Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 8 (عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے) (صندوق میں میرے کپڑے گیلے...) اس لڑکی نے اس ملازم سے کہا کہ اے استاد! آپ نے ہمارا اتنا قیمتی کپڑا اور عرق گلاب (گلاب کے پانی) کو برباد کر دیا۔ یہ…
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 9
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(اب محل سے باہر جانا تھا...)
مجھے پھر صندوق میں بٹھا کر حیلے سے باہر نکالا گیا اور اپنے گھر لوٹ کر میں نے صدقہ خیرات کیا (جان جو بچ گئی تھی) پھر کئی دنوں بعد ایک خادم میرے پاس خوب سارا سونا لے کر آیا اور مجھے بادشاہ کی ماں کا فرمان سنایا کہ یہ رقم لے لو اور اس سے لباس، سواریاں، نوکر چاکر اور ظاہری ٹھاٹ باٹھ کے لیے جو کچھ درکار ہے سب خرید لو اور جب بادشاہ کی کھلی کچہری لگتی ہے تو لوگ آتے ہیں، تم بھی آ جانا اور اس وقت تک وہیں رہنا جب تک تمھیں بلایا نہ جائے۔ بادشاہ نے تمھاری شادی کو تسلیم فرما لیا ہے۔
میں نے مال خریدنا شروع کر دیا اور جس دن بلایا گیا تھا، خوبصورت انداز میں سوار ہو کر گیا۔ لوگ بادشاہ کے پاس جا رہے تھے اور میں باہر کھڑا تھا یہاں تک کہ مجھے بلایا گیا اور میں بھی داخل ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ بادشاہ، جج حضرات اور شاہی خاندان کے عظیم لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں یہ مجلس دیکھ کر گھبرایا پھر مجھے بتایا گیا کہ بادشاہ کو اس طرح سلام کرو تو میں نے سلام کیا پھر مجھ سے ایجاب و قبول کرایا گیا۔ پھر میں اس مجلس سے باہر آیا تو مجھے ایک بڑے گھر کی طرف لے جایا گیا۔ اس گھر میں قیمتی قالین بچھی ہوئی تھی، ضروریات کا سامان بھی تھا اور خدمت گار بھی موجود تھے۔ میں نے ایسا خوبصورت سماں کبھی نہ دیکھا تھا۔
مجھے اس گھر میں اکیلا بٹھا دیا گیا، سب مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ میں وہاں کافی دیر تک رہا اور کسی ایسے شخص کو نہ دیکھا جسے میں جانتا تھا۔ میں وہاں سے کہیں نہیں گیا سوائے نماز ادا کرنے کی جگہ کے۔
نوکر چاکر آنا جانا کر رہے تھے اور کھانے کا بہت بڑا انتظام تھا۔ میں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آج فلاں (میری والی کا نام) اور کپڑے کے تاجر کی شب زفاف ہے اور میں خوشی کے مارے کچھ بول نہیں پا رہا تھا۔ جب رات ہوئی تو بھوک نے مجھے نڈھال کر دیا اور دروازوں پر تالے پڑ چکے تھے۔ میں گھر میں چکر کاٹنے لگا کہ میری نظر باورچی خانے پر پڑ گئی۔ میں نے وہاں پر باورچیوں کو بیٹھا ہوا دیکھا تو ان سے کھانا مانگا۔ انھوں نے مجھے نہیں پہچانا... جاری...
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(اب محل سے باہر جانا تھا...)
مجھے پھر صندوق میں بٹھا کر حیلے سے باہر نکالا گیا اور اپنے گھر لوٹ کر میں نے صدقہ خیرات کیا (جان جو بچ گئی تھی) پھر کئی دنوں بعد ایک خادم میرے پاس خوب سارا سونا لے کر آیا اور مجھے بادشاہ کی ماں کا فرمان سنایا کہ یہ رقم لے لو اور اس سے لباس، سواریاں، نوکر چاکر اور ظاہری ٹھاٹ باٹھ کے لیے جو کچھ درکار ہے سب خرید لو اور جب بادشاہ کی کھلی کچہری لگتی ہے تو لوگ آتے ہیں، تم بھی آ جانا اور اس وقت تک وہیں رہنا جب تک تمھیں بلایا نہ جائے۔ بادشاہ نے تمھاری شادی کو تسلیم فرما لیا ہے۔
میں نے مال خریدنا شروع کر دیا اور جس دن بلایا گیا تھا، خوبصورت انداز میں سوار ہو کر گیا۔ لوگ بادشاہ کے پاس جا رہے تھے اور میں باہر کھڑا تھا یہاں تک کہ مجھے بلایا گیا اور میں بھی داخل ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ بادشاہ، جج حضرات اور شاہی خاندان کے عظیم لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں یہ مجلس دیکھ کر گھبرایا پھر مجھے بتایا گیا کہ بادشاہ کو اس طرح سلام کرو تو میں نے سلام کیا پھر مجھ سے ایجاب و قبول کرایا گیا۔ پھر میں اس مجلس سے باہر آیا تو مجھے ایک بڑے گھر کی طرف لے جایا گیا۔ اس گھر میں قیمتی قالین بچھی ہوئی تھی، ضروریات کا سامان بھی تھا اور خدمت گار بھی موجود تھے۔ میں نے ایسا خوبصورت سماں کبھی نہ دیکھا تھا۔
مجھے اس گھر میں اکیلا بٹھا دیا گیا، سب مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ میں وہاں کافی دیر تک رہا اور کسی ایسے شخص کو نہ دیکھا جسے میں جانتا تھا۔ میں وہاں سے کہیں نہیں گیا سوائے نماز ادا کرنے کی جگہ کے۔
نوکر چاکر آنا جانا کر رہے تھے اور کھانے کا بہت بڑا انتظام تھا۔ میں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آج فلاں (میری والی کا نام) اور کپڑے کے تاجر کی شب زفاف ہے اور میں خوشی کے مارے کچھ بول نہیں پا رہا تھا۔ جب رات ہوئی تو بھوک نے مجھے نڈھال کر دیا اور دروازوں پر تالے پڑ چکے تھے۔ میں گھر میں چکر کاٹنے لگا کہ میری نظر باورچی خانے پر پڑ گئی۔ میں نے وہاں پر باورچیوں کو بیٹھا ہوا دیکھا تو ان سے کھانا مانگا۔ انھوں نے مجھے نہیں پہچانا... جاری...
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 10
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(باورچی نے مجھے نہیں پہچانا...)
اور کسی ملازم کے حوالے کر دیا جس نے مجھے اتنے عظیم کھانوں میں سے صرف دو روٹیاں لا کر دیں جن کو میں نے کھا لیا اور باورچی خانے میں موجود پانی سے ہاتھ دھو لیا اور سوچا کہ صاف ہو گئے ہیں اور اپنی جگہ لوٹ آیا۔
اچانک شہنائی کی آواز سنائی دی اور دروازے کھول دیے گئے اور میں نے دیکھا کہ میری محبت کو میرے پاس لایا جا رہا ہے۔ وہ اسے لے کر آئے اور میرے پاس بٹھا دیا۔ میں تو اتنا خوش تھا کہ اسے خواب سمجھ رہا تھا پھر اسے میرے پاس چھوڑ کر سب رخصت ہو گئے۔
جب ہم اکیلے ہوئے تو میں آگے بڑھا اور اس کو بوسہ دیا۔ اس نے مجھے بوسہ دیا اور میری داڑھی کو سونگھا تو دھکا دے کر بستر سے نیچے گرا دیا اور کہنے لگی کہ مجھے نہیں لگتا تھا کہ تو ایسا ہے، پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور اس سے لپٹ گیا۔ وہ جانے لگی تو میں نے اس کے پاؤں چومے، زمین چومی اور پوچھا کہ مجھے میرا گناہ تو بتا دو (پیار کیا کیا نہ کروائے) اس نے کہا کہ تم نے کھانا کھایا اور ہاتھ تک نہیں دھوئے۔
میں نے اسے اپنا سارا قصہ سنایا (مگر عورتوں کے نخرے...) پھر میں نے کہا کہ مجھے یہ قسم ہے اور یہ قسم ہے اور میں نے اس کی طلاق کا حلف اٹھا لیا اور اپنے مال کے صدقہ کرنے کا اور اس مال کا بھی جس کا میں کبھی مالک بنوں اور پیدل حج کرنے کا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے کا حلف اٹھایا اور ہر وہ قسم کھائی جو مسلمان کھایا کرتے ہیں (پیار کیا کیا نہ کروائے) میں نے قسم کھائی کہ دیکیریکہ (ایک قسم کا کھانا) نہیں کھاؤں گا، اگر کھاؤں گا تو چالیس مرتبہ اپنا ہاتھ دھوؤں گا۔ یہ سن کر وہ مسکرانے لگی اور زور سے بولی:
اے باندیوں! (تو دس کے قریب خادمائیں حاضر ہو گئیں) کچھ لاؤ، ہم کھانا کھائیں گے تو میرے سامنے بہت خوبصورت قسم کے کھانے لائے گئے۔ ہم نے ان کو کھایا اور ہاتھ دھوئے پھر اس نے پینے کی چیز طلب کی تو ہم نے پیا پھر ہم بستر پر چلے گئے۔ میں نے وہ رات بادشاہوں کی رات کی طرح گزاری اور ایک ہفتے تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے۔ پھر... جاری...
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(باورچی نے مجھے نہیں پہچانا...)
اور کسی ملازم کے حوالے کر دیا جس نے مجھے اتنے عظیم کھانوں میں سے صرف دو روٹیاں لا کر دیں جن کو میں نے کھا لیا اور باورچی خانے میں موجود پانی سے ہاتھ دھو لیا اور سوچا کہ صاف ہو گئے ہیں اور اپنی جگہ لوٹ آیا۔
اچانک شہنائی کی آواز سنائی دی اور دروازے کھول دیے گئے اور میں نے دیکھا کہ میری محبت کو میرے پاس لایا جا رہا ہے۔ وہ اسے لے کر آئے اور میرے پاس بٹھا دیا۔ میں تو اتنا خوش تھا کہ اسے خواب سمجھ رہا تھا پھر اسے میرے پاس چھوڑ کر سب رخصت ہو گئے۔
جب ہم اکیلے ہوئے تو میں آگے بڑھا اور اس کو بوسہ دیا۔ اس نے مجھے بوسہ دیا اور میری داڑھی کو سونگھا تو دھکا دے کر بستر سے نیچے گرا دیا اور کہنے لگی کہ مجھے نہیں لگتا تھا کہ تو ایسا ہے، پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور اس سے لپٹ گیا۔ وہ جانے لگی تو میں نے اس کے پاؤں چومے، زمین چومی اور پوچھا کہ مجھے میرا گناہ تو بتا دو (پیار کیا کیا نہ کروائے) اس نے کہا کہ تم نے کھانا کھایا اور ہاتھ تک نہیں دھوئے۔
میں نے اسے اپنا سارا قصہ سنایا (مگر عورتوں کے نخرے...) پھر میں نے کہا کہ مجھے یہ قسم ہے اور یہ قسم ہے اور میں نے اس کی طلاق کا حلف اٹھا لیا اور اپنے مال کے صدقہ کرنے کا اور اس مال کا بھی جس کا میں کبھی مالک بنوں اور پیدل حج کرنے کا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے کا حلف اٹھایا اور ہر وہ قسم کھائی جو مسلمان کھایا کرتے ہیں (پیار کیا کیا نہ کروائے) میں نے قسم کھائی کہ دیکیریکہ (ایک قسم کا کھانا) نہیں کھاؤں گا، اگر کھاؤں گا تو چالیس مرتبہ اپنا ہاتھ دھوؤں گا۔ یہ سن کر وہ مسکرانے لگی اور زور سے بولی:
اے باندیوں! (تو دس کے قریب خادمائیں حاضر ہو گئیں) کچھ لاؤ، ہم کھانا کھائیں گے تو میرے سامنے بہت خوبصورت قسم کے کھانے لائے گئے۔ ہم نے ان کو کھایا اور ہاتھ دھوئے پھر اس نے پینے کی چیز طلب کی تو ہم نے پیا پھر ہم بستر پر چلے گئے۔ میں نے وہ رات بادشاہوں کی رات کی طرح گزاری اور ایک ہفتے تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے۔ پھر... جاری...
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 11
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(اب محل سے رخصت ہونے کی باری آئی...)
وہاں سے جانے کا وقت آیا تو بادشاہ کی ماں نے کافی سامان اور سونا دیا۔ اس لڑکی، جو اب میری بیوی تھی، نے کہا کہ آج تک بادشاہ کی ماں نے کسی کے لیے ایسا نہیں کیا جیسا میرے لیے کیا ہے کیوں کہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں۔ اب تم جاؤ اور اس مال سے ایک شاندار مکان خریدو جس میں بہت بڑا باغ ہو اور بہت سے کمرے ہوں اور جب منتقل ہو جاؤ تو مجھے خبر کر دینا تاکہ میں بھی وہاں آ جاؤں۔
میں نے ایک مکان خریدا اور اپنی بیوی کو خبر کی تو وہ تمام نعمتیں اٹھا کر لے آئی اور یہ جتنی بھی چیزیں دکھائی دے رہی ہیں، سب اسی کی لائی ہوئی ہیں۔ وہ میرے ساتھ اتنے سالوں تک زندہ رہی اور میں اس کے ساتھ بادشاہوں جیسے عیش میں رہا لیکن میں اس کے باوجود تجارت بھی کرتا رہا، اس طرح میرا مال بڑھ گیا اور عظمت بلند ہو گئی۔ یہ جو بچے ہیں، اسی سے ہیں اور اب وہ نہیں رہی لیکن اس سبزی کی تلخی ابھی تک باقی ہے جس کی وجہ سے تم نے مجھے چالیس مرتبہ ہاتھ دھوتے ہوئے دیکھا۔
(علامہ ابن جوزی، ذم الھوی، ملخصاً)
اس روایت کو عام فہم انداز میں پیش کرنے کے لیے ہم نے مکمل واقعے کا خلاصہ نقل کیا ہے اور ضرورتاً کمی بیشی بھی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ذن الھوی میں درج کیا ہے۔ اس میں جس بادشاہ کا ذکر ہوا وہ خلیفہ مقتدر باللہ ہے۔ اس کہانی اور عاشقوں کی ایسی کئی کہانیاں ہیں جن سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے۔ عشق ہو جانے کے بعد عاشقوں کا حال ایک کتے سے بھی برا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے عشق کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے جیسا کہ مذکورہ واقعے میں اس تاجر شخص نے کیا کیا نہیں کیا۔
جاری...
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(اب محل سے رخصت ہونے کی باری آئی...)
وہاں سے جانے کا وقت آیا تو بادشاہ کی ماں نے کافی سامان اور سونا دیا۔ اس لڑکی، جو اب میری بیوی تھی، نے کہا کہ آج تک بادشاہ کی ماں نے کسی کے لیے ایسا نہیں کیا جیسا میرے لیے کیا ہے کیوں کہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں۔ اب تم جاؤ اور اس مال سے ایک شاندار مکان خریدو جس میں بہت بڑا باغ ہو اور بہت سے کمرے ہوں اور جب منتقل ہو جاؤ تو مجھے خبر کر دینا تاکہ میں بھی وہاں آ جاؤں۔
میں نے ایک مکان خریدا اور اپنی بیوی کو خبر کی تو وہ تمام نعمتیں اٹھا کر لے آئی اور یہ جتنی بھی چیزیں دکھائی دے رہی ہیں، سب اسی کی لائی ہوئی ہیں۔ وہ میرے ساتھ اتنے سالوں تک زندہ رہی اور میں اس کے ساتھ بادشاہوں جیسے عیش میں رہا لیکن میں اس کے باوجود تجارت بھی کرتا رہا، اس طرح میرا مال بڑھ گیا اور عظمت بلند ہو گئی۔ یہ جو بچے ہیں، اسی سے ہیں اور اب وہ نہیں رہی لیکن اس سبزی کی تلخی ابھی تک باقی ہے جس کی وجہ سے تم نے مجھے چالیس مرتبہ ہاتھ دھوتے ہوئے دیکھا۔
(علامہ ابن جوزی، ذم الھوی، ملخصاً)
اس روایت کو عام فہم انداز میں پیش کرنے کے لیے ہم نے مکمل واقعے کا خلاصہ نقل کیا ہے اور ضرورتاً کمی بیشی بھی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ذن الھوی میں درج کیا ہے۔ اس میں جس بادشاہ کا ذکر ہوا وہ خلیفہ مقتدر باللہ ہے۔ اس کہانی اور عاشقوں کی ایسی کئی کہانیاں ہیں جن سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے۔ عشق ہو جانے کے بعد عاشقوں کا حال ایک کتے سے بھی برا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے عشق کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے جیسا کہ مذکورہ واقعے میں اس تاجر شخص نے کیا کیا نہیں کیا۔
جاری...
عبد مصطفی
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
اکیلے زندگی کا سفر
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر لوگ تنہا سفر کرنے کے اس نقصان کو جان لیتے جسے میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات کو تنہا سفر نہ کرتا۔
(بخاری، 2998)
یہاں سوار کو تنہا سفر سے منع کیا گیا ہے تو ایک سوال یہ ہے کہ کیا جو پیدل ہو وہ سفر کر سکتا ہے؟
علما فرماتے ہیں کہ جو پیدل ہو اس کے لیے تو زیادہ منع ہوگا کہ اکیلا سفر کرے کیونکہ سوار کو سواری (کے جانور) سے انس (محبت، راحت) حاصل ہوتا ہے اور پیدل انس سے خالی ہوتا ہے۔
یہ تو رات کا سفر ہے کہ اکیلے کرنا اچھا نہیں پھر زندگی کا سفر جس میں تاریکیوں سے بھرے رستے ہیں، ان کو اکیلے پار کرنا کس طرح مناسب ہو سکتا ہے،
اکیلا انسان اکیلا ہوتا ہے، اگر ایک ہمسفر ہو تو راستے آسان ہو جاتے ہیں۔
علما لکھتے ہیں کہ اکیلے پیدل سفر کرنے والا اگر راستے میں سو جائے تو اس کو جگانے والا کوئی نہیں ہوگا اور اگر اس پر کوئی مصیبت آجائے تو مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
(دیکھیے نعم الباری شرح صحیح بخاری)
خاص لوگوں کی بات تو جدا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہوتے، انھیں اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے جیسا کہ حضور نے سفر کی دعا فرمائی کہ اے اللہ سفر میں تو میرا ساتھی ہے۔
(ملسم)
عام لوگوں کو ہر سفر میں ہمسفر کی ضرورت ہے،
ایمان و عقیدے کے لیے صالحین کا ساتھ چاہیے،
ایک بچے کو والدین کا ساتھ چاہیے،
پروان چڑھنے کے لیے اچھی صحبت چاہیے،
ایک مرد کو ایک عورت کے ساتھ کی ضرورت ہے،
ایک عورت کو ایک مرد بطورِ ہمسفر چاہیے،
کبھی ایک دوست تو کبھی ایک دشمن کی شکل میں بھی ہمسفر کی ضرورت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اس زندگی کے سفر کو آسان فرمائے۔
عبد مصطفی
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر لوگ تنہا سفر کرنے کے اس نقصان کو جان لیتے جسے میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات کو تنہا سفر نہ کرتا۔
(بخاری، 2998)
یہاں سوار کو تنہا سفر سے منع کیا گیا ہے تو ایک سوال یہ ہے کہ کیا جو پیدل ہو وہ سفر کر سکتا ہے؟
علما فرماتے ہیں کہ جو پیدل ہو اس کے لیے تو زیادہ منع ہوگا کہ اکیلا سفر کرے کیونکہ سوار کو سواری (کے جانور) سے انس (محبت، راحت) حاصل ہوتا ہے اور پیدل انس سے خالی ہوتا ہے۔
یہ تو رات کا سفر ہے کہ اکیلے کرنا اچھا نہیں پھر زندگی کا سفر جس میں تاریکیوں سے بھرے رستے ہیں، ان کو اکیلے پار کرنا کس طرح مناسب ہو سکتا ہے،
اکیلا انسان اکیلا ہوتا ہے، اگر ایک ہمسفر ہو تو راستے آسان ہو جاتے ہیں۔
علما لکھتے ہیں کہ اکیلے پیدل سفر کرنے والا اگر راستے میں سو جائے تو اس کو جگانے والا کوئی نہیں ہوگا اور اگر اس پر کوئی مصیبت آجائے تو مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
(دیکھیے نعم الباری شرح صحیح بخاری)
خاص لوگوں کی بات تو جدا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہوتے، انھیں اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے جیسا کہ حضور نے سفر کی دعا فرمائی کہ اے اللہ سفر میں تو میرا ساتھی ہے۔
(ملسم)
عام لوگوں کو ہر سفر میں ہمسفر کی ضرورت ہے،
ایمان و عقیدے کے لیے صالحین کا ساتھ چاہیے،
ایک بچے کو والدین کا ساتھ چاہیے،
پروان چڑھنے کے لیے اچھی صحبت چاہیے،
ایک مرد کو ایک عورت کے ساتھ کی ضرورت ہے،
ایک عورت کو ایک مرد بطورِ ہمسفر چاہیے،
کبھی ایک دوست تو کبھی ایک دشمن کی شکل میں بھی ہمسفر کی ضرورت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اس زندگی کے سفر کو آسان فرمائے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
رافضیوں کا کوئی عالم بھرے مجمعے میں یہاں تک بھی کَہ دے :
" سنی ہمارے بھائی ہیں ، ہم بھی سنی ہیں "
تو سارا مجمع داد دیتا ہے ، کوئی ایک رافضی بھی اٹھ کر اس پر فتوی نہیں لگاتا ۔
( یہ فرضی بات نہیں ، واقعی ایسا ہوا ہے )
کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ:
" رافضی قوم اپنے علما و مراجع پر اندھا اعتماد کرتی ہے ، وہ جانتی ہے کہ ہمارے مقتدا اگر ایسا کرتے ہیں تو موقع محل کی مناسبت سے کرتے ہیں ، اور اہل سنت کیجڑیں کاٹنے کے لیے ہی کرتے ہیں ۔ "
اِس کے برعکس :
" اگر کوئی سُنی عالم کسی حکمتِ بالغہ کے تحت کوئی اِقدام کرے تو ہمارے بعض عوام سارے ادب آداب بالائے طاق رکھ کر ، لٹھ لے کر اس پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔ "
پیارے بھائیو ، ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے !!
اگر ہم اپنے ہم مسلک علما پر اعتماد نہیں کریں گے تو بدمذہبوں کے خلاف فتح کیسے حاصل کرسکیں گے ۔
اپنے علما پر اعتماد کریں ، ان پر طعن تشنیع کرنا چھوڑ دیں ۔
اگر آپ کو کسی عالمِ دین کے طریقہ کار کی سمجھ نہیں آتی تو اُس عالم کی پیروی کرلیں جن کا طرزِ عمل آپ کو بھاتا ہے ، انشاءاللہ آپ کی نجات ہوجائے گی ۔
لیکن اگر آپ دیگر علما پر تہمتیں لگاتے رہے ، گالم گلوچ سے کام لیتے رہےتو مسلک کے نقصان کے ساتھ ، خواہ مخواہ اپنی آخرت بھی برباد کربیٹھیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
" سنی ہمارے بھائی ہیں ، ہم بھی سنی ہیں "
تو سارا مجمع داد دیتا ہے ، کوئی ایک رافضی بھی اٹھ کر اس پر فتوی نہیں لگاتا ۔
( یہ فرضی بات نہیں ، واقعی ایسا ہوا ہے )
کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ:
" رافضی قوم اپنے علما و مراجع پر اندھا اعتماد کرتی ہے ، وہ جانتی ہے کہ ہمارے مقتدا اگر ایسا کرتے ہیں تو موقع محل کی مناسبت سے کرتے ہیں ، اور اہل سنت کیجڑیں کاٹنے کے لیے ہی کرتے ہیں ۔ "
اِس کے برعکس :
" اگر کوئی سُنی عالم کسی حکمتِ بالغہ کے تحت کوئی اِقدام کرے تو ہمارے بعض عوام سارے ادب آداب بالائے طاق رکھ کر ، لٹھ لے کر اس پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔ "
پیارے بھائیو ، ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے !!
اگر ہم اپنے ہم مسلک علما پر اعتماد نہیں کریں گے تو بدمذہبوں کے خلاف فتح کیسے حاصل کرسکیں گے ۔
اپنے علما پر اعتماد کریں ، ان پر طعن تشنیع کرنا چھوڑ دیں ۔
اگر آپ کو کسی عالمِ دین کے طریقہ کار کی سمجھ نہیں آتی تو اُس عالم کی پیروی کرلیں جن کا طرزِ عمل آپ کو بھاتا ہے ، انشاءاللہ آپ کی نجات ہوجائے گی ۔
لیکن اگر آپ دیگر علما پر تہمتیں لگاتے رہے ، گالم گلوچ سے کام لیتے رہےتو مسلک کے نقصان کے ساتھ ، خواہ مخواہ اپنی آخرت بھی برباد کربیٹھیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
#ٹکنالوجی_زندگی_نہیں_ہے؟
منقول
- "کل میں نے اپنے والد کے ساتھ ایک گھنٹہ بینک میں گزارا تھا ، کیونکہ انہیں کچھ رقم منتقل کرنا پڑی۔ میں خود مزاحمت نہیں کرسکا اور پوچھا ...
'' والد ، آپ اپنا انٹرنیٹ بینکنگ کیوں نہیں چالو کرتے ہیں؟ ''
'' میں ایسا کیوں کروں گا؟ '' انہوں نے جواب دیا ...
'' ٹھیک ہے ، پھر آپ کو منتقلی جیسی چیزوں کے لیہ یہاں ایک گھنٹہ نہیں گزارنا پڑے گا۔
یہاں تک کہ آپ اپنی شاپنگ آن لائن بھی کرسکتے ہیں۔ سب کچھ بہت آسان ہوگا! ''
میں انہیں نیٹ بینکنگ کی دنیا میں متعارف کرانے کے بارے میں بہت پرجوش تھا۔
انہوں نے پوچھا '' اگر میں یہ کروں تو ، مجھے گھر سے نکلنا نہیں پڑے گا؟
''ہاں ہاں''! میں نے کہا. میں نے انہیں بتایا کہ یہاں تک کہ کھانے پینے کی چیزیں بھی اب گھر پر کس طرح پہنچائی جاسکتی ہیں اور ایمیزون کس طرح سب کچھ فراہم کرتا ہے!
ان کے جواب نے مجھے زبان سے باندھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ '' جب سے میں آج اس بینک میں داخل ہوا ہوں ، میں نے اپنے چار دوستوں سے ملاقات کی ہے ، میں نے عملے سے کچھ دیر گفتگو کی ہے جو اب تک مجھے اچھی طرح سے جانتے ہیں۔
میں تنہا ہوں ... یہ وہ کمپنی ہے جس کی مجھے ضرورت ہے۔ مجھے تیار ہوکر بینک آنا پسند ہے۔ میرے پاس کافی وقت ہے ، یہ وہ جسمانی لمس ہے جو مجھے پسند ہے۔
دو سال پہلے میں بیمار ہوا ، اس اسٹور کا مالک جس سے میں پھل خریدتا ہوں ، مجھے دیکھنے آیا اور میرے پلنگ کے پاس بیٹھ گیا اور میری صحت کے بارے میں سوال کیا
جب آپ کی والدہ صبح کی سیر کے دوران کچھ دن پہلے گر گئیں۔ ہمارے مقامی دکاندار نے اسے دیکھا اور فوری طور پر اسے نزدیکی اسپتال لے گیا اور فون کے ذریعہ ہمیں اس کی اطلاع دی کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں کہاں رہتا ہوں۔
کیا سب کچھ آن لائن ہوجاتا ہے؟
میں کیوں چاہتا ہوں کہ سب کچھ مجھ تک پہنچا دیا جائے اور مجھے صرف اپنے کمپیوٹر کے ساتھ بات چیت کرنے پر مجبور کیا جائے؟
میں اس شخص کو جاننا چاہتا ہوں جس کے ساتھ میں صرف 'فروخت کنندہ' نہیں بلکہ معاملہ کر رہا ہوں۔ یہ رشتوں کے رشتوں کو تشکیل دیتا ہے۔
کیا ایمیزون بھی یہ سب فراہم کرتا ہے؟ ''
ٹیکنالوجی زندگی نہیں ہے ..
لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں .. آلات کے ساتھ نہیں۔ "
منقول
- "کل میں نے اپنے والد کے ساتھ ایک گھنٹہ بینک میں گزارا تھا ، کیونکہ انہیں کچھ رقم منتقل کرنا پڑی۔ میں خود مزاحمت نہیں کرسکا اور پوچھا ...
'' والد ، آپ اپنا انٹرنیٹ بینکنگ کیوں نہیں چالو کرتے ہیں؟ ''
'' میں ایسا کیوں کروں گا؟ '' انہوں نے جواب دیا ...
'' ٹھیک ہے ، پھر آپ کو منتقلی جیسی چیزوں کے لیہ یہاں ایک گھنٹہ نہیں گزارنا پڑے گا۔
یہاں تک کہ آپ اپنی شاپنگ آن لائن بھی کرسکتے ہیں۔ سب کچھ بہت آسان ہوگا! ''
میں انہیں نیٹ بینکنگ کی دنیا میں متعارف کرانے کے بارے میں بہت پرجوش تھا۔
انہوں نے پوچھا '' اگر میں یہ کروں تو ، مجھے گھر سے نکلنا نہیں پڑے گا؟
''ہاں ہاں''! میں نے کہا. میں نے انہیں بتایا کہ یہاں تک کہ کھانے پینے کی چیزیں بھی اب گھر پر کس طرح پہنچائی جاسکتی ہیں اور ایمیزون کس طرح سب کچھ فراہم کرتا ہے!
ان کے جواب نے مجھے زبان سے باندھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ '' جب سے میں آج اس بینک میں داخل ہوا ہوں ، میں نے اپنے چار دوستوں سے ملاقات کی ہے ، میں نے عملے سے کچھ دیر گفتگو کی ہے جو اب تک مجھے اچھی طرح سے جانتے ہیں۔
میں تنہا ہوں ... یہ وہ کمپنی ہے جس کی مجھے ضرورت ہے۔ مجھے تیار ہوکر بینک آنا پسند ہے۔ میرے پاس کافی وقت ہے ، یہ وہ جسمانی لمس ہے جو مجھے پسند ہے۔
دو سال پہلے میں بیمار ہوا ، اس اسٹور کا مالک جس سے میں پھل خریدتا ہوں ، مجھے دیکھنے آیا اور میرے پلنگ کے پاس بیٹھ گیا اور میری صحت کے بارے میں سوال کیا
جب آپ کی والدہ صبح کی سیر کے دوران کچھ دن پہلے گر گئیں۔ ہمارے مقامی دکاندار نے اسے دیکھا اور فوری طور پر اسے نزدیکی اسپتال لے گیا اور فون کے ذریعہ ہمیں اس کی اطلاع دی کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں کہاں رہتا ہوں۔
کیا سب کچھ آن لائن ہوجاتا ہے؟
میں کیوں چاہتا ہوں کہ سب کچھ مجھ تک پہنچا دیا جائے اور مجھے صرف اپنے کمپیوٹر کے ساتھ بات چیت کرنے پر مجبور کیا جائے؟
میں اس شخص کو جاننا چاہتا ہوں جس کے ساتھ میں صرف 'فروخت کنندہ' نہیں بلکہ معاملہ کر رہا ہوں۔ یہ رشتوں کے رشتوں کو تشکیل دیتا ہے۔
کیا ایمیزون بھی یہ سب فراہم کرتا ہے؟ ''
ٹیکنالوجی زندگی نہیں ہے ..
لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں .. آلات کے ساتھ نہیں۔ "
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*🌹خوش خبری🌹*
برادران اہل سنت کے لئے نہایت مسرت افزا خبر ہے کہ اپنی جماعت کے قابل فخر عالم دین حضرت علامہ مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی مد ظلہ مفتی احناف اوقاف ابوظبی نے تاتارستان روس میں واقع بلغار یونیورسٹی (بلغار اسلامک اکیڈمی) سے فقہ اسلامی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔
آپ کی پی ایچ ڈی کا موضوع "الرخصة في الشريعة الإسلامية " ہے ۔
خاص بات یہ ہے کہ مفتی صاحب نے اس موضوع پر چارسو صفحات کا جو تفصیلی و تحقیقی مقالہ سپرد قرطاس کیا ہےاس کا مرکز و محور امام اہل سنت اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے درج ذیل تین رسالے ہیں:
(1) الأحلى من السكر لطلبة سكر روسر
(2) سلب الثلب عن القائلين بطهارة الكلب
(3) جلي النص في أماكن الرخص
مفتی صاحب نے ان رسائل کا عربی ترجمہ کرکے تحقیق و تجزیہ پیش کیا ہے ،مقالے کا مکمل عنوان ہے :
"الرخصة في الشريعة الإسلامية من خلال رسائل الإمام أحمد رضا خان الماتريدي الحنفي دراسة و تحقيق و ترجمة "
مورخہ 9 ستمبر 2020 کو مناقشہ ہوا،اور مفتی صاحب کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی ۔
ایکسپرٹس ٹیم ڈاکٹر بدیع سید لحام دمشق، ڈاکٹر محمد ایمن زھراوی دمشق اور ڈاکٹر رستم نور علی روس سمیت پندرہ انٹر نیشنل ایکسپرٹس پر مشتمل تھی۔
حضرت مفتی محمد اسلم رضا صاحب قبلہ کا یہ کارنامہ مضبوط و مستحکم طور پر فکر رضا کی ترسیل کا عمدہ نمونہ اور رضویات کے باب میں ایک گرانقدر اضافہ ہے۔
اس عظیم کارنامے پر مفتی صاحب لائق صد تبریک و تحسین ہیں ۔
دار العلوم علیمیہ کے اساتذہ اراکین اور جماعت علیمیہ کے جملہ وابستگان مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی مد ظلہ العالی کو مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ مفتی صاحب کی پی ایچ ڈی کے سپر وائزر فاضل علوم اسلامیہ حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ صدر المدرسین دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی تھے ،آپ ہی کی نگرانی اور رہنمائی میں یہ پی ایچ ڈی مکمل ہوئی ہے۔
بلغار اکیڈمی نے حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ کو اپنے یہاں پی ایچ ڈی مشرف کا منصب تفویض کر رکھا ہے، نیز آپ مذکورہ اکیڈمی کے پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر کے ممتحن بھی ہیں۔
حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب کو ملنے والا یہ اعزار دار العلوم علیمیہ اور جماعت علیمیہ کے لئے بالخصوص اور بالعموم برادران اہل سنت کے لئے بڑے فخر و شرف کی بات ہے۔
رپورٹ:
محمد طیب علیمی
دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی
14/09/2020
برادران اہل سنت کے لئے نہایت مسرت افزا خبر ہے کہ اپنی جماعت کے قابل فخر عالم دین حضرت علامہ مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی مد ظلہ مفتی احناف اوقاف ابوظبی نے تاتارستان روس میں واقع بلغار یونیورسٹی (بلغار اسلامک اکیڈمی) سے فقہ اسلامی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔
آپ کی پی ایچ ڈی کا موضوع "الرخصة في الشريعة الإسلامية " ہے ۔
خاص بات یہ ہے کہ مفتی صاحب نے اس موضوع پر چارسو صفحات کا جو تفصیلی و تحقیقی مقالہ سپرد قرطاس کیا ہےاس کا مرکز و محور امام اہل سنت اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے درج ذیل تین رسالے ہیں:
(1) الأحلى من السكر لطلبة سكر روسر
(2) سلب الثلب عن القائلين بطهارة الكلب
(3) جلي النص في أماكن الرخص
مفتی صاحب نے ان رسائل کا عربی ترجمہ کرکے تحقیق و تجزیہ پیش کیا ہے ،مقالے کا مکمل عنوان ہے :
"الرخصة في الشريعة الإسلامية من خلال رسائل الإمام أحمد رضا خان الماتريدي الحنفي دراسة و تحقيق و ترجمة "
مورخہ 9 ستمبر 2020 کو مناقشہ ہوا،اور مفتی صاحب کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی ۔
ایکسپرٹس ٹیم ڈاکٹر بدیع سید لحام دمشق، ڈاکٹر محمد ایمن زھراوی دمشق اور ڈاکٹر رستم نور علی روس سمیت پندرہ انٹر نیشنل ایکسپرٹس پر مشتمل تھی۔
حضرت مفتی محمد اسلم رضا صاحب قبلہ کا یہ کارنامہ مضبوط و مستحکم طور پر فکر رضا کی ترسیل کا عمدہ نمونہ اور رضویات کے باب میں ایک گرانقدر اضافہ ہے۔
اس عظیم کارنامے پر مفتی صاحب لائق صد تبریک و تحسین ہیں ۔
دار العلوم علیمیہ کے اساتذہ اراکین اور جماعت علیمیہ کے جملہ وابستگان مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی مد ظلہ العالی کو مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ مفتی صاحب کی پی ایچ ڈی کے سپر وائزر فاضل علوم اسلامیہ حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ صدر المدرسین دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی تھے ،آپ ہی کی نگرانی اور رہنمائی میں یہ پی ایچ ڈی مکمل ہوئی ہے۔
بلغار اکیڈمی نے حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ کو اپنے یہاں پی ایچ ڈی مشرف کا منصب تفویض کر رکھا ہے، نیز آپ مذکورہ اکیڈمی کے پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر کے ممتحن بھی ہیں۔
حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب کو ملنے والا یہ اعزار دار العلوم علیمیہ اور جماعت علیمیہ کے لئے بالخصوص اور بالعموم برادران اہل سنت کے لئے بڑے فخر و شرف کی بات ہے۔
رپورٹ:
محمد طیب علیمی
دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی
14/09/2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ASLAM NABEEL AZHARI
فقہ حنفی کی ایک امتیازی خوبی
فقہ حنفی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں آئندہ پیش آنے والے مسائل کو فرض کرکے پہلے ہی سے ان کو حل کر لیا گیا ہے۔
اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ مفتیان کرام کے پاس نو پید مسائل کے جواب پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
دوسرا فائدہ یہ ہے کہ طلبہ کے اندر جدید مسائل کے حل کرنے کا ملکہ پیدا ہوجاتا ہے۔
جب کہ دوسرے فقہی مذاہب میں یہ خوبی شاید باید ہی نظر آئے گی ۔ کیوں کہ دوسرے فقہا واقعہ پیش آنے کے بعد اس کا حل تلاش کرتے تھے۔
مؤسس مذہب سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے جب اس سلسلے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: نستعد للبلاء قبل نزوله۔
نزول بلا سے پہلے اس کے دفع کی تیاری کر رہے ہیں۔
علما فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے تقریباً ساٹھ ہزار(60000) مسائل کے پہلے ہی سے جوابات تیار فرما دئیے تھے، بلکہ ایک روایت میں تو تین لاکھ (300000) کا عدد بھی آیا ہے.
اس سے فقہ حنفی کی خصوصا اور فقہ اسلامی کی عموما وسعت کا پتا چلتا ہے۔
کسی سے پوشیدہ نہیں کہ روز مرہ نت نئے مسائل، واقعے، حادثے رونماں ہوتے رہتے ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے، مگر آج تک کوئی ایسا مسئلہ سن نے میں نہیں آیا جس کا حل فقہ اسلامی میں موجود نہ ہو۔
فقہ حنفی کی مذکورہ خوبی سے متعلق ذیل میں ایک واقعہ پیش کیا جاتا ہے، اس واقعے سے جہاں فقہ حنفی کی بالا دستی پر روشنی پڑتی ہے، وہیں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی فقہی بصیرت کا بھی پتا چلتا ہے۔
چناں چہ علامہ سید احمد بن محمد شہاب الدین حموی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (م1098ھ)اپنی کتاب مستطاب " غمز عیون البصائر " میں لکھتے ہیں کہ :
مشہور محدث ومفسر علامہ قتادہ بن دعامہ سدوسی بصری(م118ھ ) جب کوفہ تشریف لائے، آپ کے لئے علمی مجلس سجائی گئی، لوگوں کاازدحام کثیر اکٹھا ہوگیا، امام قتادہ نے اعلان عام فرمایا: "سلونی عن الفقہ" فقہ سے متعلق جو چاہو مجھ سے پوچھ لو!.
حاضرین میں ہمارے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف رکھتے تھے، آپ نے کھڑے ہوکر حضرت قتادہ سے پوچھا:
" اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو اپنی بیوی کو چھوڑ کر کہیں چلا گیا، کئی سال غائب رہا، کچھ عرصے بعد اس کی موت کی خبر آگئی، اس کی بیوی نے دوسرے شوہر سے نکاح کر لیا، اور دوسرے شوہر سے بچے بھی ہوگئے، پھر اچانک شوہر اول آگیا، بیوی سے بولا: اے زانیہ!
"تونے میری موجودگی میں دوسرے شوہر سے نکاح کر لیا"۔
پھر شوہر ثانی بولا: اے زانیہ!
"پہلے سے شوہر ہوتے ساتے تو نے مجھ سے نکاح کر لیا"۔
جواب عنایت فرمائیے کہ ایسی صورت میں کیا اس عورت پر حد جاری کی جائے گی؟ ۔ اور یہ بتائیےکہ یہ بچے کس کے ہوں گے؟.
حضرت قتادہ نے کچھ دیر غور وفکر کرنے کے بعد کہا:
کیا یہ مسئلہ پیش آچکا ہے؟۔
امام ابو حنیفہ نے فرمایا: نہیں، ولکن نستعد للبلاء قبل نزولہ.
ترجمہ: نزول بلا سے پہلے ہم بلا سے نپٹنے کی تیاری کر رہے ہیں.
یہ سن کر حضرت قتادہ نے فرمایا: جب تک یہ لڑکا (امام ابو حنیفہ) کوفے میں ہے میں کسی مجلس میں حاضر نہیں ہوں گا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ کوئی ایسا مسئلہ بھی مجھ سے پوچھ لےگا۔
(غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر از علامہ شہاب الدین حموی(م1098ھ)(ج4 ص328)۔
(تاریخ بغداد از خطیب بغدادی)۔
ناصر السنہ، عالم قریش، امام مجتہد، حضرت امام محمد بن ادریس شافعی (م 204ھ) نے ایسے ہی تھوڑی نہ فرمایا تھا کہ: الفقهاء عيال على أبي حنيفة في الفقه.
ترجمہ: فقہا علم فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں۔
اور اہل فہم پر روشن ہے کہ متقدمین کے کلام میں فقیہ سے مجتہد مراد ہوتا ہے، جیسے بحر العلم، حبر الامۃ، رئیس المفسرین، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (م 68ھ) نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ(60ھ) کی بابت فرمایا تھا: إنه فقيه. بے شک معاویہ فقیہ (مجتہد) ہیں۔
(صحيح البخاري، كتاب فضائل الصحابة، باب: ذكر معاوية).
امام شافعی نے مزید ایک مرتبہ فرمایا: من أراد أن يتبحر في الفقه فهو عيال على أبي حنيفة.
ترجمہ: جو کوئی فقہ میں عبور حاصل کرنا چاہتا ہے وہ امام ابو حنیفہ کا محتاج ہے۔ (تاریخ بغداد 13/346 )۔
مشہور ناقد، امام محمد بن احمد بن عثمان بن قايماز ترکمانی، ذہبی (م748ھ) امام اعظم ابو حنیفہ کے تعلق سے لکھتے ہیں:
الإمامة في الفقه ودقائقه، مسلّمة إلى هذا الإمام. وهذا أمر لا شك فيه».
ترجمہ: بلا شک و شبہ فقہ اور اس کے دقیق مسائل کی امامت امام ابو حنیفہ کو سونپ دی گئی ہے۔
ایک جگہ اور فرماتے ہیں: كلام أبي حنيفة في الفقه أدق من الشعر، لايعيبه إلا جاهل.
ترجمہ: فقہ کے سلسلے میں امام ابو حنیفہ کی گفتگو بال سے زیادہ دقیق ہوتی ہے، آپ کی عیب جوئی نہیں کرے گا مگر جاہل۔
(سیر اعلام النبلاء، ترجمۃ الامام ابی حنیفۃ)۔
اللہ جل جلالہ اپنے محبوب بندوں کے طفیل ہمیں فقہ اسلامی میں وسعت وتعمق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم
# محمد اسلم نبیل ازہری
٢٧/محرم الحر
فقہ حنفی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں آئندہ پیش آنے والے مسائل کو فرض کرکے پہلے ہی سے ان کو حل کر لیا گیا ہے۔
اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ مفتیان کرام کے پاس نو پید مسائل کے جواب پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
دوسرا فائدہ یہ ہے کہ طلبہ کے اندر جدید مسائل کے حل کرنے کا ملکہ پیدا ہوجاتا ہے۔
جب کہ دوسرے فقہی مذاہب میں یہ خوبی شاید باید ہی نظر آئے گی ۔ کیوں کہ دوسرے فقہا واقعہ پیش آنے کے بعد اس کا حل تلاش کرتے تھے۔
مؤسس مذہب سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے جب اس سلسلے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: نستعد للبلاء قبل نزوله۔
نزول بلا سے پہلے اس کے دفع کی تیاری کر رہے ہیں۔
علما فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے تقریباً ساٹھ ہزار(60000) مسائل کے پہلے ہی سے جوابات تیار فرما دئیے تھے، بلکہ ایک روایت میں تو تین لاکھ (300000) کا عدد بھی آیا ہے.
اس سے فقہ حنفی کی خصوصا اور فقہ اسلامی کی عموما وسعت کا پتا چلتا ہے۔
کسی سے پوشیدہ نہیں کہ روز مرہ نت نئے مسائل، واقعے، حادثے رونماں ہوتے رہتے ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے، مگر آج تک کوئی ایسا مسئلہ سن نے میں نہیں آیا جس کا حل فقہ اسلامی میں موجود نہ ہو۔
فقہ حنفی کی مذکورہ خوبی سے متعلق ذیل میں ایک واقعہ پیش کیا جاتا ہے، اس واقعے سے جہاں فقہ حنفی کی بالا دستی پر روشنی پڑتی ہے، وہیں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی فقہی بصیرت کا بھی پتا چلتا ہے۔
چناں چہ علامہ سید احمد بن محمد شہاب الدین حموی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (م1098ھ)اپنی کتاب مستطاب " غمز عیون البصائر " میں لکھتے ہیں کہ :
مشہور محدث ومفسر علامہ قتادہ بن دعامہ سدوسی بصری(م118ھ ) جب کوفہ تشریف لائے، آپ کے لئے علمی مجلس سجائی گئی، لوگوں کاازدحام کثیر اکٹھا ہوگیا، امام قتادہ نے اعلان عام فرمایا: "سلونی عن الفقہ" فقہ سے متعلق جو چاہو مجھ سے پوچھ لو!.
حاضرین میں ہمارے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف رکھتے تھے، آپ نے کھڑے ہوکر حضرت قتادہ سے پوچھا:
" اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو اپنی بیوی کو چھوڑ کر کہیں چلا گیا، کئی سال غائب رہا، کچھ عرصے بعد اس کی موت کی خبر آگئی، اس کی بیوی نے دوسرے شوہر سے نکاح کر لیا، اور دوسرے شوہر سے بچے بھی ہوگئے، پھر اچانک شوہر اول آگیا، بیوی سے بولا: اے زانیہ!
"تونے میری موجودگی میں دوسرے شوہر سے نکاح کر لیا"۔
پھر شوہر ثانی بولا: اے زانیہ!
"پہلے سے شوہر ہوتے ساتے تو نے مجھ سے نکاح کر لیا"۔
جواب عنایت فرمائیے کہ ایسی صورت میں کیا اس عورت پر حد جاری کی جائے گی؟ ۔ اور یہ بتائیےکہ یہ بچے کس کے ہوں گے؟.
حضرت قتادہ نے کچھ دیر غور وفکر کرنے کے بعد کہا:
کیا یہ مسئلہ پیش آچکا ہے؟۔
امام ابو حنیفہ نے فرمایا: نہیں، ولکن نستعد للبلاء قبل نزولہ.
ترجمہ: نزول بلا سے پہلے ہم بلا سے نپٹنے کی تیاری کر رہے ہیں.
یہ سن کر حضرت قتادہ نے فرمایا: جب تک یہ لڑکا (امام ابو حنیفہ) کوفے میں ہے میں کسی مجلس میں حاضر نہیں ہوں گا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ کوئی ایسا مسئلہ بھی مجھ سے پوچھ لےگا۔
(غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر از علامہ شہاب الدین حموی(م1098ھ)(ج4 ص328)۔
(تاریخ بغداد از خطیب بغدادی)۔
ناصر السنہ، عالم قریش، امام مجتہد، حضرت امام محمد بن ادریس شافعی (م 204ھ) نے ایسے ہی تھوڑی نہ فرمایا تھا کہ: الفقهاء عيال على أبي حنيفة في الفقه.
ترجمہ: فقہا علم فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں۔
اور اہل فہم پر روشن ہے کہ متقدمین کے کلام میں فقیہ سے مجتہد مراد ہوتا ہے، جیسے بحر العلم، حبر الامۃ، رئیس المفسرین، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (م 68ھ) نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ(60ھ) کی بابت فرمایا تھا: إنه فقيه. بے شک معاویہ فقیہ (مجتہد) ہیں۔
(صحيح البخاري، كتاب فضائل الصحابة، باب: ذكر معاوية).
امام شافعی نے مزید ایک مرتبہ فرمایا: من أراد أن يتبحر في الفقه فهو عيال على أبي حنيفة.
ترجمہ: جو کوئی فقہ میں عبور حاصل کرنا چاہتا ہے وہ امام ابو حنیفہ کا محتاج ہے۔ (تاریخ بغداد 13/346 )۔
مشہور ناقد، امام محمد بن احمد بن عثمان بن قايماز ترکمانی، ذہبی (م748ھ) امام اعظم ابو حنیفہ کے تعلق سے لکھتے ہیں:
الإمامة في الفقه ودقائقه، مسلّمة إلى هذا الإمام. وهذا أمر لا شك فيه».
ترجمہ: بلا شک و شبہ فقہ اور اس کے دقیق مسائل کی امامت امام ابو حنیفہ کو سونپ دی گئی ہے۔
ایک جگہ اور فرماتے ہیں: كلام أبي حنيفة في الفقه أدق من الشعر، لايعيبه إلا جاهل.
ترجمہ: فقہ کے سلسلے میں امام ابو حنیفہ کی گفتگو بال سے زیادہ دقیق ہوتی ہے، آپ کی عیب جوئی نہیں کرے گا مگر جاہل۔
(سیر اعلام النبلاء، ترجمۃ الامام ابی حنیفۃ)۔
اللہ جل جلالہ اپنے محبوب بندوں کے طفیل ہمیں فقہ اسلامی میں وسعت وتعمق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم
# محمد اسلم نبیل ازہری
٢٧/محرم الحر
Forwarded from ASLAM NABEEL AZHARI
ام ١٤٤٢/ھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
فتنہ تفضیلیت اورشیعیت کے خلاف اہل سنت میں بیداری پیداہوئی ہے.لیکن میرامشاہدہ ہے کہ صلح کلیوں کے خلاف اب ویسی بیداری نہیں ہے جیسی ماضی میں تھی.لاہورکے تین صلح کلی ناشراہل سنت کے نظریات میں نقب زنی کررہے ہیں.لیکن اہل سنت یاتوبے خبرہیں یامصلحت کالبادہ اوڑھے ہوئے ہیں.اکثرایساہوتاہے کہ اگرکسی کوان کی شنیع حرکات سے خبردارکیاجائے تووہ ان کوبرابھلاکہہ دیتے ہیں.لیکن ان کے سامنے ان کوغلط کہنے کی ہمت نہیں کرتے.
https://www.facebook.com/100008080090753/posts/2809250852687557/
https://www.facebook.com/100008080090753/posts/2809250852687557/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضاؒکی علمی و ادبی خدمات پر ایک نظر:
مستقیم الفکر
ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضاؒ کا ایک ادارے کی حیثیت سے پاکستان میں منفرد اعزاز یہ ہے کہ اس ادارے کی توسط سے اب تک 30 سے زیادہ Ph.D کی اسناد اور 20 سے زیادہ M.Phil کی اسناد امام احمدرضا کے مختلف علمی پہلوؤں پر تحقیق کرنے والوں کو پاکستان کی اور غیرملکی جامعات سے تفویض ہوچکی ہیں۔ تمام محقیقین کو ادارے کی جانب سے ہر قسم کا لٹریچر مفت فراہم کیا جاتا رہا اور ادارے کے محقیقین نے Ph.D اور M.Phil کے طالب علموں کو Synopsis سمیت ہرطرح سے ان کی مدد فراہم کی۔ جب کوئی طالبعلم Ph.D یا M.Phil کی سند حاصل کرلیتا ہے تو اس کو ادارہ کی جانب سے امام احمدرضا ریسرچ گولڈمیڈل یا امام احمدرضا ریسرچ سلور میڈل معہ اسناد پیش کیا جاتا ہے
http://imamahmadraza.net/wfproducts.aspx?md=17
http://imamahmadraza.net/wfproducts.aspx?md=4
اب ملاحظہ کریں Ph.D اور M.Phil کرنے والوں کی فہرست معہ عنوانات:
(۱)۔ حسن رضا خاں اعظمی ’’فقیہ اسلام‘‘ پٹنہ یونیورسٹی انڈیا،1979ء۔
(۲)۔ محمد امام الدین جوھر ’’رضا بریلوی بحیثیت شاعر نعت‘‘بہار یونیورسٹی، انڈیا، 1986ء۔
(۳)۔ اُشا سانیال’’اہلِ سنّت مومنٹ ان بریٹش انڈیا‘‘ کو لمبیا یونیورسٹی امریکہ، 1990ء۔
(۴)۔جمیل الدین راٹھوی ’’امام احمدرضا اور نعت گوئی‘‘ پریسنگھ یونیورسٹی ، انڈیا، 1992ء۔
(۵)۔ مجید اللہ قادری ’’کنزالایمان اور دیگر اردو تراجم‘‘کراچی یونیورسٹی، کراچی 1993ء۔
(۶)۔ حافظ عبدالباری صدیقی ’’رضا بریلوی کے افکار و کارنامے(سندھی) سندھ یونیورسٹی، 1993ء۔
(۷)۔ طیب علی رضا انصاری، ’’امام احمدرضا حیات و کارنامے‘‘بنارس یونیورسٹی، 1993ء۔
(۸)۔ عبدالنعیم عزیزی، ’’اردو نعت گوئی اور فاضل بریلوی‘‘روہیل کھنڈ یونیورسٹی، 1994ء۔
(۹)۔ سراج احمد بستوی ،’’امام احمدرضاکی نعتیہ شاعری‘‘ کانپور یونیورسٹی، 1995ء۔
(۱۰)۔ محمد انور خاں، ’’مولانا احمدرضاکی فقہی خدمات‘‘ سندھ یونیورسٹی، 1998ء۔
(۱۱)۔ امجد رضا امجد، ’’امام احمدرضا کی فکری تنقیدیں‘‘، ویر کنور یونیورسٹی، 1998ء۔
(۱۲)۔ غلام مصطفیٰ نجم القادری، ’’امام احمدرضا کا تصورعشق‘‘ میسور یونیورسٹی، 2002ء۔
(۱۳)۔ رضا الرحمٰن عاکق، ’’نثری ارتقا میں احمدرضا کا حصّہ’’روہیل کھنڈ یونیورسٹی، 2003ء۔
(۱۴)۔ غلام غوث قادری، ’’امام احمدرضا کی انشاء پردازی‘‘رانچی یونیورسٹی، بہار، 2003ء۔
(۱۵)۔ تنظیم الفردوس، ’’نعتیہ شاعری میں احمد رضا کی انفرادیت‘‘ جامعہ کراچی، 2004ء۔
(۱۶)۔ سید شاہد علی نورانی، ’’الشیخ احمد رضا شاعراًعربیاً (عربی)، پنجاب یونیورسٹی، 2004ء۔
(۱۷)۔ غلام جابر شمس مصباحی، ’’امام احمدرضا کے مکتوبات‘‘ بہاریونیورسٹی، 2004ء۔
(۱۸)۔ ریاض احمد ،’’امام احمدرضا کی ادبی ، لسانی خدمات‘‘،2005ء۔
(۱۹)۔ محمد اسحاق مدنی، ’’سیاسی تحریکات میں فتاویٰ رضویہ کا حصّہ‘‘ جامعہ کراچی، 2006ء۔
(۲۰)۔ منظور احمد سعیدی، ’’امام احمدرضا کی خدمت حدیث کاجائزہ‘‘ جامعہ کراچی، 2006ء۔
(۲۱)۔ محمد اشفاق جلالی، ’’الزلال انقی من بحرسبقت الاتقی‘‘(عربی) پنجاب یونیورسٹی، 2006ء۔
(۲۲)۔ اے پی عبدالحکیم، ’’امام احمدرضاکی محدثانہ حیثیت‘‘، بہار یونیورسٹی، 2006ء۔
(۲۳)۔ آدم رضا، ’’امام احمدرضا کی شاعری میں عشق رسولﷺ)،شیواجی یونیورسٹی، انڈیا، 2008ء۔
(۲۴)۔ نور الدین محمد نوری، ’’امام احمدرضا ادبی خدمات‘‘،بھاگلپوری یونیورسٹی، انڈیا، 2008ء۔
(۲۵)۔ حامدہ بی بی، ’’اردو نثر نگاری اور امام احمدرضا‘‘ روہیل کھنڈ یونیورسٹی،2009ء۔
(۲۶)۔ عبدالعلیم رضوی، ’’امام احمدرضا بہ حیثیت مفسرقرآن‘‘، بہار یونیورسٹی، 2010ء۔
(۲۷)۔ شبنم خاتون، ’’مولانا کی عربی ادب میں خدمات‘‘، بنارس یونیورسٹی، 2011ء۔
(۲۸)۔ ظفر اقبال جلال، ’’استاد القرآن والسنہ فی شعر الشیخاحمد رضا‘‘(عربی)، اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد، 2011ء۔
(۲۹)۔ صادق اسلام، ’’امام احمدرضا کی تحریک اسباب و اثرات‘‘ دہلی یونیورسٹی، 2011ء۔
(۳۰)۔ محمد مہربان باروی، ’’تحقیق و تعریب و داسۃ جزءمخال فتاویٰ الرضویہ‘‘ (عربی) ام درمان یونیورسٹی سوڈان، 2012ء۔
ان 30Ph.D کے مقالات میں 4 عربی زبان میں ایک انگریزی میں اور بقیہ اردو زبان میں لکھے گئے ہیں اور ان 30 جامعات میں سے ایک امریکہ، ایک سوڈان، 19 انڈیا اور بقیہ کا تعلق پاکستان سے ہے جب کہ پاکستان کی جامعات میں ایک کا تعلق اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد، دو کا تعلق پنجاب یونیورسٹی، دو کا تعلق سندھ یونیورسٹی اور بقیہ 4 کا تعلق کراچی یونیورسٹی سے ہے۔
اسی طرح 20 کے قریبM.Phil کے مقالات پاکستان اورکئی بیرون ملک کی جامعات میں امام احمدرضا کے افکار کے حوالے سے لکھے جاچکے ہیں ملاحظہ کیجئے اس کی تفصیل:
(۱)۔ آر۔ بی ۔ مظہری بنت مفتی مظہر اللہ دہلوی، ’’امام احمدرضا کی ادبی خدمات‘‘، سندھ یونیورسٹی، 1981ء۔
(۲)۔ غوث محی الدین، ’’الشیخ احمد رضا خاں حیاتہ واعمالہ‘‘(عربی)
مستقیم الفکر
ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضاؒ کا ایک ادارے کی حیثیت سے پاکستان میں منفرد اعزاز یہ ہے کہ اس ادارے کی توسط سے اب تک 30 سے زیادہ Ph.D کی اسناد اور 20 سے زیادہ M.Phil کی اسناد امام احمدرضا کے مختلف علمی پہلوؤں پر تحقیق کرنے والوں کو پاکستان کی اور غیرملکی جامعات سے تفویض ہوچکی ہیں۔ تمام محقیقین کو ادارے کی جانب سے ہر قسم کا لٹریچر مفت فراہم کیا جاتا رہا اور ادارے کے محقیقین نے Ph.D اور M.Phil کے طالب علموں کو Synopsis سمیت ہرطرح سے ان کی مدد فراہم کی۔ جب کوئی طالبعلم Ph.D یا M.Phil کی سند حاصل کرلیتا ہے تو اس کو ادارہ کی جانب سے امام احمدرضا ریسرچ گولڈمیڈل یا امام احمدرضا ریسرچ سلور میڈل معہ اسناد پیش کیا جاتا ہے
http://imamahmadraza.net/wfproducts.aspx?md=17
http://imamahmadraza.net/wfproducts.aspx?md=4
اب ملاحظہ کریں Ph.D اور M.Phil کرنے والوں کی فہرست معہ عنوانات:
(۱)۔ حسن رضا خاں اعظمی ’’فقیہ اسلام‘‘ پٹنہ یونیورسٹی انڈیا،1979ء۔
(۲)۔ محمد امام الدین جوھر ’’رضا بریلوی بحیثیت شاعر نعت‘‘بہار یونیورسٹی، انڈیا، 1986ء۔
(۳)۔ اُشا سانیال’’اہلِ سنّت مومنٹ ان بریٹش انڈیا‘‘ کو لمبیا یونیورسٹی امریکہ، 1990ء۔
(۴)۔جمیل الدین راٹھوی ’’امام احمدرضا اور نعت گوئی‘‘ پریسنگھ یونیورسٹی ، انڈیا، 1992ء۔
(۵)۔ مجید اللہ قادری ’’کنزالایمان اور دیگر اردو تراجم‘‘کراچی یونیورسٹی، کراچی 1993ء۔
(۶)۔ حافظ عبدالباری صدیقی ’’رضا بریلوی کے افکار و کارنامے(سندھی) سندھ یونیورسٹی، 1993ء۔
(۷)۔ طیب علی رضا انصاری، ’’امام احمدرضا حیات و کارنامے‘‘بنارس یونیورسٹی، 1993ء۔
(۸)۔ عبدالنعیم عزیزی، ’’اردو نعت گوئی اور فاضل بریلوی‘‘روہیل کھنڈ یونیورسٹی، 1994ء۔
(۹)۔ سراج احمد بستوی ،’’امام احمدرضاکی نعتیہ شاعری‘‘ کانپور یونیورسٹی، 1995ء۔
(۱۰)۔ محمد انور خاں، ’’مولانا احمدرضاکی فقہی خدمات‘‘ سندھ یونیورسٹی، 1998ء۔
(۱۱)۔ امجد رضا امجد، ’’امام احمدرضا کی فکری تنقیدیں‘‘، ویر کنور یونیورسٹی، 1998ء۔
(۱۲)۔ غلام مصطفیٰ نجم القادری، ’’امام احمدرضا کا تصورعشق‘‘ میسور یونیورسٹی، 2002ء۔
(۱۳)۔ رضا الرحمٰن عاکق، ’’نثری ارتقا میں احمدرضا کا حصّہ’’روہیل کھنڈ یونیورسٹی، 2003ء۔
(۱۴)۔ غلام غوث قادری، ’’امام احمدرضا کی انشاء پردازی‘‘رانچی یونیورسٹی، بہار، 2003ء۔
(۱۵)۔ تنظیم الفردوس، ’’نعتیہ شاعری میں احمد رضا کی انفرادیت‘‘ جامعہ کراچی، 2004ء۔
(۱۶)۔ سید شاہد علی نورانی، ’’الشیخ احمد رضا شاعراًعربیاً (عربی)، پنجاب یونیورسٹی، 2004ء۔
(۱۷)۔ غلام جابر شمس مصباحی، ’’امام احمدرضا کے مکتوبات‘‘ بہاریونیورسٹی، 2004ء۔
(۱۸)۔ ریاض احمد ،’’امام احمدرضا کی ادبی ، لسانی خدمات‘‘،2005ء۔
(۱۹)۔ محمد اسحاق مدنی، ’’سیاسی تحریکات میں فتاویٰ رضویہ کا حصّہ‘‘ جامعہ کراچی، 2006ء۔
(۲۰)۔ منظور احمد سعیدی، ’’امام احمدرضا کی خدمت حدیث کاجائزہ‘‘ جامعہ کراچی، 2006ء۔
(۲۱)۔ محمد اشفاق جلالی، ’’الزلال انقی من بحرسبقت الاتقی‘‘(عربی) پنجاب یونیورسٹی، 2006ء۔
(۲۲)۔ اے پی عبدالحکیم، ’’امام احمدرضاکی محدثانہ حیثیت‘‘، بہار یونیورسٹی، 2006ء۔
(۲۳)۔ آدم رضا، ’’امام احمدرضا کی شاعری میں عشق رسولﷺ)،شیواجی یونیورسٹی، انڈیا، 2008ء۔
(۲۴)۔ نور الدین محمد نوری، ’’امام احمدرضا ادبی خدمات‘‘،بھاگلپوری یونیورسٹی، انڈیا، 2008ء۔
(۲۵)۔ حامدہ بی بی، ’’اردو نثر نگاری اور امام احمدرضا‘‘ روہیل کھنڈ یونیورسٹی،2009ء۔
(۲۶)۔ عبدالعلیم رضوی، ’’امام احمدرضا بہ حیثیت مفسرقرآن‘‘، بہار یونیورسٹی، 2010ء۔
(۲۷)۔ شبنم خاتون، ’’مولانا کی عربی ادب میں خدمات‘‘، بنارس یونیورسٹی، 2011ء۔
(۲۸)۔ ظفر اقبال جلال، ’’استاد القرآن والسنہ فی شعر الشیخاحمد رضا‘‘(عربی)، اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد، 2011ء۔
(۲۹)۔ صادق اسلام، ’’امام احمدرضا کی تحریک اسباب و اثرات‘‘ دہلی یونیورسٹی، 2011ء۔
(۳۰)۔ محمد مہربان باروی، ’’تحقیق و تعریب و داسۃ جزءمخال فتاویٰ الرضویہ‘‘ (عربی) ام درمان یونیورسٹی سوڈان، 2012ء۔
ان 30Ph.D کے مقالات میں 4 عربی زبان میں ایک انگریزی میں اور بقیہ اردو زبان میں لکھے گئے ہیں اور ان 30 جامعات میں سے ایک امریکہ، ایک سوڈان، 19 انڈیا اور بقیہ کا تعلق پاکستان سے ہے جب کہ پاکستان کی جامعات میں ایک کا تعلق اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد، دو کا تعلق پنجاب یونیورسٹی، دو کا تعلق سندھ یونیورسٹی اور بقیہ 4 کا تعلق کراچی یونیورسٹی سے ہے۔
اسی طرح 20 کے قریبM.Phil کے مقالات پاکستان اورکئی بیرون ملک کی جامعات میں امام احمدرضا کے افکار کے حوالے سے لکھے جاچکے ہیں ملاحظہ کیجئے اس کی تفصیل:
(۱)۔ آر۔ بی ۔ مظہری بنت مفتی مظہر اللہ دہلوی، ’’امام احمدرضا کی ادبی خدمات‘‘، سندھ یونیورسٹی، 1981ء۔
(۲)۔ غوث محی الدین، ’’الشیخ احمد رضا خاں حیاتہ واعمالہ‘‘(عربی)
عثمانیہ یونیورسٹی، 1990ء۔
(۳)۔ محمود حسین بریلوی، ’’احمدرضا کی عربی زبان و ادب میں خدمات‘‘، علی گڑھ یونیورسٹی، 1990ء۔
(۴)۔ محمد اکرم، ’’الامام احمد رضا خاں الحنفی وخدماتہ العلمیۃ والا بیۃ (عربی) اسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور، 1995ء۔
(۵)۔ مشتاق احمد شاہ، ’’الامام احمدرضا واثرہ فی الفقہ‘‘(عربی)، جامعہ الازھرقاہرہ ، 1997ء۔
(۶)۔ ممتاز احمد سدیدی، ’’الشیخ احمدرضا الھندی شاعراًعربیاً‘‘(عربی)، جامعہ الازہر قاہرہ، 1999ء۔
(۷)۔ سید عتیق الرحمٰن شاہ، ’’النثر الغنی عبدالشیخ احمدرضا‘‘(عربی)، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد، 2003ء۔
(۸)۔ ظفر اقبال جلال، ’’اثرالشقافۃ العربیۃ فی المدائح النبویہ (عربی)، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، 2003ء۔
(۹)۔ سید جلال الدین، ’’الشیخ احمدرضا وجھودہ فی مجال العقیدہ الاسلامیۃ‘‘ (عربی)، قاہرہ یونیورسٹی، 2006ء۔
(۱۰)۔ مصطفیٰ علی مصباحی، ’’ماھبۃ الشیخ احمدرضا فی الارب العربی‘‘ (عربی)، مدراس یونیورسٹی، 2006ء۔
(۱۱)۔ محمد عرفان محی الدین، ’’دراسۃ عن الحواشی العلامۃاحمدرضا‘‘ (عربی)، عثمانیہ یونیورسٹی، 2009ء۔
(۱۲)۔ محمد علی رضوی،’’TheQuranic Hermeneoties of Imam Raza ‘‘(انگریزی)، یونیورسٹی آف لیڈیز 2010ء۔
(۱۳)۔اقرار علی قریشی، ’’تیمم کے فقہی مسائل دورجدید کے تناظرمیں‘‘، وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی، 2010ء۔
(۱۴)۔ عبدالقوی، ’’علم الحدیث اور فتاویٰ رضویہ‘‘، یونیورسٹی آف فیصل آباد، 2011ء۔
(۱۵)۔ سید محمد سرفراز، ’’امام احمدرضا کے افکار کا تحقیقی جائزہ‘‘ یونیورسٹی آف فیصل آباد، 2011ء۔
(۱۶)۔صبا نور، ’’امام احمدرضا کےمعاشی نظریات‘‘، یونیورسٹی آف فیصل آباد، 2011ء۔
قارئین کرام! ان مقالات میں 9 مقالات عربی زبان میں لکھے گئے ہیں اور تمام کے تمام یاتو الازھر یونیورسٹی قاہرہ میں لکھے گئے ہیں یا انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں پیش کئے گئےہیں۔ M.A، M.Ed، میں لکھے گئے مقالات کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور الحمد للہ ہر سال بیسوں مقالات پاکستان کی مختلف جامعات میں لکھےجاتے ہیں ادارہ ان کو قلمی مواد مہیا کرتا ہے اس کے علاوہ M.Phil اور Ph.D کے زیر تکمیل مقالات کی تعداد بھی 20 سے زیادہ ہے ہم نے یہ عزم کیا ہے کہ امام احمدرضا کے صد سالہ یوم وصال کے موقعہ پر 1440ھ/ 2018ء تک Ph.D اور M.Phil کے مقالات کی تعداد 100 تک پہنچادیں الحمدللہ اس میں ہم کامیاب ہوگئے ہیں۔
اب ملاحظہ کریں ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضا سے شائع ہونے والی کتب(بالترتیب سن اشاعت) کی فہرست جو معارفِ رضا کےعلاوہ ہیں:
(۱)۔امام احمدرضا محدث بریلوی، ’’ لوگارثم حاشیہ‘‘، 1980ء۔
(۲)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’ دائرہ معارف رضا‘‘، 1982ء۔
(۳)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد،’’ امام احمد رضا اور عالمِ اسلام‘‘،۔
(۴)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’گناہ بے گناہی‘‘1983ء ۔
(۵)۔حضرت علامہ شمس بریلوی، ’’امام احمد رضا کی حاشیہ نگاری‘‘(جلداول) 1984ء۔
(۶)۔سید ریاست علی قادری، ’’اماماحمد رضا کے نثری شہہ پارے‘‘،1984ء۔
(۷)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’اجالا‘‘،1984ء۔
(۸)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’نور و نار‘‘، 1984ء۔
(۹)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’مجموعہ رسائل (مسئلہ نوروسایہ)‘‘، 1985ء۔
(۱۰)۔ امام احمد رضامحدث بریلوی، ’’جد الممتار علی رد المحتار حاشیہ (جلد اول)‘‘، 1985ء۔
(۱۱)۔آر۔بی مظہری، ’’ جہانِ مسعود‘‘، 1985ء۔
(۱۲)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد،’’سوجھرو(سندھی ترجمہ رسالہ ’’اجالا‘‘)، 1986ء۔
(۱۳)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد،’’رہبر و رہنما‘‘، 1986ء۔
(۱۴)۔سیدریاست علی قادری، ’’ لمعات شمس بریلوی‘‘، 1986ء۔
(۱۵)۔حضرت علامہ شمس بریلوی،’’امام احمد رضا کی حاشیہ نگاری(جلددوم)‘‘، 1986ء۔
(۱۶)۔منظورحسین جیلانی،’’اغراض و مقاصد‘‘،1986ء۔
(۱۷)۔ڈاکٹر جلال الدین نوری، ’’الخطوط الریئسیہ لاقتصاد الاسلامی‘‘، 1987ء۔
(۱۸)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،(انگریزی ترجمہ۔۔۔)’’ Tamheed -e- Iman‘‘، 1987ء۔
(۱۹)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’معین مبین بہر دور شمس وسکونِ زمین‘‘، 1987ء۔
(۲۰)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، (انگریزی ترجمہ: پروفیسر محمد عبد القادر)’’Economic Guide Line for Muslims‘‘،1988ء۔
(۲۱)۔مجیداللہ قادری، ’’فتاویٰ رضویہ کا موضوعاتی جائزہ‘‘، 1988ء۔
(۲۲)۔سیدوجاہت رسول قادری، پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری،’’یادگارِ سلف(تذکرہ مفتی تقدسعلی خاں)،1988ء۔
(۲۳)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،(انگریزی ترجمہ: نگار عرفانی)’’The Revolving Sun and the Static Earth‘‘،1989ء۔
(۲۴)۔پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’قرآن، سائنس اور امام احمد رضا‘‘، 1989ء۔
(۲۵)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد،مرتب: ڈاکٹر مجید اللہ قادری،وجاہت رسول قادری،’’آئینہ رضویات‘‘(جلد اول)،1989ء۔
(۲۶)۔مفتی محمد مکرم احمد دہلوی، ’’ فتاویٰ رضویہ اور فتاویٰ رشیدیہ‘‘، 1990ء۔
(۲۷)۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعوداحمد، ’’ A Baseless Blame‘‘، 1990ء۔
(۲۸)۔پروفیسر ڈاکٹر محمد
(۳)۔ محمود حسین بریلوی، ’’احمدرضا کی عربی زبان و ادب میں خدمات‘‘، علی گڑھ یونیورسٹی، 1990ء۔
(۴)۔ محمد اکرم، ’’الامام احمد رضا خاں الحنفی وخدماتہ العلمیۃ والا بیۃ (عربی) اسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور، 1995ء۔
(۵)۔ مشتاق احمد شاہ، ’’الامام احمدرضا واثرہ فی الفقہ‘‘(عربی)، جامعہ الازھرقاہرہ ، 1997ء۔
(۶)۔ ممتاز احمد سدیدی، ’’الشیخ احمدرضا الھندی شاعراًعربیاً‘‘(عربی)، جامعہ الازہر قاہرہ، 1999ء۔
(۷)۔ سید عتیق الرحمٰن شاہ، ’’النثر الغنی عبدالشیخ احمدرضا‘‘(عربی)، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد، 2003ء۔
(۸)۔ ظفر اقبال جلال، ’’اثرالشقافۃ العربیۃ فی المدائح النبویہ (عربی)، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، 2003ء۔
(۹)۔ سید جلال الدین، ’’الشیخ احمدرضا وجھودہ فی مجال العقیدہ الاسلامیۃ‘‘ (عربی)، قاہرہ یونیورسٹی، 2006ء۔
(۱۰)۔ مصطفیٰ علی مصباحی، ’’ماھبۃ الشیخ احمدرضا فی الارب العربی‘‘ (عربی)، مدراس یونیورسٹی، 2006ء۔
(۱۱)۔ محمد عرفان محی الدین، ’’دراسۃ عن الحواشی العلامۃاحمدرضا‘‘ (عربی)، عثمانیہ یونیورسٹی، 2009ء۔
(۱۲)۔ محمد علی رضوی،’’TheQuranic Hermeneoties of Imam Raza ‘‘(انگریزی)، یونیورسٹی آف لیڈیز 2010ء۔
(۱۳)۔اقرار علی قریشی، ’’تیمم کے فقہی مسائل دورجدید کے تناظرمیں‘‘، وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی، 2010ء۔
(۱۴)۔ عبدالقوی، ’’علم الحدیث اور فتاویٰ رضویہ‘‘، یونیورسٹی آف فیصل آباد، 2011ء۔
(۱۵)۔ سید محمد سرفراز، ’’امام احمدرضا کے افکار کا تحقیقی جائزہ‘‘ یونیورسٹی آف فیصل آباد، 2011ء۔
(۱۶)۔صبا نور، ’’امام احمدرضا کےمعاشی نظریات‘‘، یونیورسٹی آف فیصل آباد، 2011ء۔
قارئین کرام! ان مقالات میں 9 مقالات عربی زبان میں لکھے گئے ہیں اور تمام کے تمام یاتو الازھر یونیورسٹی قاہرہ میں لکھے گئے ہیں یا انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں پیش کئے گئےہیں۔ M.A، M.Ed، میں لکھے گئے مقالات کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور الحمد للہ ہر سال بیسوں مقالات پاکستان کی مختلف جامعات میں لکھےجاتے ہیں ادارہ ان کو قلمی مواد مہیا کرتا ہے اس کے علاوہ M.Phil اور Ph.D کے زیر تکمیل مقالات کی تعداد بھی 20 سے زیادہ ہے ہم نے یہ عزم کیا ہے کہ امام احمدرضا کے صد سالہ یوم وصال کے موقعہ پر 1440ھ/ 2018ء تک Ph.D اور M.Phil کے مقالات کی تعداد 100 تک پہنچادیں الحمدللہ اس میں ہم کامیاب ہوگئے ہیں۔
اب ملاحظہ کریں ادارۂ تحقیقاتِ امام احمدرضا سے شائع ہونے والی کتب(بالترتیب سن اشاعت) کی فہرست جو معارفِ رضا کےعلاوہ ہیں:
(۱)۔امام احمدرضا محدث بریلوی، ’’ لوگارثم حاشیہ‘‘، 1980ء۔
(۲)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’ دائرہ معارف رضا‘‘، 1982ء۔
(۳)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد،’’ امام احمد رضا اور عالمِ اسلام‘‘،۔
(۴)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد، ’’گناہ بے گناہی‘‘1983ء ۔
(۵)۔حضرت علامہ شمس بریلوی، ’’امام احمد رضا کی حاشیہ نگاری‘‘(جلداول) 1984ء۔
(۶)۔سید ریاست علی قادری، ’’اماماحمد رضا کے نثری شہہ پارے‘‘،1984ء۔
(۷)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’اجالا‘‘،1984ء۔
(۸)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد، ’’نور و نار‘‘، 1984ء۔
(۹)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’مجموعہ رسائل (مسئلہ نوروسایہ)‘‘، 1985ء۔
(۱۰)۔ امام احمد رضامحدث بریلوی، ’’جد الممتار علی رد المحتار حاشیہ (جلد اول)‘‘، 1985ء۔
(۱۱)۔آر۔بی مظہری، ’’ جہانِ مسعود‘‘، 1985ء۔
(۱۲)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد،’’سوجھرو(سندھی ترجمہ رسالہ ’’اجالا‘‘)، 1986ء۔
(۱۳)۔ڈاکٹرمحمد مسعود احمد،’’رہبر و رہنما‘‘، 1986ء۔
(۱۴)۔سیدریاست علی قادری، ’’ لمعات شمس بریلوی‘‘، 1986ء۔
(۱۵)۔حضرت علامہ شمس بریلوی،’’امام احمد رضا کی حاشیہ نگاری(جلددوم)‘‘، 1986ء۔
(۱۶)۔منظورحسین جیلانی،’’اغراض و مقاصد‘‘،1986ء۔
(۱۷)۔ڈاکٹر جلال الدین نوری، ’’الخطوط الریئسیہ لاقتصاد الاسلامی‘‘، 1987ء۔
(۱۸)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،(انگریزی ترجمہ۔۔۔)’’ Tamheed -e- Iman‘‘، 1987ء۔
(۱۹)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، ’’معین مبین بہر دور شمس وسکونِ زمین‘‘، 1987ء۔
(۲۰)۔امام احمد رضا محدث بریلوی، (انگریزی ترجمہ: پروفیسر محمد عبد القادر)’’Economic Guide Line for Muslims‘‘،1988ء۔
(۲۱)۔مجیداللہ قادری، ’’فتاویٰ رضویہ کا موضوعاتی جائزہ‘‘، 1988ء۔
(۲۲)۔سیدوجاہت رسول قادری، پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری،’’یادگارِ سلف(تذکرہ مفتی تقدسعلی خاں)،1988ء۔
(۲۳)۔امام احمد رضا محدث بریلوی،(انگریزی ترجمہ: نگار عرفانی)’’The Revolving Sun and the Static Earth‘‘،1989ء۔
(۲۴)۔پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری، ’’قرآن، سائنس اور امام احمد رضا‘‘، 1989ء۔
(۲۵)۔ڈاکٹر محمد مسعود احمد،مرتب: ڈاکٹر مجید اللہ قادری،وجاہت رسول قادری،’’آئینہ رضویات‘‘(جلد اول)،1989ء۔
(۲۶)۔مفتی محمد مکرم احمد دہلوی، ’’ فتاویٰ رضویہ اور فتاویٰ رشیدیہ‘‘، 1990ء۔
(۲۷)۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعوداحمد، ’’ A Baseless Blame‘‘، 1990ء۔
(۲۸)۔پروفیسر ڈاکٹر محمد
👍1