🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*سرزمینِ خلدآباد میں جبۂ رسول ﷺ کی نکہتیں*

مشائخ چشتیہ کی ہند آمد ہوئی... یہاں کی فضا میں خوشگوار انقلاب آیا... سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جبۂ مبارکہ(پیرہن شریف) بھی ہند آیا... گلشنِ ہند میں بہاریں چھا گئیں...

سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ(اجمیر شریف) سے ہوتا ہوا جبہ شریف نظام الحق والدین حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمۃ(دہلی) تک پہنچا... آپ نے اپنے چہیتے خلیفہ حضرت خواجہ برہان الدین غریب علیہ الرحمۃ (خلدآباد) کو یہ عظیم نعمت عنایت کی... انھوں نے اپنے خلیفۂ خاص حضرت سید زین الدین داؤد حسین شیرازی المعروف بائیس خواجہ علیہ الرحمۃ(خلدآباد) کو جبہ شریف عطا فرمایا... چونکہ ٢٢ واسطوں سے جبہ شریف آپ تک پہنچا اس مناسبت سے آپ بائیسویں خواجہ کہلائے... آج بھی آستانۂ بائیس خواجہ سے متصل حجرۂ خاص میں جبۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بصد اکرام موجود ہے... جس کی زیارت ہر سال بارہ ربیع الاول شریف کی سہانی ساعتوں میں کرائی جاتی ہے... جب مُرادوں کی صبح طلوع ہوتی ہے اور نور کے باڑے بٹتے ہیں... تو دل و جاں کیف و سرور سے تازگی پاتے ہیں...اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت نے دل پذیر شعر کہا...

جس سُہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

الحمدللہ! احقر کو جبۂ مبارک کے شجرۂ مبارک کی ترتیب و تزئین کی سعادت ملی... جسے اقبال احمد وارثی کی فرمائش پر احمد شفیق پینٹر مالیگاؤں نے پتھر پر کندہ کیا.... اور سرزمینِ خلدآباد میں جبۂ مبارکہ کے حجرے سے متصل داہنی دیوار پر نصب کیا گیا....

نکہتوں کی اِس وادی میں حضرت سید زین الدین داؤد حسین شیرازی علیہ الرحمۃ کا مزار اقدس بھی ہے... اور اورنگ زیب عالمگیر شاہِ ہند کی تربت بھی.... متصل کشادہ دالان اور دل کش و کشادہ مسجد بھی ہے... جہاں ایمان کو تازگی اور روح کو قرار ملتا ہے....

جبۂ مبارکہ کے حجرے و شجرے کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں....

غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
١١ ستمبر ٢٠٢٠ء
***
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4308220382586588&id=555248701217127
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*عرس چہلم حضور اشرف الفقہاء پر مالیگاؤں سے علمی کام*

مالیگاؤں: خلیفۂ حضور مفتی اعظم اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف رحمۃ اللہ علیہ (ناگپور) کے مالیگاؤں سے گہرے مراسم رہے ہیں۔ آپ کی آمد کی برکتوں سے شہر میں کثیر مساجد قائم ہوئیں۔ دینی و تعلیمی اداروں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ عقائد کی درستی کا پیغام ملا- صالح انقلاب برپا ہوا- اصلاحی و دعوتی اور علمی کاموں کو فروغ ملا۔ آپ نے نوری مشن کی کثیر مطبوعات کا اجرا مختلف محفلوں میں فرمایا۔ یہ سلسلہ کم و بیش ایک دہائی تک جاری رہا- آپ علمی و تحقیقی کاموں کو پسند کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ "نوری مشن" کی خدمات کو دُعاؤں کی سوغات عنایت فرماتے۔ حضور اشرف الفقہاء کے عرسِ چہلم پر نوری مشن سے ’’مضامینِ اشرف الفقہاء‘‘ کی اشاعت عمل میں آئے گی۔ جس طرح حضور اشرف الفقہاء کے خطبات عام فہم اور رواں دواں ہوتے تھے؛ اسی طرح آپ کے مضامین بھی سلیس و عام فہم ہیں- اسلوبِ تحریر دل چسپ ہے- مذکورہ مضامین کی اشاعت مدتوں قبل ناگپور سے ہوئی تھی۔ آپ کے ان مضامین کو ڈاکٹر مشاہد رضوی نے یکجا کر کے مرتب کر دیا ہے۔ جسے نوری مشن سے شائع کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ ۹؍ مضامین کا مجموعہ عرسِ حضور اشرف الفقہاء پر بِلاقیمت دستیاب ہوگا۔ یہ مضامین مسلمانوں کی رہنمائی و رہبری کے مبارک جذبات سے لبریز ہیں۔ شرعی مسائل، اصلاحی پہلو اور دینی معلومات پر مبنی یہ مضامین کتاب و سنت کے دلائل سے آراستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اشرف الفقہاء کی نصیحتوں پر عمل کی توفیق بخشے۔اور آپ کے فیضانِ علم سے نوازے۔ آمین بجاہ حبیبہٖ سیدالمرسلین علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔

٭نوری مشن مالیگاؤں
٧ ستمبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/pg/noorimission92/about/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 5 (عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے) (اس لڑکی نے حساب کتاب کیا...) پھر ایک فہرست نکالی جس میں پچھلی بار سے بہت زیادہ سامان کا آرڈر تھا۔ میں پھر سے سامان جمع کرنے میں مصروف ہو گیا۔ میں…
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 6
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)

کئی دنوں بعد اس لڑکی کا خادم میرے پاس آیا تو میں نے اس لڑکی کی خبر پوچھی تو اس نے کہا کہ اللہ کی قسم! وہ لڑکی فلاں بادشاہ کی ماں کی خاص ترین خادمہ ہے اور اس نے محل سے باہر آ کر لوگوں کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو بادشاہ کی ماں نے اسے خرید و فروخت کی وکیل بنا کر بھیجا تھا۔ اس لڑکی نے بادشاہ کی ماں سے تمھاری بات چلائی ہے اور اس کے سامنے روئی بھی ہے تو بادشاہ کی ماں نے کہا کہ میں جب تک اس جوان کو دیکھ نہ لوں تب تک شادی کے بارے میں نہیں کَہ سکتی کیوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لڑکا تجھے تباہ کر دے۔

پھر خادم نے کہا کہ آپ کو کسی طرح حیلہ کر کے محل میں آنا ہوگا اور اگر آپ کامیاب رہے تو شادی کی بات آگے بڑھ سکتی ہے اور اگر پردہ فاش ہو گیا تو آپ کی گردن الگ کر دی جائے گی۔ یہ پیغام آپ کی محبوبہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر اس طریقے پر آپ راضی ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ کبھی مجھ تک نہیں پہنچ سکو گے۔

اس خادم نے کہا کہ رات کو فلاں خفیہ جگہ پر آ جانا۔ میں نے ویسا ہی کیا اور پھر میں نے دیکھا کہ وہاں ایک گھوڑا لایا گیا اور کچھ خادم بھی ہیں جنھوں نے خالی صندوق اٹھا رکھے ہیں۔ انھوں نے وہ صندوق وہاں رکھے اور چلے گئے پھر وہی لڑکی باہر آئی اور مجھے گلے لگا لیا اور بوسہ دیا! اس نے کافی دیر تک مجھے گلے لگائے رکھا پھر ایک صندوق میں بٹھا کر تالا لگا دیا!

(آگے آپ پڑھیں گے کہ اس صندوق کا کیا ہوتا ہے... جاری...)

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 7
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)

(میں صندوق میں بند...)
جب سورج نکلا تو نوکر چاکر جمع ہو گئے اور دوسری ضروریات کی چیزوں کو باقی صندوقوں میں رکھ کر تالا لگا دیا۔ پھر صندوق گھوڑے پر رکھے گئے اور میں اندر صندوق میں کبھی خود کو ملامت کرتا اور کبھی جان بچ جانے کی منت مانتا اور کبھی تو مجھے لگتا کہ آج میرا قتل ہونا طے ہے۔

ہم محل تک پہنچ گئے اور نوکروں نے صندوق اٹھائے اور میرا صندوق اس نوکر نے اٹھایا جو سب جانتا تھا۔ میرا صندوق آگے جا رہا تھا اور وہ لڑکی بھی ساتھ میں تھی۔ جب دربانوں کے پاس سے گزر ہوتا تو وہ کہتے کہ ہم اس صندوق کی تلاشی لیں گے تو وہ لڑکی اسے ڈانٹ دیتی اور کہتی کہ یہ طریقہ ہمارے ساتھ کب سے شروع ہوا ہے؟ تو وہ رک جاتے اور اس درمیان میری تو جان ہی نکل جاتی تھی۔

پھر ہم ایک خاص ملازم کے پاس جا پہنچے جس کو اس لڑکی نے استاد کے لقب سے مخاطب کیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ تمام ملازمین میں سب سے بڑے عہدے پر فائز ہے۔ اس خاص ملازم نے کہا کہ ہم اس صندوق کی تلاشی لیں گے تو اس لڑکی نے بڑی منت کی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔

اس کے سامنے میری والی بالکل عاجز تھی۔ میرا کیا ہونا تھا، میرے تو ہوش و حواس غائب ہو گئے اور جب صندوق اتارا گیا تو میری حالت آپے سے باہر ہو گئی اور گھبراہٹ کی وجہ سے میرا پیشاب نکل گیا اور صندوق چوں کہ لکڑی کا تھا تو شگافوں سے باہر آ کر بہنے لگا!

(آگے آپ پڑھیں گے کہ اس عاشق کے ساتھ کیا کیا ہوا... جاری...)

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 8
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)

(صندوق میں میرے کپڑے گیلے...)
اس لڑکی نے اس ملازم سے کہا کہ اے استاد! آپ نے ہمارا اتنا قیمتی کپڑا اور عرق گلاب (گلاب کے پانی) کو برباد کر دیا۔ یہ گلاب کا پانی کپڑوں پر گر گیا ہے جس سے رنگین کپڑے خراب ہو گئے، اب تو میں بادشاہ کی ماں کے ہاتھوں ماری جاؤں گی۔ اس ملازم نے کہا کہ چل اس کو لے جا (اسے کیا معلوم کہ جسے وہ عرق گلاب سمجھ رہا ہے اس کا گلاب سے دور دور تک کا کوئی رشتہ نہیں ہے)۔

میں محل میں پہنچ گیا تو جان میں جان آئی لیکن جان پھر نکلنے لگی جب سامنے سے بادشاہ آ رہا تھا اور اس نے پوچھ لیا کہ صندوق میں کیا ہے؟ اس لڑکی نے کہا کہ آقا یہ آپ کی والدہ کے کپڑے ہیں، میں ابھی آپ کے سامنے کھولتی ہوں، پھر اس نے نوکروں سے کہا کہ جلدی کرو تو انھوں نے جلدی کی اور مجھے ایک کمرے میں لے گئے اور اس لڑکی نے مجھے جھنجوڑ کر کہا کہ اس سیڑھی کے ذریعے بالا خانے پر چڑھ کر بیٹھ جاؤ پھر اس نے جلدی سے صندوق میں تالا لگا دیا اور جب بادشاہ تشریف لائے تو صندوقوں کو کھولا گیا اور جب ایسا ویسا کچھ نظر نہ آیا تو چلے گئے۔

وہ لڑکی بالا خانے پر آئی اور مجھے بوسے دینے لگی تو میری جان میں جان آئی اور جو کچھ بیتی تھی، سب بھول گیا۔ وہ مجھے اکیلا کمرے میں چھوڑ کر تالا لگا کر چلی گئی۔ پھر وہ میرے لیے کھانا لے کر آئی اور مجھے کھلایا پلایا۔ رات بھر میں کمرے میں رہا پھر صبح وہ لڑکی آئی اور کہنے لگی کہ بادشاہ کی ماں آئی ہیں! تم سوچ سمجھ لو کہ تمھیں کیا کہنا ہے۔ میں جب گیا تو دیکھا کہ وہ کرسی پر رونق افروز ہیں اور وہاں خادمائیں کھڑی ہیں۔ میں نے زمین کو بوسہ دیا پھر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ بیٹھ جاؤ تو میں نے عرض کیا کہ میں تو آپ کا غلام اور نوکر ہوں، میرا یہ مرتبہ کہاں کہ آپ کی موجودگی میں بیٹھنے کی جسارت کروں تو اس نے مجھے غور سے دیکھا اور کہنے لگی اے فلانی تو نے خوبصورت اور باادب شخص کو پسند کیا ہے پھر وہ چلی گئیں اور میری والی ایک گھڑی کے بعد واپس آئی اور کہا کہ تم خوش ہو جاؤ، اللہ کی قسم! مجھے آپ کے ساتھ شادی کی اجازت مل گئی ہے لیکن تمھارے واپس جانے کا معاملہ ابھی باقی ہے۔ میں نے کہا اللہ حفاظت فرمائے۔

(آگے آپ پڑھیں گے کہ شادی ہوتی ہے یا نہیں... جاری...)

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
عظمتِ صحابہ

اللہ تعالی نے اُنھیں حضور ﷺ کے (وصال کے) بعد (زمین میں آپ ﷺ کا) خلیفہ بنایا اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، اور حضرت علی رضی اللہ عنھم، جمیع امت کے لیے باعث برکت ہیں۔

اللہ تعالی نے (ان صحابہ ہی کے متعلق) فرمایا ہے: اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اللہ (والوں) کی جماعت ہے۔

کہا جاتا ہے:
جس نے حضرت ابوبکر سے محبت کی اس نے دین کی اقامت کا فریضہ سر انجام دیا۔ جس نے حضرت عمر سے محبت کی اس نے راہ دین کو واضح کیا۔
اور جس نے حضرت عثمان سے محبت کی وہ نور الٰہی سے مستنصر ہوا اور جس نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت کی اس نے دین کی پختہ رسّی کو مضبوطی سے تھام لیا۔
جس شخص نے حضور ﷺ کے صحابہ کے بارے میں کلمات خیر کہے وہ نفاق سے بری ہو گیا۔
ان صحابہ میں سے ایک کے اتنے فضائل ہیں جو اپنی کثرت کے باعث حدِ شمار سے باہر ہیں۔

رسول ﷺ نے صحابہ کی تعریف فرمائی ہے اور اُنھیں ستاروں سے تشبیہ دی ہے۔ اس تشبیہ کے ذریعے آپ ﷺ نے اپنی امت کو اُن کے امور دین میں (حصول رہنمائی کے لیے) صحابہ کی اقتدا پر ابھارا ہے جیسے کہ وہ اپنے دنیاوی امور میں اپنی ضروریات کے لیے بحر و بر کی تاریکیوں میں (راستہ جاننے کے لیے) ستاروں سے رہنمائی لیتے ہیں۔

رسول ﷺ نے فرمایا: بے شک میرے صحابہ کی مثال آسمان پر ستاروں جیسی ہے، ان میں سے جس کو بھی تھامو گے ہدایت پا جاؤ گے اور میرے صحابہ کا اختلاف (بھی) تمہارے لیے باعث رحمت ہے۔

حضرت نُسیر ذعلوق رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب کو برا مت کہو، کیونکہ صحابہ میں سے کسی ایک کا (حضور ﷺ کی صحبت میں گزرا ہوا) ایک لمحہ تمھاری زندگی بھر کے اعمال سے بہتر ہے۔

رسول ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے (تمام رسولوں میں سے) مجھے چنا اور میرے واسطہ سے (پوری امت میں سے) میرے صحابہ کو چنا سو اس نے ان میں سے میرے لیے وزراء، معاونین و مددگار اور سسرالی رشتہ دار بنائے لہٰذا جس نے انھیں گالی دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ قیامت کے روز اللہ تعالی اس کے کسی فرض و نفل کو قبول نہیں کرے گا۔

حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کی خامیاں اور برائیاں بیان نہ کیا کرو کہ ان کے حوالے سے تمھارے دل باہم اختلاف کا شکار ہوجائیں گے؛ بلکہ میرے صحابہ کے محاسن اور خوبیوں کا تذکرہ کیا کرو یہاں تک کہ تمھارے دل ان کی نسبت باہم اکٹھے ہو (کر متفق ہو) جائیں۔

(اخرجہ الدیلمی فی مسند الفردوس، 7362/5/الرقم 31)

ماخوذ : عظمتِ صحابیت اور حقیقتِ خلافت

حاصل کلام یہ ہے کہ عظمتِ صحابہ بہت ہی بلند و بالا ہے۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں توہین صحابہ رضی اللہ عنہ سے محفوظ فرمائے۔

عبد مصطفی
دلبر راہی اصدقی
کیا صحابۂ کرام عادل و مخلص نہ تھے
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*کچھ بڑا سوچیں ۔کچھ بڑا کریں !!!*


سوشیل میڈیا اپلیکیشنز میں ہر ایک کا اپنا فائدہ ہے۔مگر اکثر کا محدود دائرہ میں چلتے ہیں۔
ٹویٹر بھی ایک سوشیل میڈیا اپلیکیشن ہے۔مگر اسکے فوائد اور اثرات گنوانا مشکل ہے اور بیان سے باہر ہیں۔
وہ اسطرح کہ دیگر واٹس ایپ ؛ فیسبک وغیرہ سب اپنے ہی تعلقات اور دوست احباب تک محدود ہیں۔مگر ٹویٹر پر آپ کو دنیا کے کسی بھی بڑے سی بڑی با اثر اور صاحب اقتدار شخصیات تک اپنی بات پہنچانے کی اور مافی الضمیر کو مختصر الفاظ میں بیان کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔جو اس وقت دنیا کے عقلمند ودانشوران استعمال کررہے ہیں۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری اکثریت واٹساپ و فیسبک کے نشہ میں مست ہیں۔واٹساپ کو ثواب جاریہ کا بہترین ذریعہ بنارکھا ہے کہ جو کچھ بھی کہیں سے کچھ ملے اسے دوسروں تک پہنچادو۔چاہے کچھ بھی ہو۔اور ثواب دارین حاصل کرو۔نوجوان عاشق مزاج تو فیسبک پر دن رات خوبصورت تصاویر ہی دیکھ دیکھ کر ساری جوانی خراب کرلیتے ہیں اور جو کچھ پڑھے لکھے دیندار ہیں وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں اختلافی مباحثوں اور مناظروں کی نظر اپنے قیمتی اوقات برباد کردیتے ہیں۔جیسے دیہاتوں میں مرغ لڑائے جاتے ہیں۔

ٹویٹر پر مہم چلانے سے ہی قومی شعور بڑھتا ہے۔باقی فیس بک واٹساپ وقت گذاری ہے۔الا ماشاء اللہ اس کا کوئی صحیح استعمال کرلیں۔تب بھی محدود فائدہ ہی ہوگا۔

دلت برادری کو دیکھیں۔یہ لوگ ٹویٹر سے کتنے مسائل حل کر لیتے ہیں۔صوبائی سرکار فیصلے بدل لیتی ہیں اور جھک جاتی ہیں ۔سرکاری محکمہ ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔اور خادم بن کر اپنی نوکری بجالاتے ہیں۔یہ سب ٹویٹر پر کئے جانے والے ٹویٹ کی طاقت ہے۔

ٹویٹر پر آنے میں آخر ہمارے قوم کے پڑھے لکھے طبقہ کی جان کیوں نکل جاتی ہے ؟
ہر کام تفریح کے لئے تھوڑا ہی ہوتا ہے ؟
ٹویٹر پر کتنے مسلمانوں کے اکاؤنٹ ملیں گے جن کے ہزاروں فولوورس ہیں جو منٹوں میں کسی بھی ہیش ٹیگ کو ٹرینڈ میں بدل کر کسی بھی مسئلے میں قومی و ملکی رجحان کو بدل دیتے ہیں ؟
گنتی کے چند اکاؤنٹس ملیں گے ۔
مگر ہمارا نوجوان اپنی تصاویر شئر کرنے کو سوشیل میڈیا کا بہترین استعمال اور کچھ دعاودرود بھیجنے کو دینی حق سمجھ چکا ہے اور اس سے آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتا ۔
واٹساپ وغیرہ کوئی مؤثر ہتھیار نہیں ہے اور نہ ہی اس سے عالمی سطح پر دنیا کے سامنے ہم اپنی بات پیش کر سکتے ہیں۔بس کچھ آپسی باہمی ربط وتعلق کے لئے یہ مفید ہیں۔ لیکن ٹویٹر قومی رجحان کے تشکیل دینے کا ایک بہت ہی بڑا اور مؤثر ہتھیار ہے۔ان تمام پڑھے لکھے نوجوانوں اور اہل علم ودانشوران سے التماس ہے جو فیس بک اور واٹساپ میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ اپنا ٹویٹر پر اکاؤنٹ ضرور بنائیں، اور فیس بک اور واٹس ایپ سے زیادہ ٹویٹر پر سرگرم رہیں اور جو ہیش ٹیگ ملک و ملت کے مفاد میں چل رہا ہو۔ اسے trend کرانے میں بھر پور تعاون کریں۔
وقت ایک قیمتی سرمایہ ہے۔اسے ضائع نہ ہونے دیں۔
آپ واٹساپ وغیرہ نہ چھوڑیں۔ لیکن ٹویٹر پر ضرور آجائیں۔اور زیادہ وقت ٹویٹر پر دیں اور ذرا ہمت کریں۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ کرتا چلوں کہ زبان بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے۔آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ٹویٹر پر انگریزی کے برابر سب سے زیادہ رائج زبان ہندی ہے۔جس سے اکثر اہل علم حضرات واقف ہیں۔سیاسی مسائل پر نہ سہی اسلام دشمن متعصب شخصیات کو اسلامی تعلیمات اور ان کی ذہن سازی اور حقائق پیش کرتے ہوئے ان کی اسلام دشمنی کو تو ختم کرسکتے ہیں جو آج ملک میں آگ لگی ہوئی اسے تو بجھائی جاسکتی ہے ؟آپ ہندی اردو کسی زبان میں ٹویٹ کرسکتے ہیں۔
اس عاجز کے ان چند گذارشات پر ضرور غور فرمائیں۔اور جلد سے جلد اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ بنالیں۔

کاپی پیسٹ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*رپورٹ سالانہ اجلاس مجلس شوریٰ*
_تحریک فروغ اسلام کا دوسرا اجلاس عام_

*بتاریخ: 6 ستمبر 2020 بروز اتوار*
*بمقام: امام احمد رضا دارالافتا میرا روڈ ممبئی*

مجلس شوریٰ تحریک فروغ اسلام کا دوسرا سالانہ اجلاس عام امام احمد رضا دارالافتا میرا روڈ ممبئی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں مجلس شوریٰ کے تقریباً 20 افراد نے شرکت کی باقی 10 افراد حاضر نہ ہوسکے۔ صدر تحریک کی اجازت پر بعض دیگر افراد بھی شریک اجلاس رہے۔
اجلاس دو نشستوں پر مشتمل تھا۔ نشست اول کا آغاز تلاوت قرآن اور نعت مصطفیٰ ﷺ سے ہوا۔ تعارف مندوبین کے بعد صدر تحریک محترم قمر غنی عثمانی صاحب نے خطبہ استقبالیہ میں حالات حاضرہ کی سنگینی اور ناموس رسالت پر ہونے والے حملوں کی کثرت پر گفتگو کرتے ہوئے علماے کرام سے سنجیدگی کے ساتھ عوامی ذہن سازی کی گزارش کی۔
بعدہ جنرل سیکرٹری نے تحریک کی سابقہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے کل چودہ نکات میں تحریک کی ایک سالہ کارکردگی کا اجمالی خاکہ شرکا کے سامنے رکھا۔موصوف نے ایک سالہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تحریک نے محدود وسائل کے ہوتے ہوئے بھی ایک سال میں کئی اہم اور جماعتی سطح پر منفرد اقدامات کیے ہیں۔لیکن پھر بھی ہمیں لگتا ہے کہ ہم بہت سارے کام قلت وسائل کی بنا پر نہیں کر سکے اگر احباب اور قوم نے ساتھ دیا تو ان شاء اللہ رواں سال میں پہلے سے بہتر کارکردگی پیش کی جائے گی۔

اس کے بعد تحریک کے 6 شعبہ جات کے ذریعے کئے جانے والے کاموں کی تعین پر مشاورت شروع ہوئی۔ شعبہ جات کی تفصیل یہ ہے:
1- شعبہ دعوت وتبلیغ
2-شعبہ سماجی خدمات
3- شعبہ قانونی و سیاسی امور
4- شعبہ نشرواشاعت
5-شعبہ رابطہ
6- شعبہ مالیات

ارکان شوری کی رائے اور تبادلہ خیال کا دورانیہ دو گھنٹے پر محیط رہا۔ اہم نکات اور رائیں نوٹ کی جاتی رہیں اس کے بعد نماز ظہر کے لیے اجلاس ختم کردیا گیا۔
نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد مندوبین کو ظہرانہ دیا گیا اور مختصر سے قیلولہ کے بعد نشست ثانی کا آغاز ہوا۔
نشست ثانی کا آغاز بھی تلاوت قرآن اور نعت رسولﷺ سے ہوا۔ اس کے بعد نشست اول میں 6 شعبہ جات کے متعلق طے شدہ امور پر گفتگو کرتے ہوئے شعبہ جات کے صدور کی تقرری کا فیصلہ لیا گیا، اور ان حضرات کو شعبہ جات کا صدر منتخب کیا گیا:
1- *مولانا معزالدین عثمانی ازہری*
(شعبہ دعوت وتبلیغ)
2- *قاری محمد آصف رضا برکاتی*
(شعبہ سماجی خدمات)
3- *جناب احسان الحق*
(شعبہ قانونی و سیاسی امور)
4- *محمد زبیر قادری*
(شعبہ نشرو اشاعت)
5- *مولانا شمس الہدی قادری*
(شعبہ رابطہ)
6- *محترم قمر غنی عثمانی*
(شعبہ مالیات)

اس کے علاوہ جناب عارف رحمان صاحب کو آڈیٹر منتخب کیا گیا۔ بعدہ صلواۃ وسلام اور نبیرہ صدرالشریعہ مفتی فیضان المصطفیٰ اعظمی کی دعا پر اجلاس عام مکمل ہوا۔
اہم مندوبین میں مفتی سید اکرام الحق مصباحی کُرلا، مفتی فیضان المصطفیٰ اعظمی گھوسی، مفتی منظم ازہری دہلی، مفتی راحت خان قادری بریلی شریف، مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی دہلی، مولانا عمران ازہری دہلی، مولانا فیضان احمد نعیمی دہلی، مولانا معزالدین عثمانی ازہری امیٹھی شریف، ایم حسنین دہلی، مولانا عقیل احمد دہلی، جناب اخلاق حسن دہلی، قاری محمد آصف رضا برکاتی میرا روڈ، مولانا وسیم القادری بِھونڈی، مولانا کلیم سبحانی ممبئی، مولانا شمس الہدی قادری وڈالہ، عتیق الرحمن رضوی مالیگاؤں، جناب انجم صاحب مالیگاؤں، جناب اعجاز قادری ناگپور، جناب عارف رحمان مالیگاؤں، مولانا بلال احمد صدر امام احمد رضا دارالافتا میرا روڈ، مفتی وسیم القادری کُرلا ممبئی، جناب نعمان رضوی اور جناب محتشم رضا وغیرہ شریک تھے۔ اراکین امام احمد رضا دارالافتا کے ذمہ داران مولانا بلال احمد (صدر ٹرسٹ) قاری محمد آصف رضا برکاتی (جنرل سیکرٹری) ودیگر ارکان نے نہایت خلوص واپنائیت کے ساتھ مندوبین اجلاس کی میزبانی فرمائی اور جملہ انتظام وانصرام میں غایت درجے کے خلوص کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالیٰ جملہ منتظمین کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

رپورٹ: *محمد زبیر قادری*
صدر شعبہ نشرو اشاعت
تحریک فروغ اسلام دہلی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM