🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ایک عاشق کی کہانی علامہ ابن جوزی کی زبانی - پارٹ 3
(عبرت لیجیے کہ یہ پیار کیا کیا کرواتا ہے اور پناہ مانگیے)

وہ میرے ساتھ باتیں کر رہی تھی اور میرے دل میں عشق کی آگ جل رہی تھی۔ اس کی انگلیاں ظاہر ہوئیں تو وہ طلوع ہونے والے چاند کی طرح تھیں۔ اس کا چہرہ چاند کے گھیرے کی طرح تھا۔ میں اس خوف سے اٹھ گیا کہ مجھ پر عشق کا معاملہ اس سے زیادہ سخت نہ ہو جائے اور کہیں میں دیوانہ نہ ہو جاؤں۔

میں نے اس کی ضرورت کے سامان کو جمع کر دیا جس کی قیمت ہزاروں کی بنتی تھی۔ اس نے وہ سامان لیا اور سوار ہو گئی اور مجھے رقم دیے بغیر چلتی بنی!

میں نے اسے کچھ نہیں کہا کیوں کہ اس کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی تھی۔ میں نے اسے جانے دیا اور نہ اس کے گھر کا پوچھا اور نہ تو یہ کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتی ہے۔ جب وہ میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئی تو میرے دل میں یہ آیا کہ وہ چکر باز تھی اور مجھے بے وقوف بنا کر چلی گئی۔

میں حیران اور پریشان تھا۔ میں نے یہ بات چھپائی تاکہ لوگوں کے قرضوں کی وجہ سے شرمندگی نہ ہو۔ میرے پاس جو مال تھا اس کو بیچ کر اور پاس میں جو نقد رقم تھی اسے ملا کر قرضے اتار دیے۔ وراثت میں جو زمین ملی تھی اس کا غلہ تھا کہ گزارا ہو رہا تھا۔ ایک ہفتے تک یہی حالت تھی کہ میں نے دیکھا کہ وہی لڑکی آ رہی ہے۔ جب میں نے اس کو دیکھا تو جو کچھ مجھ پر بیتی تھی سب بھول گیا اور اس کے استقبال میں کھڑا ہو گیا۔

(آگے آپ پڑھیں گے کہ وہ لڑکی پہلے سے زیادہ کا سامان خریدتی ہے اور بنا پیسے دیے چلی جاتی ہے... جاری...)

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حاصل مطالعہ (قسط 1)

مطالعہ کے آٹھ فوائد:

مطالعہ کے تمام فوائد کو احاطۂ تحریر میں لانا ممکن نہیں البتہ ان کثیر فوائد میں سے آٹھ یہاں تحریر کیے جاتے ہیں تاکہ کسی قدر مطالعہ کے لیے رغبتی تحریک پیدا کی جا سکے:

پہلا فائدہ، ایمان کی پختگی:

مطالعہ ایمان کی مضبوطی و پختگی کا باعث ہے مگر یہ اسی وقت ہوگا جب کسی کتاب کو پڑھنے کے بعد ایمان کو تازگی ملے اور انسان کے دل میں موجود توحید و رسالت کی شمع مزید روشن ہو جائے ورنہ بعض لوگ قرآن و حدیث پڑھ کر بھی نہ صرف گمراہ بلکہ گمراہ گر بنتے ہیں بلکہ بعض تو ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ مشرق سے ایک گروہ ایسا نکلے گا جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔

(صحیح البخاری، ج4، ص599، الحدیث 7562)

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگ صرف اپنی عقل کے غلط استعمال سے اور خودساختہ باطل اصولوں کے اندھیرے میں قرآن و سنت کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

اس کے برعکس اگر کوئی شخص ایمان کو ترقی اور ونور عطا کرنے والی مستند کتب جیسے تمھید الایمان، بہار شریعت کا پہلا حصہ یا جاءالحق، یا حافظ ملت، عبدالعزیز محدث مبارکپوری علیہ الرحمہ کا مختصر مگر مدلل رسالہ المصباح الجدید بنامِ حق و باطل کا فرق یا مفتی عبدالقیوم ہزاروی علیہ الرحمہ کی العقائد والمسائل کا مطالعہ کرتا ہے تو ایمان کو پختگی ملتی ہے، اس کی نورانیت میں اضافہ ہوتا ہے اور مطالعہ کرنے والا حقیقی مسلمان بنتا ہے جیسا کہ:

فتاویٰ رضویہ کے حاشیےمیں ہے: حسام الحرمین میں اکابرِ علماے حرمین شریفین کے مہری تصدیقات وہ فتاویٰ ہیں جن میں ان دشنام دہندوں کا حکم شرعی مدلل ہے اس کا مطالعہ پکا مسلمان بناتا ہے۔

(فتاویٰ رضویہ، ج1 (ب) ،ص968)

جاری ہے........

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
حاصل مطالعہ
(حصہ2)

مطالعہ سے علم بڑھتا ہے، یاد رہے کہ علم سیکھنے سے آتا ہے،
اس کے حصول کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ:
بے شک علم سیکھنے سے آتا ہے۔
اور سیکھنے کا بہترین ذریعہ مطالعہ ہے۔

(کنزالعمال، ج10، ص104 حدیث 29252)

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
علم کی بدولت فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا حضرت یوسف علیہ السلام کو بادشاہی ملی اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر خلافت الہیہ اور شفاعتِ کبری کا سہرا بندھا۔

(تفسیر نعیمی، ج1، ص232 ملخصا)

علامہ عبدالرؤف مناوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
علم کے علاوہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چیز میں اضافہ کی دعا کا حکم نہیں دیا گیا۔

(فیض القدیر، ج2، ص168، تحت الحدیث 1506)

مطالعہ سے کائنات میں غور و فکر کرنے کا ذہن بنتا ہے جو کبھی ایک عام انسان کو فرش کی پستی سے اٹھا کر عرش کی بلندی تک پہنچا دیتا ہے۔
قرآن کریم و احادیث کریمہ میں بھی اس غور و فکر کی بہت زیادہ دعوت دی گئی ہے اور جن حضرات نے اس دعوت پر لبیک کہا اور میدان عمل میں قدم رکھ دیا کائنات نے اپنے راز ان پر افشا کر دیے۔

دعا ہے مولا تعالیٰ ہمارے قوم کے نوجوانوں کے دل میں مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا ہو۔

"لیڈر وہی بنتا ہے جو ریڈر ہو"

عبد مصطفیٰ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
ڈاکٹرعمیرمحمودصدیقی کی کتاب
"حُرمتِ تکفیرِ مسلم"
کی حقیقت

کئی دِنوں سے سوشل میڈیاپردیکھ رہاہوں کہ ایک کتاب "حرمتِ تکفیرِمُسلِم"کواس کے ناشرمقصوداحمدکامران(مدیر:ورلڈویوپبلشرزلاہور)اورمؤلف ڈاکٹرعمیرمحمودصدیقی کی جانب سےمختلف علمائے اہلِ سنت کوپیش کرتے ہوئے اس کی تصاویربناکرسوشل میڈیاپرمشتہرکیاجارہاہے تاکہ لوگ اسے اچھی کتاب سمجھ کرخریدیں.اورپھراپنے اکابرسے باغی ہوں.
کتاب کانام توبہت خوشنماہے لیکن درحقیقت اس میں سیدی اعلٰی حضرت کی تاریخی کتاب"حُسام الحرمین"کونشانہ بنایاگیاہے.اس کتاب کاابتدائیہ سراج الدین امجدی دیوبندی سے لکھوایاگیاہے.اوراس کوصوفی لکھاگیاہے.میں نے خودسوشل میڈیاپرمختلف پوسٹس کے کمنٹس میں دیکھاہےکہ یہ موصوف اہلِ سنت کوبدعتی قراردیتے ہیں.اوراعلٰی حضرت پربھی بدزبانی کرتے ہیں.ہوسکتاہے کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ اس میں "حُسام الحرمین" کوکہاں ٹارگٹ کیاگیاہے تواس کے ثبوت کے لیے اس کاوہ صفحہ پیش کیاجارہاہے جہاں جسٹس کرم شاہ بھیروی کی تکفیرکاذکرکرکے اس پرافسوس کااظہارکیاگیاہے.کیونکہ علمائے اہلِ سنت کی طرف سے جسٹس کرم شاہ کی تکفیراس لیے کی گئی تھی کہ موصوف قاسم نانوتوی دیوبندی کومنکرِختم نبوت نہیں سمجھتے تھے اورتادمِ آخراسی مؤقف پررہے۔
یہ کتاب 2009ءمیں مجلہ فقہِ اسلامی کراچی کے"حُرمتِ تکفیرِمُسلِم نمبر"میں شائع ہوئی تھی,"حُرمتِ تکفیرِمُسلِم"کی اُس اشاعت کے دوصفحات پیشِ خدمت ہیں.
اس کےاداریہ لکھاہے کہ دیوبندی,غیرمقلدین,شیعہ اوربریلوی ایک دوسرے کی تکفیرکرتے ہیں.کوئی کسی سے محفوظ نہیں.یہاں اداریہ نویس نے تکفیرِفِرَقِ باطلہ کی وجہ سےاہلِ سنت کی بھی تغلیط کی ہے.(اس اداریہ کے بارے واضح نہیں ہوسکاکہ یہ مدیرِرسالہ ڈاکٹرنوراحمدشاہتازنے لکھاہےیامؤلف ڈاکٹرعمیرمحمودصدیقی نے)
"حُرمتِ تکفیرِمُسلِم"کی مجلہ فقہ اسلامی کراچی کی اشاعت میں مؤلف کی ایک عبارت سے مترشح ہوتاہےکہ صرف مرزاقادیانی کی تکفیرسے اختلاف نہ کیاجائے.ہاں اگردیوبندیوں کی گستاخانہ عبارات کی بناپرکوئی ان کوکافرنہیں کہتاتوکوئی بات نہیں.تحریرمیں مذکور سب عبارات کے اسکین بھی ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں.
دواہلِ علم احباب اس کتاب پرتبصرہ لکھ رہے ہیں اللّٰہ کرے جلدی مکمل کرلیں.

میثم قادری
22فروری2020ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بدلتاہے رنگ آسمان کیسے کیسے.

کتاب "حرمتِ تکفیرِمُسلِم"میں تکفیرِدیابنہ کوتشددقراردینے والےعمیرمحمودصدیقی صاحب کاماضی,جب وہ خود ایک "متشددتکفیری" تھے یاپھرتقیہ کیے ہوئے تھے.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
خوشترنورانی کے جھوٹ کا پردہ فاش:
میثم قادری
بات کا پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ گوجرخان سے تعلقات رکھنے والے حسن نوازشاہ کے پاس ہفت روزہ الفقیہ امرتسرکے کچھ سالوں کاریکارڈموجودہے.اس ریکارڈ کا علم جناب محمدثاقب رضا قادری صاحب کو ہواتو انہوں نے یہ شمارے مستعارطلب کیے.حسن نوازشاہ صاحب نے الفقیہ امرتسر کے اصل شمارے ایک پروفیسر صاحب(جن کا تعلق لاہور سے ہے لیکن ان کی تعیناتی گوجرخان کے ایک سرکاری کالج میں ہے)کے ہاتھ لاہور بھجوادیے.ثاقب صاحب نے راقم کو کہا کہ یہ پروفیسر صاحب آپ کے قریب رہتے ہیں اس لیے ان سے رابطہ کرکےشمارے وصول کرلیں.میں نے شمارے وصول کرلیے.جب میں الفقیہ کے شمارے گھرلایاتوان کا مطالعہ شروع کیا.دورانِ مطالعہ سرسیداحمدخان نیچری کے متعلق پیرجماعت علی شاہ صاحب کے موقف کے خلاف ارشدالقادری بلیاوی کے نام سے مضامین گذرے(ان مضامین کا پیرجماعت علی شاہ صاحب کے خلیفہ حامدحسن قادری صاحب نے جواب دینے کی کوشش کی لیکن اکابراہل سنت کے برحق موقِف کادلائل سے رد وہ نہ کرسکے)راقم نے جب حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ کے یہ مضامین دیکھے تو ثاقب رضا قادری صاحب کو اطلاع دی کہ اس میں سرسیدکے رد میں علامہ ارشدالقادری کے مضامین ہیں ان کو خوشترنورانی تک پہنچادیں تاکہ یہ مضامین شائع کیے جا سکیں..(اس وقت راقم کوخوشترنورانی کے اہل سنت سے اعتزالی نظریات کاعلم نہ تھا.اگرمعلوم ہوتاتو میں کبھی بھی ثاقب قادری کوعلامہ ارشدالقادری کے مضامین اشاعت کے لیےخوشترکو دینے کانہ کہتا)نیز سرسیدکے رد میں لکھی گئی کچھ نایاب کتب بھی ثاقب رضا قادری صاحب کو سکین کرواکردیں تاکہ وہ خوشترنورانی تک پہنچا دیں ان کتب کے نام یہ ہیں.1.جواہرمضیہ ردنیچریہ از مولاناغلام دستگیرقصوری
2.امدادالآفاق از ڈپٹی امدادالعلی
3.نصرۃ الابرار از مولوی محمدلدھیانوی دیوبندی.
ثاقب صاحب نے الفقیہ کے یہ شمارے اورسرسیدکے رد میں لکھی گئی یہ کتب خوشترنورانی صاحب تک پہنچادیں.خوشتر نے علامہ ارشدالقادری اورحامدحسن قادری کے ان مضامین کو ترتیب
دے کر"سرسیّداحمدکے مذہبی عقائدوافکار,ایک مکالمہ"کے نام سے دہلی سے شائع کردیا.جب یہ کتاب ثاقب قادری صاحب تک پہنچی توانہوں نے بتایاکہ خوشترنورانی نے ان مضامین کوکتابی شکل میں مرتب کیاہے اور اس میں لکھاہے کہ علامہ ارشدالقادری کے ہفت روزہ الفقیہ امرتسرمیں مطبوعہ یہ مضامین اس نے خود تلاش کیے ہیں.خوشترنورانی کی اپنی تحریرملاحظہ کریں:
"میں الفقیہ کی فائلوں کی ورق گردانی کرنے لگابالآخرایک مضمون پرنظرپڑی جس کے عنوان کے نیچے مضمون نگارکانام اس طرح درج تھا:مولوی ارشدقادری بلیاوی,مدرسہ مصباح العلوم قصبہ مبارکپور.یہ سرسیداحمدخان کے مذہبی عقائدوافکارسے متعلق ایک جوابی مضمون تھا.اب میں ان دستیاب فائلوں کو مزیدتوجہ سے دیکھنے لگاجس سےمعلوم ہواکہ یہ مضمون اس بحث یامکالمے کا حصہ تھاجوالفقیہ 1946کےشماروں میں سرسیدکے مذہبی معتقدات پر ہواتھا"(سرسیدکے مذہبی عقائدوافکار,ایک مکالمہ صفحہ 6,7مطبوعہ ادارہءفکراسلامی دہلی طبع 2013ء)حالانکہ ان مضامین کی نشاندہی راقم نے ثاقب قادری صاحب کو کی, انہوں نے خوشترنورانی کو بتایا.خوشترنورانی صاحب کو چاہیے تھاکہ اپنی کتاب میں سچ بیان کرتے کہ ان کومضامین کی نشاندہی کس نے کی تھی لیکن موصوف خوشترنورانی نے اپنی کتاب میں جھوٹ اور خلافِ واقعہ بات لکھی جس پران کو شرم آنی چاہیے.آخرمیں یہ بھی عرض کردوں کہ ڈاکٹرممتازسدیدی صاحب کا انٹرویوخوشترنورانی نے اپنے ماہنامہ جامِ نورمیں شائع کیا.اس انٹرویومیں چھ مقامات پرخوشترنورانی نے اپنے مداح ثاقب رضاقادری صاحب کانام حذف کیا.اورکہیں وضاحت نہیں کی.یہ بات مجھے ان کے مداح ثاقب قادری صاحب نے خودبیان کی تھی.قارئین ہی بتائیں کہ ایسابددیانت شخص اعتبارکے لائق ہے؟
رئیس القلم حضرت علامہ ارشدالقادری کے ناخلف پوتےخوشترنورانی منہاجی کی زیرادارت شائع ہونے والےماہنامہ جامِ نور دہلی بابت مارچ 2016ءکے شمارے میں حضرت غازی ممتازقادری کے خلاف بکواس کی گئی ہے.حضرت غازی ممتازقادری علیہ الرحمہ کے چاہنے والےتمام اہلِ سنت سے گذارش ہے کہ اس بکواس کوشائع کرنے پرخوشترنورانی اور ماہنامہ جام نور اور اس شمارے کو پاکستان میں شائع کرنے والے مکتبہ دارالاسلام کے مدیر رضاءالحسن قادری ابن مفتی غلام حسن قادری کاہرطرح بائیکاٹ کیاجائے.
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM