال ہوئے ہیں ، جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
تم روزانہ ایک حرف کا‌ بھی تلفظ درست کر لو تو 29 دنوں میں تمھارا سارے قرآن کا تلفظ ٹھیک ہوجائے گا ۔ "

ہم دنیا جہان کی کسی بھی چیز کا نام لے لیں ، اس میں وہی حروف آئیں گے جو الف سے لے کر ی تک ہیں ۔
گویا سارے جہان کی چیزیں انھی حروف میں مَحصُور ( گِھری ہُوئی ) ہیں ۔

کسی شاعر نے اِسی نسبت کے پیشِ نظر ایک تخیل پیش کیا ہے کہ:

سیدنا ابو بکر صدیق کا نامِ پاک " الف " سے شروع ہوتا ہے ، اور سیدنا علی کریم کا نامِ پاک " ی " پر ختم ہوتا ہے ۔
جس طرح الف حروف تہجی میں پہلا حرف ہے ، اسی طرح ابوبکر صدیق چاروں خلفا میں پہلے ہیں ؛ اور جس طرح ی آخری حرف ہے ، اسی طرح علی پاک آخری خلیفہ ہیں ۔

اب ابوبکر کے الف ، اور علی کی ی میں " جہانِ ایمان " گِھرا ہوا ہے ، مسلمان اس سے نکل سکتا ہی نہیں ؛
جیسے کوئی بھی لفظ الف تا ی سے نہیں نکل سکتا ۔

اب قطعہ ملاحظہ کریں ؏

اَبوبکر یَک سُو ، علی ایک جانِب
کہ مَحصور ہے جن میں ساری خُدائی

یہ تَشبِیہ ہے واقعی تو جگہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔
" الف " اور " یے " نے یہ ترتیب پائی

وہ اَول خلیفہ کے " اول " میں آیا
یہ آخِر خلیفہ کے " آخِر" میں آئی

✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کل ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی ، بہت پریشان تھا ۔
سبب پوچھا تو کہنے لگا:

" مجھے ایک ضرورت پیش آگئی ، میں نے اپنے اُن دوستوں سے مدد مانگی جن سے مجھے ناں کی امید ہی نہیں تھی ، لیکن کسی نے میری مدد نہیں کی ۔
میں ایم فل کرکے دوبئی گیا تھا ، وہاں ملازمت نہیں مل رہی تھی تو میں نے تین روزے رکھے ، ہر افطاری کے بعد صدقہ دیا اور تین دن میں قرآن پاک مکمل کرکے دعا کی تو الاتحاد بینک میں آٹھ ہزار درہم پر جاب ملی گئی ۔
اُس وقت میں نے اپنے اِن دوستوں کے ساتھ بہت تعاون کیا ، لیکن آج یہ میرے کام نہیں آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی اچھی نوکری بھی میں نے ایک دوست کی وجہ سے ہی چھوڑی تھی ، جو کہ حقیقتاً میرا دوست نہیں نکلا ۔ "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🌹 جس طرح ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ، اِسی طرح ہر دوست کہلانے والا دوست نہیں ہوتا ۔
اچھے تعلقات سب سے رکھیں ، لیکن ہر کسی کو دوست نہ سمجھ لیا کریں ۔

🌹 ساری دنیا آپ کی دوست ہو ، یہ ضروری نہیں ؛ آپ کا دوست ایسا ہونا چاہیے جو آپ کے حق میں دنیا جہان سے اچھا ہو ۔

🌹 دوست مشکل‌ وقت میں ساتھ نہیں چھوڑتے ، ساتھ نبھاتے ہیں ۔
مشکل‌ میں ہی مخلص دوستوں کی پہچان ہوتی ہے ، آسانی میں تو سارا جہان ہی دوستی کا دعویدار ہوتا ہے ۔

🌹 میں قربان ! جب بے سر و سامانی کے عالم میں ، رحمت عالم ﷺ کا مُسلّح دشمن سے سامنے ہوگیا تھا تو آپ کے اصحاب نے عرض کی تھی :

نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ ۔

حضور ( اِس بے سرو سامانی کے عالم میں بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ) ہم آپ کے دائیں بائیں ، اور آگے پیچھے سے دشمنوں کو مار بھگائیں گے ۔

( صحیح بخاری ، ر 3952 )

وفا کی یہ بہترین مثال ہمیں دیگر چیزیں سکھانے کے ساتھ ، دوستی کے آداب بھی سکھاتی ہے ۔

رب تعالیٰ ہمیں مخلص دوست بننے کی توفیق بخشے اور مخلص دوست ہی ہمیں نصیب کرے !

✍️لقمان شاہد
16-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#اتحاد_بین_الحق_والباطل

باطل فرقوں سے اتحاد ایسا ہی ناممکن ہے جیسے: "پاک پانی" اور "شراب" میں اتحاد ناممکن ہے.

کیوں کہ جیسے ہی "شراب" کا ایک قطرہ "پاک پانی" سے مس ہوگا اسے نجس کردے گا، اسی طرح یہ اتحاد بھی صرف سنیوں کو ہی نقصان پہنچائے گا۔ کیوں کہ فرق تو پاک شے کو پڑتا ہے ناپاک کے مل جانے سے ناپاک کو فرق نہیں پڑتا۔

انہیں کیا فرق پڑے گا جو پہلے ہی سے بے راہ ہیں، فرق تو ان کو پڑے گا جو راہ پر تھے اور غلط رفیق سفر چن کر اپنے اہل قافلہ ہو ہلاکت میں ڈالیں۔

آج کل جو خود راہ پر نہیں ہیں وہ ہادی بننے کی کوشش کررہے ہیں۔
اور جب بے راہ ہادی ہوگا تو قافلہ وہیں پہنچے گا جہاں ابلیس کی منزل ہے۔

اللہ ایسے بے راہ سالار قافلہ سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھے۔

محمد شاہد علی مصباحی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مبسملا وحامدا::ومصلیاومسلما
#ڈیجیٹل_لائبریری_اور_ڈیجیٹل_ایڈیشن

پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا نے دھوم مچایا۔اب دنیا بھر میں ڈیجیٹل میڈیا کی حکمرانی ہے۔ دس سال اور گزرنے دیں،الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی قبولیت کا دائرہ حددرجہ محدود ہوجائے گا۔

پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی طرح تحریری مواد کی اشاعت بھی دوقسم کی ہوتی ہے۔ پرنٹ ایڈیشن اور ڈیجیٹل ایڈیشن۔اب ڈیجیٹل میڈیا کی طرح ڈیجیٹل ایڈیشن کو ترجیح دی جارہی ہے۔بہت سے نیوز پیپر اور میگزین جو پہلے پرنٹ ہوتے تھے،اب اس کا صرف ڈیجیٹل ایڈیشن دستیاب ہے۔پرنٹ ایڈیشن موقوف کیاجا چکا ہے۔

یہ خبر بھی گشت کررہی ہے کہ دنیا بھر میں کرنسی بھی ڈیجیٹل ہوجائے گی،اور پرنٹیڈکرنسی یعنی کاغذات کے نوٹ کو معطل کر دیا جائے گا۔

علو م مشرقیہ کے فضلائے گر امی ڈیجیٹل میڈیا کے عہد میں بھی پرنٹ میڈیا کو ترجیح دیتے ہیں اور ڈیجیٹل میڈیا سے استفادہ اور اس کے ذریعہ افادہ کی کوششوں میں بہت پیچھے ہیں،حالاں کہ وہ ڈیجیٹل میڈیا کو ذریعہ بناکراپنی تحریر وتقریر کے ذریعہ امت مسلمہ کو فائدہ پہنچا سکتے تھے،مگر ان کی تحریر سے دنیا اس وقت آشنا ہوگی،جب وہ پرنٹ ہوگی اور ان کی تقریر سے اسی وقت استفادہ ہوسکے گا،جب جلسے کااسٹیج سجے گا۔

حق تو یہ ہے کہ نہ سب کی کتابیں چھپ پاتی ہیں اورنہ سب کوجلسوں میں مدعو کیا جاتا ہے۔ کتابیں اسی کی چھپیں گی،جس کا ربط وتعلق ارباب ثروت سے ہو،کیوں کہ کتابوں کی طباعت میں کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔جلسوں میں اسی کو مدعو کیا جائے گا جس کو سامعین پسند کرتے ہوں۔

سامعین کا ذوق اور ان کی پسند بھی ناقابل فہم ہے۔

عہد حاضر میں قارئین بھی مطبوعہ کتب ورسائل خریدنا نہیں چاہتے۔ ہرایک کے پاس موبائل ہے۔ضرورت کی کتابیں،رسائل ودیگر مواد وہ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل لائبریری سے حاصل کرلیتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ کوئی محقق بھی اس قدر کتابیں خرید نہیں سکتا، جتنی کتابوں کی اسے ضرورت پڑتی ہے۔ پہلے محققین کو بھی لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے تھے،جس میں اخراجات بھی کثیر اور وقت کی بھی ضرورت ہوتی تھی۔

ڈیجیٹل لائبریری اورڈیجیٹل میڈیا پر آپ کوکتابیں بھی آسانی کے ساتھ دستیاب ہوجائیں گی اور مطلوبہ عبارت بھی آسانی کے ساتھ تلاش کرسکتے ہیں۔اس میں آپ کا وقت بھی کم صرف ہوتا ہے۔

بہت سے علما ئے کرام محنت ومشقت کے ساتھ علمی وتحقیقی کتب ورسائل تحریر فرماتے ہیں،پھر ارباب ثروت کی کرم فرمائی کے منتظر رہتے ہیں۔ایک کتاب کی طباعت کے لیے انہیں برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کبھی وہ کتاب مسودہ کی شکل میں ہی رہ جاتی ہے اور مصنف کی وفات کے بعدبہت سی کتابیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔

اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی متعددکتب ورسائل مفقود ہیں۔اسی طرح متقدمین کی بھی بے شمار کتابوں کے صرف نام موجود ہیں۔

عہد حاضر میں ارباب علم ودانش کے لیے ڈیجیٹل لائبریری اور ڈیجیٹل میڈیا ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ اپنی کتب ورسائل،مضامین ومقالہ جات ڈیجیٹل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے اس کومحفوظ کرسکتے ہیں اور ساری دنیا کو اپنی تحریروں سے استفادہ کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔

اگر وہ دینی ومذہبی تحریر ہے کہ جس کی تبلیغ واشاعت پر ثواب ہے تو آپ کو ثواب بھی ملے گا۔اگر آپ نے کچھ رقم فرما کر اپنی الماری میں محفوظ کردیا ہے اور لوگ اس سے استفادہ نہیں کرپارہے ہیں توتحریر وتصنیف کا ثواب ہو گا،لیکن تبلیغ واشاعت کا ثواب نہیں مل سکے گا۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ اپنی تحریروں کوقابل استفادہ بنائیں اور ثواب کمائیں۔

آپ ڈیجیٹل ایڈیشن کو بہت اسانی کے ساتھ ساری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔مطبوعہ کتابیں ساری دنیا تک نہیں پہنچا سکتے،بلکہ اپنی ریاست بھر میں پہنچانا بھی مشکل ہوتاہے۔

آپ اپنی شخصیت کو افادہ بخش بنائیں اور قوم کو استفادہ کا موقع مہیا کریں۔
اب کرنسی بھی ڈیجیٹل ہونے والی ہے اور ہمارے فضلائے مدارس اپنی کتابوں کی طباعت کے لیے غیر وں کے رحم وکرم کے سراپامنتظر بیٹھے ہیں۔

ڈیجیٹل ایڈیشن سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ غلطیوں کی اصلاح آسان ہے۔ مطبوعہ کتابوں میں تصحیح کے لیے طبع مابعد کا انتظار کرنا پڑتا تھا،یا قارئین کومطلع کرنا ہوتا تھا،تاکہ وہ تصحیح کرلیں۔

طارق انور مصباحی
روشن مستقبل دہلی

جاری کردہ:14:ستمبر 2020