🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کی پابندی کی تلقین کرتے۔
[۱۶] عموماً کام کے لیے رہنمائی چاہنے والے ہر مقام پر ملاقات کو حاضر ہوتے۔ تعمیری کاموں کی طرف ذہن موڑ دیتے۔ جلسوں جلوسوں کی بجائے مدارس، مساجد، علم دین اور اشاعت و اصلاحی کاموں کی طرف توجہ مبذول کرواتے۔ ذہن سازی کرتے۔ ہر معاملے میں صحتِ عقیدہ کا مقدم رکھتے۔ یوں ہی تمام باطل عقائد والوں کے شر سے بچنے کی تاکید کرتے۔
[۱۷] مزاج و کردار میں یک رنگی تھی۔ یہی سبب ہے کہ آپ کے افعال و کردار سے درسِ اصلاح و درسِ تقویٰ فراہم ہوتا۔ ایسے لوگ جو اُلٹے سیدھے کام کرتے ہیں وہ جب اشرف الفقہاء سے ملتے تو اپنی اصلاح پر خود بہ خود مائل ہوتے۔کتنوں کا مشاہدہ ہوا کہ انھیں سمجھایا جاتا لیکن نہیں سمجھتے، جب وہ بارگاہِ اشرف الفقہاء میں پہنچے تو معاملہ بدل گیا۔
[۱۸] حوصلہ ہارے ہوئے مجلسِ اشرف الفقہاء میں عزم محکم لے کر اُٹھتے۔
[۱۹] بچوں پر شفقت ہوتی۔ ان سے تعلیم کا پوچھتے اور حوصلہ دیتے۔ذوقِ علم بڑھاتے۔
[۲۰] طلبۂ علوم دینیہ پر خصوصی اکرام فرماتے۔ انھیں احترام دیتے کہ دوسروں کو طلبہ کا احترام کرنے کا درس ملے۔یوں ہی سرپرستوں کو توجہ دلاتے کہ وہ بچوں کو حصولِ علم دین کے لیے آمادہ کریں۔
مجالس میں جو ملفوظات ارشاد فرماتے، وہ ہمہ جہت عناوین کو محیط ہوتے۔ خصوصیت سے شرعی مسائل کے حل عام فہم انداز میں عنایت فرماتے۔ کاش! انھیں کوئی لکھتا تو علم و عرفان کا عظیم ذخیرہ منظر عام پر آتا اور قوم کی فلاح کا سامان ہوتا۔ بہر کیف مجالس کے حاضر باش علما و طلبا کو چاہیے کہ یادداشت کو صفحات پر منتقل کریں اور اپنے اکابر سے وابستگی کا علمی فیض عام کریں۔
٭ ٭ ٭
بموقع عرس چہلم حضور اشرف الفقہاء
***
١٢ ستمبر ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#دیوبندیوں کی منافقت دشمن رسول صلی اللہ علیہ السلام ملاحظہ فرمائیں دیوبندی اپنے ہی اصول اپنے ہی عبارت فتاویٰ کی روشنی میں کافر

دیوبندی مکتب فکر کی بنیا دہلا دینے والی ایک کہانی گیلانی نے ان ہی
مولوی قاسم صاحب نانوتوی کے متعلق اپنی کتاب سوانح قاسمی میں اچنبھے میں ڈال دینے
والی ایک حکایت بیان کی ہے ، لکھتے ہیں کہ :

ایک بار مولانا موصوف کا کسی ایسے گاؤں میں گزر ہوا جہاں شیعوں کی
کی کثیر آبادی تھی سنیوں کو جب ان کی آمد کی خبر ہوئی تومرقع غنیمت جانا اور
ان کے وعظ کا اعلان کر دیا۔ اعلان سنتے ہی شیعوں میں ایک کھلبلی مچ گئی
انہوں نے جلسئہ وعظ کو ناکام بنانے کے لئے لکھنؤ سے چارمجتد بلوائے
اور پروگرام یہ طے پایا کہ مجلس وعظ میں چاروں کونوں پر یہ چاروں مجتهد
بیٹھ جائیں اور چالیس اعتراض منتخب کر کے دس دس اعتراض چاروں پر
بانٹ دئے گئے کہ اثنائے وعظ میں ہرایک مجتهد الگ الگ اعتراض کرے
اور اس طرح جلسئہ وعظ کو درہم برہم کر دیا جائے
: حضرت والا کی کرامت کا حال سنئے کہ حضرت نے وعظ شروع فرمایا جس
میں تمام شیعہ برادری بھی جمع تھی اور وہ وعظ ایسی ترتیب سے اعتراضوں
کے جواب پر مشتمل ہو جس ترتیب سے اعتراضات لے کر مجتهدین بیٹھے تھے
گویا کہ ترتیب کے مطابت جب کوئی مجتهد اعتراض کرنے کے لئے گردن اٹھاتا
تو حضرت اسی اعتراض کو خو ونقل کر کے جواب دینا شروع فرماتے یہاں تک
کہ وعظ پورےسکون کے ساتھ پورا ہوا ،📗سوانح قاسمی ج2ص71

مزید اس واقعہ کے بعد جو واقعہ پیش آیا وہ اس سے بھی زیادہ حیرت ناک اور دلچسپ ہے لکھا ہے کہ :'

مجتهدين اور مقامی شیعہ چودھریوں کو اس میں انتہائی سبکی اور
خفت محسوس ہوئی تو انہوں نے حرکت مزبوحی کے طور پر اس شرمندگی کو
مٹانے اور حضرت والا کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ایک
نوجوان کا فرضی جنازہ بنایا اور حضرت سے آکر عرض کیا کہ حضرت نماز
جنازہ آپ پڑھا دیں۔
پروگرام یہ تھا کہ جب حضرت دو تکبیر کہ لیں توصاحب جنازہ ایک
دم ا اٹھ کھڑا ہو اور اس پر حضرت کے ساتھ استهزاء وتمسخر کیا جائے حضرت
والا نے معذرت فرمائی کہ آپ لوگ شیعہ ہیں اور میں سنی ہوں ، اصول
نماز الگ الگ ہیں۔ آپ کے جنازے کی نماز مجھ سے پڑھوانی کب جائز
ہوگئی شیعوں نے عرض کیا کہ حضرت بزرگ ہر قوم کا بزرگ ہی ہوتاہے
تو نماز پڑھا ہی دیں
حضرت نے ان کے اصرار پر منظور فرما لیا اور جنازے پر پہنچ گئے مجمع
تھا حضرت ایک طرف کھڑے ہوئے تھے کہ چہرے پر غصے کے آثار دیکھے
گئے ، آنکھیں سرخ تھیں اور انقباض چہرے سے ظاہرتھا، نماز کے لئے
کہا گیا تو آگے بڑھے اور نماز شروع کر دی ۔ دوتکبیر کہنے پرجب طےشده
پروگرام کے مطابق جنازے میں حرکت نہ ہوئی تو پیچھے سے کسی نے ہونه
کے ساتھ سسکاری مگر وہ نہ اٹھا۔
اور حضرت نے تکبیر اربعہ پوری کر کے اسی غصے کے لہجے میں فرمایا کہ ای
یہ قیامت کی صبح سے پہلے نہیں اٹھ سکتا۔ دیکھا گیا تو وہ مردہ تھا شیعوں رونا پٹنا پڑگیا 📗سوانح قاسمی جلد2ص71

قسم ہے آپ کو جلالت خداوندی کی جس کی ہیبت سے مومن کا کلیجہ لرزتہ رہتا ہے کہ
حق کے ساتھ انصاف کرنے میں کسی کی پاسداری نہ کیجئے گا۔
یہ دونوں واقعے آپ کے سامنے ہیں۔ پہلے واقعہ میں نانوتوی صاحب کے لئے
غیبی علم وادراک کی عظیم قوت ثابت کی گئی ہے جس کے ذریعہ انہوں نے الگ الگ بر
مجتهد کے دل میں چھپے اعتراض کو اسی ترتیب کے ساتھ معلوم کرلیا جس ترتیب کے ساتھ وہ
اپنے اپنے دلوں میں چھپا کر لائے تھے۔ گھر کے بزرگ کے لئے تو جذبہ اعترف کی یہ فراوانی ہے کہ دلوں کے چھپے ہوئے
خطرات آئینے کی طرح ان کے پیش نظر ہیں.
اپنے مولانا کی اس غیبی قوت اور اک کا اعتراف کرتے ہوئے نہ شرک کا کوئی قانون
دامنگیر ہوا اور مشرب توحید سے کوئی انحراف نظر آیا لیکن انبیاء وأولياء کے حق میں
اس غیبی قوت ادراک کے سوال پر ان حضرات کے عقیدے کی زبان یہ ہے
کچھ اس بات میں بھی ان کو بڑائی نہیں ہے کہ اللہ نے غیب دانی اختیار
میں دے دی ہو کہ جس کے دل کے احوال جب چاہیں معلوم کرلیں یاجس غائب کا احوال جب چاہیں معلوم کرلیں کہ وہ جیتا ہے یامرگیا کس شر
میں ہے
📗تقویۃ الایمان ص25
انصانت و دیانت کی روشنی میں چلنے کی تمنا کرنے والر إحق و باطل کی راہوں کا
امتیاز محسوس کرنے کے لئے اب بھی کسی نشانی کی ضرورت ہے؟

/ واقعہ پر تبصرہ ختم ہوا اب دوسرے واقعہ پر اپنی توجہ مبذول فرمائے ۔ واقعہ کی یہ ایک
تفضیل تو اپنی جگہ پر ہے کہ نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوئے تو عرط غضب سے
آنکھیں سرخ تھیں جس کا مطلب یہ ہے کہ موصوف کو اپنی غیبی قوت ادراک کے ذریہ پہلے ہی یہ
معلوم ہوگیا تھا کہ تابوت کے اندر جنازه مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے اور صرف ازراہ تمسخر انہیں
نمازجنازہ پڑھانے کے لئے کہا گیا ہے۔
لیکن کہانی کا نقطہ سروج یہ ہے کہ انہوں نے تکبیرات اربعہ پوری کرنے کے بعداسی غصے کے لہجے میں فرمایاکہ اب یہ قیامت کی صبح سے سے پہلے نہیں اٹھ سکتااس فقرے کا
مدعاسوا اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ موصوف کی

قوت تصرف سے اچانک
اس کی موت واقع
ہوگئی اور معا اس کا علم بھی انہیں ہوگیا۔
اب ٹھیک اس روایت کی دوسری سمت میں دیوبندی مذہب

کی دوسری کتاب تقویت الایمان
کی یہ عبارت پڑھئے اور دریائے حیرت میں غوطہ لگائیے

" عالم میں ارادہ سے تصرف کرنا اور اپنا حکم جاری کرنا اور اپنی خواہش سے

مارنا اور جلانا یہ سب اللہ ہی کی شان اور کسی انبیاء و اولیاء و
مرشد کی ، بھوت و پری کی یہ شان نہیں جو کوئی کسی کوایسا تصرف ثابت
کے سووه مشترک ہو جا تا ہے
📗تقویة الایمان ص۱۰)
ایک طرف دیوبندی مذہب کا یہ عقیدہ پڑھئے صاف عیاں ہو جائے گا کہ ان حضرات
کے یہاں شرک کی ساری بحثیں انبیاء و اولیا کی حرمتوں سے کھیلنے کے لئے ہیں ورنہ ہر
شرک اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں عین ایمان ہے؟

پوری زریت دیوبندیت تو علم غیب کی منکر ہے کہ آقا علیہ السلام کو علم غیب نہیں تھا لیکن مولوی قاسم نانوتوی کے ایک تلامذہ مرید تھے انکو ایک لڑکے سے عشق ہوگیا پیار بھی اس قدر کہ اسی کے یاد میں کھوئے رہتے تھے ہمیشہ اسی کے یاد میں ایک دم نکمے ہوگئے تھے عاجز ہوکر حضرت نانوتوی کے خدمت میں پہنچا مؤدب عرض کیا کہ حضرت للہ میری اعئت فرما دئیجیے میں تنگ آگیا اور عاجز آچکا ہوں ایسی دعا فرمائیے کہ اس لڑکے کا خیال تک میرے قلب سے محو ہوجائے تو ہنس کر فرمایا کہ بس مولوی صاحب کیا تھک گئے بس جوش ختم ہوگیا میں نے عرض کیا کہ حضرت سارے کوموں سے بیکار ہوگیا نکما ہوگیا اب مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوسکتا خدا کے لئیے میری امداد فرمائیے فرمایا بہت اچھا بعد مغرب جب میں نماز سے فارغ ہو تو آپ موجود رہیں میں نماز مغرب پڑھ کر چھتہ کی مسجد میں بیٹھا رہا جب حضرت صلوۃ الاوابین سے فارغ ہوئے تو آواز دی مولوی صاحب مینے عرض کیا حضرت حاضر ہوں میں سامنے حاضر ہوا اور بیٹھ گیا فرمایا کہ ہاتھ لاؤ میں نے ہاتھ بڑھایا میرا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر میری ہتھیلی کو اپنی ہتھیلی سے اس طرح رگڑا جیسے بان بٹے جاتے ہیں خدا کی قسم میں نے عیاناد دیکھا کہ میں عرش کے نیچے ہوں اور ہر چار طرف سے نور اور روشنی نے میرا احاطہ کرلیا ہے گویا میں دربار الہی میں حاضر ہوں میں اس وقت لرزاں اور ترساں تھا کہ ساری عمر مجھ پر یہ کپکپی اور خوف طاری نہ ہوا تھا میں پسینہ پسینہ ہوگیا اور بالکل خودی سے گزر گیا حضرت برابر میری ہتھیلی پر اپنی ہتھیلی پھیررہے ہیں جب ہتھیلی پھیرنا بند فرمایا تو یہ حالت بھی فرد ہوگئی فرمایا جاؤ میں اٹھ کر چلا آپ حضرات سکیں خود ملاحظہ فرمائیں 📗ارواح ثلاثہ
حکایت 250)

عالم غیب پر اپنے اقتدار کے تسلط کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے کہ جسے چاہا غیب دان بنا دیا لیکن محبوب کبریا صلی اللہ علیہ السلام کے حق میں بیک زبان سب متفق ہیں کہ کسی کو حرم سرائے غیب کا محرم بنانا تو بڑی بات ہے وہ خود غیب کی بات نہیں جانتے اور عرش کا تو پوچھنا ہی کیا ہے کہ فرش بھی ان کی نگاہ سے اوجھل آپ ہی منصفی سے کہئے کہ کیا یہی شیوہ اسلام ہے اور تقاضائے کلمہ گوئی ہے؟
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں
تیسری عید بدعت ہے ،بدعت گمراہی ہے
اور ہر گمراہ کا ٹھکانہ جہنم ہے
عید میلاد منانے والے بدعتی ہیں
یا رسول اللہ کہنا بھی بدعت ہے ،کیونکہ ،یا ،حرف نداء ہے
جو زندہ کیلئے استعمال ہوتا ہے
عافیتک عیدنا
کی گرائمر بتاتا ہوں
عافیت ،صحت یابی ،،ک ،اسم ضمیر ہے ،مذکر حاظر کا
یہاں ،ک ،کا مخاطب تصویر ہے ،جوکہ بے جان ہے
عیدنا ،،عید کے معنی عید اور ،نا ،اسم ضمیر جمع مخاطب کا
یعنی پورے سعودیوں کی عید ہے
مختصر ،شیخ سلیمان آپ کا صحت یاب ہونا ہماری عید ہے
جو کہ بدعت نہیں
انہی ہی لعنتیوں نے ھذا بدعت و ھذا شرک کا فتوی امت
میں متعارف کروایا
امید ہے شیخ عبد الرحمن السدیس اور اندھا مفتی اعظم
عنقریب اس پر بدعت اور شرک کا فتوی جاری کرکے
اسلام بچائیں گے
صابر حسین
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جو فروعی مسائل صدیاں گزر جانے کے بعد بھی حل نہیں ہوئے ، وہ ہماری بحث و تمحیص سے کیسے حل ہوں گے !!
ہمیں اپنی صلاحیتیں امت مسلمہ کی دینی ، دنیاوی فَلاح پر صَرف کرنی چاہییں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948851288728374&id=100008105947430
اگر ہم اپنے ہم مسلک علما پر اعتماد نہیں کریں گے تو بدمذہبوں کے خلاف فتح کیسے حاصل کرسکیں گے ۔

اپنے علما پر اعتماد کریں ، ان پر طعن تشنیع کرنا چھوڑ دیں ۔
اگر آپ کو کسی عالمِ دین کے طریقہ کار کی سمجھ نہیں آتی تو اُس عالم کی پیروی کرلیں جن کا طرزِ عمل آپ کو بھاتا ہے ، انشاءاللہ آپ کی نجات ہوجائے گی ۔
لیکن اگر آپ دیگر علما پر تہمتیں لگاتے رہے ، گالم گلوچ سے کام لیتے رہےتو مسلک کے نقصان کے ساتھ ، خواہ مخواہ اپنی آخرت بھی برباد کربیٹھیں گے ۔

✍️لقمان شاہد
13-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
دلائل کی روشنی میں اپنے اساتذہ اور مرشد سے اختلاف کیا جاسکتا ہے. اس سے ارادت اور شاگردی میں کوئی فرق نہیں پڑتا. ہاں اگر نفسانیت کی بنیاد پر مخالفت شروع ہوجائے تو فیض رسانی کا سلسلہ موقوف ہوجاتا ہے. مگر حلقۂ شاگردی اور مریدی میں اب بھی باقی رہتا ہے. واللہ تعالٰی اعلم
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Chaltay phirtay bay wuzu aur chappal pehnay howay Quran sharif ki tilawat jaiz hogi?

http://jamiaturraza.com/session/150209/17.mp3
kya quraan bina wuzu choo sakte hain aur Kya quran gair muslim ko de sakte hain?

http://jamiaturraza.com/session/15Jan12/11.mp3
Mobile par Quran Sharif ki koi Aayat ya Tarjama parrhnay k liye Wuzu karna zaroori hay?

http://jamiaturraza.com/session/29May11/15.mp3
Aaj kal Mobile aur computer mein Quran Sharif ke Softwares aur Applications aati hain. Kia unn ka Adab wa Ahtiram wesa hi hay jesay Mushaf Sharif ka hay? Lougon ko dekha ke wo bagair wuzu ke kharray, bethay aur yahan tak ke laytay bhi apnnay Mobile se Quran Sharif parrhtay hain. Aur khwateen ka ayyam-e-makhsoosa mein mobile ya computer par aisi applications se tarjama parrhna kesa? Tafseeli hukm inayat farma dijiye.
http://jamiaturraza.com/session/10Aug14/7.mp3
quran ko bagair wazu choona haraam hai ... ek sahab ne kaha ki bagair wazu bhi choo sakte ho magar sirf sadgi ko. uske harfo ko nahi rehnumai frmain

http://jamiaturraza.com/session/16Jun13/23.mp3
Agar wuzu na ho tou Mobile ya Computer jis mein Quran Sharif hay usay choo saktay hain?

http://jamiaturraza.com/session/31July11/28.mp3