Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا مجموعہ کلام
*"سفینۂ بخشش" کی مجلسِ رضا سے اشاعت*
٢٠١٨ء میں "سفینۂ بخشش" کے نئے ایڈیشن کی اشاعت ہوئی... اہتمامِ اشاعت نوری مشن مالیگاؤں نے کیا... جس میں مزید کلام کے اضافہ کے ساتھ عربی کلام "روح الفؤاد بذکریٰ خیرالعباد" بھی شامل ہے... حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مجموعہ کلام بڑا مقبول ہوا... ہزاروں کی تعداد میں عام ہوا... بعد میں پاکٹ سائز میں رضائے مصطفیٰ اکیڈمی دھرن گاؤں نے شائع کیا... تازہ ترین اطلاع کے مطابق مرکزی مجلسِ رضا لاہور نے "سفینۂ بخشش" کا خوبصورت ایڈیشن شائع کر دیا ہے.... مجلس کی خدمات مشنِ اعلیٰ حضرت کے فروغ میں نمایاں اہمیت کی حامل ہیں... ان شاء اللہ "سفینۂ بخشش" مزید نکھار کے ساتھ رضا اکیڈمی ممبئی سے بھی منظرِ عام پر آئے گی...
***
نوری مشن مالیگاؤں
٥ ستمبر ٢٠٢٠ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4281741665234460&id=555248701217127
*"سفینۂ بخشش" کی مجلسِ رضا سے اشاعت*
٢٠١٨ء میں "سفینۂ بخشش" کے نئے ایڈیشن کی اشاعت ہوئی... اہتمامِ اشاعت نوری مشن مالیگاؤں نے کیا... جس میں مزید کلام کے اضافہ کے ساتھ عربی کلام "روح الفؤاد بذکریٰ خیرالعباد" بھی شامل ہے... حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مجموعہ کلام بڑا مقبول ہوا... ہزاروں کی تعداد میں عام ہوا... بعد میں پاکٹ سائز میں رضائے مصطفیٰ اکیڈمی دھرن گاؤں نے شائع کیا... تازہ ترین اطلاع کے مطابق مرکزی مجلسِ رضا لاہور نے "سفینۂ بخشش" کا خوبصورت ایڈیشن شائع کر دیا ہے.... مجلس کی خدمات مشنِ اعلیٰ حضرت کے فروغ میں نمایاں اہمیت کی حامل ہیں... ان شاء اللہ "سفینۂ بخشش" مزید نکھار کے ساتھ رضا اکیڈمی ممبئی سے بھی منظرِ عام پر آئے گی...
***
نوری مشن مالیگاؤں
٥ ستمبر ٢٠٢٠ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4281741665234460&id=555248701217127
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*تحریک فروغِ اسلام کا تحفظ ناموسِ رسالت کنونشن*
*ناموسِ رسالت سے متعلق بیداری پیدا کرنا وقت کی اولین ضرورت: قمر غنی عثمانی*
۷؍ ستمبر ۲۰۲۰ء بروز پیر تحریک فروغِ اسلام کے تحت امام احمد رضا دارالافتا اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام میرا روڈ (تھانہ) میں ایک عظیم الشان "تحفظِ ناموسِ رسالت کنونشن" کا انعقاد عمل میں آیا۔ الحمدللہ یہ سیمینار لاک ڈاؤن کے باوجود بہت کامیاب رہا، جس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے نمائندہ علما و دانشوران نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ہزارہا افراد نے اس پروگرام کو آن لائن دنیا بھر میں سماعت کیا۔
پروگرام کا آغاز صبح گیارہ بجے تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول سے ہوا۔ پھر ناظم اجلاس *علامہ غلام مصطفیٰ نعیمی* صاحب نے تمہیدی گفتگو میں ناموس رسالت کی اہمیت پر گفتگو فرمائی بعدہ حضرت *علامہ سید اکرام الحق قادری* صاحب کو دعوتِ سخن دی۔ حضرت نے ’’ناموسِ رسالت کی اہمیت‘‘ پر قرآنِ کریم و سیرتِ رسول ﷺ کے حوالوں سے پُر مدلل تقریر کی۔ ان کے بعد حضرت *مفتی محمد اختر رضا مجددی* (صدر شعبۂ دارالافتا دارالعلوم مخدومیہ،جوگیشوری، ممبئی ) نے’’گستاخ رسول کا شرعی حکم‘‘ خطاب فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ گستاخِ رسول کسی معافی کا بالکل بھی حقدار نہیں۔
ان کے بعد نبیرۂ صدر الشریعہ حضرت *مفتی محمود اختر القادری* (قاضی شرع ممبئی و خلیفۂ تاج الشریعہ) کو ’’ناموسِ رسالت کی شرعی حیثیت‘‘ بیان کرنے کے لیے دعوتِ سخن دی گئی۔ حضرت نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں کہ کوئی بھی شخص اس کے نبی کی برائی کرے یا عیب لگائے۔قرآنِ کریم میں راعِنا کی مثال سے یہ بات واضح ہے۔
اس کے بعد بانی تحریک، آل سیدنا عثمان غنی حضرت *قمر غنی عثمانی* قادری چشتی صاحب نے ’’تحفظِ ناموسِ رسالت کے لیے اُمت کا اتحاد ضروری‘‘ عنوان پر فرمایا کہ ناموسِ رسالت کیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، انفرادی کوششوں سے کچھ نہ ہوسکے گا۔ گذشتہ چند سالوں سے آئے روز بھارت یا بیرونِ ممالک میں کہیں نہ کہیں توہینِ رسالت کی ناپاک کوششیں جاری ہیں، اور ہم مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرپاتے۔ اسی طرح ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔ تحریکِ فروغِ اسلام کا بنیادی مقصد ہی تحفظ ناموسِ رسالت ہے۔ حضرت نے ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے آگے بڑھ کر کام کرنے کی اپیل کی۔
بعدہ ماہر قانون *ایم حسنین* صاحب (دہلی) کو موقع دیا گیا۔ آپ نے ’’دستورِ ہند کے تحت گستاخانِ رسالت پر قانونی کارروائی‘‘ سے متعلق مفید معلومات فراہم کی۔ آپ نے بتایا کہ بھارت کے دستور میں ترامیم کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر دستورِ ہند میں "ہندو راشٹر" کے الفاظ شامل کردئے جائیں تو سوچیے اس ملک کے مسلمانوں کے حالات کتنے بھیانک ہوجائیں گے۔ اس لیے تحفظ ناموسِ رسالت کے لیے کوششیں تیز ہوجانی چاہیے۔ موصوف نے فرمایا علماے کرام سے اپیل کی کہ آپ لوگ ہم وکلا حضرات کو ناموسِ رسالت سے متعلق سمجھائیں، قرآن و احادیث سے مدلل مواد پیش کریں، تاکہ اس کو ہم صحیح طریقے سے سمجھ کر دفاع کرسکیں۔حضور اکرم ﷺ پر جو بھی اعتراضات کیے جاتے ہیں، اس کے دفاع میں ٹھوس دلائل ہم کو پیش کریں تاکہ دفاع میں کام آسکیں۔ برسوں پہلے جس طرح دیانند سرسوتی نے جو اعتراضات اسلام پر وارد کیے تھے، آج کل وہی اعتراضات فاشسٹ قوتیں ویڈیو کے ذریعے عام کررہی ہیں۔ جس کو دیکھ کر ہمارا نوجوان طبقہ اسلام سے بدظن ہورہا ہے۔ تو اس کا جواب اسی طرز پر دیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں بھارت کے مشہور وکیل *ایڈوکیٹ محمود پراچہ* (سپریم کورٹ، دہلی) سے درخواست کی گئی کہ ’’قانونی کارروائی کے طریقے‘‘ پر معلومات فراہم کریں۔ آپ نے بتایا کہ اسلام کے سب سے اہم اُصول "انصاف اور برابری" ہیں۔ انہیں تعلیمات کی بدولت اسلام پوری دنیا میں مختصر عرصے میں بہت تیزی سے پھیلا۔اسلام دشمن عناصر اسی سے خائف ہوکر اسلام اور مسلمانوں کو اس قدر بدنام کرنا چاہ رہے ہیں کہ لوگ اسلام کو ترک کردیں۔ اور اس کے لیے وہ پیغمبر اسلام کی ذات کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔پھر پراچہ صاحب نے چند مفید قانونی نکات بیان کیے:
🔹ہر مسجد میں وکیلوں کی ٹیم کو ساتھ رکھیں، جو قانونی کاغذات کی تیاری میں معاون ثابت ہوں اور مشکل وقت میں کام آئے۔
🔹کوئی بھی مظاہرہ کرنا ہو یا کسی مطالبہ کے لیے پولیس کمشنر وغیرہ کے پاس نہ جائیں۔ بلکہ عوامی نمائندے(ایم پی؍ ایم ایل اے) کے دفتر جاکر مظاہرہ کریں کیوں کہ وہ ہمارا منتخب کردہ نمائندہ ہے۔ اس کی بات پر ضرور ایکشن لیا جائے گا۔
🔹ایسے قانونی راستے اختیار کرنا چاہیے جو آسان ہوں، کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔ لیکن کبھی ڈرنا، جھجکنا نہیں چاہیے۔ ہمیں جو بھی کرنا ہے وہ سچ، انصاف کے ساتھ کرنا ہوگا۔ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔
🔹ہر علاقے میں ایک نمائندہ گروپ بنانا چاہیے ، جو ہماری بات اور مطالبات کو قانونی طریقے سے آگے رکھ سکے۔
🔹
*ناموسِ رسالت سے متعلق بیداری پیدا کرنا وقت کی اولین ضرورت: قمر غنی عثمانی*
۷؍ ستمبر ۲۰۲۰ء بروز پیر تحریک فروغِ اسلام کے تحت امام احمد رضا دارالافتا اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام میرا روڈ (تھانہ) میں ایک عظیم الشان "تحفظِ ناموسِ رسالت کنونشن" کا انعقاد عمل میں آیا۔ الحمدللہ یہ سیمینار لاک ڈاؤن کے باوجود بہت کامیاب رہا، جس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے نمائندہ علما و دانشوران نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ہزارہا افراد نے اس پروگرام کو آن لائن دنیا بھر میں سماعت کیا۔
پروگرام کا آغاز صبح گیارہ بجے تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول سے ہوا۔ پھر ناظم اجلاس *علامہ غلام مصطفیٰ نعیمی* صاحب نے تمہیدی گفتگو میں ناموس رسالت کی اہمیت پر گفتگو فرمائی بعدہ حضرت *علامہ سید اکرام الحق قادری* صاحب کو دعوتِ سخن دی۔ حضرت نے ’’ناموسِ رسالت کی اہمیت‘‘ پر قرآنِ کریم و سیرتِ رسول ﷺ کے حوالوں سے پُر مدلل تقریر کی۔ ان کے بعد حضرت *مفتی محمد اختر رضا مجددی* (صدر شعبۂ دارالافتا دارالعلوم مخدومیہ،جوگیشوری، ممبئی ) نے’’گستاخ رسول کا شرعی حکم‘‘ خطاب فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ گستاخِ رسول کسی معافی کا بالکل بھی حقدار نہیں۔
ان کے بعد نبیرۂ صدر الشریعہ حضرت *مفتی محمود اختر القادری* (قاضی شرع ممبئی و خلیفۂ تاج الشریعہ) کو ’’ناموسِ رسالت کی شرعی حیثیت‘‘ بیان کرنے کے لیے دعوتِ سخن دی گئی۔ حضرت نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں کہ کوئی بھی شخص اس کے نبی کی برائی کرے یا عیب لگائے۔قرآنِ کریم میں راعِنا کی مثال سے یہ بات واضح ہے۔
اس کے بعد بانی تحریک، آل سیدنا عثمان غنی حضرت *قمر غنی عثمانی* قادری چشتی صاحب نے ’’تحفظِ ناموسِ رسالت کے لیے اُمت کا اتحاد ضروری‘‘ عنوان پر فرمایا کہ ناموسِ رسالت کیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، انفرادی کوششوں سے کچھ نہ ہوسکے گا۔ گذشتہ چند سالوں سے آئے روز بھارت یا بیرونِ ممالک میں کہیں نہ کہیں توہینِ رسالت کی ناپاک کوششیں جاری ہیں، اور ہم مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرپاتے۔ اسی طرح ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔ تحریکِ فروغِ اسلام کا بنیادی مقصد ہی تحفظ ناموسِ رسالت ہے۔ حضرت نے ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے آگے بڑھ کر کام کرنے کی اپیل کی۔
بعدہ ماہر قانون *ایم حسنین* صاحب (دہلی) کو موقع دیا گیا۔ آپ نے ’’دستورِ ہند کے تحت گستاخانِ رسالت پر قانونی کارروائی‘‘ سے متعلق مفید معلومات فراہم کی۔ آپ نے بتایا کہ بھارت کے دستور میں ترامیم کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر دستورِ ہند میں "ہندو راشٹر" کے الفاظ شامل کردئے جائیں تو سوچیے اس ملک کے مسلمانوں کے حالات کتنے بھیانک ہوجائیں گے۔ اس لیے تحفظ ناموسِ رسالت کے لیے کوششیں تیز ہوجانی چاہیے۔ موصوف نے فرمایا علماے کرام سے اپیل کی کہ آپ لوگ ہم وکلا حضرات کو ناموسِ رسالت سے متعلق سمجھائیں، قرآن و احادیث سے مدلل مواد پیش کریں، تاکہ اس کو ہم صحیح طریقے سے سمجھ کر دفاع کرسکیں۔حضور اکرم ﷺ پر جو بھی اعتراضات کیے جاتے ہیں، اس کے دفاع میں ٹھوس دلائل ہم کو پیش کریں تاکہ دفاع میں کام آسکیں۔ برسوں پہلے جس طرح دیانند سرسوتی نے جو اعتراضات اسلام پر وارد کیے تھے، آج کل وہی اعتراضات فاشسٹ قوتیں ویڈیو کے ذریعے عام کررہی ہیں۔ جس کو دیکھ کر ہمارا نوجوان طبقہ اسلام سے بدظن ہورہا ہے۔ تو اس کا جواب اسی طرز پر دیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں بھارت کے مشہور وکیل *ایڈوکیٹ محمود پراچہ* (سپریم کورٹ، دہلی) سے درخواست کی گئی کہ ’’قانونی کارروائی کے طریقے‘‘ پر معلومات فراہم کریں۔ آپ نے بتایا کہ اسلام کے سب سے اہم اُصول "انصاف اور برابری" ہیں۔ انہیں تعلیمات کی بدولت اسلام پوری دنیا میں مختصر عرصے میں بہت تیزی سے پھیلا۔اسلام دشمن عناصر اسی سے خائف ہوکر اسلام اور مسلمانوں کو اس قدر بدنام کرنا چاہ رہے ہیں کہ لوگ اسلام کو ترک کردیں۔ اور اس کے لیے وہ پیغمبر اسلام کی ذات کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔پھر پراچہ صاحب نے چند مفید قانونی نکات بیان کیے:
🔹ہر مسجد میں وکیلوں کی ٹیم کو ساتھ رکھیں، جو قانونی کاغذات کی تیاری میں معاون ثابت ہوں اور مشکل وقت میں کام آئے۔
🔹کوئی بھی مظاہرہ کرنا ہو یا کسی مطالبہ کے لیے پولیس کمشنر وغیرہ کے پاس نہ جائیں۔ بلکہ عوامی نمائندے(ایم پی؍ ایم ایل اے) کے دفتر جاکر مظاہرہ کریں کیوں کہ وہ ہمارا منتخب کردہ نمائندہ ہے۔ اس کی بات پر ضرور ایکشن لیا جائے گا۔
🔹ایسے قانونی راستے اختیار کرنا چاہیے جو آسان ہوں، کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔ لیکن کبھی ڈرنا، جھجکنا نہیں چاہیے۔ ہمیں جو بھی کرنا ہے وہ سچ، انصاف کے ساتھ کرنا ہوگا۔ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔
🔹ہر علاقے میں ایک نمائندہ گروپ بنانا چاہیے ، جو ہماری بات اور مطالبات کو قانونی طریقے سے آگے رکھ سکے۔
🔹
Forwarded from Zubair 006
کسی کے خلاف ایف آئی آر اُس پولیس اسٹیشن میں درج کرنا چاہیے جہاں کے آفیسر سیکولر، انصاف پسند ہوں۔ ایف آئی آر کرانے کے بعد اس کی وصولی کی رسید ضرور لینی چاہیے اور صرف ایف آئی آر رجسٹر کرکے گھر میں نہ بیٹھ رہیں، اگر پولیس کوئی کارروائی نہ کرے تو آگے بھی جاتے رہنا چاہیے۔ پولیس کچھ کارروائی نہ کرے تو ایف آئی آر کی رجسٹر کاپی کے ساتھ مجسٹریٹ کے پاس شکایت بھی کرسکتے ہیں۔ اس جدوجہد کے نہایت مفید نتائج مرتب سامنے آئیں گے۔اس کے علاوہ احتجاج میں خود کی گرفتاری دینا بھی اہم کام ہے۔ احتجاجی گرفتاری گورنمنٹ پر دباؤ ڈالنے کے لیے اچھا حربہ ہے۔ اس کام کے لیے پہلے سے ہی کچھ لوگوں کو تیار کرلینا چاہیے، جو وقت ضرورت کام آسکے۔ایڈوکیٹ پراچہ صاحب نے تحریک فروغ اسلام کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
"میں اب تک کئی تنظیموں سے وابستہ رہا ہوں لیکن وہاں کام کم پروپیگنڈہ زیادہ ہے لیکن تحریک فروغ اسلام اوروں سے بہت الگ ہے یہ تنظیم پروپیگنڈے میں نہیں کام میں یقین رکھتی ہے۔ اس لیے اس تحریک کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بعد میں پراچہ صاحب نے شرکا کے سوالوں کے قانونی جواب کا سیشن بھی کیا۔
۳؍ بجے پروگرام صلوٰۃ و سلام اور نبیرۂ صدر الشریعہ حضرت فیضان المصطفیٰ (امریکہ) کی دعا پر ختم ہوا۔پروگرام میں ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی، مولانا معزالدین عثمانی ازہری المعروف پیر خرم میاں ، مفتی منظم ازہری دہلی، مولانا قمر الزماں نوری، مولانا عمران ازہری صاحب دہلی ، مولانا فیضان احمد نعیمی دہلی، مولانا بلال احمد رضوی، مفتی راحت قادری بریلی شریف ، مولانا عطاء الرضا اسماعیلی صاحب، مولانا عارف مصباحی صاحب، مولانا قربان علی صاحب مفتی داؤد صاحب، مفتی عمران القادری صاحب، مولانا سلیم رضوی صاحب، مولانا آفتاب رضوی سورت،
مولانا اختر علی واجدالقادری ، مفتی فخر الدین حشمتی، مولانا شمس الہدی قادری، مولانا فہیم القادری، مفتی وسیم القادری، مولانا وسیم صاحب، مفتی شمیم نوری ، وغیرہ نےخصوصی طور پر شرکت کی۔
رپورٹ مرتبہ: زبیر قادری
صدر شعبہ نشر و اشاعت
تحریک فروغِ اسلام ،دہلی
https://www.facebook.com/297384300859344/posts/695975321000238/
"میں اب تک کئی تنظیموں سے وابستہ رہا ہوں لیکن وہاں کام کم پروپیگنڈہ زیادہ ہے لیکن تحریک فروغ اسلام اوروں سے بہت الگ ہے یہ تنظیم پروپیگنڈے میں نہیں کام میں یقین رکھتی ہے۔ اس لیے اس تحریک کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بعد میں پراچہ صاحب نے شرکا کے سوالوں کے قانونی جواب کا سیشن بھی کیا۔
۳؍ بجے پروگرام صلوٰۃ و سلام اور نبیرۂ صدر الشریعہ حضرت فیضان المصطفیٰ (امریکہ) کی دعا پر ختم ہوا۔پروگرام میں ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی، مولانا معزالدین عثمانی ازہری المعروف پیر خرم میاں ، مفتی منظم ازہری دہلی، مولانا قمر الزماں نوری، مولانا عمران ازہری صاحب دہلی ، مولانا فیضان احمد نعیمی دہلی، مولانا بلال احمد رضوی، مفتی راحت قادری بریلی شریف ، مولانا عطاء الرضا اسماعیلی صاحب، مولانا عارف مصباحی صاحب، مولانا قربان علی صاحب مفتی داؤد صاحب، مفتی عمران القادری صاحب، مولانا سلیم رضوی صاحب، مولانا آفتاب رضوی سورت،
مولانا اختر علی واجدالقادری ، مفتی فخر الدین حشمتی، مولانا شمس الہدی قادری، مولانا فہیم القادری، مفتی وسیم القادری، مولانا وسیم صاحب، مفتی شمیم نوری ، وغیرہ نےخصوصی طور پر شرکت کی۔
رپورٹ مرتبہ: زبیر قادری
صدر شعبہ نشر و اشاعت
تحریک فروغِ اسلام ،دہلی
https://www.facebook.com/297384300859344/posts/695975321000238/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*سرزمینِ خلدآباد میں جبۂ رسول ﷺ کی نکہتیں*
مشائخ چشتیہ کی ہند آمد ہوئی... یہاں کی فضا میں خوشگوار انقلاب آیا... سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جبۂ مبارکہ(پیرہن شریف) بھی ہند آیا... گلشنِ ہند میں بہاریں چھا گئیں...
سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ(اجمیر شریف) سے ہوتا ہوا جبہ شریف نظام الحق والدین حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمۃ(دہلی) تک پہنچا... آپ نے اپنے چہیتے خلیفہ حضرت خواجہ برہان الدین غریب علیہ الرحمۃ (خلدآباد) کو یہ عظیم نعمت عنایت کی... انھوں نے اپنے خلیفۂ خاص حضرت سید زین الدین داؤد حسین شیرازی المعروف بائیس خواجہ علیہ الرحمۃ(خلدآباد) کو جبہ شریف عطا فرمایا... چونکہ ٢٢ واسطوں سے جبہ شریف آپ تک پہنچا اس مناسبت سے آپ بائیسویں خواجہ کہلائے... آج بھی آستانۂ بائیس خواجہ سے متصل حجرۂ خاص میں جبۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بصد اکرام موجود ہے... جس کی زیارت ہر سال بارہ ربیع الاول شریف کی سہانی ساعتوں میں کرائی جاتی ہے... جب مُرادوں کی صبح طلوع ہوتی ہے اور نور کے باڑے بٹتے ہیں... تو دل و جاں کیف و سرور سے تازگی پاتے ہیں...اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت نے دل پذیر شعر کہا...
جس سُہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
الحمدللہ! احقر کو جبۂ مبارک کے شجرۂ مبارک کی ترتیب و تزئین کی سعادت ملی... جسے اقبال احمد وارثی کی فرمائش پر احمد شفیق پینٹر مالیگاؤں نے پتھر پر کندہ کیا.... اور سرزمینِ خلدآباد میں جبۂ مبارکہ کے حجرے سے متصل داہنی دیوار پر نصب کیا گیا....
نکہتوں کی اِس وادی میں حضرت سید زین الدین داؤد حسین شیرازی علیہ الرحمۃ کا مزار اقدس بھی ہے... اور اورنگ زیب عالمگیر شاہِ ہند کی تربت بھی.... متصل کشادہ دالان اور دل کش و کشادہ مسجد بھی ہے... جہاں ایمان کو تازگی اور روح کو قرار ملتا ہے....
جبۂ مبارکہ کے حجرے و شجرے کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں....
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
١١ ستمبر ٢٠٢٠ء
***
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4308220382586588&id=555248701217127
مشائخ چشتیہ کی ہند آمد ہوئی... یہاں کی فضا میں خوشگوار انقلاب آیا... سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جبۂ مبارکہ(پیرہن شریف) بھی ہند آیا... گلشنِ ہند میں بہاریں چھا گئیں...
سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ(اجمیر شریف) سے ہوتا ہوا جبہ شریف نظام الحق والدین حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمۃ(دہلی) تک پہنچا... آپ نے اپنے چہیتے خلیفہ حضرت خواجہ برہان الدین غریب علیہ الرحمۃ (خلدآباد) کو یہ عظیم نعمت عنایت کی... انھوں نے اپنے خلیفۂ خاص حضرت سید زین الدین داؤد حسین شیرازی المعروف بائیس خواجہ علیہ الرحمۃ(خلدآباد) کو جبہ شریف عطا فرمایا... چونکہ ٢٢ واسطوں سے جبہ شریف آپ تک پہنچا اس مناسبت سے آپ بائیسویں خواجہ کہلائے... آج بھی آستانۂ بائیس خواجہ سے متصل حجرۂ خاص میں جبۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بصد اکرام موجود ہے... جس کی زیارت ہر سال بارہ ربیع الاول شریف کی سہانی ساعتوں میں کرائی جاتی ہے... جب مُرادوں کی صبح طلوع ہوتی ہے اور نور کے باڑے بٹتے ہیں... تو دل و جاں کیف و سرور سے تازگی پاتے ہیں...اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت نے دل پذیر شعر کہا...
جس سُہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
الحمدللہ! احقر کو جبۂ مبارک کے شجرۂ مبارک کی ترتیب و تزئین کی سعادت ملی... جسے اقبال احمد وارثی کی فرمائش پر احمد شفیق پینٹر مالیگاؤں نے پتھر پر کندہ کیا.... اور سرزمینِ خلدآباد میں جبۂ مبارکہ کے حجرے سے متصل داہنی دیوار پر نصب کیا گیا....
نکہتوں کی اِس وادی میں حضرت سید زین الدین داؤد حسین شیرازی علیہ الرحمۃ کا مزار اقدس بھی ہے... اور اورنگ زیب عالمگیر شاہِ ہند کی تربت بھی.... متصل کشادہ دالان اور دل کش و کشادہ مسجد بھی ہے... جہاں ایمان کو تازگی اور روح کو قرار ملتا ہے....
جبۂ مبارکہ کے حجرے و شجرے کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں....
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
١١ ستمبر ٢٠٢٠ء
***
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4308220382586588&id=555248701217127
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*عرس چہلم حضور اشرف الفقہاء پر مالیگاؤں سے علمی کام*
مالیگاؤں: خلیفۂ حضور مفتی اعظم اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف رحمۃ اللہ علیہ (ناگپور) کے مالیگاؤں سے گہرے مراسم رہے ہیں۔ آپ کی آمد کی برکتوں سے شہر میں کثیر مساجد قائم ہوئیں۔ دینی و تعلیمی اداروں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ عقائد کی درستی کا پیغام ملا- صالح انقلاب برپا ہوا- اصلاحی و دعوتی اور علمی کاموں کو فروغ ملا۔ آپ نے نوری مشن کی کثیر مطبوعات کا اجرا مختلف محفلوں میں فرمایا۔ یہ سلسلہ کم و بیش ایک دہائی تک جاری رہا- آپ علمی و تحقیقی کاموں کو پسند کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ "نوری مشن" کی خدمات کو دُعاؤں کی سوغات عنایت فرماتے۔ حضور اشرف الفقہاء کے عرسِ چہلم پر نوری مشن سے ’’مضامینِ اشرف الفقہاء‘‘ کی اشاعت عمل میں آئے گی۔ جس طرح حضور اشرف الفقہاء کے خطبات عام فہم اور رواں دواں ہوتے تھے؛ اسی طرح آپ کے مضامین بھی سلیس و عام فہم ہیں- اسلوبِ تحریر دل چسپ ہے- مذکورہ مضامین کی اشاعت مدتوں قبل ناگپور سے ہوئی تھی۔ آپ کے ان مضامین کو ڈاکٹر مشاہد رضوی نے یکجا کر کے مرتب کر دیا ہے۔ جسے نوری مشن سے شائع کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ ۹؍ مضامین کا مجموعہ عرسِ حضور اشرف الفقہاء پر بِلاقیمت دستیاب ہوگا۔ یہ مضامین مسلمانوں کی رہنمائی و رہبری کے مبارک جذبات سے لبریز ہیں۔ شرعی مسائل، اصلاحی پہلو اور دینی معلومات پر مبنی یہ مضامین کتاب و سنت کے دلائل سے آراستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اشرف الفقہاء کی نصیحتوں پر عمل کی توفیق بخشے۔اور آپ کے فیضانِ علم سے نوازے۔ آمین بجاہ حبیبہٖ سیدالمرسلین علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔
٭نوری مشن مالیگاؤں
٧ ستمبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/pg/noorimission92/about/
مالیگاؤں: خلیفۂ حضور مفتی اعظم اشرف الفقہاء مفتی محمد مجیب اشرف رحمۃ اللہ علیہ (ناگپور) کے مالیگاؤں سے گہرے مراسم رہے ہیں۔ آپ کی آمد کی برکتوں سے شہر میں کثیر مساجد قائم ہوئیں۔ دینی و تعلیمی اداروں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ عقائد کی درستی کا پیغام ملا- صالح انقلاب برپا ہوا- اصلاحی و دعوتی اور علمی کاموں کو فروغ ملا۔ آپ نے نوری مشن کی کثیر مطبوعات کا اجرا مختلف محفلوں میں فرمایا۔ یہ سلسلہ کم و بیش ایک دہائی تک جاری رہا- آپ علمی و تحقیقی کاموں کو پسند کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ "نوری مشن" کی خدمات کو دُعاؤں کی سوغات عنایت فرماتے۔ حضور اشرف الفقہاء کے عرسِ چہلم پر نوری مشن سے ’’مضامینِ اشرف الفقہاء‘‘ کی اشاعت عمل میں آئے گی۔ جس طرح حضور اشرف الفقہاء کے خطبات عام فہم اور رواں دواں ہوتے تھے؛ اسی طرح آپ کے مضامین بھی سلیس و عام فہم ہیں- اسلوبِ تحریر دل چسپ ہے- مذکورہ مضامین کی اشاعت مدتوں قبل ناگپور سے ہوئی تھی۔ آپ کے ان مضامین کو ڈاکٹر مشاہد رضوی نے یکجا کر کے مرتب کر دیا ہے۔ جسے نوری مشن سے شائع کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ ۹؍ مضامین کا مجموعہ عرسِ حضور اشرف الفقہاء پر بِلاقیمت دستیاب ہوگا۔ یہ مضامین مسلمانوں کی رہنمائی و رہبری کے مبارک جذبات سے لبریز ہیں۔ شرعی مسائل، اصلاحی پہلو اور دینی معلومات پر مبنی یہ مضامین کتاب و سنت کے دلائل سے آراستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اشرف الفقہاء کی نصیحتوں پر عمل کی توفیق بخشے۔اور آپ کے فیضانِ علم سے نوازے۔ آمین بجاہ حبیبہٖ سیدالمرسلین علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔
٭نوری مشن مالیگاؤں
٧ ستمبر ٢٠٢٠ء
https://www.facebook.com/pg/noorimission92/about/
Facebook
Noori Mission
Noori Mission. 2.6K likes. Noori Mission, Malegaon
is a Sunni Movement
Doing his best for Publishing books and Articles
according to Ahele Sunnat Wa Jamaat (Maslak-e-AalaHazrat)
is a Sunni Movement
Doing his best for Publishing books and Articles
according to Ahele Sunnat Wa Jamaat (Maslak-e-AalaHazrat)
Forwarded from د.محمد ظھور الحنفی البریلوی
Forwarded from د.محمد ظھور الحنفی البریلوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 5 (عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے) (اس لڑکی نے حساب کتاب کیا...) پھر ایک فہرست نکالی جس میں پچھلی بار سے بہت زیادہ سامان کا آرڈر تھا۔ میں پھر سے سامان جمع کرنے میں مصروف ہو گیا۔ میں…
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 6
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
کئی دنوں بعد اس لڑکی کا خادم میرے پاس آیا تو میں نے اس لڑکی کی خبر پوچھی تو اس نے کہا کہ اللہ کی قسم! وہ لڑکی فلاں بادشاہ کی ماں کی خاص ترین خادمہ ہے اور اس نے محل سے باہر آ کر لوگوں کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو بادشاہ کی ماں نے اسے خرید و فروخت کی وکیل بنا کر بھیجا تھا۔ اس لڑکی نے بادشاہ کی ماں سے تمھاری بات چلائی ہے اور اس کے سامنے روئی بھی ہے تو بادشاہ کی ماں نے کہا کہ میں جب تک اس جوان کو دیکھ نہ لوں تب تک شادی کے بارے میں نہیں کَہ سکتی کیوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لڑکا تجھے تباہ کر دے۔
پھر خادم نے کہا کہ آپ کو کسی طرح حیلہ کر کے محل میں آنا ہوگا اور اگر آپ کامیاب رہے تو شادی کی بات آگے بڑھ سکتی ہے اور اگر پردہ فاش ہو گیا تو آپ کی گردن الگ کر دی جائے گی۔ یہ پیغام آپ کی محبوبہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر اس طریقے پر آپ راضی ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ کبھی مجھ تک نہیں پہنچ سکو گے۔
اس خادم نے کہا کہ رات کو فلاں خفیہ جگہ پر آ جانا۔ میں نے ویسا ہی کیا اور پھر میں نے دیکھا کہ وہاں ایک گھوڑا لایا گیا اور کچھ خادم بھی ہیں جنھوں نے خالی صندوق اٹھا رکھے ہیں۔ انھوں نے وہ صندوق وہاں رکھے اور چلے گئے پھر وہی لڑکی باہر آئی اور مجھے گلے لگا لیا اور بوسہ دیا! اس نے کافی دیر تک مجھے گلے لگائے رکھا پھر ایک صندوق میں بٹھا کر تالا لگا دیا!
(آگے آپ پڑھیں گے کہ اس صندوق کا کیا ہوتا ہے... جاری...)
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
کئی دنوں بعد اس لڑکی کا خادم میرے پاس آیا تو میں نے اس لڑکی کی خبر پوچھی تو اس نے کہا کہ اللہ کی قسم! وہ لڑکی فلاں بادشاہ کی ماں کی خاص ترین خادمہ ہے اور اس نے محل سے باہر آ کر لوگوں کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو بادشاہ کی ماں نے اسے خرید و فروخت کی وکیل بنا کر بھیجا تھا۔ اس لڑکی نے بادشاہ کی ماں سے تمھاری بات چلائی ہے اور اس کے سامنے روئی بھی ہے تو بادشاہ کی ماں نے کہا کہ میں جب تک اس جوان کو دیکھ نہ لوں تب تک شادی کے بارے میں نہیں کَہ سکتی کیوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لڑکا تجھے تباہ کر دے۔
پھر خادم نے کہا کہ آپ کو کسی طرح حیلہ کر کے محل میں آنا ہوگا اور اگر آپ کامیاب رہے تو شادی کی بات آگے بڑھ سکتی ہے اور اگر پردہ فاش ہو گیا تو آپ کی گردن الگ کر دی جائے گی۔ یہ پیغام آپ کی محبوبہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر اس طریقے پر آپ راضی ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ کبھی مجھ تک نہیں پہنچ سکو گے۔
اس خادم نے کہا کہ رات کو فلاں خفیہ جگہ پر آ جانا۔ میں نے ویسا ہی کیا اور پھر میں نے دیکھا کہ وہاں ایک گھوڑا لایا گیا اور کچھ خادم بھی ہیں جنھوں نے خالی صندوق اٹھا رکھے ہیں۔ انھوں نے وہ صندوق وہاں رکھے اور چلے گئے پھر وہی لڑکی باہر آئی اور مجھے گلے لگا لیا اور بوسہ دیا! اس نے کافی دیر تک مجھے گلے لگائے رکھا پھر ایک صندوق میں بٹھا کر تالا لگا دیا!
(آگے آپ پڑھیں گے کہ اس صندوق کا کیا ہوتا ہے... جاری...)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 7
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(میں صندوق میں بند...)
جب سورج نکلا تو نوکر چاکر جمع ہو گئے اور دوسری ضروریات کی چیزوں کو باقی صندوقوں میں رکھ کر تالا لگا دیا۔ پھر صندوق گھوڑے پر رکھے گئے اور میں اندر صندوق میں کبھی خود کو ملامت کرتا اور کبھی جان بچ جانے کی منت مانتا اور کبھی تو مجھے لگتا کہ آج میرا قتل ہونا طے ہے۔
ہم محل تک پہنچ گئے اور نوکروں نے صندوق اٹھائے اور میرا صندوق اس نوکر نے اٹھایا جو سب جانتا تھا۔ میرا صندوق آگے جا رہا تھا اور وہ لڑکی بھی ساتھ میں تھی۔ جب دربانوں کے پاس سے گزر ہوتا تو وہ کہتے کہ ہم اس صندوق کی تلاشی لیں گے تو وہ لڑکی اسے ڈانٹ دیتی اور کہتی کہ یہ طریقہ ہمارے ساتھ کب سے شروع ہوا ہے؟ تو وہ رک جاتے اور اس درمیان میری تو جان ہی نکل جاتی تھی۔
پھر ہم ایک خاص ملازم کے پاس جا پہنچے جس کو اس لڑکی نے استاد کے لقب سے مخاطب کیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ تمام ملازمین میں سب سے بڑے عہدے پر فائز ہے۔ اس خاص ملازم نے کہا کہ ہم اس صندوق کی تلاشی لیں گے تو اس لڑکی نے بڑی منت کی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
اس کے سامنے میری والی بالکل عاجز تھی۔ میرا کیا ہونا تھا، میرے تو ہوش و حواس غائب ہو گئے اور جب صندوق اتارا گیا تو میری حالت آپے سے باہر ہو گئی اور گھبراہٹ کی وجہ سے میرا پیشاب نکل گیا اور صندوق چوں کہ لکڑی کا تھا تو شگافوں سے باہر آ کر بہنے لگا!
(آگے آپ پڑھیں گے کہ اس عاشق کے ساتھ کیا کیا ہوا... جاری...)
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(میں صندوق میں بند...)
جب سورج نکلا تو نوکر چاکر جمع ہو گئے اور دوسری ضروریات کی چیزوں کو باقی صندوقوں میں رکھ کر تالا لگا دیا۔ پھر صندوق گھوڑے پر رکھے گئے اور میں اندر صندوق میں کبھی خود کو ملامت کرتا اور کبھی جان بچ جانے کی منت مانتا اور کبھی تو مجھے لگتا کہ آج میرا قتل ہونا طے ہے۔
ہم محل تک پہنچ گئے اور نوکروں نے صندوق اٹھائے اور میرا صندوق اس نوکر نے اٹھایا جو سب جانتا تھا۔ میرا صندوق آگے جا رہا تھا اور وہ لڑکی بھی ساتھ میں تھی۔ جب دربانوں کے پاس سے گزر ہوتا تو وہ کہتے کہ ہم اس صندوق کی تلاشی لیں گے تو وہ لڑکی اسے ڈانٹ دیتی اور کہتی کہ یہ طریقہ ہمارے ساتھ کب سے شروع ہوا ہے؟ تو وہ رک جاتے اور اس درمیان میری تو جان ہی نکل جاتی تھی۔
پھر ہم ایک خاص ملازم کے پاس جا پہنچے جس کو اس لڑکی نے استاد کے لقب سے مخاطب کیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ تمام ملازمین میں سب سے بڑے عہدے پر فائز ہے۔ اس خاص ملازم نے کہا کہ ہم اس صندوق کی تلاشی لیں گے تو اس لڑکی نے بڑی منت کی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
اس کے سامنے میری والی بالکل عاجز تھی۔ میرا کیا ہونا تھا، میرے تو ہوش و حواس غائب ہو گئے اور جب صندوق اتارا گیا تو میری حالت آپے سے باہر ہو گئی اور گھبراہٹ کی وجہ سے میرا پیشاب نکل گیا اور صندوق چوں کہ لکڑی کا تھا تو شگافوں سے باہر آ کر بہنے لگا!
(آگے آپ پڑھیں گے کہ اس عاشق کے ساتھ کیا کیا ہوا... جاری...)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 8
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(صندوق میں میرے کپڑے گیلے...)
اس لڑکی نے اس ملازم سے کہا کہ اے استاد! آپ نے ہمارا اتنا قیمتی کپڑا اور عرق گلاب (گلاب کے پانی) کو برباد کر دیا۔ یہ گلاب کا پانی کپڑوں پر گر گیا ہے جس سے رنگین کپڑے خراب ہو گئے، اب تو میں بادشاہ کی ماں کے ہاتھوں ماری جاؤں گی۔ اس ملازم نے کہا کہ چل اس کو لے جا (اسے کیا معلوم کہ جسے وہ عرق گلاب سمجھ رہا ہے اس کا گلاب سے دور دور تک کا کوئی رشتہ نہیں ہے)۔
میں محل میں پہنچ گیا تو جان میں جان آئی لیکن جان پھر نکلنے لگی جب سامنے سے بادشاہ آ رہا تھا اور اس نے پوچھ لیا کہ صندوق میں کیا ہے؟ اس لڑکی نے کہا کہ آقا یہ آپ کی والدہ کے کپڑے ہیں، میں ابھی آپ کے سامنے کھولتی ہوں، پھر اس نے نوکروں سے کہا کہ جلدی کرو تو انھوں نے جلدی کی اور مجھے ایک کمرے میں لے گئے اور اس لڑکی نے مجھے جھنجوڑ کر کہا کہ اس سیڑھی کے ذریعے بالا خانے پر چڑھ کر بیٹھ جاؤ پھر اس نے جلدی سے صندوق میں تالا لگا دیا اور جب بادشاہ تشریف لائے تو صندوقوں کو کھولا گیا اور جب ایسا ویسا کچھ نظر نہ آیا تو چلے گئے۔
وہ لڑکی بالا خانے پر آئی اور مجھے بوسے دینے لگی تو میری جان میں جان آئی اور جو کچھ بیتی تھی، سب بھول گیا۔ وہ مجھے اکیلا کمرے میں چھوڑ کر تالا لگا کر چلی گئی۔ پھر وہ میرے لیے کھانا لے کر آئی اور مجھے کھلایا پلایا۔ رات بھر میں کمرے میں رہا پھر صبح وہ لڑکی آئی اور کہنے لگی کہ بادشاہ کی ماں آئی ہیں! تم سوچ سمجھ لو کہ تمھیں کیا کہنا ہے۔ میں جب گیا تو دیکھا کہ وہ کرسی پر رونق افروز ہیں اور وہاں خادمائیں کھڑی ہیں۔ میں نے زمین کو بوسہ دیا پھر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ بیٹھ جاؤ تو میں نے عرض کیا کہ میں تو آپ کا غلام اور نوکر ہوں، میرا یہ مرتبہ کہاں کہ آپ کی موجودگی میں بیٹھنے کی جسارت کروں تو اس نے مجھے غور سے دیکھا اور کہنے لگی اے فلانی تو نے خوبصورت اور باادب شخص کو پسند کیا ہے پھر وہ چلی گئیں اور میری والی ایک گھڑی کے بعد واپس آئی اور کہا کہ تم خوش ہو جاؤ، اللہ کی قسم! مجھے آپ کے ساتھ شادی کی اجازت مل گئی ہے لیکن تمھارے واپس جانے کا معاملہ ابھی باقی ہے۔ میں نے کہا اللہ حفاظت فرمائے۔
(آگے آپ پڑھیں گے کہ شادی ہوتی ہے یا نہیں... جاری...)
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(صندوق میں میرے کپڑے گیلے...)
اس لڑکی نے اس ملازم سے کہا کہ اے استاد! آپ نے ہمارا اتنا قیمتی کپڑا اور عرق گلاب (گلاب کے پانی) کو برباد کر دیا۔ یہ گلاب کا پانی کپڑوں پر گر گیا ہے جس سے رنگین کپڑے خراب ہو گئے، اب تو میں بادشاہ کی ماں کے ہاتھوں ماری جاؤں گی۔ اس ملازم نے کہا کہ چل اس کو لے جا (اسے کیا معلوم کہ جسے وہ عرق گلاب سمجھ رہا ہے اس کا گلاب سے دور دور تک کا کوئی رشتہ نہیں ہے)۔
میں محل میں پہنچ گیا تو جان میں جان آئی لیکن جان پھر نکلنے لگی جب سامنے سے بادشاہ آ رہا تھا اور اس نے پوچھ لیا کہ صندوق میں کیا ہے؟ اس لڑکی نے کہا کہ آقا یہ آپ کی والدہ کے کپڑے ہیں، میں ابھی آپ کے سامنے کھولتی ہوں، پھر اس نے نوکروں سے کہا کہ جلدی کرو تو انھوں نے جلدی کی اور مجھے ایک کمرے میں لے گئے اور اس لڑکی نے مجھے جھنجوڑ کر کہا کہ اس سیڑھی کے ذریعے بالا خانے پر چڑھ کر بیٹھ جاؤ پھر اس نے جلدی سے صندوق میں تالا لگا دیا اور جب بادشاہ تشریف لائے تو صندوقوں کو کھولا گیا اور جب ایسا ویسا کچھ نظر نہ آیا تو چلے گئے۔
وہ لڑکی بالا خانے پر آئی اور مجھے بوسے دینے لگی تو میری جان میں جان آئی اور جو کچھ بیتی تھی، سب بھول گیا۔ وہ مجھے اکیلا کمرے میں چھوڑ کر تالا لگا کر چلی گئی۔ پھر وہ میرے لیے کھانا لے کر آئی اور مجھے کھلایا پلایا۔ رات بھر میں کمرے میں رہا پھر صبح وہ لڑکی آئی اور کہنے لگی کہ بادشاہ کی ماں آئی ہیں! تم سوچ سمجھ لو کہ تمھیں کیا کہنا ہے۔ میں جب گیا تو دیکھا کہ وہ کرسی پر رونق افروز ہیں اور وہاں خادمائیں کھڑی ہیں۔ میں نے زمین کو بوسہ دیا پھر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ بیٹھ جاؤ تو میں نے عرض کیا کہ میں تو آپ کا غلام اور نوکر ہوں، میرا یہ مرتبہ کہاں کہ آپ کی موجودگی میں بیٹھنے کی جسارت کروں تو اس نے مجھے غور سے دیکھا اور کہنے لگی اے فلانی تو نے خوبصورت اور باادب شخص کو پسند کیا ہے پھر وہ چلی گئیں اور میری والی ایک گھڑی کے بعد واپس آئی اور کہا کہ تم خوش ہو جاؤ، اللہ کی قسم! مجھے آپ کے ساتھ شادی کی اجازت مل گئی ہے لیکن تمھارے واپس جانے کا معاملہ ابھی باقی ہے۔ میں نے کہا اللہ حفاظت فرمائے۔
(آگے آپ پڑھیں گے کہ شادی ہوتی ہے یا نہیں... جاری...)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
عظمتِ صحابہ
اللہ تعالی نے اُنھیں حضور ﷺ کے (وصال کے) بعد (زمین میں آپ ﷺ کا) خلیفہ بنایا اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، اور حضرت علی رضی اللہ عنھم، جمیع امت کے لیے باعث برکت ہیں۔
اللہ تعالی نے (ان صحابہ ہی کے متعلق) فرمایا ہے: اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اللہ (والوں) کی جماعت ہے۔
کہا جاتا ہے:
جس نے حضرت ابوبکر سے محبت کی اس نے دین کی اقامت کا فریضہ سر انجام دیا۔ جس نے حضرت عمر سے محبت کی اس نے راہ دین کو واضح کیا۔
اور جس نے حضرت عثمان سے محبت کی وہ نور الٰہی سے مستنصر ہوا اور جس نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت کی اس نے دین کی پختہ رسّی کو مضبوطی سے تھام لیا۔
جس شخص نے حضور ﷺ کے صحابہ کے بارے میں کلمات خیر کہے وہ نفاق سے بری ہو گیا۔
ان صحابہ میں سے ایک کے اتنے فضائل ہیں جو اپنی کثرت کے باعث حدِ شمار سے باہر ہیں۔
رسول ﷺ نے صحابہ کی تعریف فرمائی ہے اور اُنھیں ستاروں سے تشبیہ دی ہے۔ اس تشبیہ کے ذریعے آپ ﷺ نے اپنی امت کو اُن کے امور دین میں (حصول رہنمائی کے لیے) صحابہ کی اقتدا پر ابھارا ہے جیسے کہ وہ اپنے دنیاوی امور میں اپنی ضروریات کے لیے بحر و بر کی تاریکیوں میں (راستہ جاننے کے لیے) ستاروں سے رہنمائی لیتے ہیں۔
رسول ﷺ نے فرمایا: بے شک میرے صحابہ کی مثال آسمان پر ستاروں جیسی ہے، ان میں سے جس کو بھی تھامو گے ہدایت پا جاؤ گے اور میرے صحابہ کا اختلاف (بھی) تمہارے لیے باعث رحمت ہے۔
حضرت نُسیر ذعلوق رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب کو برا مت کہو، کیونکہ صحابہ میں سے کسی ایک کا (حضور ﷺ کی صحبت میں گزرا ہوا) ایک لمحہ تمھاری زندگی بھر کے اعمال سے بہتر ہے۔
رسول ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے (تمام رسولوں میں سے) مجھے چنا اور میرے واسطہ سے (پوری امت میں سے) میرے صحابہ کو چنا سو اس نے ان میں سے میرے لیے وزراء، معاونین و مددگار اور سسرالی رشتہ دار بنائے لہٰذا جس نے انھیں گالی دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ قیامت کے روز اللہ تعالی اس کے کسی فرض و نفل کو قبول نہیں کرے گا۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کی خامیاں اور برائیاں بیان نہ کیا کرو کہ ان کے حوالے سے تمھارے دل باہم اختلاف کا شکار ہوجائیں گے؛ بلکہ میرے صحابہ کے محاسن اور خوبیوں کا تذکرہ کیا کرو یہاں تک کہ تمھارے دل ان کی نسبت باہم اکٹھے ہو (کر متفق ہو) جائیں۔
(اخرجہ الدیلمی فی مسند الفردوس، 7362/5/الرقم 31)
ماخوذ : عظمتِ صحابیت اور حقیقتِ خلافت
حاصل کلام یہ ہے کہ عظمتِ صحابہ بہت ہی بلند و بالا ہے۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں توہین صحابہ رضی اللہ عنہ سے محفوظ فرمائے۔
عبد مصطفی
دلبر راہی اصدقی
اللہ تعالی نے اُنھیں حضور ﷺ کے (وصال کے) بعد (زمین میں آپ ﷺ کا) خلیفہ بنایا اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، اور حضرت علی رضی اللہ عنھم، جمیع امت کے لیے باعث برکت ہیں۔
اللہ تعالی نے (ان صحابہ ہی کے متعلق) فرمایا ہے: اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اللہ (والوں) کی جماعت ہے۔
کہا جاتا ہے:
جس نے حضرت ابوبکر سے محبت کی اس نے دین کی اقامت کا فریضہ سر انجام دیا۔ جس نے حضرت عمر سے محبت کی اس نے راہ دین کو واضح کیا۔
اور جس نے حضرت عثمان سے محبت کی وہ نور الٰہی سے مستنصر ہوا اور جس نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت کی اس نے دین کی پختہ رسّی کو مضبوطی سے تھام لیا۔
جس شخص نے حضور ﷺ کے صحابہ کے بارے میں کلمات خیر کہے وہ نفاق سے بری ہو گیا۔
ان صحابہ میں سے ایک کے اتنے فضائل ہیں جو اپنی کثرت کے باعث حدِ شمار سے باہر ہیں۔
رسول ﷺ نے صحابہ کی تعریف فرمائی ہے اور اُنھیں ستاروں سے تشبیہ دی ہے۔ اس تشبیہ کے ذریعے آپ ﷺ نے اپنی امت کو اُن کے امور دین میں (حصول رہنمائی کے لیے) صحابہ کی اقتدا پر ابھارا ہے جیسے کہ وہ اپنے دنیاوی امور میں اپنی ضروریات کے لیے بحر و بر کی تاریکیوں میں (راستہ جاننے کے لیے) ستاروں سے رہنمائی لیتے ہیں۔
رسول ﷺ نے فرمایا: بے شک میرے صحابہ کی مثال آسمان پر ستاروں جیسی ہے، ان میں سے جس کو بھی تھامو گے ہدایت پا جاؤ گے اور میرے صحابہ کا اختلاف (بھی) تمہارے لیے باعث رحمت ہے۔
حضرت نُسیر ذعلوق رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب کو برا مت کہو، کیونکہ صحابہ میں سے کسی ایک کا (حضور ﷺ کی صحبت میں گزرا ہوا) ایک لمحہ تمھاری زندگی بھر کے اعمال سے بہتر ہے۔
رسول ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے (تمام رسولوں میں سے) مجھے چنا اور میرے واسطہ سے (پوری امت میں سے) میرے صحابہ کو چنا سو اس نے ان میں سے میرے لیے وزراء، معاونین و مددگار اور سسرالی رشتہ دار بنائے لہٰذا جس نے انھیں گالی دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ قیامت کے روز اللہ تعالی اس کے کسی فرض و نفل کو قبول نہیں کرے گا۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کی خامیاں اور برائیاں بیان نہ کیا کرو کہ ان کے حوالے سے تمھارے دل باہم اختلاف کا شکار ہوجائیں گے؛ بلکہ میرے صحابہ کے محاسن اور خوبیوں کا تذکرہ کیا کرو یہاں تک کہ تمھارے دل ان کی نسبت باہم اکٹھے ہو (کر متفق ہو) جائیں۔
(اخرجہ الدیلمی فی مسند الفردوس، 7362/5/الرقم 31)
ماخوذ : عظمتِ صحابیت اور حقیقتِ خلافت
حاصل کلام یہ ہے کہ عظمتِ صحابہ بہت ہی بلند و بالا ہے۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں توہین صحابہ رضی اللہ عنہ سے محفوظ فرمائے۔
عبد مصطفی
دلبر راہی اصدقی