Forwarded from Abde Mustafa Organisation
غیبت
حضور ضیاءالملت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، علامہ ضیاءالدین مہاجر مدنی علیہ الرحمہ کی مجلس میں کوئی غیبت نہ کرسکتا تھا۔ اگر کوئی جرات کرتا تو آپ بلند آواز سے درود شریف پڑھنے لگتے اور کسی نہ کسی طرح اس کو غیبت سے روک دیتے۔ ہماری محفلوں میں غیبت کا رواج ہے،
اپنوں کی غیبتیں
غیروں کی غیبتیں
محسنوں کی غیبتیں
بزرگوں کی غیبتیں
گویا غیبت اوڑھنا بچھونا ہوگیا!
خود بگڑتے ہیں، دوسروں کو بگاڑتے ہیں!
حضرت ضیاءالملت علیہ الرحمہ کا دامن عصمت غیبت سے بالکل پاک تھا،
نہ غیبت سنتے نہ غیبت کرتے،
وہ ملتے بھی تھے ملاتے بھی تھے،
ہم اپنوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور دور کرتے چلے جلاتے ہیں۔
(خلفائے محدثِ بریلوی از ماہر رضویات مسعود ملت ڈاکٹر مسعود احمد نقشبندی مجددی رحمة اللہ علیہ)
ایک ہم ہیں جن کی کوئی مجلس بغیر غیبت کے نہیں ہوتی!
جب کبھی چار لوگ ملے غیبت سننے سنانے کا بازار گرم اور محسوس تک نہیں کرتے کہ ہم کتنی آسانی سے دوزخ کا سامان اکٹھا کررہے ہیں۔ کاش ہمیں فکر آخرت نصیب ہوجائے۔ کچھ کہنے سننے سے پہلے ذرا سوچیں کہ کیا کہ سن رہے ہیں،
یہ کہنا سننا اللہ پاک کی نافرمانی کا باعث تو نہیں؟
عبد مصطفی
تراب الحق قادری
حضور ضیاءالملت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، علامہ ضیاءالدین مہاجر مدنی علیہ الرحمہ کی مجلس میں کوئی غیبت نہ کرسکتا تھا۔ اگر کوئی جرات کرتا تو آپ بلند آواز سے درود شریف پڑھنے لگتے اور کسی نہ کسی طرح اس کو غیبت سے روک دیتے۔ ہماری محفلوں میں غیبت کا رواج ہے،
اپنوں کی غیبتیں
غیروں کی غیبتیں
محسنوں کی غیبتیں
بزرگوں کی غیبتیں
گویا غیبت اوڑھنا بچھونا ہوگیا!
خود بگڑتے ہیں، دوسروں کو بگاڑتے ہیں!
حضرت ضیاءالملت علیہ الرحمہ کا دامن عصمت غیبت سے بالکل پاک تھا،
نہ غیبت سنتے نہ غیبت کرتے،
وہ ملتے بھی تھے ملاتے بھی تھے،
ہم اپنوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور دور کرتے چلے جلاتے ہیں۔
(خلفائے محدثِ بریلوی از ماہر رضویات مسعود ملت ڈاکٹر مسعود احمد نقشبندی مجددی رحمة اللہ علیہ)
ایک ہم ہیں جن کی کوئی مجلس بغیر غیبت کے نہیں ہوتی!
جب کبھی چار لوگ ملے غیبت سننے سنانے کا بازار گرم اور محسوس تک نہیں کرتے کہ ہم کتنی آسانی سے دوزخ کا سامان اکٹھا کررہے ہیں۔ کاش ہمیں فکر آخرت نصیب ہوجائے۔ کچھ کہنے سننے سے پہلے ذرا سوچیں کہ کیا کہ سن رہے ہیں،
یہ کہنا سننا اللہ پاک کی نافرمانی کا باعث تو نہیں؟
عبد مصطفی
تراب الحق قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حدیث قسطنطنیہ اور یزید پلید حدیث قسطنطنیه اور تحقیقات حدیث قسطنطنیہ اور یزید پلید حدیث قسطنطنیه اور یزید پلید یزید کو امیر المؤمنین کہنے پر عظمت اہل بیت ابو بکر کی نظر حضور کا خطبہ کے دوران حسنین امام حسن کے لئے بشارت نبوی شہادت حضرت امام حسین امام حسن کو…
بعد وصال امام حسن کی تمنا
امام حسن کو زہر کس نے دیا
ماہ محرم میں تاریخی نکاح
امام حسین کی شہادت کا بدلہ
قاتلین امام حسین کا انجام
خولی بن یزید کو قتل کے بعد
ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل
ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل
قاتل حسین جل کر کوئلہ بن گیا
اہل بیت پر لعنت کرنے والے کا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜 ⁸
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
امام حسن کو زہر کس نے دیا
ماہ محرم میں تاریخی نکاح
امام حسین کی شہادت کا بدلہ
قاتلین امام حسین کا انجام
خولی بن یزید کو قتل کے بعد
ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل
ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل
قاتل حسین جل کر کوئلہ بن گیا
اہل بیت پر لعنت کرنے والے کا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜 ⁸
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا مجموعہ کلام
*"سفینۂ بخشش" کی مجلسِ رضا سے اشاعت*
٢٠١٨ء میں "سفینۂ بخشش" کے نئے ایڈیشن کی اشاعت ہوئی... اہتمامِ اشاعت نوری مشن مالیگاؤں نے کیا... جس میں مزید کلام کے اضافہ کے ساتھ عربی کلام "روح الفؤاد بذکریٰ خیرالعباد" بھی شامل ہے... حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مجموعہ کلام بڑا مقبول ہوا... ہزاروں کی تعداد میں عام ہوا... بعد میں پاکٹ سائز میں رضائے مصطفیٰ اکیڈمی دھرن گاؤں نے شائع کیا... تازہ ترین اطلاع کے مطابق مرکزی مجلسِ رضا لاہور نے "سفینۂ بخشش" کا خوبصورت ایڈیشن شائع کر دیا ہے.... مجلس کی خدمات مشنِ اعلیٰ حضرت کے فروغ میں نمایاں اہمیت کی حامل ہیں... ان شاء اللہ "سفینۂ بخشش" مزید نکھار کے ساتھ رضا اکیڈمی ممبئی سے بھی منظرِ عام پر آئے گی...
***
نوری مشن مالیگاؤں
٥ ستمبر ٢٠٢٠ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4281741665234460&id=555248701217127
*"سفینۂ بخشش" کی مجلسِ رضا سے اشاعت*
٢٠١٨ء میں "سفینۂ بخشش" کے نئے ایڈیشن کی اشاعت ہوئی... اہتمامِ اشاعت نوری مشن مالیگاؤں نے کیا... جس میں مزید کلام کے اضافہ کے ساتھ عربی کلام "روح الفؤاد بذکریٰ خیرالعباد" بھی شامل ہے... حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مجموعہ کلام بڑا مقبول ہوا... ہزاروں کی تعداد میں عام ہوا... بعد میں پاکٹ سائز میں رضائے مصطفیٰ اکیڈمی دھرن گاؤں نے شائع کیا... تازہ ترین اطلاع کے مطابق مرکزی مجلسِ رضا لاہور نے "سفینۂ بخشش" کا خوبصورت ایڈیشن شائع کر دیا ہے.... مجلس کی خدمات مشنِ اعلیٰ حضرت کے فروغ میں نمایاں اہمیت کی حامل ہیں... ان شاء اللہ "سفینۂ بخشش" مزید نکھار کے ساتھ رضا اکیڈمی ممبئی سے بھی منظرِ عام پر آئے گی...
***
نوری مشن مالیگاؤں
٥ ستمبر ٢٠٢٠ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4281741665234460&id=555248701217127
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Zubair 006
*تحریک فروغِ اسلام کا تحفظ ناموسِ رسالت کنونشن*
*ناموسِ رسالت سے متعلق بیداری پیدا کرنا وقت کی اولین ضرورت: قمر غنی عثمانی*
۷؍ ستمبر ۲۰۲۰ء بروز پیر تحریک فروغِ اسلام کے تحت امام احمد رضا دارالافتا اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام میرا روڈ (تھانہ) میں ایک عظیم الشان "تحفظِ ناموسِ رسالت کنونشن" کا انعقاد عمل میں آیا۔ الحمدللہ یہ سیمینار لاک ڈاؤن کے باوجود بہت کامیاب رہا، جس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے نمائندہ علما و دانشوران نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ہزارہا افراد نے اس پروگرام کو آن لائن دنیا بھر میں سماعت کیا۔
پروگرام کا آغاز صبح گیارہ بجے تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول سے ہوا۔ پھر ناظم اجلاس *علامہ غلام مصطفیٰ نعیمی* صاحب نے تمہیدی گفتگو میں ناموس رسالت کی اہمیت پر گفتگو فرمائی بعدہ حضرت *علامہ سید اکرام الحق قادری* صاحب کو دعوتِ سخن دی۔ حضرت نے ’’ناموسِ رسالت کی اہمیت‘‘ پر قرآنِ کریم و سیرتِ رسول ﷺ کے حوالوں سے پُر مدلل تقریر کی۔ ان کے بعد حضرت *مفتی محمد اختر رضا مجددی* (صدر شعبۂ دارالافتا دارالعلوم مخدومیہ،جوگیشوری، ممبئی ) نے’’گستاخ رسول کا شرعی حکم‘‘ خطاب فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ گستاخِ رسول کسی معافی کا بالکل بھی حقدار نہیں۔
ان کے بعد نبیرۂ صدر الشریعہ حضرت *مفتی محمود اختر القادری* (قاضی شرع ممبئی و خلیفۂ تاج الشریعہ) کو ’’ناموسِ رسالت کی شرعی حیثیت‘‘ بیان کرنے کے لیے دعوتِ سخن دی گئی۔ حضرت نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں کہ کوئی بھی شخص اس کے نبی کی برائی کرے یا عیب لگائے۔قرآنِ کریم میں راعِنا کی مثال سے یہ بات واضح ہے۔
اس کے بعد بانی تحریک، آل سیدنا عثمان غنی حضرت *قمر غنی عثمانی* قادری چشتی صاحب نے ’’تحفظِ ناموسِ رسالت کے لیے اُمت کا اتحاد ضروری‘‘ عنوان پر فرمایا کہ ناموسِ رسالت کیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، انفرادی کوششوں سے کچھ نہ ہوسکے گا۔ گذشتہ چند سالوں سے آئے روز بھارت یا بیرونِ ممالک میں کہیں نہ کہیں توہینِ رسالت کی ناپاک کوششیں جاری ہیں، اور ہم مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرپاتے۔ اسی طرح ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔ تحریکِ فروغِ اسلام کا بنیادی مقصد ہی تحفظ ناموسِ رسالت ہے۔ حضرت نے ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے آگے بڑھ کر کام کرنے کی اپیل کی۔
بعدہ ماہر قانون *ایم حسنین* صاحب (دہلی) کو موقع دیا گیا۔ آپ نے ’’دستورِ ہند کے تحت گستاخانِ رسالت پر قانونی کارروائی‘‘ سے متعلق مفید معلومات فراہم کی۔ آپ نے بتایا کہ بھارت کے دستور میں ترامیم کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر دستورِ ہند میں "ہندو راشٹر" کے الفاظ شامل کردئے جائیں تو سوچیے اس ملک کے مسلمانوں کے حالات کتنے بھیانک ہوجائیں گے۔ اس لیے تحفظ ناموسِ رسالت کے لیے کوششیں تیز ہوجانی چاہیے۔ موصوف نے فرمایا علماے کرام سے اپیل کی کہ آپ لوگ ہم وکلا حضرات کو ناموسِ رسالت سے متعلق سمجھائیں، قرآن و احادیث سے مدلل مواد پیش کریں، تاکہ اس کو ہم صحیح طریقے سے سمجھ کر دفاع کرسکیں۔حضور اکرم ﷺ پر جو بھی اعتراضات کیے جاتے ہیں، اس کے دفاع میں ٹھوس دلائل ہم کو پیش کریں تاکہ دفاع میں کام آسکیں۔ برسوں پہلے جس طرح دیانند سرسوتی نے جو اعتراضات اسلام پر وارد کیے تھے، آج کل وہی اعتراضات فاشسٹ قوتیں ویڈیو کے ذریعے عام کررہی ہیں۔ جس کو دیکھ کر ہمارا نوجوان طبقہ اسلام سے بدظن ہورہا ہے۔ تو اس کا جواب اسی طرز پر دیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں بھارت کے مشہور وکیل *ایڈوکیٹ محمود پراچہ* (سپریم کورٹ، دہلی) سے درخواست کی گئی کہ ’’قانونی کارروائی کے طریقے‘‘ پر معلومات فراہم کریں۔ آپ نے بتایا کہ اسلام کے سب سے اہم اُصول "انصاف اور برابری" ہیں۔ انہیں تعلیمات کی بدولت اسلام پوری دنیا میں مختصر عرصے میں بہت تیزی سے پھیلا۔اسلام دشمن عناصر اسی سے خائف ہوکر اسلام اور مسلمانوں کو اس قدر بدنام کرنا چاہ رہے ہیں کہ لوگ اسلام کو ترک کردیں۔ اور اس کے لیے وہ پیغمبر اسلام کی ذات کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔پھر پراچہ صاحب نے چند مفید قانونی نکات بیان کیے:
🔹ہر مسجد میں وکیلوں کی ٹیم کو ساتھ رکھیں، جو قانونی کاغذات کی تیاری میں معاون ثابت ہوں اور مشکل وقت میں کام آئے۔
🔹کوئی بھی مظاہرہ کرنا ہو یا کسی مطالبہ کے لیے پولیس کمشنر وغیرہ کے پاس نہ جائیں۔ بلکہ عوامی نمائندے(ایم پی؍ ایم ایل اے) کے دفتر جاکر مظاہرہ کریں کیوں کہ وہ ہمارا منتخب کردہ نمائندہ ہے۔ اس کی بات پر ضرور ایکشن لیا جائے گا۔
🔹ایسے قانونی راستے اختیار کرنا چاہیے جو آسان ہوں، کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔ لیکن کبھی ڈرنا، جھجکنا نہیں چاہیے۔ ہمیں جو بھی کرنا ہے وہ سچ، انصاف کے ساتھ کرنا ہوگا۔ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔
🔹ہر علاقے میں ایک نمائندہ گروپ بنانا چاہیے ، جو ہماری بات اور مطالبات کو قانونی طریقے سے آگے رکھ سکے۔
🔹
*ناموسِ رسالت سے متعلق بیداری پیدا کرنا وقت کی اولین ضرورت: قمر غنی عثمانی*
۷؍ ستمبر ۲۰۲۰ء بروز پیر تحریک فروغِ اسلام کے تحت امام احمد رضا دارالافتا اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام میرا روڈ (تھانہ) میں ایک عظیم الشان "تحفظِ ناموسِ رسالت کنونشن" کا انعقاد عمل میں آیا۔ الحمدللہ یہ سیمینار لاک ڈاؤن کے باوجود بہت کامیاب رہا، جس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے نمائندہ علما و دانشوران نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ہزارہا افراد نے اس پروگرام کو آن لائن دنیا بھر میں سماعت کیا۔
پروگرام کا آغاز صبح گیارہ بجے تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول سے ہوا۔ پھر ناظم اجلاس *علامہ غلام مصطفیٰ نعیمی* صاحب نے تمہیدی گفتگو میں ناموس رسالت کی اہمیت پر گفتگو فرمائی بعدہ حضرت *علامہ سید اکرام الحق قادری* صاحب کو دعوتِ سخن دی۔ حضرت نے ’’ناموسِ رسالت کی اہمیت‘‘ پر قرآنِ کریم و سیرتِ رسول ﷺ کے حوالوں سے پُر مدلل تقریر کی۔ ان کے بعد حضرت *مفتی محمد اختر رضا مجددی* (صدر شعبۂ دارالافتا دارالعلوم مخدومیہ،جوگیشوری، ممبئی ) نے’’گستاخ رسول کا شرعی حکم‘‘ خطاب فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ گستاخِ رسول کسی معافی کا بالکل بھی حقدار نہیں۔
ان کے بعد نبیرۂ صدر الشریعہ حضرت *مفتی محمود اختر القادری* (قاضی شرع ممبئی و خلیفۂ تاج الشریعہ) کو ’’ناموسِ رسالت کی شرعی حیثیت‘‘ بیان کرنے کے لیے دعوتِ سخن دی گئی۔ حضرت نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں کہ کوئی بھی شخص اس کے نبی کی برائی کرے یا عیب لگائے۔قرآنِ کریم میں راعِنا کی مثال سے یہ بات واضح ہے۔
اس کے بعد بانی تحریک، آل سیدنا عثمان غنی حضرت *قمر غنی عثمانی* قادری چشتی صاحب نے ’’تحفظِ ناموسِ رسالت کے لیے اُمت کا اتحاد ضروری‘‘ عنوان پر فرمایا کہ ناموسِ رسالت کیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، انفرادی کوششوں سے کچھ نہ ہوسکے گا۔ گذشتہ چند سالوں سے آئے روز بھارت یا بیرونِ ممالک میں کہیں نہ کہیں توہینِ رسالت کی ناپاک کوششیں جاری ہیں، اور ہم مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرپاتے۔ اسی طرح ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔ تحریکِ فروغِ اسلام کا بنیادی مقصد ہی تحفظ ناموسِ رسالت ہے۔ حضرت نے ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے آگے بڑھ کر کام کرنے کی اپیل کی۔
بعدہ ماہر قانون *ایم حسنین* صاحب (دہلی) کو موقع دیا گیا۔ آپ نے ’’دستورِ ہند کے تحت گستاخانِ رسالت پر قانونی کارروائی‘‘ سے متعلق مفید معلومات فراہم کی۔ آپ نے بتایا کہ بھارت کے دستور میں ترامیم کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر دستورِ ہند میں "ہندو راشٹر" کے الفاظ شامل کردئے جائیں تو سوچیے اس ملک کے مسلمانوں کے حالات کتنے بھیانک ہوجائیں گے۔ اس لیے تحفظ ناموسِ رسالت کے لیے کوششیں تیز ہوجانی چاہیے۔ موصوف نے فرمایا علماے کرام سے اپیل کی کہ آپ لوگ ہم وکلا حضرات کو ناموسِ رسالت سے متعلق سمجھائیں، قرآن و احادیث سے مدلل مواد پیش کریں، تاکہ اس کو ہم صحیح طریقے سے سمجھ کر دفاع کرسکیں۔حضور اکرم ﷺ پر جو بھی اعتراضات کیے جاتے ہیں، اس کے دفاع میں ٹھوس دلائل ہم کو پیش کریں تاکہ دفاع میں کام آسکیں۔ برسوں پہلے جس طرح دیانند سرسوتی نے جو اعتراضات اسلام پر وارد کیے تھے، آج کل وہی اعتراضات فاشسٹ قوتیں ویڈیو کے ذریعے عام کررہی ہیں۔ جس کو دیکھ کر ہمارا نوجوان طبقہ اسلام سے بدظن ہورہا ہے۔ تو اس کا جواب اسی طرز پر دیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں بھارت کے مشہور وکیل *ایڈوکیٹ محمود پراچہ* (سپریم کورٹ، دہلی) سے درخواست کی گئی کہ ’’قانونی کارروائی کے طریقے‘‘ پر معلومات فراہم کریں۔ آپ نے بتایا کہ اسلام کے سب سے اہم اُصول "انصاف اور برابری" ہیں۔ انہیں تعلیمات کی بدولت اسلام پوری دنیا میں مختصر عرصے میں بہت تیزی سے پھیلا۔اسلام دشمن عناصر اسی سے خائف ہوکر اسلام اور مسلمانوں کو اس قدر بدنام کرنا چاہ رہے ہیں کہ لوگ اسلام کو ترک کردیں۔ اور اس کے لیے وہ پیغمبر اسلام کی ذات کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔پھر پراچہ صاحب نے چند مفید قانونی نکات بیان کیے:
🔹ہر مسجد میں وکیلوں کی ٹیم کو ساتھ رکھیں، جو قانونی کاغذات کی تیاری میں معاون ثابت ہوں اور مشکل وقت میں کام آئے۔
🔹کوئی بھی مظاہرہ کرنا ہو یا کسی مطالبہ کے لیے پولیس کمشنر وغیرہ کے پاس نہ جائیں۔ بلکہ عوامی نمائندے(ایم پی؍ ایم ایل اے) کے دفتر جاکر مظاہرہ کریں کیوں کہ وہ ہمارا منتخب کردہ نمائندہ ہے۔ اس کی بات پر ضرور ایکشن لیا جائے گا۔
🔹ایسے قانونی راستے اختیار کرنا چاہیے جو آسان ہوں، کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔ لیکن کبھی ڈرنا، جھجکنا نہیں چاہیے۔ ہمیں جو بھی کرنا ہے وہ سچ، انصاف کے ساتھ کرنا ہوگا۔ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔
🔹ہر علاقے میں ایک نمائندہ گروپ بنانا چاہیے ، جو ہماری بات اور مطالبات کو قانونی طریقے سے آگے رکھ سکے۔
🔹
Forwarded from Zubair 006
کسی کے خلاف ایف آئی آر اُس پولیس اسٹیشن میں درج کرنا چاہیے جہاں کے آفیسر سیکولر، انصاف پسند ہوں۔ ایف آئی آر کرانے کے بعد اس کی وصولی کی رسید ضرور لینی چاہیے اور صرف ایف آئی آر رجسٹر کرکے گھر میں نہ بیٹھ رہیں، اگر پولیس کوئی کارروائی نہ کرے تو آگے بھی جاتے رہنا چاہیے۔ پولیس کچھ کارروائی نہ کرے تو ایف آئی آر کی رجسٹر کاپی کے ساتھ مجسٹریٹ کے پاس شکایت بھی کرسکتے ہیں۔ اس جدوجہد کے نہایت مفید نتائج مرتب سامنے آئیں گے۔اس کے علاوہ احتجاج میں خود کی گرفتاری دینا بھی اہم کام ہے۔ احتجاجی گرفتاری گورنمنٹ پر دباؤ ڈالنے کے لیے اچھا حربہ ہے۔ اس کام کے لیے پہلے سے ہی کچھ لوگوں کو تیار کرلینا چاہیے، جو وقت ضرورت کام آسکے۔ایڈوکیٹ پراچہ صاحب نے تحریک فروغ اسلام کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
"میں اب تک کئی تنظیموں سے وابستہ رہا ہوں لیکن وہاں کام کم پروپیگنڈہ زیادہ ہے لیکن تحریک فروغ اسلام اوروں سے بہت الگ ہے یہ تنظیم پروپیگنڈے میں نہیں کام میں یقین رکھتی ہے۔ اس لیے اس تحریک کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بعد میں پراچہ صاحب نے شرکا کے سوالوں کے قانونی جواب کا سیشن بھی کیا۔
۳؍ بجے پروگرام صلوٰۃ و سلام اور نبیرۂ صدر الشریعہ حضرت فیضان المصطفیٰ (امریکہ) کی دعا پر ختم ہوا۔پروگرام میں ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی، مولانا معزالدین عثمانی ازہری المعروف پیر خرم میاں ، مفتی منظم ازہری دہلی، مولانا قمر الزماں نوری، مولانا عمران ازہری صاحب دہلی ، مولانا فیضان احمد نعیمی دہلی، مولانا بلال احمد رضوی، مفتی راحت قادری بریلی شریف ، مولانا عطاء الرضا اسماعیلی صاحب، مولانا عارف مصباحی صاحب، مولانا قربان علی صاحب مفتی داؤد صاحب، مفتی عمران القادری صاحب، مولانا سلیم رضوی صاحب، مولانا آفتاب رضوی سورت،
مولانا اختر علی واجدالقادری ، مفتی فخر الدین حشمتی، مولانا شمس الہدی قادری، مولانا فہیم القادری، مفتی وسیم القادری، مولانا وسیم صاحب، مفتی شمیم نوری ، وغیرہ نےخصوصی طور پر شرکت کی۔
رپورٹ مرتبہ: زبیر قادری
صدر شعبہ نشر و اشاعت
تحریک فروغِ اسلام ،دہلی
https://www.facebook.com/297384300859344/posts/695975321000238/
"میں اب تک کئی تنظیموں سے وابستہ رہا ہوں لیکن وہاں کام کم پروپیگنڈہ زیادہ ہے لیکن تحریک فروغ اسلام اوروں سے بہت الگ ہے یہ تنظیم پروپیگنڈے میں نہیں کام میں یقین رکھتی ہے۔ اس لیے اس تحریک کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بعد میں پراچہ صاحب نے شرکا کے سوالوں کے قانونی جواب کا سیشن بھی کیا۔
۳؍ بجے پروگرام صلوٰۃ و سلام اور نبیرۂ صدر الشریعہ حضرت فیضان المصطفیٰ (امریکہ) کی دعا پر ختم ہوا۔پروگرام میں ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی، مولانا معزالدین عثمانی ازہری المعروف پیر خرم میاں ، مفتی منظم ازہری دہلی، مولانا قمر الزماں نوری، مولانا عمران ازہری صاحب دہلی ، مولانا فیضان احمد نعیمی دہلی، مولانا بلال احمد رضوی، مفتی راحت قادری بریلی شریف ، مولانا عطاء الرضا اسماعیلی صاحب، مولانا عارف مصباحی صاحب، مولانا قربان علی صاحب مفتی داؤد صاحب، مفتی عمران القادری صاحب، مولانا سلیم رضوی صاحب، مولانا آفتاب رضوی سورت،
مولانا اختر علی واجدالقادری ، مفتی فخر الدین حشمتی، مولانا شمس الہدی قادری، مولانا فہیم القادری، مفتی وسیم القادری، مولانا وسیم صاحب، مفتی شمیم نوری ، وغیرہ نےخصوصی طور پر شرکت کی۔
رپورٹ مرتبہ: زبیر قادری
صدر شعبہ نشر و اشاعت
تحریک فروغِ اسلام ،دہلی
https://www.facebook.com/297384300859344/posts/695975321000238/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*سرزمینِ خلدآباد میں جبۂ رسول ﷺ کی نکہتیں*
مشائخ چشتیہ کی ہند آمد ہوئی... یہاں کی فضا میں خوشگوار انقلاب آیا... سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جبۂ مبارکہ(پیرہن شریف) بھی ہند آیا... گلشنِ ہند میں بہاریں چھا گئیں...
سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ(اجمیر شریف) سے ہوتا ہوا جبہ شریف نظام الحق والدین حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمۃ(دہلی) تک پہنچا... آپ نے اپنے چہیتے خلیفہ حضرت خواجہ برہان الدین غریب علیہ الرحمۃ (خلدآباد) کو یہ عظیم نعمت عنایت کی... انھوں نے اپنے خلیفۂ خاص حضرت سید زین الدین داؤد حسین شیرازی المعروف بائیس خواجہ علیہ الرحمۃ(خلدآباد) کو جبہ شریف عطا فرمایا... چونکہ ٢٢ واسطوں سے جبہ شریف آپ تک پہنچا اس مناسبت سے آپ بائیسویں خواجہ کہلائے... آج بھی آستانۂ بائیس خواجہ سے متصل حجرۂ خاص میں جبۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بصد اکرام موجود ہے... جس کی زیارت ہر سال بارہ ربیع الاول شریف کی سہانی ساعتوں میں کرائی جاتی ہے... جب مُرادوں کی صبح طلوع ہوتی ہے اور نور کے باڑے بٹتے ہیں... تو دل و جاں کیف و سرور سے تازگی پاتے ہیں...اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت نے دل پذیر شعر کہا...
جس سُہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
الحمدللہ! احقر کو جبۂ مبارک کے شجرۂ مبارک کی ترتیب و تزئین کی سعادت ملی... جسے اقبال احمد وارثی کی فرمائش پر احمد شفیق پینٹر مالیگاؤں نے پتھر پر کندہ کیا.... اور سرزمینِ خلدآباد میں جبۂ مبارکہ کے حجرے سے متصل داہنی دیوار پر نصب کیا گیا....
نکہتوں کی اِس وادی میں حضرت سید زین الدین داؤد حسین شیرازی علیہ الرحمۃ کا مزار اقدس بھی ہے... اور اورنگ زیب عالمگیر شاہِ ہند کی تربت بھی.... متصل کشادہ دالان اور دل کش و کشادہ مسجد بھی ہے... جہاں ایمان کو تازگی اور روح کو قرار ملتا ہے....
جبۂ مبارکہ کے حجرے و شجرے کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں....
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
١١ ستمبر ٢٠٢٠ء
***
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4308220382586588&id=555248701217127
مشائخ چشتیہ کی ہند آمد ہوئی... یہاں کی فضا میں خوشگوار انقلاب آیا... سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا جبۂ مبارکہ(پیرہن شریف) بھی ہند آیا... گلشنِ ہند میں بہاریں چھا گئیں...
سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ(اجمیر شریف) سے ہوتا ہوا جبہ شریف نظام الحق والدین حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمۃ(دہلی) تک پہنچا... آپ نے اپنے چہیتے خلیفہ حضرت خواجہ برہان الدین غریب علیہ الرحمۃ (خلدآباد) کو یہ عظیم نعمت عنایت کی... انھوں نے اپنے خلیفۂ خاص حضرت سید زین الدین داؤد حسین شیرازی المعروف بائیس خواجہ علیہ الرحمۃ(خلدآباد) کو جبہ شریف عطا فرمایا... چونکہ ٢٢ واسطوں سے جبہ شریف آپ تک پہنچا اس مناسبت سے آپ بائیسویں خواجہ کہلائے... آج بھی آستانۂ بائیس خواجہ سے متصل حجرۂ خاص میں جبۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بصد اکرام موجود ہے... جس کی زیارت ہر سال بارہ ربیع الاول شریف کی سہانی ساعتوں میں کرائی جاتی ہے... جب مُرادوں کی صبح طلوع ہوتی ہے اور نور کے باڑے بٹتے ہیں... تو دل و جاں کیف و سرور سے تازگی پاتے ہیں...اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت نے دل پذیر شعر کہا...
جس سُہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
الحمدللہ! احقر کو جبۂ مبارک کے شجرۂ مبارک کی ترتیب و تزئین کی سعادت ملی... جسے اقبال احمد وارثی کی فرمائش پر احمد شفیق پینٹر مالیگاؤں نے پتھر پر کندہ کیا.... اور سرزمینِ خلدآباد میں جبۂ مبارکہ کے حجرے سے متصل داہنی دیوار پر نصب کیا گیا....
نکہتوں کی اِس وادی میں حضرت سید زین الدین داؤد حسین شیرازی علیہ الرحمۃ کا مزار اقدس بھی ہے... اور اورنگ زیب عالمگیر شاہِ ہند کی تربت بھی.... متصل کشادہ دالان اور دل کش و کشادہ مسجد بھی ہے... جہاں ایمان کو تازگی اور روح کو قرار ملتا ہے....
جبۂ مبارکہ کے حجرے و شجرے کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں....
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
١١ ستمبر ٢٠٢٠ء
***
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4308220382586588&id=555248701217127