Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ڈاکٹرعمیرمحمودصدیقی کی کتاب
"حُرمتِ تکفیرِ مسلم"
کی حقیقت
کئی دِنوں سے سوشل میڈیاپردیکھ رہاہوں کہ ایک کتاب "حرمتِ تکفیرِمُسلِم"کواس کے ناشرمقصوداحمدکامران(مدیر:ورلڈویوپبلشرزلاہور)اورمؤلف ڈاکٹرعمیرمحمودصدیقی کی جانب سےمختلف علمائے اہلِ سنت کوپیش کرتے ہوئے اس کی تصاویربناکرسوشل میڈیاپرمشتہرکیاجارہاہے تاکہ لوگ اسے اچھی کتاب سمجھ کرخریدیں.اورپھراپنے اکابرسے باغی ہوں.
کتاب کانام توبہت خوشنماہے لیکن درحقیقت اس میں سیدی اعلٰی حضرت کی تاریخی کتاب"حُسام الحرمین"کونشانہ بنایاگیاہے.اس کتاب کاابتدائیہ سراج الدین امجدی دیوبندی سے لکھوایاگیاہے.اوراس کوصوفی لکھاگیاہے.میں نے خودسوشل میڈیاپرمختلف پوسٹس کے کمنٹس میں دیکھاہےکہ یہ موصوف اہلِ سنت کوبدعتی قراردیتے ہیں.اوراعلٰی حضرت پربھی بدزبانی کرتے ہیں.ہوسکتاہے کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ اس میں "حُسام الحرمین" کوکہاں ٹارگٹ کیاگیاہے تواس کے ثبوت کے لیے اس کاوہ صفحہ پیش کیاجارہاہے جہاں جسٹس کرم شاہ بھیروی کی تکفیرکاذکرکرکے اس پرافسوس کااظہارکیاگیاہے.کیونکہ علمائے اہلِ سنت کی طرف سے جسٹس کرم شاہ کی تکفیراس لیے کی گئی تھی کہ موصوف قاسم نانوتوی دیوبندی کومنکرِختم نبوت نہیں سمجھتے تھے اورتادمِ آخراسی مؤقف پررہے۔
یہ کتاب 2009ءمیں مجلہ فقہِ اسلامی کراچی کے"حُرمتِ تکفیرِمُسلِم نمبر"میں شائع ہوئی تھی,"حُرمتِ تکفیرِمُسلِم"کی اُس اشاعت کے دوصفحات پیشِ خدمت ہیں.
اس کےاداریہ لکھاہے کہ دیوبندی,غیرمقلدین,شیعہ اوربریلوی ایک دوسرے کی تکفیرکرتے ہیں.کوئی کسی سے محفوظ نہیں.یہاں اداریہ نویس نے تکفیرِفِرَقِ باطلہ کی وجہ سےاہلِ سنت کی بھی تغلیط کی ہے.(اس اداریہ کے بارے واضح نہیں ہوسکاکہ یہ مدیرِرسالہ ڈاکٹرنوراحمدشاہتازنے لکھاہےیامؤلف ڈاکٹرعمیرمحمودصدیقی نے)
"حُرمتِ تکفیرِمُسلِم"کی مجلہ فقہ اسلامی کراچی کی اشاعت میں مؤلف کی ایک عبارت سے مترشح ہوتاہےکہ صرف مرزاقادیانی کی تکفیرسے اختلاف نہ کیاجائے.ہاں اگردیوبندیوں کی گستاخانہ عبارات کی بناپرکوئی ان کوکافرنہیں کہتاتوکوئی بات نہیں.تحریرمیں مذکور سب عبارات کے اسکین بھی ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں.
دواہلِ علم احباب اس کتاب پرتبصرہ لکھ رہے ہیں اللّٰہ کرے جلدی مکمل کرلیں.
میثم قادری
22فروری2020ء
"حُرمتِ تکفیرِ مسلم"
کی حقیقت
کئی دِنوں سے سوشل میڈیاپردیکھ رہاہوں کہ ایک کتاب "حرمتِ تکفیرِمُسلِم"کواس کے ناشرمقصوداحمدکامران(مدیر:ورلڈویوپبلشرزلاہور)اورمؤلف ڈاکٹرعمیرمحمودصدیقی کی جانب سےمختلف علمائے اہلِ سنت کوپیش کرتے ہوئے اس کی تصاویربناکرسوشل میڈیاپرمشتہرکیاجارہاہے تاکہ لوگ اسے اچھی کتاب سمجھ کرخریدیں.اورپھراپنے اکابرسے باغی ہوں.
کتاب کانام توبہت خوشنماہے لیکن درحقیقت اس میں سیدی اعلٰی حضرت کی تاریخی کتاب"حُسام الحرمین"کونشانہ بنایاگیاہے.اس کتاب کاابتدائیہ سراج الدین امجدی دیوبندی سے لکھوایاگیاہے.اوراس کوصوفی لکھاگیاہے.میں نے خودسوشل میڈیاپرمختلف پوسٹس کے کمنٹس میں دیکھاہےکہ یہ موصوف اہلِ سنت کوبدعتی قراردیتے ہیں.اوراعلٰی حضرت پربھی بدزبانی کرتے ہیں.ہوسکتاہے کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ اس میں "حُسام الحرمین" کوکہاں ٹارگٹ کیاگیاہے تواس کے ثبوت کے لیے اس کاوہ صفحہ پیش کیاجارہاہے جہاں جسٹس کرم شاہ بھیروی کی تکفیرکاذکرکرکے اس پرافسوس کااظہارکیاگیاہے.کیونکہ علمائے اہلِ سنت کی طرف سے جسٹس کرم شاہ کی تکفیراس لیے کی گئی تھی کہ موصوف قاسم نانوتوی دیوبندی کومنکرِختم نبوت نہیں سمجھتے تھے اورتادمِ آخراسی مؤقف پررہے۔
یہ کتاب 2009ءمیں مجلہ فقہِ اسلامی کراچی کے"حُرمتِ تکفیرِمُسلِم نمبر"میں شائع ہوئی تھی,"حُرمتِ تکفیرِمُسلِم"کی اُس اشاعت کے دوصفحات پیشِ خدمت ہیں.
اس کےاداریہ لکھاہے کہ دیوبندی,غیرمقلدین,شیعہ اوربریلوی ایک دوسرے کی تکفیرکرتے ہیں.کوئی کسی سے محفوظ نہیں.یہاں اداریہ نویس نے تکفیرِفِرَقِ باطلہ کی وجہ سےاہلِ سنت کی بھی تغلیط کی ہے.(اس اداریہ کے بارے واضح نہیں ہوسکاکہ یہ مدیرِرسالہ ڈاکٹرنوراحمدشاہتازنے لکھاہےیامؤلف ڈاکٹرعمیرمحمودصدیقی نے)
"حُرمتِ تکفیرِمُسلِم"کی مجلہ فقہ اسلامی کراچی کی اشاعت میں مؤلف کی ایک عبارت سے مترشح ہوتاہےکہ صرف مرزاقادیانی کی تکفیرسے اختلاف نہ کیاجائے.ہاں اگردیوبندیوں کی گستاخانہ عبارات کی بناپرکوئی ان کوکافرنہیں کہتاتوکوئی بات نہیں.تحریرمیں مذکور سب عبارات کے اسکین بھی ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں.
دواہلِ علم احباب اس کتاب پرتبصرہ لکھ رہے ہیں اللّٰہ کرے جلدی مکمل کرلیں.
میثم قادری
22فروری2020ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خوشترنورانی کے جھوٹ کا پردہ فاش:
میثم قادری
بات کا پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ گوجرخان سے تعلقات رکھنے والے حسن نوازشاہ کے پاس ہفت روزہ الفقیہ امرتسرکے کچھ سالوں کاریکارڈموجودہے.اس ریکارڈ کا علم جناب محمدثاقب رضا قادری صاحب کو ہواتو انہوں نے یہ شمارے مستعارطلب کیے.حسن نوازشاہ صاحب نے الفقیہ امرتسر کے اصل شمارے ایک پروفیسر صاحب(جن کا تعلق لاہور سے ہے لیکن ان کی تعیناتی گوجرخان کے ایک سرکاری کالج میں ہے)کے ہاتھ لاہور بھجوادیے.ثاقب صاحب نے راقم کو کہا کہ یہ پروفیسر صاحب آپ کے قریب رہتے ہیں اس لیے ان سے رابطہ کرکےشمارے وصول کرلیں.میں نے شمارے وصول کرلیے.جب میں الفقیہ کے شمارے گھرلایاتوان کا مطالعہ شروع کیا.دورانِ مطالعہ سرسیداحمدخان نیچری کے متعلق پیرجماعت علی شاہ صاحب کے موقف کے خلاف ارشدالقادری بلیاوی کے نام سے مضامین گذرے(ان مضامین کا پیرجماعت علی شاہ صاحب کے خلیفہ حامدحسن قادری صاحب نے جواب دینے کی کوشش کی لیکن اکابراہل سنت کے برحق موقِف کادلائل سے رد وہ نہ کرسکے)راقم نے جب حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ کے یہ مضامین دیکھے تو ثاقب رضا قادری صاحب کو اطلاع دی کہ اس میں سرسیدکے رد میں علامہ ارشدالقادری کے مضامین ہیں ان کو خوشترنورانی تک پہنچادیں تاکہ یہ مضامین شائع کیے جا سکیں..(اس وقت راقم کوخوشترنورانی کے اہل سنت سے اعتزالی نظریات کاعلم نہ تھا.اگرمعلوم ہوتاتو میں کبھی بھی ثاقب قادری کوعلامہ ارشدالقادری کے مضامین اشاعت کے لیےخوشترکو دینے کانہ کہتا)نیز سرسیدکے رد میں لکھی گئی کچھ نایاب کتب بھی ثاقب رضا قادری صاحب کو سکین کرواکردیں تاکہ وہ خوشترنورانی تک پہنچا دیں ان کتب کے نام یہ ہیں.1.جواہرمضیہ ردنیچریہ از مولاناغلام دستگیرقصوری
2.امدادالآفاق از ڈپٹی امدادالعلی
3.نصرۃ الابرار از مولوی محمدلدھیانوی دیوبندی.
ثاقب صاحب نے الفقیہ کے یہ شمارے اورسرسیدکے رد میں لکھی گئی یہ کتب خوشترنورانی صاحب تک پہنچادیں.خوشتر نے علامہ ارشدالقادری اورحامدحسن قادری کے ان مضامین کو ترتیب
دے کر"سرسیّداحمدکے مذہبی عقائدوافکار,ایک مکالمہ"کے نام سے دہلی سے شائع کردیا.جب یہ کتاب ثاقب قادری صاحب تک پہنچی توانہوں نے بتایاکہ خوشترنورانی نے ان مضامین کوکتابی شکل میں مرتب کیاہے اور اس میں لکھاہے کہ علامہ ارشدالقادری کے ہفت روزہ الفقیہ امرتسرمیں مطبوعہ یہ مضامین اس نے خود تلاش کیے ہیں.خوشترنورانی کی اپنی تحریرملاحظہ کریں:
"میں الفقیہ کی فائلوں کی ورق گردانی کرنے لگابالآخرایک مضمون پرنظرپڑی جس کے عنوان کے نیچے مضمون نگارکانام اس طرح درج تھا:مولوی ارشدقادری بلیاوی,مدرسہ مصباح العلوم قصبہ مبارکپور.یہ سرسیداحمدخان کے مذہبی عقائدوافکارسے متعلق ایک جوابی مضمون تھا.اب میں ان دستیاب فائلوں کو مزیدتوجہ سے دیکھنے لگاجس سےمعلوم ہواکہ یہ مضمون اس بحث یامکالمے کا حصہ تھاجوالفقیہ 1946کےشماروں میں سرسیدکے مذہبی معتقدات پر ہواتھا"(سرسیدکے مذہبی عقائدوافکار,ایک مکالمہ صفحہ 6,7مطبوعہ ادارہءفکراسلامی دہلی طبع 2013ء)حالانکہ ان مضامین کی نشاندہی راقم نے ثاقب قادری صاحب کو کی, انہوں نے خوشترنورانی کو بتایا.خوشترنورانی صاحب کو چاہیے تھاکہ اپنی کتاب میں سچ بیان کرتے کہ ان کومضامین کی نشاندہی کس نے کی تھی لیکن موصوف خوشترنورانی نے اپنی کتاب میں جھوٹ اور خلافِ واقعہ بات لکھی جس پران کو شرم آنی چاہیے.آخرمیں یہ بھی عرض کردوں کہ ڈاکٹرممتازسدیدی صاحب کا انٹرویوخوشترنورانی نے اپنے ماہنامہ جامِ نورمیں شائع کیا.اس انٹرویومیں چھ مقامات پرخوشترنورانی نے اپنے مداح ثاقب رضاقادری صاحب کانام حذف کیا.اورکہیں وضاحت نہیں کی.یہ بات مجھے ان کے مداح ثاقب قادری صاحب نے خودبیان کی تھی.قارئین ہی بتائیں کہ ایسابددیانت شخص اعتبارکے لائق ہے؟
میثم قادری
بات کا پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ گوجرخان سے تعلقات رکھنے والے حسن نوازشاہ کے پاس ہفت روزہ الفقیہ امرتسرکے کچھ سالوں کاریکارڈموجودہے.اس ریکارڈ کا علم جناب محمدثاقب رضا قادری صاحب کو ہواتو انہوں نے یہ شمارے مستعارطلب کیے.حسن نوازشاہ صاحب نے الفقیہ امرتسر کے اصل شمارے ایک پروفیسر صاحب(جن کا تعلق لاہور سے ہے لیکن ان کی تعیناتی گوجرخان کے ایک سرکاری کالج میں ہے)کے ہاتھ لاہور بھجوادیے.ثاقب صاحب نے راقم کو کہا کہ یہ پروفیسر صاحب آپ کے قریب رہتے ہیں اس لیے ان سے رابطہ کرکےشمارے وصول کرلیں.میں نے شمارے وصول کرلیے.جب میں الفقیہ کے شمارے گھرلایاتوان کا مطالعہ شروع کیا.دورانِ مطالعہ سرسیداحمدخان نیچری کے متعلق پیرجماعت علی شاہ صاحب کے موقف کے خلاف ارشدالقادری بلیاوی کے نام سے مضامین گذرے(ان مضامین کا پیرجماعت علی شاہ صاحب کے خلیفہ حامدحسن قادری صاحب نے جواب دینے کی کوشش کی لیکن اکابراہل سنت کے برحق موقِف کادلائل سے رد وہ نہ کرسکے)راقم نے جب حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ کے یہ مضامین دیکھے تو ثاقب رضا قادری صاحب کو اطلاع دی کہ اس میں سرسیدکے رد میں علامہ ارشدالقادری کے مضامین ہیں ان کو خوشترنورانی تک پہنچادیں تاکہ یہ مضامین شائع کیے جا سکیں..(اس وقت راقم کوخوشترنورانی کے اہل سنت سے اعتزالی نظریات کاعلم نہ تھا.اگرمعلوم ہوتاتو میں کبھی بھی ثاقب قادری کوعلامہ ارشدالقادری کے مضامین اشاعت کے لیےخوشترکو دینے کانہ کہتا)نیز سرسیدکے رد میں لکھی گئی کچھ نایاب کتب بھی ثاقب رضا قادری صاحب کو سکین کرواکردیں تاکہ وہ خوشترنورانی تک پہنچا دیں ان کتب کے نام یہ ہیں.1.جواہرمضیہ ردنیچریہ از مولاناغلام دستگیرقصوری
2.امدادالآفاق از ڈپٹی امدادالعلی
3.نصرۃ الابرار از مولوی محمدلدھیانوی دیوبندی.
ثاقب صاحب نے الفقیہ کے یہ شمارے اورسرسیدکے رد میں لکھی گئی یہ کتب خوشترنورانی صاحب تک پہنچادیں.خوشتر نے علامہ ارشدالقادری اورحامدحسن قادری کے ان مضامین کو ترتیب
دے کر"سرسیّداحمدکے مذہبی عقائدوافکار,ایک مکالمہ"کے نام سے دہلی سے شائع کردیا.جب یہ کتاب ثاقب قادری صاحب تک پہنچی توانہوں نے بتایاکہ خوشترنورانی نے ان مضامین کوکتابی شکل میں مرتب کیاہے اور اس میں لکھاہے کہ علامہ ارشدالقادری کے ہفت روزہ الفقیہ امرتسرمیں مطبوعہ یہ مضامین اس نے خود تلاش کیے ہیں.خوشترنورانی کی اپنی تحریرملاحظہ کریں:
"میں الفقیہ کی فائلوں کی ورق گردانی کرنے لگابالآخرایک مضمون پرنظرپڑی جس کے عنوان کے نیچے مضمون نگارکانام اس طرح درج تھا:مولوی ارشدقادری بلیاوی,مدرسہ مصباح العلوم قصبہ مبارکپور.یہ سرسیداحمدخان کے مذہبی عقائدوافکارسے متعلق ایک جوابی مضمون تھا.اب میں ان دستیاب فائلوں کو مزیدتوجہ سے دیکھنے لگاجس سےمعلوم ہواکہ یہ مضمون اس بحث یامکالمے کا حصہ تھاجوالفقیہ 1946کےشماروں میں سرسیدکے مذہبی معتقدات پر ہواتھا"(سرسیدکے مذہبی عقائدوافکار,ایک مکالمہ صفحہ 6,7مطبوعہ ادارہءفکراسلامی دہلی طبع 2013ء)حالانکہ ان مضامین کی نشاندہی راقم نے ثاقب قادری صاحب کو کی, انہوں نے خوشترنورانی کو بتایا.خوشترنورانی صاحب کو چاہیے تھاکہ اپنی کتاب میں سچ بیان کرتے کہ ان کومضامین کی نشاندہی کس نے کی تھی لیکن موصوف خوشترنورانی نے اپنی کتاب میں جھوٹ اور خلافِ واقعہ بات لکھی جس پران کو شرم آنی چاہیے.آخرمیں یہ بھی عرض کردوں کہ ڈاکٹرممتازسدیدی صاحب کا انٹرویوخوشترنورانی نے اپنے ماہنامہ جامِ نورمیں شائع کیا.اس انٹرویومیں چھ مقامات پرخوشترنورانی نے اپنے مداح ثاقب رضاقادری صاحب کانام حذف کیا.اورکہیں وضاحت نہیں کی.یہ بات مجھے ان کے مداح ثاقب قادری صاحب نے خودبیان کی تھی.قارئین ہی بتائیں کہ ایسابددیانت شخص اعتبارکے لائق ہے؟
رئیس القلم حضرت علامہ ارشدالقادری کے ناخلف پوتےخوشترنورانی منہاجی کی زیرادارت شائع ہونے والےماہنامہ جامِ نور دہلی بابت مارچ 2016ءکے شمارے میں حضرت غازی ممتازقادری کے خلاف بکواس کی گئی ہے.حضرت غازی ممتازقادری علیہ الرحمہ کے چاہنے والےتمام اہلِ سنت سے گذارش ہے کہ اس بکواس کوشائع کرنے پرخوشترنورانی اور ماہنامہ جام نور اور اس شمارے کو پاکستان میں شائع کرنے والے مکتبہ دارالاسلام کے مدیر رضاءالحسن قادری ابن مفتی غلام حسن قادری کاہرطرح بائیکاٹ کیاجائے.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بزرگ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص سے بہت سارے لوگ دوستی کا دم بھرنے لگے تو اس کے والد نے کہا:
بیٹا ! ہر دوست کہلانے والا شخص ، دوست نہیں ہوا کر تا ؛ بڑی جانچ پڑتال کے بعد کسی کو دوست سمجھنا چاہیے ۔
پھر باپ نے ایک دُنبہ ذبح کرکے بوری میں بند کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا ، اور بیٹے سے کہا:
یہ اپنے دوستوں کے پاس لے جاؤ ، اور اُنھیں کہو:
مجھ سے قتل ہوگیا ہے ، میری مدد کرو !
پھر دیکھو وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔
بیٹے نے بوری اٹھائی اور رات کو ایک دوست کا دروازہ جا کھٹکھٹایا ۔
دوست نے پوچھا خیریت ہے ؟
کہنےلگا: یار مجھ سے قتل ہوگیا ہے ، نہ لاش ٹھکانے لگانے کی جگہ مل رہی ہے ، نہ سر چھپانے کی ؛ میری کچھ مدد کرو !
دوست نے مدد کے بجائے ٹال دیا ، کہ تُو جانے اور تیرا کام جانے ، میں تیرے ساتھ کیوں پھنسوں ۔
وہ دوسرے ، تیسرے ، چوتھے ، الغرض سب دوستوں کے پاس گیا لیکن کسی نے بھی اُسے اپنے گھر میں پناہ نہ دی ۔
وہ مایوس ہوکر والد کے پاس آیا اور کہا:
اباحضور ! آپ درست فرماتے تھے ، واقعی وہ میرے دوست نہیں تھے ، جو مصیبت کا سن کر ہی بھاگ گئے ۔
والد نے کہا: بیٹے میرا ایک دوست ہے ، اور زندگی میں مَیں نے اس ایک کو ہی دوست بنایا ہے ؛ اب تُو یہ بوری لے کر اس کے گھر جا اور دیکھ وہ کیا کہتا ہے ۔
بیٹا اس کے گھر پہنچا اور اسے وہی کہانی سنائی ، جو اپنے دوستوں کو سنائی تھی ۔
اس نے بوری لے کر مکان کے پچھواڑے میں گڑھا کھود کر دبا دی ، اور اوپر پھول لگادیے تاکہ کسی کو شک نہ ہو ۔
بیٹے نے باپ سے آکر سب کچھ بیان کیا اور کہا:
اباجی آپ کا دوست تو واقعی سچا دوست ہے ۔
باپ نے کہا:بیٹا ! ابھی ٹھہرجاؤ ، اتنی جلدی فیصلہ نہ کرو ۔
کل اُس کے پاس دوبارہ جانا اور اس سے بدتمیزی کرنا ، پھر جو ردِ عمل ہوا وہ آکر مجھے بتانا ۔
بیٹے نے ایسے ہی کیا ........... گیا ، اور اس سے بد تمیزی اور لڑائی کی ۔
اس نے جواب میں کہا:
اپنے والد سے کہنا فکر نہ کرے ، تمھارا دوست " چمن " کبھی نہیں اُجاڑے گا ۔
( مطلب جو پودے لاش کے اوپر لگائے ہیں وہ سدا لگے رہیں گے ، انھیں کبھی نہیں اکھاڑوں گا ۔
یعنی تیرے بیٹے کی بدتمیزی کو دیکھ کر اس کا راز کبھی فاش نہیں کروں گا ، کیوں کہ میں تیرا دوست ہوں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رب تعالیٰ ہمیں بھی مخلص دوست نصیب کرے !
دوست مشکل وقت میں کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا ، دوست ، دوست کے دنیا و آخرت میں کام آتا ہے ۔
وہ اس کے عیبوں کو دل ، دماغ ، اور آنکھوں کے سامنے نہیں رکھتا ، بلکہ پشت کے پیچھے گہرا گڑھا کھود کر ، اس میں ہمیشہ کے لیے دبا دیتا ہے ؛ اور اس کے اوپر محبت بھری نصیحت کے پھول لگادیتا ہے ، جن کی خوشبو دوست کو آئندہ کے لیے عیبوں کی بدبو سے بچائے رکھتی ہے ۔
✍️لقمان شاہد
7-9-2020 ء
بیٹا ! ہر دوست کہلانے والا شخص ، دوست نہیں ہوا کر تا ؛ بڑی جانچ پڑتال کے بعد کسی کو دوست سمجھنا چاہیے ۔
پھر باپ نے ایک دُنبہ ذبح کرکے بوری میں بند کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا ، اور بیٹے سے کہا:
یہ اپنے دوستوں کے پاس لے جاؤ ، اور اُنھیں کہو:
مجھ سے قتل ہوگیا ہے ، میری مدد کرو !
پھر دیکھو وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔
بیٹے نے بوری اٹھائی اور رات کو ایک دوست کا دروازہ جا کھٹکھٹایا ۔
دوست نے پوچھا خیریت ہے ؟
کہنےلگا: یار مجھ سے قتل ہوگیا ہے ، نہ لاش ٹھکانے لگانے کی جگہ مل رہی ہے ، نہ سر چھپانے کی ؛ میری کچھ مدد کرو !
دوست نے مدد کے بجائے ٹال دیا ، کہ تُو جانے اور تیرا کام جانے ، میں تیرے ساتھ کیوں پھنسوں ۔
وہ دوسرے ، تیسرے ، چوتھے ، الغرض سب دوستوں کے پاس گیا لیکن کسی نے بھی اُسے اپنے گھر میں پناہ نہ دی ۔
وہ مایوس ہوکر والد کے پاس آیا اور کہا:
اباحضور ! آپ درست فرماتے تھے ، واقعی وہ میرے دوست نہیں تھے ، جو مصیبت کا سن کر ہی بھاگ گئے ۔
والد نے کہا: بیٹے میرا ایک دوست ہے ، اور زندگی میں مَیں نے اس ایک کو ہی دوست بنایا ہے ؛ اب تُو یہ بوری لے کر اس کے گھر جا اور دیکھ وہ کیا کہتا ہے ۔
بیٹا اس کے گھر پہنچا اور اسے وہی کہانی سنائی ، جو اپنے دوستوں کو سنائی تھی ۔
اس نے بوری لے کر مکان کے پچھواڑے میں گڑھا کھود کر دبا دی ، اور اوپر پھول لگادیے تاکہ کسی کو شک نہ ہو ۔
بیٹے نے باپ سے آکر سب کچھ بیان کیا اور کہا:
اباجی آپ کا دوست تو واقعی سچا دوست ہے ۔
باپ نے کہا:بیٹا ! ابھی ٹھہرجاؤ ، اتنی جلدی فیصلہ نہ کرو ۔
کل اُس کے پاس دوبارہ جانا اور اس سے بدتمیزی کرنا ، پھر جو ردِ عمل ہوا وہ آکر مجھے بتانا ۔
بیٹے نے ایسے ہی کیا ........... گیا ، اور اس سے بد تمیزی اور لڑائی کی ۔
اس نے جواب میں کہا:
اپنے والد سے کہنا فکر نہ کرے ، تمھارا دوست " چمن " کبھی نہیں اُجاڑے گا ۔
( مطلب جو پودے لاش کے اوپر لگائے ہیں وہ سدا لگے رہیں گے ، انھیں کبھی نہیں اکھاڑوں گا ۔
یعنی تیرے بیٹے کی بدتمیزی کو دیکھ کر اس کا راز کبھی فاش نہیں کروں گا ، کیوں کہ میں تیرا دوست ہوں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رب تعالیٰ ہمیں بھی مخلص دوست نصیب کرے !
دوست مشکل وقت میں کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا ، دوست ، دوست کے دنیا و آخرت میں کام آتا ہے ۔
وہ اس کے عیبوں کو دل ، دماغ ، اور آنکھوں کے سامنے نہیں رکھتا ، بلکہ پشت کے پیچھے گہرا گڑھا کھود کر ، اس میں ہمیشہ کے لیے دبا دیتا ہے ؛ اور اس کے اوپر محبت بھری نصیحت کے پھول لگادیتا ہے ، جن کی خوشبو دوست کو آئندہ کے لیے عیبوں کی بدبو سے بچائے رکھتی ہے ۔
✍️لقمان شاہد
7-9-2020 ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جس طرح تفضیلی گروہ کے سرغنہ عبدالقادرشاہ کاکہناہے کہ "اگرکوئی حضرت صدیق اکبررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو"افضل البشربعدالانبیاء"نہیں مانتا,تووہ اس عقیدہ کے سبب اہلِ سنت سے خارج نہیں ہوتا"-
بالکل اسی طرح اہل سنت کہلوانے والوں میں متجددین(ناصررامپوری,خوشترنورانی,ذیشان مصباحی وغیرھم)کاایک ایساگروہ نمودارہوچکاہے جویہ کہتاہے کہ اگرکوئی اکابرِدیابنہ کی(گستاخانہ عبارات کی بناپران کی) تکفیرنہیں کرتاتووہ اہل سنت ہی رہے گا.یہ متجددین اپنے مخالفین کومتشدد کہتے ہیں لیکن آپ ان سے اختلاف کرکے دیکھیے توآپ کومعلوم ہوگاکہ یہ خودبہت بڑے متشددہیں.جس کی ایک مثال خوشترنورانی ہے.اس شخص کی ضداورہٹ دھرمی پرکچھ سال قبل ایک تحریرلکھ چکاہوں.اس کالنک پیش خدمت ہے.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2267733480172633&id=100008080090753
اس فتنے کی سرکوبی کے لیےعلمائے اہل سنت کو فوری اورمؤثرکردار اداکرناچاہیے.
بالکل اسی طرح اہل سنت کہلوانے والوں میں متجددین(ناصررامپوری,خوشترنورانی,ذیشان مصباحی وغیرھم)کاایک ایساگروہ نمودارہوچکاہے جویہ کہتاہے کہ اگرکوئی اکابرِدیابنہ کی(گستاخانہ عبارات کی بناپران کی) تکفیرنہیں کرتاتووہ اہل سنت ہی رہے گا.یہ متجددین اپنے مخالفین کومتشدد کہتے ہیں لیکن آپ ان سے اختلاف کرکے دیکھیے توآپ کومعلوم ہوگاکہ یہ خودبہت بڑے متشددہیں.جس کی ایک مثال خوشترنورانی ہے.اس شخص کی ضداورہٹ دھرمی پرکچھ سال قبل ایک تحریرلکھ چکاہوں.اس کالنک پیش خدمت ہے.
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2267733480172633&id=100008080090753
اس فتنے کی سرکوبی کے لیےعلمائے اہل سنت کو فوری اورمؤثرکردار اداکرناچاہیے.
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*ڈپٹی نذیر کا ترجمہ*
امام اہل سنت سے سوال ہوا کہ
مسئلہ ۳۴۷: از جوناگڑھ محلہ کتیانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمد حسین ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ نذیر احمد بی، اے، ایل، ایم، کاترجمہ صحیح ہے یاغلط؟ اور لڑکوں کو مدرسہ میں اس کا ترجمہ پڑھانا جائز ہے یا ناجائز؟
الجواب : نذیر احمدکا نہ ترجمہ صحیح ہے نہ ایمان، وہ شخص منکرخدا تھا، جیسے اس نے اور کتابیں نصرانیت ونیچریت آمیز لکھیں جن سے مال کمانا مقصود تھا ویسے ہی یہ ترجمہ بھی کردیا گیا اس سے بھی داموں ہی کی غرض تھی ورنہ جو شخص ﷲ ہی کونہ مانتا ہو وہ قرآن کے ترجمہ کو کیا جانے گا۔ اس کا ترجمہ ہرگز نہ پڑھایا جائے، وﷲ تعالی اعلم
(فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 701 اپلیکیشن )
ابو الحسن
https://www.facebook.com/100008080090753/posts/2803713813241261/
امام اہل سنت سے سوال ہوا کہ
مسئلہ ۳۴۷: از جوناگڑھ محلہ کتیانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمد حسین ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ نذیر احمد بی، اے، ایل، ایم، کاترجمہ صحیح ہے یاغلط؟ اور لڑکوں کو مدرسہ میں اس کا ترجمہ پڑھانا جائز ہے یا ناجائز؟
الجواب : نذیر احمدکا نہ ترجمہ صحیح ہے نہ ایمان، وہ شخص منکرخدا تھا، جیسے اس نے اور کتابیں نصرانیت ونیچریت آمیز لکھیں جن سے مال کمانا مقصود تھا ویسے ہی یہ ترجمہ بھی کردیا گیا اس سے بھی داموں ہی کی غرض تھی ورنہ جو شخص ﷲ ہی کونہ مانتا ہو وہ قرآن کے ترجمہ کو کیا جانے گا۔ اس کا ترجمہ ہرگز نہ پڑھایا جائے، وﷲ تعالی اعلم
(فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 701 اپلیکیشن )
ابو الحسن
https://www.facebook.com/100008080090753/posts/2803713813241261/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.