#منی_لائبریری_پروجیکٹ
"خطبات جمعہ پروجیکٹ" کی خاطر خواہ کامیابی کے بعد "روشن مستقبل، دہلی" نے عوام میں تعلیمی ذوق کو بیدار کرنے اور ائمہ کرام کی آسانی کے لیے "منی لائبریری پروجیکٹ" شروع کیا ہے.
جس میں بنیادی پچاس کتابیں اور ایک الماری رکھی جائے گی۔
اور اس کا رجسٹر تیار کر کے اہل مسجد کو دیا جائے گا۔ جس سے لائبریری کو اصول و ضوابط کے ساتھ چلانے میں آسانی ہو۔
یہ کام کرنے کی دو وجہ ہیں ایک تو یہ کہ ہماری مساجد میں غیر مسلک کے لوگ آ کر کے اپنی کتب رکھ جاتے ہیں، اور جو لوگ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے وقت سے پہلے پہنچتے ہیں وہ انہی کتابوں کو اٹھا کر پڑھنے لگتے ہیں۔
اور جانے انجانے ان کے فریب کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اس فریب سے بچنے اور پڑھنے کا شوق رکھنے والوں کے لئے بنیادی عقائد اور بنیادی ضروری مسائل اور ان باتوں پر مشتمل کتابیں جو اخلاقیات یا سیرت یا کسی اور ضروری چیز سے تعلق رکھتی ہیں، ایسی 50 کتابوں کی فہرست بنا کر ایک لائبریری قائم کر دی جائے۔
تاکہ اہل ذوق حضرات اس سے استفادہ کریں اور اپنے ذوق کی تسکین کے ساتھ فریب کاریوں سے بھی محفوظ رہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر ائمہ حضرات کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ وہ تقریر میں کہاں سے مواد لائیں؟ اور کیا بولیں؟
کیوں کہ کتابیں نہ ہونے کی وجہ سے وہ کہاں تک نئی اور ضرورت کی چیزیں لوگوں تک پہنچائیں۔
اس مجبوری کے چلتے وہ یو ٹیوب جیسے ذرائع کا سہارا لیتے ہیں جن میں صحیح اور غلط کی تمیز کم علم والوں کے لیئے مشکل ہوتی ہے۔
اس پریشانی سے نجات کے لیئے ان شاء اللہ"روشن مستقبل،دہلی" کا یہ "منی لائبریری پروجیکٹ" کافی کارگر ثابت ہوگا۔
اس پروجیکٹ کے تحت امام کے لئے ضرورت کی وہ کتابیں موجود ہونگی جن سے وہ مطالعہ کرکے عوام تک اچھی باتوں کو پہنچا سکتا ہے۔
ان 50 کتابوں کی فہرست درج ذیل ہے جن کتابوں کو ہم اس پروجیکٹ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔
فہرست کتب برائے منی اسلامک مسجد لائبریری پروجیکٹ
1 کتاب العقائد, از صدرالافاضل
2 اسلامی زندگی, از مفتی احمد یار خان نعیمی
3 سوانح کربلا, از صدرالافاضل
4 ہمارے حضور, از مفتی خلیل برکاتی
5 انوار شریعت, از مفتی جلال الدین امجدی
6 گستاخان صحابہ کا انجام از علامہ شامی
7 تعارف اہل سنت, علامہ یاسین اختر
8 ہم اور ہمارا ہندوستان, علامہ یاسین اختر
9 ہمفرے کے اعترافات
10 کتاب الایمان, اعلی حضرت
11 عقائد کوئز
12 قرآن کریم کوئز
13 اچھے رشتوں کی تلاش
14 صراط الابرار
15 عقائد و مسائل۔ مفتی صدیق ہزاروی
16 خواتین کی نماز
17 غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح
18 بدعات کے خلاف اعلی حضرت کے 100 فتوے
19 قرآن کریم اور سو عقائد
20 تمہید ایمان
21 روح اسلام۔ پروفیسر مسعود
22 امام احمد رضا کی فقہی بصیرت
23 امام احمد رضا اور عالم اسلام
24 اہل سنت اور نام نہاد اہل حدیث
25 گستاخان صحابہ کا انجام
26 آئینہ رافضیت
27 شان رب العالمین
28 طہارت کوئز
29 طلاق دینے کا طریقہ
30 بچوں کی تعلیم و تربیت
31 میں سنی کیوں ہوا؟
32 عقیدہ توحید و رسالت
33 بارہ ربیع الاول۔ فیض اویسی
34 ہمارے حضور
35 غوث الاعظم
36 میرے خواجہ
37 اولیاء کرام کوئز
38 نماز میں دل کیوں نہیں لگتا؟
39 خلفائے راشدین کوئز
40 اسلامی کوئز
41 جنرل نالج کوئز
42 آداب زندگی
43 شیطان کے مکروفریب اور اس کا علاج
44 اسلام کے پیغمبر (ہندی)
45 حضرت عمر کے سیاسی نظریے
46 عقائد علمائے دیوبند
47 جاء الحق بھی
48 حسام الحرمین
49 الصوارم الہندیہ
50 قانون شریعت
یہ فہرست ابھی حتمی نہیں ہے اس پر اور غور و فکر جاری ہے۔
ہماری ٹیم اسے جلد ہی مکمل کریگی۔
اس میں کچھ ہندی زبان کی کتابوں کا اضافہ کرنے کا ارادہ ہے۔
#نوٹ: جو لوگ اس پروجیکٹ کے تحت اپنی مسجد میں کتابیں منگانا چاہیں یا اس کام میں ہماری مدد کرنا چاہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔
Email: raushanmustaqbildelhi@gmail.com
WhatsApp: 9039778692
Call: 9140784535
#روشن_مستقبل، دہلی
"خطبات جمعہ پروجیکٹ" کی خاطر خواہ کامیابی کے بعد "روشن مستقبل، دہلی" نے عوام میں تعلیمی ذوق کو بیدار کرنے اور ائمہ کرام کی آسانی کے لیے "منی لائبریری پروجیکٹ" شروع کیا ہے.
جس میں بنیادی پچاس کتابیں اور ایک الماری رکھی جائے گی۔
اور اس کا رجسٹر تیار کر کے اہل مسجد کو دیا جائے گا۔ جس سے لائبریری کو اصول و ضوابط کے ساتھ چلانے میں آسانی ہو۔
یہ کام کرنے کی دو وجہ ہیں ایک تو یہ کہ ہماری مساجد میں غیر مسلک کے لوگ آ کر کے اپنی کتب رکھ جاتے ہیں، اور جو لوگ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے وقت سے پہلے پہنچتے ہیں وہ انہی کتابوں کو اٹھا کر پڑھنے لگتے ہیں۔
اور جانے انجانے ان کے فریب کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اس فریب سے بچنے اور پڑھنے کا شوق رکھنے والوں کے لئے بنیادی عقائد اور بنیادی ضروری مسائل اور ان باتوں پر مشتمل کتابیں جو اخلاقیات یا سیرت یا کسی اور ضروری چیز سے تعلق رکھتی ہیں، ایسی 50 کتابوں کی فہرست بنا کر ایک لائبریری قائم کر دی جائے۔
تاکہ اہل ذوق حضرات اس سے استفادہ کریں اور اپنے ذوق کی تسکین کے ساتھ فریب کاریوں سے بھی محفوظ رہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر ائمہ حضرات کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ وہ تقریر میں کہاں سے مواد لائیں؟ اور کیا بولیں؟
کیوں کہ کتابیں نہ ہونے کی وجہ سے وہ کہاں تک نئی اور ضرورت کی چیزیں لوگوں تک پہنچائیں۔
اس مجبوری کے چلتے وہ یو ٹیوب جیسے ذرائع کا سہارا لیتے ہیں جن میں صحیح اور غلط کی تمیز کم علم والوں کے لیئے مشکل ہوتی ہے۔
اس پریشانی سے نجات کے لیئے ان شاء اللہ"روشن مستقبل،دہلی" کا یہ "منی لائبریری پروجیکٹ" کافی کارگر ثابت ہوگا۔
اس پروجیکٹ کے تحت امام کے لئے ضرورت کی وہ کتابیں موجود ہونگی جن سے وہ مطالعہ کرکے عوام تک اچھی باتوں کو پہنچا سکتا ہے۔
ان 50 کتابوں کی فہرست درج ذیل ہے جن کتابوں کو ہم اس پروجیکٹ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔
فہرست کتب برائے منی اسلامک مسجد لائبریری پروجیکٹ
1 کتاب العقائد, از صدرالافاضل
2 اسلامی زندگی, از مفتی احمد یار خان نعیمی
3 سوانح کربلا, از صدرالافاضل
4 ہمارے حضور, از مفتی خلیل برکاتی
5 انوار شریعت, از مفتی جلال الدین امجدی
6 گستاخان صحابہ کا انجام از علامہ شامی
7 تعارف اہل سنت, علامہ یاسین اختر
8 ہم اور ہمارا ہندوستان, علامہ یاسین اختر
9 ہمفرے کے اعترافات
10 کتاب الایمان, اعلی حضرت
11 عقائد کوئز
12 قرآن کریم کوئز
13 اچھے رشتوں کی تلاش
14 صراط الابرار
15 عقائد و مسائل۔ مفتی صدیق ہزاروی
16 خواتین کی نماز
17 غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح
18 بدعات کے خلاف اعلی حضرت کے 100 فتوے
19 قرآن کریم اور سو عقائد
20 تمہید ایمان
21 روح اسلام۔ پروفیسر مسعود
22 امام احمد رضا کی فقہی بصیرت
23 امام احمد رضا اور عالم اسلام
24 اہل سنت اور نام نہاد اہل حدیث
25 گستاخان صحابہ کا انجام
26 آئینہ رافضیت
27 شان رب العالمین
28 طہارت کوئز
29 طلاق دینے کا طریقہ
30 بچوں کی تعلیم و تربیت
31 میں سنی کیوں ہوا؟
32 عقیدہ توحید و رسالت
33 بارہ ربیع الاول۔ فیض اویسی
34 ہمارے حضور
35 غوث الاعظم
36 میرے خواجہ
37 اولیاء کرام کوئز
38 نماز میں دل کیوں نہیں لگتا؟
39 خلفائے راشدین کوئز
40 اسلامی کوئز
41 جنرل نالج کوئز
42 آداب زندگی
43 شیطان کے مکروفریب اور اس کا علاج
44 اسلام کے پیغمبر (ہندی)
45 حضرت عمر کے سیاسی نظریے
46 عقائد علمائے دیوبند
47 جاء الحق بھی
48 حسام الحرمین
49 الصوارم الہندیہ
50 قانون شریعت
یہ فہرست ابھی حتمی نہیں ہے اس پر اور غور و فکر جاری ہے۔
ہماری ٹیم اسے جلد ہی مکمل کریگی۔
اس میں کچھ ہندی زبان کی کتابوں کا اضافہ کرنے کا ارادہ ہے۔
#نوٹ: جو لوگ اس پروجیکٹ کے تحت اپنی مسجد میں کتابیں منگانا چاہیں یا اس کام میں ہماری مدد کرنا چاہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔
Email: raushanmustaqbildelhi@gmail.com
WhatsApp: 9039778692
Call: 9140784535
#روشن_مستقبل، دہلی
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس کے پاس رسی بھی ہے ، اور سیڑھی بھی ؛ یہ کنویں میں گِرے ہوئے کو واقعی نکالنا چاہتا ، تو نکال سکتا تھا ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔
یہی حالت آج کل کے بعض دوست کہلانے والوں کی بھی ہے ، جو مدد کرسکتے ہیں ، لیکن کرتے نہیں ۔
رب تعالیٰ نہ ہمیں ایسا دوست دے ، نہ ہمیں کسی کے حق میں ایسا بنائے!
https://www.facebook.com/100008105947430/posts/2954097828203720/
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔
یہی حالت آج کل کے بعض دوست کہلانے والوں کی بھی ہے ، جو مدد کرسکتے ہیں ، لیکن کرتے نہیں ۔
رب تعالیٰ نہ ہمیں ایسا دوست دے ، نہ ہمیں کسی کے حق میں ایسا بنائے!
https://www.facebook.com/100008105947430/posts/2954097828203720/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 8 (عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے) (صندوق میں میرے کپڑے گیلے...) اس لڑکی نے اس ملازم سے کہا کہ اے استاد! آپ نے ہمارا اتنا قیمتی کپڑا اور عرق گلاب (گلاب کے پانی) کو برباد کر دیا۔ یہ…
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 9
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(اب محل سے باہر جانا تھا...)
مجھے پھر صندوق میں بٹھا کر حیلے سے باہر نکالا گیا اور اپنے گھر لوٹ کر میں نے صدقہ خیرات کیا (جان جو بچ گئی تھی) پھر کئی دنوں بعد ایک خادم میرے پاس خوب سارا سونا لے کر آیا اور مجھے بادشاہ کی ماں کا فرمان سنایا کہ یہ رقم لے لو اور اس سے لباس، سواریاں، نوکر چاکر اور ظاہری ٹھاٹ باٹھ کے لیے جو کچھ درکار ہے سب خرید لو اور جب بادشاہ کی کھلی کچہری لگتی ہے تو لوگ آتے ہیں، تم بھی آ جانا اور اس وقت تک وہیں رہنا جب تک تمھیں بلایا نہ جائے۔ بادشاہ نے تمھاری شادی کو تسلیم فرما لیا ہے۔
میں نے مال خریدنا شروع کر دیا اور جس دن بلایا گیا تھا، خوبصورت انداز میں سوار ہو کر گیا۔ لوگ بادشاہ کے پاس جا رہے تھے اور میں باہر کھڑا تھا یہاں تک کہ مجھے بلایا گیا اور میں بھی داخل ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ بادشاہ، جج حضرات اور شاہی خاندان کے عظیم لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں یہ مجلس دیکھ کر گھبرایا پھر مجھے بتایا گیا کہ بادشاہ کو اس طرح سلام کرو تو میں نے سلام کیا پھر مجھ سے ایجاب و قبول کرایا گیا۔ پھر میں اس مجلس سے باہر آیا تو مجھے ایک بڑے گھر کی طرف لے جایا گیا۔ اس گھر میں قیمتی قالین بچھی ہوئی تھی، ضروریات کا سامان بھی تھا اور خدمت گار بھی موجود تھے۔ میں نے ایسا خوبصورت سماں کبھی نہ دیکھا تھا۔
مجھے اس گھر میں اکیلا بٹھا دیا گیا، سب مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ میں وہاں کافی دیر تک رہا اور کسی ایسے شخص کو نہ دیکھا جسے میں جانتا تھا۔ میں وہاں سے کہیں نہیں گیا سوائے نماز ادا کرنے کی جگہ کے۔
نوکر چاکر آنا جانا کر رہے تھے اور کھانے کا بہت بڑا انتظام تھا۔ میں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آج فلاں (میری والی کا نام) اور کپڑے کے تاجر کی شب زفاف ہے اور میں خوشی کے مارے کچھ بول نہیں پا رہا تھا۔ جب رات ہوئی تو بھوک نے مجھے نڈھال کر دیا اور دروازوں پر تالے پڑ چکے تھے۔ میں گھر میں چکر کاٹنے لگا کہ میری نظر باورچی خانے پر پڑ گئی۔ میں نے وہاں پر باورچیوں کو بیٹھا ہوا دیکھا تو ان سے کھانا مانگا۔ انھوں نے مجھے نہیں پہچانا... جاری...
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(اب محل سے باہر جانا تھا...)
مجھے پھر صندوق میں بٹھا کر حیلے سے باہر نکالا گیا اور اپنے گھر لوٹ کر میں نے صدقہ خیرات کیا (جان جو بچ گئی تھی) پھر کئی دنوں بعد ایک خادم میرے پاس خوب سارا سونا لے کر آیا اور مجھے بادشاہ کی ماں کا فرمان سنایا کہ یہ رقم لے لو اور اس سے لباس، سواریاں، نوکر چاکر اور ظاہری ٹھاٹ باٹھ کے لیے جو کچھ درکار ہے سب خرید لو اور جب بادشاہ کی کھلی کچہری لگتی ہے تو لوگ آتے ہیں، تم بھی آ جانا اور اس وقت تک وہیں رہنا جب تک تمھیں بلایا نہ جائے۔ بادشاہ نے تمھاری شادی کو تسلیم فرما لیا ہے۔
میں نے مال خریدنا شروع کر دیا اور جس دن بلایا گیا تھا، خوبصورت انداز میں سوار ہو کر گیا۔ لوگ بادشاہ کے پاس جا رہے تھے اور میں باہر کھڑا تھا یہاں تک کہ مجھے بلایا گیا اور میں بھی داخل ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ بادشاہ، جج حضرات اور شاہی خاندان کے عظیم لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں یہ مجلس دیکھ کر گھبرایا پھر مجھے بتایا گیا کہ بادشاہ کو اس طرح سلام کرو تو میں نے سلام کیا پھر مجھ سے ایجاب و قبول کرایا گیا۔ پھر میں اس مجلس سے باہر آیا تو مجھے ایک بڑے گھر کی طرف لے جایا گیا۔ اس گھر میں قیمتی قالین بچھی ہوئی تھی، ضروریات کا سامان بھی تھا اور خدمت گار بھی موجود تھے۔ میں نے ایسا خوبصورت سماں کبھی نہ دیکھا تھا۔
مجھے اس گھر میں اکیلا بٹھا دیا گیا، سب مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ میں وہاں کافی دیر تک رہا اور کسی ایسے شخص کو نہ دیکھا جسے میں جانتا تھا۔ میں وہاں سے کہیں نہیں گیا سوائے نماز ادا کرنے کی جگہ کے۔
نوکر چاکر آنا جانا کر رہے تھے اور کھانے کا بہت بڑا انتظام تھا۔ میں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آج فلاں (میری والی کا نام) اور کپڑے کے تاجر کی شب زفاف ہے اور میں خوشی کے مارے کچھ بول نہیں پا رہا تھا۔ جب رات ہوئی تو بھوک نے مجھے نڈھال کر دیا اور دروازوں پر تالے پڑ چکے تھے۔ میں گھر میں چکر کاٹنے لگا کہ میری نظر باورچی خانے پر پڑ گئی۔ میں نے وہاں پر باورچیوں کو بیٹھا ہوا دیکھا تو ان سے کھانا مانگا۔ انھوں نے مجھے نہیں پہچانا... جاری...
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 10
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(باورچی نے مجھے نہیں پہچانا...)
اور کسی ملازم کے حوالے کر دیا جس نے مجھے اتنے عظیم کھانوں میں سے صرف دو روٹیاں لا کر دیں جن کو میں نے کھا لیا اور باورچی خانے میں موجود پانی سے ہاتھ دھو لیا اور سوچا کہ صاف ہو گئے ہیں اور اپنی جگہ لوٹ آیا۔
اچانک شہنائی کی آواز سنائی دی اور دروازے کھول دیے گئے اور میں نے دیکھا کہ میری محبت کو میرے پاس لایا جا رہا ہے۔ وہ اسے لے کر آئے اور میرے پاس بٹھا دیا۔ میں تو اتنا خوش تھا کہ اسے خواب سمجھ رہا تھا پھر اسے میرے پاس چھوڑ کر سب رخصت ہو گئے۔
جب ہم اکیلے ہوئے تو میں آگے بڑھا اور اس کو بوسہ دیا۔ اس نے مجھے بوسہ دیا اور میری داڑھی کو سونگھا تو دھکا دے کر بستر سے نیچے گرا دیا اور کہنے لگی کہ مجھے نہیں لگتا تھا کہ تو ایسا ہے، پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور اس سے لپٹ گیا۔ وہ جانے لگی تو میں نے اس کے پاؤں چومے، زمین چومی اور پوچھا کہ مجھے میرا گناہ تو بتا دو (پیار کیا کیا نہ کروائے) اس نے کہا کہ تم نے کھانا کھایا اور ہاتھ تک نہیں دھوئے۔
میں نے اسے اپنا سارا قصہ سنایا (مگر عورتوں کے نخرے...) پھر میں نے کہا کہ مجھے یہ قسم ہے اور یہ قسم ہے اور میں نے اس کی طلاق کا حلف اٹھا لیا اور اپنے مال کے صدقہ کرنے کا اور اس مال کا بھی جس کا میں کبھی مالک بنوں اور پیدل حج کرنے کا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے کا حلف اٹھایا اور ہر وہ قسم کھائی جو مسلمان کھایا کرتے ہیں (پیار کیا کیا نہ کروائے) میں نے قسم کھائی کہ دیکیریکہ (ایک قسم کا کھانا) نہیں کھاؤں گا، اگر کھاؤں گا تو چالیس مرتبہ اپنا ہاتھ دھوؤں گا۔ یہ سن کر وہ مسکرانے لگی اور زور سے بولی:
اے باندیوں! (تو دس کے قریب خادمائیں حاضر ہو گئیں) کچھ لاؤ، ہم کھانا کھائیں گے تو میرے سامنے بہت خوبصورت قسم کے کھانے لائے گئے۔ ہم نے ان کو کھایا اور ہاتھ دھوئے پھر اس نے پینے کی چیز طلب کی تو ہم نے پیا پھر ہم بستر پر چلے گئے۔ میں نے وہ رات بادشاہوں کی رات کی طرح گزاری اور ایک ہفتے تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے۔ پھر... جاری...
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(باورچی نے مجھے نہیں پہچانا...)
اور کسی ملازم کے حوالے کر دیا جس نے مجھے اتنے عظیم کھانوں میں سے صرف دو روٹیاں لا کر دیں جن کو میں نے کھا لیا اور باورچی خانے میں موجود پانی سے ہاتھ دھو لیا اور سوچا کہ صاف ہو گئے ہیں اور اپنی جگہ لوٹ آیا۔
اچانک شہنائی کی آواز سنائی دی اور دروازے کھول دیے گئے اور میں نے دیکھا کہ میری محبت کو میرے پاس لایا جا رہا ہے۔ وہ اسے لے کر آئے اور میرے پاس بٹھا دیا۔ میں تو اتنا خوش تھا کہ اسے خواب سمجھ رہا تھا پھر اسے میرے پاس چھوڑ کر سب رخصت ہو گئے۔
جب ہم اکیلے ہوئے تو میں آگے بڑھا اور اس کو بوسہ دیا۔ اس نے مجھے بوسہ دیا اور میری داڑھی کو سونگھا تو دھکا دے کر بستر سے نیچے گرا دیا اور کہنے لگی کہ مجھے نہیں لگتا تھا کہ تو ایسا ہے، پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور اس سے لپٹ گیا۔ وہ جانے لگی تو میں نے اس کے پاؤں چومے، زمین چومی اور پوچھا کہ مجھے میرا گناہ تو بتا دو (پیار کیا کیا نہ کروائے) اس نے کہا کہ تم نے کھانا کھایا اور ہاتھ تک نہیں دھوئے۔
میں نے اسے اپنا سارا قصہ سنایا (مگر عورتوں کے نخرے...) پھر میں نے کہا کہ مجھے یہ قسم ہے اور یہ قسم ہے اور میں نے اس کی طلاق کا حلف اٹھا لیا اور اپنے مال کے صدقہ کرنے کا اور اس مال کا بھی جس کا میں کبھی مالک بنوں اور پیدل حج کرنے کا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے کا حلف اٹھایا اور ہر وہ قسم کھائی جو مسلمان کھایا کرتے ہیں (پیار کیا کیا نہ کروائے) میں نے قسم کھائی کہ دیکیریکہ (ایک قسم کا کھانا) نہیں کھاؤں گا، اگر کھاؤں گا تو چالیس مرتبہ اپنا ہاتھ دھوؤں گا۔ یہ سن کر وہ مسکرانے لگی اور زور سے بولی:
اے باندیوں! (تو دس کے قریب خادمائیں حاضر ہو گئیں) کچھ لاؤ، ہم کھانا کھائیں گے تو میرے سامنے بہت خوبصورت قسم کے کھانے لائے گئے۔ ہم نے ان کو کھایا اور ہاتھ دھوئے پھر اس نے پینے کی چیز طلب کی تو ہم نے پیا پھر ہم بستر پر چلے گئے۔ میں نے وہ رات بادشاہوں کی رات کی طرح گزاری اور ایک ہفتے تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے۔ پھر... جاری...
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 11
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(اب محل سے رخصت ہونے کی باری آئی...)
وہاں سے جانے کا وقت آیا تو بادشاہ کی ماں نے کافی سامان اور سونا دیا۔ اس لڑکی، جو اب میری بیوی تھی، نے کہا کہ آج تک بادشاہ کی ماں نے کسی کے لیے ایسا نہیں کیا جیسا میرے لیے کیا ہے کیوں کہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں۔ اب تم جاؤ اور اس مال سے ایک شاندار مکان خریدو جس میں بہت بڑا باغ ہو اور بہت سے کمرے ہوں اور جب منتقل ہو جاؤ تو مجھے خبر کر دینا تاکہ میں بھی وہاں آ جاؤں۔
میں نے ایک مکان خریدا اور اپنی بیوی کو خبر کی تو وہ تمام نعمتیں اٹھا کر لے آئی اور یہ جتنی بھی چیزیں دکھائی دے رہی ہیں، سب اسی کی لائی ہوئی ہیں۔ وہ میرے ساتھ اتنے سالوں تک زندہ رہی اور میں اس کے ساتھ بادشاہوں جیسے عیش میں رہا لیکن میں اس کے باوجود تجارت بھی کرتا رہا، اس طرح میرا مال بڑھ گیا اور عظمت بلند ہو گئی۔ یہ جو بچے ہیں، اسی سے ہیں اور اب وہ نہیں رہی لیکن اس سبزی کی تلخی ابھی تک باقی ہے جس کی وجہ سے تم نے مجھے چالیس مرتبہ ہاتھ دھوتے ہوئے دیکھا۔
(علامہ ابن جوزی، ذم الھوی، ملخصاً)
اس روایت کو عام فہم انداز میں پیش کرنے کے لیے ہم نے مکمل واقعے کا خلاصہ نقل کیا ہے اور ضرورتاً کمی بیشی بھی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ذن الھوی میں درج کیا ہے۔ اس میں جس بادشاہ کا ذکر ہوا وہ خلیفہ مقتدر باللہ ہے۔ اس کہانی اور عاشقوں کی ایسی کئی کہانیاں ہیں جن سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے۔ عشق ہو جانے کے بعد عاشقوں کا حال ایک کتے سے بھی برا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے عشق کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے جیسا کہ مذکورہ واقعے میں اس تاجر شخص نے کیا کیا نہیں کیا۔
جاری...
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(اب محل سے رخصت ہونے کی باری آئی...)
وہاں سے جانے کا وقت آیا تو بادشاہ کی ماں نے کافی سامان اور سونا دیا۔ اس لڑکی، جو اب میری بیوی تھی، نے کہا کہ آج تک بادشاہ کی ماں نے کسی کے لیے ایسا نہیں کیا جیسا میرے لیے کیا ہے کیوں کہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں۔ اب تم جاؤ اور اس مال سے ایک شاندار مکان خریدو جس میں بہت بڑا باغ ہو اور بہت سے کمرے ہوں اور جب منتقل ہو جاؤ تو مجھے خبر کر دینا تاکہ میں بھی وہاں آ جاؤں۔
میں نے ایک مکان خریدا اور اپنی بیوی کو خبر کی تو وہ تمام نعمتیں اٹھا کر لے آئی اور یہ جتنی بھی چیزیں دکھائی دے رہی ہیں، سب اسی کی لائی ہوئی ہیں۔ وہ میرے ساتھ اتنے سالوں تک زندہ رہی اور میں اس کے ساتھ بادشاہوں جیسے عیش میں رہا لیکن میں اس کے باوجود تجارت بھی کرتا رہا، اس طرح میرا مال بڑھ گیا اور عظمت بلند ہو گئی۔ یہ جو بچے ہیں، اسی سے ہیں اور اب وہ نہیں رہی لیکن اس سبزی کی تلخی ابھی تک باقی ہے جس کی وجہ سے تم نے مجھے چالیس مرتبہ ہاتھ دھوتے ہوئے دیکھا۔
(علامہ ابن جوزی، ذم الھوی، ملخصاً)
اس روایت کو عام فہم انداز میں پیش کرنے کے لیے ہم نے مکمل واقعے کا خلاصہ نقل کیا ہے اور ضرورتاً کمی بیشی بھی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ذن الھوی میں درج کیا ہے۔ اس میں جس بادشاہ کا ذکر ہوا وہ خلیفہ مقتدر باللہ ہے۔ اس کہانی اور عاشقوں کی ایسی کئی کہانیاں ہیں جن سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے۔ عشق ہو جانے کے بعد عاشقوں کا حال ایک کتے سے بھی برا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے عشق کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے جیسا کہ مذکورہ واقعے میں اس تاجر شخص نے کیا کیا نہیں کیا۔
جاری...
عبد مصطفی
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
اکیلے زندگی کا سفر
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر لوگ تنہا سفر کرنے کے اس نقصان کو جان لیتے جسے میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات کو تنہا سفر نہ کرتا۔
(بخاری، 2998)
یہاں سوار کو تنہا سفر سے منع کیا گیا ہے تو ایک سوال یہ ہے کہ کیا جو پیدل ہو وہ سفر کر سکتا ہے؟
علما فرماتے ہیں کہ جو پیدل ہو اس کے لیے تو زیادہ منع ہوگا کہ اکیلا سفر کرے کیونکہ سوار کو سواری (کے جانور) سے انس (محبت، راحت) حاصل ہوتا ہے اور پیدل انس سے خالی ہوتا ہے۔
یہ تو رات کا سفر ہے کہ اکیلے کرنا اچھا نہیں پھر زندگی کا سفر جس میں تاریکیوں سے بھرے رستے ہیں، ان کو اکیلے پار کرنا کس طرح مناسب ہو سکتا ہے،
اکیلا انسان اکیلا ہوتا ہے، اگر ایک ہمسفر ہو تو راستے آسان ہو جاتے ہیں۔
علما لکھتے ہیں کہ اکیلے پیدل سفر کرنے والا اگر راستے میں سو جائے تو اس کو جگانے والا کوئی نہیں ہوگا اور اگر اس پر کوئی مصیبت آجائے تو مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
(دیکھیے نعم الباری شرح صحیح بخاری)
خاص لوگوں کی بات تو جدا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہوتے، انھیں اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے جیسا کہ حضور نے سفر کی دعا فرمائی کہ اے اللہ سفر میں تو میرا ساتھی ہے۔
(ملسم)
عام لوگوں کو ہر سفر میں ہمسفر کی ضرورت ہے،
ایمان و عقیدے کے لیے صالحین کا ساتھ چاہیے،
ایک بچے کو والدین کا ساتھ چاہیے،
پروان چڑھنے کے لیے اچھی صحبت چاہیے،
ایک مرد کو ایک عورت کے ساتھ کی ضرورت ہے،
ایک عورت کو ایک مرد بطورِ ہمسفر چاہیے،
کبھی ایک دوست تو کبھی ایک دشمن کی شکل میں بھی ہمسفر کی ضرورت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اس زندگی کے سفر کو آسان فرمائے۔
عبد مصطفی
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر لوگ تنہا سفر کرنے کے اس نقصان کو جان لیتے جسے میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات کو تنہا سفر نہ کرتا۔
(بخاری، 2998)
یہاں سوار کو تنہا سفر سے منع کیا گیا ہے تو ایک سوال یہ ہے کہ کیا جو پیدل ہو وہ سفر کر سکتا ہے؟
علما فرماتے ہیں کہ جو پیدل ہو اس کے لیے تو زیادہ منع ہوگا کہ اکیلا سفر کرے کیونکہ سوار کو سواری (کے جانور) سے انس (محبت، راحت) حاصل ہوتا ہے اور پیدل انس سے خالی ہوتا ہے۔
یہ تو رات کا سفر ہے کہ اکیلے کرنا اچھا نہیں پھر زندگی کا سفر جس میں تاریکیوں سے بھرے رستے ہیں، ان کو اکیلے پار کرنا کس طرح مناسب ہو سکتا ہے،
اکیلا انسان اکیلا ہوتا ہے، اگر ایک ہمسفر ہو تو راستے آسان ہو جاتے ہیں۔
علما لکھتے ہیں کہ اکیلے پیدل سفر کرنے والا اگر راستے میں سو جائے تو اس کو جگانے والا کوئی نہیں ہوگا اور اگر اس پر کوئی مصیبت آجائے تو مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
(دیکھیے نعم الباری شرح صحیح بخاری)
خاص لوگوں کی بات تو جدا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہوتے، انھیں اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے جیسا کہ حضور نے سفر کی دعا فرمائی کہ اے اللہ سفر میں تو میرا ساتھی ہے۔
(ملسم)
عام لوگوں کو ہر سفر میں ہمسفر کی ضرورت ہے،
ایمان و عقیدے کے لیے صالحین کا ساتھ چاہیے،
ایک بچے کو والدین کا ساتھ چاہیے،
پروان چڑھنے کے لیے اچھی صحبت چاہیے،
ایک مرد کو ایک عورت کے ساتھ کی ضرورت ہے،
ایک عورت کو ایک مرد بطورِ ہمسفر چاہیے،
کبھی ایک دوست تو کبھی ایک دشمن کی شکل میں بھی ہمسفر کی ضرورت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اس زندگی کے سفر کو آسان فرمائے۔
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
رافضیوں کا کوئی عالم بھرے مجمعے میں یہاں تک بھی کَہ دے :
" سنی ہمارے بھائی ہیں ، ہم بھی سنی ہیں "
تو سارا مجمع داد دیتا ہے ، کوئی ایک رافضی بھی اٹھ کر اس پر فتوی نہیں لگاتا ۔
( یہ فرضی بات نہیں ، واقعی ایسا ہوا ہے )
کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ:
" رافضی قوم اپنے علما و مراجع پر اندھا اعتماد کرتی ہے ، وہ جانتی ہے کہ ہمارے مقتدا اگر ایسا کرتے ہیں تو موقع محل کی مناسبت سے کرتے ہیں ، اور اہل سنت کیجڑیں کاٹنے کے لیے ہی کرتے ہیں ۔ "
اِس کے برعکس :
" اگر کوئی سُنی عالم کسی حکمتِ بالغہ کے تحت کوئی اِقدام کرے تو ہمارے بعض عوام سارے ادب آداب بالائے طاق رکھ کر ، لٹھ لے کر اس پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔ "
پیارے بھائیو ، ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے !!
اگر ہم اپنے ہم مسلک علما پر اعتماد نہیں کریں گے تو بدمذہبوں کے خلاف فتح کیسے حاصل کرسکیں گے ۔
اپنے علما پر اعتماد کریں ، ان پر طعن تشنیع کرنا چھوڑ دیں ۔
اگر آپ کو کسی عالمِ دین کے طریقہ کار کی سمجھ نہیں آتی تو اُس عالم کی پیروی کرلیں جن کا طرزِ عمل آپ کو بھاتا ہے ، انشاءاللہ آپ کی نجات ہوجائے گی ۔
لیکن اگر آپ دیگر علما پر تہمتیں لگاتے رہے ، گالم گلوچ سے کام لیتے رہےتو مسلک کے نقصان کے ساتھ ، خواہ مخواہ اپنی آخرت بھی برباد کربیٹھیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
" سنی ہمارے بھائی ہیں ، ہم بھی سنی ہیں "
تو سارا مجمع داد دیتا ہے ، کوئی ایک رافضی بھی اٹھ کر اس پر فتوی نہیں لگاتا ۔
( یہ فرضی بات نہیں ، واقعی ایسا ہوا ہے )
کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ:
" رافضی قوم اپنے علما و مراجع پر اندھا اعتماد کرتی ہے ، وہ جانتی ہے کہ ہمارے مقتدا اگر ایسا کرتے ہیں تو موقع محل کی مناسبت سے کرتے ہیں ، اور اہل سنت کیجڑیں کاٹنے کے لیے ہی کرتے ہیں ۔ "
اِس کے برعکس :
" اگر کوئی سُنی عالم کسی حکمتِ بالغہ کے تحت کوئی اِقدام کرے تو ہمارے بعض عوام سارے ادب آداب بالائے طاق رکھ کر ، لٹھ لے کر اس پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔ "
پیارے بھائیو ، ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے !!
اگر ہم اپنے ہم مسلک علما پر اعتماد نہیں کریں گے تو بدمذہبوں کے خلاف فتح کیسے حاصل کرسکیں گے ۔
اپنے علما پر اعتماد کریں ، ان پر طعن تشنیع کرنا چھوڑ دیں ۔
اگر آپ کو کسی عالمِ دین کے طریقہ کار کی سمجھ نہیں آتی تو اُس عالم کی پیروی کرلیں جن کا طرزِ عمل آپ کو بھاتا ہے ، انشاءاللہ آپ کی نجات ہوجائے گی ۔
لیکن اگر آپ دیگر علما پر تہمتیں لگاتے رہے ، گالم گلوچ سے کام لیتے رہےتو مسلک کے نقصان کے ساتھ ، خواہ مخواہ اپنی آخرت بھی برباد کربیٹھیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
#ٹکنالوجی_زندگی_نہیں_ہے؟
منقول
- "کل میں نے اپنے والد کے ساتھ ایک گھنٹہ بینک میں گزارا تھا ، کیونکہ انہیں کچھ رقم منتقل کرنا پڑی۔ میں خود مزاحمت نہیں کرسکا اور پوچھا ...
'' والد ، آپ اپنا انٹرنیٹ بینکنگ کیوں نہیں چالو کرتے ہیں؟ ''
'' میں ایسا کیوں کروں گا؟ '' انہوں نے جواب دیا ...
'' ٹھیک ہے ، پھر آپ کو منتقلی جیسی چیزوں کے لیہ یہاں ایک گھنٹہ نہیں گزارنا پڑے گا۔
یہاں تک کہ آپ اپنی شاپنگ آن لائن بھی کرسکتے ہیں۔ سب کچھ بہت آسان ہوگا! ''
میں انہیں نیٹ بینکنگ کی دنیا میں متعارف کرانے کے بارے میں بہت پرجوش تھا۔
انہوں نے پوچھا '' اگر میں یہ کروں تو ، مجھے گھر سے نکلنا نہیں پڑے گا؟
''ہاں ہاں''! میں نے کہا. میں نے انہیں بتایا کہ یہاں تک کہ کھانے پینے کی چیزیں بھی اب گھر پر کس طرح پہنچائی جاسکتی ہیں اور ایمیزون کس طرح سب کچھ فراہم کرتا ہے!
ان کے جواب نے مجھے زبان سے باندھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ '' جب سے میں آج اس بینک میں داخل ہوا ہوں ، میں نے اپنے چار دوستوں سے ملاقات کی ہے ، میں نے عملے سے کچھ دیر گفتگو کی ہے جو اب تک مجھے اچھی طرح سے جانتے ہیں۔
میں تنہا ہوں ... یہ وہ کمپنی ہے جس کی مجھے ضرورت ہے۔ مجھے تیار ہوکر بینک آنا پسند ہے۔ میرے پاس کافی وقت ہے ، یہ وہ جسمانی لمس ہے جو مجھے پسند ہے۔
دو سال پہلے میں بیمار ہوا ، اس اسٹور کا مالک جس سے میں پھل خریدتا ہوں ، مجھے دیکھنے آیا اور میرے پلنگ کے پاس بیٹھ گیا اور میری صحت کے بارے میں سوال کیا
جب آپ کی والدہ صبح کی سیر کے دوران کچھ دن پہلے گر گئیں۔ ہمارے مقامی دکاندار نے اسے دیکھا اور فوری طور پر اسے نزدیکی اسپتال لے گیا اور فون کے ذریعہ ہمیں اس کی اطلاع دی کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں کہاں رہتا ہوں۔
کیا سب کچھ آن لائن ہوجاتا ہے؟
میں کیوں چاہتا ہوں کہ سب کچھ مجھ تک پہنچا دیا جائے اور مجھے صرف اپنے کمپیوٹر کے ساتھ بات چیت کرنے پر مجبور کیا جائے؟
میں اس شخص کو جاننا چاہتا ہوں جس کے ساتھ میں صرف 'فروخت کنندہ' نہیں بلکہ معاملہ کر رہا ہوں۔ یہ رشتوں کے رشتوں کو تشکیل دیتا ہے۔
کیا ایمیزون بھی یہ سب فراہم کرتا ہے؟ ''
ٹیکنالوجی زندگی نہیں ہے ..
لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں .. آلات کے ساتھ نہیں۔ "
منقول
- "کل میں نے اپنے والد کے ساتھ ایک گھنٹہ بینک میں گزارا تھا ، کیونکہ انہیں کچھ رقم منتقل کرنا پڑی۔ میں خود مزاحمت نہیں کرسکا اور پوچھا ...
'' والد ، آپ اپنا انٹرنیٹ بینکنگ کیوں نہیں چالو کرتے ہیں؟ ''
'' میں ایسا کیوں کروں گا؟ '' انہوں نے جواب دیا ...
'' ٹھیک ہے ، پھر آپ کو منتقلی جیسی چیزوں کے لیہ یہاں ایک گھنٹہ نہیں گزارنا پڑے گا۔
یہاں تک کہ آپ اپنی شاپنگ آن لائن بھی کرسکتے ہیں۔ سب کچھ بہت آسان ہوگا! ''
میں انہیں نیٹ بینکنگ کی دنیا میں متعارف کرانے کے بارے میں بہت پرجوش تھا۔
انہوں نے پوچھا '' اگر میں یہ کروں تو ، مجھے گھر سے نکلنا نہیں پڑے گا؟
''ہاں ہاں''! میں نے کہا. میں نے انہیں بتایا کہ یہاں تک کہ کھانے پینے کی چیزیں بھی اب گھر پر کس طرح پہنچائی جاسکتی ہیں اور ایمیزون کس طرح سب کچھ فراہم کرتا ہے!
ان کے جواب نے مجھے زبان سے باندھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ '' جب سے میں آج اس بینک میں داخل ہوا ہوں ، میں نے اپنے چار دوستوں سے ملاقات کی ہے ، میں نے عملے سے کچھ دیر گفتگو کی ہے جو اب تک مجھے اچھی طرح سے جانتے ہیں۔
میں تنہا ہوں ... یہ وہ کمپنی ہے جس کی مجھے ضرورت ہے۔ مجھے تیار ہوکر بینک آنا پسند ہے۔ میرے پاس کافی وقت ہے ، یہ وہ جسمانی لمس ہے جو مجھے پسند ہے۔
دو سال پہلے میں بیمار ہوا ، اس اسٹور کا مالک جس سے میں پھل خریدتا ہوں ، مجھے دیکھنے آیا اور میرے پلنگ کے پاس بیٹھ گیا اور میری صحت کے بارے میں سوال کیا
جب آپ کی والدہ صبح کی سیر کے دوران کچھ دن پہلے گر گئیں۔ ہمارے مقامی دکاندار نے اسے دیکھا اور فوری طور پر اسے نزدیکی اسپتال لے گیا اور فون کے ذریعہ ہمیں اس کی اطلاع دی کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں کہاں رہتا ہوں۔
کیا سب کچھ آن لائن ہوجاتا ہے؟
میں کیوں چاہتا ہوں کہ سب کچھ مجھ تک پہنچا دیا جائے اور مجھے صرف اپنے کمپیوٹر کے ساتھ بات چیت کرنے پر مجبور کیا جائے؟
میں اس شخص کو جاننا چاہتا ہوں جس کے ساتھ میں صرف 'فروخت کنندہ' نہیں بلکہ معاملہ کر رہا ہوں۔ یہ رشتوں کے رشتوں کو تشکیل دیتا ہے۔
کیا ایمیزون بھی یہ سب فراہم کرتا ہے؟ ''
ٹیکنالوجی زندگی نہیں ہے ..
لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں .. آلات کے ساتھ نہیں۔ "
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*🌹خوش خبری🌹*
برادران اہل سنت کے لئے نہایت مسرت افزا خبر ہے کہ اپنی جماعت کے قابل فخر عالم دین حضرت علامہ مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی مد ظلہ مفتی احناف اوقاف ابوظبی نے تاتارستان روس میں واقع بلغار یونیورسٹی (بلغار اسلامک اکیڈمی) سے فقہ اسلامی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔
آپ کی پی ایچ ڈی کا موضوع "الرخصة في الشريعة الإسلامية " ہے ۔
خاص بات یہ ہے کہ مفتی صاحب نے اس موضوع پر چارسو صفحات کا جو تفصیلی و تحقیقی مقالہ سپرد قرطاس کیا ہےاس کا مرکز و محور امام اہل سنت اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے درج ذیل تین رسالے ہیں:
(1) الأحلى من السكر لطلبة سكر روسر
(2) سلب الثلب عن القائلين بطهارة الكلب
(3) جلي النص في أماكن الرخص
مفتی صاحب نے ان رسائل کا عربی ترجمہ کرکے تحقیق و تجزیہ پیش کیا ہے ،مقالے کا مکمل عنوان ہے :
"الرخصة في الشريعة الإسلامية من خلال رسائل الإمام أحمد رضا خان الماتريدي الحنفي دراسة و تحقيق و ترجمة "
مورخہ 9 ستمبر 2020 کو مناقشہ ہوا،اور مفتی صاحب کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی ۔
ایکسپرٹس ٹیم ڈاکٹر بدیع سید لحام دمشق، ڈاکٹر محمد ایمن زھراوی دمشق اور ڈاکٹر رستم نور علی روس سمیت پندرہ انٹر نیشنل ایکسپرٹس پر مشتمل تھی۔
حضرت مفتی محمد اسلم رضا صاحب قبلہ کا یہ کارنامہ مضبوط و مستحکم طور پر فکر رضا کی ترسیل کا عمدہ نمونہ اور رضویات کے باب میں ایک گرانقدر اضافہ ہے۔
اس عظیم کارنامے پر مفتی صاحب لائق صد تبریک و تحسین ہیں ۔
دار العلوم علیمیہ کے اساتذہ اراکین اور جماعت علیمیہ کے جملہ وابستگان مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی مد ظلہ العالی کو مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ مفتی صاحب کی پی ایچ ڈی کے سپر وائزر فاضل علوم اسلامیہ حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ صدر المدرسین دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی تھے ،آپ ہی کی نگرانی اور رہنمائی میں یہ پی ایچ ڈی مکمل ہوئی ہے۔
بلغار اکیڈمی نے حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ کو اپنے یہاں پی ایچ ڈی مشرف کا منصب تفویض کر رکھا ہے، نیز آپ مذکورہ اکیڈمی کے پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر کے ممتحن بھی ہیں۔
حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب کو ملنے والا یہ اعزار دار العلوم علیمیہ اور جماعت علیمیہ کے لئے بالخصوص اور بالعموم برادران اہل سنت کے لئے بڑے فخر و شرف کی بات ہے۔
رپورٹ:
محمد طیب علیمی
دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی
14/09/2020
برادران اہل سنت کے لئے نہایت مسرت افزا خبر ہے کہ اپنی جماعت کے قابل فخر عالم دین حضرت علامہ مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی مد ظلہ مفتی احناف اوقاف ابوظبی نے تاتارستان روس میں واقع بلغار یونیورسٹی (بلغار اسلامک اکیڈمی) سے فقہ اسلامی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔
آپ کی پی ایچ ڈی کا موضوع "الرخصة في الشريعة الإسلامية " ہے ۔
خاص بات یہ ہے کہ مفتی صاحب نے اس موضوع پر چارسو صفحات کا جو تفصیلی و تحقیقی مقالہ سپرد قرطاس کیا ہےاس کا مرکز و محور امام اہل سنت اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے درج ذیل تین رسالے ہیں:
(1) الأحلى من السكر لطلبة سكر روسر
(2) سلب الثلب عن القائلين بطهارة الكلب
(3) جلي النص في أماكن الرخص
مفتی صاحب نے ان رسائل کا عربی ترجمہ کرکے تحقیق و تجزیہ پیش کیا ہے ،مقالے کا مکمل عنوان ہے :
"الرخصة في الشريعة الإسلامية من خلال رسائل الإمام أحمد رضا خان الماتريدي الحنفي دراسة و تحقيق و ترجمة "
مورخہ 9 ستمبر 2020 کو مناقشہ ہوا،اور مفتی صاحب کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی ۔
ایکسپرٹس ٹیم ڈاکٹر بدیع سید لحام دمشق، ڈاکٹر محمد ایمن زھراوی دمشق اور ڈاکٹر رستم نور علی روس سمیت پندرہ انٹر نیشنل ایکسپرٹس پر مشتمل تھی۔
حضرت مفتی محمد اسلم رضا صاحب قبلہ کا یہ کارنامہ مضبوط و مستحکم طور پر فکر رضا کی ترسیل کا عمدہ نمونہ اور رضویات کے باب میں ایک گرانقدر اضافہ ہے۔
اس عظیم کارنامے پر مفتی صاحب لائق صد تبریک و تحسین ہیں ۔
دار العلوم علیمیہ کے اساتذہ اراکین اور جماعت علیمیہ کے جملہ وابستگان مفتی محمد اسلم رضا میمن تحسینی مد ظلہ العالی کو مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ مفتی صاحب کی پی ایچ ڈی کے سپر وائزر فاضل علوم اسلامیہ حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ صدر المدرسین دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی تھے ،آپ ہی کی نگرانی اور رہنمائی میں یہ پی ایچ ڈی مکمل ہوئی ہے۔
بلغار اکیڈمی نے حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ کو اپنے یہاں پی ایچ ڈی مشرف کا منصب تفویض کر رکھا ہے، نیز آپ مذکورہ اکیڈمی کے پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر کے ممتحن بھی ہیں۔
حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب کو ملنے والا یہ اعزار دار العلوم علیمیہ اور جماعت علیمیہ کے لئے بالخصوص اور بالعموم برادران اہل سنت کے لئے بڑے فخر و شرف کی بات ہے۔
رپورٹ:
محمد طیب علیمی
دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی
14/09/2020
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ASLAM NABEEL AZHARI
فقہ حنفی کی ایک امتیازی خوبی
فقہ حنفی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں آئندہ پیش آنے والے مسائل کو فرض کرکے پہلے ہی سے ان کو حل کر لیا گیا ہے۔
اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ مفتیان کرام کے پاس نو پید مسائل کے جواب پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
دوسرا فائدہ یہ ہے کہ طلبہ کے اندر جدید مسائل کے حل کرنے کا ملکہ پیدا ہوجاتا ہے۔
جب کہ دوسرے فقہی مذاہب میں یہ خوبی شاید باید ہی نظر آئے گی ۔ کیوں کہ دوسرے فقہا واقعہ پیش آنے کے بعد اس کا حل تلاش کرتے تھے۔
مؤسس مذہب سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے جب اس سلسلے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: نستعد للبلاء قبل نزوله۔
نزول بلا سے پہلے اس کے دفع کی تیاری کر رہے ہیں۔
علما فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے تقریباً ساٹھ ہزار(60000) مسائل کے پہلے ہی سے جوابات تیار فرما دئیے تھے، بلکہ ایک روایت میں تو تین لاکھ (300000) کا عدد بھی آیا ہے.
اس سے فقہ حنفی کی خصوصا اور فقہ اسلامی کی عموما وسعت کا پتا چلتا ہے۔
کسی سے پوشیدہ نہیں کہ روز مرہ نت نئے مسائل، واقعے، حادثے رونماں ہوتے رہتے ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے، مگر آج تک کوئی ایسا مسئلہ سن نے میں نہیں آیا جس کا حل فقہ اسلامی میں موجود نہ ہو۔
فقہ حنفی کی مذکورہ خوبی سے متعلق ذیل میں ایک واقعہ پیش کیا جاتا ہے، اس واقعے سے جہاں فقہ حنفی کی بالا دستی پر روشنی پڑتی ہے، وہیں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی فقہی بصیرت کا بھی پتا چلتا ہے۔
چناں چہ علامہ سید احمد بن محمد شہاب الدین حموی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (م1098ھ)اپنی کتاب مستطاب " غمز عیون البصائر " میں لکھتے ہیں کہ :
مشہور محدث ومفسر علامہ قتادہ بن دعامہ سدوسی بصری(م118ھ ) جب کوفہ تشریف لائے، آپ کے لئے علمی مجلس سجائی گئی، لوگوں کاازدحام کثیر اکٹھا ہوگیا، امام قتادہ نے اعلان عام فرمایا: "سلونی عن الفقہ" فقہ سے متعلق جو چاہو مجھ سے پوچھ لو!.
حاضرین میں ہمارے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف رکھتے تھے، آپ نے کھڑے ہوکر حضرت قتادہ سے پوچھا:
" اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو اپنی بیوی کو چھوڑ کر کہیں چلا گیا، کئی سال غائب رہا، کچھ عرصے بعد اس کی موت کی خبر آگئی، اس کی بیوی نے دوسرے شوہر سے نکاح کر لیا، اور دوسرے شوہر سے بچے بھی ہوگئے، پھر اچانک شوہر اول آگیا، بیوی سے بولا: اے زانیہ!
"تونے میری موجودگی میں دوسرے شوہر سے نکاح کر لیا"۔
پھر شوہر ثانی بولا: اے زانیہ!
"پہلے سے شوہر ہوتے ساتے تو نے مجھ سے نکاح کر لیا"۔
جواب عنایت فرمائیے کہ ایسی صورت میں کیا اس عورت پر حد جاری کی جائے گی؟ ۔ اور یہ بتائیےکہ یہ بچے کس کے ہوں گے؟.
حضرت قتادہ نے کچھ دیر غور وفکر کرنے کے بعد کہا:
کیا یہ مسئلہ پیش آچکا ہے؟۔
امام ابو حنیفہ نے فرمایا: نہیں، ولکن نستعد للبلاء قبل نزولہ.
ترجمہ: نزول بلا سے پہلے ہم بلا سے نپٹنے کی تیاری کر رہے ہیں.
یہ سن کر حضرت قتادہ نے فرمایا: جب تک یہ لڑکا (امام ابو حنیفہ) کوفے میں ہے میں کسی مجلس میں حاضر نہیں ہوں گا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ کوئی ایسا مسئلہ بھی مجھ سے پوچھ لےگا۔
(غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر از علامہ شہاب الدین حموی(م1098ھ)(ج4 ص328)۔
(تاریخ بغداد از خطیب بغدادی)۔
ناصر السنہ، عالم قریش، امام مجتہد، حضرت امام محمد بن ادریس شافعی (م 204ھ) نے ایسے ہی تھوڑی نہ فرمایا تھا کہ: الفقهاء عيال على أبي حنيفة في الفقه.
ترجمہ: فقہا علم فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں۔
اور اہل فہم پر روشن ہے کہ متقدمین کے کلام میں فقیہ سے مجتہد مراد ہوتا ہے، جیسے بحر العلم، حبر الامۃ، رئیس المفسرین، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (م 68ھ) نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ(60ھ) کی بابت فرمایا تھا: إنه فقيه. بے شک معاویہ فقیہ (مجتہد) ہیں۔
(صحيح البخاري، كتاب فضائل الصحابة، باب: ذكر معاوية).
امام شافعی نے مزید ایک مرتبہ فرمایا: من أراد أن يتبحر في الفقه فهو عيال على أبي حنيفة.
ترجمہ: جو کوئی فقہ میں عبور حاصل کرنا چاہتا ہے وہ امام ابو حنیفہ کا محتاج ہے۔ (تاریخ بغداد 13/346 )۔
مشہور ناقد، امام محمد بن احمد بن عثمان بن قايماز ترکمانی، ذہبی (م748ھ) امام اعظم ابو حنیفہ کے تعلق سے لکھتے ہیں:
الإمامة في الفقه ودقائقه، مسلّمة إلى هذا الإمام. وهذا أمر لا شك فيه».
ترجمہ: بلا شک و شبہ فقہ اور اس کے دقیق مسائل کی امامت امام ابو حنیفہ کو سونپ دی گئی ہے۔
ایک جگہ اور فرماتے ہیں: كلام أبي حنيفة في الفقه أدق من الشعر، لايعيبه إلا جاهل.
ترجمہ: فقہ کے سلسلے میں امام ابو حنیفہ کی گفتگو بال سے زیادہ دقیق ہوتی ہے، آپ کی عیب جوئی نہیں کرے گا مگر جاہل۔
(سیر اعلام النبلاء، ترجمۃ الامام ابی حنیفۃ)۔
اللہ جل جلالہ اپنے محبوب بندوں کے طفیل ہمیں فقہ اسلامی میں وسعت وتعمق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم
# محمد اسلم نبیل ازہری
٢٧/محرم الحر
فقہ حنفی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں آئندہ پیش آنے والے مسائل کو فرض کرکے پہلے ہی سے ان کو حل کر لیا گیا ہے۔
اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ مفتیان کرام کے پاس نو پید مسائل کے جواب پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
دوسرا فائدہ یہ ہے کہ طلبہ کے اندر جدید مسائل کے حل کرنے کا ملکہ پیدا ہوجاتا ہے۔
جب کہ دوسرے فقہی مذاہب میں یہ خوبی شاید باید ہی نظر آئے گی ۔ کیوں کہ دوسرے فقہا واقعہ پیش آنے کے بعد اس کا حل تلاش کرتے تھے۔
مؤسس مذہب سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے جب اس سلسلے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: نستعد للبلاء قبل نزوله۔
نزول بلا سے پہلے اس کے دفع کی تیاری کر رہے ہیں۔
علما فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے تقریباً ساٹھ ہزار(60000) مسائل کے پہلے ہی سے جوابات تیار فرما دئیے تھے، بلکہ ایک روایت میں تو تین لاکھ (300000) کا عدد بھی آیا ہے.
اس سے فقہ حنفی کی خصوصا اور فقہ اسلامی کی عموما وسعت کا پتا چلتا ہے۔
کسی سے پوشیدہ نہیں کہ روز مرہ نت نئے مسائل، واقعے، حادثے رونماں ہوتے رہتے ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے، مگر آج تک کوئی ایسا مسئلہ سن نے میں نہیں آیا جس کا حل فقہ اسلامی میں موجود نہ ہو۔
فقہ حنفی کی مذکورہ خوبی سے متعلق ذیل میں ایک واقعہ پیش کیا جاتا ہے، اس واقعے سے جہاں فقہ حنفی کی بالا دستی پر روشنی پڑتی ہے، وہیں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی فقہی بصیرت کا بھی پتا چلتا ہے۔
چناں چہ علامہ سید احمد بن محمد شہاب الدین حموی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (م1098ھ)اپنی کتاب مستطاب " غمز عیون البصائر " میں لکھتے ہیں کہ :
مشہور محدث ومفسر علامہ قتادہ بن دعامہ سدوسی بصری(م118ھ ) جب کوفہ تشریف لائے، آپ کے لئے علمی مجلس سجائی گئی، لوگوں کاازدحام کثیر اکٹھا ہوگیا، امام قتادہ نے اعلان عام فرمایا: "سلونی عن الفقہ" فقہ سے متعلق جو چاہو مجھ سے پوچھ لو!.
حاضرین میں ہمارے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف رکھتے تھے، آپ نے کھڑے ہوکر حضرت قتادہ سے پوچھا:
" اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو اپنی بیوی کو چھوڑ کر کہیں چلا گیا، کئی سال غائب رہا، کچھ عرصے بعد اس کی موت کی خبر آگئی، اس کی بیوی نے دوسرے شوہر سے نکاح کر لیا، اور دوسرے شوہر سے بچے بھی ہوگئے، پھر اچانک شوہر اول آگیا، بیوی سے بولا: اے زانیہ!
"تونے میری موجودگی میں دوسرے شوہر سے نکاح کر لیا"۔
پھر شوہر ثانی بولا: اے زانیہ!
"پہلے سے شوہر ہوتے ساتے تو نے مجھ سے نکاح کر لیا"۔
جواب عنایت فرمائیے کہ ایسی صورت میں کیا اس عورت پر حد جاری کی جائے گی؟ ۔ اور یہ بتائیےکہ یہ بچے کس کے ہوں گے؟.
حضرت قتادہ نے کچھ دیر غور وفکر کرنے کے بعد کہا:
کیا یہ مسئلہ پیش آچکا ہے؟۔
امام ابو حنیفہ نے فرمایا: نہیں، ولکن نستعد للبلاء قبل نزولہ.
ترجمہ: نزول بلا سے پہلے ہم بلا سے نپٹنے کی تیاری کر رہے ہیں.
یہ سن کر حضرت قتادہ نے فرمایا: جب تک یہ لڑکا (امام ابو حنیفہ) کوفے میں ہے میں کسی مجلس میں حاضر نہیں ہوں گا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ کوئی ایسا مسئلہ بھی مجھ سے پوچھ لےگا۔
(غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر از علامہ شہاب الدین حموی(م1098ھ)(ج4 ص328)۔
(تاریخ بغداد از خطیب بغدادی)۔
ناصر السنہ، عالم قریش، امام مجتہد، حضرت امام محمد بن ادریس شافعی (م 204ھ) نے ایسے ہی تھوڑی نہ فرمایا تھا کہ: الفقهاء عيال على أبي حنيفة في الفقه.
ترجمہ: فقہا علم فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں۔
اور اہل فہم پر روشن ہے کہ متقدمین کے کلام میں فقیہ سے مجتہد مراد ہوتا ہے، جیسے بحر العلم، حبر الامۃ، رئیس المفسرین، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (م 68ھ) نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ(60ھ) کی بابت فرمایا تھا: إنه فقيه. بے شک معاویہ فقیہ (مجتہد) ہیں۔
(صحيح البخاري، كتاب فضائل الصحابة، باب: ذكر معاوية).
امام شافعی نے مزید ایک مرتبہ فرمایا: من أراد أن يتبحر في الفقه فهو عيال على أبي حنيفة.
ترجمہ: جو کوئی فقہ میں عبور حاصل کرنا چاہتا ہے وہ امام ابو حنیفہ کا محتاج ہے۔ (تاریخ بغداد 13/346 )۔
مشہور ناقد، امام محمد بن احمد بن عثمان بن قايماز ترکمانی، ذہبی (م748ھ) امام اعظم ابو حنیفہ کے تعلق سے لکھتے ہیں:
الإمامة في الفقه ودقائقه، مسلّمة إلى هذا الإمام. وهذا أمر لا شك فيه».
ترجمہ: بلا شک و شبہ فقہ اور اس کے دقیق مسائل کی امامت امام ابو حنیفہ کو سونپ دی گئی ہے۔
ایک جگہ اور فرماتے ہیں: كلام أبي حنيفة في الفقه أدق من الشعر، لايعيبه إلا جاهل.
ترجمہ: فقہ کے سلسلے میں امام ابو حنیفہ کی گفتگو بال سے زیادہ دقیق ہوتی ہے، آپ کی عیب جوئی نہیں کرے گا مگر جاہل۔
(سیر اعلام النبلاء، ترجمۃ الامام ابی حنیفۃ)۔
اللہ جل جلالہ اپنے محبوب بندوں کے طفیل ہمیں فقہ اسلامی میں وسعت وتعمق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم
# محمد اسلم نبیل ازہری
٢٧/محرم الحر
Forwarded from ASLAM NABEEL AZHARI
ام ١٤٤٢/ھ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM