🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ڈپٹی نذیر کا ترجمہ*

امام اہل سنت سے سوال ہوا کہ
مسئلہ ۳۴۷: از جوناگڑھ محلہ کتیانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمد حسین ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ نذیر احمد بی، اے، ایل، ایم، کاترجمہ صحیح ہے یاغلط؟ اور لڑکوں کو مدرسہ میں اس کا ترجمہ پڑھانا جائز ہے یا ناجائز؟

الجواب : نذیر احمدکا نہ ترجمہ صحیح ہے نہ ایمان، وہ شخص منکرخدا تھا، جیسے اس نے اور کتابیں نصرانیت ونیچریت آمیز لکھیں جن سے مال کمانا مقصود تھا ویسے ہی یہ ترجمہ بھی کردیا گیا اس سے بھی داموں ہی کی غرض تھی ورنہ جو شخص ﷲ ہی کونہ مانتا ہو وہ قرآن کے ترجمہ کو کیا جانے گا۔ اس کا ترجمہ ہرگز نہ پڑھایا جائے، وﷲ تعالی اعلم

(فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 701 اپلیکیشن )

ابو الحسن
https://www.facebook.com/100008080090753/posts/2803713813241261/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید خان رحمہ اللہ نے جب دیکھا کہ فرانس میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کے لئے ٹھیٹر کا اعلان کیا اور فرانس کے اخبارات میں بھی اسکے اشتہارات دئے جب سلطان نے یہ پڑھا تو بہت غصے میں آگئے ۔ اپنا جنگی لباس اور تلوار نکالی اور حرمت رسول ﷺ کے لئے اپنی جان اور خلافت تک کو رسول اللہ ﷺ کی شان پر قربان کرنے کا ارادہ کرلیا فرانسی سفیر کو طلب کیا اور تاریخی الفاظ کہے کہ تم میرے بارے میں جو کچھ لکھتے ہو یا جو کچھ لکھو مجھے کوئی پروا نہیں لیکن میں اپنے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اپنی حکومت کو کہو جنگ کے لئے تیار ہو جائے اور فرانسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا۔اس وقت تک فرانس بہت بڑی طاقت بن چکا تھا لیکن جزبہ ایمان کے سامنے اسکو گھٹنے ٹیکنے پڑھے اور تھیٹر منسوخ کرنا پڑا آج باون اسلامی ممالک ہیں فرانسی اخبار نے 2006۔ 2011 اور 2020 میں رسول ﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکے شائع کئے لیکن کوئی ہمارا مسمان ملک کچھ نہی کر سکا کل قیامت کے دن حضور ﷺ کو کیا منہ دیکھائیں گئے صرف ایمان کی سب سے کمزور حالت ہی باون اسلامی ممالک فرانس کا بائیکاٹ کریں اور اسکے سفیر کو ملک بدر کردیں تو انکے باپ کی جرت نہی دوبارہ ایسا۔ کرسکیں
سلطان نے جرمنی کے ساتھ ریلوے لائن کا معاہدہ کیا تھا ، تو ایک شرط یہ بھی رکھی تھی:
" جب کاریگر کام کرتے ہوئے مدینہ پاک سے بیس کلو میٹر دور رہ جائیں گے تو اپنے ہتھوڑوں پر کپڑا باندھ لیں گے "

( تاکہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک شہر میں شور کی آوازیں نہ آئیں )
اللہ اللہ ، کیسے مودب تھے وہ لوگ۔
خلافت عثمانیہ کے 34ویں خلیفہ عبدالحمید ثانی اپنے وقت کے بہت بڑے شاعر اور عاشق رسولﷺ گزرے ہیں...

آپ کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین سروس شروع کی گئی....
آج بھی وہ ریلوے لائن مدینہ شریف میں بچھی ھوئی ھے۔ اور ترکی ریلوےاسٹیشن کے نام سے مشہور ھے....
اُس زمانے میں ٹرین کا انجن کوئلہ کا ھوا کرتا تھا، مکمل تیاریاں ھونے کے بعد مدینہ شریف میں ترکی اسٹیشن پر سلطان عبدالحمید ثانی کو اوپنگ (افتتاح) کے لیے بلایا گیا تو سلطان نے دیکھا۔
کہ کوئلہ والا انجن بھڑ بھڑ آوازیں نکال رہا ھے۔ تو
سلطان عبدالحمید غضبناک ھوگئے۔ اور کچرا اٹھا کر انجن
کو مارنا شروع کر دیا۔
اور کہا۔
حضور ﷺ کے شہر میں اتنی تیز آواز تیری....؟

*ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک تر*
*نفس گم کردہ می آید جنیدؓ و بایزیدؓ اینجا*

تقریباؔؔ 100 سال کا عرصہ ھونے کو آیا،
اس وقت جو انجن بند ھوا تھا۔
وہ آج بھی ایسے ھی مدینہ شریف میں رکھا ھوا ھے.
جو ترکی اسٹیشن سے مشہور ھے،
اس قدر ادب کہ وہ انجن کی بلند آواز کو بھی شہرِ رسولﷺ میں پسند نہیں کرتے تھے تو سوچو
وہ اپنے محبوب سے کس قدر محبت فرماتے ھوں گے..!!

یہ عشق تھا۔ یہ ادب تھا۔ جو ان کے سینوں میں موجزن تھا،
اللہ تعالی ہمیں بھی ایسا عشق و ادب اور شہر رسولﷺ کی باادب حاضری نصیب کرے..۔۔۔۔
امین یا رب العالمین

منقول
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک دیوبندی شُبہہ کاجواب:

تحریر : میثم عباس قادری رضوی

کچھ دن قبل ایک شریرساجدخان دیوبندی کے پیج کی پوسٹ دیکھی،جس میں اس نے دعوت اسلامی کے امیرمولاناالیاس قادری صاحب پراس وجہ سے اعتراض کیاتھاکہ ان کے سامنے دورانِ خطاب بُلٹ پروف شیشہ لگاہوتاہے۔اس پوسٹ سے اس کامقصدیہ تھاکہ امیردعوت اسلامی کوموت سے ڈرلگتاہے۔اس شریرکایہ اعتراض ان علماءِ اہلِ سنت پربھی وارد ہوتاہے جواپنے ساتھ مسلح گارڈ رکھتے ہیں۔وقت کی شدیدقلت ہے لیکن مناسب سمجھاکہ مختصرا اس دیوبندی خباثت کاجواب علاج بالمثل کاطریقہ اختیارکرتے ہوئےدیوبندی فرقہ کی کتاب سے ہی پیش کردوں تاکہ سادہ لوح عوام اس کی شیطنت سے واقف ہوسکیں۔
اب جواب کی طرف آئیے۔بات کچھ یوں ہے کہ دیوبندی فرقہ کے بڑے مفتی رشیداحمدلدھیانوی،کراچوی(جوکچھ عرصہ قبل آنجہانی ہوئے ہیں)ہرجگہ مسلح گارڈوں کے گھیرے میں ہوتے تھے،یہ گھیرااِتناسخت ہوتاکہ عام آدمی مفتی صاحب سے مل نہیں سکتاتھا۔حتی کہ ان کی مزعومہ مسجدکےمنبرپربھی مسلح باڈی گارڈکھڑے ہوتے۔حفاظتی پہرے کے اس خاص اہتمام کی وجہ سے ان پرکچھ اعتراضات بھی ہوئے،جن کامفصل جواب ان کے دارالافتاء کے نائب مفتی عبدالرحیم دیوبندی نے تحریرکیا،یہ جواب "احسن الفتاوی"جلد6میں شامل ہے۔اس کے علاوہ یہ جواب"مسلح پہرہ اورتوکل"کے نام سے الگ بھی شائع ہوا۔اس جوابی تحریر کے چنداقتباسات ملاحظہ کریں۔جن میں ساجدخان دیوبندی کی فضول بَک بَک کاجواب موجودہے۔بہرحال معترض معاندساجدخان دیوبندی کو چاہیے کہ اس طرح کی ایک پوسٹ مفتی رشیداحمدلدھیانوی دیوبندی کی بُزدلی کی بابت بھی کردے تاکہ معلوم ہوکہ آپ اپنے پرائے کافرق روانہیں رکھتے،لیکن کہے دیتاہوں ایسانہیں ہوگا۔
اس دیوبندی اعتراض سے ایک بارپھریہ بات ثابت ہوگئی کہ دیوبندیوں کی طرف سے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرعمل کادعویٰ صرف زبانی جمع خرچ ہے وگرنہ اگریہ عاملِ سنت ہونے کے دعویٰ میں سچے ہوتے توکبھی بھی(حفاظتی پہرہ داری کی)سنت کے عامل پربُزدل ہونے کاطعنہ نہ دیتے۔
نوٹ:اس پوسٹ کوسرقہ نہ کیاجائے بلکہ من وعن شیئرکیاجائے۔
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سوال نمبر 6
*📚📚ہندو دھرم کی کتاب ویدوں پر قدرے روشنی:📚📚*
✍️ *تحریر از :*
*محمد رضوان احمد مصباحی*
*ٹھاکر گنج ، کشن گنج ، بہار۔*
*مقیم حال : جھاپا ، نیپال*

اسلام، یہودی یا عیسائی اور نصرانی مذاہب کی طرح ہندو مذہب کی کوئی ایک کتاب نہیں ہے بلکہ ان کے مذہبی اعمال و عقائد اور اور روایات پر مشتمل مختلف کتابیں ہیں جیسے :
*وید، شاستر، رامائن، مہا بھارت اور گیتا وغیرہ۔* بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے لیکن *"وید"* کو ان تمام کتابوں پر اولین اور بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔

*وید کا لغوی معنی:*

وید یہ سنسکرت کا لفظ ہے جس کا مصدر *ود، विद* ہے اور اس کا معنی ہے گیان یعنی جاننا، سوچنا، غور و فکر کرنا، علم۔

*وید کی اصطلاحی تعریف:*

قدیم ہندو اقوام کے تصورات، عقائد، اعمال، رسومات، روایات اور دیگر واقعات زمانہ کے متعلق منظوم و منثور کلام کے مجموعے کا نام وید ہے ۔
*(اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج: 01، ص: 412 ، تصنیف از : ڈاکٹر احمد نعیمی صاحب، جامعہ ہمدرد یونیورسٹی)*

*وید کتنے ہیں؟*

اس بارے میں مختلف اقوال ہیں مگر درست قول یہ ہے کہ "وید" ابتدا میں ایک ہی تھا جس میں ایک لاکھ منتر تھے پھر اس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا بعد میں پھر مختلف ادوار میں اس کی تقسیم ہوتی رہی ۔
*چنانچہ منشی سورج نارائن مہر اپنی انپشد کی تشریح میں لکھتے ہیں:*
روایت یہ ہے کہ وید ایک تھا *ویاس جی مہاراج* نے اسے چار حصوں میں منقسم کرکے اپنے چار شاگردوں کو پڑھایا ۔ ان کے شاگردوں کے مزید شاگرد ہوئے اور ان کے اور ۔ اس طرح شاخیں پھیلتی چلی گئیں ۔ *( بحوالہ ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ ص: 88 ، تصنیف از : حافظ محمد شارق سلیم صاحب پاکستان)*

*ویدوں کی تعداد کے بارے میں آگے لکھتے ہیں :*
وید کی موجودہ مسلم کتابیں چار ہیں : بالترتیب، رگ وید، اتھروید، سام وید اور یجروید ۔ باوجود تضادات و اختلافات کے یہ چاروں وید انتہائی مستند مانی جاتی ہیں کیوں کہ؛ ہندو دھرم کی بنیاد انہی ویدوں پر ہے ۔ ان چاروں ویدوں میں سب سے اہم اور مستند رگ وید ہے ۔ *(سابق)*

*ویدوں میں منتروں کی تعداد :*

1️⃣ رگ وید میں منتروں کی تعداد (10472) ہے اور *شونک رشی, (शौनक)* کی فہرست کے مطابق (10528) ہے ۔ حالانکہ رگ وید کے دسویں منڈل کے ایک سو چودھویں سوکت کے آٹھویں منتر میں اس وید کے منتروں کی تعداد پندرہ ہزار بیان کی گئ ہے ۔

2️⃣ یجروید میں چالیس ادھیائے ( باب) اور تقریباً دو ہزار منتر ہیں ۔

3️⃣ سام وید کے دونوں حصوں میں ملا کر منتروں کی تعداد (1810) ہے جن میں سے (261) منتروں کا دوبار ذکر ہوا ہے ۔ اس طرح انہیں کم کر دینے سے سام وید کے منتروں کی تعداد (1549) رہ جاتی ہے ۔ ان (1549) منتروں میں صرف (57) منتروں کو چھوڑ کر باقی سارے منتر *رگ وید* کے آٹھویں اور نویں منڈل سے لئے گئے ہیں ۔ اگر ان کو بھی نکال دیا جائے تو سام وید چاروں ویدوں میں بہت ہی مختصر رہ جاتا ہے ۔

4️⃣ اتھروید میں منتروں کی تعداد (5977) ہے جن میں (1200) منتر ایسے ہیں جو *رگ وید* میں بھی اسی صورت میں پائے جاتے ہیں ۔
*(اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج : 01، ص: 428/29/30)*

*کس وید میں کیا ہے :*

*️⃣ *رگ وید* ویدوں میں سب سے اولین اور قدیم وید ہے اس میں اپنے مختلف دیوتاؤں اور معبودوں کے حضور مناجات اور بھجن گائے گئے ہیں نیز اس میں स्वर्ग, नर्क (جنت ،دوزخ)، گناہ اور نیکی کا بھی ذکر ہے اور معاشیات، سماجیات، بلی و قربانی کو بھی اچھی طرح پیش کیا گیا ہے ۔
*چنانچہ قدیم ہندوستانی تاریخ کے عظیم محقق علامہ بیرونی لکھتے ہیں:*
ویدوں میں اوامر ونواہی کے علاوہ جزا وسزا کا بھی بیان ہے تاکہ لوگوں کو اچھے کاموں کی رغبت اور برے کاموں سے نفرت ہو لیکن ان کا بڑا حصہ بھجنوں اور مختلف قسم کی آگ کی قربانی پر مشتمل ہے جن کی تعداد اتنی زیادہ ہے اور اتنی پیچیدہ ہے کہ ان کا شمار مشکل ہے ۔
*( بحوالہ : اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج 01 ،ص: 421)*

*ڈاکٹر رادھا کرشن کا قول ہے:*
"رگ وید میں کئ نسلوں کے خیالات ہیں، مختلف بھجنوں اور نغموں میں مختلف نسلوں کے معصوم اور گہرے خیالات کی پہچان ہو جاتی ہے۔" (سابق)

*️⃣ *یجروید :* یہ رگ وید ہی سے ماخوذ ہے مگر اس میں خاص طور پر بلی اور قربانی کا تذکرہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ رگ وید کی طرح اس میں بھی معاشی، سماجی اور روحانی حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔

*️⃣ *سام وید :* تیسرا وید سام وید ہے لفظ سام سنسکرت لفظ *saman* سے ماخوذ ہے جس کے معنی موسیقی کے ہیں اگر چہ سام وید بھی رگ وید کی طرح قدیم مانا جاتا ہے مگر اس کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں ۔ اس وید میں محض گیت اور بھجن ہیں اور 75 منتر کے علاوہ تمام منتر معمولی فرق کے ساتھ *رگ وید* ہی سے ماخوذ ہے ۔
*(ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ ص: 93)*

*️⃣ *اتھروید :* چاروں ویدوں میں اتھروید سب سے آخری وید ہے ویدوں کا یہ حصہ طویل عرصے کے بعد وجود میں آیا
۔ اتھروید میں اکثر وبیشتر منتر شیاطین دیوتا، جادو، بدفال، سحر، آسیب، علاج و معالجہ اور یونانی جڑی بوٹیوں سے متعلق ہیں ۔
*آچاریہ وشیشور (आचार्य विशेषवर) بیان کرتے ہیں :*
اتھروید کے آیورید کے متعلق سوکتوں میں انسانی جسم کے جملہ اعضا کا نام بنام ذکر کیا جاتا ہے ۔ جسم کی تخلیق کے بعد جسمانی امراض، بخار، موتی جھالا جیسے معمولی امراض سے لے کر کوڑھ جیسے خطرناک مریضوں کا بیان اتھروید میں ملتا ہے ۔
*(اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ ج اول، ص :424)*

*ویدوں میں تحریف:*

✴️ ویدوں کے مطالعہ اور اس کے متعلق ملی معلومات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اس میں بہت زیادہ رد و بدل کیا گیا ہے اور اسی تحریف کا نتیجہ ہے کہ آج رگ وید کے بہت سے منتر ہندو علما کے نزدیک بھی مشتبہ ہیں ۔ ذیل میں مختلف نسخوں کے منتروں کو ملاحظہ کریں اور اندازہ لگائیں کہ کس قدر اس میں تحریف کی گئی ہے :
*️⃣ انوواک انوکر منی کے مطابق رگ وید کے منتروں کی تعداد (10580)ہے
*️⃣ پنڈت دیانند کے مطابق (10589) ہے
*️⃣ سائن آچاریہ کے مطابق (10000) ہے
*️⃣ پنڈت شیو سنکر آریہ کے مطابق (10402)ہے
*️⃣ اور پنڈت جگن ناتھ کے مطابق (10452) ہے۔
*( بحوالہ : ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ)*

✴️ رگ وید کی طرح *اتھروید* بھی تحریفات سے پر ہے ۔ بلکہ پنڈت ویدک منی صاحب کے الفاظ میں : " حقیقت میں جس قدر بری حالت اس اتھروید کی ہوئی اتنی اور کسی وید کی نہیں ہوئی سائن آچاریہ کے بعد بھی کئ سوکت اس میں ملا دئے گئے ۔ *(سابق)*

✴️ دوسرے ویدوں کی بہ نسبت *سام وید* میں سب سے زیادہ تحریف ہوئ ہے ۔ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں :
*️⃣ اجمیر میں آریاؤں کے مطبوعہ سام وید میں منتروں کی تعداد 1824 ہے ۔
*️⃣ جیوانند ودیا ساگر کے مطبوعہ سام وید میں 1808 ہے ۔
*️⃣. پنڈت شیو شنکر کے حساب سے تعداد 1549 ہے
*️⃣ سوامی ہری جی پرشاد جی نے 65 منتر کا نیا سام وید شائع کیا ہے ۔( حوالہ باقی ہے )

✴️ دیگر ویدوں کی طرح *یجروید* بھی تحریف سے پاک نہیں ہے ۔ اس میں بھی کئ قسم کے تحریفات ملتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ہندوستان میں مختلف خطوں میں اس کے مختلف نسخے پائے جاتے ہیں جس میں کثرت سے اختلافات ہیں ۔ ذیل میں ملاحظہ کریں :
*️⃣ بمبئی والے یجروید میں 125 ادھیائے کے 47 منتر ہیں لیکن سوامی ویانند نے جو یجروید اجمیر سے چھپوایا ہے اس میں ایک منتر کا اضافہ ہے یعنی 48 منتر ہیں یہ ایک منتر بعد میں ملایا گیا ہے ۔
*️⃣ یجروید بھاشہ بھاشیہ ویانند ادھیائے 9 منتر 20 میں ایک لفظ *گمیات* ملایا گیا ہے ۔
*️⃣ سوامی ویانند کے نزدیک یجروید کے کل منتر کی تعداد 1975 ہے ۔
*️⃣ شیو شنکر کے نزدیک 987 ہے ۔
*(بحوالہ ہندو دھرم اور اسلام کا تقابلی مطالعہ ص :95)*

چاروں ویدوں میں جتنے اختلافات ہیں اس کا اندازہ لگانا یقیناً ممکن نہیں، ان میں اختلافات، رد و بدل اور ترمیم اس طرح اور اس قدر کی گئی ہیں کہ موجودہ چاروں وید مشتبہ ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت علمائے ہنود کے نزدیک بھی مسلمہ ہے کہ وید نہ تو تحریف اور اختلاف سے پاک ہے اور نہ ہی اس کی تعلیمات فطرت انسانی کے مطابق ہے ۔ وید میں کئ ایک ایسی تعلیم ہے جس سے انسانی اخلاقی اقدار پست ہوجاتا ہے ۔ *(سابق)*
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM