Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں
تیسری عید بدعت ہے ،بدعت گمراہی ہے
اور ہر گمراہ کا ٹھکانہ جہنم ہے
عید میلاد منانے والے بدعتی ہیں
یا رسول اللہ کہنا بھی بدعت ہے ،کیونکہ ،یا ،حرف نداء ہے
جو زندہ کیلئے استعمال ہوتا ہے
عافیتک عیدنا
کی گرائمر بتاتا ہوں
عافیت ،صحت یابی ،،ک ،اسم ضمیر ہے ،مذکر حاظر کا
یہاں ،ک ،کا مخاطب تصویر ہے ،جوکہ بے جان ہے
عیدنا ،،عید کے معنی عید اور ،نا ،اسم ضمیر جمع مخاطب کا
یعنی پورے سعودیوں کی عید ہے
مختصر ،شیخ سلیمان آپ کا صحت یاب ہونا ہماری عید ہے
جو کہ بدعت نہیں
انہی ہی لعنتیوں نے ھذا بدعت و ھذا شرک کا فتوی امت
میں متعارف کروایا
امید ہے شیخ عبد الرحمن السدیس اور اندھا مفتی اعظم
عنقریب اس پر بدعت اور شرک کا فتوی جاری کرکے
اسلام بچائیں گے
صابر حسین
اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں
تیسری عید بدعت ہے ،بدعت گمراہی ہے
اور ہر گمراہ کا ٹھکانہ جہنم ہے
عید میلاد منانے والے بدعتی ہیں
یا رسول اللہ کہنا بھی بدعت ہے ،کیونکہ ،یا ،حرف نداء ہے
جو زندہ کیلئے استعمال ہوتا ہے
عافیتک عیدنا
کی گرائمر بتاتا ہوں
عافیت ،صحت یابی ،،ک ،اسم ضمیر ہے ،مذکر حاظر کا
یہاں ،ک ،کا مخاطب تصویر ہے ،جوکہ بے جان ہے
عیدنا ،،عید کے معنی عید اور ،نا ،اسم ضمیر جمع مخاطب کا
یعنی پورے سعودیوں کی عید ہے
مختصر ،شیخ سلیمان آپ کا صحت یاب ہونا ہماری عید ہے
جو کہ بدعت نہیں
انہی ہی لعنتیوں نے ھذا بدعت و ھذا شرک کا فتوی امت
میں متعارف کروایا
امید ہے شیخ عبد الرحمن السدیس اور اندھا مفتی اعظم
عنقریب اس پر بدعت اور شرک کا فتوی جاری کرکے
اسلام بچائیں گے
صابر حسین
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جو فروعی مسائل صدیاں گزر جانے کے بعد بھی حل نہیں ہوئے ، وہ ہماری بحث و تمحیص سے کیسے حل ہوں گے !!
ہمیں اپنی صلاحیتیں امت مسلمہ کی دینی ، دنیاوی فَلاح پر صَرف کرنی چاہییں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948851288728374&id=100008105947430
ہمیں اپنی صلاحیتیں امت مسلمہ کی دینی ، دنیاوی فَلاح پر صَرف کرنی چاہییں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948851288728374&id=100008105947430
اگر ہم اپنے ہم مسلک علما پر اعتماد نہیں کریں گے تو بدمذہبوں کے خلاف فتح کیسے حاصل کرسکیں گے ۔
اپنے علما پر اعتماد کریں ، ان پر طعن تشنیع کرنا چھوڑ دیں ۔
اگر آپ کو کسی عالمِ دین کے طریقہ کار کی سمجھ نہیں آتی تو اُس عالم کی پیروی کرلیں جن کا طرزِ عمل آپ کو بھاتا ہے ، انشاءاللہ آپ کی نجات ہوجائے گی ۔
لیکن اگر آپ دیگر علما پر تہمتیں لگاتے رہے ، گالم گلوچ سے کام لیتے رہےتو مسلک کے نقصان کے ساتھ ، خواہ مخواہ اپنی آخرت بھی برباد کربیٹھیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
اپنے علما پر اعتماد کریں ، ان پر طعن تشنیع کرنا چھوڑ دیں ۔
اگر آپ کو کسی عالمِ دین کے طریقہ کار کی سمجھ نہیں آتی تو اُس عالم کی پیروی کرلیں جن کا طرزِ عمل آپ کو بھاتا ہے ، انشاءاللہ آپ کی نجات ہوجائے گی ۔
لیکن اگر آپ دیگر علما پر تہمتیں لگاتے رہے ، گالم گلوچ سے کام لیتے رہےتو مسلک کے نقصان کے ساتھ ، خواہ مخواہ اپنی آخرت بھی برباد کربیٹھیں گے ۔
✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
🌹 مسلک اعلیٰ حضرت کا تعلق عقائد سے ہے فقہی فروع سے نہیں حوالہ مسلک اعلیٰ حضرت صفحہ⁹ Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge ✍ حضور سراج الفقہاء حضرت مفتی نظام الدین رضوی صَاحَبۡ قِـبۡـلَـہۡ دَامَـتۡ بَرۡکَاتُہُمُ الۡـعَـالِـیَہۡ 🌹 صدر شعبۂ افتاء جامعہ اشرفیہ
🌹 اختلافی مسائل میں
بحث و مباحثہ کِس کا حق ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
احیاء العلوم 📖 جِـ³ صَـ³⁶
✍ امام غزالی علیہ الرحمہ
بحث و مباحثہ کِس کا حق ؟
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
احیاء العلوم 📖 جِـ³ صَـ³⁶
✍ امام غزالی علیہ الرحمہ
Forwarded from فیضان سرور مصباحی
دلائل کی روشنی میں اپنے اساتذہ اور مرشد سے اختلاف کیا جاسکتا ہے. اس سے ارادت اور شاگردی میں کوئی فرق نہیں پڑتا. ہاں اگر نفسانیت کی بنیاد پر مخالفت شروع ہوجائے تو فیض رسانی کا سلسلہ موقوف ہوجاتا ہے. مگر حلقۂ شاگردی اور مریدی میں اب بھی باقی رہتا ہے. واللہ تعالٰی اعلم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Chaltay phirtay bay wuzu aur chappal pehnay howay Quran sharif ki tilawat jaiz hogi?
http://jamiaturraza.com/session/150209/17.mp3
http://jamiaturraza.com/session/150209/17.mp3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
kya quraan bina wuzu choo sakte hain aur Kya quran gair muslim ko de sakte hain?
http://jamiaturraza.com/session/15Jan12/11.mp3
http://jamiaturraza.com/session/15Jan12/11.mp3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Mobile par Quran Sharif ki koi Aayat ya Tarjama parrhnay k liye Wuzu karna zaroori hay?
http://jamiaturraza.com/session/29May11/15.mp3
http://jamiaturraza.com/session/29May11/15.mp3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Aaj kal Mobile aur computer mein Quran Sharif ke Softwares aur Applications aati hain. Kia unn ka Adab wa Ahtiram wesa hi hay jesay Mushaf Sharif ka hay? Lougon ko dekha ke wo bagair wuzu ke kharray, bethay aur yahan tak ke laytay bhi apnnay Mobile se Quran Sharif parrhtay hain. Aur khwateen ka ayyam-e-makhsoosa mein mobile ya computer par aisi applications se tarjama parrhna kesa? Tafseeli hukm inayat farma dijiye.
http://jamiaturraza.com/session/10Aug14/7.mp3
http://jamiaturraza.com/session/10Aug14/7.mp3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
quran ko bagair wazu choona haraam hai ... ek sahab ne kaha ki bagair wazu bhi choo sakte ho magar sirf sadgi ko. uske harfo ko nahi rehnumai frmain
http://jamiaturraza.com/session/16Jun13/23.mp3
http://jamiaturraza.com/session/16Jun13/23.mp3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Agar wuzu na ho tou Mobile ya Computer jis mein Quran Sharif hay usay choo saktay hain?
http://jamiaturraza.com/session/31July11/28.mp3
http://jamiaturraza.com/session/31July11/28.mp3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*اماں موباٸل کے خلاف نہ تھی اور نہ آج ہے*
*اماں👵🏻*
*اماں تمھیں نہیں معلوم یہ موباٸل کتنا قیمتی ہے۔*
تمہارے دور میں تو لوگ خط لکھتے تھے جو مہینے بعد ملتا تھا ۔ یہ ہمارا زمانہ ہے اس لیے میرے حال پر مہربانی کرو مجھے آٸیندہ اس بارے کچھ نہیں کہنا ۔
بیٹے کی یہ بات سن کر اماں نے خاموشی اختیار کی اور کہا *ادھر آ میرا بیٹا میرے پاس بیٹھ جا ۔*
اچھا بیٹا تم نے ٹھیک کہا واقعی تمہاری اماں کو اس بجلی بھری ڈبی کے بارے نہیں پتہ یہ کیا ہے اور وہ جو تم بیگ میں بڑا سا بجلی کا ٹی وی لے کر جاتا ہے اس کا بھی نہیں پتہ ۔ یہ عجیب چیزیں ہیں ۔
*لیکن ایک سوال پوچھوں میرا بیٹا کیا تمہیں اپنی ان پڑھ اماں کے ہاتھ کا بنا ساگ اور مکھن کھانا پسند ہے ؟*
جی جی اماں بہت پسند ہے ۔
*اچھا وہ جو پچھلی سردیوں میں تیری ان پڑھ اماں نے تیرے لیے سویٹر بنایا تھا وہ پسند آیا ؟*
ہاں ہاں اماں لیکن تو یہ کیوں پوچھ رہی ہے ۔
او ہو بیٹا ایسے ہی ذرا دیکھ لوں ہم ان پڑھ لوگوں کے کوٸی کام چنگے بھی ہیں کہ نہیں ۔
اچھا بیٹا یہ بتا تو نے کبھی چرخہ چلایا ہے وہ سامنے جو مشین ہے جس سے دھگا بنتا ہے،
۔نہیں اماں ۔
اچھا جب تو باہر جاتا ہے تو لوگوں نے کبھی کہا کہ تیرے کپڑے صحیح دھلے نہیں یا تیری اماں کو کپڑے دھونے نہیں آتے ۔
نہیں اماں لوگ بھلا ایسا کیوں کہیں گے تو تو بہت اچھے کپڑے دھوتی ہے ۔
اچھا مطلب کہ تیرے بچپن سے لے کر اب تک تجھے اپنی ان پڑھ اماں کی وجہ سے شرمندگی نہیں اٹھانی پڑتی ۔
ہاں اماں یہ بات تو ہے
لیکن بیٹا مجھے ہر لمحہ تیری وجہ سے شرمندگی اٹھانی پڑی* لیکن میں نے ہمیشہ ایک ہی بات کہی وقت کے ساتھ ساتھ میرا بیٹا سیکھ جاۓ گا ۔
پتہ ہے بچپن میں جب تو لڑ کر آتا تھا تو لوگوں کے سامنے ۔
جب تیرے کلاس میں نمبر تھوڑے آتے تو بھی خاندان میں ۔
جب تو کپڑے گندے کرتا تو بھی ۔
پھر جب تو بڑا ہوا تو تو اونچا بولنے لگا اپنی اماں کو بہرا بنا دیا تو بھی
اور
آج جب تو نوکری کرتا ہے تو بھی ۔ کہتا ہے اماں تو ان پڑھ ہے ۔
دوستوں میں بیٹھ کر تو اور تیرا دوست اپنے ماں باپ کو جاہل کہتے ہیں۔
بیٹا تجھے وہ کام نہیں آتے جو مجھے آتے ہیں اور مجھے وہ کام نہیں آتے جو تم کرتے ہو ۔
ہر زمانے کی اپنی ساٸنس اور اپنا علم ہے ۔ علم تو وہ کافی ہے جس سے پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں اور تیری اماں کے پاس ساگ پکانے کا مکھن بنانے کا سلاٸی کڑھاٸی کا علم تھا تیری اماں کے پاس کپڑے اچھے دھونے کا علم ہے، جس دن میں مر گٸی اس دن تجھے سمجھ آۓ گی اماں کی ساٸنس کیا تھی ۔
لیکن بیٹا علی اگر کوٸی علم تمہیں دوسروں کو جاہل کہنے اور سمجھنے پر مجبور کرتا ہے کوٸی علم تمہیں دوسروں کو حقیر سمجھاتا ہے تو وہ علم نوری نہیں ابلیسی ہوا
بیٹا زندگی میں تیری وجہ سے اگر کسی کو شرمندہ ہونا پڑے تو یاد رکھ ایسے علم سے تیری اماں کے چولہے کی سوا بہتر ہے۔
علی کو تو اماں کی ساٸنس بہت دیر بعد سمجھ آٸی جب اماں گزر گٸی ۔ روز روٹی کپڑا اور پیار ہر وقت کون دیتا۔ اب باہر جانے سے پہلے دعاٸیں دینے والا کوٸی نہیں تھا اب گھر داخل ہوتے ہی پورا دن علی پر کیا بیتا اس کیمسٹری کو پڑھنے والا کوٸی نہیں تھا
کہاں سے لاۓ ماتھا چومنے والی اماں۔
آج ہمارے اردگرد کتنے ہی لوگ ہیں جو ماں باپ کو ان پڑھ سمجھتے ہیں کٸی طلبا تو بحث و مباحثہ میں جاہل کا لفظ تک استعمال کر دیتے ہیں ۔ لیکن یاد رکھیں اماں نے درست کہا تھا ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں انہیں پچھلے دور سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ۔ نہ ہی کرنا چاہیے۔
آپ کے میرے ماں باپ نے اپنے دور کی ساٸنس کے مطابق زندگی گزاری اور ہمیں پڑھایا لکھایا ہمیں اپنے دور کی ساٸنس کے مطابق جینا اور اپنی اولاد کو سکھانا ہے ۔
*اماں موباٸل کے خلاف نہ تھی اور نہ آج ہے ۔اماں کو اس کلموۓ کے زیادہ استعمال کے خلاف ہے جس نے اس سے اس کاعلی چھین لیا۔*
اب وہ بڑا ہو گیا ۔پہلے اماں کو سکول سے آکر سکول کی ساری باتیں سناتا تھا اب اس کے پاس آفس کے بعد وقت ہی نہیں ۔ساری دنیا کو گروپ بنا کر تحریری پیغام بھیجتا ہے لیکن اماں سے بات نہیں کرتا ۔
اماں تو آج بھی اس کو تیار کرتی ہے اپنی ڈیوٹی کرتی ہے لیکن وہ جو اماں کا وقت تھا وہ یہ موباٸل کھا گیا اماں کے حقوق موباٸل نے کھا لیے ۔اس لیے اماں غصہ ہوتی ہے
کہیں آپ بھی ایسا تو نہیں کر رہے سوچئے گا۔ لمحہ فکریہ ہے۔
اماں ہماری جنت ہے اور جنت ناراض ہو گٸی تو زندگی بے سکون ہو جاۓ گی ۔
یاد رکھیے گا ماں باپ کبھی ان پڑھ نہیں ہوتے ۔
گھر میں بیٹھی بوڑھی اماں میرے کچھ بولے بنا میرا دل پڑھ لیتی ہے۔
اپنے ماں باپ کو وقت دیجیے ورنہ آپ کی اولاد کے دور میں تو ٹیکنالوجی اس سے بھی فاسٹ ہو گی پھر آج کی تمہاری لکھی کہانی تم پر دہراٸی جاۓ گی شکوہ نہ کرنا۔
کاش کہ یہ بات تیرے دل میں اتر جائیں
خواہش صرف اتنی ہےکہ کچھ الفاظ لکھوں جس سے کوئی گمراہی کے راستے پر جاتے جاتے رک جائے نہ بھی رکے تو سوچ میں ضرور پَڑ جائے
*اماں👵🏻*
*اماں تمھیں نہیں معلوم یہ موباٸل کتنا قیمتی ہے۔*
تمہارے دور میں تو لوگ خط لکھتے تھے جو مہینے بعد ملتا تھا ۔ یہ ہمارا زمانہ ہے اس لیے میرے حال پر مہربانی کرو مجھے آٸیندہ اس بارے کچھ نہیں کہنا ۔
بیٹے کی یہ بات سن کر اماں نے خاموشی اختیار کی اور کہا *ادھر آ میرا بیٹا میرے پاس بیٹھ جا ۔*
اچھا بیٹا تم نے ٹھیک کہا واقعی تمہاری اماں کو اس بجلی بھری ڈبی کے بارے نہیں پتہ یہ کیا ہے اور وہ جو تم بیگ میں بڑا سا بجلی کا ٹی وی لے کر جاتا ہے اس کا بھی نہیں پتہ ۔ یہ عجیب چیزیں ہیں ۔
*لیکن ایک سوال پوچھوں میرا بیٹا کیا تمہیں اپنی ان پڑھ اماں کے ہاتھ کا بنا ساگ اور مکھن کھانا پسند ہے ؟*
جی جی اماں بہت پسند ہے ۔
*اچھا وہ جو پچھلی سردیوں میں تیری ان پڑھ اماں نے تیرے لیے سویٹر بنایا تھا وہ پسند آیا ؟*
ہاں ہاں اماں لیکن تو یہ کیوں پوچھ رہی ہے ۔
او ہو بیٹا ایسے ہی ذرا دیکھ لوں ہم ان پڑھ لوگوں کے کوٸی کام چنگے بھی ہیں کہ نہیں ۔
اچھا بیٹا یہ بتا تو نے کبھی چرخہ چلایا ہے وہ سامنے جو مشین ہے جس سے دھگا بنتا ہے،
۔نہیں اماں ۔
اچھا جب تو باہر جاتا ہے تو لوگوں نے کبھی کہا کہ تیرے کپڑے صحیح دھلے نہیں یا تیری اماں کو کپڑے دھونے نہیں آتے ۔
نہیں اماں لوگ بھلا ایسا کیوں کہیں گے تو تو بہت اچھے کپڑے دھوتی ہے ۔
اچھا مطلب کہ تیرے بچپن سے لے کر اب تک تجھے اپنی ان پڑھ اماں کی وجہ سے شرمندگی نہیں اٹھانی پڑتی ۔
ہاں اماں یہ بات تو ہے
لیکن بیٹا مجھے ہر لمحہ تیری وجہ سے شرمندگی اٹھانی پڑی* لیکن میں نے ہمیشہ ایک ہی بات کہی وقت کے ساتھ ساتھ میرا بیٹا سیکھ جاۓ گا ۔
پتہ ہے بچپن میں جب تو لڑ کر آتا تھا تو لوگوں کے سامنے ۔
جب تیرے کلاس میں نمبر تھوڑے آتے تو بھی خاندان میں ۔
جب تو کپڑے گندے کرتا تو بھی ۔
پھر جب تو بڑا ہوا تو تو اونچا بولنے لگا اپنی اماں کو بہرا بنا دیا تو بھی
اور
آج جب تو نوکری کرتا ہے تو بھی ۔ کہتا ہے اماں تو ان پڑھ ہے ۔
دوستوں میں بیٹھ کر تو اور تیرا دوست اپنے ماں باپ کو جاہل کہتے ہیں۔
بیٹا تجھے وہ کام نہیں آتے جو مجھے آتے ہیں اور مجھے وہ کام نہیں آتے جو تم کرتے ہو ۔
ہر زمانے کی اپنی ساٸنس اور اپنا علم ہے ۔ علم تو وہ کافی ہے جس سے پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں اور تیری اماں کے پاس ساگ پکانے کا مکھن بنانے کا سلاٸی کڑھاٸی کا علم تھا تیری اماں کے پاس کپڑے اچھے دھونے کا علم ہے، جس دن میں مر گٸی اس دن تجھے سمجھ آۓ گی اماں کی ساٸنس کیا تھی ۔
لیکن بیٹا علی اگر کوٸی علم تمہیں دوسروں کو جاہل کہنے اور سمجھنے پر مجبور کرتا ہے کوٸی علم تمہیں دوسروں کو حقیر سمجھاتا ہے تو وہ علم نوری نہیں ابلیسی ہوا
بیٹا زندگی میں تیری وجہ سے اگر کسی کو شرمندہ ہونا پڑے تو یاد رکھ ایسے علم سے تیری اماں کے چولہے کی سوا بہتر ہے۔
علی کو تو اماں کی ساٸنس بہت دیر بعد سمجھ آٸی جب اماں گزر گٸی ۔ روز روٹی کپڑا اور پیار ہر وقت کون دیتا۔ اب باہر جانے سے پہلے دعاٸیں دینے والا کوٸی نہیں تھا اب گھر داخل ہوتے ہی پورا دن علی پر کیا بیتا اس کیمسٹری کو پڑھنے والا کوٸی نہیں تھا
کہاں سے لاۓ ماتھا چومنے والی اماں۔
آج ہمارے اردگرد کتنے ہی لوگ ہیں جو ماں باپ کو ان پڑھ سمجھتے ہیں کٸی طلبا تو بحث و مباحثہ میں جاہل کا لفظ تک استعمال کر دیتے ہیں ۔ لیکن یاد رکھیں اماں نے درست کہا تھا ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں انہیں پچھلے دور سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ۔ نہ ہی کرنا چاہیے۔
آپ کے میرے ماں باپ نے اپنے دور کی ساٸنس کے مطابق زندگی گزاری اور ہمیں پڑھایا لکھایا ہمیں اپنے دور کی ساٸنس کے مطابق جینا اور اپنی اولاد کو سکھانا ہے ۔
*اماں موباٸل کے خلاف نہ تھی اور نہ آج ہے ۔اماں کو اس کلموۓ کے زیادہ استعمال کے خلاف ہے جس نے اس سے اس کاعلی چھین لیا۔*
اب وہ بڑا ہو گیا ۔پہلے اماں کو سکول سے آکر سکول کی ساری باتیں سناتا تھا اب اس کے پاس آفس کے بعد وقت ہی نہیں ۔ساری دنیا کو گروپ بنا کر تحریری پیغام بھیجتا ہے لیکن اماں سے بات نہیں کرتا ۔
اماں تو آج بھی اس کو تیار کرتی ہے اپنی ڈیوٹی کرتی ہے لیکن وہ جو اماں کا وقت تھا وہ یہ موباٸل کھا گیا اماں کے حقوق موباٸل نے کھا لیے ۔اس لیے اماں غصہ ہوتی ہے
کہیں آپ بھی ایسا تو نہیں کر رہے سوچئے گا۔ لمحہ فکریہ ہے۔
اماں ہماری جنت ہے اور جنت ناراض ہو گٸی تو زندگی بے سکون ہو جاۓ گی ۔
یاد رکھیے گا ماں باپ کبھی ان پڑھ نہیں ہوتے ۔
گھر میں بیٹھی بوڑھی اماں میرے کچھ بولے بنا میرا دل پڑھ لیتی ہے۔
اپنے ماں باپ کو وقت دیجیے ورنہ آپ کی اولاد کے دور میں تو ٹیکنالوجی اس سے بھی فاسٹ ہو گی پھر آج کی تمہاری لکھی کہانی تم پر دہراٸی جاۓ گی شکوہ نہ کرنا۔
کاش کہ یہ بات تیرے دل میں اتر جائیں
خواہش صرف اتنی ہےکہ کچھ الفاظ لکھوں جس سے کوئی گمراہی کے راستے پر جاتے جاتے رک جائے نہ بھی رکے تو سوچ میں ضرور پَڑ جائے
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اکابرسے بغاوت کاخطرناک انجام:
یہ ہیں موصوف رضاءالحسن ابن مفتی غلام حسن قادری.جوکہ پہلے"قادری"کالاحقہ بھی لگاتے تھے لیکن اب اپنی فیس بک آئی ڈی میں ترمیم کرتے ہوئے "قادری"نسبت ہٹادی ہے۔
ان موصوف نےان سکرین شاٹس میں دیوبندیوں کومسلمان مان لیاہے.کاش مولوی اللّٰہ وسایادیوبندی کی ٹی سی کی بجائے ان سے یہ سوال کیاہوتاکہ انکارِ ختم نبوت کاجرم مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی اورمرزاقادیانی دونوں نے کیاہے۔توکیاوجہ ہےکہ آپ مرزاقادیانی کوتوکافرکہتے ہیں لیکن قاسم نانوتوی کواپناامام اورپیشواسمجھتے ہیں.اتنابڑاتضادکیوں؟یہ بھی ایک افسوس ناک بات ہے کہ مولوی عطاءاللّٰہ شاہ بخاری دیوبندی کے لیےکلمہءترحیم"علیہ الرحمہ"لکھا.(مولوی عطاءاللّٰہ شاہ بخاری ایک متعصب دیوبندی تھا.اس نے ملتان میں اہل سنت کومناظرے کےچیلنج کیے.جب حضرت شیربیشہ اہل سنت مولاناحشمت علی لکھنوی ملتان تشرہف لے گئے تویہ مناظرے سے انکاری ہوگیا.اورمولوی ابوالوفاشاہجاہنپوری دیوبندی نے حضرت شیربیشہ سے مناظرہ کیاتھا.جس کی روداد"مناظرہ ملتان" کے نام سے مطبوع ہے)نیزمولوی اللّٰہ وسایادیوبندی کے لیے "حضرت"جیساتعظیمی لفظ استعمال کیا.اب یہ صلح کلیت نہیں تواورکیاہے؟کیاصلح کلی کے سرپرسینگ ہوتے ہیں؟
دیوبندیوں سے بھائی چارہ توبن گیاہےان کومسلمان بھی مان لیا۔دیکھیں اگلی باری کس فرقے کومسلمان قراردے کراتحادِاُمت کاڈھنڈورا پیٹاجاتاہے.
یہ ہیں موصوف رضاءالحسن ابن مفتی غلام حسن قادری.جوکہ پہلے"قادری"کالاحقہ بھی لگاتے تھے لیکن اب اپنی فیس بک آئی ڈی میں ترمیم کرتے ہوئے "قادری"نسبت ہٹادی ہے۔
ان موصوف نےان سکرین شاٹس میں دیوبندیوں کومسلمان مان لیاہے.کاش مولوی اللّٰہ وسایادیوبندی کی ٹی سی کی بجائے ان سے یہ سوال کیاہوتاکہ انکارِ ختم نبوت کاجرم مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی اورمرزاقادیانی دونوں نے کیاہے۔توکیاوجہ ہےکہ آپ مرزاقادیانی کوتوکافرکہتے ہیں لیکن قاسم نانوتوی کواپناامام اورپیشواسمجھتے ہیں.اتنابڑاتضادکیوں؟یہ بھی ایک افسوس ناک بات ہے کہ مولوی عطاءاللّٰہ شاہ بخاری دیوبندی کے لیےکلمہءترحیم"علیہ الرحمہ"لکھا.(مولوی عطاءاللّٰہ شاہ بخاری ایک متعصب دیوبندی تھا.اس نے ملتان میں اہل سنت کومناظرے کےچیلنج کیے.جب حضرت شیربیشہ اہل سنت مولاناحشمت علی لکھنوی ملتان تشرہف لے گئے تویہ مناظرے سے انکاری ہوگیا.اورمولوی ابوالوفاشاہجاہنپوری دیوبندی نے حضرت شیربیشہ سے مناظرہ کیاتھا.جس کی روداد"مناظرہ ملتان" کے نام سے مطبوع ہے)نیزمولوی اللّٰہ وسایادیوبندی کے لیے "حضرت"جیساتعظیمی لفظ استعمال کیا.اب یہ صلح کلیت نہیں تواورکیاہے؟کیاصلح کلی کے سرپرسینگ ہوتے ہیں؟
دیوبندیوں سے بھائی چارہ توبن گیاہےان کومسلمان بھی مان لیا۔دیکھیں اگلی باری کس فرقے کومسلمان قراردے کراتحادِاُمت کاڈھنڈورا پیٹاجاتاہے.