Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 8
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(صندوق میں میرے کپڑے گیلے...)
اس لڑکی نے اس ملازم سے کہا کہ اے استاد! آپ نے ہمارا اتنا قیمتی کپڑا اور عرق گلاب (گلاب کے پانی) کو برباد کر دیا۔ یہ گلاب کا پانی کپڑوں پر گر گیا ہے جس سے رنگین کپڑے خراب ہو گئے، اب تو میں بادشاہ کی ماں کے ہاتھوں ماری جاؤں گی۔ اس ملازم نے کہا کہ چل اس کو لے جا (اسے کیا معلوم کہ جسے وہ عرق گلاب سمجھ رہا ہے اس کا گلاب سے دور دور تک کا کوئی رشتہ نہیں ہے)۔
میں محل میں پہنچ گیا تو جان میں جان آئی لیکن جان پھر نکلنے لگی جب سامنے سے بادشاہ آ رہا تھا اور اس نے پوچھ لیا کہ صندوق میں کیا ہے؟ اس لڑکی نے کہا کہ آقا یہ آپ کی والدہ کے کپڑے ہیں، میں ابھی آپ کے سامنے کھولتی ہوں، پھر اس نے نوکروں سے کہا کہ جلدی کرو تو انھوں نے جلدی کی اور مجھے ایک کمرے میں لے گئے اور اس لڑکی نے مجھے جھنجوڑ کر کہا کہ اس سیڑھی کے ذریعے بالا خانے پر چڑھ کر بیٹھ جاؤ پھر اس نے جلدی سے صندوق میں تالا لگا دیا اور جب بادشاہ تشریف لائے تو صندوقوں کو کھولا گیا اور جب ایسا ویسا کچھ نظر نہ آیا تو چلے گئے۔
وہ لڑکی بالا خانے پر آئی اور مجھے بوسے دینے لگی تو میری جان میں جان آئی اور جو کچھ بیتی تھی، سب بھول گیا۔ وہ مجھے اکیلا کمرے میں چھوڑ کر تالا لگا کر چلی گئی۔ پھر وہ میرے لیے کھانا لے کر آئی اور مجھے کھلایا پلایا۔ رات بھر میں کمرے میں رہا پھر صبح وہ لڑکی آئی اور کہنے لگی کہ بادشاہ کی ماں آئی ہیں! تم سوچ سمجھ لو کہ تمھیں کیا کہنا ہے۔ میں جب گیا تو دیکھا کہ وہ کرسی پر رونق افروز ہیں اور وہاں خادمائیں کھڑی ہیں۔ میں نے زمین کو بوسہ دیا پھر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ بیٹھ جاؤ تو میں نے عرض کیا کہ میں تو آپ کا غلام اور نوکر ہوں، میرا یہ مرتبہ کہاں کہ آپ کی موجودگی میں بیٹھنے کی جسارت کروں تو اس نے مجھے غور سے دیکھا اور کہنے لگی اے فلانی تو نے خوبصورت اور باادب شخص کو پسند کیا ہے پھر وہ چلی گئیں اور میری والی ایک گھڑی کے بعد واپس آئی اور کہا کہ تم خوش ہو جاؤ، اللہ کی قسم! مجھے آپ کے ساتھ شادی کی اجازت مل گئی ہے لیکن تمھارے واپس جانے کا معاملہ ابھی باقی ہے۔ میں نے کہا اللہ حفاظت فرمائے۔
(آگے آپ پڑھیں گے کہ شادی ہوتی ہے یا نہیں... جاری...)
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(صندوق میں میرے کپڑے گیلے...)
اس لڑکی نے اس ملازم سے کہا کہ اے استاد! آپ نے ہمارا اتنا قیمتی کپڑا اور عرق گلاب (گلاب کے پانی) کو برباد کر دیا۔ یہ گلاب کا پانی کپڑوں پر گر گیا ہے جس سے رنگین کپڑے خراب ہو گئے، اب تو میں بادشاہ کی ماں کے ہاتھوں ماری جاؤں گی۔ اس ملازم نے کہا کہ چل اس کو لے جا (اسے کیا معلوم کہ جسے وہ عرق گلاب سمجھ رہا ہے اس کا گلاب سے دور دور تک کا کوئی رشتہ نہیں ہے)۔
میں محل میں پہنچ گیا تو جان میں جان آئی لیکن جان پھر نکلنے لگی جب سامنے سے بادشاہ آ رہا تھا اور اس نے پوچھ لیا کہ صندوق میں کیا ہے؟ اس لڑکی نے کہا کہ آقا یہ آپ کی والدہ کے کپڑے ہیں، میں ابھی آپ کے سامنے کھولتی ہوں، پھر اس نے نوکروں سے کہا کہ جلدی کرو تو انھوں نے جلدی کی اور مجھے ایک کمرے میں لے گئے اور اس لڑکی نے مجھے جھنجوڑ کر کہا کہ اس سیڑھی کے ذریعے بالا خانے پر چڑھ کر بیٹھ جاؤ پھر اس نے جلدی سے صندوق میں تالا لگا دیا اور جب بادشاہ تشریف لائے تو صندوقوں کو کھولا گیا اور جب ایسا ویسا کچھ نظر نہ آیا تو چلے گئے۔
وہ لڑکی بالا خانے پر آئی اور مجھے بوسے دینے لگی تو میری جان میں جان آئی اور جو کچھ بیتی تھی، سب بھول گیا۔ وہ مجھے اکیلا کمرے میں چھوڑ کر تالا لگا کر چلی گئی۔ پھر وہ میرے لیے کھانا لے کر آئی اور مجھے کھلایا پلایا۔ رات بھر میں کمرے میں رہا پھر صبح وہ لڑکی آئی اور کہنے لگی کہ بادشاہ کی ماں آئی ہیں! تم سوچ سمجھ لو کہ تمھیں کیا کہنا ہے۔ میں جب گیا تو دیکھا کہ وہ کرسی پر رونق افروز ہیں اور وہاں خادمائیں کھڑی ہیں۔ میں نے زمین کو بوسہ دیا پھر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ بیٹھ جاؤ تو میں نے عرض کیا کہ میں تو آپ کا غلام اور نوکر ہوں، میرا یہ مرتبہ کہاں کہ آپ کی موجودگی میں بیٹھنے کی جسارت کروں تو اس نے مجھے غور سے دیکھا اور کہنے لگی اے فلانی تو نے خوبصورت اور باادب شخص کو پسند کیا ہے پھر وہ چلی گئیں اور میری والی ایک گھڑی کے بعد واپس آئی اور کہا کہ تم خوش ہو جاؤ، اللہ کی قسم! مجھے آپ کے ساتھ شادی کی اجازت مل گئی ہے لیکن تمھارے واپس جانے کا معاملہ ابھی باقی ہے۔ میں نے کہا اللہ حفاظت فرمائے۔
(آگے آپ پڑھیں گے کہ شادی ہوتی ہے یا نہیں... جاری...)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
عظمتِ صحابہ
اللہ تعالی نے اُنھیں حضور ﷺ کے (وصال کے) بعد (زمین میں آپ ﷺ کا) خلیفہ بنایا اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، اور حضرت علی رضی اللہ عنھم، جمیع امت کے لیے باعث برکت ہیں۔
اللہ تعالی نے (ان صحابہ ہی کے متعلق) فرمایا ہے: اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اللہ (والوں) کی جماعت ہے۔
کہا جاتا ہے:
جس نے حضرت ابوبکر سے محبت کی اس نے دین کی اقامت کا فریضہ سر انجام دیا۔ جس نے حضرت عمر سے محبت کی اس نے راہ دین کو واضح کیا۔
اور جس نے حضرت عثمان سے محبت کی وہ نور الٰہی سے مستنصر ہوا اور جس نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت کی اس نے دین کی پختہ رسّی کو مضبوطی سے تھام لیا۔
جس شخص نے حضور ﷺ کے صحابہ کے بارے میں کلمات خیر کہے وہ نفاق سے بری ہو گیا۔
ان صحابہ میں سے ایک کے اتنے فضائل ہیں جو اپنی کثرت کے باعث حدِ شمار سے باہر ہیں۔
رسول ﷺ نے صحابہ کی تعریف فرمائی ہے اور اُنھیں ستاروں سے تشبیہ دی ہے۔ اس تشبیہ کے ذریعے آپ ﷺ نے اپنی امت کو اُن کے امور دین میں (حصول رہنمائی کے لیے) صحابہ کی اقتدا پر ابھارا ہے جیسے کہ وہ اپنے دنیاوی امور میں اپنی ضروریات کے لیے بحر و بر کی تاریکیوں میں (راستہ جاننے کے لیے) ستاروں سے رہنمائی لیتے ہیں۔
رسول ﷺ نے فرمایا: بے شک میرے صحابہ کی مثال آسمان پر ستاروں جیسی ہے، ان میں سے جس کو بھی تھامو گے ہدایت پا جاؤ گے اور میرے صحابہ کا اختلاف (بھی) تمہارے لیے باعث رحمت ہے۔
حضرت نُسیر ذعلوق رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب کو برا مت کہو، کیونکہ صحابہ میں سے کسی ایک کا (حضور ﷺ کی صحبت میں گزرا ہوا) ایک لمحہ تمھاری زندگی بھر کے اعمال سے بہتر ہے۔
رسول ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے (تمام رسولوں میں سے) مجھے چنا اور میرے واسطہ سے (پوری امت میں سے) میرے صحابہ کو چنا سو اس نے ان میں سے میرے لیے وزراء، معاونین و مددگار اور سسرالی رشتہ دار بنائے لہٰذا جس نے انھیں گالی دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ قیامت کے روز اللہ تعالی اس کے کسی فرض و نفل کو قبول نہیں کرے گا۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کی خامیاں اور برائیاں بیان نہ کیا کرو کہ ان کے حوالے سے تمھارے دل باہم اختلاف کا شکار ہوجائیں گے؛ بلکہ میرے صحابہ کے محاسن اور خوبیوں کا تذکرہ کیا کرو یہاں تک کہ تمھارے دل ان کی نسبت باہم اکٹھے ہو (کر متفق ہو) جائیں۔
(اخرجہ الدیلمی فی مسند الفردوس، 7362/5/الرقم 31)
ماخوذ : عظمتِ صحابیت اور حقیقتِ خلافت
حاصل کلام یہ ہے کہ عظمتِ صحابہ بہت ہی بلند و بالا ہے۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں توہین صحابہ رضی اللہ عنہ سے محفوظ فرمائے۔
عبد مصطفی
دلبر راہی اصدقی
اللہ تعالی نے اُنھیں حضور ﷺ کے (وصال کے) بعد (زمین میں آپ ﷺ کا) خلیفہ بنایا اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، اور حضرت علی رضی اللہ عنھم، جمیع امت کے لیے باعث برکت ہیں۔
اللہ تعالی نے (ان صحابہ ہی کے متعلق) فرمایا ہے: اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اللہ (والوں) کی جماعت ہے۔
کہا جاتا ہے:
جس نے حضرت ابوبکر سے محبت کی اس نے دین کی اقامت کا فریضہ سر انجام دیا۔ جس نے حضرت عمر سے محبت کی اس نے راہ دین کو واضح کیا۔
اور جس نے حضرت عثمان سے محبت کی وہ نور الٰہی سے مستنصر ہوا اور جس نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت کی اس نے دین کی پختہ رسّی کو مضبوطی سے تھام لیا۔
جس شخص نے حضور ﷺ کے صحابہ کے بارے میں کلمات خیر کہے وہ نفاق سے بری ہو گیا۔
ان صحابہ میں سے ایک کے اتنے فضائل ہیں جو اپنی کثرت کے باعث حدِ شمار سے باہر ہیں۔
رسول ﷺ نے صحابہ کی تعریف فرمائی ہے اور اُنھیں ستاروں سے تشبیہ دی ہے۔ اس تشبیہ کے ذریعے آپ ﷺ نے اپنی امت کو اُن کے امور دین میں (حصول رہنمائی کے لیے) صحابہ کی اقتدا پر ابھارا ہے جیسے کہ وہ اپنے دنیاوی امور میں اپنی ضروریات کے لیے بحر و بر کی تاریکیوں میں (راستہ جاننے کے لیے) ستاروں سے رہنمائی لیتے ہیں۔
رسول ﷺ نے فرمایا: بے شک میرے صحابہ کی مثال آسمان پر ستاروں جیسی ہے، ان میں سے جس کو بھی تھامو گے ہدایت پا جاؤ گے اور میرے صحابہ کا اختلاف (بھی) تمہارے لیے باعث رحمت ہے۔
حضرت نُسیر ذعلوق رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب کو برا مت کہو، کیونکہ صحابہ میں سے کسی ایک کا (حضور ﷺ کی صحبت میں گزرا ہوا) ایک لمحہ تمھاری زندگی بھر کے اعمال سے بہتر ہے۔
رسول ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے (تمام رسولوں میں سے) مجھے چنا اور میرے واسطہ سے (پوری امت میں سے) میرے صحابہ کو چنا سو اس نے ان میں سے میرے لیے وزراء، معاونین و مددگار اور سسرالی رشتہ دار بنائے لہٰذا جس نے انھیں گالی دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ قیامت کے روز اللہ تعالی اس کے کسی فرض و نفل کو قبول نہیں کرے گا۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کی خامیاں اور برائیاں بیان نہ کیا کرو کہ ان کے حوالے سے تمھارے دل باہم اختلاف کا شکار ہوجائیں گے؛ بلکہ میرے صحابہ کے محاسن اور خوبیوں کا تذکرہ کیا کرو یہاں تک کہ تمھارے دل ان کی نسبت باہم اکٹھے ہو (کر متفق ہو) جائیں۔
(اخرجہ الدیلمی فی مسند الفردوس، 7362/5/الرقم 31)
ماخوذ : عظمتِ صحابیت اور حقیقتِ خلافت
حاصل کلام یہ ہے کہ عظمتِ صحابہ بہت ہی بلند و بالا ہے۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں توہین صحابہ رضی اللہ عنہ سے محفوظ فرمائے۔
عبد مصطفی
دلبر راہی اصدقی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*کچھ بڑا سوچیں ۔کچھ بڑا کریں !!!*
سوشیل میڈیا اپلیکیشنز میں ہر ایک کا اپنا فائدہ ہے۔مگر اکثر کا محدود دائرہ میں چلتے ہیں۔
ٹویٹر بھی ایک سوشیل میڈیا اپلیکیشن ہے۔مگر اسکے فوائد اور اثرات گنوانا مشکل ہے اور بیان سے باہر ہیں۔
وہ اسطرح کہ دیگر واٹس ایپ ؛ فیسبک وغیرہ سب اپنے ہی تعلقات اور دوست احباب تک محدود ہیں۔مگر ٹویٹر پر آپ کو دنیا کے کسی بھی بڑے سی بڑی با اثر اور صاحب اقتدار شخصیات تک اپنی بات پہنچانے کی اور مافی الضمیر کو مختصر الفاظ میں بیان کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔جو اس وقت دنیا کے عقلمند ودانشوران استعمال کررہے ہیں۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری اکثریت واٹساپ و فیسبک کے نشہ میں مست ہیں۔واٹساپ کو ثواب جاریہ کا بہترین ذریعہ بنارکھا ہے کہ جو کچھ بھی کہیں سے کچھ ملے اسے دوسروں تک پہنچادو۔چاہے کچھ بھی ہو۔اور ثواب دارین حاصل کرو۔نوجوان عاشق مزاج تو فیسبک پر دن رات خوبصورت تصاویر ہی دیکھ دیکھ کر ساری جوانی خراب کرلیتے ہیں اور جو کچھ پڑھے لکھے دیندار ہیں وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں اختلافی مباحثوں اور مناظروں کی نظر اپنے قیمتی اوقات برباد کردیتے ہیں۔جیسے دیہاتوں میں مرغ لڑائے جاتے ہیں۔
ٹویٹر پر مہم چلانے سے ہی قومی شعور بڑھتا ہے۔باقی فیس بک واٹساپ وقت گذاری ہے۔الا ماشاء اللہ اس کا کوئی صحیح استعمال کرلیں۔تب بھی محدود فائدہ ہی ہوگا۔
دلت برادری کو دیکھیں۔یہ لوگ ٹویٹر سے کتنے مسائل حل کر لیتے ہیں۔صوبائی سرکار فیصلے بدل لیتی ہیں اور جھک جاتی ہیں ۔سرکاری محکمہ ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔اور خادم بن کر اپنی نوکری بجالاتے ہیں۔یہ سب ٹویٹر پر کئے جانے والے ٹویٹ کی طاقت ہے۔
ٹویٹر پر آنے میں آخر ہمارے قوم کے پڑھے لکھے طبقہ کی جان کیوں نکل جاتی ہے ؟
ہر کام تفریح کے لئے تھوڑا ہی ہوتا ہے ؟
ٹویٹر پر کتنے مسلمانوں کے اکاؤنٹ ملیں گے جن کے ہزاروں فولوورس ہیں جو منٹوں میں کسی بھی ہیش ٹیگ کو ٹرینڈ میں بدل کر کسی بھی مسئلے میں قومی و ملکی رجحان کو بدل دیتے ہیں ؟
گنتی کے چند اکاؤنٹس ملیں گے ۔
مگر ہمارا نوجوان اپنی تصاویر شئر کرنے کو سوشیل میڈیا کا بہترین استعمال اور کچھ دعاودرود بھیجنے کو دینی حق سمجھ چکا ہے اور اس سے آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتا ۔
واٹساپ وغیرہ کوئی مؤثر ہتھیار نہیں ہے اور نہ ہی اس سے عالمی سطح پر دنیا کے سامنے ہم اپنی بات پیش کر سکتے ہیں۔بس کچھ آپسی باہمی ربط وتعلق کے لئے یہ مفید ہیں۔ لیکن ٹویٹر قومی رجحان کے تشکیل دینے کا ایک بہت ہی بڑا اور مؤثر ہتھیار ہے۔ان تمام پڑھے لکھے نوجوانوں اور اہل علم ودانشوران سے التماس ہے جو فیس بک اور واٹساپ میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ اپنا ٹویٹر پر اکاؤنٹ ضرور بنائیں، اور فیس بک اور واٹس ایپ سے زیادہ ٹویٹر پر سرگرم رہیں اور جو ہیش ٹیگ ملک و ملت کے مفاد میں چل رہا ہو۔ اسے trend کرانے میں بھر پور تعاون کریں۔
وقت ایک قیمتی سرمایہ ہے۔اسے ضائع نہ ہونے دیں۔
آپ واٹساپ وغیرہ نہ چھوڑیں۔ لیکن ٹویٹر پر ضرور آجائیں۔اور زیادہ وقت ٹویٹر پر دیں اور ذرا ہمت کریں۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ کرتا چلوں کہ زبان بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے۔آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ٹویٹر پر انگریزی کے برابر سب سے زیادہ رائج زبان ہندی ہے۔جس سے اکثر اہل علم حضرات واقف ہیں۔سیاسی مسائل پر نہ سہی اسلام دشمن متعصب شخصیات کو اسلامی تعلیمات اور ان کی ذہن سازی اور حقائق پیش کرتے ہوئے ان کی اسلام دشمنی کو تو ختم کرسکتے ہیں جو آج ملک میں آگ لگی ہوئی اسے تو بجھائی جاسکتی ہے ؟آپ ہندی اردو کسی زبان میں ٹویٹ کرسکتے ہیں۔
اس عاجز کے ان چند گذارشات پر ضرور غور فرمائیں۔اور جلد سے جلد اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ بنالیں۔
کاپی پیسٹ
سوشیل میڈیا اپلیکیشنز میں ہر ایک کا اپنا فائدہ ہے۔مگر اکثر کا محدود دائرہ میں چلتے ہیں۔
ٹویٹر بھی ایک سوشیل میڈیا اپلیکیشن ہے۔مگر اسکے فوائد اور اثرات گنوانا مشکل ہے اور بیان سے باہر ہیں۔
وہ اسطرح کہ دیگر واٹس ایپ ؛ فیسبک وغیرہ سب اپنے ہی تعلقات اور دوست احباب تک محدود ہیں۔مگر ٹویٹر پر آپ کو دنیا کے کسی بھی بڑے سی بڑی با اثر اور صاحب اقتدار شخصیات تک اپنی بات پہنچانے کی اور مافی الضمیر کو مختصر الفاظ میں بیان کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔جو اس وقت دنیا کے عقلمند ودانشوران استعمال کررہے ہیں۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری اکثریت واٹساپ و فیسبک کے نشہ میں مست ہیں۔واٹساپ کو ثواب جاریہ کا بہترین ذریعہ بنارکھا ہے کہ جو کچھ بھی کہیں سے کچھ ملے اسے دوسروں تک پہنچادو۔چاہے کچھ بھی ہو۔اور ثواب دارین حاصل کرو۔نوجوان عاشق مزاج تو فیسبک پر دن رات خوبصورت تصاویر ہی دیکھ دیکھ کر ساری جوانی خراب کرلیتے ہیں اور جو کچھ پڑھے لکھے دیندار ہیں وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں اختلافی مباحثوں اور مناظروں کی نظر اپنے قیمتی اوقات برباد کردیتے ہیں۔جیسے دیہاتوں میں مرغ لڑائے جاتے ہیں۔
ٹویٹر پر مہم چلانے سے ہی قومی شعور بڑھتا ہے۔باقی فیس بک واٹساپ وقت گذاری ہے۔الا ماشاء اللہ اس کا کوئی صحیح استعمال کرلیں۔تب بھی محدود فائدہ ہی ہوگا۔
دلت برادری کو دیکھیں۔یہ لوگ ٹویٹر سے کتنے مسائل حل کر لیتے ہیں۔صوبائی سرکار فیصلے بدل لیتی ہیں اور جھک جاتی ہیں ۔سرکاری محکمہ ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔اور خادم بن کر اپنی نوکری بجالاتے ہیں۔یہ سب ٹویٹر پر کئے جانے والے ٹویٹ کی طاقت ہے۔
ٹویٹر پر آنے میں آخر ہمارے قوم کے پڑھے لکھے طبقہ کی جان کیوں نکل جاتی ہے ؟
ہر کام تفریح کے لئے تھوڑا ہی ہوتا ہے ؟
ٹویٹر پر کتنے مسلمانوں کے اکاؤنٹ ملیں گے جن کے ہزاروں فولوورس ہیں جو منٹوں میں کسی بھی ہیش ٹیگ کو ٹرینڈ میں بدل کر کسی بھی مسئلے میں قومی و ملکی رجحان کو بدل دیتے ہیں ؟
گنتی کے چند اکاؤنٹس ملیں گے ۔
مگر ہمارا نوجوان اپنی تصاویر شئر کرنے کو سوشیل میڈیا کا بہترین استعمال اور کچھ دعاودرود بھیجنے کو دینی حق سمجھ چکا ہے اور اس سے آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتا ۔
واٹساپ وغیرہ کوئی مؤثر ہتھیار نہیں ہے اور نہ ہی اس سے عالمی سطح پر دنیا کے سامنے ہم اپنی بات پیش کر سکتے ہیں۔بس کچھ آپسی باہمی ربط وتعلق کے لئے یہ مفید ہیں۔ لیکن ٹویٹر قومی رجحان کے تشکیل دینے کا ایک بہت ہی بڑا اور مؤثر ہتھیار ہے۔ان تمام پڑھے لکھے نوجوانوں اور اہل علم ودانشوران سے التماس ہے جو فیس بک اور واٹساپ میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ اپنا ٹویٹر پر اکاؤنٹ ضرور بنائیں، اور فیس بک اور واٹس ایپ سے زیادہ ٹویٹر پر سرگرم رہیں اور جو ہیش ٹیگ ملک و ملت کے مفاد میں چل رہا ہو۔ اسے trend کرانے میں بھر پور تعاون کریں۔
وقت ایک قیمتی سرمایہ ہے۔اسے ضائع نہ ہونے دیں۔
آپ واٹساپ وغیرہ نہ چھوڑیں۔ لیکن ٹویٹر پر ضرور آجائیں۔اور زیادہ وقت ٹویٹر پر دیں اور ذرا ہمت کریں۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ کرتا چلوں کہ زبان بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے۔آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ٹویٹر پر انگریزی کے برابر سب سے زیادہ رائج زبان ہندی ہے۔جس سے اکثر اہل علم حضرات واقف ہیں۔سیاسی مسائل پر نہ سہی اسلام دشمن متعصب شخصیات کو اسلامی تعلیمات اور ان کی ذہن سازی اور حقائق پیش کرتے ہوئے ان کی اسلام دشمنی کو تو ختم کرسکتے ہیں جو آج ملک میں آگ لگی ہوئی اسے تو بجھائی جاسکتی ہے ؟آپ ہندی اردو کسی زبان میں ٹویٹ کرسکتے ہیں۔
اس عاجز کے ان چند گذارشات پر ضرور غور فرمائیں۔اور جلد سے جلد اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ بنالیں۔
کاپی پیسٹ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*رپورٹ سالانہ اجلاس مجلس شوریٰ*
_تحریک فروغ اسلام کا دوسرا اجلاس عام_
*بتاریخ: 6 ستمبر 2020 بروز اتوار*
*بمقام: امام احمد رضا دارالافتا میرا روڈ ممبئی*
مجلس شوریٰ تحریک فروغ اسلام کا دوسرا سالانہ اجلاس عام امام احمد رضا دارالافتا میرا روڈ ممبئی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں مجلس شوریٰ کے تقریباً 20 افراد نے شرکت کی باقی 10 افراد حاضر نہ ہوسکے۔ صدر تحریک کی اجازت پر بعض دیگر افراد بھی شریک اجلاس رہے۔
اجلاس دو نشستوں پر مشتمل تھا۔ نشست اول کا آغاز تلاوت قرآن اور نعت مصطفیٰ ﷺ سے ہوا۔ تعارف مندوبین کے بعد صدر تحریک محترم قمر غنی عثمانی صاحب نے خطبہ استقبالیہ میں حالات حاضرہ کی سنگینی اور ناموس رسالت پر ہونے والے حملوں کی کثرت پر گفتگو کرتے ہوئے علماے کرام سے سنجیدگی کے ساتھ عوامی ذہن سازی کی گزارش کی۔
بعدہ جنرل سیکرٹری نے تحریک کی سابقہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے کل چودہ نکات میں تحریک کی ایک سالہ کارکردگی کا اجمالی خاکہ شرکا کے سامنے رکھا۔موصوف نے ایک سالہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تحریک نے محدود وسائل کے ہوتے ہوئے بھی ایک سال میں کئی اہم اور جماعتی سطح پر منفرد اقدامات کیے ہیں۔لیکن پھر بھی ہمیں لگتا ہے کہ ہم بہت سارے کام قلت وسائل کی بنا پر نہیں کر سکے اگر احباب اور قوم نے ساتھ دیا تو ان شاء اللہ رواں سال میں پہلے سے بہتر کارکردگی پیش کی جائے گی۔
اس کے بعد تحریک کے 6 شعبہ جات کے ذریعے کئے جانے والے کاموں کی تعین پر مشاورت شروع ہوئی۔ شعبہ جات کی تفصیل یہ ہے:
1- شعبہ دعوت وتبلیغ
2-شعبہ سماجی خدمات
3- شعبہ قانونی و سیاسی امور
4- شعبہ نشرواشاعت
5-شعبہ رابطہ
6- شعبہ مالیات
ارکان شوری کی رائے اور تبادلہ خیال کا دورانیہ دو گھنٹے پر محیط رہا۔ اہم نکات اور رائیں نوٹ کی جاتی رہیں اس کے بعد نماز ظہر کے لیے اجلاس ختم کردیا گیا۔
نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد مندوبین کو ظہرانہ دیا گیا اور مختصر سے قیلولہ کے بعد نشست ثانی کا آغاز ہوا۔
نشست ثانی کا آغاز بھی تلاوت قرآن اور نعت رسولﷺ سے ہوا۔ اس کے بعد نشست اول میں 6 شعبہ جات کے متعلق طے شدہ امور پر گفتگو کرتے ہوئے شعبہ جات کے صدور کی تقرری کا فیصلہ لیا گیا، اور ان حضرات کو شعبہ جات کا صدر منتخب کیا گیا:
1- *مولانا معزالدین عثمانی ازہری*
(شعبہ دعوت وتبلیغ)
2- *قاری محمد آصف رضا برکاتی*
(شعبہ سماجی خدمات)
3- *جناب احسان الحق*
(شعبہ قانونی و سیاسی امور)
4- *محمد زبیر قادری*
(شعبہ نشرو اشاعت)
5- *مولانا شمس الہدی قادری*
(شعبہ رابطہ)
6- *محترم قمر غنی عثمانی*
(شعبہ مالیات)
اس کے علاوہ جناب عارف رحمان صاحب کو آڈیٹر منتخب کیا گیا۔ بعدہ صلواۃ وسلام اور نبیرہ صدرالشریعہ مفتی فیضان المصطفیٰ اعظمی کی دعا پر اجلاس عام مکمل ہوا۔
اہم مندوبین میں مفتی سید اکرام الحق مصباحی کُرلا، مفتی فیضان المصطفیٰ اعظمی گھوسی، مفتی منظم ازہری دہلی، مفتی راحت خان قادری بریلی شریف، مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی دہلی، مولانا عمران ازہری دہلی، مولانا فیضان احمد نعیمی دہلی، مولانا معزالدین عثمانی ازہری امیٹھی شریف، ایم حسنین دہلی، مولانا عقیل احمد دہلی، جناب اخلاق حسن دہلی، قاری محمد آصف رضا برکاتی میرا روڈ، مولانا وسیم القادری بِھونڈی، مولانا کلیم سبحانی ممبئی، مولانا شمس الہدی قادری وڈالہ، عتیق الرحمن رضوی مالیگاؤں، جناب انجم صاحب مالیگاؤں، جناب اعجاز قادری ناگپور، جناب عارف رحمان مالیگاؤں، مولانا بلال احمد صدر امام احمد رضا دارالافتا میرا روڈ، مفتی وسیم القادری کُرلا ممبئی، جناب نعمان رضوی اور جناب محتشم رضا وغیرہ شریک تھے۔ اراکین امام احمد رضا دارالافتا کے ذمہ داران مولانا بلال احمد (صدر ٹرسٹ) قاری محمد آصف رضا برکاتی (جنرل سیکرٹری) ودیگر ارکان نے نہایت خلوص واپنائیت کے ساتھ مندوبین اجلاس کی میزبانی فرمائی اور جملہ انتظام وانصرام میں غایت درجے کے خلوص کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالیٰ جملہ منتظمین کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
رپورٹ: *محمد زبیر قادری*
صدر شعبہ نشرو اشاعت
تحریک فروغ اسلام دہلی
_تحریک فروغ اسلام کا دوسرا اجلاس عام_
*بتاریخ: 6 ستمبر 2020 بروز اتوار*
*بمقام: امام احمد رضا دارالافتا میرا روڈ ممبئی*
مجلس شوریٰ تحریک فروغ اسلام کا دوسرا سالانہ اجلاس عام امام احمد رضا دارالافتا میرا روڈ ممبئی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں مجلس شوریٰ کے تقریباً 20 افراد نے شرکت کی باقی 10 افراد حاضر نہ ہوسکے۔ صدر تحریک کی اجازت پر بعض دیگر افراد بھی شریک اجلاس رہے۔
اجلاس دو نشستوں پر مشتمل تھا۔ نشست اول کا آغاز تلاوت قرآن اور نعت مصطفیٰ ﷺ سے ہوا۔ تعارف مندوبین کے بعد صدر تحریک محترم قمر غنی عثمانی صاحب نے خطبہ استقبالیہ میں حالات حاضرہ کی سنگینی اور ناموس رسالت پر ہونے والے حملوں کی کثرت پر گفتگو کرتے ہوئے علماے کرام سے سنجیدگی کے ساتھ عوامی ذہن سازی کی گزارش کی۔
بعدہ جنرل سیکرٹری نے تحریک کی سابقہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے کل چودہ نکات میں تحریک کی ایک سالہ کارکردگی کا اجمالی خاکہ شرکا کے سامنے رکھا۔موصوف نے ایک سالہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تحریک نے محدود وسائل کے ہوتے ہوئے بھی ایک سال میں کئی اہم اور جماعتی سطح پر منفرد اقدامات کیے ہیں۔لیکن پھر بھی ہمیں لگتا ہے کہ ہم بہت سارے کام قلت وسائل کی بنا پر نہیں کر سکے اگر احباب اور قوم نے ساتھ دیا تو ان شاء اللہ رواں سال میں پہلے سے بہتر کارکردگی پیش کی جائے گی۔
اس کے بعد تحریک کے 6 شعبہ جات کے ذریعے کئے جانے والے کاموں کی تعین پر مشاورت شروع ہوئی۔ شعبہ جات کی تفصیل یہ ہے:
1- شعبہ دعوت وتبلیغ
2-شعبہ سماجی خدمات
3- شعبہ قانونی و سیاسی امور
4- شعبہ نشرواشاعت
5-شعبہ رابطہ
6- شعبہ مالیات
ارکان شوری کی رائے اور تبادلہ خیال کا دورانیہ دو گھنٹے پر محیط رہا۔ اہم نکات اور رائیں نوٹ کی جاتی رہیں اس کے بعد نماز ظہر کے لیے اجلاس ختم کردیا گیا۔
نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد مندوبین کو ظہرانہ دیا گیا اور مختصر سے قیلولہ کے بعد نشست ثانی کا آغاز ہوا۔
نشست ثانی کا آغاز بھی تلاوت قرآن اور نعت رسولﷺ سے ہوا۔ اس کے بعد نشست اول میں 6 شعبہ جات کے متعلق طے شدہ امور پر گفتگو کرتے ہوئے شعبہ جات کے صدور کی تقرری کا فیصلہ لیا گیا، اور ان حضرات کو شعبہ جات کا صدر منتخب کیا گیا:
1- *مولانا معزالدین عثمانی ازہری*
(شعبہ دعوت وتبلیغ)
2- *قاری محمد آصف رضا برکاتی*
(شعبہ سماجی خدمات)
3- *جناب احسان الحق*
(شعبہ قانونی و سیاسی امور)
4- *محمد زبیر قادری*
(شعبہ نشرو اشاعت)
5- *مولانا شمس الہدی قادری*
(شعبہ رابطہ)
6- *محترم قمر غنی عثمانی*
(شعبہ مالیات)
اس کے علاوہ جناب عارف رحمان صاحب کو آڈیٹر منتخب کیا گیا۔ بعدہ صلواۃ وسلام اور نبیرہ صدرالشریعہ مفتی فیضان المصطفیٰ اعظمی کی دعا پر اجلاس عام مکمل ہوا۔
اہم مندوبین میں مفتی سید اکرام الحق مصباحی کُرلا، مفتی فیضان المصطفیٰ اعظمی گھوسی، مفتی منظم ازہری دہلی، مفتی راحت خان قادری بریلی شریف، مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی دہلی، مولانا عمران ازہری دہلی، مولانا فیضان احمد نعیمی دہلی، مولانا معزالدین عثمانی ازہری امیٹھی شریف، ایم حسنین دہلی، مولانا عقیل احمد دہلی، جناب اخلاق حسن دہلی، قاری محمد آصف رضا برکاتی میرا روڈ، مولانا وسیم القادری بِھونڈی، مولانا کلیم سبحانی ممبئی، مولانا شمس الہدی قادری وڈالہ، عتیق الرحمن رضوی مالیگاؤں، جناب انجم صاحب مالیگاؤں، جناب اعجاز قادری ناگپور، جناب عارف رحمان مالیگاؤں، مولانا بلال احمد صدر امام احمد رضا دارالافتا میرا روڈ، مفتی وسیم القادری کُرلا ممبئی، جناب نعمان رضوی اور جناب محتشم رضا وغیرہ شریک تھے۔ اراکین امام احمد رضا دارالافتا کے ذمہ داران مولانا بلال احمد (صدر ٹرسٹ) قاری محمد آصف رضا برکاتی (جنرل سیکرٹری) ودیگر ارکان نے نہایت خلوص واپنائیت کے ساتھ مندوبین اجلاس کی میزبانی فرمائی اور جملہ انتظام وانصرام میں غایت درجے کے خلوص کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالیٰ جملہ منتظمین کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
رپورٹ: *محمد زبیر قادری*
صدر شعبہ نشرو اشاعت
تحریک فروغ اسلام دہلی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*حضور اشرف الفقہاء*
دینی و علمی مجالس کے آئینے میں
{ملفوظات و ارشادات ہمہ جہت عناوین کو محیط ہوتےاور شرعی مسائل کی تفہیم سے فروغِ علم کا پیغام ملتا}
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
نگاہِ حضور مفتی اعظم کی جلوہ گری تھی کہ؛ جو اُن کے دامن سے وابستہ ہوا چمک گیا، جو اُن کے زیرِ تربیت رہا؛ زمانے پر چھا گیا، اپنی دینی و علمی خدمات کے نقوش اِس جہان میں چھوڑ گیا۔ ایسی ہی شخصیت خلیفۂ حضور مفتی اعظم اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ کی تھی۔ آپ نے طویل عمر پائی، نصف صدی سے زیادہ مدت تک دین متین کی نشر و اشاعت اور فروغِ حق و صداقت کے لیے سرگرمِ عمل رہے۔ ہمہ جہت پہلوؤں سے اصلاحِ مسلمین کا مبارک فریضہ انجام دیتے رہے۔
بنیادی طور پر خطیب، مصلح، مفکر اور داعیِ اسلام تھے۔ لیکن جہاں جاتے مجالس علمی سج جاتیں۔ جوق دَر جوق خلقت آتی، بیعت ہوتی، ایمان تازہ کرتی اور روحانی برکتوں کی خوش گوار فضا میں رُخصت ہوتی۔ آپ کی نجی مجالس بھی فروغِ دین و اصلاحِ مسلمین کا مؤثر ذریعہ تھیں۔ حاضر باش اس کے شاہد و موئید ہیں۔ راقم نے سیکڑوں مجالس میں شرکت کی اور پل پل تقویٰ و طہارت اور اخلاقی تطہیر و فکری پاکیزگی کا مشاہدہ و نظارہ کیا۔
مجالسِ اشرف الفقہاء ہمہ جہت عناوین کو محیط ہیں۔ جس کا اجمال بشکلِ نکات درج کیا جاتا ہے:
[۱] حضور اشرف الفقہاء کی مجالس عموماً بوقت بعد نمازِ عصر ، بعد نمازِ مغرب اور شب میں بعد از خطاب اقامت گاہ پر آراستہ ہوتیں، جہاں آپ اپنے ملفوظاتِ عالیہ سے نوازتے۔ ہمہ جہت عناوین پر گفتگو ہوتی لیکن سب کا ایک ہی مقصد ہوتا، تقویتِ دین و حفاظتِ ایمان و عمل۔
[۲] حضور اشرف الفقہاء بڑی متانت سے گفتگو فرماتے۔ ہر فرد سے اس کی لیاقت یا Statusکے مطابق مخاطب ہوتے۔ عام لوگوں سے عام فہم انداز میں بات کرتے۔ سبھی کی خیریت دریافت فرماتے۔ خندہ پیشانی سے ملتے۔
[۳] عموماً نشست بڑی سادہ ہوتی۔ مسہری کے ایک سِرے پر براجمان ہوتے، لیکن قدموں کو سمیٹ کر بیٹھتے۔ پیروں کو پھیلائے ہم نے مجالست نہیں دیکھی۔ انکسار و عاجزی کے انداز میں بیٹھتے۔
[۴] لوگ مسائل کے حل نیز روحانی معاملات میں رہنمائی لینے حاضر آتے۔ ہر ایک سے مسائل معلوم کر کے ان کا دینی حل بتاتے۔
[۵] جسے تعویذ کی ضرورت ہوتی، تعویذ عطا فرماتے۔ لیکن اسی کے ساتھ پابندیِ صوم و صلوٰۃ کی نصیحت ضرور فرماتے۔
[۶] پیچیدہ معاملات میں بھی دُعاؤں کی سوغات دیتے، بعد کو مشاہدہ ہوا کہ پیچیدگی دور ہوئی اور سائل مطمئن ہوا۔
[۷] باہمی رنجش کے مسائل میں اتحاد و اخوت کی فضا استوار فرماتے۔ ہم مزاج و ہم خیال افراد میں اختلافی فضا آپ کی مجالس میں دور ہو جاتیں۔
[۸] عقائد کے معاملے میں تصلب و استقامت کو مقدم رکھتے۔ اس میں کسی بھی طرح کا سمجھوتہ گوارا نہ تھا۔ مومن کی یہی صفت ہو کہ ؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم گاہِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
کی عملی تعبیر تھے۔ اپنوں سے نرم مزاجی صفت تھی اور بارگاہِ رسالت ﷺ کے دُشمنوں کے لیے گویا فولاد تھے۔
[۹] مرید ہونے کوئی آتا تو مرید بھی بناتے ساتھ ہی شریعت پر سختی سے گامزن رہنے کی نصیحت فرماتے۔ تمام باطل فرقوں سے بچنے کی تلقین لازماً کرتے۔
[۱۰]خواتین اسلام کے لیے پردے کی تاکید و نصیحت فرماتے۔ بیعت بھی پردہ کے توسط سے فرماتے۔ عموماً ہم لوگ جب بھی بیعت کے لیے خواتین یا بچیوں کے نام پیش کرتے تو داخلِ سلسلہ فرماتے ۔ جب کہ احباب کو بیعت کروانا ہوتا تو مجلس میں لے کر جاتے۔
[۱۱]علمی مسائل پر سوالات کیے جاتے، خندہ پیشانی کے ساتھ جواب دیتے۔ دلائل بھی عام فہم انداز میں پیش کرتے۔ گفتگو میں توضیحی و تشریحی پہلو غالب ہوتا۔
[۱۲] حضور اشرف الفقہاء کی بارگاہ میں بیٹھنے والا ہر فرد اس بات کی گواہی دے گا کہ شفقت و مروت کا معاملہ فرماتے اور ہر فرد کی ضرورت پوچھتے اور مناسب حل فرماتے۔
[۱۳]راقم جب ملنے جاتا، اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت کی دینی، علمی، اعتقادی و اصلاحی خدمات پر ہونے والے تحقیقی کاموں کی بابت ضرور پوچھتے۔ ترجمۂ قرآن کنزالایمان، فتاویٰ رضویہ،فتاویٰ مصطفویہ کی توسیع کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کو سراہتے۔ گھنٹوں اعلیٰ حضرت کا تذکرہ بصد ذوق فرماتے ۔ سامعین سنتے رہتے۔ اور شرکا کی معلومات میں اضافہ ہوتا۔
[۱۴] تفہیم اشعارِ رضا کے سلسلے میں اکثر استفسار کیا جاتا۔بہت انہماک سے توضیح فرماتے، انشراح صدر ہوتا۔ نعتیہ اشعارِ رضا پر جب بات ہوتی تو مجلس میں نورانیت بڑھ جاتی۔ محبت رسول ﷺ کی پاکیزہ فضا قائم ہوتی۔ ذکرِ رسول ﷺ کی یہ بزم طویل ہو جاتی۔ تشنگی باقی رہتی۔
[۱۵] جب کسی کے یہاں دعوت پر تشریف لے جاتے، ہر ایک کی دل جوئی فرماتے۔ غذا بہت قلیل تناول کرتے۔ دوسروں کا خیال رکھتے کہ تمام لوگ کھانے سے فارغ ہو لیں۔ برکتوں کی دُعا کرتے۔ جنھیں تعویذ کی ضرورت ہوتی تعویذ دیتے۔ دُعائیں دیتے۔ نصیحتیں کرتے ہوئے رُخصت ہوتے۔ عموماً ہر مقام پر لوگ طلبِ بیعت کرتے۔ بیعت فرماتے اور نمازوں
دینی و علمی مجالس کے آئینے میں
{ملفوظات و ارشادات ہمہ جہت عناوین کو محیط ہوتےاور شرعی مسائل کی تفہیم سے فروغِ علم کا پیغام ملتا}
غلام مصطفیٰ رضوی
[نوری مشن مالیگاؤں]
نگاہِ حضور مفتی اعظم کی جلوہ گری تھی کہ؛ جو اُن کے دامن سے وابستہ ہوا چمک گیا، جو اُن کے زیرِ تربیت رہا؛ زمانے پر چھا گیا، اپنی دینی و علمی خدمات کے نقوش اِس جہان میں چھوڑ گیا۔ ایسی ہی شخصیت خلیفۂ حضور مفتی اعظم اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ کی تھی۔ آپ نے طویل عمر پائی، نصف صدی سے زیادہ مدت تک دین متین کی نشر و اشاعت اور فروغِ حق و صداقت کے لیے سرگرمِ عمل رہے۔ ہمہ جہت پہلوؤں سے اصلاحِ مسلمین کا مبارک فریضہ انجام دیتے رہے۔
بنیادی طور پر خطیب، مصلح، مفکر اور داعیِ اسلام تھے۔ لیکن جہاں جاتے مجالس علمی سج جاتیں۔ جوق دَر جوق خلقت آتی، بیعت ہوتی، ایمان تازہ کرتی اور روحانی برکتوں کی خوش گوار فضا میں رُخصت ہوتی۔ آپ کی نجی مجالس بھی فروغِ دین و اصلاحِ مسلمین کا مؤثر ذریعہ تھیں۔ حاضر باش اس کے شاہد و موئید ہیں۔ راقم نے سیکڑوں مجالس میں شرکت کی اور پل پل تقویٰ و طہارت اور اخلاقی تطہیر و فکری پاکیزگی کا مشاہدہ و نظارہ کیا۔
مجالسِ اشرف الفقہاء ہمہ جہت عناوین کو محیط ہیں۔ جس کا اجمال بشکلِ نکات درج کیا جاتا ہے:
[۱] حضور اشرف الفقہاء کی مجالس عموماً بوقت بعد نمازِ عصر ، بعد نمازِ مغرب اور شب میں بعد از خطاب اقامت گاہ پر آراستہ ہوتیں، جہاں آپ اپنے ملفوظاتِ عالیہ سے نوازتے۔ ہمہ جہت عناوین پر گفتگو ہوتی لیکن سب کا ایک ہی مقصد ہوتا، تقویتِ دین و حفاظتِ ایمان و عمل۔
[۲] حضور اشرف الفقہاء بڑی متانت سے گفتگو فرماتے۔ ہر فرد سے اس کی لیاقت یا Statusکے مطابق مخاطب ہوتے۔ عام لوگوں سے عام فہم انداز میں بات کرتے۔ سبھی کی خیریت دریافت فرماتے۔ خندہ پیشانی سے ملتے۔
[۳] عموماً نشست بڑی سادہ ہوتی۔ مسہری کے ایک سِرے پر براجمان ہوتے، لیکن قدموں کو سمیٹ کر بیٹھتے۔ پیروں کو پھیلائے ہم نے مجالست نہیں دیکھی۔ انکسار و عاجزی کے انداز میں بیٹھتے۔
[۴] لوگ مسائل کے حل نیز روحانی معاملات میں رہنمائی لینے حاضر آتے۔ ہر ایک سے مسائل معلوم کر کے ان کا دینی حل بتاتے۔
[۵] جسے تعویذ کی ضرورت ہوتی، تعویذ عطا فرماتے۔ لیکن اسی کے ساتھ پابندیِ صوم و صلوٰۃ کی نصیحت ضرور فرماتے۔
[۶] پیچیدہ معاملات میں بھی دُعاؤں کی سوغات دیتے، بعد کو مشاہدہ ہوا کہ پیچیدگی دور ہوئی اور سائل مطمئن ہوا۔
[۷] باہمی رنجش کے مسائل میں اتحاد و اخوت کی فضا استوار فرماتے۔ ہم مزاج و ہم خیال افراد میں اختلافی فضا آپ کی مجالس میں دور ہو جاتیں۔
[۸] عقائد کے معاملے میں تصلب و استقامت کو مقدم رکھتے۔ اس میں کسی بھی طرح کا سمجھوتہ گوارا نہ تھا۔ مومن کی یہی صفت ہو کہ ؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم گاہِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
کی عملی تعبیر تھے۔ اپنوں سے نرم مزاجی صفت تھی اور بارگاہِ رسالت ﷺ کے دُشمنوں کے لیے گویا فولاد تھے۔
[۹] مرید ہونے کوئی آتا تو مرید بھی بناتے ساتھ ہی شریعت پر سختی سے گامزن رہنے کی نصیحت فرماتے۔ تمام باطل فرقوں سے بچنے کی تلقین لازماً کرتے۔
[۱۰]خواتین اسلام کے لیے پردے کی تاکید و نصیحت فرماتے۔ بیعت بھی پردہ کے توسط سے فرماتے۔ عموماً ہم لوگ جب بھی بیعت کے لیے خواتین یا بچیوں کے نام پیش کرتے تو داخلِ سلسلہ فرماتے ۔ جب کہ احباب کو بیعت کروانا ہوتا تو مجلس میں لے کر جاتے۔
[۱۱]علمی مسائل پر سوالات کیے جاتے، خندہ پیشانی کے ساتھ جواب دیتے۔ دلائل بھی عام فہم انداز میں پیش کرتے۔ گفتگو میں توضیحی و تشریحی پہلو غالب ہوتا۔
[۱۲] حضور اشرف الفقہاء کی بارگاہ میں بیٹھنے والا ہر فرد اس بات کی گواہی دے گا کہ شفقت و مروت کا معاملہ فرماتے اور ہر فرد کی ضرورت پوچھتے اور مناسب حل فرماتے۔
[۱۳]راقم جب ملنے جاتا، اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت کی دینی، علمی، اعتقادی و اصلاحی خدمات پر ہونے والے تحقیقی کاموں کی بابت ضرور پوچھتے۔ ترجمۂ قرآن کنزالایمان، فتاویٰ رضویہ،فتاویٰ مصطفویہ کی توسیع کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کو سراہتے۔ گھنٹوں اعلیٰ حضرت کا تذکرہ بصد ذوق فرماتے ۔ سامعین سنتے رہتے۔ اور شرکا کی معلومات میں اضافہ ہوتا۔
[۱۴] تفہیم اشعارِ رضا کے سلسلے میں اکثر استفسار کیا جاتا۔بہت انہماک سے توضیح فرماتے، انشراح صدر ہوتا۔ نعتیہ اشعارِ رضا پر جب بات ہوتی تو مجلس میں نورانیت بڑھ جاتی۔ محبت رسول ﷺ کی پاکیزہ فضا قائم ہوتی۔ ذکرِ رسول ﷺ کی یہ بزم طویل ہو جاتی۔ تشنگی باقی رہتی۔
[۱۵] جب کسی کے یہاں دعوت پر تشریف لے جاتے، ہر ایک کی دل جوئی فرماتے۔ غذا بہت قلیل تناول کرتے۔ دوسروں کا خیال رکھتے کہ تمام لوگ کھانے سے فارغ ہو لیں۔ برکتوں کی دُعا کرتے۔ جنھیں تعویذ کی ضرورت ہوتی تعویذ دیتے۔ دُعائیں دیتے۔ نصیحتیں کرتے ہوئے رُخصت ہوتے۔ عموماً ہر مقام پر لوگ طلبِ بیعت کرتے۔ بیعت فرماتے اور نمازوں
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
کی پابندی کی تلقین کرتے۔
[۱۶] عموماً کام کے لیے رہنمائی چاہنے والے ہر مقام پر ملاقات کو حاضر ہوتے۔ تعمیری کاموں کی طرف ذہن موڑ دیتے۔ جلسوں جلوسوں کی بجائے مدارس، مساجد، علم دین اور اشاعت و اصلاحی کاموں کی طرف توجہ مبذول کرواتے۔ ذہن سازی کرتے۔ ہر معاملے میں صحتِ عقیدہ کا مقدم رکھتے۔ یوں ہی تمام باطل عقائد والوں کے شر سے بچنے کی تاکید کرتے۔
[۱۷] مزاج و کردار میں یک رنگی تھی۔ یہی سبب ہے کہ آپ کے افعال و کردار سے درسِ اصلاح و درسِ تقویٰ فراہم ہوتا۔ ایسے لوگ جو اُلٹے سیدھے کام کرتے ہیں وہ جب اشرف الفقہاء سے ملتے تو اپنی اصلاح پر خود بہ خود مائل ہوتے۔کتنوں کا مشاہدہ ہوا کہ انھیں سمجھایا جاتا لیکن نہیں سمجھتے، جب وہ بارگاہِ اشرف الفقہاء میں پہنچے تو معاملہ بدل گیا۔
[۱۸] حوصلہ ہارے ہوئے مجلسِ اشرف الفقہاء میں عزم محکم لے کر اُٹھتے۔
[۱۹] بچوں پر شفقت ہوتی۔ ان سے تعلیم کا پوچھتے اور حوصلہ دیتے۔ذوقِ علم بڑھاتے۔
[۲۰] طلبۂ علوم دینیہ پر خصوصی اکرام فرماتے۔ انھیں احترام دیتے کہ دوسروں کو طلبہ کا احترام کرنے کا درس ملے۔یوں ہی سرپرستوں کو توجہ دلاتے کہ وہ بچوں کو حصولِ علم دین کے لیے آمادہ کریں۔
مجالس میں جو ملفوظات ارشاد فرماتے، وہ ہمہ جہت عناوین کو محیط ہوتے۔ خصوصیت سے شرعی مسائل کے حل عام فہم انداز میں عنایت فرماتے۔ کاش! انھیں کوئی لکھتا تو علم و عرفان کا عظیم ذخیرہ منظر عام پر آتا اور قوم کی فلاح کا سامان ہوتا۔ بہر کیف مجالس کے حاضر باش علما و طلبا کو چاہیے کہ یادداشت کو صفحات پر منتقل کریں اور اپنے اکابر سے وابستگی کا علمی فیض عام کریں۔
٭ ٭ ٭
بموقع عرس چہلم حضور اشرف الفقہاء
***
١٢ ستمبر ٢٠٢٠ء
[۱۶] عموماً کام کے لیے رہنمائی چاہنے والے ہر مقام پر ملاقات کو حاضر ہوتے۔ تعمیری کاموں کی طرف ذہن موڑ دیتے۔ جلسوں جلوسوں کی بجائے مدارس، مساجد، علم دین اور اشاعت و اصلاحی کاموں کی طرف توجہ مبذول کرواتے۔ ذہن سازی کرتے۔ ہر معاملے میں صحتِ عقیدہ کا مقدم رکھتے۔ یوں ہی تمام باطل عقائد والوں کے شر سے بچنے کی تاکید کرتے۔
[۱۷] مزاج و کردار میں یک رنگی تھی۔ یہی سبب ہے کہ آپ کے افعال و کردار سے درسِ اصلاح و درسِ تقویٰ فراہم ہوتا۔ ایسے لوگ جو اُلٹے سیدھے کام کرتے ہیں وہ جب اشرف الفقہاء سے ملتے تو اپنی اصلاح پر خود بہ خود مائل ہوتے۔کتنوں کا مشاہدہ ہوا کہ انھیں سمجھایا جاتا لیکن نہیں سمجھتے، جب وہ بارگاہِ اشرف الفقہاء میں پہنچے تو معاملہ بدل گیا۔
[۱۸] حوصلہ ہارے ہوئے مجلسِ اشرف الفقہاء میں عزم محکم لے کر اُٹھتے۔
[۱۹] بچوں پر شفقت ہوتی۔ ان سے تعلیم کا پوچھتے اور حوصلہ دیتے۔ذوقِ علم بڑھاتے۔
[۲۰] طلبۂ علوم دینیہ پر خصوصی اکرام فرماتے۔ انھیں احترام دیتے کہ دوسروں کو طلبہ کا احترام کرنے کا درس ملے۔یوں ہی سرپرستوں کو توجہ دلاتے کہ وہ بچوں کو حصولِ علم دین کے لیے آمادہ کریں۔
مجالس میں جو ملفوظات ارشاد فرماتے، وہ ہمہ جہت عناوین کو محیط ہوتے۔ خصوصیت سے شرعی مسائل کے حل عام فہم انداز میں عنایت فرماتے۔ کاش! انھیں کوئی لکھتا تو علم و عرفان کا عظیم ذخیرہ منظر عام پر آتا اور قوم کی فلاح کا سامان ہوتا۔ بہر کیف مجالس کے حاضر باش علما و طلبا کو چاہیے کہ یادداشت کو صفحات پر منتقل کریں اور اپنے اکابر سے وابستگی کا علمی فیض عام کریں۔
٭ ٭ ٭
بموقع عرس چہلم حضور اشرف الفقہاء
***
١٢ ستمبر ٢٠٢٠ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#دیوبندیوں کی منافقت دشمن رسول صلی اللہ علیہ السلام ملاحظہ فرمائیں دیوبندی اپنے ہی اصول اپنے ہی عبارت فتاویٰ کی روشنی میں کافر
دیوبندی مکتب فکر کی بنیا دہلا دینے والی ایک کہانی گیلانی نے ان ہی
مولوی قاسم صاحب نانوتوی کے متعلق اپنی کتاب سوانح قاسمی میں اچنبھے میں ڈال دینے
والی ایک حکایت بیان کی ہے ، لکھتے ہیں کہ :
ایک بار مولانا موصوف کا کسی ایسے گاؤں میں گزر ہوا جہاں شیعوں کی
کی کثیر آبادی تھی سنیوں کو جب ان کی آمد کی خبر ہوئی تومرقع غنیمت جانا اور
ان کے وعظ کا اعلان کر دیا۔ اعلان سنتے ہی شیعوں میں ایک کھلبلی مچ گئی
انہوں نے جلسئہ وعظ کو ناکام بنانے کے لئے لکھنؤ سے چارمجتد بلوائے
اور پروگرام یہ طے پایا کہ مجلس وعظ میں چاروں کونوں پر یہ چاروں مجتهد
بیٹھ جائیں اور چالیس اعتراض منتخب کر کے دس دس اعتراض چاروں پر
بانٹ دئے گئے کہ اثنائے وعظ میں ہرایک مجتهد الگ الگ اعتراض کرے
اور اس طرح جلسئہ وعظ کو درہم برہم کر دیا جائے
: حضرت والا کی کرامت کا حال سنئے کہ حضرت نے وعظ شروع فرمایا جس
میں تمام شیعہ برادری بھی جمع تھی اور وہ وعظ ایسی ترتیب سے اعتراضوں
کے جواب پر مشتمل ہو جس ترتیب سے اعتراضات لے کر مجتهدین بیٹھے تھے
گویا کہ ترتیب کے مطابت جب کوئی مجتهد اعتراض کرنے کے لئے گردن اٹھاتا
تو حضرت اسی اعتراض کو خو ونقل کر کے جواب دینا شروع فرماتے یہاں تک
کہ وعظ پورےسکون کے ساتھ پورا ہوا ،📗سوانح قاسمی ج2ص71
مزید اس واقعہ کے بعد جو واقعہ پیش آیا وہ اس سے بھی زیادہ حیرت ناک اور دلچسپ ہے لکھا ہے کہ :'
مجتهدين اور مقامی شیعہ چودھریوں کو اس میں انتہائی سبکی اور
خفت محسوس ہوئی تو انہوں نے حرکت مزبوحی کے طور پر اس شرمندگی کو
مٹانے اور حضرت والا کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ایک
نوجوان کا فرضی جنازہ بنایا اور حضرت سے آکر عرض کیا کہ حضرت نماز
جنازہ آپ پڑھا دیں۔
پروگرام یہ تھا کہ جب حضرت دو تکبیر کہ لیں توصاحب جنازہ ایک
دم ا اٹھ کھڑا ہو اور اس پر حضرت کے ساتھ استهزاء وتمسخر کیا جائے حضرت
والا نے معذرت فرمائی کہ آپ لوگ شیعہ ہیں اور میں سنی ہوں ، اصول
نماز الگ الگ ہیں۔ آپ کے جنازے کی نماز مجھ سے پڑھوانی کب جائز
ہوگئی شیعوں نے عرض کیا کہ حضرت بزرگ ہر قوم کا بزرگ ہی ہوتاہے
تو نماز پڑھا ہی دیں
حضرت نے ان کے اصرار پر منظور فرما لیا اور جنازے پر پہنچ گئے مجمع
تھا حضرت ایک طرف کھڑے ہوئے تھے کہ چہرے پر غصے کے آثار دیکھے
گئے ، آنکھیں سرخ تھیں اور انقباض چہرے سے ظاہرتھا، نماز کے لئے
کہا گیا تو آگے بڑھے اور نماز شروع کر دی ۔ دوتکبیر کہنے پرجب طےشده
پروگرام کے مطابق جنازے میں حرکت نہ ہوئی تو پیچھے سے کسی نے ہونه
کے ساتھ سسکاری مگر وہ نہ اٹھا۔
اور حضرت نے تکبیر اربعہ پوری کر کے اسی غصے کے لہجے میں فرمایا کہ ای
یہ قیامت کی صبح سے پہلے نہیں اٹھ سکتا۔ دیکھا گیا تو وہ مردہ تھا شیعوں رونا پٹنا پڑگیا 📗سوانح قاسمی جلد2ص71
قسم ہے آپ کو جلالت خداوندی کی جس کی ہیبت سے مومن کا کلیجہ لرزتہ رہتا ہے کہ
حق کے ساتھ انصاف کرنے میں کسی کی پاسداری نہ کیجئے گا۔
یہ دونوں واقعے آپ کے سامنے ہیں۔ پہلے واقعہ میں نانوتوی صاحب کے لئے
غیبی علم وادراک کی عظیم قوت ثابت کی گئی ہے جس کے ذریعہ انہوں نے الگ الگ بر
مجتهد کے دل میں چھپے اعتراض کو اسی ترتیب کے ساتھ معلوم کرلیا جس ترتیب کے ساتھ وہ
اپنے اپنے دلوں میں چھپا کر لائے تھے۔ گھر کے بزرگ کے لئے تو جذبہ اعترف کی یہ فراوانی ہے کہ دلوں کے چھپے ہوئے
خطرات آئینے کی طرح ان کے پیش نظر ہیں.
اپنے مولانا کی اس غیبی قوت اور اک کا اعتراف کرتے ہوئے نہ شرک کا کوئی قانون
دامنگیر ہوا اور مشرب توحید سے کوئی انحراف نظر آیا لیکن انبیاء وأولياء کے حق میں
اس غیبی قوت ادراک کے سوال پر ان حضرات کے عقیدے کی زبان یہ ہے
کچھ اس بات میں بھی ان کو بڑائی نہیں ہے کہ اللہ نے غیب دانی اختیار
میں دے دی ہو کہ جس کے دل کے احوال جب چاہیں معلوم کرلیں یاجس غائب کا احوال جب چاہیں معلوم کرلیں کہ وہ جیتا ہے یامرگیا کس شر
میں ہے
📗تقویۃ الایمان ص25
انصانت و دیانت کی روشنی میں چلنے کی تمنا کرنے والر إحق و باطل کی راہوں کا
امتیاز محسوس کرنے کے لئے اب بھی کسی نشانی کی ضرورت ہے؟
/ واقعہ پر تبصرہ ختم ہوا اب دوسرے واقعہ پر اپنی توجہ مبذول فرمائے ۔ واقعہ کی یہ ایک
تفضیل تو اپنی جگہ پر ہے کہ نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوئے تو عرط غضب سے
آنکھیں سرخ تھیں جس کا مطلب یہ ہے کہ موصوف کو اپنی غیبی قوت ادراک کے ذریہ پہلے ہی یہ
معلوم ہوگیا تھا کہ تابوت کے اندر جنازه مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے اور صرف ازراہ تمسخر انہیں
نمازجنازہ پڑھانے کے لئے کہا گیا ہے۔
لیکن کہانی کا نقطہ سروج یہ ہے کہ انہوں نے تکبیرات اربعہ پوری کرنے کے بعداسی غصے کے لہجے میں فرمایاکہ اب یہ قیامت کی صبح سے سے پہلے نہیں اٹھ سکتااس فقرے کا
مدعاسوا اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ موصوف کی
قوت تصرف سے اچانک
دیوبندی مکتب فکر کی بنیا دہلا دینے والی ایک کہانی گیلانی نے ان ہی
مولوی قاسم صاحب نانوتوی کے متعلق اپنی کتاب سوانح قاسمی میں اچنبھے میں ڈال دینے
والی ایک حکایت بیان کی ہے ، لکھتے ہیں کہ :
ایک بار مولانا موصوف کا کسی ایسے گاؤں میں گزر ہوا جہاں شیعوں کی
کی کثیر آبادی تھی سنیوں کو جب ان کی آمد کی خبر ہوئی تومرقع غنیمت جانا اور
ان کے وعظ کا اعلان کر دیا۔ اعلان سنتے ہی شیعوں میں ایک کھلبلی مچ گئی
انہوں نے جلسئہ وعظ کو ناکام بنانے کے لئے لکھنؤ سے چارمجتد بلوائے
اور پروگرام یہ طے پایا کہ مجلس وعظ میں چاروں کونوں پر یہ چاروں مجتهد
بیٹھ جائیں اور چالیس اعتراض منتخب کر کے دس دس اعتراض چاروں پر
بانٹ دئے گئے کہ اثنائے وعظ میں ہرایک مجتهد الگ الگ اعتراض کرے
اور اس طرح جلسئہ وعظ کو درہم برہم کر دیا جائے
: حضرت والا کی کرامت کا حال سنئے کہ حضرت نے وعظ شروع فرمایا جس
میں تمام شیعہ برادری بھی جمع تھی اور وہ وعظ ایسی ترتیب سے اعتراضوں
کے جواب پر مشتمل ہو جس ترتیب سے اعتراضات لے کر مجتهدین بیٹھے تھے
گویا کہ ترتیب کے مطابت جب کوئی مجتهد اعتراض کرنے کے لئے گردن اٹھاتا
تو حضرت اسی اعتراض کو خو ونقل کر کے جواب دینا شروع فرماتے یہاں تک
کہ وعظ پورےسکون کے ساتھ پورا ہوا ،📗سوانح قاسمی ج2ص71
مزید اس واقعہ کے بعد جو واقعہ پیش آیا وہ اس سے بھی زیادہ حیرت ناک اور دلچسپ ہے لکھا ہے کہ :'
مجتهدين اور مقامی شیعہ چودھریوں کو اس میں انتہائی سبکی اور
خفت محسوس ہوئی تو انہوں نے حرکت مزبوحی کے طور پر اس شرمندگی کو
مٹانے اور حضرت والا کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ایک
نوجوان کا فرضی جنازہ بنایا اور حضرت سے آکر عرض کیا کہ حضرت نماز
جنازہ آپ پڑھا دیں۔
پروگرام یہ تھا کہ جب حضرت دو تکبیر کہ لیں توصاحب جنازہ ایک
دم ا اٹھ کھڑا ہو اور اس پر حضرت کے ساتھ استهزاء وتمسخر کیا جائے حضرت
والا نے معذرت فرمائی کہ آپ لوگ شیعہ ہیں اور میں سنی ہوں ، اصول
نماز الگ الگ ہیں۔ آپ کے جنازے کی نماز مجھ سے پڑھوانی کب جائز
ہوگئی شیعوں نے عرض کیا کہ حضرت بزرگ ہر قوم کا بزرگ ہی ہوتاہے
تو نماز پڑھا ہی دیں
حضرت نے ان کے اصرار پر منظور فرما لیا اور جنازے پر پہنچ گئے مجمع
تھا حضرت ایک طرف کھڑے ہوئے تھے کہ چہرے پر غصے کے آثار دیکھے
گئے ، آنکھیں سرخ تھیں اور انقباض چہرے سے ظاہرتھا، نماز کے لئے
کہا گیا تو آگے بڑھے اور نماز شروع کر دی ۔ دوتکبیر کہنے پرجب طےشده
پروگرام کے مطابق جنازے میں حرکت نہ ہوئی تو پیچھے سے کسی نے ہونه
کے ساتھ سسکاری مگر وہ نہ اٹھا۔
اور حضرت نے تکبیر اربعہ پوری کر کے اسی غصے کے لہجے میں فرمایا کہ ای
یہ قیامت کی صبح سے پہلے نہیں اٹھ سکتا۔ دیکھا گیا تو وہ مردہ تھا شیعوں رونا پٹنا پڑگیا 📗سوانح قاسمی جلد2ص71
قسم ہے آپ کو جلالت خداوندی کی جس کی ہیبت سے مومن کا کلیجہ لرزتہ رہتا ہے کہ
حق کے ساتھ انصاف کرنے میں کسی کی پاسداری نہ کیجئے گا۔
یہ دونوں واقعے آپ کے سامنے ہیں۔ پہلے واقعہ میں نانوتوی صاحب کے لئے
غیبی علم وادراک کی عظیم قوت ثابت کی گئی ہے جس کے ذریعہ انہوں نے الگ الگ بر
مجتهد کے دل میں چھپے اعتراض کو اسی ترتیب کے ساتھ معلوم کرلیا جس ترتیب کے ساتھ وہ
اپنے اپنے دلوں میں چھپا کر لائے تھے۔ گھر کے بزرگ کے لئے تو جذبہ اعترف کی یہ فراوانی ہے کہ دلوں کے چھپے ہوئے
خطرات آئینے کی طرح ان کے پیش نظر ہیں.
اپنے مولانا کی اس غیبی قوت اور اک کا اعتراف کرتے ہوئے نہ شرک کا کوئی قانون
دامنگیر ہوا اور مشرب توحید سے کوئی انحراف نظر آیا لیکن انبیاء وأولياء کے حق میں
اس غیبی قوت ادراک کے سوال پر ان حضرات کے عقیدے کی زبان یہ ہے
کچھ اس بات میں بھی ان کو بڑائی نہیں ہے کہ اللہ نے غیب دانی اختیار
میں دے دی ہو کہ جس کے دل کے احوال جب چاہیں معلوم کرلیں یاجس غائب کا احوال جب چاہیں معلوم کرلیں کہ وہ جیتا ہے یامرگیا کس شر
میں ہے
📗تقویۃ الایمان ص25
انصانت و دیانت کی روشنی میں چلنے کی تمنا کرنے والر إحق و باطل کی راہوں کا
امتیاز محسوس کرنے کے لئے اب بھی کسی نشانی کی ضرورت ہے؟
/ واقعہ پر تبصرہ ختم ہوا اب دوسرے واقعہ پر اپنی توجہ مبذول فرمائے ۔ واقعہ کی یہ ایک
تفضیل تو اپنی جگہ پر ہے کہ نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوئے تو عرط غضب سے
آنکھیں سرخ تھیں جس کا مطلب یہ ہے کہ موصوف کو اپنی غیبی قوت ادراک کے ذریہ پہلے ہی یہ
معلوم ہوگیا تھا کہ تابوت کے اندر جنازه مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے اور صرف ازراہ تمسخر انہیں
نمازجنازہ پڑھانے کے لئے کہا گیا ہے۔
لیکن کہانی کا نقطہ سروج یہ ہے کہ انہوں نے تکبیرات اربعہ پوری کرنے کے بعداسی غصے کے لہجے میں فرمایاکہ اب یہ قیامت کی صبح سے سے پہلے نہیں اٹھ سکتااس فقرے کا
مدعاسوا اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ موصوف کی
قوت تصرف سے اچانک
اس کی موت واقع
ہوگئی اور معا اس کا علم بھی انہیں ہوگیا۔
اب ٹھیک اس روایت کی دوسری سمت میں دیوبندی مذہب
کی دوسری کتاب تقویت الایمان
کی یہ عبارت پڑھئے اور دریائے حیرت میں غوطہ لگائیے
" عالم میں ارادہ سے تصرف کرنا اور اپنا حکم جاری کرنا اور اپنی خواہش سے
مارنا اور جلانا یہ سب اللہ ہی کی شان اور کسی انبیاء و اولیاء و
مرشد کی ، بھوت و پری کی یہ شان نہیں جو کوئی کسی کوایسا تصرف ثابت
کے سووه مشترک ہو جا تا ہے
📗تقویة الایمان ص۱۰)
ایک طرف دیوبندی مذہب کا یہ عقیدہ پڑھئے صاف عیاں ہو جائے گا کہ ان حضرات
کے یہاں شرک کی ساری بحثیں انبیاء و اولیا کی حرمتوں سے کھیلنے کے لئے ہیں ورنہ ہر
شرک اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں عین ایمان ہے؟
پوری زریت دیوبندیت تو علم غیب کی منکر ہے کہ آقا علیہ السلام کو علم غیب نہیں تھا لیکن مولوی قاسم نانوتوی کے ایک تلامذہ مرید تھے انکو ایک لڑکے سے عشق ہوگیا پیار بھی اس قدر کہ اسی کے یاد میں کھوئے رہتے تھے ہمیشہ اسی کے یاد میں ایک دم نکمے ہوگئے تھے عاجز ہوکر حضرت نانوتوی کے خدمت میں پہنچا مؤدب عرض کیا کہ حضرت للہ میری اعئت فرما دئیجیے میں تنگ آگیا اور عاجز آچکا ہوں ایسی دعا فرمائیے کہ اس لڑکے کا خیال تک میرے قلب سے محو ہوجائے تو ہنس کر فرمایا کہ بس مولوی صاحب کیا تھک گئے بس جوش ختم ہوگیا میں نے عرض کیا کہ حضرت سارے کوموں سے بیکار ہوگیا نکما ہوگیا اب مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوسکتا خدا کے لئیے میری امداد فرمائیے فرمایا بہت اچھا بعد مغرب جب میں نماز سے فارغ ہو تو آپ موجود رہیں میں نماز مغرب پڑھ کر چھتہ کی مسجد میں بیٹھا رہا جب حضرت صلوۃ الاوابین سے فارغ ہوئے تو آواز دی مولوی صاحب مینے عرض کیا حضرت حاضر ہوں میں سامنے حاضر ہوا اور بیٹھ گیا فرمایا کہ ہاتھ لاؤ میں نے ہاتھ بڑھایا میرا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر میری ہتھیلی کو اپنی ہتھیلی سے اس طرح رگڑا جیسے بان بٹے جاتے ہیں خدا کی قسم میں نے عیاناد دیکھا کہ میں عرش کے نیچے ہوں اور ہر چار طرف سے نور اور روشنی نے میرا احاطہ کرلیا ہے گویا میں دربار الہی میں حاضر ہوں میں اس وقت لرزاں اور ترساں تھا کہ ساری عمر مجھ پر یہ کپکپی اور خوف طاری نہ ہوا تھا میں پسینہ پسینہ ہوگیا اور بالکل خودی سے گزر گیا حضرت برابر میری ہتھیلی پر اپنی ہتھیلی پھیررہے ہیں جب ہتھیلی پھیرنا بند فرمایا تو یہ حالت بھی فرد ہوگئی فرمایا جاؤ میں اٹھ کر چلا آپ حضرات سکیں خود ملاحظہ فرمائیں 📗ارواح ثلاثہ
حکایت 250)
عالم غیب پر اپنے اقتدار کے تسلط کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے کہ جسے چاہا غیب دان بنا دیا لیکن محبوب کبریا صلی اللہ علیہ السلام کے حق میں بیک زبان سب متفق ہیں کہ کسی کو حرم سرائے غیب کا محرم بنانا تو بڑی بات ہے وہ خود غیب کی بات نہیں جانتے اور عرش کا تو پوچھنا ہی کیا ہے کہ فرش بھی ان کی نگاہ سے اوجھل آپ ہی منصفی سے کہئے کہ کیا یہی شیوہ اسلام ہے اور تقاضائے کلمہ گوئی ہے؟
ہوگئی اور معا اس کا علم بھی انہیں ہوگیا۔
اب ٹھیک اس روایت کی دوسری سمت میں دیوبندی مذہب
کی دوسری کتاب تقویت الایمان
کی یہ عبارت پڑھئے اور دریائے حیرت میں غوطہ لگائیے
" عالم میں ارادہ سے تصرف کرنا اور اپنا حکم جاری کرنا اور اپنی خواہش سے
مارنا اور جلانا یہ سب اللہ ہی کی شان اور کسی انبیاء و اولیاء و
مرشد کی ، بھوت و پری کی یہ شان نہیں جو کوئی کسی کوایسا تصرف ثابت
کے سووه مشترک ہو جا تا ہے
📗تقویة الایمان ص۱۰)
ایک طرف دیوبندی مذہب کا یہ عقیدہ پڑھئے صاف عیاں ہو جائے گا کہ ان حضرات
کے یہاں شرک کی ساری بحثیں انبیاء و اولیا کی حرمتوں سے کھیلنے کے لئے ہیں ورنہ ہر
شرک اپنے گھر کے بزرگوں کے حق میں عین ایمان ہے؟
پوری زریت دیوبندیت تو علم غیب کی منکر ہے کہ آقا علیہ السلام کو علم غیب نہیں تھا لیکن مولوی قاسم نانوتوی کے ایک تلامذہ مرید تھے انکو ایک لڑکے سے عشق ہوگیا پیار بھی اس قدر کہ اسی کے یاد میں کھوئے رہتے تھے ہمیشہ اسی کے یاد میں ایک دم نکمے ہوگئے تھے عاجز ہوکر حضرت نانوتوی کے خدمت میں پہنچا مؤدب عرض کیا کہ حضرت للہ میری اعئت فرما دئیجیے میں تنگ آگیا اور عاجز آچکا ہوں ایسی دعا فرمائیے کہ اس لڑکے کا خیال تک میرے قلب سے محو ہوجائے تو ہنس کر فرمایا کہ بس مولوی صاحب کیا تھک گئے بس جوش ختم ہوگیا میں نے عرض کیا کہ حضرت سارے کوموں سے بیکار ہوگیا نکما ہوگیا اب مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوسکتا خدا کے لئیے میری امداد فرمائیے فرمایا بہت اچھا بعد مغرب جب میں نماز سے فارغ ہو تو آپ موجود رہیں میں نماز مغرب پڑھ کر چھتہ کی مسجد میں بیٹھا رہا جب حضرت صلوۃ الاوابین سے فارغ ہوئے تو آواز دی مولوی صاحب مینے عرض کیا حضرت حاضر ہوں میں سامنے حاضر ہوا اور بیٹھ گیا فرمایا کہ ہاتھ لاؤ میں نے ہاتھ بڑھایا میرا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر میری ہتھیلی کو اپنی ہتھیلی سے اس طرح رگڑا جیسے بان بٹے جاتے ہیں خدا کی قسم میں نے عیاناد دیکھا کہ میں عرش کے نیچے ہوں اور ہر چار طرف سے نور اور روشنی نے میرا احاطہ کرلیا ہے گویا میں دربار الہی میں حاضر ہوں میں اس وقت لرزاں اور ترساں تھا کہ ساری عمر مجھ پر یہ کپکپی اور خوف طاری نہ ہوا تھا میں پسینہ پسینہ ہوگیا اور بالکل خودی سے گزر گیا حضرت برابر میری ہتھیلی پر اپنی ہتھیلی پھیررہے ہیں جب ہتھیلی پھیرنا بند فرمایا تو یہ حالت بھی فرد ہوگئی فرمایا جاؤ میں اٹھ کر چلا آپ حضرات سکیں خود ملاحظہ فرمائیں 📗ارواح ثلاثہ
حکایت 250)
عالم غیب پر اپنے اقتدار کے تسلط کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے کہ جسے چاہا غیب دان بنا دیا لیکن محبوب کبریا صلی اللہ علیہ السلام کے حق میں بیک زبان سب متفق ہیں کہ کسی کو حرم سرائے غیب کا محرم بنانا تو بڑی بات ہے وہ خود غیب کی بات نہیں جانتے اور عرش کا تو پوچھنا ہی کیا ہے کہ فرش بھی ان کی نگاہ سے اوجھل آپ ہی منصفی سے کہئے کہ کیا یہی شیوہ اسلام ہے اور تقاضائے کلمہ گوئی ہے؟
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں
تیسری عید بدعت ہے ،بدعت گمراہی ہے
اور ہر گمراہ کا ٹھکانہ جہنم ہے
عید میلاد منانے والے بدعتی ہیں
یا رسول اللہ کہنا بھی بدعت ہے ،کیونکہ ،یا ،حرف نداء ہے
جو زندہ کیلئے استعمال ہوتا ہے
عافیتک عیدنا
کی گرائمر بتاتا ہوں
عافیت ،صحت یابی ،،ک ،اسم ضمیر ہے ،مذکر حاظر کا
یہاں ،ک ،کا مخاطب تصویر ہے ،جوکہ بے جان ہے
عیدنا ،،عید کے معنی عید اور ،نا ،اسم ضمیر جمع مخاطب کا
یعنی پورے سعودیوں کی عید ہے
مختصر ،شیخ سلیمان آپ کا صحت یاب ہونا ہماری عید ہے
جو کہ بدعت نہیں
انہی ہی لعنتیوں نے ھذا بدعت و ھذا شرک کا فتوی امت
میں متعارف کروایا
امید ہے شیخ عبد الرحمن السدیس اور اندھا مفتی اعظم
عنقریب اس پر بدعت اور شرک کا فتوی جاری کرکے
اسلام بچائیں گے
صابر حسین
اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں
تیسری عید بدعت ہے ،بدعت گمراہی ہے
اور ہر گمراہ کا ٹھکانہ جہنم ہے
عید میلاد منانے والے بدعتی ہیں
یا رسول اللہ کہنا بھی بدعت ہے ،کیونکہ ،یا ،حرف نداء ہے
جو زندہ کیلئے استعمال ہوتا ہے
عافیتک عیدنا
کی گرائمر بتاتا ہوں
عافیت ،صحت یابی ،،ک ،اسم ضمیر ہے ،مذکر حاظر کا
یہاں ،ک ،کا مخاطب تصویر ہے ،جوکہ بے جان ہے
عیدنا ،،عید کے معنی عید اور ،نا ،اسم ضمیر جمع مخاطب کا
یعنی پورے سعودیوں کی عید ہے
مختصر ،شیخ سلیمان آپ کا صحت یاب ہونا ہماری عید ہے
جو کہ بدعت نہیں
انہی ہی لعنتیوں نے ھذا بدعت و ھذا شرک کا فتوی امت
میں متعارف کروایا
امید ہے شیخ عبد الرحمن السدیس اور اندھا مفتی اعظم
عنقریب اس پر بدعت اور شرک کا فتوی جاری کرکے
اسلام بچائیں گے
صابر حسین
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جو فروعی مسائل صدیاں گزر جانے کے بعد بھی حل نہیں ہوئے ، وہ ہماری بحث و تمحیص سے کیسے حل ہوں گے !!
ہمیں اپنی صلاحیتیں امت مسلمہ کی دینی ، دنیاوی فَلاح پر صَرف کرنی چاہییں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948851288728374&id=100008105947430
ہمیں اپنی صلاحیتیں امت مسلمہ کی دینی ، دنیاوی فَلاح پر صَرف کرنی چاہییں ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2948851288728374&id=100008105947430