🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حافظ کو اجرت دے کر تراویح پڑھوانا: https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J حضور صدر الشریعہ فرماتے ہیں: آج کل اکثر رواج ہو گیا ہے کہ حافظ کو اُجرت (یعنی مزدوری) دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے ۔ دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں،…
*اجرتِ تراویح کی جائز صورتیں 📜*
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
*حضور صدر الشریعہ فرماتے ہیں:*
ہاں (تراویح پڑھانے والا یا تراویح پڑھوانے والے) اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوںگا یا نہیں لوںگا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ اَلصَّرِیۡحُ یُفَوِّقُ الدَّلَالَۃَ یعنی صراحت کو دلالت پر فوقیت ہے ـ [بہار شریعت، جِلد¹ حصہ⁴ صفحہ⁶⁹²]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
*مفتی قاسم صاحب فرماتے ہیں:*
اگر کوئی چاہتا ہے کہ گناہ بھی نہ ہو اور اجرت بھی جائز ہو جائے، تو اس کی درج ذیل دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
❶ ایک صورت یہ ہے کہ تراویح پڑھانے والا واضح (صاف) طور پر کہہ دے کہ کچھ نہیں لوں گا یا کمیٹی والے کہہ دیں کہ کچھ نہیں دیں گے، پھر ختم قرآن پر کچھ نہ کچھ خدمت کر دیں، تو یہ جائز ہے ـ
❷ دوسری صورت یہ ہے کہ تراویح پڑھانے والے کو دو یا تین گھنٹے کے لیے اجیر (اجرت پر کام کرنے والا، ملازم، مزدور) رکھ لیا جائے اور اتنی دیر کے لیے اس کی کوئی تنخواہ مقرر کر دی جائے،
مثلًا: مسجد انتظامیہ تراویح پڑھانے والے سے کہے کہ ہم نے آپ کو ایک ماہ کے لیے روزانہ تین گھنٹے فلاں وقت سے فلاں وقت تک کے لیے اتنی اجرت پر اجیر رکھا، اس میں ہم جو چاہیں آپ کے منصب کے مطابق آپ سے کام لیں گے، وہ کہے میں نے قبول کیا ۔
اب تراویح پڑھانے والا اتنی دیر کے لیے ان کا اجیر ہو گیا، اس کے بعد وہ اس حافظ صاحب کو تراویح کی نماز پڑھانے کا کہہ دیں، تو اس صورت میں اجرت لینا دینا جائز ہو جائےگا ۔
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی ⁶⁹⁹⁵
27 ذو القعدہ ¹⁴⁴³ھ / 27 جون 2022ء
24 شعبان 1445ھ / 06 مارچ 2024ء
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
*شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف پہلا فقہی سیمینار 1425ھ / 2004ء موضوع نمبر ❸ اجارۂ تراویح:*
❶ اصل مذہب کے مطابق تراویح میں تلاوتِ قرآن پر اُجرت لینا دینا ناجائز و حرام ہے ۔ خواہ اجرت معلوم ہو یا مجہول، ہاں یہ صورت اپنائی جائے کہ تراویح پڑھوانے والے، پڑھنے والے حفاظ کو معین وقت اور معین اجرت پر اجیر رکھ لیں،
مثلًا یہ کہیں کہ 7 بجے شام سے 11 بجے رات تک اتنے دنوں کے لئے 5 ہزار روپئے پر آپ کو اجارہ میں لیا اور حافظ کہے کہ میں نے قبول کیا اور حافظ سے تراویح پڑھوا کر اسے مقررہ اجرت دی جائے ۔ اس کے بعد کچھ لوگ اپنے طور پر نذرانہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں اس میں حرج نہیں بلکہ ثواب ہے ۔
❷ مسجد کے معین امام کو بھی فرض عشاء کے بعد مثلًا 9 بجے سے 11 بجے رات تک بطور اجیر مقرر کیا جائے پھر ان سے تراویح پڑھوائی جائے تو جائز ہے اس طرح وقت خاص کی جو اجرت طے ہو گی معین امام کے لئے لینا جائز ہوگا ۔
❸ مذکورہ بالا حکم حافظ، سامع (جو لقمہ دینے کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں ان) کے لئے بھی ہے ۔
مورخہ ¹⁷رجب ¹⁴²⁵ھ/³ستمبر ²⁰⁰⁴ء
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
येह तह़रीर हिंदी Hindi ہندی में ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/324
Yeh Ta'hreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Men ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/323
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J
*حضور صدر الشریعہ فرماتے ہیں:*
ہاں (تراویح پڑھانے والا یا تراویح پڑھوانے والے) اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوںگا یا نہیں لوںگا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ اَلصَّرِیۡحُ یُفَوِّقُ الدَّلَالَۃَ یعنی صراحت کو دلالت پر فوقیت ہے ـ [بہار شریعت، جِلد¹ حصہ⁴ صفحہ⁶⁹²]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
*مفتی قاسم صاحب فرماتے ہیں:*
اگر کوئی چاہتا ہے کہ گناہ بھی نہ ہو اور اجرت بھی جائز ہو جائے، تو اس کی درج ذیل دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
❶ ایک صورت یہ ہے کہ تراویح پڑھانے والا واضح (صاف) طور پر کہہ دے کہ کچھ نہیں لوں گا یا کمیٹی والے کہہ دیں کہ کچھ نہیں دیں گے، پھر ختم قرآن پر کچھ نہ کچھ خدمت کر دیں، تو یہ جائز ہے ـ
❷ دوسری صورت یہ ہے کہ تراویح پڑھانے والے کو دو یا تین گھنٹے کے لیے اجیر (اجرت پر کام کرنے والا، ملازم، مزدور) رکھ لیا جائے اور اتنی دیر کے لیے اس کی کوئی تنخواہ مقرر کر دی جائے،
مثلًا: مسجد انتظامیہ تراویح پڑھانے والے سے کہے کہ ہم نے آپ کو ایک ماہ کے لیے روزانہ تین گھنٹے فلاں وقت سے فلاں وقت تک کے لیے اتنی اجرت پر اجیر رکھا، اس میں ہم جو چاہیں آپ کے منصب کے مطابق آپ سے کام لیں گے، وہ کہے میں نے قبول کیا ۔
اب تراویح پڑھانے والا اتنی دیر کے لیے ان کا اجیر ہو گیا، اس کے بعد وہ اس حافظ صاحب کو تراویح کی نماز پڑھانے کا کہہ دیں، تو اس صورت میں اجرت لینا دینا جائز ہو جائےگا ۔
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی ⁶⁹⁹⁵
27 ذو القعدہ ¹⁴⁴³ھ / 27 جون 2022ء
24 شعبان 1445ھ / 06 مارچ 2024ء
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
*شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف پہلا فقہی سیمینار 1425ھ / 2004ء موضوع نمبر ❸ اجارۂ تراویح:*
❶ اصل مذہب کے مطابق تراویح میں تلاوتِ قرآن پر اُجرت لینا دینا ناجائز و حرام ہے ۔ خواہ اجرت معلوم ہو یا مجہول، ہاں یہ صورت اپنائی جائے کہ تراویح پڑھوانے والے، پڑھنے والے حفاظ کو معین وقت اور معین اجرت پر اجیر رکھ لیں،
مثلًا یہ کہیں کہ 7 بجے شام سے 11 بجے رات تک اتنے دنوں کے لئے 5 ہزار روپئے پر آپ کو اجارہ میں لیا اور حافظ کہے کہ میں نے قبول کیا اور حافظ سے تراویح پڑھوا کر اسے مقررہ اجرت دی جائے ۔ اس کے بعد کچھ لوگ اپنے طور پر نذرانہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں اس میں حرج نہیں بلکہ ثواب ہے ۔
❷ مسجد کے معین امام کو بھی فرض عشاء کے بعد مثلًا 9 بجے سے 11 بجے رات تک بطور اجیر مقرر کیا جائے پھر ان سے تراویح پڑھوائی جائے تو جائز ہے اس طرح وقت خاص کی جو اجرت طے ہو گی معین امام کے لئے لینا جائز ہوگا ۔
❸ مذکورہ بالا حکم حافظ، سامع (جو لقمہ دینے کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں ان) کے لئے بھی ہے ۔
مورخہ ¹⁷رجب ¹⁴²⁵ھ/³ستمبر ²⁰⁰⁴ء
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
येह तह़रीर हिंदी Hindi ہندی में ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/324
Yeh Ta'hreer ᴿᵒᵐᵃⁿ ᵁʳᵈᵘ Men ↷
https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/323
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-05-1446 ᴴ | 23-11-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-05-1446 ᴴ | 24-11-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
💯1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-05-1446 ᴴ | 23-11-2024 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ شہیدِ ناموس رسالت ، غازی ملک ممتاز حسین قادری شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ https://t.me/islaamic_Knowledge/64460 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #یوم_ولادت_ماہ_جمادی_الاولی #یوم_وصال_ماہ_جمادی_الاولی
21-05-1446 ᴴ | 24-11-2024 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت حافظ سید عبد اللہ بلگرامی
https://t.me/islaamic_Knowledge/64498
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_جمادی_الاولی
#یوم_وصال_ماہ_جمادی_الاولی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت حافظ سید عبد اللہ بلگرامی
https://t.me/islaamic_Knowledge/64498
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_ولادت_ماہ_جمادی_الاولی
#یوم_وصال_ماہ_جمادی_الاولی
❤2