۔ اتھروید میں اکثر وبیشتر منتر شیاطین دیوتا، جادو، بدفال، سحر، آسیب، علاج و معالجہ اور یونانی جڑی بوٹیوں سے متعلق ہیں ۔
*آچاریہ وشیشور (आचार्य विशेषवर) بیان کرتے ہیں :*
اتھروید کے آیورید کے متعلق سوکتوں میں انسانی جسم کے جملہ اعضا کا نام بنام ذکر کیا جاتا ہے ۔ جسم کی تخلیق کے بعد جسمانی امراض، بخار، موتی جھالا جیسے معمولی امراض سے لے کر کوڑھ جیسے خطرناک مریضوں کا بیان اتھروید میں ملتا ہے ۔
*(اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج اول، ص :424)*
*ویدوں میں تحریف:*
✴️ ویدوں کے مطالعہ اور اس کے متعلق ملی معلومات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اس میں بہت زیادہ رد و بدل کیا گیا ہے اور اسی تحریف کا نتیجہ ہے کہ آج رگ وید کے بہت سے منتر ہندو علما کے نزدیک بھی مشتبہ ہیں ۔ ذیل میں مختلف نسخوں کے منتروں کو ملاحظہ کریں اور اندازہ لگائیں کہ کس قدر اس میں تحریف کی گئی ہے :
*️⃣ انوواک انوکر منی کے مطابق رگ وید کے منتروں کی تعداد (10580)ہے
*️⃣ پنڈت دیانند کے مطابق (10589) ہے
*️⃣ سائن آچاریہ کے مطابق (10000) ہے
*️⃣ پنڈت شیو سنکر آریہ کے مطابق (10402)ہے
*️⃣ اور پنڈت جگن ناتھ کے مطابق (10452) ہے۔
*( بحوالہ : ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ)*
✴️ رگ وید کی طرح *اتھروید* بھی تحریفات سے پر ہے ۔ بلکہ پنڈت ویدک منی صاحب کے الفاظ میں : " حقیقت میں جس قدر بری حالت اس اتھروید کی ہوئی اتنی اور کسی وید کی نہیں ہوئی سائن آچاریہ کے بعد بھی کئ سوکت اس میں ملا دئے گئے ۔ *(سابق)*
✴️ دوسرے ویدوں کی بہ نسبت *سام وید* میں سب سے زیادہ تحریف ہوئ ہے ۔ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں :
*️⃣ اجمیر میں آریاؤں کے مطبوعہ سام وید میں منتروں کی تعداد 1824 ہے ۔
*️⃣ جیوانند ودیا ساگر کے مطبوعہ سام وید میں 1808 ہے ۔
*️⃣. پنڈت شیو شنکر کے حساب سے تعداد 1549 ہے
*️⃣ سوامی ہری جی پرشاد جی نے 65 منتر کا نیا سام وید شائع کیا ہے ۔( حوالہ باقی ہے )
✴️ دیگر ویدوں کی طرح *یجروید* بھی تحریف سے پاک نہیں ہے ۔ اس میں بھی کئ قسم کے تحریفات ملتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ہندوستان میں مختلف خطوں میں اس کے مختلف نسخے پائے جاتے ہیں جس میں کثرت سے اختلافات ہیں ۔ ذیل میں ملاحظہ کریں :
*️⃣ بمبئی والے یجروید میں 125 ادھیائے کے 47 منتر ہیں لیکن سوامی ویانند نے جو یجروید اجمیر سے چھپوایا ہے اس میں ایک منتر کا اضافہ ہے یعنی 48 منتر ہیں یہ ایک منتر بعد میں ملایا گیا ہے ۔
*️⃣ یجروید بھاشہ بھاشیہ ویانند ادھیائے 9 منتر 20 میں ایک لفظ *گمیات* ملایا گیا ہے ۔
*️⃣ سوامی ویانند کے نزدیک یجروید کے کل منتر کی تعداد 1975 ہے ۔
*️⃣ شیو شنکر کے نزدیک 987 ہے ۔
*(بحوالہ ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ ص :95)*
چاروں ویدوں میں جتنے اختلافات ہیں اس کا اندازہ لگانا یقیناً ممکن نہیں، ان میں اختلافات، رد و بدل اور ترمیم اس طرح اور اس قدر کی گئی ہیں کہ موجودہ چاروں وید مشتبہ ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت علمائے ہنود کے نزدیک بھی مسلمہ ہے کہ وید نہ تو تحریف اور اختلاف سے پاک ہے اور نہ ہی اس کی تعلیمات فطرت انسانی کے مطابق ہے ۔ وید میں کئ ایک ایسی تعلیم ہے جس سے انسانی اخلاقی اقدار پست ہوجاتا ہے ۔ *(سابق)*
*آچاریہ وشیشور (आचार्य विशेषवर) بیان کرتے ہیں :*
اتھروید کے آیورید کے متعلق سوکتوں میں انسانی جسم کے جملہ اعضا کا نام بنام ذکر کیا جاتا ہے ۔ جسم کی تخلیق کے بعد جسمانی امراض، بخار، موتی جھالا جیسے معمولی امراض سے لے کر کوڑھ جیسے خطرناک مریضوں کا بیان اتھروید میں ملتا ہے ۔
*(اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج اول، ص :424)*
*ویدوں میں تحریف:*
✴️ ویدوں کے مطالعہ اور اس کے متعلق ملی معلومات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اس میں بہت زیادہ رد و بدل کیا گیا ہے اور اسی تحریف کا نتیجہ ہے کہ آج رگ وید کے بہت سے منتر ہندو علما کے نزدیک بھی مشتبہ ہیں ۔ ذیل میں مختلف نسخوں کے منتروں کو ملاحظہ کریں اور اندازہ لگائیں کہ کس قدر اس میں تحریف کی گئی ہے :
*️⃣ انوواک انوکر منی کے مطابق رگ وید کے منتروں کی تعداد (10580)ہے
*️⃣ پنڈت دیانند کے مطابق (10589) ہے
*️⃣ سائن آچاریہ کے مطابق (10000) ہے
*️⃣ پنڈت شیو سنکر آریہ کے مطابق (10402)ہے
*️⃣ اور پنڈت جگن ناتھ کے مطابق (10452) ہے۔
*( بحوالہ : ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ)*
✴️ رگ وید کی طرح *اتھروید* بھی تحریفات سے پر ہے ۔ بلکہ پنڈت ویدک منی صاحب کے الفاظ میں : " حقیقت میں جس قدر بری حالت اس اتھروید کی ہوئی اتنی اور کسی وید کی نہیں ہوئی سائن آچاریہ کے بعد بھی کئ سوکت اس میں ملا دئے گئے ۔ *(سابق)*
✴️ دوسرے ویدوں کی بہ نسبت *سام وید* میں سب سے زیادہ تحریف ہوئ ہے ۔ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں :
*️⃣ اجمیر میں آریاؤں کے مطبوعہ سام وید میں منتروں کی تعداد 1824 ہے ۔
*️⃣ جیوانند ودیا ساگر کے مطبوعہ سام وید میں 1808 ہے ۔
*️⃣. پنڈت شیو شنکر کے حساب سے تعداد 1549 ہے
*️⃣ سوامی ہری جی پرشاد جی نے 65 منتر کا نیا سام وید شائع کیا ہے ۔( حوالہ باقی ہے )
✴️ دیگر ویدوں کی طرح *یجروید* بھی تحریف سے پاک نہیں ہے ۔ اس میں بھی کئ قسم کے تحریفات ملتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ہندوستان میں مختلف خطوں میں اس کے مختلف نسخے پائے جاتے ہیں جس میں کثرت سے اختلافات ہیں ۔ ذیل میں ملاحظہ کریں :
*️⃣ بمبئی والے یجروید میں 125 ادھیائے کے 47 منتر ہیں لیکن سوامی ویانند نے جو یجروید اجمیر سے چھپوایا ہے اس میں ایک منتر کا اضافہ ہے یعنی 48 منتر ہیں یہ ایک منتر بعد میں ملایا گیا ہے ۔
*️⃣ یجروید بھاشہ بھاشیہ ویانند ادھیائے 9 منتر 20 میں ایک لفظ *گمیات* ملایا گیا ہے ۔
*️⃣ سوامی ویانند کے نزدیک یجروید کے کل منتر کی تعداد 1975 ہے ۔
*️⃣ شیو شنکر کے نزدیک 987 ہے ۔
*(بحوالہ ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ ص :95)*
چاروں ویدوں میں جتنے اختلافات ہیں اس کا اندازہ لگانا یقیناً ممکن نہیں، ان میں اختلافات، رد و بدل اور ترمیم اس طرح اور اس قدر کی گئی ہیں کہ موجودہ چاروں وید مشتبہ ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت علمائے ہنود کے نزدیک بھی مسلمہ ہے کہ وید نہ تو تحریف اور اختلاف سے پاک ہے اور نہ ہی اس کی تعلیمات فطرت انسانی کے مطابق ہے ۔ وید میں کئ ایک ایسی تعلیم ہے جس سے انسانی اخلاقی اقدار پست ہوجاتا ہے ۔ *(سابق)*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 3 (عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے) وہ میرے ساتھ باتیں کر رہی تھی اور میرے دل میں عشق کی آگ جل رہی تھی۔ اس کی انگلیاں ظاہر ہوئیں تو وہ طلوع ہونے والے چاند کی طرح تھیں۔ اس کا چہرہ چاند…
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 4
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(وہ لڑکی واپس آتی ہے...)
اس لڑکی نے کہا اے نوجوان! میں کسی کام میں مشغول ہو گئی تھی، اس لیے تمھارے پاس دیر سے پہنچی۔ تم نے ضرور سوچا ہوگا کہ میں نے تمھارے ساتھ حیلہ بازی کی ہے۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالی آپ کا مرتبہ بلند کرے۔
پھر اس لڑکی نے ترازو منگوایا تو میں نے پیش کر دیا۔ اس نے سونے کی اشرفیاں تولنے کے لیے نکالیں اور پورا حساب و کتاب صاف کر دیا۔ پھر اس نے ایک کاغذ نکالا جس میں خریداری کا سامان لکھا ہوا تھا۔ میں نے تاجروں کا قرضہ اتارا اور ان سے سامان خرید کر اس کی ضروریات کو پورا کر دیا۔ اس میں مجھے بہت منافع بھی ہوا۔ اسی دوران میں محبت کی نگاہ سے اسے دیکھتا بھی رہا اور وہ بھی مجھے ایسی نظر سے دیکھتی تھی جیسے وہ میری نظر کو جان گئی ہو لیکن اس نے نفرت کا اظہار نہیں کیا۔ میں نے سوچا کہ اسے اپنے دل کا حال سنا دوں لیکن ہمت نہ ہوئی۔ پھر خریداری کا سامان جمع ہوا جس کی قیمت پچھلی بار سے بہت زیادہ تھی۔ اس نے وہ سامان لیا اور بغیر رقم ادا کیے سوار ہو کر چلی گئی!
میں نے اس بار بھی کچھ نہیں کہا اور اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں پوچھا۔ پھر جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی تو میں نے سوچا کہ یہ تو پچھلی رقم دے کر اس سے زیادہ کا مال لے گئی اور میں اس بار بھی بے وقوف بن گیا۔ اب میرے حالات یہ ہو گئے کہ بیچنے کو زمین ہی رہ گئی تھی۔ میں نے غریبی میں پورا مہینہ گزار دیا اور اپنے دل کو اس سے ملاقات کا دلاسہ دیتا رہا۔ جب تاجروں نے قرضے کی ادائیگی کا مطالبہ شروع کیا تو میں نے اپنی زمین بیچنے کا اعلان کر دیا اور بعض تاجروں نے سختی کی تو جو سونا چاندی پاس موجود تھا، انھیں دے دیا۔ اسی حالت میں بیٹھا تھا کہ پھر سے وہ لڑکی میرے پاس آئی جسے دیکھ کر میری ساری پریشانی کافور ہو گئی۔ اب کی بار بھی اس نے ترازو منگوایا اور سونے کی اشرفیاں تلوا دیں۔
(آگے آپ پڑھیں گے کہ یہ عاشق اپنے عشق کا اظہار کرتا ہے... جاری...)
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(وہ لڑکی واپس آتی ہے...)
اس لڑکی نے کہا اے نوجوان! میں کسی کام میں مشغول ہو گئی تھی، اس لیے تمھارے پاس دیر سے پہنچی۔ تم نے ضرور سوچا ہوگا کہ میں نے تمھارے ساتھ حیلہ بازی کی ہے۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالی آپ کا مرتبہ بلند کرے۔
پھر اس لڑکی نے ترازو منگوایا تو میں نے پیش کر دیا۔ اس نے سونے کی اشرفیاں تولنے کے لیے نکالیں اور پورا حساب و کتاب صاف کر دیا۔ پھر اس نے ایک کاغذ نکالا جس میں خریداری کا سامان لکھا ہوا تھا۔ میں نے تاجروں کا قرضہ اتارا اور ان سے سامان خرید کر اس کی ضروریات کو پورا کر دیا۔ اس میں مجھے بہت منافع بھی ہوا۔ اسی دوران میں محبت کی نگاہ سے اسے دیکھتا بھی رہا اور وہ بھی مجھے ایسی نظر سے دیکھتی تھی جیسے وہ میری نظر کو جان گئی ہو لیکن اس نے نفرت کا اظہار نہیں کیا۔ میں نے سوچا کہ اسے اپنے دل کا حال سنا دوں لیکن ہمت نہ ہوئی۔ پھر خریداری کا سامان جمع ہوا جس کی قیمت پچھلی بار سے بہت زیادہ تھی۔ اس نے وہ سامان لیا اور بغیر رقم ادا کیے سوار ہو کر چلی گئی!
میں نے اس بار بھی کچھ نہیں کہا اور اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں پوچھا۔ پھر جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی تو میں نے سوچا کہ یہ تو پچھلی رقم دے کر اس سے زیادہ کا مال لے گئی اور میں اس بار بھی بے وقوف بن گیا۔ اب میرے حالات یہ ہو گئے کہ بیچنے کو زمین ہی رہ گئی تھی۔ میں نے غریبی میں پورا مہینہ گزار دیا اور اپنے دل کو اس سے ملاقات کا دلاسہ دیتا رہا۔ جب تاجروں نے قرضے کی ادائیگی کا مطالبہ شروع کیا تو میں نے اپنی زمین بیچنے کا اعلان کر دیا اور بعض تاجروں نے سختی کی تو جو سونا چاندی پاس موجود تھا، انھیں دے دیا۔ اسی حالت میں بیٹھا تھا کہ پھر سے وہ لڑکی میرے پاس آئی جسے دیکھ کر میری ساری پریشانی کافور ہو گئی۔ اب کی بار بھی اس نے ترازو منگوایا اور سونے کی اشرفیاں تلوا دیں۔
(آگے آپ پڑھیں گے کہ یہ عاشق اپنے عشق کا اظہار کرتا ہے... جاری...)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
*سوال نمبر 234:*
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کے لیے لفظِ حضرت لکھنا کیسا ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کی موت چونکہ کفر پر ہوئی اس لیے ابو طالب کو حضرت ابو طالب کہنے کی اجازت نہیں ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ صحیحہ متوافرہ متظافرہ سے ابوطالب کا کفر پر مرنا اور دم واپسیں ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کار اصحابِ نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت، جس سے کسی سنی کو مجالِ دم زدن نہیں۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 661 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
فقیہِ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"ابوطالب کو حضرت ابو طالب کہنے کی اجازت نہیں، اس لیے کہ ان کی موت کفر پر ہوئی۔"
*(فتاوٰی فیض الرسول جلد 3 صفحہ 358 شبیر برادرز لاہور)*
شارحِ بخاری فقیہِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"ابوطالب کے ایمان اور عدمِ ایمان میں اختلاف ہے۔ بعض روایاتِ ضعیفہ کی بنا پر کچھ لوگ ابوطالب کو مسلمان کہتے ہیں، اگرچہ صحیح یہی ہے کہ ابو طالب ایمان سے محروم رہے۔ اس لیے جو ابو طالب کو مسلمان کہتا ہے، وہ خاطی ہے۔"
*(فتاوٰی شارح بخاری جلد دوم صفحہ 50 مکتبہ برکات المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کے لیے لفظِ حضرت لکھنا کیسا ہے ؟
*بسمہ تعالیٰ*
*الجواب بعون الملک الوھّاب*
*اللھم ھدایۃ الحق و الصواب*
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کی موت چونکہ کفر پر ہوئی اس لیے ابو طالب کو حضرت ابو طالب کہنے کی اجازت نہیں ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ صحیحہ متوافرہ متظافرہ سے ابوطالب کا کفر پر مرنا اور دم واپسیں ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کار اصحابِ نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت، جس سے کسی سنی کو مجالِ دم زدن نہیں۔"
*(فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 661 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
فقیہِ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"ابوطالب کو حضرت ابو طالب کہنے کی اجازت نہیں، اس لیے کہ ان کی موت کفر پر ہوئی۔"
*(فتاوٰی فیض الرسول جلد 3 صفحہ 358 شبیر برادرز لاہور)*
شارحِ بخاری فقیہِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"ابوطالب کے ایمان اور عدمِ ایمان میں اختلاف ہے۔ بعض روایاتِ ضعیفہ کی بنا پر کچھ لوگ ابوطالب کو مسلمان کہتے ہیں، اگرچہ صحیح یہی ہے کہ ابو طالب ایمان سے محروم رہے۔ اس لیے جو ابو طالب کو مسلمان کہتا ہے، وہ خاطی ہے۔"
*(فتاوٰی شارح بخاری جلد دوم صفحہ 50 مکتبہ برکات المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
03/09/2020
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحیح
*عبده محمد عطاء الله النعيمي خادم الحديث والافتاء بجامعة النور، جمعة اشاعة اهل السنة (باكستان) كراتشي*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸
انار میں ایک دانہ جنتی ہوتا ہے
انار کے بارے مىں ىہ بات مشہور ہے کہ ہرانار میں اىک دانہ جنتى ہوتا ہے چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا حمىد بن جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اپنے والد سے نقل کرتے ہىں کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بِن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا انار کا ایک ایک دانہ تناول فرماتے یعنى کھالیتے تھے ، کسى نے اِس کى وجہ دَریافت کى تو فرماىا : مجھے خبر ملى ہے کہ زمین مىں کوئى بھى انار کا دَرخت ایسا نہىں ہےکہ جسے باردار (ىعنى پھل کے قابل )کرنے کے لىے اس مىں جنتى انار سے دانہ نہ ڈالا جاتا ہوتو ہو سکتا ہے یہ وہى دانہ ہو۔ ([4])یعنى انارکے پورے دَرخت کو پھل دار بنانے کے لىے اس میں ایک دانہ جنتی انار کا ڈالا جاتا ہے اس لیے حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بِن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا انار کا ایک ایک دانہ کھا لیتے تھے کہ شاىد وہی جنتی دانہ اس انار مىں ہو اور مجھے نصىب ہو جائے۔
حلیة الاولیاء ، عبد الله بن عباس ، ۱ / ۳۹۸ ، حدیث : ۱۱۳۹ دار الکتب العلمیة بیروت-اللہ والوں کی باتیں ، ۱ / ۵۶۶ تا۵۶۷مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
معجم الکبیر 10/ 263،
[عن [جعفر بن عبدالله بن الحكم]:] عن ابنِ عباسٍ أنه كان يأخذُ الحبةَ من الرمانِ فيأكلُها قيل له يا ابنَ عباسٍ لم تفعلُ هذا قال إنه بلغني أنه ليس في الأرضِ رمانةٌ تلقحُ إلا بحبةٍ من حبِّ الجنةِ فلعلَّها هذه
الهيثمي (ت ٨٠٧)، مجمع الزوائد ٥/٤٨ • *رجاله رجال الصحيح*
٢- عن ابنِ عبّاسٍ أنَّهُ كانَ يأخذُ الحبَّةَ مِن الرُّمّانِ فيأكلُها، فقيلَ لهُ: لِمَ تفعلُ هذا؟ قالَ: بلغَني أنَّهُ لَيسَ في الأرضِ رُمّانةٌ تُلَقَّحُ إلّا بحَبَّةٍ مِن حبَّ الجنَّةِ فلعلَّها هذهِ
السيوطي (ت ٩١١)، البدور السافرة ٤١٩ • *إسناده صحيح*
مرتب
بلال مصباحی
انار کے بارے مىں ىہ بات مشہور ہے کہ ہرانار میں اىک دانہ جنتى ہوتا ہے چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا حمىد بن جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اپنے والد سے نقل کرتے ہىں کہ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بِن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا انار کا ایک ایک دانہ تناول فرماتے یعنى کھالیتے تھے ، کسى نے اِس کى وجہ دَریافت کى تو فرماىا : مجھے خبر ملى ہے کہ زمین مىں کوئى بھى انار کا دَرخت ایسا نہىں ہےکہ جسے باردار (ىعنى پھل کے قابل )کرنے کے لىے اس مىں جنتى انار سے دانہ نہ ڈالا جاتا ہوتو ہو سکتا ہے یہ وہى دانہ ہو۔ ([4])یعنى انارکے پورے دَرخت کو پھل دار بنانے کے لىے اس میں ایک دانہ جنتی انار کا ڈالا جاتا ہے اس لیے حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بِن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا انار کا ایک ایک دانہ کھا لیتے تھے کہ شاىد وہی جنتی دانہ اس انار مىں ہو اور مجھے نصىب ہو جائے۔
حلیة الاولیاء ، عبد الله بن عباس ، ۱ / ۳۹۸ ، حدیث : ۱۱۳۹ دار الکتب العلمیة بیروت-اللہ والوں کی باتیں ، ۱ / ۵۶۶ تا۵۶۷مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
معجم الکبیر 10/ 263،
[عن [جعفر بن عبدالله بن الحكم]:] عن ابنِ عباسٍ أنه كان يأخذُ الحبةَ من الرمانِ فيأكلُها قيل له يا ابنَ عباسٍ لم تفعلُ هذا قال إنه بلغني أنه ليس في الأرضِ رمانةٌ تلقحُ إلا بحبةٍ من حبِّ الجنةِ فلعلَّها هذه
الهيثمي (ت ٨٠٧)، مجمع الزوائد ٥/٤٨ • *رجاله رجال الصحيح*
٢- عن ابنِ عبّاسٍ أنَّهُ كانَ يأخذُ الحبَّةَ مِن الرُّمّانِ فيأكلُها، فقيلَ لهُ: لِمَ تفعلُ هذا؟ قالَ: بلغَني أنَّهُ لَيسَ في الأرضِ رُمّانةٌ تُلَقَّحُ إلّا بحَبَّةٍ مِن حبَّ الجنَّةِ فلعلَّها هذهِ
السيوطي (ت ٩١١)، البدور السافرة ٤١٩ • *إسناده صحيح*
مرتب
بلال مصباحی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کووڈ 19 کرونا وائرس کی بنا پر براؤں شریف میں عرس حضور شعیب الاولیاء عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ و جلسہ دستار فضیلت نہ منانے کا فیصلہ !
✍ غلام عبد القادر علوی
✍ محمد آصف علوی ازہری
✍ غلام عبد القادر علوی
✍ محمد آصف علوی ازہری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Abde Mustafa Organisation
حضرتِ ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق (پارٹ 7) حضرتِ ایوب علیہ السلام کی بیماری کے قصے کے متعلق امام ابن ابی حاتم، امام ابن جریر، امام ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ حضرتِ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت کی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام…
حضرتِ ایوب علیہ السلام کے واقعے پر تحقیق
(پارٹ 8)
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ کُلًّا ہَدَیۡنَا ۚ وَ نُوۡحًا ہَدَیۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡسُفَ وَ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ
وَ زَکَرِیَّا وَ یَحۡیٰی وَ عِیۡسٰی وَ اِلۡیَاسَ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ
وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ الۡیَسَعَ وَ یُوۡنُسَ وَ لُوۡطًا ؕ وَ کُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ (الانعام: 84 تا 86)
"اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور ہم نے سب کو ہدایت دی اور اس سے پہلے ہم نے نوح کو ہدایت دی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو ہدایت دی اور ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس (سب کو ہدایت دی اور) یہ سب صالحین میں سے ہیں اور اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو ہدایت دی اور ہم نے ان سب کو تمام جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی"
آل عمران کی آیات میں اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان کو چن لیا یعنی پسند اور منتخب کر لیا اور جو اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور پیارا ہو اس کے بارے میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہےکہ وہ سات سال تک کوڑے کچرے میں پڑا رہا؟
سورۃ الانعام کی آیات میں حضرت ایوب علیہ السلام سمیت دیگر انبیاء کے لیے فرمایا کہ ہم نے انھیں تمام جہان والوں پر فضیلت دی ہے تو کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے جہان والوں پر فضیلت دی ہو وہ سات 7 سال تک کوڑے کچڑے میں پڑھا رہے؟
(معاذاللہ)
جاری ہے......
عبد مصطفیٰ
(پارٹ 8)
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ کُلًّا ہَدَیۡنَا ۚ وَ نُوۡحًا ہَدَیۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡسُفَ وَ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ
وَ زَکَرِیَّا وَ یَحۡیٰی وَ عِیۡسٰی وَ اِلۡیَاسَ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ
وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ الۡیَسَعَ وَ یُوۡنُسَ وَ لُوۡطًا ؕ وَ کُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ (الانعام: 84 تا 86)
"اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور ہم نے سب کو ہدایت دی اور اس سے پہلے ہم نے نوح کو ہدایت دی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو ہدایت دی اور ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس (سب کو ہدایت دی اور) یہ سب صالحین میں سے ہیں اور اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو ہدایت دی اور ہم نے ان سب کو تمام جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی"
آل عمران کی آیات میں اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان کو چن لیا یعنی پسند اور منتخب کر لیا اور جو اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور پیارا ہو اس کے بارے میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہےکہ وہ سات سال تک کوڑے کچرے میں پڑا رہا؟
سورۃ الانعام کی آیات میں حضرت ایوب علیہ السلام سمیت دیگر انبیاء کے لیے فرمایا کہ ہم نے انھیں تمام جہان والوں پر فضیلت دی ہے تو کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے جہان والوں پر فضیلت دی ہو وہ سات 7 سال تک کوڑے کچڑے میں پڑھا رہے؟
(معاذاللہ)
جاری ہے......
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
عشق کا سفر
حضرت سرّی سقطی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالیٰ کو ایک پرچہ دیا اور کہا کہ یہ تمھارے لیے 700 قصّوں یا بلند پایہ باتوں سے بہتر ہے۔
اس پرچے میں لکھا تھا :
ولما ادعیت الحب قالت کذبتنی
فما لی اری الأعضاء منک کواسیا
فما الحب حتی یلصق القلب بالحشا
و تذبل حتی لا تجیب المنادیا
و تنحل حتی لا یبقی لک الھوی
سوی مقلۃ تبکی بھا و تناجیا
"یعنی جب میں نے محبت کا دعویٰ کیا تو محبوبہ نے کہا کہ تو نے مجھ سے جھوٹ کہا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو تیرے اعضاء (Body Parts) اسے چھپا نہیں سکتے،
محبت میں تو دل انتڑیوں کے ساتھ چپک جاتا ہے اور اتنا مرجھا جاتا ہے کہ پکارنے والے کو جواب تک نہیں دے سکتا۔
اور تو اس قدر کمزور ہو جائے کہ محبت تیری آنکھوں کے سوا کچھ نہ چھوڑے اور اسی سے روئے اور اسی کے ذریعے بات کرے"
(رسالہ قشیریہ، ص554)
حقیقی محبت انسان کو حقیقت کا نظارہ کرواتی ہے۔
اس کے لیے خود کو عشق کی آگ میں جلانا پڑتا ہے۔
یہ سفر سخت ہے پر اسے طے کرنے والے جو مناظر دیکھتے ہیں اس کی لذّت وہی جانتے ہیں۔
عبد مصطفیٰ
حضرت سرّی سقطی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالیٰ کو ایک پرچہ دیا اور کہا کہ یہ تمھارے لیے 700 قصّوں یا بلند پایہ باتوں سے بہتر ہے۔
اس پرچے میں لکھا تھا :
ولما ادعیت الحب قالت کذبتنی
فما لی اری الأعضاء منک کواسیا
فما الحب حتی یلصق القلب بالحشا
و تذبل حتی لا تجیب المنادیا
و تنحل حتی لا یبقی لک الھوی
سوی مقلۃ تبکی بھا و تناجیا
"یعنی جب میں نے محبت کا دعویٰ کیا تو محبوبہ نے کہا کہ تو نے مجھ سے جھوٹ کہا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو تیرے اعضاء (Body Parts) اسے چھپا نہیں سکتے،
محبت میں تو دل انتڑیوں کے ساتھ چپک جاتا ہے اور اتنا مرجھا جاتا ہے کہ پکارنے والے کو جواب تک نہیں دے سکتا۔
اور تو اس قدر کمزور ہو جائے کہ محبت تیری آنکھوں کے سوا کچھ نہ چھوڑے اور اسی سے روئے اور اسی کے ذریعے بات کرے"
(رسالہ قشیریہ، ص554)
حقیقی محبت انسان کو حقیقت کا نظارہ کرواتی ہے۔
اس کے لیے خود کو عشق کی آگ میں جلانا پڑتا ہے۔
یہ سفر سخت ہے پر اسے طے کرنے والے جو مناظر دیکھتے ہیں اس کی لذّت وہی جانتے ہیں۔
عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 4 (عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے) (وہ لڑکی واپس آتی ہے...) اس لڑکی نے کہا اے نوجوان! میں کسی کام میں مشغول ہو گئی تھی، اس لیے تمھارے پاس دیر سے پہنچی۔ تم نے ضرور سوچا ہوگا کہ میں…
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 5
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(اس لڑکی نے حساب کتاب کیا...)
پھر ایک فہرست نکالی جس میں پچھلی بار سے بہت زیادہ سامان کا آرڈر تھا۔ میں پھر سے سامان جمع کرنے میں مصروف ہو گیا۔ میں نے اسی درمیان اس سے باتیں بھی کیں۔ اس لڑکی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ کی کوئی بیوی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم! میں تو کسی عورت کو پہچانتا بھی نہیں۔
اس کے سوال پر میری خواہش اور بڑھ گئی اور میں نے سوچا کہ یہی وقت ہے اپنے دل کی بات کہنے کا، اگر اب بھی خاموش رہا تو یہ محرومی کی بات ہوگی، پتا نہیں پھر آئے گی یا نہیں۔
میں نے کہنے کا ارادہ کیا لیکن خوف سے کچھ نہ کَہ سکا اور یہ دکھانے کے لیے کھڑا ہو گیا کہ میں تاجروں کو سامان جمع کرنے کی تاکید کر رہا ہوں۔ اس دوران میں نے اس لڑکی کے خادم کا ہاتھ پکڑا اور اس کو کچھ اشرفیاں دیں اور اس کو کہا کہ تم یہ لے لو اور میرا ایک کام کر دو۔ اس نے کہا کہ میں آپ کا کام آپ کی محبت کی خاطر ضرور کروں گا تو میں نے اس کے سامنے اپنا سارا معاملہ بیان کر دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ تم میرے اور اس کے درمیان رابطہ کرا دو تو وہ ہنسنے لگا اور کہا کہ جتنا آپ اس کو چاہتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ تم سے عشق کرتی ہے۔ اللہ کی قسم! وہ تم سے اتنا مال اس لیے خریدتی ہے کہ تمھیں دولت مند کر دے۔ آپ خود اس سے صاف صاف طریقے سے بات کر لیں اور مجھے چھوڑ دیں۔
اس خادم کی بات سن کر تو میرے اندر ہمت آ گئی اور میں نے اس لڑکی سے گفتگو کی اور اپنے دل اور اپنے عشق کا مکمل حال کَہ سنایا اور رونے لگا تو وہ ہنس پڑی اور بہت اچھے انداز میں سراہا اور کہا کہ میرا خادم آپ کے پاس میرا پیغام لے کر آئے گا پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور بغیر کچھ سامان خریدے چل گئی۔ میں نے سارا سامان تاجروں کو واپس کیا اور مجھے بہت زیادہ منافع ہوا مگر اس کے شوق اور رابطہ کے منقطع ہونے کی وجہ سے نیند نہیں آئی۔
(آگے آپ پڑھیں گے کہ لڑکی کا خادم کیا پیغام لاتا ہے... جاری...)
عبد مصطفی
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)
(اس لڑکی نے حساب کتاب کیا...)
پھر ایک فہرست نکالی جس میں پچھلی بار سے بہت زیادہ سامان کا آرڈر تھا۔ میں پھر سے سامان جمع کرنے میں مصروف ہو گیا۔ میں نے اسی درمیان اس سے باتیں بھی کیں۔ اس لڑکی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ کی کوئی بیوی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم! میں تو کسی عورت کو پہچانتا بھی نہیں۔
اس کے سوال پر میری خواہش اور بڑھ گئی اور میں نے سوچا کہ یہی وقت ہے اپنے دل کی بات کہنے کا، اگر اب بھی خاموش رہا تو یہ محرومی کی بات ہوگی، پتا نہیں پھر آئے گی یا نہیں۔
میں نے کہنے کا ارادہ کیا لیکن خوف سے کچھ نہ کَہ سکا اور یہ دکھانے کے لیے کھڑا ہو گیا کہ میں تاجروں کو سامان جمع کرنے کی تاکید کر رہا ہوں۔ اس دوران میں نے اس لڑکی کے خادم کا ہاتھ پکڑا اور اس کو کچھ اشرفیاں دیں اور اس کو کہا کہ تم یہ لے لو اور میرا ایک کام کر دو۔ اس نے کہا کہ میں آپ کا کام آپ کی محبت کی خاطر ضرور کروں گا تو میں نے اس کے سامنے اپنا سارا معاملہ بیان کر دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ تم میرے اور اس کے درمیان رابطہ کرا دو تو وہ ہنسنے لگا اور کہا کہ جتنا آپ اس کو چاہتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ تم سے عشق کرتی ہے۔ اللہ کی قسم! وہ تم سے اتنا مال اس لیے خریدتی ہے کہ تمھیں دولت مند کر دے۔ آپ خود اس سے صاف صاف طریقے سے بات کر لیں اور مجھے چھوڑ دیں۔
اس خادم کی بات سن کر تو میرے اندر ہمت آ گئی اور میں نے اس لڑکی سے گفتگو کی اور اپنے دل اور اپنے عشق کا مکمل حال کَہ سنایا اور رونے لگا تو وہ ہنس پڑی اور بہت اچھے انداز میں سراہا اور کہا کہ میرا خادم آپ کے پاس میرا پیغام لے کر آئے گا پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور بغیر کچھ سامان خریدے چل گئی۔ میں نے سارا سامان تاجروں کو واپس کیا اور مجھے بہت زیادہ منافع ہوا مگر اس کے شوق اور رابطہ کے منقطع ہونے کی وجہ سے نیند نہیں آئی۔
(آگے آپ پڑھیں گے کہ لڑکی کا خادم کیا پیغام لاتا ہے... جاری...)
عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
غیبت
حضور ضیاءالملت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، علامہ ضیاءالدین مہاجر مدنی علیہ الرحمہ کی مجلس میں کوئی غیبت نہ کرسکتا تھا۔ اگر کوئی جرات کرتا تو آپ بلند آواز سے درود شریف پڑھنے لگتے اور کسی نہ کسی طرح اس کو غیبت سے روک دیتے۔ ہماری محفلوں میں غیبت کا رواج ہے،
اپنوں کی غیبتیں
غیروں کی غیبتیں
محسنوں کی غیبتیں
بزرگوں کی غیبتیں
گویا غیبت اوڑھنا بچھونا ہوگیا!
خود بگڑتے ہیں، دوسروں کو بگاڑتے ہیں!
حضرت ضیاءالملت علیہ الرحمہ کا دامن عصمت غیبت سے بالکل پاک تھا،
نہ غیبت سنتے نہ غیبت کرتے،
وہ ملتے بھی تھے ملاتے بھی تھے،
ہم اپنوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور دور کرتے چلے جلاتے ہیں۔
(خلفائے محدثِ بریلوی از ماہر رضویات مسعود ملت ڈاکٹر مسعود احمد نقشبندی مجددی رحمة اللہ علیہ)
ایک ہم ہیں جن کی کوئی مجلس بغیر غیبت کے نہیں ہوتی!
جب کبھی چار لوگ ملے غیبت سننے سنانے کا بازار گرم اور محسوس تک نہیں کرتے کہ ہم کتنی آسانی سے دوزخ کا سامان اکٹھا کررہے ہیں۔ کاش ہمیں فکر آخرت نصیب ہوجائے۔ کچھ کہنے سننے سے پہلے ذرا سوچیں کہ کیا کہ سن رہے ہیں،
یہ کہنا سننا اللہ پاک کی نافرمانی کا باعث تو نہیں؟
عبد مصطفی
تراب الحق قادری
حضور ضیاءالملت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، علامہ ضیاءالدین مہاجر مدنی علیہ الرحمہ کی مجلس میں کوئی غیبت نہ کرسکتا تھا۔ اگر کوئی جرات کرتا تو آپ بلند آواز سے درود شریف پڑھنے لگتے اور کسی نہ کسی طرح اس کو غیبت سے روک دیتے۔ ہماری محفلوں میں غیبت کا رواج ہے،
اپنوں کی غیبتیں
غیروں کی غیبتیں
محسنوں کی غیبتیں
بزرگوں کی غیبتیں
گویا غیبت اوڑھنا بچھونا ہوگیا!
خود بگڑتے ہیں، دوسروں کو بگاڑتے ہیں!
حضرت ضیاءالملت علیہ الرحمہ کا دامن عصمت غیبت سے بالکل پاک تھا،
نہ غیبت سنتے نہ غیبت کرتے،
وہ ملتے بھی تھے ملاتے بھی تھے،
ہم اپنوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور دور کرتے چلے جلاتے ہیں۔
(خلفائے محدثِ بریلوی از ماہر رضویات مسعود ملت ڈاکٹر مسعود احمد نقشبندی مجددی رحمة اللہ علیہ)
ایک ہم ہیں جن کی کوئی مجلس بغیر غیبت کے نہیں ہوتی!
جب کبھی چار لوگ ملے غیبت سننے سنانے کا بازار گرم اور محسوس تک نہیں کرتے کہ ہم کتنی آسانی سے دوزخ کا سامان اکٹھا کررہے ہیں۔ کاش ہمیں فکر آخرت نصیب ہوجائے۔ کچھ کہنے سننے سے پہلے ذرا سوچیں کہ کیا کہ سن رہے ہیں،
یہ کہنا سننا اللہ پاک کی نافرمانی کا باعث تو نہیں؟
عبد مصطفی
تراب الحق قادری
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حدیث قسطنطنیہ اور یزید پلید حدیث قسطنطنیه اور تحقیقات حدیث قسطنطنیہ اور یزید پلید حدیث قسطنطنیه اور یزید پلید یزید کو امیر المؤمنین کہنے پر عظمت اہل بیت ابو بکر کی نظر حضور کا خطبہ کے دوران حسنین امام حسن کے لئے بشارت نبوی شہادت حضرت امام حسین امام حسن کو…
بعد وصال امام حسن کی تمنا
امام حسن کو زہر کس نے دیا
ماہ محرم میں تاریخی نکاح
امام حسین کی شہادت کا بدلہ
قاتلین امام حسین کا انجام
خولی بن یزید کو قتل کے بعد
ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل
ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل
قاتل حسین جل کر کوئلہ بن گیا
اہل بیت پر لعنت کرنے والے کا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜 ⁸
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی
امام حسن کو زہر کس نے دیا
ماہ محرم میں تاریخی نکاح
امام حسین کی شہادت کا بدلہ
قاتلین امام حسین کا انجام
خولی بن یزید کو قتل کے بعد
ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل
ابن سعد اور اس کے بیٹے کا قتل
قاتل حسین جل کر کوئلہ بن گیا
اہل بیت پر لعنت کرنے والے کا
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
موضوع 📜 #محرم_الحرام 📜 ⁸
✍ #ڈاکٹر_غلام_مرسلین_رضوی