🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
بدلتاہے رنگ آسمان کیسے کیسے.

کتاب "حرمتِ تکفیرِمُسلِم"میں تکفیرِدیابنہ کوتشددقراردینے والےعمیرمحمودصدیقی صاحب کاماضی,جب وہ خود ایک "متشددتکفیری" تھے یاپھرتقیہ کیے ہوئے تھے.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خوشترنورانی کے جھوٹ کا پردہ فاش:
میثم قادری
بات کا پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ گوجرخان سے تعلقات رکھنے والے حسن نوازشاہ کے پاس ہفت روزہ الفقیہ امرتسرکے کچھ سالوں کاریکارڈموجودہے.اس ریکارڈ کا علم جناب محمدثاقب رضا قادری صاحب کو ہواتو انہوں نے یہ شمارے مستعارطلب کیے.حسن نوازشاہ صاحب نے الفقیہ امرتسر کے اصل شمارے ایک پروفیسر صاحب(جن کا تعلق لاہور سے ہے لیکن ان کی تعیناتی گوجرخان کے ایک سرکاری کالج میں ہے)کے ہاتھ لاہور بھجوادیے.ثاقب صاحب نے راقم کو کہا کہ یہ پروفیسر صاحب آپ کے قریب رہتے ہیں اس لیے ان سے رابطہ کرکےشمارے وصول کرلیں.میں نے شمارے وصول کرلیے.جب میں الفقیہ کے شمارے گھرلایاتوان کا مطالعہ شروع کیا.دورانِ مطالعہ سرسیداحمدخان نیچری کے متعلق پیرجماعت علی شاہ صاحب کے موقف کے خلاف ارشدالقادری بلیاوی کے نام سے مضامین گذرے(ان مضامین کا پیرجماعت علی شاہ صاحب کے خلیفہ حامدحسن قادری صاحب نے جواب دینے کی کوشش کی لیکن اکابراہل سنت کے برحق موقِف کادلائل سے رد وہ نہ کرسکے)راقم نے جب حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ کے یہ مضامین دیکھے تو ثاقب رضا قادری صاحب کو اطلاع دی کہ اس میں سرسیدکے رد میں علامہ ارشدالقادری کے مضامین ہیں ان کو خوشترنورانی تک پہنچادیں تاکہ یہ مضامین شائع کیے جا سکیں..(اس وقت راقم کوخوشترنورانی کے اہل سنت سے اعتزالی نظریات کاعلم نہ تھا.اگرمعلوم ہوتاتو میں کبھی بھی ثاقب قادری کوعلامہ ارشدالقادری کے مضامین اشاعت کے لیےخوشترکو دینے کانہ کہتا)نیز سرسیدکے رد میں لکھی گئی کچھ نایاب کتب بھی ثاقب رضا قادری صاحب کو سکین کرواکردیں تاکہ وہ خوشترنورانی تک پہنچا دیں ان کتب کے نام یہ ہیں.1.جواہرمضیہ ردنیچریہ از مولاناغلام دستگیرقصوری
2.امدادالآفاق از ڈپٹی امدادالعلی
3.نصرۃ الابرار از مولوی محمدلدھیانوی دیوبندی.
ثاقب صاحب نے الفقیہ کے یہ شمارے اورسرسیدکے رد میں لکھی گئی یہ کتب خوشترنورانی صاحب تک پہنچادیں.خوشتر نے علامہ ارشدالقادری اورحامدحسن قادری کے ان مضامین کو ترتیب
دے کر"سرسیّداحمدکے مذہبی عقائدوافکار,ایک مکالمہ"کے نام سے دہلی سے شائع کردیا.جب یہ کتاب ثاقب قادری صاحب تک پہنچی توانہوں نے بتایاکہ خوشترنورانی نے ان مضامین کوکتابی شکل میں مرتب کیاہے اور اس میں لکھاہے کہ علامہ ارشدالقادری کے ہفت روزہ الفقیہ امرتسرمیں مطبوعہ یہ مضامین اس نے خود تلاش کیے ہیں.خوشترنورانی کی اپنی تحریرملاحظہ کریں:
"میں الفقیہ کی فائلوں کی ورق گردانی کرنے لگابالآخرایک مضمون پرنظرپڑی جس کے عنوان کے نیچے مضمون نگارکانام اس طرح درج تھا:مولوی ارشدقادری بلیاوی,مدرسہ مصباح العلوم قصبہ مبارکپور.یہ سرسیداحمدخان کے مذہبی عقائدوافکارسے متعلق ایک جوابی مضمون تھا.اب میں ان دستیاب فائلوں کو مزیدتوجہ سے دیکھنے لگاجس سےمعلوم ہواکہ یہ مضمون اس بحث یامکالمے کا حصہ تھاجوالفقیہ 1946کےشماروں میں سرسیدکے مذہبی معتقدات پر ہواتھا"(سرسیدکے مذہبی عقائدوافکار,ایک مکالمہ صفحہ 6,7مطبوعہ ادارہءفکراسلامی دہلی طبع 2013ء)حالانکہ ان مضامین کی نشاندہی راقم نے ثاقب قادری صاحب کو کی, انہوں نے خوشترنورانی کو بتایا.خوشترنورانی صاحب کو چاہیے تھاکہ اپنی کتاب میں سچ بیان کرتے کہ ان کومضامین کی نشاندہی کس نے کی تھی لیکن موصوف خوشترنورانی نے اپنی کتاب میں جھوٹ اور خلافِ واقعہ بات لکھی جس پران کو شرم آنی چاہیے.آخرمیں یہ بھی عرض کردوں کہ ڈاکٹرممتازسدیدی صاحب کا انٹرویوخوشترنورانی نے اپنے ماہنامہ جامِ نورمیں شائع کیا.اس انٹرویومیں چھ مقامات پرخوشترنورانی نے اپنے مداح ثاقب رضاقادری صاحب کانام حذف کیا.اورکہیں وضاحت نہیں کی.یہ بات مجھے ان کے مداح ثاقب قادری صاحب نے خودبیان کی تھی.قارئین ہی بتائیں کہ ایسابددیانت شخص اعتبارکے لائق ہے؟
رئیس القلم حضرت علامہ ارشدالقادری کے ناخلف پوتےخوشترنورانی منہاجی کی زیرادارت شائع ہونے والےماہنامہ جامِ نور دہلی بابت مارچ 2016ءکے شمارے میں حضرت غازی ممتازقادری کے خلاف بکواس کی گئی ہے.حضرت غازی ممتازقادری علیہ الرحمہ کے چاہنے والےتمام اہلِ سنت سے گذارش ہے کہ اس بکواس کوشائع کرنے پرخوشترنورانی اور ماہنامہ جام نور اور اس شمارے کو پاکستان میں شائع کرنے والے مکتبہ دارالاسلام کے مدیر رضاءالحسن قادری ابن مفتی غلام حسن قادری کاہرطرح بائیکاٹ کیاجائے.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بزرگ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص سے بہت سارے لوگ دوستی کا دم بھرنے لگے تو اس کے والد نے کہا:

بیٹا ! ہر دوست کہلانے والا شخص ، دوست نہیں ہوا کر تا ؛ بڑی جانچ پڑتال کے بعد کسی کو دوست سمجھنا چاہیے ۔

پھر باپ نے ایک دُنبہ ذبح کرکے بوری میں بند کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا ، اور بیٹے سے کہا:

یہ اپنے دوستوں کے پاس لے جاؤ ، اور اُنھیں کہو:

مجھ سے قتل ہوگیا ہے ، میری مدد کرو !

پھر دیکھو وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔

بیٹے نے بوری اٹھائی اور رات کو ایک دوست کا دروازہ جا کھٹکھٹایا ۔

دوست نے پوچھا خیریت ہے ؟

کہنےلگا: یار مجھ سے قتل ہوگیا ہے ، نہ لاش ٹھکانے لگانے کی جگہ مل رہی ہے ، نہ سر چھپانے کی ؛ میری کچھ مدد کرو !

دوست نے مدد کے بجائے ٹال دیا ، کہ تُو جانے اور تیرا کام جانے ، میں تیرے ساتھ کیوں پھنسوں ۔
وہ دوسرے ، تیسرے ، چوتھے ، الغرض سب دوستوں کے پاس گیا لیکن کسی نے بھی اُسے اپنے گھر میں پناہ نہ دی ۔
وہ مایوس ہوکر والد کے پاس آیا اور کہا:

اباحضور ! آپ درست فرماتے تھے ، واقعی وہ میرے دوست نہیں تھے ، جو مصیبت کا سن کر ہی بھاگ گئے ۔

والد نے کہا: بیٹے میرا ایک دوست ہے ، اور زندگی میں مَیں نے اس ایک کو ہی دوست بنایا ہے ؛ اب تُو یہ بوری لے کر اس کے گھر جا اور دیکھ وہ کیا کہتا ہے ۔

بیٹا اس کے گھر پہنچا اور اسے وہی کہانی سنائی ، جو اپنے دوستوں کو سنائی تھی ۔

اس نے بوری لے کر مکان کے پچھواڑے میں گڑھا کھود کر دبا دی ، اور اوپر پھول لگادیے تاکہ کسی کو شک نہ ہو ۔

بیٹے نے باپ سے آکر سب کچھ بیان کیا اور کہا:

اباجی آپ کا دوست تو واقعی سچا دوست ہے ۔

باپ نے کہا:بیٹا ! ابھی ٹھہرجاؤ ، اتنی جلدی فیصلہ نہ کرو ۔
کل اُس کے پاس دوبارہ جانا اور اس سے بدتمیزی کرنا ، پھر جو ردِ عمل ہوا وہ آکر مجھے بتانا ۔

بیٹے نے ایسے ہی کیا ........... گیا ، اور اس سے بد تمیزی اور لڑائی کی ۔

اس نے جواب میں کہا:

اپنے والد سے کہنا فکر نہ کرے ، تمھارا دوست " چمن " کبھی نہیں اُجاڑے گا ۔

( مطلب جو پودے لاش کے اوپر لگائے ہیں وہ سدا لگے رہیں گے ، انھیں کبھی نہیں اکھاڑوں گا ۔
یعنی تیرے بیٹے کی بدتمیزی کو دیکھ کر اس کا راز کبھی فاش نہیں کروں گا ، کیوں کہ میں تیرا دوست ہوں )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رب تعالیٰ ہمیں بھی مخلص دوست نصیب کرے !
دوست مشکل‌ وقت میں کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا ، دوست ، دوست کے دنیا و آخرت میں کام آتا ہے ۔
وہ اس کے عیبوں کو دل ، دماغ ، اور آنکھوں کے سامنے نہیں رکھتا ، بلکہ پشت کے پیچھے گہرا گڑھا کھود کر ، اس میں ہمیشہ کے لیے دبا دیتا ہے ؛ اور اس کے اوپر محبت بھری نصیحت کے پھول لگادیتا ہے ، جن کی خوشبو دوست کو آئندہ کے لیے عیبوں کی بدبو سے بچائے رکھتی ہے ۔

✍️لقمان شاہد
7-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جس طرح تفضیلی گروہ کے سرغنہ عبدالقادرشاہ کاکہناہے کہ "اگرکوئی حضرت صدیق اکبررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو"افضل البشربعدالانبیاء"نہیں مانتا,تووہ اس عقیدہ کے سبب اہلِ سنت سے خارج نہیں ہوتا"-
بالکل اسی طرح اہل سنت کہلوانے والوں میں متجددین(ناصررامپوری,خوشترنورانی,ذیشان مصباحی وغیرھم)کاایک ایساگروہ نمودارہوچکاہے جویہ کہتاہے کہ اگرکوئی اکابرِدیابنہ کی(گستاخانہ عبارات کی بناپران کی) تکفیرنہیں کرتاتووہ اہل سنت ہی رہے گا.یہ متجددین اپنے مخالفین کومتشدد کہتے ہیں لیکن آپ ان سے اختلاف کرکے دیکھیے توآپ کومعلوم ہوگاکہ یہ خودبہت بڑے متشددہیں.جس کی ایک مثال خوشترنورانی ہے.اس شخص کی ضداورہٹ دھرمی پرکچھ سال قبل ایک تحریرلکھ چکاہوں.اس کالنک پیش خدمت ہے.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2267733480172633&id=100008080090753
اس فتنے کی سرکوبی کے لیےعلمائے اہل سنت کو فوری اورمؤثرکردار اداکرناچاہیے.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ڈپٹی نذیر کا ترجمہ*

امام اہل سنت سے سوال ہوا کہ
مسئلہ ۳۴۷: از جوناگڑھ محلہ کتیانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمد حسین ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ نذیر احمد بی، اے، ایل، ایم، کاترجمہ صحیح ہے یاغلط؟ اور لڑکوں کو مدرسہ میں اس کا ترجمہ پڑھانا جائز ہے یا ناجائز؟

الجواب : نذیر احمدکا نہ ترجمہ صحیح ہے نہ ایمان، وہ شخص منکرخدا تھا، جیسے اس نے اور کتابیں نصرانیت ونیچریت آمیز لکھیں جن سے مال کمانا مقصود تھا ویسے ہی یہ ترجمہ بھی کردیا گیا اس سے بھی داموں ہی کی غرض تھی ورنہ جو شخص ﷲ ہی کونہ مانتا ہو وہ قرآن کے ترجمہ کو کیا جانے گا۔ اس کا ترجمہ ہرگز نہ پڑھایا جائے، وﷲ تعالی اعلم

(فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 701 اپلیکیشن )

ابو الحسن
https://www.facebook.com/100008080090753/posts/2803713813241261/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید خان رحمہ اللہ نے جب دیکھا کہ فرانس میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کے لئے ٹھیٹر کا اعلان کیا اور فرانس کے اخبارات میں بھی اسکے اشتہارات دئے جب سلطان نے یہ پڑھا تو بہت غصے میں آگئے ۔ اپنا جنگی لباس اور تلوار نکالی اور حرمت رسول ﷺ کے لئے اپنی جان اور خلافت تک کو رسول اللہ ﷺ کی شان پر قربان کرنے کا ارادہ کرلیا فرانسی سفیر کو طلب کیا اور تاریخی الفاظ کہے کہ تم میرے بارے میں جو کچھ لکھتے ہو یا جو کچھ لکھو مجھے کوئی پروا نہیں لیکن میں اپنے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اپنی حکومت کو کہو جنگ کے لئے تیار ہو جائے اور فرانسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا۔اس وقت تک فرانس بہت بڑی طاقت بن چکا تھا لیکن جزبہ ایمان کے سامنے اسکو گھٹنے ٹیکنے پڑھے اور تھیٹر منسوخ کرنا پڑا آج باون اسلامی ممالک ہیں فرانسی اخبار نے 2006۔ 2011 اور 2020 میں رسول ﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکے شائع کئے لیکن کوئی ہمارا مسمان ملک کچھ نہی کر سکا کل قیامت کے دن حضور ﷺ کو کیا منہ دیکھائیں گئے صرف ایمان کی سب سے کمزور حالت ہی باون اسلامی ممالک فرانس کا بائیکاٹ کریں اور اسکے سفیر کو ملک بدر کردیں تو انکے باپ کی جرت نہی دوبارہ ایسا۔ کرسکیں
سلطان نے جرمنی کے ساتھ ریلوے لائن کا معاہدہ کیا تھا ، تو ایک شرط یہ بھی رکھی تھی:
" جب کاریگر کام کرتے ہوئے مدینہ پاک سے بیس کلو میٹر دور رہ جائیں گے تو اپنے ہتھوڑوں پر کپڑا باندھ لیں گے "

( تاکہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک شہر میں شور کی آوازیں نہ آئیں )
اللہ اللہ ، کیسے مودب تھے وہ لوگ۔
خلافت عثمانیہ کے 34ویں خلیفہ عبدالحمید ثانی اپنے وقت کے بہت بڑے شاعر اور عاشق رسولﷺ گزرے ہیں...

آپ کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین سروس شروع کی گئی....
آج بھی وہ ریلوے لائن مدینہ شریف میں بچھی ھوئی ھے۔ اور ترکی ریلوےاسٹیشن کے نام سے مشہور ھے....
اُس زمانے میں ٹرین کا انجن کوئلہ کا ھوا کرتا تھا، مکمل تیاریاں ھونے کے بعد مدینہ شریف میں ترکی اسٹیشن پر سلطان عبدالحمید ثانی کو اوپنگ (افتتاح) کے لیے بلایا گیا تو سلطان نے دیکھا۔
کہ کوئلہ والا انجن بھڑ بھڑ آوازیں نکال رہا ھے۔ تو
سلطان عبدالحمید غضبناک ھوگئے۔ اور کچرا اٹھا کر انجن
کو مارنا شروع کر دیا۔
اور کہا۔
حضور ﷺ کے شہر میں اتنی تیز آواز تیری....؟

*ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک تر*
*نفس گم کردہ می آید جنیدؓ و بایزیدؓ اینجا*

تقریباؔؔ 100 سال کا عرصہ ھونے کو آیا،
اس وقت جو انجن بند ھوا تھا۔
وہ آج بھی ایسے ھی مدینہ شریف میں رکھا ھوا ھے.
جو ترکی اسٹیشن سے مشہور ھے،
اس قدر ادب کہ وہ انجن کی بلند آواز کو بھی شہرِ رسولﷺ میں پسند نہیں کرتے تھے تو سوچو
وہ اپنے محبوب سے کس قدر محبت فرماتے ھوں گے..!!

یہ عشق تھا۔ یہ ادب تھا۔ جو ان کے سینوں میں موجزن تھا،
اللہ تعالی ہمیں بھی ایسا عشق و ادب اور شہر رسولﷺ کی باادب حاضری نصیب کرے..۔۔۔۔
امین یا رب العالمین

منقول
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ایک دیوبندی شُبہہ کاجواب:

تحریر : میثم عباس قادری رضوی

کچھ دن قبل ایک شریرساجدخان دیوبندی کے پیج کی پوسٹ دیکھی،جس میں اس نے دعوت اسلامی کے امیرمولاناالیاس قادری صاحب پراس وجہ سے اعتراض کیاتھاکہ ان کے سامنے دورانِ خطاب بُلٹ پروف شیشہ لگاہوتاہے۔اس پوسٹ سے اس کامقصدیہ تھاکہ امیردعوت اسلامی کوموت سے ڈرلگتاہے۔اس شریرکایہ اعتراض ان علماءِ اہلِ سنت پربھی وارد ہوتاہے جواپنے ساتھ مسلح گارڈ رکھتے ہیں۔وقت کی شدیدقلت ہے لیکن مناسب سمجھاکہ مختصرا اس دیوبندی خباثت کاجواب علاج بالمثل کاطریقہ اختیارکرتے ہوئےدیوبندی فرقہ کی کتاب سے ہی پیش کردوں تاکہ سادہ لوح عوام اس کی شیطنت سے واقف ہوسکیں۔
اب جواب کی طرف آئیے۔بات کچھ یوں ہے کہ دیوبندی فرقہ کے بڑے مفتی رشیداحمدلدھیانوی،کراچوی(جوکچھ عرصہ قبل آنجہانی ہوئے ہیں)ہرجگہ مسلح گارڈوں کے گھیرے میں ہوتے تھے،یہ گھیرااِتناسخت ہوتاکہ عام آدمی مفتی صاحب سے مل نہیں سکتاتھا۔حتی کہ ان کی مزعومہ مسجدکےمنبرپربھی مسلح باڈی گارڈکھڑے ہوتے۔حفاظتی پہرے کے اس خاص اہتمام کی وجہ سے ان پرکچھ اعتراضات بھی ہوئے،جن کامفصل جواب ان کے دارالافتاء کے نائب مفتی عبدالرحیم دیوبندی نے تحریرکیا،یہ جواب "احسن الفتاوی"جلد6میں شامل ہے۔اس کے علاوہ یہ جواب"مسلح پہرہ اورتوکل"کے نام سے الگ بھی شائع ہوا۔اس جوابی تحریر کے چنداقتباسات ملاحظہ کریں۔جن میں ساجدخان دیوبندی کی فضول بَک بَک کاجواب موجودہے۔بہرحال معترض معاندساجدخان دیوبندی کو چاہیے کہ اس طرح کی ایک پوسٹ مفتی رشیداحمدلدھیانوی دیوبندی کی بُزدلی کی بابت بھی کردے تاکہ معلوم ہوکہ آپ اپنے پرائے کافرق روانہیں رکھتے،لیکن کہے دیتاہوں ایسانہیں ہوگا۔
اس دیوبندی اعتراض سے ایک بارپھریہ بات ثابت ہوگئی کہ دیوبندیوں کی طرف سے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرعمل کادعویٰ صرف زبانی جمع خرچ ہے وگرنہ اگریہ عاملِ سنت ہونے کے دعویٰ میں سچے ہوتے توکبھی بھی(حفاظتی پہرہ داری کی)سنت کے عامل پربُزدل ہونے کاطعنہ نہ دیتے۔
نوٹ:اس پوسٹ کوسرقہ نہ کیاجائے بلکہ من وعن شیئرکیاجائے۔